Translater

26 مارچ 2022

سرکردہ لیڈروں کو ہرانے والے کئی ممبران اسمبلی کو نہیں ملی جگہ !

پنجاب اسمبلی چناو¿ میں حریف سیاسی پارٹیوں کے سرکردہ نیتاو¿ں کوہرا کر بڑے وینس کی شکل میں ابھری عام آدمی پارٹی کے کئی ممبران اسمبلی کو وزیراعلیٰ بھگونت مان کے کیبنیٹ میں جگہ نہیں مل پائی ہے ۔عآپ کے ان ممبران میں بھدوڑاسمبلی سیٹ سے سابق وزیراعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کو 37558ووٹوں کے فرق سے ہرانے والے لابھ سنگھ بھی شامل ہین ۔شرمنی اکالی دل کے بانی پرکاش سنگھ بادل کو ان کی روایتی شیٹ لمبی پر 11396ووٹ سے ہرانے والے گرمیت سنگھ کیبنیٹ میں جگہ پانے میں ناکام رہے ۔عآپ میں شامل ہونے سے لابھ سنگھ بوکھے پہلے موبائل فون کی دوکان چلاتے تھے جبکہ گرمیت سنگھ پنڈیا ۔پچھلے سال کانگریس چھوڑ کر عآپ میں شامل ہوئے تھے انہوں نے امرتسر شیٹ سے کانگریس کی پنجاب یونٹ کے سابق پردھان نوجوت سنگھ سدھو اور شرمنی اکالی دل لیڈر وکرم سنگھ مجیٹھیا کو ہرانے والی سماجی کارکن جیون جوت کور کو بھی کیب نیٹ میں نہیں جگہ مل سکی ۔عآپ امیدوار رنمیت پال سنگھ کوہلی نے پٹیالہ شہری شیٹ پر کیپٹن امریندر سنگھ کو ہرایا جبکہ جگدیپ کمبودھ کو جلال آباد سے اور شرمنی اکالی چیف سکھویر سنگھ بادل کو ہرایا ۔یہ دونوں نیتا بھی بھگونت مان کی کیبنیٹ میں جگہ نہیں بنا پائے اس کے علاوہ ایسے کئی ممبران اسمبلی کوجگہ نہیں مل پائی جو دوسری بار پنجاب اسمبلی میں چن کر پہونچے ہیں ۔ان میں امن اروڑا ،سکھجییت کور ،بلوندر کور اور پسپل سکھرام شامل ہیں ۔بھگونت مان کی کیبنیٹ میں 11میں سے 8وزیرہیں جو پہلی بار ممبر اسمبلی چن کر آئے ہیں۔ (انل نریندر)

2024میں مودی کے سامنے کون ممتا یا کیجریوال؟

پانچ ریاستوں میں کانگریس کی زبردست شکست کے بعد قومی سیاست میں یہ بھی خیال زور پکڑنے لگا ہے کہ مودی کے مقابلے کون ؟ ان انتخابات میں خراب پرفارمنس کا اثر کانگریس کی اندرونی سیاست پر پڑنا طے مانا جا رہا ہے وہیں لوک سبھا کی سیاسی لڑائی میں اس کے سائڈ ایفکٹ ابھی سے دکھائی دینے شروع ہو گئے ہیں ۔اپوزیشن کو اس بات کو لیکر منتھن شروع ہو گیا ہے ۔کہ لوک سبھا کے ثمر میںکانگریس کی رہنمائی میں میدان میں اترا نہیں جا سکتا ہے ۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ مرکز کی سیاست میں مودی کے مقابلے میں اپوزیشن کا کون لیڈر دم خم کے ساتھ اتر سکتا ہے ۔پچھلے دنوں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ کا نام سب سے آگے چل رہا تھا لیکن پنجاب میں تاریخی پرفارمنس دینے کے بعد سے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوا ل کے نام پر اپوزیشن کے سرکردہ لیڈر غور کرنے لگے ہیں دونوں ہی سیدھے مقابلے میں بھاجپا سے ٹکر لے سکتے ہیں ۔مغربی بنگال میں جہاں ممتا نے مودی شاہ کی پوری طاقت جھکنے کے بعد اپنے وجے رتھ کو جاری رکھا تو وہیں دہلی میں مسلسل دوبار سیدھے مقابلے میں اروند کیجریوال نے بھاجپا کو مات دی ۔اب پنجاب نے انہوں نے جسطرح کانگریس کو اقتدار میں واپسی کے ارمانوں پر پانی پھیردیا ہے اس کے بعد قومی سیاست میں ان کاقد بڑھا ہے ۔دونوں ہی کا مقابلہ زیادہ غضب کا رہا ۔اپوزیشن کا نمائندہ بننے کے قابل بتاتے ہیں سیاسی پنڈتوں کی رائے میں بھی مودی شاہ کو روک پانے کا دم ابھی بھی ہو سکتا ہے ۔جو جنتا کے بیچ اتر کر چنوتی دینے کا دم رکھتا ہو ۔مانا جا رہا ہے کہ 2024کی لڑائی اپوزیشن تیسرے مورچے کے جھنڈے تلے لڑنے کی سیاست کررہی ہے ۔اس کی رہنمائی کے لئے ممتا اور کیجریوال کا دعویٰ مضبوط دکھائی پڑرہا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو کانگریس قومی سیاست میں اپنے مرتبہ کو ہونے کی طرف گامزن ہے ۔راہل گاندھی اب کسی کو قبول نہیں ہے ۔ (انل نریندر)

پوتن کی بوکھلاہٹ نے بڑھا دیا نیوکلیائی حملے کا امکان!

روس اور یوکرین کے درمیان پچھلے ایک مہینے سے جاری جنگ میں نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کی آہٹ پھر سنائی دینے لگی ہے ۔اتنے دن بعد بھی روس کی فوج کو زمینی راستے سے آگے بڑھنے میں جدو جہد کرنی پڑ رہی ہے ۔اسے جنوبی یوکرین میں مسلسل یوکرین کی فوج سے زبردست ٹکر مل رہی ہے ۔جنگ لمبی کھچنے اور دنیا میں درکنا ر کئے جانے سے روس کے صدر ولادمیر پوتن کی بوکھلاہٹ بڑھتی جارہی ہے ۔امید کے مطابق کامیابی نہ ملنے سے مایوس روس نے پھر دھمکی بھرے انداز میں کہا کہ جینے مرنے کا سوال ہوا تو ہم نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دترجمان دمتری پیسکاف نے اعتراف کیا کہ روس نے ابھی تک یوکرین میں کسی بھی فوجی اپنے مقصدکو حاصل نہیں کیا ہے انہوں نے نیوکلائی ہتھیاروں کی مدد لینے سے انکارتو کیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ اگر جینے مرنے کا سوال کھڑا ہواتو روس نیوکلیائی ہتھیاروں کا استعمال کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا ۔قومی سیکورٹی ہمارا ایک منصب ہے اور یہ شرعام ہے ۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کن حالات میں نیوکلیائی ہتھاروں کے استعمال کی بات کی گئی ہے ۔یوکرین پر حملے کے چنددن بعدبھی پوتن نے سیاسی طور پر اہم ہتھیاروں جن میں نیوکلیائی ہتھیار بھی شامل ہیں کو خاص طور پر الرٹ رکھنے کے احکامات دئیے تھے ۔اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کون ہمارے دیش و لوگوں کے لئے خطرہ پیدا کرتا ہے ۔انہیں پتہ ہونا چاہیے روس فوری جواب دے گا اور نہیں بھی ایسا ہوگا لیکن جو کسی سرزمین کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔امریکی ماہرین بھی خدشہ جتا رہے ہیں کہ پوتن اب چھوٹے نیوکلیائی حملے کر سکتا ہے ۔وہ نیوکلیائی حملے کی وارننگ لگاتار دے رہا ہے اور اس نے اپنے نیوکلیائی ٹکڑی کو تیار رکھا ہوا ہے ۔روسی فوج نیوکلائی ایٹمی پلانٹس پر حملے کررہی ہے ۔اس مسئلے پر نیٹو کی مٹنگیں بھی ہو رہی ہیںاس پر بھی غور و خوض ہوگا کہ روس کیمیکلل یا بائیوجیکل ،نیوکلیائی ہتھیاروں کی طرف جاتا ہے کہ اسے کیسے جواب دیا جائے ؟ ویسے دوسری جنگ عظیم کے وقت جب امریکہ نے جاپان کے ہیروشلما پر حملہ کیا تھا تب بھی روس کے پاس زیادہ نیوکلیائی صلاحیت تھی ۔آج امریکہ کے پاس نیوکلیائی صلاحیت اور ہیروشیما پر گرائے گئے بم سے ایک ہزار گنا ہے تو روس کے پاس تین ہزار گنا ہے ۔اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل اینٹونیو بوٹریس نے کہا کہ یہ بے تکی جنگ ہے اس کا پر امن طریقہ سے ٹیبل پر بیٹھ کر مسئلے کا حل کیا جا سکتا ہے ۔اس لڑائی سے بھوک اور عالمی بحران کی آہٹ سنائی دے رہی ہے اک کروڑ یوکرینی لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ھجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ (انل نریندر)

25 مارچ 2022

ٹلا نہیں ہے خطرہ ،الرٹ رہنا ضروری!

دہلی میں ایک بار پھر کورونا کیسز بڑھنے لگے ہیں۔ طویل عرصے کے بعد پیر کو دہلی میں متاثرہ افراد کی تعداد صحت یاب ہونے والے مریضوں سے زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ افراد کی تعداد دوبارہ 100 سے تجاوز کر گئی۔ ایکٹو کیسز کی تعداد بھی 500 سے تجاوز کر گئی۔ تاہم انفیکشن کی شرح 0.5 فیصد سے بھی کم ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کورونا کے Omicron ویرینٹ کا خطرہ ٹل نہیں سکا ہے۔ اس لیے ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وزارت صحت کے جوائنٹ سکریٹری لاو اگروال نے کہا کہ حکومت ہند کورونا مینجمنٹ کے میدان میں بے مثال کام کر رہی ہے۔ ہم نے دنیا کے مجموعی انتظام سے 23 گنا بہتر انتظام کیا ہے۔ ہم نے تیزی سے ویکسینیشن مہم شروع کی، ساتھ ہی دنیا بھر کے 99 ممالک کو ویکسین دستیاب کرائی، آج ہم نے ویکسینیشن کی 1.81 بلین خوراکیں مکمل کر لی ہیں۔ لاو اگروال نے بتایا کہ ہم نے ٹیکہ لگانے والے ہر شہری کو QR کوڈڈ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ دیا۔ ہمارے ہیلتھ ورکرز نے ہر گھر پر دستک دی اور لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے ویکسین لگائی ہے یا نہیں؟ ان کی کوششوں نے ملک کو سہارا دیا۔ ہندوستان میں صرف 145 دنوں میں 25 کروڑ خوراکیں دی گئیں۔ مرکزی وزارت صحت کے مطابق ملک میں کورونا انفیکشن کے ایکٹیو کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ اس وقت ایکٹو کیسز 25,106 ہیں جو کل کیسز کا 6.06 فیصد ہیں۔ ہمیں اب بھی ہوشیار رہنا ہے۔ ماسک پہننا، ہاتھوں کی صفائی کرنا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا۔ (انل نریندر)

دہلی والوں کو مفت بجلی ملتی رہے گی

دارالحکومت دہلی میں 200 یونٹ تک مفت بجلی دستیاب رہے گی۔ اس کے لیے بجٹ میں اضافے کی تجویز بھیج دی گئی ہے۔ مفت بجلی کی اسکیم کو جاری رکھنے سے مالی سال 2022-23 میں خزانے پر 200 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ ذرائع کی مانیں تو اس بار محکمہ توانائی کی طرف سے بھیجی گئی بجلی سبسڈی کے اخراجات کی تجویز 3250 کروڑ روپے کی ہے۔ پچھلے بجٹ میں یہ 3050 کروڑ روپے تھا۔ محکمہ نے گزشتہ مالی سال کے صارفین کے بلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ بجٹ میں رقم بڑھانے کی تجویز دی ہے۔ کیجریوال حکومت نے 0 سے 200 یونٹس بالکل مفت فراہم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ 400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے بل پر زیادہ سے زیادہ 800 روپے سبسڈی دینے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، 2021-22 میں تین ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا انتظام کیا گیا تھا۔ بعد ازاں بجلی کے بلوں میں اضافے کے باعث بجٹ میں دوبارہ اضافہ کر دیا گیا۔ دارالحکومت دہلی میں گزشتہ موسم سرما میں صفر بل والے صارفین کی تعداد 32 لاکھ تک پہنچ گئی تھی، جب کہ سبسڈی والے صارفین کی تعداد 12 لاکھ کے قریب تھی۔ ان صارفین کی بجلی کی قیمت حکومت اپنے خزانے سے برداشت کرے۔ اس کے لیے حکومت بجٹ میں الگ سے انتظام کرتی ہے۔ موسم سرما کے چار مہینوں کے دوران کم بجلی کی کھپت سبسڈی والے اور صفر بل والے صارفین کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ (انل نریندر)

پشکر سنگھ دھامی ہار کر بھی بازی گر بنے

آخرکار پشکر سنگھ دھامی ہارکر بھی جیت گئے۔ اتراکھنڈ میں لگاتار دوسری مدت کے لیے تاریخ رقم کرنے والے بی جے پی لیڈر پشکر سنگھ دھامی ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے میں بازی گر ثابت ہوئے۔ چھ ماہ قبل جب انہوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تو کسے معلوم تھا کہ وہ اتراکھنڈ میں بی جے پی کی ڈوبتی کشتی کو بڑے مقابلے کے بعد پار کر دیں گے۔ انتخابات سے پہلے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ بی جے پی 15 سے 20 سیٹوں تک کم ہو جائے گی۔ دھامی نے جولائی 2021 میں بی جے پی کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے نرم لہجے سے مل کر ووٹروں کے دل جیت لیے۔ 2022 میں، بی جے پی نے 47 سیٹیں جیتیں، لیکن دھامی نے پارٹی کی اندرونی لڑائی کی وجہ سے اپنی اسمبلی سیٹ کھٹیما سے کھو دی۔ اس ہنگامہ آرائی میں بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں کے نام شمار کیے جا رہے ہیں، لیکن پارٹی ہائی کمان نے پارٹی کی حد سے تجاوز کرنے والے اس نوجوان لیڈر کو تخت سنبھالنے کے لیے آمادہ کیا۔ 10 مارچ کو جیسے ہی دھامی کی شکست کی خبر آئی، پارٹی کے کچھ تجربہ کار وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہو گئے، لیکن ہائی کمان دھامی کے نام پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں کیونکہ بی جے پی نے اس نوجوان کا چہرہ سامنے رکھا۔ لیڈر دھامی نے الیکشن لڑا۔ اپنے چھ ماہ کے دور میں، دھامی نے حکومت کے اندر سے اندرونی عدم اطمینان کو دور کرتے ہوئے، اتراکھنڈ کے تیرتھ پروہتوں کے دیو استھنم بورڈ کے خلاف تحریک، سیکرٹریٹ کے کارکنوں اور دیگر ریاستی ملازمین کی تحریک اور زمینی اصلاحات جیسی تحریکوں کو دکھایا۔ اس کی موثر انتظامی صلاحیت کے ذریعے اس کے علاوہ انہوں نے پارٹی کے مختلف دھڑوں سے بھی ہم آہنگی برقرار رکھی۔ نوجوان دھامی ریاست کے بہترین لیڈروں میں ایک بڑے جادوگر کے طور پر ابھرا ہے۔ اتراکھنڈ میں دو دہائیوں کے بعد اقتدار کی تبدیلی کا افسانہ ٹوٹ گیا ہے۔ بی جے پی پہلی پارٹی ہے جو مسلسل اقتدار میں آئی ہے۔ بی جے پی ہائی کمان نے اسمبلی انتخابات میں شکست کھانے والے وزیر اعلیٰ کو دوبارہ وزیر اعلیٰ کی کرسی سونپ کر ریاست کی سیاست میں ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ دوسری طرف، دھامی، سیاسی کیریئر میں اپنی دوسری اننگز کا آغاز کرتے ہوئے زیادہ معمولی نظر آئے۔ (انل نریندر)

24 مارچ 2022

مرکز کی مداخلت کے بغیر ہو چناو ¿!

راجدھانی دہلی میں ہونے والے میونسپل کارپوریشن چنا و¿ کو لیکر عام آدمی پارٹی نے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ مرکزی سرکار کی مداخلت کے بغیر دہلی میں آزادانہ و منصفانہ اور فوری طریقے پر چنا و¿ کرانے کی مانگ کی ہے۔ واضح ہوکہ پچھلے ہفتے دہلی الیکن کمیشن نے ایم سی ڈی چناو¿ کے تاریخوں کا اعلان آخری لمحے پر ٹال دیا تھا ۔ سپریم کورٹ میں عام آدمی پارٹی نے کہا کہ میونسپل چنا و¿ کو وقت پر کرایا جائے ۔ اورچنا و¿ کا پروگرام مر کزی سرکار سے بات چیت کی بنیاد پر ٹالا نہیں جانا چاہیے ۔مرکزی سرکار نے تینوں ایم سی ڈی کو ایک کرنے پر بات چیت کی تھی ۔اس کا اثر چناوی پروگرام پر پڑنا نہیں چاہیے تھا ۔بتاد یں چناو¿ کی تاریخوں کے اعلان سے ٹھیک پہلے ریاستی چناو¿ کمیشن اور لیفٹننٹ گورنر کے ذریعے مرکزی سرکار کا خط ملا تھا ۔خط میں کہا گیا تھا کہ مرکزی سرکار تینوں کارپوریشنوں کو پھر سے ایک کرنا چاہتی ہیں اوراس بارے میں لوک سبھا پارلیمنٹ میں بل پیش کیا جائے گا ۔اس لئے ابھی چناو¿ نہیں کرائے جائیں۔ریاستی چناو¿ کمشنر ایس کے سریواستو نے کہا کہ آئینی ادارہ ہونے کے ناطے چناو¿ کمیشن اس تجویز کو ماننے کے لئے مجبور نہیں ہے ۔لیکن اگر کسی فریق سے کوئی جانکاری ملی ہے تو اس پر غور کرنا ضروری ہے ابھی چناو¿ کتنے دن کے لئے ٹالے گئے ہیںیہ بھی صاف نہیں ہے ۔مرکزمیں حکمراں بھاجپا سرکار نے تینوں کارپوریشنوں کو ایک کرنے سے متعلق تجویز پر منظوری دے دی ہے ۔لیکن عام آدمی پارٹی اس کی نیت سے اتفاق نہیں رکھتی اور وہ چا ہتی ہے کہ چناو¿ وقت پر ہوں جس سے جنتا اپنا نیتا چن سکیں ۔سپریم کورٹ میں ابھی اس معاملے کی سماعت ہونی ہے ۔مگرعآپ کے لیڈران کو کورٹ سے امید ہے اس لئے ورکروں کو ھدایت دے دی گئی ہے کہ وہ اپنی چناو¿ کی تیاریاں جاری رکھیں ۔ (انل نریندر)

جیل جانے کے بعد بھی وزیر کیوں نہیں چھوڑتے عہدہ !

ممبئی کی ایک اسپیشل عدالت نے پیر کو مہاراشٹر حکومت کے وزیر و این سی پی لیڈر نواب ملک کی جودیشل حراست چار اپریل تک بڑھا دی ہے اور انہیں جیل میں ایک بستر ، گدااور کرسی کے استعمال کی اجازت دے دی ہے ۔ ملک کو ای ڈی نے بھگوڑے بدمعاش سرغنہ داو¿د ابراہیم اور اس کے ساتھیوں سے جوڑے اثاثہ جمع کرنے کی جانچ کے سلسلے میں 23فرروی کو گرفتار کیا تھا۔ ملک 7مارچ تک حراست میں تھے پھر ان کی حراست 31مارچ تک کر دی گئی ۔ پیر کو نواب ملک کو ایک خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔جسے اثاثہ بڑھانے روک تھام ایکٹ سے متعلق معاملوں کی سماعت کیلئے پینل کیا گیا تھا اسپیشل جج آر این روکانڈے نے ا ن کی جوڈیشل حراست 4اپریل تک بڑھا دی ہے۔ جیل میں ہونے کے باوجود انہونے نہ تو وزیر کے عہدے سے استعفیٰ اور نہ ہی ادھو ٹھاکرے نے ان سے استعفیٰ مانگا۔ مہاراشٹر میں حکمراں اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک سے استعفیٰ نہیں مانگیں گے ۔ کیوں کہ ان پر لگے الزامات سیاسی اغراض پر مبنی ہے اور انہیں پریشان کرنے کیلئے ایسا کیا گیا ہے۔ دلیلیں کچھ بھی ہوں ، لیکن سیدھا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص جیل جانے کے بعد بھی وزیر بنا رہ سکتا ہے؟ ایسا کیا ہے کہ ملک ایک مہینے سے زیا دہ مدت سے جیل میں بند ہونے کے باوجود وزارت کی کر سی پر قابض ہیں۔اور حکمراں پارٹی سینا ٹھوک کر ان کی ترفداری کر رہی ہے؟ ماہرین کی مانیں تو اس کے پیچھے قاعدے قانون صفر ہے جیل میں بند داغی وزیر کو عہدے سے ہٹانے کے بارے میں نہ تو قانون ہے اور نہ ہی کنڈکٹ رول میں کچھ کہا گیا ہے۔ایک سرکاری ملازم اگر دو چار دن جیل میں رہتا ہے تو اس کو معطل کر دیا جاتا ہے لیکن ایک وزیر ایک مہینے سے زیادہ جیل میں ہونے کے باوجود عہدے پر بر قرار ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو جس حالت سے نمٹنے کے دو ہی طریقے ہیں قانون بنے یا پھر عدالت حکم دے عدالت کسی مسئلے کو تب تک تشریح نہیں کرتی یا کوئی فیصلہ نہیں دیتی ہے جب تک اس کے سامنے کوئی معاملہ نہیں آتا ۔ ایسے معاملوں میں کورٹ نوٹس لے کر فیصلہ نہیں دیتی۔دوسرا طریقہ ہے کہ آئین سازیہ ہی اس پر قانون بنائیں ۔لیکن سوال کہ سیا سی مفادات کے ایسے اشو پر کیا سیاست داں ایک ہوں گے؟لوک سبھا کے سابق سیکریٹری جنرل اور ماہرین آئین سبھاش کشیپ کہتے ہیں کہ جیل میں وزیر کے عہدے پر رہنا چاہیے یا نہیں اب بات کم سے کم کورٹ آف کنڈکٹ میں آنی چاہیے موجودہ حالت یہ ہے کہ جب تک عدالت سے کسی کو قصور وار نہیں ٹھہرا یا جاتا یا وہ بے قصور مانا جاتا ہے ۔ موجودہ قانون میںزیر سماعت قید ی کے طور پر جیل میں رہتے ہوئے وزیر بنے رہنے پر روک نہیں ہے۔ حالاںکہ اخلاقیت کا تقاضہ ہے جیل جانے پر استعفیٰ دے دینا چاہئے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی وہ بھی پبلک سرونٹ بتائے جانے پر کشیپ کہتے ہیں کہ وہ فیصلہ بحث کا اشو ہے ۔ ابھی تک طے نہیں ہے کہ کس کس اشو پر وہ پبلک سروینٹ مانے جائیں گے؟موجودہ قانون میں تو قصور وار پائے جانے اور سزا ہونے پر ہی ایم پی یا ممبراسمبلی نا اہل ہیں اور تبھی ان کی ممبر شپ جاتی ہے۔ (انل نریندر)

23 مارچ 2022

امریکی صدر بائیڈن نے پوتن کو جنگی مجرم سے تشبیح دی !

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے یوکرین پر کئے جار ہے روسی حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور تباہی مچانے کو لیکر روسی صدر ولادیمیر پوتن کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یوکرین میں تباہی اور دہشت پھیلا رکھی ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان پر ناراضگی جتائی اور کہا کہ روس رہائشی عمارتوں ،اسپتالوں و عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔یہ بہت خوفناک صور ت حال ہے ۔ اور یہ واقعہ حیران کرنے والا ہے بائیڈن نے پوتن کو جنگی مجرم کہنے کے بعد روسی وزارت خارجہ کے ترجمان دمتری پیشکوو کوو نے کہا کہ امریکہ ان کے بیان سے دنیا بھر میں بے قصور لوگوں کی جان لینے پر بہت نا راضگی ہے۔ اس دیش کے صدر کو ایسا بیان دیں رہے ہیں ،ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔جنگی مجرم کون ہے ؟ یہ لفظ ایسے کسی بھی شخص پر لاگو ہو تا ہے جو دنیا کے لیڈروں کے ذریعے منظور ان قواعد کی خلاف ورزی کر تاہے جنہیں مسلح جنگ قانون کے طور پر جانا جا تا ہے۔ اس سے یہ طے ہوتا ہے کہ جنگ کے وقت دیش کس طرح بر تاو¿ کرتا ہے۔ سنگین خلاف ورزیوں میں جان بوجھ کر قتل کرنا ، اور سیع تباہی جنگی جرم کے دائرے میں آتی ہے۔ جو جا ن بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا نا ، اور انہیں یر غمان بنا نا شامل ہے۔ قتل ،تباہی اور جنسی غلامی اس میں شامل ہیں ۔ اب تک ان نیتا و¿ پر چلا ہے جنگی مجرموں کا مقدمہ ۔ یوگوسلاویہ کے سابق لیڈر ایلو برڈین پر اقوام کی ایک عدلیہ نے خونی لڑائی کو بھڑکانے کیلئے مقدمہ چلا یا تھا ۔ عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی جیل کے حوالات میں ان کی موت ہو گئی تھی ۔ ایسے ہی لائیبریا کے سربراہ ٹیلر کو پڑوسی ملک سیارا لیون میں مظالم کو شہ دینے کا قصوروار ٹھہرا یا تھااس کے لئے انہیں 50سال کی سزا سنائی تھی ۔ چارٹ کے سابق تانا شاہ حسین ہوبرے کو بھی قصور وار ٹھہرایا گیا تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ولادیمیر پوتن کو دنیا کے دیش جنگی مجرم ٹھہرا سکتے ہیں؟ آنے والے دنوں میں اس کا پتہ چلے گا۔ (انل نریندر)

کیا عمران کی بدائی طے ہے؟

ایک مارچ کے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر میں فوجی ادارے و ان کے درمیان جاری رشہ کشی سامنے آئی ہے ۔ انہوں نے جے یو آر کے کے ایک لیڈر مولانا فضل الرحمن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں فوج کے سربراہ جنرل باجوا سے بات کر رہا تھا ۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ذلیل نہ کہیں ، میں اکیلا نہیں ہوں وہ ایسا کہہ رہا ہے ۔لوگوں نے ان کا نا م ڈیزل رکھا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے اپوزیشن کے پارٹیوں کے 100سے زیادہ ممبران نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 8مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی ۔ قومی اسمبلی کی کاروائی 21مارچ کو شروع ہوئی اور تحریک پر 28مارچ ہو ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔ حکمراں تحریک انصاف پارٹی کے ناراض 25ایم پی نے اسلام آباد کے سندھ ہاو¿س میں ڈیرا ڈال رکھا ہے۔ باغی ممبران سے ناراض پی پی آئی کے ورکر گیٹ توڑ تے ہوئے سندھ ہاو¿ س میں داخل ہوگئے ۔پولیس نے 13 ورکروں کو گرفتار کیاہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے پنجاب صوبے کے صدر رانا ثنا ءاللہ نے بتایا کہ اپوزیشن لانگ مارچ کرتے ہوئے 27مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے اور کانسٹی ٹیوشن ایوینیو کے سامنے دھر نا دیں گے ۔لانگ مارچ کی شروعات 24مارچ کو لاہو ر سے ہوگی ۔ عمران خان نے متحدہ اپوزیشن کی طرف سے لائے گئے تحریک عدم اعتماد کے درمیاں جمعہ کو فوج کے چیف جنرل باجوا سے ملاقات کی ۔اس ملاقات کے ایجنڈے کو لیکر یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں ۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ عمران اور باجوا نے اسلامی ملکوں کی انجمن کے پاکستان میں ہونے والی چوٹی کانفرنس ، بلوچستان میں تشدد اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ہونے والی ووٹنگ کولیکر بات چیت کی ہے۔ عمران آرمی کی حمایت چاہتے ہیں ۔ کیوں کہ 27مارچ کو ان کے خلاف اپوزیشن کی عدم اعتماد تحریک پر ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ وہیں پاکستان کے اخبار فرائڈے ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ عمران باجوا کو ہٹانا چاہتے ہیں ۔ وہیں اپوزیشن لیڈر شاہباز شریف نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد کو فوج دیش میں نہ تو مو جودہ سیاسی بحران میں کسی کی حمایت لے رہی ہے ۔ سبھا ٹی وی کے شو ندیم ملک لائیو میں جمعہ کی رات شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی مجھے انترم وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے لیکن قطعی فیصلہ پی ایم ایل این کے چیف نواز شریف کریں گے ۔ عمران خان کی سرکار کو حال ہی میں قومی اسمبلی نے صر ف پانچ ووٹوں کی بڑھت ہے اس کے علاوہ ان کے اپنے 24ممبروں نے اپوزیشن کے ساتھ جانے کی دھمکی دی ہے۔ حکومت کے وزیر اپنی پارٹی کے باغی ممبران پر زبردستی اور رشوت خوری کا الزام لگا رہے ہیں ۔ عمران کی پارٹی کے رمیش کمار کا دعویٰ ہےکہ تین فیڈرل وزراءسمیت ایوان کے 33ممبران نے حکمراں پارٹی چھوڑ دی ہے۔ دیش میں آسمان چھوتی مہنگائی وہیں بگڑے مالی حالات کا اشارہ کر تے ہیں وہیں خان کی پارٹی کے اندر پہلی نا راضگی اور سیاسی عدم استحکام کا صا ف اشارہ ہے دیکھنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی سیا ست کیا کر وٹ لیتی ہے۔ (انل نریندر)

22 مارچ 2022

پاک دہشت گردی اسپانسر دیش ڈکلیئر ہو!

امریکی ریاست پینسلونیا کے ایک ممبر پارلیمنٹ نے پاکستان کو دہشت گردی کے اسپانسر ملک کی شکل میں نامزد کرنے کی اپیل کی ہے۔اس کے لئے ایک بل پیش کیا گیا ہے نمائندہ اسکوٹ پیری نے سرکاری طور سے ایک بل پیش کیا ہے ، جس میں پاکستان کو دہشت گرد دیش کی شکل میں نامزد کرنے کی مانگ کرتاہے۔ اس بل کو اب امریکی خارجی امور کی امریکی ہاو¿س کمیٹی کے پاس بھیج دیا ہے۔ دہشت گردی کے اسپانسر دیش کی شکل میں نامزد کئے جانے کے نتیجے کے طور پر چار بڑے زمروں میں پابندیا لگتی ہیں ۔ جن میں امریکی غیر ملکی مدد پر روک سیکورٹی سازو سامان کے ایکسپورٹ پر روک اور مختلف طرح کی اقتصادی اور دیگر پابندیا ں شامل ہیں ۔ امریکہ کی تین بااثر ممبران پارلیمنٹ نے الزامات کی جانچ کرنے کی مانگ کی ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر پر معمور مسعود خاں کے دہشت گردوں اور اسلامی تنظیموں سے تعلقات ہیں ۔ پاکستان نے پہلے بھی کہا تھا کہ امریکی سرکار نے واشنگٹن میں سفیر کے طور پر مسعود خاں کے نام کی نامزدگی کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے کچھ دن پہلے ہی امریکی ایم پی نے صدر جو بائڈن سے ان کا توصیف نامہ منسوخ کرنے اور انہیں دہشت گردوں کے سچا ہمدرد قرار دینے کی درخواست کی تھی۔ پچھلے سال اگست تک پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے صدر رہے مسعود خاں کو گزشتہ نومبر میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی قومی سیکورٹی کیلئے اہم ترین ہےکہ سرکار سفیر خاں کے سلسلے میں غیر ملکی ایجنٹ رجسٹریشن کے قانون کی کسی بھی دفعات کے تحت جانچ کرائے ۔ (انل نریندر)

’دی کشمیر فائلز‘دکھاتی ہے کشمیر ی پنڈتوں کے قتل عام کا سچ!

بھار ت کے دوسرے وزیر اعظم لال بہادر شاشتری کی تاشقند میں ہوئی موت کا معمہ پر دی تاشقند فائلز بنا چکے فلم ڈائرکٹر ویویک اگنی ہوتری کی پچھلے دنو ں ریلیز ہوئی دی کشمیر فائلز کو بھی جنتا نے ان کی پچھلی بنی فلم کی طرح سمجھا لیکن تاشقند فائلز بنانے والے ناظرین نے کمشیر فائلز کو شروع سے ہی ہٹ کرنے کا من بنا لیا تھا۔ سوشل میڈیا اور وہاٹس ایپ پر فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے ہی بحث چھڑ گئی تھی ۔ فلم میں بھی فلم دیکھنے کا ارادہ کر لیا اور جمعرات کو آئی این ایکس پر چل رہی فلم دیکھی اس میں کشمیر ی پنڈتوں کی درد ناک کہانی بہت اچھے طریقے سے دکھائی گئی ۔در اصل 1990میں کشمیر وادی سے کشمیر ی پنڈتوں کے درد ناک اجڑ نے و قتل عام کے بارے ہر کسی نے سنا ہے لیکن اس کے بارے میں پوری جانکاری نہیں تھی۔ فلم سپر ہٹ ہوئی ہے اور کروڑوں کا بزنس کر رہی ہے۔ دی کشمیر فائلز ایک سچی کہانی پر بنی ہے فلم میں پنڈتوں کے اجڑ نے کی بلی کے اسباب اور اس کے بعد ان کی آواز کو کس طرح سے دبایا گیا فلم میں یہ کچھ دکھایا گیاہے۔ اس وقت لوگوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس وقت کی سرکار نے پر دہ ڈالا تھا۔بتادیں کہ اس وقت شری وشوناتھ پر تاپ سنگھ بھار ت کے وزیر اعظم تھے اور بھاجپا سرکا ر کی حمایت کر رہی تھی ۔ کشمیر کے گورنر جگموہن تھے جو بی جے پی سے تعلق رکھتے تھے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے اور مفتی محمد سعید دیش کے وزیر داخلہ تھے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مفتی سعید کی بیٹی روبیہ سعید کے اغوا اور اس کی رہا ئی کے بدلے میں چھوڑے گئے خطرناک آتنک وادی کے وقعے سے ہی وادی کشمیر میں دہشت گردی کی شروعات ہوئی تھی ۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ سچ دنیا کے سامنے آنے نہیں دیا گیا ۔پنڈتوں کی آواز کو دبا دیا گیا۔ ایک کشمیری پنڈت ناظرین کے مطابق دی کشمیر فائلز ادھوری کہانی بیان کرتی ہے،پیارے لال پنڈت جو اپنے خاندان کے ساتھ 2011سے جموں میں ایک بنائے گئے شہر میں رہ رہے ہیں ۔ انہوںنے بی بی سی کو بتایا کہ اس فلم میں کشمیر کی ادھوری کہانی بیان کی گئی ہے۔ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے مسلمان اور سکھ فرقے کے لوگ بھی مارے گئے تھے اور وہاں سے چلے گئے تھے لیکن ان کا فلم میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ ایک کشمیری مہاجر شادی لال پنڈت نے بی بی سی کو بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ظلم ہوا جس کی وجہ سے ہمیں وہاں سے نکلنا پڑا اس وقت نہ تو ہمیں کشمیر سرکا ر (جگموہن )نے اور نہ ہی بی جے پی حمایتی مر کزی حکومت نے کوئی کوشش کی ۔اگر سری نگر میں ہی ایک ٹاو¿ن شپ بنا دیتے جس کی نگرانی فوج کرتی تو شا ید پنڈتوںکو اپنے گھروں سے بے دخل نہ ہونا پڑتا ۔ہم سرکار سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ پہلے کے سرکاروں نے کشمیری پنڈتوں کو اجا ڑا لیکن اس وقت حالاںکہ بی جے پی مرکز میں اتحادی سرکار چلا رہی تھی اس وقت آپ نے کشمیری پنڈتوں کا خیال نہیں کیا ۔ کشمیری پنڈتوں کا استحصال کیا گیا۔ ہم مد د مانگتے ہیں ۔اور نوجوانوں کیلئے ملازمتیں مانگتے ہیں ۔ فلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024کے عام چنا و¿ کی تیاری ہو رہی ہے۔ یہ دیناکو بتائیں گے کہ کشمیر ی پنڈتوں کے ساتھ کیا ظلم ہوا ۔اس کو چناوی اشو بنا یا جائےگا۔ پاکستان کے ذریعے اسپانسر دہشت گردی نے ہمیں نشانہ بنا یا نہ کہ کشمیری مسلمانوں نے بی جے پی والے کچھ دنوں سے بتارہے ہیں کہ یہ سب کانگریس نے کیاہے۔ لیکن اس وقت سرکار تو آپ کی چل رہی تھی۔ اس وقت نیشنل کانفرنس کی سرکار نے ہماری حفاظت کیوں نہیں کی تھی ۔ ایک اور دوسرے پنڈت کا کہنا تھا کہ اس فلم کو دیکھنے کے بعد نہ تو کشمیر میں رہ رہے پانچ ہزار کشمیر ی پنڈت اب محفوظ ہیں اور نہ ہی ہم کبھی واپس جا سکیں گے۔ (انل نریندر)

20 مارچ 2022

کسان آندولن کا ووٹروں پر اثر !

پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی زبردست اکثریت مالوا علاقے میں اس کی شاندار پر فارمنس کے سبب ممکن ہوئی ہے۔ عآپ نے 69میں سے 66سیٹیں جیتی ہے ۔ یہ خطہ پنجاب میں ایک سال سے زیا دہ وقت سے کسان آمدولن کا مر کز رہا اور نہ صرف راجدھانی میں بلکہ دہلی کی سرحدوں پر بھی مظاہرین میں یہاں کسانوں کی سرگرم حصہ داری رہی ۔لوک نیتی سی ایس ڈی ایم کے سروے میں پا یا گیا ہے کہ بھلے ہی عآپ کو کسانوں اور کھیتی سے نہ جوڑے لوگوں کے درمیان اپنے اپنے سیاسی حریفوں پرزبردست کامیابی ملی ہو لیکن کسان فرقے کے درمیان عآپ نے اپنے مضبوط ووٹ شیئر کے مقابلے 44فیصد حمایت کے حصول کے مقابلے 42سے 44فیصد ووٹ شیئر بڑھا یا ہے۔ مالوا خطے میں جن گھروں میں کوئی نہ کوئی کھیتی میں لگا ہوا تھا وہاں آدھے ووٹروں نے عآپ کو ووٹ دیا ۔ جہاں کوئی ممبر کھیتی میں نہیں لگا ہوا تھا وہاں سے عآپ کو کم ووٹ ملے ۔ مالوا خطے میں اکالیوں نے بھی زرعی خطے کے ووٹوں کے ایک اہم ترین حصہ پر قبضہ کیا ۔عآپ اور کانگریس شرمنی اکالی دل اور کسانوں کے بیچ مقابلہ کافی سخت مانا جا سکتا ہے ۔بھلے ہی یہاں عآپ کو تھوڑی سی بڑھت ملی ہے ۔اکالیوں نے اتنی بری پرفارمنس نہیں دی جتنی انہوں نے دوسرے کسانی علاقوں میں کسانوںکے درمیان دی ہے ۔ (انل نریندر)

روسی فوج کی پیش رفت سبھی محاذ پر تھمی !

یوکرین جنگ میں روسی فورسیز نے حال ہی کے دنوں میں زمینی و اسمبلی اور ہوائی محاذوں پر کم از کم پیش رفت کی ہے اور مشرقی یوروپی ممالک میں انہیں بھاری نقصا ن اٹھا نا پڑ رہا ہے ۔ روس یوکرین جنگ کو 44دن ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کے وزارت دفاع نے یہ بات کہی ہے اپنے نئے خفیہ اپڈیٹ میں وزارت نے کہا کہ یوکرینی فورس کے سخت مقابلہ کے چلتے مشرقی یوروپی ملکوں میں تقریباً ہر محاذ پر روسی فورسیز کی بڑھت کافی حد تک رک گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ یوکرین جنگ میں روسی فورسیز نے حالیہ دنوں میں تینوں محاذوں پر کم از کم پیش رفت کی ہے۔اور انہیں بھار ی نقصا ن اٹھا نا پڑ رہا ہے یوکرین کا مقابلہ زبردست تال میل سے جاری ہے ۔ سبھی بڑے شہروں سمیت یوکرین کا زیا دہ تر حصہ یوکرین کے کنٹرول میں ہے ۔ یہ اپڈیٹ روس یوکرین لڑائی کے جواب میں نیٹوکے سیکریٹری جنرل جیمس اٹولز برگ کے ذریعے بروسیلز میں ممبر ممالک کے ڈیفنس وزارتوں کی غیر معمولی میٹنگ بلائی جانے کے ایک دن بعد آیا ہے ۔ ان وزراءنے کہا کہ یوروپ کے تازہ بہران اور نیٹوں کی ڈیفنس سرگرمیوں طویل المدت عمل پر غیر ہوا ۔ برطانیہ کے وزیر دفاع وین والس نے بتایا کہ برطانیہ اور ہمارے ساتھ روسی حملے کے خلاف یوکرین کی حمایت جا ری رکھیں گے ۔ انہوں نے امریکہ ، فرانس ،جرمنی ،اٹلی ،ترکی ،کینیڈا ،سولوواکیا ، سویڈن ،چیک جمہوریہ کے ساتھ اجتماعی ملاقاتیں کی ہیں ۔ ادھربرطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور نیچو رل گیس پر مغربی ممالک کا انحصار گھٹانے کی کوششوں کے تحت سعودی عرب ، یو اے ای کے لیڈروں سے بھی تبادلہ خیال کیلئے خلیجی ملکوں کے دورے پر جارہے ہیں۔ (انل نریندر)

پگڑی بسنتی نعرہ انقلاب زندہ باد !

عام آدمی پارٹی کے نیتا بھگونت مان نے بدھ کو تقریباً 4لاکھ لوگوں کی بھیڑ کے درمیان بھگت سنگھ کے گاو¿ں میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا ۔ بسنتی پگڑی پہنے مان نے انقلاب زندہ باد اور کرانتی کی جے ہو کے نعرے کے ساتھ پنجابی میں حلف لیا ۔ 48سال بھگونت مان چا دہائیوں میں پنجاب کے سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔وہ 17ویں وزیر اعلیٰ ہیں حلف لینے کے بعد کہا کہ میں نے پنجاب کے سبھی باشندوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ہے ۔آپ سبھی مکھیہ منتری ہیں،آج سے ہمار ا کام شروع ہو جائے گا۔ ہمیں پہلے ہی 70سال کی دیری ہو چکی ہے۔ حلف برداری تقریب یہ ایک علامت بھی اور اہم بھی ہے لیکن اس سے زیا دہ اہم ہے کہ وہ اعتماد جو پنجاب کے لوگوں نے اس نئی پارٹی کو 117میں سے 92سیٹوں پر وسیع اکثریت کے ساتھ باگ ڈور سونپ کر جتا یا ہے۔ جس طرح سے کانگریس اور اکالی دل جیسی بڑی پارٹیوں کا صفایا ہو گیا ہے وہ بتاتا ہے کہ پنجاب کے لوگو ں نے اس بار ووٹ دیتے ہوئے نئی پارٹی سے امیدوں کے ساتھ ہی پرانی پارٹیوں کے تئیں اپنی مایوسی جتائی ہے۔پنجا ب میں عام آدمی کی پارٹی کی سرکار بننا اس لئے ایک بڑا سیا سی واقعہ ہے کیوں کہ کانگریس بھاجپا اور لیفٹ پارٹیوں کے بعد وہ ایک منفرد ایسی پارٹی ہے جو ایک کے بعد دوسری ریاست کے اقتدار تک پہنچی ہے ۔ اس کی اس کامیابی نے ان تمام علاقائی پارٹیوں کے سامنے ایک چنوتی کھڑی کر دی ہے جو ایک لمبے عرصے سے قومی سیا ست پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہیں ہیں ۔ یہ خاص قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی اپنے قیام کے 10ویں برس کے اندر ہی دہلی کے بعد پنجاب کے اقتدار تک پہنچی ہے ۔ اس نے اروند کیجریوال کی لیڈرشپ میں پنجاب کو صر ف شاندار کامیابی حاصل نہیں کی ہے بلکہ چنا وی مقابلے سارے حریف پارٹیو ں کے بڑے بڑے سرکردہ نیتاو¿ں کو بھی ہرا دیا۔ اور یہ بھی اپنے عام امیدواروں کے سہارے ۔ اس نے ایسی ہی کچھ کرشمہ دہلی میں بھی دکھا یا تھا ۔ پنجاب پر 2لاکھ 82ہزار کروڑ کا قرض ہے ۔ ایسے میں دیکھنا ہوگا کہ نئی سرکار اپنے وعدوں پر کتنی کھڑی اترتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرحدی ریاست ہونے کے ناطے پنجاب کافی حساس مانا جا تا ہے۔ آتنک کے دور یہ ریاست پیچھے چھوڑ چکی ہے لیکن خالصتان حمایتی عنا صر کی سازشوں کی باتیں کبھی کبھی اٹھتی رہتی ہیں ۔ ڈرگس یہاں ایک بڑا اشو ہے کیوں کہ دہلی میں پولیس انتظام کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی نہیں ہے اس لئے یہ پنجاب سرکار کو اس کے لئے ذمہ دار مانتی ہے ۔ پنجاب پولیس عآ پ کے ہاتھ میں ہے دیکھتے ہیں کہ ڈرگس مسئلے کا حل آپ کیسے کرتے ہیں ۔ چیلنج بہت ہیں لیکن امیدوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ بھگونت مان کو نئے عہدے کی بدھائی ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...