Translater

15 جولائی 2017

یوگی آدتیہ ناتھ کا پہلا متوازن بجٹ

اترپردیش میں حکمراں بھاجپا کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت 14 سال بعد اقتدار میں آئی ہے۔ حکومت کے ہر قدم پر سارے دیش کی نگاہیں ہیں۔ منگل کے روز یوگی سرکار نے رواں مالی سال یعنی 2017-18 کے لئے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔ 384659 کروڑ روپے کا یہ اب تک کا ریاست کا سب سے بڑا بجٹ ہے۔ جو پچھلی اکھلیش یادو سرکار سے 10.9فیصدی زیادہ ہے۔ جس طرح اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کے ایک ایک کام پر پورے دیش کی نظر ہے اسی طرح ان کے پہلے بجٹ کو بھی بہت باریکی سے دیکھا جارہا ہے۔ پورا بجٹ دیکھنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے یوگی اور ان کے وزیر خزانہ راجیش اگروال نے یوپی کی عوام کو مایوس نہیں کیا ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عوام الناس کی بھلائی کے ساتھ سرکار نے ایودھیا ،متھرا ،وارانسی اور چترکوٹ کے لئے الگ الگ پلان میں بھاجپا اور سنگھ پریوار کے ہندوتو کی چھاپ چھوڑنے کی کوشش کی ہے اورا ن مقامات کو ڈولپ کرنے اور ان کی اہمیت کو بحال کرنے کا بھی کردار نبھایا ہے۔ ’سودیش درشن یوجنا‘ کے ذریعے ایودھیا میں رامائن سرکٹ، متھرا میں کرشن سرکٹ اور کاشی میں بودھ سرکٹ کے لئے 1240 کروڑ روپے کا انتظام کرنا لائق تحسین قدم ہے۔ چترکوٹ میں تہذیبی وراثت کو محفوظ کرنے کا عزم کیا ہے۔ حالانکہ اس میں اپنے یوگ کلیان سنکلپ پتر میں کئے گئے وعدوں میں متوازن بنانے کی کوشش صاف دکھائی پڑتی ہے۔ ایک طرف کسانوں، نوجوانوں اور غریبوں کو دھیان میں رکھ کر بجٹ بنایا گیا ہے تو دوسری طرف اپنے کلچرل ایجنڈے کے مطابق ایودھیا ،متھرا، کاشی کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔ پوروانچل اور بندیل کھنڈ کے لئے خصوصی اسکیموں کا انتظام کیا ہے تو کانپور، آگرہ اور گورکھپور میں میٹرو ریل چلانے کیلئے بھی بجٹ میں پیسہ رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں خواتین کے لئے خاص توجہ دی گئی ہے۔ مہلا ٹارچر معاملوں کو جلد نپٹانے کے لئے سرکار نے 100 اپر ضلع جج سطح کی عدالتیں کھولنے کیلئے 20 کروڑ روپے رکھے ہیں۔ یوگی سرکار کے ذریعے چھوٹے اور منجھولے کسانوں کے 1 لاکھ روپے تک کے فصلی قرض معافی کے لئے 36 ہزار کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے اسے سرکار کا حوصلہ افزا فیصلہ کہا جانا چاہئے۔ سیاسی طور سے بیحد اہم اور دیش کی سب سے بڑی ریاست کے اس بجٹ کو بھاجپا سرکار کا بجٹ کہنے کے بجائے یوگی سرکار کا متوازن بجٹ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
(انل نریندر)

دھرم سنکٹ میں پھنسے نتیش کمار

مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی چھاپہ ماری کے بعد بہار میں حکمراں مہا گٹھ بندھن کی بڑی اتحادی پارٹی راشٹریہ جنتادل اور جنتا دل(یو) میں نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو کے خلاف بنے ماحول میں ان کے استعفیٰ کو لیکر سوشاسن بابو یعنی وزیر اعلی نتیش کمار دھرم سنکٹ میں پھنس گئے ہیں۔ اس فیصلے پر بھاجپا کی جانب سے لگاتار بنائے جارہے دباؤ کا اثر صاف دکھائی دیا۔ جب منگلوار کو جنتادل (متحدہ) کی میٹنگ کے بعد کرپشن کے الزامات کو لیکر وزیر اعلی نتیش کمار کے سخت بیان سامنے آئے۔ سی بی آئی کے کٹہرے میں کھڑے تیجسوی یادو کو لیکر جے ڈی یو نے جس طرح سے انہیں حقائق کو سامنے لانے کا الٹی میٹم دیا اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ نتیش کمار فیصلہ کن قدم اٹھانے کی تیاری کررہے ہیں۔حالانکہ تیجسوی نے یہ کہہ کر اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی کہ ان کے خلاف سازش رچی گئی ہے اور جو معاملہ ہے وہ اس وقت ہے جب وہ بچے تھے۔ ان کی داڑھی کے بال تک نہیں آئے تھے اور دراصل ان سے ڈری بھاجپا ان کے خلاف سازش رچ رہی ہے لیکن ایسی دلیلیں شاید ہی ٹھہر پائیں۔ نتیش کمار نے تیجسوی کو سیدھے استعفیٰ دینے کو تو حالانکہ ابھی تک نہیں کہا لیکن الزامات کے گھیرے میں آئے لوگوں کو حقائق کے ساتھ جنتا کے بیچ جانے اور خود کو بے داغ ثابت کرنے کی صلاح دے دی۔ پچھلے کچھ عرصے سے لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان کے کئی افراد کے نام اخباروں کی سرخیوں میں آرہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں نتیش کمار جس صاف ستھری ساکھ کے لئے جانے جاتے ہیں اس میں یہ قیاس آرائیاں کی گئی ہیں کہ اب وہ شاید آر جے ڈی سے ناطہ توڑنے کے موڈ میں ہیں۔ پارٹی کی ایک بڑی میٹنگ بلا کر نتیش نے آرجے ڈی کو یہ سخت سندیش بھجوادیا ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے اور آر جے ڈی بھلے ہی بعد میں اس الٹی میٹم کے لئے نتیش کمار کو بھاجپا حمایتی رویہ کیلئے ذمہ دار ٹھہرائے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ نتیش کی سیاست کسی ذات پات کے تجزیئے پر نہیں ٹکی ہے۔ ان کی اکیلی سیاسی پونجی صاف ستھری ساکھ ہے جو کرپشن پر زیرو ٹالرینس کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں اگروہ تیجسوی یادو کے خلاف دائر ایف آئی آر کو نظر انداز کرتے دکھائی دیتے ہیں تو ان کی سیاست کی بنیاد خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف لالو پرساد کیلئے مشکلیں بڑھ گئی ہیں یعنی سیاسی وراثت تیجسوی کو سونپنے کے اشارے وہ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ نتیش برے پھنسے ہیں ادھر کنواں ہے تو ادھر کھائی۔ اگر وہ اس معاملے میں مہا گٹھ بندھن توڑتے ہیں تو اقتدار سے بے دخل ہونے کا خطرہ ہے۔ دیکھیں سیاست میں یہ دو مہان کھلاڑی موجودہ سیاسی صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں۔
(انل نریندر)

14 جولائی 2017

دیش بھرکی ضلع عدالتوں میں 2.81 کروڑ مقدمہ التوا میں

سپریم کورٹ میں قریب 61 ہزار مقدمہ التوا میں ہیں۔ اس درمیان چیف جسٹس جے ایس کھیر نے کہا کہ بڑی عدالت پرانے مقدمے نپٹانے کیلئے فاسٹ ٹریک طریقے سے کام کررہی ہے۔ انہوں نے مقدمہ دائرکرنے والوں کو یقین دہانی کرائی کے ان کے اندراج فہرست معاملوں کو ہٹایا نہیں جائے گا۔ چیف جسٹس جگدیش کھیر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی ڈویژن بنچ کے سامنے جب ایک فکر مند وکیل نے اپنے معاملہ کا تذکرہ کیا اور درخواست کی کہ سماعت سے پہلے اس معاملہ کو اندراج سے ہٹایا نہیں جانا چاہئے تھا ، تو بنچ نے کہا کہ ہم سبھی فاسٹ ٹریک طریقے سے کام کررہے ہیں چنتا مت کیجئے معاملہ کو فہرست سے ہٹایا نہیں جائے گا۔ دیش بھر کی عدالتوں میں التوا مقدموں کی دراصل خوفناک تصویرسامنے آئی ہے۔ تازہ اعدادو شمار کے مطابق مختلف ضلع عدالتوں میں تقریباً 2.81 کروڑ مقدمہ لٹکے پڑے ہیں۔ وہیں ان عدالتوں میں قریب 5 ہزار ججوں کی بھی کمی ہے۔ سپریم کورٹ نے انڈین جوڈیشیری سالانہ ریکارڈ 2015-16 اور سب آرڈینیٹ کورس آف انڈیا : اے رپورٹ آن ایکسیس ٹو جسٹس 2016 کے عنوان سے رپورٹ جاری کی۔ ان رپورٹوں میں موجودہ حالت سے عبور پانے کیلئے اگلے تین سال میں قریب 15 ہزار ججوں کی تقرری کی ضرورت جتائی ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق ضلع عدالتوں میں 1 جولائی 2015 سے 30 جون 2016 کی میعاد میں 28125,066 مقدمہ التوا میں رہے وہیں اس میعاد میں کل 18904222 مقدموں کا نپٹارہ ہوا ۔ رپورٹ میں التوا مقدموں کے لئے ججوں کی کمی کو ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ اس کے مطابق نچلی عدالتوں میں ججوں کی منظوری نمبر 21324 ہے۔ ان میں سے 4954 عہدے خالی ہیں۔ کسی بھی دیش کے عدلیہ نظام میں جج کا عہدہ سب سے با احترام مانا جاتا ہے لیکن حال ہی میں دیش بھر کی عدالتوں میں بڑی تعداد میں ججوں کی اسامیاں خالی ہیں اس کی وجہ سے عدالتوں میں التوا مقدموں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان التوا مقدموں کے نپٹارے کے لئے آنے والے وقت میں مختلف سطحوں پر ججوں کی بھرتی ضروری ہے۔ ایسے میں جوڈیشیل سروس نوجوانوں کے کیریئر کا بہتر متبادل بھی بن سکتا ہے۔ صرف بڑی عدالتوں میں ججوں کی 40 فیصدی اسامیاں خالی ہیں جبکہ نچلی عدالتوں میں 15 ہزار سے زیادہ ججوں کی ضرورت ہے۔ عدالتوں میں التوا مقدموں کی تعداد اترپردیش میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں اوسطاً ہر ایک ضلع جج پر 2513 ، مغربی بنگال میں 1963 اور دہلی میں 1449 مقدمہ ہیں۔ 
(انل نریندر)

موصول میں داعش کا گڑھ ڈھنے سے عراق میں امن قائم ہوجائے گا

عراقی شہر موصول میں بیشک لڑائی ختم ہوگئی ہو اور اسلامک اسٹیٹ کا یہ گڑھ ڈھے گیا ہولیکن کیا اس سے آئی ایس ختم ہوجائے گا؟ عراقی حکومت نے تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے شہر کے سنی باشندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلم اسٹیٹ کے دہشت گردوں کو بھول جائیں۔ وزیر اعظم حیدر العبادی نے موصول کا دورہ کرکے جیت کا اعلان کرتے ہوئے اتحاد کی اپیل کی ہے۔ لمبے عرصے سے محفوظ شہر کے مشرقی علاقہ میں شہریوں نے خوشی سے ناچ گانے گائے اور عراقی جھنڈے لہرائے۔ کچھ لوگوں نے شیعہ اور سنی کے درمیان بھائی چارے کی اپیل بھی کی ہے اور گایا ’ہم اپنا خون اور آتما تمہارے لئے قربان کریں گے ۔ عراق پر ایک نئی قومی اتحاد کی امید کے باوجود موصول میں سرکار کی مہنگی کامیابی اور اس کے بعد ابھرے سوال عراق کی آنے والی چنوتیوں کا اشارہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑی چنوتی ہزاروں بے سہارا (سنی) شہریوں کو واپس لانے کی ہے۔ عراق آئی ایس سے آزاد کچھ دیگر فرقوں کی بازآبادکاری میں ناکام رہا۔ کیونکہ اقلیتی سنی اور اکثریتی شیعہ کے درمیان کشیدگی ابھی بھی دیش کو پھر سے متحد کرنے کی کوشش کو کمزور کرتی ہے۔ شیعہ کنٹرول سرکار اور اس کی سکیورٹی فورسز اور ملیشیا ساتھیوں کے ذریعے سنی خاندانوں کے خلاف پہلے مظالم کی خبروں نے دیش میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو آج بھی زندہ رکھا ہے۔ اس بات کی بھی چنتا ہے کہ آئی ایس سے لڑنے کے لئے دیش کے دوسرے حصوں میں اکھٹے ہوئے شیعہ لڑاکے کہیں اقتدار کی لڑائی میں ایک دوسرے کے خلاف بندوق نہ تان لیں۔ اس درمیان آتنکی تنظیم آئی ایس کے چیف ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کا پھردعوی کیا گیا ہے۔ مشرقی وسطی کے ٹی وی چینل السماریہ نے عراق کے نویں صوبے کے ذرائع کے حوالہ سے خبر ٹیلی کاسٹ کی تھی۔ آئی ایس کے دہشت گردوں نے ہی خود بغداد کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایس دہشت گردوں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بغدادی کے مارے جانے کی بات کہی گئی ہے اور ساتھ ہی نئے خلیفہ کا نام بھی بتایا گیا ہے ۔ جون 2014 میں بغدادی نے خود کو عراق کا خود ساختہ خلیفہ اعلان کیا تھا اس کے بعد نومبر 2014 میں کہا گیا بغدادی امریکہ کے ہوائی حملہ میں مارا گیا، لیکن ایک ہفتے بعد ہی بغداد ی کا ایک نیا ویڈیو کلپ سامنے آگیا۔ پچھلے دو سال میں بغدادی کے مرنے کی 7 بار خبر آئی۔ اس بار کیا یہ صحیح ہے، یہ کہنا مشکل ہے۔ عراق میں یہ مان لینا کہ آئی ایس ختم ہوگیا ہے جلد بازی ہوگی۔
(انل نریندر)

13 جولائی 2017

نہتے شردھالوؤں پربزدلانہ حملہ!

ایک بار پھر دہشت گرد کشمیر میں امرناتھ یاتریوں پر حملہ کرنے میں کامیاب رہے۔ امرناتھ یاتریوں پر پچھلے 17 برس میں یہ بڑا حملہ ہے۔ 1 اگست 2000 کو پہلگام کے بیس کیمپ پر حملہ میں 30 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ پیر کی رات دہشت گردوں نے اننت ناگ میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر حملہ کرکے 7 شردھالوؤں کو موت کی نیند سلا دیا اور 30 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں میں 5 خواتین بھی تھیں۔ حملہ کا شکار ہوئے سبھی مسافر گجرات کے بلساڑ علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ وہ یاترا پوری کر جموں لوٹ رہے تھے۔ عام طور پر سبھی گاڑیاں محفوظ دستوں کے درمیان چلتی ہیں پیر کو قافلہ شام چار بجے لوٹ گیا تھا لیکن ٹورسٹ بس اوم ٹریول کی تھی جس پرحملہ ہوا وہ قافلے سے الگ ہوگئی تھی۔ بس میں سوار مسافر یوگیش نے بتایا کہ بس پنکچر ہوگئی تھی ۔ اسے ٹھیک کرنے میں دو گھنٹے لگے اس وجہ سے بس قافلہ سے الگ ہوگئی۔ رات 8:20 پر بس پر حملہ ہوگا۔ فائرننگ کے درمیان ڈرائیور نے بس کو وہاں سے تیزی سے نکال لیا اس سے کئی لوگوں کی جان بچ گئی۔ بس میں اس وقت 60 شردھالو سوار تھے۔ پیر کو یاترا کا 13 واں دن تھا۔ ساون کا پہلا دن تھا۔ حملہ کے باوجود 29 جون سے شروع ہوئی امرناتھ یاترا نہیں رکے گی۔ وزیر اعلی محبوبہ نے پوری حفاظت کا یقین دلایا ہے۔ 40 دن تک چلنے والی یاترا اننت ناگ کے 28.2 کلو میٹر لمبے پہلگام اور گندربل کے 9.5 کلو میٹر لمبے بالتال راستے سے جاتی ہے۔ 7 اگست کو رکشہ بندھن پر یاترا ختم ہوگی۔ امرناتھ کی پوتر گپھا 3880 میٹر کی اونچائی پر واقع ہے۔ امرناتھ یاترا کے لئے اس بار اب تک کا سب سے بڑا اور سخت انتظام کیاگیا تھا۔ 40 دن چلنے والی یاترا کی حفاظت کے لئے 40 ہزار سے زیادہ جوان تعینات کئے گئے ہیں۔ اس میں فوج ، جموں کشمیر پولیس، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کے جوان شامل ہیں۔پہلی بار پوری یاترا کی ٹریکنگ سیٹلائٹ کے ذریعے کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی ڈرون تعینات کئے گئے ہیں تاکہ شردھالوؤں کی نگرانی کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی پورے روٹ پر موبائل بنکر گاڑیاں لگائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جموں سے لیکر بالتال اور پہلگام تک سکیورٹی فورسز کی روڈ اوپننگ پارٹیاں تعینات کی گئی ہیں جو ہر دن مسافر گاڑیوں کو محفوظ شاہراہ پر آنے جانے میں مدد کرتی ہیں۔ سوال یہ کیا جارہا ہے بس کو بے وقت چلنے سے روکا کیوں نہیں گیا؟ اس بس کے بارے میں کب کیسے پتہ چلا ؟ گجرات کی اس بس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے امرناتھ شرائین بورڈ کے پاس رجسٹرڈ نہیں کیا گیا؟ وہ بغیر رجسٹریشن آخری پڑاؤ بالتال تک کیسے پہنچی؟ بس مسافر کو حفاظتی کوچ میں لیکر چلنے والے قافلے میں بھی شامل نہیں ہوئی ۔ پابندی کے باوجود شام 7 بجے کے بعدبھی ہائی وے پر کیسے چلی؟ دہشت گردوں کو ایک نازک موقعہ ملا اور انہوں نے امرناتھ یاتریوں پر حملہ کردیا۔ مانا جارہا ہے کہ دہشت گردوں کے پاکستانی گروپ نے اسے انجام دیا ہے۔ وہیں یاترا سے پہلے لگاتار کی جارہی حفاظت سکیورٹی ایجنسیوں کے جائزے میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ امرناتھ یاترا پر حملہ کو لیکر مقامی دہشت گردوں اور پاک دہشت گردوں کے درمیان اختلافات تھے۔ خاص طور پر جیش محمد اور لشکر طیبہ یاترا پر حملہ کے لئے آمادہ تھے جبکہ ساؤتھ کشمیر میں مقامی دہشت گرد یاترا کو نشانہ بنانے کے حق میں نہیں تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ امرناتھ یاترا و مقامی ٹورازم سے کشمیریوں کو بڑا اقتصادی فائدہ ہوتا ہے۔ اسی غیر اعلانیہ معاہدے کے تحت پچھلے 15 سال سے کشیدگی کے باوجود امرناتھ یاتریوں پر کوئی آتنکی حملہ نہیں ہوا تھا۔ چوک کہاں ہوئی اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ایک چونکانے والی حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ جموں و کشمیر پولیس نے پیر کو لشکر طیبہ کے ایسے موڈیول کمانڈ کو بے نقاب کیا ہے جس میں اترپردیش کے مظفر نگر کے باشندے سندیپ کمار شرما عرف عادل بھی سرگرم تھا۔ آتنکی تنظیم سے جڑے کسی غیر کشمیری ہندو کی گرفتاری کا یہ پہلا موقعہ ہے۔ سندیپ عادل کے نام سے دہشت گرد گروپ میں شامل ہوا تھا جس نے جون میں اننت ناگ کے اچھابل میں سی ایم او فیروز احمد ڈار سمیت کئی پولیس کشمیریوں کا قتل کردیا تھا۔ جے کے پولیس کے انسپکٹر جنرل منیر خاں نے بتایا کہ پولیس ملازمین کے قتل کے ماسٹر مائنڈ اور لشکر کے کمانڈر بشیر لشکری ایک جولائی کو اننت ناگ کے جس گھر میں ڈھیرہوا تھا سندیپ بھی وہاں چھپا ہوا تھا۔ جب پولیس کو پتہ چلا کہ وہ مقامی نہیں ہے اس سے کڑی پوچھ تاچھ ہوئی اس کی نشاندہی پر منیر کو گرفتار کیا گیا۔ سندیپ گرمیوں میں وادی میں ویلڈنگ کا کام کیاکرتا تھا اور سردیوں میں وہ پنجاب کے پٹیالہ چلا جاتا تھا۔ وہاں اس کے ملاقات کلگام کے باشندے شہید احمد سے ہوئی۔ ایک جنوری کو دونوں نے کلگام میں منیر و مظفر احمد کے ساتھ مجرمانہ گروہ بنایا اور واردات کرنے لگے۔ اسی درمیان سندیپ کی ملاقات لشکر کے خطرناک آتنکی شکور احمد سے ہوئی اور وہ گروہ کے ساتھ ان سے مل گیا اور دہشت گردوں کے لئے انہوں نے کئی بینک اور اے ٹی ایم لوٹے۔ پولیس پر حملہ کرکے ان کے ہتھیار بھی لوٹے۔ جرائم پیشہ بھی اب دہشت گردی کا دامن تھام رہے ہیں۔ یہ نئی چنوتی ہے ،مستقبل میں ہمیں نئے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امرناتھ یاتریوں پر حملہ کا مقصد کیا ہے؟ مقصد تو فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنا لگتا ہے۔ مقصد رہاہوگا کہ مسافروں پر حملہ کے رد عمل میں جموں و کشمیراور دیش کے دوسرے حصوں میں آپسی بھائی چارہ بگڑے اور متعلقہ بس گجرات کی تھی، تو معاملے کو گجرات سے شروع کر پی ایم مودی تک جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یعنی کئی طرح سے بدنام ہو۔ ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی مخلوط سرکار ہونے پر بھی حملہ کردیا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ساتھ ہی آتنکی صاف چنوتی پیش کرنا چاہتے ہیں کہ کتنی بھی حفاظت کے باوجود جب وہ جو چاہیں اور جہاں چاہیں حملے کرسکتے ہیں۔ یہ معاملہ علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف لگاتار جاری بڑی کارروائی کا ایک جواب دینا بھی ہوسکتا ہے۔ اس حملہ کو حالانکہ مقامی کشمیریوں کی نظر سے صحیح نہیں مانا جارہا ہے امرناتھ گپھا کی کھوج ایک مسلمان گڈریہ نے ہی کی تھی۔ 1850 میں کھوج کرنے والے گڈریہ ملک کے پریوار کے لوگوں کا اب بھی امرناتھ گپھا سے فائدہ ملتا ہے۔ ان لوگوں کی آستھا بھی گپھا کے گئیں ابھی بھی برقرار ہے اس وجہ سے اسے کشمیریت کی علامت مانا جاتا ہے۔ ہر سال ہونے والی یاترا جس کا عام کشمیر بے صبری سے انتظار کرتے ہیں، یاترا آتے ہی ٹورازم بڑھتی ہے۔ ہم اس آتنکی حملہ میں مارے گئے شردھالوؤں کے خاندانوں سے اپنا دکھ و ہمدردی ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور ان کو شردھانجلی دیتے ہوئے دہشت گردوں کو چنوتی دیتے ہیں کہ نہ تو ہم ان سے ڈرنے والے ہیں اور نہ ہی اس بزدلانہ حرکت سے امرناتھ یاترا روکی جاسکے گی۔ اوم نوشوائے!
(انل نریندر)

12 جولائی 2017

جی ایس ٹی آدھی ادھوری تیاری سے ہی لاگو ہوگیاہے!

جی ایس ٹی لاگو ہونے کے16 دن بعد بھی الجھن کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ گراہکوں سے لیکر دوکاندار، کپڑا تاجر سبھی مشکل میں ہیں۔ سورت میں لاکھوں تاجر سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور سبھی کو اپنے مستقبل کی فکر ستا رہی ہے۔جی ایس ٹی کے خلاف کپڑا اور ماربل تاجروں کی ہڑتال جاری ہے اور اس کی وجہ سے ہزاروں اجیر مزدوروں کو کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ہیں۔ اگر ہم صرف دہلی کے چاندنی چوک کی بات کریں تو گزشتہ مہینہ قریب 25 ہزار ڈھلائی مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں جبکہ دوسرے بازاروں میں گھٹی سپلائی نے بھی ہزاروں دیہاڑی مزدوروں کی روزی روٹی چھیننے کا کام کیا ہے۔ دہلی میں کپڑا تاجروں نے جمعہ اور سنیچر کی ہڑتال کے بعد بھی دوکانیں بند رہیں۔ حالانکہ کچھ دکانیں کھل گئی ہیں۔ 15 جون سے مارکیٹ میں سپلائی گھٹ گئی تھی جو 25 جون تک آدھی رہ گئی۔ تاجروں کی ناراضگی سرکار سے ہے جس نے اشتہارات میں یہ واضح نہیں کیا کہ جی ایس ٹی کے تحت کن چیزوں کی شرحیں بڑھ رہی ہیں اور کن کی کم ہوئیں۔ ایک طرف جہاں ٹی وی ، ایل ای ڈی کی خواہشمند دکاندوں کے چکرلگارہے گراہک مایوس ہورہے ہیں وہیں ٹوتھ پیسٹ، صابن ، تیل ،کاپی ،کتابوں کی مہنگائی بھی انہیں راس نہیں آرہی ہے۔ الیکٹرانک، اسٹیشنری اور بجلی کا سامان ایف ایس جی ،ریئل اسٹیٹ ،صرافہ کاروباری تک کاروبار ٹھپ ہونے سے ناراض ہیں۔ اسکول کی اسٹیشنری پر ٹیکس 5 فیصد سے بڑھا کر 28 فیصد کردیا گیا ہے یہ کہنا اسٹیشنری تاجروں کا ہے۔ انہوں نے کچھ خامیوں کے بارے میں بتایا کہ کلر بک خریدنے پر کوئی ٹیکس نہیں ہے لیکن اسے رنگنے کے لئے اگر آپ کلر خریدتے ہیں تو 28 فیصد ٹیکس بھرنا پڑے گا۔ بدقسمتی کی حالت یہ ہے کہ ایسے ہی پینسل پر12 فیصد جی ایس ٹی تو پینسل باکس پر 28 فیصد ٹیکس رکھا گیا ہے۔ اب تاجروں کے ساتھ پریشانی یہ بھی ہے کہ پیک سیزن میں کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے۔ پرانا سامان بک نہیں رہا ہے۔ نئے خریدار نہیں آپارہے ہیں۔ میں نے اسٹیشنری و کتابوں وغیرہ کی ایک مثال پیش کی ہے۔ ایسی حالت تمام سیکٹروں میں بنی ہوئی ہے۔ بیشک جی ایس ٹی کے دوررس اثرات اچھے رہیں لیکن اسے لاگو کرنے میں بہت کنفیوژن ہے۔ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کس چیز پر کتنا ٹیکس لگے گا۔ پیپر کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ لوگو ں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ انہیں کونسی ریٹرن کیسے بھرنی ہے۔ ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں حالت سدھرے۔
(انل نریندر)

چوطرفہ دباؤ میں گھرے سوشاسن بابو!

جس طریقے سے بہار میں آر جے ڈی لیڈر لالو پرساد یادو اور ان کے کنبے پر چھاپہ پڑرہے ہیں اس سے لالو اور ان کے پریوار پر تومشکلات کے بادل چھا رہے ہیں وہیں ان سے بہارمیں حکمراں اتحاد کے مستقبل کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کیا جانا فطری ہے۔ کرپشن کے معاملوں میں لالو پرساد یادو کے ٹھکانوں پر چھاپے اور ان کی بیٹی کے گھر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ افسران کے چھاپہ لالو پرساد یادو کے لئے نئی پریشانی بن کر آئے ہیں۔ سی بی آئی نے ریل ، ہوٹلوں کے پٹہ میں گڑبڑی کا الزام لگاتے ہوئے نہ صرف لالو پرساد یادو کے ٹھکانوں پر چھاپے ماری کی بلکہ اب ثبوت ملنے کا بھی دعوی کیا جارہا ہے۔ یہی نہیں ان کی بیٹے کے فارم ہاؤس پر بھی چھاپے اور ان پر اور ان کے شوہر پر فرضی کمپنیوں کے ذریعے کالے دھن کو سفید کرنے کے جو الزام لگائے جارہے ہیں وہ بھی لالو کے لئے پریشانی کا موضوع ضرور ہوں گے۔ بیشک لالو ساکھ سماجی انصاف کے مسیحا کی شکل میں بنی ہوجنہوں نے سماج کے نچلے طبقہ کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی ہو لیکن انہیں ذات پات کی سیاست کرپشن اور اپنے رشتے داروں کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگنے سے ان کی ساکھ کو دھکا لگا ہے۔ بہار کی اتحادی سرکار نے اپنے دو بیٹوں کے ذریعے جو وزیر ہیں ،ان کی اپنی سیاست بدستور جاری ہے لیکن کرپشن کے جیسے الزام لالو اور ان کے کنبے پر لگ رہے ہیں اس سے ان کا سیاسی مستقبل ضرور متاثر ہوا ہے۔ مشکل یہ ہے کرپشن کے الزامات سے گھرے لالو اور ان کے پریوار کا یہ بحران صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ دباؤ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور اتحادی سرکار پر پڑرہا ہے۔ سوشاسن بابو کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کرپشن کے الزامات لگنے سے وہ کیا موقف اپناتے ہیں؟ نتیش کمار زیادہ نہیں بول رہے ہیں بیشک لالو اور ان کے کنبے پر لگے الزامات کا فیصلہ تو عدالتیں ہیں کریں گے لیکن نتیش کو اس سے پہلے ہی فیصلہ لینا ہوگا کہ وہ تیجسوی کو اپنی کیبنٹ سے ہٹاتے ہیں یا نہیں؟ لالو کا کہنا ہے سیاست کے تحت سرکار سی بی آئی کا استعمال کررہی ہے لیکن اس سے وہ الزام سے نجات نہیں پا سکیں گے۔ الزام سے بری وہ تبھی ہوں گے جب عدالتیں انہیں بری کرتی ہیں لیکن صدارتی چناؤ سر پر ہیں لالو کی پارٹی لگتا ہے کہ ابھی بھی لالو کے ساتھ ہے لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ سی بی آئی و دیگر سرکاری ایجنسیاں آگے کیسے چلتی ہیں۔ نتیش پر چوطرفہ دباؤ ہے ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...