Translater
30 اگست 2025
ٹیرف نے چھینی ہیرے کی چمک!
بھارت پر فاضل25 فیصدی امریکی ٹیرف لاگو ہو گیا ہے اسی کے ساتھ ہندوستانی چیزوں پر کل ملا کر 50 فیصدی ہو گیا ہے مانا جارہا ہے کہ 18 ارب ڈالر سے زیادہ کا امریکہ کو کئے جانے والے ہندوستانی ایکسپورٹ سامان زیادہ متاثر ہوگا ۔بھارت کے کپڑے ، دیگر لباس ،ہیرے ،زیورات اور جھینگا ،چمڑا وغیرہ بہت سی صنعتوں پر سیدھا اثر پڑے گا میں نے کچھ دن پہلے ہی ہریانہ کی صنعتوں پر پڑنے والے برے اثرات کا تذکرہ کیا تھا ۔آج میں گجرات کے شہر سورت میں ہیرا انڈسٹری کے بارے میں بتانے کی کوشش کروں گا ۔سورت دنیا میں ہیروں کی کٹنگ اور پالش کے لئے ماناجاتا ہے و جانا جاتا ہے ۔لیکن اب اس صنعت پر منحصر رہنے والے لوگ مشکل میں ہیں ۔30 فیصدی ٹیرف نے اس سیکٹر کے تاجروں کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔ہیرا صنعت سے جڑے پچیس لاکھ سے زیادہ کام گار اس سے متاثر ہوسکتے ہیں ۔پچاس فیصدی ٹیرف لگانے کا اثر سب سے زیادہ اس سیکٹر پر پڑ رہا ہے کیوں کہ سورت کی ہیرا انڈسٹری امریکہ کے لئے جانے والے سامان پر زیادہ منحصر ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ٹیرف کم نہیں کیا گیا تو کئی تاجر ہیرا صنعت سے باہر ہو جائیں گے ۔کئی لوگوں کی نوکریاں چلی جائیں گی اور زبردست مندی آجائے گی ۔حالانکہ دوسری جانب ہیرا صنعت سے جڑی انجمن جیسے سورت ڈائمنڈ ایسو سی ایشن اور ساو¿تھ گجرات چیمبر آف کامرس کا ماننا ہے کہ امریکی ٹیرف سے کچھ مندی آئے گی لیکن وقت کے ساتھ حالات ٹھیک ہو جائیں گے کیوں کہ بھارت کو ہیرا صنعت کی جتنی ضرورت ہے امریکہ میں بھی ہیروں کی اتنی ہی مانگ ہے ۔اس لئے وہاں کے لوگ ،تاجر بھی اس مسئلے کا کچھ حل چاہتے ہیں ۔سورت کی کئی چھوٹی فیکٹریوں میں بیس سے دو سو ملازم کام کرتے ہیں بہت سوں کی تو یہ تعداد پانچ سو تک ہوتی ہے ۔اور سورت میں ایسی ہزاروں فیکٹریاں ہیں ۔حال ہی میں کئی لوگوں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور چھوٹی بڑی فیکٹریوں کا یہ حال ہے کہ بیس سال پہلے سلیش مونگیا نے صرف ایک پالش وہیل (چکی) سے ہیرا پالش کرنے کا ایک کارخانہ شروع کیا تھا جو اب اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ یہاں ورکروں کی تعداد تین سے بڑھ کر 300 ہو گئی ہے حالانکہ اب اس فیکٹری میں صرف 70 لوگ ہی بچے ہیں وہ کہتے ہیں سارے آرڈر کینسل ہو گئے ہیں ۔مزدوروں کو کہنا پڑ رہا ہے کہ کام نہیں ہے ۔آرڈر نہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں مل رہا ہے اور کام نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں ۔پچھلے سال اگست میں ،ان کی فیکٹری میں ہر مہینے اوسطاً دو ہزار ہیروں کی پروسیسنگ ہو رہی تھی لیکن اس سال گھٹ کر مقدار 300 تک رہ گئی ہے مزدور سریش راٹھو ر کہتے ہیں کہ عام طور پر ہمیں جنم اشٹمی کے دوران صرف دودن کی چٹھی ملا کرتی تھی اس بار ہمیں دس دن کی بغیر تنخواہ کے چٹھی دی گئی ہے ۔ہم ایسے کیسے رہ سکتے ہیں ؟ سریش راٹھو ر جیسے کئی اور کاریگر ہیں جو اس طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔سورت ڈائمنڈ پالشرس یونین کے مہاویش ٹاک کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس وقت بہت سے جوہری شکایت لے کر آرہے ہیں کہ ان کی تنخواہ کم کر دی گئی ہے ۔انہیں نوکری سے بھی نکال دیا گیاہے ہزاروں مزدوروں کی آمدنی کم ہو رہی ہے ۔صنعتی دنیا کے لیڈروں نے ایک اسپیشل ڈائمنڈ ٹاسک فورس بنائی ہے جو اس صورتحال کا حل نکالنے کی کوشش کرے گی ۔ساو¿تھ گجرات چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین نکھل مدراسی نے اس بارے میں بی بی سی سے بات میں کہا کہ امریکی بازار پر بھاری انحصار کی وجہ لمبے عرصے میں بڑا جھٹکا لگے گا پرانے آرڈر پورے ہو چکے ہیں لیکن نئے آرڈر کا مستقبل غیر واضح ہے ۔سرکار کو فوراً مدد کرنی ہوگی اور کئی تاجر مشرقی وسطیٰ اور یوروپ جیسے بازاروںمیں مواقع تلاش رہے ہیں اور کچھ تو بائی پاس راستوں کے ذریعے امریکہ تک مال بھیجنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ ان کے مطابق اب الگ الگ یوروپی ممالک میں نئے بازروں کی تلاش کی ضرورت ہے ۔سوال یہ ہے کہ سورت کے ہیرا صنعت کو کیسے بچایاجاسکتا ہے ؟ اس صنعتی دنیا کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالت اور بھی خراب ہو سکتی ہے ۔جیم اینڈ جیولری ایکسپورٹ پرموشن کونسل کے گجرات چیئرمین جیوتی بھائی ساولیہ کا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ پر انحصار کم کیا جائے اور دیگر بازاروں کی طرف دیکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ آرڈر نہیں ملے تو یقینی طور سے مزدروں کی تنخواہ اور روزگار پر اثر پڑے گا ۔اصلی مار آنے والے مہینوں میں نظر آئے گی وہ آگے کہتے ہیں کہ حال میں امریکہ کو ہونے والا کل ایکسپورٹ تقریباً بارہ ارب ڈالر کا ہے اگر ہم اس کی بنیاد پر بھی دیگر ملکوں سے بڑھا سکیں تو سورت کی ہیرا انڈسٹری بچ سکتی ہے اس صورت میں بھارت کے ہیرے کی چمک ٹیرف سے پڑنے والے اثر کو کم کردے گی ۔
(انل نریندر)
28 اگست 2025
ووٹ چوری الزام پر چناو کمیشن کا جواب !
بھارت میں چناوی عمل پر عوام کا بھروسہ ڈگمگا رہا ہے تو اس کے پیچھے کیا سیاست ہے ۔7 اگست کو لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس نیتا راہل گاندھی کی پریس کانفرنس کے بعد بہت سے لوگوں کے دل میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کہیں ہمارے ووٹ تو نہیں کٹے ؟ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے چناو¿ کمیشن پر حکمراں بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کی بات کہی تھی ۔جسے چناو¿ کمیشن نے سرے سے مسترد کر دیا ہے ۔راہل گاندھی ،تیجسوی یادو اور انڈیا اتحاد کے ساتھی اسے بہار میں زور وشور سے اٹھا رہے ہیں اور اسے بھاری حمایت بھی ملتی نظر آرہی ہے ۔وہیں بھارتیہ جنتاپارٹی اسے کانگریس سمیت اپوزیشن کی مایوسی والی سیاست کہہ رہے ہیں ۔خیال رہے کہ جس دن بہار کے ساسا رام میں وووٹ ریکارڈ یاترا شروع ہوئی تھی اسی دن چناو¿ کمیشن نے بھی پریس کانفرنس کی تھی لیکن اس کے بعد بھی چناو¿ کمیشن پر تنقیدیں جاری ہیں ۔سوال ہے کہ کیا مرکزی حکومت ان الزامات کے بعد کسی طرح بیک فٹ پر دکھائی پڑتی ہے ؟ چناو¿ کمیشن اگر بچاو¿کرے تو کیا اسے ہر بار جانبدارانہ طور پر ہی دیکھا جائے گا ۔؟ اور چناو¿ کمیشن آخر راہل گاندھی سے حلف نامہ لینے کی مانگ پر کیوں اڑا ہوا ہے ؟ جبکہ راہل اندھی دعویٰ کررہے ہیں جو دستاویز انہوں نے سات اگست کو پیش کئے تھے وہ سب چناو¿ کمیشن کے ہی دیے ہوئے اعداد شمار ہیں؟ ان سوالوں پر بحث کے لئے انڈین ایکسپریس کی نیشنل بیورو چیف ریتیکا چوپڑا اور بھارت کے سابق چناو¿ کمشنر اشوک لباسا بی بی سی کے ہفتہ واری پروگرام دی لینس میں شامل ہوئے ۔اسی سال جون کے مہینے سے راہل گاندھی نے اخباروں میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے چناو¿ کمیشن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ میں میچ فکسنگ کی بات کہی تھی۔بہار میں ایس آئی آر بڑا اشوبنتا جارہا ہے ۔ایس آئی آر پر اشوک لباسا لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے اشتعال کے سبب بہار اسمبلی چناو¿ سے پہلے ایس آئی آر جیسی بڑی کاروائی کو اپنانے سے لوگوں میں غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے ۔دوسری وجہ ہے کہ 2003 کی نظر ثانی میں پریزینٹیشن آف سٹیژن شپ لفظ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے ۔ساسارام میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بہارمیں ا یس آئی آر کرکے ووٹروں کو جوڑ کر اور اہل لوگوں کے نام کاٹ کر بی جے پی آر ایس ایس بہار کا چنا و¿ چوری کرنا چاہتی ہے جبکہ چناو¿ کمیشن کی دلیل ہے کہ ووٹر لسٹ میں گڑ بڑیوں کو دور کرنے کے لئے ایس آئی آر کاروائی اپنائی جاتی ہے اشوک لواسا کا کہنا ہے کہ اس بار کاروائی پیچیدہ بنا دی گئی ہے ۔اورا س کے لئے لوگوں کو درکار وقت نہیں دیا گیا اس بار سوال ووٹر لسٹ پر اٹھائے جارہے ہیں اور پچھلے دس برسوں میں ایسے سوال نہیں اٹھائے گئے تھے ۔گزشتہ چناو¿ میں سیاسی پارٹی ای وی ایم ،چناوی ماڈیول یا ماڈل آف کوڈ آف کنڈکٹ سے متعلق شکایتیں کرتے ہیں سوال ابھی بھی چناو¿ کمیشن پر ہے لیکن اشو ووٹر لسٹ کا ہے ۔اس لئے یہ باقی معاملوں سے الگ ہے ۔راہل گاندھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ چناو¿ کمیشن صرف ان سے حلف نامہ مانگ رہا ہے جبکہ کسی اور سے نہیں مانگا ۔اشوک لواسا کا کہنا ہے کہ اگر اتنے برے پیمانہ پر ایک اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کے بارے میںدعویٰ کیا گیا ہے تو کسی بھی سرکاری دفتر کو اس کی جانچ کرنی چاہیے ۔میرے خیال سے اس کے لئے کسی حلف نامہ کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں سے پوچھا کہ جب اتنی مشکلات ہیں تو صرف الیکشن کمیشن کے پاس دو شکایتیں ہی کیوں نہیں آئی ہیں ۔حالانکہ تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی شکایتوں کو منظور نہیں کیا گیا ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ الیکشن کمشنر گیانیش کمارکے بولنے کے طریقہ کے سبب لوگوں کے دل میں شکایتیں پوری طرح سے ختم نہیں ہو پائی ہیں ۔اشوک لواسا نے آگے کہا کہ چناو¿ کمیشن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر کوئی غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے تو اسے چناو¿ کمیشن کو ہی دور کرنا ہوگا ۔چناو¿ کمیشن کو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا چاہیے ۔صحیح اور غلط کا فیصلہ لوگ خود کریں گے ۔بہار اسمبلی چناو¿ میں بہت کم وقت بچا ہے وقت صرف تین مہینے کا ہے اور چناو¿ کمیشن کو دستاویز جمع کرنے کے ساتھ ان کی توثیق بھی کرنی ہے ووٹروں کے پاس طے دستاویز نہیں ہیں اور کچھ لوگوں میں خوف کا ماحول ہے انہیں سب پریشانیوں کی وجہ سے اس مسئلے کی پکڑ بنیاد پر بڑھتی جارہی ہے ۔کئی لوگ اسے اپنی شہریت کے ساتھ بھی جوڑ رہے ہیں ۔حالانکہ چناو¿ کمیشن نے صاف کیا ہے کہ ایس آئی آر کا شہریت سے کوئی لینادینا نہیں ہے ۔لیکن بہار کے ووٹرو ں میں خدشہ ابھی بھی بناہوا ہے اشوک لباسا بتاتے ہیں کہ پریزمشن آف سٹیشن شپ کے استعمال سے شہریت پر سوال بنا ہوا ہے ۔چناو¿ کمیشن بار بار کہہ رہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام نہ آنے سے شہریت ختم نہیں ہوگی ۔لیکن اس سے بھی تضاد یہ ہے کہ اسی وجہ سے تو آپ اسے ووٹر لسٹ سے باہر نکال رہے ہیں؟
(انل نریندر)
26 اگست 2025
گورنر بل میں دیری کرے تو راستہ کیا ہے؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر گورنر غیر میعادی مدت تک بلوں کو پنڈنگ رکھتے ہیں تو اس سے ودھان منڈل بے اثر ہو جائے گا ۔ایسی صورت میں کیا عدالتیں مداخلت کرنے میں لاچار ہیں ؟ دراصل مئی 2025 میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمونے آئین کے آرٹیکل 143 ( 1) کے تحت سپریم کورٹ نے یہ رائے مانگی تھی کہ کیا گورنر کے احکامات کے ذریعے صدر گورنر کو میعاد وقت میں باندھ سکتا ہے ؟ چیف جسٹس آر گوائی ،جسٹس سوریہ کانت ،جسٹس ورکرما ناتھ ،جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس ایس چنڈورکر کی ڈویژن بنچ اسی صدارتی ریفرنس پر سماعت کررہی ہے۔ سماعت کے دوران جمعہ کو بھارت سرکار کے وکیل نے دلیل دی کہ عدلیہ صدر جمہوریہ یا گورنر کو پابندی کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتی تب چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ہم یہ کہیں کہ چاہے آئینی عہدے دار کتنے بھی اونچے ہوں ،اگر وہ کام نہیں کرتے تو عدالتیں لاچار ہیں ؟ دستخط کرنا ہے یا نا منظور کرنا ہے اس وجہ پر ہم نہیں جارہے کہ انہوں نے کیوں کیا لیکن اگر نوڈل ایجنسی منڈل نے کوئی ایکٹ پاس کر دیا ہے اور بصد احترام گورنر بس اسی پر بیٹھے ہیں تو یہ سالیشیٹر جنرل نے کہا کہ ہرمسئلے کا حل کورٹ میں نہیں تلاش کیاجاسکتا ۔عدالت نے کہا کہ اگر کچھ گورنر اسمبلی کے ذریعے پاس بلوں کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان پر فیصلہ نہیں لے رہے ہیں تو ایسے میں گورنروں عدلیہ حل کے بجائے سیاسی حل تلاشنے ہوں گے ۔سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ اگر گورنر بلوں میں تاخیر کرتے ہیں تو راستہ کیا ہے ؟ تبھی سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا کہ یہ ایک عام جواب یہ ہے کہ اگر کوئی گورنر بلوں کو لٹکائے رہتے ہیں تو سیاسی حل نکلتے ہیں اور ایسے حل بھی نکل رہے ہیں ۔ہر جگہ ایس نہیں ہوتا کہ ریاست کو سپریم کورٹ جانے کی صلاح دی جائے ۔وزیراعلیٰ جاتے ہیں اور وزیراعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ صدر سے ملتے ہیں ۔نمائندہ وفد جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی شکل میں فیصلہ لیں ۔کئی بار ٹیلی فون پر ہی معاملوں کو نپٹا لیا جاتا ہے ۔وزیراعلیٰ ،وزیراعظم اور گورنر کی مشترکہ ملاقاتیں ہوتی ہیں اور اس طرح تعطل دور ہوتا ہے لیکن اس میں دائرہ اختیار یعنی نیورکس یورڈ رکشن نہیں مل پاتی کہ جوڈیشیل فیصلے کے ذریعے وقت میعاد طے کر دیں ۔سوال یہ ہے کہ جب آئین میں وقت اور میعاد طے نہیں ہے تو کیا عدالت وقت حد طے کر سکتی ہے ؟ بھلے ہی اس کے لئے جواز ہو ؟ ایسے مسئلے کئی دہائیوں سے ہر ریاست میں اٹھتے رہے ہیں لیکن جب سیاسی اسٹیٹ منشپ اور سیاسی پختگی دکھائی جاتی ہے تو وہ مرکز کے آئینی صلاح کاروں سے ملتے ہیں اور تبادلہ خیال کرتے ہیں اور سیاسی حل نکال لیتے ہیں یہ ان مسئلوں کے حل ہیں جسٹس سوریہ کانت نے پوچھا کہ اگر گورنر کی ٹال مٹولی کے خلاف کوئی متاثرہ ریاست عدالت کے پاس آتی ہے تو کیا آپ کے مطابق عدلیہ جائزہ پوری طرح بے جواز ہے ؟ اس پر تشار مہتا نے کہ کہ وہ گورنر کی کاروائی کی عدالتی کاروائی کے سوال پر نہیں ہے بلکہ اس سوال پر ہیں کہ کیا عدالت گورنر کو وقت حد کے اندر کام کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی غلط ہے تو قدم اٹھانا ہی چاہیے مہتا نے جواب دیا کہ دیش کے ہر مسئلے کا حل کسی اسٹیج سپریم کورٹ )سے نہیں ہوسکتا ۔اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر کوئی آئینی عہدے دار بغیر کسی وجہ اپنی فرض نہیں نبھاتا تو کیا عدلیہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔جسٹس سوریہ کانت نے اس دوران جوڑا کہ اگر سسٹم کے پاور سپریم کورٹ میں ہیں تو قانون کی تشریح عدالتوں کو ہی کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...