Translater

29 جون 2019

ایٹنی گوا ختم کرئے گامیہول چوکسی کی شہریت

دیش کے سب سے بڑے بینک گھوٹالے کے ملزمیہول چوکسی پر شکنجہ کستا جا رہا ہے ۔اسکے بچ نکلنے کے سارے راستے آہستہ آہستہ بند ہو رہے ہیں ۔پنجاب نیشنل بینک سے 15ہزار کروڑ روپئے کا گھوٹالہ کر کے کیری بیائی دیش ایٹنی گوا میں جا کر چھپنا اور وہاں کی شہریت اپنی دولت سے وہاں کی شہریت پاکر ہندستانی جانچ ایجنسیوں سے بچ نکلنے کا جو خواب میہول چوکسی نے دیکھا تھا وہ اب ٹوٹتا دکھائی پڑ رہا ہے ۔ان کی شہریت منسوخ ہو سکتی ہے ۔اس کا احساس شاید چوکسی کو بھی ہو گیا ہوگا کہ پچھلے ہفتے انہوںنے ایک عدالت میں عرضی دے کر کہا تھا کہ وہ بیمار ہے اور اتنی یاترا نہیں کر سکتے ہاں اگر ہندوستانی جانچ ایجنسیاں ان سے کچھ پوچھ تاچھ کرنا چاہتی ہیں تو وہ اینٹی گوا آجائے چوکسی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پوچھ تاچھ کی تجویز رکھی تھی ۔سی بی آئی نے ان کی بیماری کو ایک بہانہ بتایا اور کہا کہ وہ بھارت آئے انہوںنے با قاعدہ ایک ایمبولینس سے لایا جائے گا ۔اور اسپتال میں اس کا پورا علاج کروایا جائے گا اینٹی گوا کے وزیر اعظم برائن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قانونی کارروائی پوری ہونے کے بعد میہول چوکسی کی شہریت ختم کی جائے گی اور انہیں بھارت کو سونپا جائے گا ۔بھگوڑے ملزمان کو واپس لانے کی سمت میں اسے بھارت کی سفارتی کامیابی مانا جا رہا ہے ۔حالانکہ وزیر خارجہ جے شنکر نے بتایا کہ انہیں معاملے کی جانکاری نہیں ہے ۔برائن نے اینٹی گوا اخبار کو بتایا کہ ہم نے بھارت کو کہہ دیا ہے کہ میہول چوکسی کے خلاف قانونی کارروائی پوری ہونے پر اس کو ہوالے کر دیا جائے گا ۔ہم دھوکہ دھڑی کے ہمایتی نہیں ہیں اور گھوٹالے بازوں کو پناہ نہیں دیں گے واضح ہو کہ مہیول چوکسی پی این بی گھوٹالے کے سامنے آنے سے ایک دن پہلے چار جنوری کو ایٹی گوا بھاگ گیا تھا ۔ایٹی گوا سے بھارت کا حوالگی معاہدہ نہ ہونے سے اس کی واپسی میں اڑچنیں ہیں لیکن اب راستہ نکل آئے گا بتا دیں کہ میہول چوکسی اور نیرو مودی کے مسئلے پر مودی سرکار لگاتار اپوزیشن کے نشانے پر رہی ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے لوک سبھا چناﺅ کے دوران مسلسل یہ اشو اُٹھایا تھا لیکن اب اگر میہول چوکسی کی واپسی ہوتی ہے تو مودی سرکار کے دوسرے عہد میں بڑی کامیابی مانی جا سکتی ہے ۔اور اس سے دوسرے مالی دھوکہ بازوں کو بھی پیغام جائے گا کہ وہ ہندستانی قانونی کارروائی سے پیسے کے دم پر نہیں بچ سکتے اور اگر وہ سمجھتے ہیں تو وہ غلط فہمی میں ہیں ۔وجے مالیہ کیس بھی ان کی برطانیوی عدالتوں میں مسلسل ہار سے ان کے بچنے کے راستے بند ہو رہے ہیں اگر ہندوستانی ایجنسیوں نے اپنا دباﺅ بنائے رکھا تو نہ صرف چوکسی بلکہ نیرو مودی ،اور وجے مالیہ کا بچ پانا مشکل ہو جائے گا۔

(انل نریندر)

پہلے ارجت پٹیل اب ورل آچاریہ

ریزو بینک آف انڈیا کی مختاری کے پر زور ہمایتی ڈپٹی گورنر ورل آچاریہ نے اپنے عہدے سے استعفی کے دیا ہے ۔90کی دہائی میں اقتصادی اصلاحات کے بعد سب سے کم عمر کے ڈپٹی گورنر بنے آچاریہ مرکزی بینک کی مختاری کے پر زور پیروکار رہے ہیں ۔آر بی آئی کے مفادات کو لے کر کئی بار انہوںنے مودی سرکار کے کام میں پریشانی کے حالات پیدا کئے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ آربی آئی کی مختاری اقتصادی ترقی اور مالی مضبوطی کے لئے بے حد ضرور ہے ۔اپنی میعاد پوری ہونے سے چھ مہینے پہلے ہی عہدہ چھوڑنے والے آچاریہ نے پچھلے سال اکتوبر میں سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرکزی بینک کی مختاری سے چھیڑ چھاڑ کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں اس کے بعد مزکز کی جانب سے آر بی آئی ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت مرکزی بینک کو ہدایات جاری کرنے کی نوب آگئی آچاریہ کا مہنگائی کو لے کر سخت رخ رہا ہے اور کئی بار سود کی شرحو ں میں کمی کو لے ک رانہوںنے نا اتفاقی ظاہر کی تھی ۔آچاریہ کے پاس ریزو بینک میں کرنسی اور ریسرچ یونٹ کی ذمہ داری تھی ۔آچاریہ کااستعفیٰ سیاسی الزام پر الزام کا معامہ بنا ہو ا ہے جو معمولی نہیں ہے ۔حالانکہ عہدے چھوڑنے کے پیچھے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیا ہے۔لیکن جو وا قف کار ہیں یقینی طور پر اسے پچھلے کچھ مہینوں سے رونما واقعات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں ۔آخر تین سال کے اپنے عہد کے ختم ہونے سے چھ مہینے پہلے ہی عہدہ چھوڑنا ایک عام واقعہ نہیں مانا جاسکتا ۔پچھلے سات مہینوں میں اس بڑے بینک کے بڑے عہدوں سے استعفیٰ دینے والے دوسرے افسر ہیں ۔ستمبر2018میں ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا ۔اور تب ان کی بھی معیاد قریب نو مہینے بچی تھی۔آزادانہ خیال رکھنے والے ماہر اقتصادیات آچاریہ کئی موقعوں پر سرکار اور مالیاتی محکمے کی نکتہ چینی اور مرکزی بینک کی مختاری کا اشو اُٹھا کر تنازعات میں رہے ہیں ۔پچھلے سال اکتوبر میں اے جی شراف میموریل لیکچر میں کہا تھا کہ سرکار کا فیصلہ لینے کے پیچھے نظریہ محدود دائرہ والا ہے ۔اور یہ سیاسی نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ۔اس لیکچر سے آر بی آئی اور سرکار کے درمیان مختلف اشوز پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے تھے کرنسی پالیسی پر اپنے سخت موقوف کی وجہ سے گورنر ششی کانت داس کے ساتھ کئی مرتبہ نہ اتفاقی رہی کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے تبصرہ کیا کہ سرکار کو سچائی کا آئینہ دکھانے والے ماہرین کی فہرست میں آچاریہ کا نام شامل ہو گیا ۔بھاجپا کے عہد میں چار اقتصادی ماہرین آر بی آئی کے دو سینر افسران جا چکے ہیں ۔ویسے یہ کہنا مشکل ہے کہ سرکار کا موقوف صحیح رہا ہے یا آچاریہ کا کیونکہ سرکار کوسماجی بہبود سے متعلق پالیسیوں پر کام کرنا ہوتا ہے ۔اور ریزرو بینک حقیقی اقتصادی مالی کسوٹیوں پر ان قدموں کا ہمایت یا مخالفت کرتے ہیں لیکن تکلیف دہ پہلو بہر حال یہ بھی ہے کہ سرکار ان کی مخالفت کرنے والوں کو برداشت نہیں کرتی ۔

(انل نریندر)

28 جون 2019

چیف جسٹس کے لائق خیر مقدم سجھاو ¿ !

 چیف جسٹس رنجن گگوئی نے وزیر اعظم نریند رمودی کو ایک اہم ترین خط لکھا ہے سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں میں 30لاکھ سے زائد التوا میں پڑے مقدمات کے نپٹان کے لئے چیف جسٹس نے اپنے خط میں اولین ترجیحات کے ساتھ دوآئینی ترامیم کی درخواست کی ہے ا ن میں ایک تو سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی تعداد میں اضافہ ہو جو ابھی 31ہے دوسرا ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ عمر 62سے بڑھا کر 65کی جانی چاہئے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے پی ایم مودی کو بھیجے تیسرے خط میں آئین کی دفعہ 128اور 224اے کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ریٹائر جج صاحبان کی میعاد کی پرانی روایت کو دوبارہ سے رائج کرنے کی مانگ کی ہے ایسا کرنے سے برسوںسے لٹکے مقدمات کا نپٹارہ کیا جا سکتا ہے اس وقت سپریم کورٹ میں جج کا کوئی عہدہ خالی نہیں ہے اور عدالت میں 31جج ہیں جبکہ مقدمات 58669مقدمے لٹکے ہوئے ہیں نئے مقدمات کے آنے کی وجہ سے یہ تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے ۔ججوں کی کمی کے سبب اہم مقدمات پر فیصلہ لینے کے لئے درکار تعداد میں بنچوں کی تشکیل نہیں ہوپائی ۔چیف جسٹس صاحب نے وقت کے مطابق سجھاو ¿ دیا ہے اور اس کے لئے آئینی راستے بھی بتائے ہیں ۔چیف جسٹس بالکل صحیح کہہ رہے ہیں ججوں کی کمی کی وجہ سے سپریم کورٹ میں التوا میں پڑے مقدمات کی سماعت کےلئے آئینی بنچ بنانا ممکن نہیں ہوپارہا ہے حقیقت میں ہم سب عدالتوں میں التوا مقدمات کے انبار کا اکثر تذکرہ کرتے رہتے ہیں لیکن انکے نپٹارے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا پاتے ویسے لمبے عرصے بعد سپریم کورٹ کی درخواست پر نریند ر مودی سرکار نے مقرر آسامیوں پر ججوں کی تقرری کی ہے یعنی اس وقت کوئی عہد ہ خالی نہیں ہے لیکن اب چیف جسٹس ججوں کی تعدا د بڑھانے کی مانگ کررہے ہیں اس طرح انہوں نے آئین میں ترمیم کر بڑی عدالتوں سے ریٹائر ہوئے ججوں کی عمر 62سے 65کردینے کی تجویز رکھی ہے تو اس بھی اثر ہوگا 25ہائی کورٹ نے ججوں کے لئے 1079آسامی منظور ہیں مگر ان میں 399جگہیں خالی پڑی ہیں ظاہر ہے کہ اگر ان آسامیوں پر تقرری ہوجائے تو چیف جسٹس کی تجاوز کے مطابق ریٹارمنٹ کی عمر 62سے 65ہونے سے التوا میں پڑے مقدمات میں تیزی لائی جاسکتی ہے ۔جب سپریم کور ٹ میں ججوں کی ریٹائر منٹ عمر 65برس ہوتی ہے تو ہائی کورٹ میں ایسا کیو ں نہیں ہوسکتا ؟عمر زیادہ ہونے سے ذمہ داری کے تئیں ان میں پختگی آتی ہے اور وہ اپنے نئے نئے تجربات او رنظریا ت کی روشنی میں مقدموں پر کام کرتے ہیں ہمار ا بھی یہ خیال کہ وزیر اعظم کو ان تجاویز میں جتنا ممکن ہے اسے تسلیم کرنے کے لئے جلد قدم اٹھا چاہئے ۔

(انل نریندر )

ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات !

جھارکھنڈ کے سرائے کیلا ۔کھرساو ¿اں ضلع میں بھیڑ نے ایک شخص تبریز انصار ی کو کھمبے سے باندھ کر پیٹا موٹر سائیکل چورے کی شبہ میں مار پیٹ کرتے ہوئے بھیڑ نے اسے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگانے کو مجبور کیا پولیس نے اس جونوجوان کو اسپتال پہچانے کے بجائے حوالات میں ڈال دیا بے چینی کی شکایت پر مار پیٹ کے چوتھے دن اسپتال میں داخل کرایا گیا لیکن پانچوےں دن اس کی موت ہوگئی ۔معاملہ پیر کے روز پارلیمنٹ میں گونجا تو حکومت نے دوتھانہ انچارجوں کو معطل کردیا او راے ڈی ایس پی کی سربراہی میں جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنادی اب تک 8ملزم گرفتار ہوگئے ہیں ۔اس وار دات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے جھارکھنڈ کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے گھناو ¿نے جرم قرادیتے ہوئے یہ صحیح کہاکہ لوگوں کو پیٹ کر نہیں بلکہ گلے لگاکر شری رام کا جے کار کرائی جاسکتی ہے جس طرح بھیڑ نے تبریز کو پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کیا ٹھیک نہیں کیا ۔چوری کے مبینہ جرم پر شخص کو ادھ مراکرنا قانون سے کھلواڑ جیسا اور اس پر پولیس کا رویہ دیکھئے کے اسے تبریز کو ہسپتال پہنچانا چاہئے تھا یا حوالات میں زخمی حالات میں ڈال دینا ؟تبریز کے قتل کا ذمہ دار کون ہے یہ بد امنی کے ننگے مظاہرہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔یہ سبھی کےلئے پریشانی کی بات ہونی چاہئے کہ بھیڑ کے تشدد کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں جن میں قانون وانتظام کو ٹھینگادکھایا جاتاہے ۔ہمارے سماج میں تشدد اتنا بڑھ گیا کہ اب تو پولیس ،ڈاکٹر اور دیگر سرکاری غیر سرکاری لوگ بھی بھیڑ کے تشدد کا شکار بننے لگے ہیں۔اس طرح کے واقعات ماب لنچنگ یہی بتاتے ہےں کہ ایسا کرنے والے عناصر کو ناتو پولیس کا ڈر ہے نا انتظامیہ حکومت کا ۔سرکار پر انہیں سرپرستی دینے کا الزام بھی آئے دن لگتے رہتے ہیں ۔قانون اپنے ہاتھ میں لیکر ان بد امن عناصر کو ایسا کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی کیونکہ ایسے برتاو ¿ دیش میں امن ونظام کو چیلنج دینے کے ساتھ ہی دیش کی بین الا قوامی سطح پر بد نامی ہوتی ہے یہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کا فرض بنتا ہے کہ ایسی بھیڑ کے تشدد کو ہر حالت میں روکے ۔ان بد امن عناصر کسی طرح کی سرپرستی نہیں ملنی چاہےئے انہیں یہ بھی صاف بتانا ہوگا کہ اگر آپ قانو ن کو اپنے ہاتھ میں لیںگے تو سرکار سخت قدم اٹھائے گی تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس ،انتظامیہ ان بد امن پسند عناصر سے ہمددردی رکھتا ہے اور نرم بھی دکھاتا ہے کیا پولیس اس بات کا جواب دے سکتی ہے کہ ادھ مری حالت میں تبریز کو ہسپتال پہنچانا چاہئے تھا یا حوالات میں ڈالنا چاہئے تھا ۔شکار ہوا شخص اقلیتی طبقہ کا ہوتو معاملہ اور تشویش ناک بن جاتا ہے کوئی مہذب سماج ایسی حرکتوں کی حمایت نہیں کرتا قصو ر واروں کوپکڑ ا بھی جائے اور قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے ۔

(انل نریندر )

27 جون 2019

چاردھام یاترا میں بھگتوں کی ریکارڈ توڑ تعداد

اس سال اترکھنڈ کے چاردھاموں اور ہیم کنڈ صاحب میں تیرتھ یاتریوں کی بھاری تعداد میں آمد ریکارڈ توڑ رہی ہے ۔ہیم کنڈ صاحب سمیت اتراکھنڈ کے چار دھاموں ،گنگوتری ،یمنوتری ،کیدارناتھ ،اور بدرناتھ ،میں اب تک 17لاکھ 15ہزار 400سے زیادہ تیرتھ یاتری پہنچ چکے ہیں جو اب تک کا ایک ریکارڈ ہے ۔کیدار ناتھ دھام میں اس مرتبہ سبھی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ۔پچھلے سال جہاں پورے سیزن میں کل 732241یاتریوں کی آمد کا ایک ریکارڈ تھا وہیں اس سال محض ڈیڑھ ماہ میں ہی 735032شردھالوں کا درشن کرنے سے یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ۔کیدار ناتھ کی یاترا اب پوری طرح سے بدل گئی ہے ۔جہاں کبھی یاتری اس علاقہ میں آنے سے پرہیز کیا کرتے تھے وہیں اب کیدار ناتھ کے لئے تیرتھ یاتریوں کی ایک دوڑ سی لگی ہوئی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے باربار یہاں آنے اور پوری طرح بدلی اور نئے کلیور میں آئی کیدار پوری میں ریکاڑد یاتری آنے سے یہاں کے لوگوں میں کافی جوش پایا جاتا ہے ۔اگر یاتراوں پر پچھلے برسوں کے مقابلے میں نظر ڈالی جائے تو سال 1988سے 1999تک قریب ایک سے ڈیڑھ لاکھ یاتری ہی سالانہ کیدار ناتھ دھام کے درشنوں کے لئے پہنچتے تھے جبکہ سال 2000سے 2005تک یہ تعداد بڑھ کر سالانہ ڈھائی لاکھ سے 3لاکھ ہو گئی 2006سے تیرتھ یاتریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔سال 2012میں زیادہ برفباری کے بعد بھی پورے سیزن قریب پانچ لاکھ 73ہزار یاتری درشن کرنے آئے تھے ۔باقی دھاموں کی بھی یہی حالت ہے ۔رودر پریاگ کے باشندے اور سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ چار دھام یاترا میں تیرتھ یاتریوں کی تعداد بڑھنے کی ایک خاص وجہ اس مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی کے کیدار ناتھ اور بدرناتھ میں آنا اور چاروں دھاموں کے کپاٹ کھلنے کے بعد بھی جم کر برف باری ہونا ہے ۔گرمیوں میں میدانی علاقوں سے ٹھنڈ کا مزہ لینے کے لئے چاروں دھاموں کی طرف لوگ راغب ہو رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی نے جس طرح کیدار ناتھ میں واقعہ گفہ میں دھیان لگا کر تپسیہ اور کیدار ناتھ مندر میں بڑے بھگتی جزبے سے پوجا ارچنا کی اس وجہ سے کیدار ناتھ یاترہ کے لئے لوگوں میں زبردست دلچسپی پیدا ہوئی ٹہری کے باشندے ایک ٹورسٹ گائڈ نے کہا کہ مرکزی سرکار اور اتراکھنڈ حکومت نے دو سال سے کیدار ناتھ میں بن رہے آل اور روڈ کو جس طرح بنایا اس سے ملک و بیرون ملک میں یہ پیغام گیا کہ اب اتراکھنڈ کے چاروں دھاموں میں پہنچنے کے لئے کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہے اور اس طرف یاتریوں کی رغب کی وجہ یہ بھی ہے کہ اب شورش زدہ کشمیر وادی میں سیاہوں کا جانا بند ہو گیا ہے اتراکھنڈ ٹورزم محکمے کی نوڈل افسر کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ محکمہ سیاحات نے چار دھام یاترہ کو لے کر سوشل میڈیا اور دیگر پبلیسٹی ذرائع سے جم کر پرپگنڈہ کیا جس وجہ سے تیرتھ یاتریوں اور سیاحوں کی تعداد بڑھ گئی ۔ہم اتراکھنڈ سرکار اتراکھنڈ پوروی محکمے کو بدھائی دنیا چاہتے ہیں کہ بہتر سہولیات کی وجہ سے ان علاقوں میں تیرتھ یاتریوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔جہاں تیرتھ یاتریوں کا بڑھنا اچھا اشارہ ہے وہیں یہ بھی دیکھا ہوگا کہ وہاں ماحولیات کو نقصان نہ پہنچے پہلے تو نقصان سے بہت بھاری قیمت چکانی پڑی تھی ۔

(انل نریندر)

نشانے پر صحافی

پچھلے کچھ دنوں سے صحافی بدمعاشوں کے نشانے پر ہیں دہلی میں گزشتہ پندرہ دنوں میں صحافیوں پر دو حملے ہو چکے ہیں ۔پہلا 8جون کو ساﺅتھ دہلی کے بارہ پلہ فلاوئی اﺅر پر بائک سوار بدمعاشوںنے ایک نشینل نیوز چینل کی ٹیم پر حملہ کیا تھا چینل کے ملازمین رات میں نیو ز چینل کی ٹیم وین سے خبر کوریج کرنے جا رہے تھے ۔تبھی بارہ پلہ ائیلی ویٹیڈ روڑ پر سنیچر کی رات بائک سوار مصلحہ بدمعاشوں نے چینل کی وین کو ہتھیار دکھا کر رکوانے کی کوشش کی لیکن جب وین ڈرائیور نے گاڑی روکنے کے بجائے رفتار بڑھا کر بچ نکلنے کی کوشش کی تو بدمعاشوںنے گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی ۔شکر ہے کسی کو گولی نہیں لگی ۔الزام ہے کہ پی سی آر کو کال کرنے پر بھی دو گھنٹے لیٹ پہنچی ۔دوسری واردات دیش کی راجدھانی میں بدمعاش کتنے بے خوف ہیں ۔دیکھنے کو ملا کیونکہ نیو اشوک نگر علاقہ میں دیر رات ایک خاتون جنرلسٹ کو اﺅر ٹیک کر کار سوار دو بدمعاشوںنے اس پر گولی چلا دی صحافی متاثرہ متالی چندالہ(38)کے داہنے ہاتھ سے گولی آر پار ہوگئی اس سے پہلے کار پر بدمعاشوںنے دو انڈے بھی پھینکے تھے جب وہ نہیں رکی تو بدمعاشوںنے دو راﺅنڈ اس پر فائرنگ کی پولس نے زخمی لیڈی جنرلسٹ کو قریب کے اسپتال میں داخل کرایا جہاں علاج کے بعد چھٹی دے دی گئی ۔متاثرہ کو شبہ ہے کہ اسے کنبہ ذاتی اسباب کی وجہ سے حملہ کیا گیا ۔متالی گریٹر نوئیڈا کے الفا2-اپارٹمینٹ میں رہتی ہے اور نوئیڈا میں ایک میڈیا ہاﺅس میں کام کرتی ہے ۔شوہر سے جھگڑے کے چلتے متالیہ اکیلی رہتی ہے اس کے دو بچے دہرادون میں اپنی نانی کے پاس رہتے ہیں ۔سنیچر کی رات نتالی اپنی گاڑی سے میور وہار علاوہ میں کسی پارٹی میں گئی تھی ۔اور رات قریب بارہ بجے اپنی کار سے گریٹر نوئیڈا جا رہی تھیں ۔انڈین میڈیا ویفیر ایسوشی ایشن کا ایک نمائندہ وفد دہلی میں ہو رہے صحافیوں پر جان لیوا حملوں کو لے کر دہلی کے پولس کمشنر مسٹر امولیہ پٹنائک سے ملا اس نمائندہ وفد میں راجیو نشانہ،شکیل احمد،وجے شرما،سریش جھا،وغیرہ شامل ہیں ملاقات کر کے صحافیوں پر حملے میں شامل ابھی تک ملزمان کے نہ پکڑے جانے کو لے کر گہری تشویش ظاہر کی ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے چوتھے ستون پر اگر اس طرح حملے ہوتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب صحافیوں کو اپنے اوپر ہو رہے حملوں کے پیش نظر ڈر کی وجہ سے فیلڈ میں نکلنا مشکل ہو جائے گا پولس کمشنر امولیہ پٹنائک نے نمائندہ وفد کو یقین دلایا کہ صحافیوں پر حملے افسوسناک ہیں اور دہلی پولس کے اعلیٰ افسران کو واردات کی جانچ کے لئے معمور کر دیا گیا ہے اور جلد ہی یہ بدمعاش پولس کی گرفت میں ہوں گے ۔

(انل نریندر)

26 جون 2019

کیا مایاوتی کی بسپا پر ہاوی ہو رہا ہے بھائی بھتیجا واد

بھوجن سماج پارٹی کی چیف مایاوتی نے نہ نہ کرتے ہوئے اتوار کو پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں تنظیم کے دیش کے بھر کے ذمہ داروں نیتاﺅںعہدے داران کی میٹنگ میں پارٹی کوپوری طرح سے خاندان کے حوالے کر دیا انہوںنے اپنے بھائی آنند کمارکو پھر سے قومی نائب صدر اور بھتجے آکاش آنند کو نیشینل کواڈینٹر بنا دیا ۔بہن جی اس قدم کو اُٹھانے کے لئے کافی لمبے عرصے سے انتظار کر رہی تھیں لوک سبھا چناﺅ ختم ہونے کا انتظار تھا وہ چناﺅ سے پہلے ایسا کرنے سے ہچکچا رہی تھیں کیونکہ انہیں لوک سبھا چناﺅ سے پہلے ایسا قدم اُٹھانے سے ان پر بھی بھائی بھتیجے واد کی سیاست کا الزام لگے گا ۔مگر غیر رسمی طور پہ دونوں ہی بھائی بھتیجے ہی پارٹی کے کام کاج میں سرگرم تھے ۔لیکن بسپا چیف نے اس اعلان کے ساتھ خود کے بعد پارٹی میں نمبر دو اور نمبر تین پوزیشن بھی طے کر دی ۔بسپا میں صدر کے بعد نائب صدر کا عہدہ سب سے طاقتور مانا جاتا ہے کیونکہ مایاوتی پہلے نائب صدر رہی تھیں اب انہوںنے بھائی آنند کو دوبارہ یہ ذمہ داری سونپی ہے لیکن پہلے پریوار کا الزام لگنے پر آنند کو ہٹا دیا تھا ۔بسپا میں صدر اور نائب صدر کے بعد سب سے اہم ترین ذمہ داری نیشنل کواڈینیٹر کی مانی جاتی ہے ۔آنند کمار مایاوتی کے پروگراموں میں اہم رول نبھاتے تھے ۔ساتھ ہی پارٹی کے لئے فنڈ بھی اکٹھا کرتے تھے ۔وہیں مایاوتی نے آکاش کو اپنے ریلیوں میں بھی جگہ دی اور اسٹیج پر ساتھ بٹھایا ۔سیاسی اسٹیج پر مایاوتی اور آکاش کے درمیان بات ہوتی تھی یہ اشارہ دے رہی تھی کہ مایاوتی آکاش کو اپنے سیاسی جاں نشین کے طور پر چنیں گی ۔اس کی وجہ پر غور کریں تو مایاوتی کی بڑھتی عمر بھی ایک بڑی وجہ ہے اس کے ساتھ ہی وہ پارٹی کے ضروری مسئلوں پر باہری لوگوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتیں پارٹی کے لئے پیسہ اکٹھا کرنا بھی ایسا ہی ایک کام ہے ۔جس پر بھروسہ نہ کیا جا سکتا ۔ایک زمانے میں انہوںنے راجہ رام گوتم کو پارٹی کا نائب صدر بنایا تھا لیکن بعد راجہ رام کو ہٹا دیا ۔اور پھر اپنا نیشنل کواڈینٹر بنایا اس کے ساتھ ہی آکاش کو بھی یہ عہد ہ دے دیا ۔کاشی رام نے جب بھوجن سماج پارٹی بنائی تھی اس کی بنیا دمیں دلت ،پسماندہ ،اقلیتی لوگ شامل تھے ۔بعد میں اسے ایک فرقہ کی پارٹی کی شکل دے دی گئی جس میں85فیصدی جنتا کے نمائدگی کی بات کی جاتی تھی لیکن مایاوتی نے اقتدار کے لئے ہر طرح کے سمجھوتے کئے اور انہون نے سرو سماج کا نعرہ دیا اور برہموں کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے ستیش مشر اکو اپنے ساتھ ملایا ایسے میں مایاوتی اقتدار کے لئے وقتاََ فوقتاََ ممکنا گٹھ جوڑ کرتی رہی ہیں ۔اس طرح ان کی پارٹی کی ساکھ خراب ہوئی اور پارٹی کو ووٹ دینے والا دلت سماج بسپا سے دور ہو کر بی جے پی سمیت دوسری پارٹیوں کے قریب چلا گیا ،مایاوتی اب صرف اپنے رشتہ داروں کو نیتا بنا کر رہ گئی ہیں ۔دلت سماج کو کاشی رام کی طرح اب بہن جی پر بھی بھروسہ نہیں رہا ۔

(انل نریندر) 

اندھیر نگری چوپٹ راجہ ٹکے سیربھاجی ٹکے سیر کھاجا

لوک سبھا چناﺅ میں ہار کے بعد مہینے بھر سے صدمے میں چل رہی کانگریس ابھی بھی محاسبہ کے دور سے گزر رہی ہے ۔پارٹی کی بے پٹری گاڑی صدر راہل گاندھی تھے یارڈ پر اٹک کر رہ گئی۔کانگریس ورکنگ کمیٹی نے 25مئی کو اتفاق رائے سے راہل گاندھی کے استعفیٰ کے پیش کش کو نامنظور کر دیا تھا ۔اس کے بعد سے ہی ان کے عہدے پر بنے رہنے یا نہ رہنے کو لے کر شش و پنج برقرار ہے ۔راہل گاندھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کوبالکل تیار نہیں ہیں پارٹی ان کا قابل تسلیم متابادل نہیں ڈھونڈ پارہی ہے ۔پارٹی کے زیادہ تر نیتا پارٹی کے عہدے پر بنے رہنے کے لئے ہمایتی ہیں ۔دوسری طرف تمام ریاستی یونٹیں ان کے برقرار رہنے کی تجویز پاس کر کے اعلیٰ کمان کوبھیج چکی ہیں ۔کانگریس کے نئے صدر کو لے کر پوچھے گئے سوال پر یو پی اے کی چیر پرسن سونیا گاندھی نے کوئی رائے زنی سے منع کر دیا ۔وہیں خود راہل نے کہا کہ اس بارے میں پارٹی فیصلہ کرئے گی ان کا کوئی رول نہیں ہوگا ۔وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور پارٹی کے نئے صدر کے چناﺅ کا انتظار کر ہے ہیں ان کے اس تازہ تبصرے کے بعد نئے صدر کی تاج پوشی کو لے کر بات چیت کا بازار اور مزید گرم ہو گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے اندر جن ناموں پر غور ہو رہا ہے ان میں سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی اور سابق وزیر اعلیٰ سشیل کمار شندے اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے نام قابل ذکر ہیں ۔گہلوت کے نام کی خاص طور پر بحث چھڑی ہے ۔گہلوت پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے کے علاوہ انہیں حکمرانی اور انتظام اور تنظیم چلانے کا بھی اچھا تجربہ رہا ہے ۔حالانکہ دیگر ناموں پر پارٹی میں رائے نہیں بن پا رہی ہے ۔اور پارٹی میں اس بات پر غور جاری ہے کہ نیا صدر شمالی ہندوستان سے بنایا جائے یا ساﺅتھ انڈیا سے لوک سبھا چناﺅ میں نارتھ انڈیا کے مقابلے ساﺅتھ انڈیا میں کانگریس نے کافی اچھا مظاہر کیااس لئے وہیں کے کسی آدمی کو کانگریس صدر کا عہدہ دینے پر غور ہے ۔آخر میں بات یہاں پر اٹکی کہ بہتر ہو کہ کسی کے علاوہ راہل گاندھی ہی صدر کے عہدے پر بنے رہیں تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ کانگریس میں اہم ترین پالیسی ساز فیصلوں والی کور کمیٹی بھی نتیجوں کے بعد بھنگ کی جا چکی ہے ۔اکتوبر میں مجوزہ مہاراشٹر ہریانہ جھارکھنڈ چناﺅ کے لئے پارٹی کی تیاریاں بھی ٹھپ ہوئی پڑی ہیں ۔پارٹی کے اہم ترین فیصلوں کے پیش نظر اب کانگریس صدر کے بجائے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو توسیع کرنے کی بات لکھی جا رہی ہے ۔کانگریس پارٹی کو اپنے آپ کو جلد ٹھیک کرنا ہوگا جمہوریت میں جہاں حکمراں فریق مضبوط ہونا چاہیے وہیں اپوزیشن بھی مضبوط ہو اگر راہل گاندھی اپنے فیصلے پر اٹل ہیں تو کانگریس پارٹی کو جلد سے جلد اپنا نیا صدر چننا چاہیے ۔اپوزیشن کا اپنا رول نبھانا چاہیے ۔دیش کی یہ بھی مانگ ہے ۔

(انل نریندر)

25 جون 2019

ایک دیش ایک چناﺅ :دونوں فریقین کے اپنے اپنے مفاد

ایک دیش ایک چناﺅ کے نظریہ کو فی الحال تو سبھی پارٹیوں کی ہمایت نہیں مل رہی ہے ۔اور نہ ہی اس پر عام رائے بن پا رہی ہے ۔وزیر اعظم کے ذریعہ کل جماعتی میٹنگ میں دیش کے لوک سبھا اور اسمبلی چناﺅ کرانے کی تجویز اپوزیشن کو راس نہیں آئی کانگریس،ترنمول کانگریس،بی ایس پی،اور ڈی ایم کے جیسی بڑے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر اس میٹنگ سے غائب رہے ۔بے شک میٹنگ میں 24پارٹیوں کے نیتا یا ان کے تحریری مشورے پہنچے ان میں بھی زیادہ تر حکمراں این ڈی اے کی اتحادی پارٹیاں تھیں ۔حالانکہ پی ایم کی جانب سے 40پارٹیوں کو بلایا گیا تھا ۔ایک دیش ایک چناﺅ اور نیا نظریہ اچھا ہے ۔اس سے خرچ بچے گا بار بار چناﺅ ضابطے کے چکر میں کام نہیں رک سکے گا ۔سب کچھ صحیح ہے لیکن نہ تو اس سے کالی کمائی کے پیسے پر روک لگے گی اور نہ ہی ہمار چناﺅ کمیشن ایسا کرانے میں اہل دکھائی پڑتا ہے ۔گجرات میں ابھی دو راجیہ سبھا سیٹوں کا چناﺅ ہونا ہے اور چناﺅ کمیشن ایک ساتھ نہیں کروا رہا ہے ۔اس معاملے میں سپریم کورٹ نے اس سے جواب مانگا ہے ۔حال ہی میں ہمارے لوک سبھا چناﺅ عمل کو دیکھیئے جو سات مرحلوں میں 38دن میں تکمیل پایا تھا ۔جب اکیلے لوک سبھا چناﺅ کو اتنے دن لگ سکتے ہیں تو آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ لوک سبھا اور تمام اسمبلی انتخابات ایک ساتھ چناﺅ کرانے سے کتنے دن لگیں گے ؟آئینی کمیشن کے مطابق لوک سبھا اور اسمبلی ایک ساتھ دومرحلوں میں کرایا جاسکتا ہے اس کے لئے ایک قانونی اڑچن تو دور کرنا ہوگا اور اس کے لئے دو شقوں میں ترمیم کرنا ہوگی ۔اسے سبھی ریاستوں میں مکمل اکثریت سے پاس کرانا ہوگا ۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ تجویز اچھی ہے ۔لیکن عمل میں لانا اتنا ہی مشکل بتا رہے ہیں قانونی ماہرین کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی ایم کرشنا مورتی نے کہا کہ ایک دیش ایک چناﺅ کا خیال لبھاونا ہے تو اس کو سرکار کو کرنا مشکل ہوگا۔اور آئین میں ترمیم ہی ایک واحد راستہ ہے بسپا کی چیف مایاوتی نے کہا کہ یہ سرکار کا نیا ڈھکوسلہ ہے ۔اور یہ صرف مسائل سے دھیان ہٹانے کے لئے ہے میٹنگ اگر ای وی ایم پر ہوتی تو میں ضرور پہنچتی اکھلیش یادو کا کہنا تھا کہ سرکار لو ک سبھا چناﺅ میں جنتا سے کئے وعدے پورے کرئے اور اس کے بعد دیگر معاملوں میں الجھے کانگریس نے کہا کہ اگر سرکار چناﺅ اصلاحات پر کوئی قدم اُٹھانا چاہتی ہے تو پہلے پارلیمنٹ میں بحث کرائے کانگریس نے بی جے پی پر دہرا پیمانہ اپنانے کا بھی الزام لگایا سی پی ایم نیتا سیتا رام یچوری نے کہا یہ نظریہ غیر آئینی اور وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے ۔یہ پارلیمانی سسٹم کی جگہ صدر راج لانے کی کوشش ہے ۔دوسری طرف سرکار کی طرف سے دلیلوں کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا ۔ابھی ہر سال پانچ سے سات ریاستوں میں اسمبلی چناﺅ ہوتے ہیں اگر لوک سبھا اسمبلی چناﺅ ایک ساتھ ہوں تو سرکار کا چناﺅ ی خرچ چوتھائی رہ جائے گا ۔ہر سال سرکاری ملازمین اور سیکورٹی فورس کو الگ الگ ریاستوں میں چناﺅ کے لئے طعینات کرانا پڑتا ہے ۔ایسا کرنے سے بچا جا سکے گا ۔اور وہ با قاعدہ طریقہ سے کام کر پائیں گے ۔چناﺅ کے لئے بار بار چناﺅ ضابطہ نافذ نہیں کرنا پڑئے گا ۔پالیسی ساز فیصلے لیئے جا سکیں گے کہیں بھی ترقی کا کام نہیں رکے گا ۔بلیک منی پر بھی روک لگے گی ۔چونکہ چناﺅ کے دوران کالے دھن کا کھلا استعمال ہوتا ہے ہمیں لگتا ہے کہ حالیہ صورتحال میں ایک دیش ایک چناﺅ ممکن نہیں لگتا بلکہ اس کو ممکن بھی بنایا جاتا ہے تو کچھ برسوں بعد بھی ایسی صورتحال بنے گی اس مسئلے پر آگے سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا ۔اپوزیشن کے اعتراضات کوبھی سمجھنا ہوگا ۔اور عام رائے بنانی ہوگی ۔

(انل نریندر)

طلاق- طلاق -طلاق؟

17ویں لوک سبھا اجلاس کے پہلے دن سرکار نے تین طلاق(طلاق بدعت)نئے سرے سے پیش کر دیا ۔وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خواتین سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی انصاف کی اپیل کر رہی ہیں ۔دیش میں تین طلاق کے 54مقدمے 2017میں درج ہوئے 239معاملے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سننے کو ملے پچھلی حکومت نے یہ بل پاس کرانے کی دو کوششیں راجیہ سبھا میں کیں جو ناکام ہو چکی ہیں ۔حالانکہ حکومت ستمبر 2018اور 9فروری 2019میں اسے آڑینینس کے ذریعہ نافذ کر چکی ہے ۔یہ قانون بننے پر مسلم خواتین کو ایک ساتھ تین طلاق کہہ کر رشتہ ختم کرنا جرم کے دائرے میں آجائے گا ۔شوہر کے لئے تین سال کی سزا کی سہولت رکھی گئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ یہ بل عورت کی عزت کے لئے ہے کسی مذہب کے لئے نہیں اے ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے اس بل کو آئین کے مخالف قرار دیا ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سیکشن 14اور15کی خلاف ورزی ہے ۔سرکار کی نیت پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ سرکار کی ہمدردی صرف مسلم خواتین کے ساتھ کیوں ہے ؟حکومت نے سبری مالا معاملے میں کیرل کی ہندو عورتوں میں ہمدردی کیوں نہیں دکھائی ؟اویسی کا کہنا ہے کہ اگر کسی غیر مسلم پر مقدمہ دائر کیا جائے تو اسے ایک سال کی سزا مسلمان کو تین سال کی سزا اس لئے یہ دفعہ 14اور 15کی خلاف ورزی ہے ۔بل کے ذریعہ حکومت مسلم خواتین کا مفاد نہیں بلکہ ان پر بوجھ ڈال رہی ہے ۔حکومت کو اسے واپس لینا چاہیے ۔
اس مسئلے پر کانگریس اپنے پرانے رخ پر قائم ہے پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ تین طلاق کی ہمایت نہیں کر ہی ہے ۔بلکہ یہ بل آئین کے خلاف ہے ۔اس لئے وہ اس کی مخالفت کر رہی ہے ۔کانگریس نیتا ششی تھرور نے کہا کہ اس بل میں سوئل اور فوجداری قانون کو ملا دیا گیا ہے ۔انہوںنے سوال کیا کہ سرکار کی نظر میں طلاق دے کر بیوی کو چھوڑ دینا گناہ تو ہے ہی یہ صرف مسلم فرقہ تک ہی محدود کیوں ؟یہ قانون سبھی پر نافذ ہونا چاہیے ۔سرکار اس بل کے ذریعہ مسلم خواتین کو فائدہ نہیں بلکہ صرف مسلمان مردوں کو ہی سزا دے رہی ہے ۔انہوںنے آگے کہا کہ تین طلاق کو سپریم کورٹ غیر قانونی قرار دے چکی ہے ۔تو سرکار سزا کس بات کی دے رہی ہے ؟اویسی سمیت کچھ ممبران کے احتجاج کے چلتے بل پر ووٹ تقسیم ہوئی جس میں 186ووٹ حق میں اور 74مخالفت میں پڑے ہمیں لگتا ہے کہ تین طلاق پر یہ وسیع ہمایت ہے لیکن اس کے موجودہ خاکے پر اعتراض ہے ۔خاص کر شوہر کو سزا دلانے سے ظاہر ہے اگر شوہر تین سال کے لئے جیل چلا جائے گا تو اس کے پیچھے پریوار کے افراد کی کیسے پرورش ہو سکے گی ؟سرکار کو کھلے دماغ سے اس بل میں ضروری ترامیم کرنی چاہیے ۔تاکہ یہ بل پاس ہوسکے۔

(انل نریندر)

23 جون 2019

مانسون کی دھیمی رفتار سے بڑھتے مسائل

ہمارے دیش کے زراعت اورپانی مانسون یعنی بارش کے ارد گرد گھومتی ہے اچھی بارش ہونے سے پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں۔اور معیشت کوپر لگ جاتے ہیں تو اس میں کمی طرح کی مشکلات پیدا کر دیتی ہے مانسون کی شروعات میں تاخیر اور اس کی دھمی رفتار سے جہاں ہماری زراعت سیکٹر میں بحران پیدا ہو رہا ہے ۔وہیں پانی کا مسئلہ بھی کھڑا ہو رہا ہے ۔بھارت میں سب سے زیادہ بارش جون سے ستمبر میں ہوتی ہے ۔یہ سالانہ ہونے والی بارش کا 70فیصد ہوتا ہے ۔اس مرتبہ مانسون کی دیری کے سبب بارش کم ہونے کے امکانات جتائے جا رہے ہیں ۔اس بار پچھلے بارہ سال میں سب سے دھیمی رفتار سے مانسون آگے بڑھ رہا ہے ۔کیرل میں جون کے پہلے ہفتے میں آتا تھا جو ایک ہفتے تاخیر سے پہنچا یہاں تک جون میں بارش بھی اوسطاََ چالیس فیصد کم ہوئی ہے ۔جس کے نتیجے میں فصل خراب ہونے کے دہانے پر ہے ۔اگر غذایت کی پیداوار میں کمی ہوگی تو معیشت کے ڈگمگانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔کل ملا کر مانسون کی بے حد سست رفتار نے کسانوں اور سرکار سبھی کے چہرے پر پریشانی کی شکن لا دی ہے ۔کم بارش کا مطلب زبردست گرمی اور خشک سالی کا اندیشہ 14جون تک کسانوںنے 8.22ملین ایکٹر زمین میں خریف کی پود لگائی یہ نو فیصد کم ہے ۔اور اس کی وجہ سے مانسون میں دیری سے خریف کی فصلیں مانسون پر ہی منحصر ہیں تیسرے برس بھی عام بارش اوسط 93فیصد رہ سکتاہے ۔پچھلے دو برس میں زرعی اجناس کی کثیر پیداوار میں سبزیوں اور دالوں وغیرہ کی قیمتوں میں گراوٹ آئی تھی ۔کھلے بازار میں عام کم از کم ویلو قیمت جی ڈی پی سے کم تھی حالانکہ حالت اب تھوڑی سی بہتر ہے ۔سبزیوں کی قیمتیں بھی مانسون پر منحصر ہوتی ہیں ۔بہار اور مشرقی اتر پردیش میں 27جون تک مانسون آئے گا ۔اور کئی دنوں سے مانسون حرکت میں ہے ۔لیکن شمالی بھارت کی ریاستوں میں پہنچے کے لئے ابھی ہفتہ کا وقت لگ سکتا ہے موسم محکمہ نے بتایا کہ اس کے بعد مانسون مغربی اترپردیش دہلی ہریانہ اور راجستھان کی جانب بڑھے گا ۔دہلی این سی آر میں جون کے آخری اور جولائی کے پہلے ہفتے میں پہنچے کے آثار ہیں ۔پچھلے 24گھنٹوں کے دوران وسطی مہاراشٹر اور اندرونی کرناٹک سے لے کر کولکاتہ تک مانسون نے دستک دے دی ہے ۔دیش کے کئی حصے خشک سالی کا شکار ہیں ۔اور ساﺅتھ انڈیا کے کئی شہروں میں پانی کی قلت ہوگئی ہے ۔جبکہ زیادہ تر ریزرو وائر میں دس فیصدی سے بھی کم پانی کا زخیرہ بچا ہے ۔یہاں ذمہ داری سیدھے سیدھے حکومت پر آجاتی ہے ۔فی الحال جو حالت ہے اس میں اگر سرکاری مشینری حرکت میں اور چوکس نہیں ہوئی تو نہ صرف ملک کی معشت بلکہ مہنگائی اور محصول میں کمی آنے کا اندیشہ ہے جس کے لئے دیش کو دو چار ہونا پڑئے گا حالات کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے حکومت اس بارے میں فوراََ اور تیزی سے راحت کے اقدام کرئے ۔یہ بھی تشویش کا باعث ہے کہ آزادی کے ستر سال بعد بھی ہم مانسون پر کھیتی اور پانی کے انحصار کو کم نہیں کر سکے ۔

(انل نریندر)

امریکی ڈرون گر ا کر ایران نے دی جنگ کو دعوت

امریکہ اور ایران کے درمیان نہایت خطرناک صورتحال بنی ہوئی ہے ایران نے جمعرات کے روز امریکہ کا ایک 1260کروڑ روپئے کا سب سے طاقتور جاسوسی ڈرون کو اپنی حدود میں نشانہ بنا کر میزائل سے گرا دیا ۔حالانکہ امریکہ کی دلیل ہے کہ یہ ڈرون ایران کے خطے میں نہیں بلکہ بین الااقوامی زون میں تھا بیشک اسے گرا کر ایران نے ایک طرح سے امریکہ کو چنوتی دے کر اس کو اکسانے والی حرکت کی ہے ۔امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں بہت بڑی غلطی کر دی حالانکہ ایرانی فوج کے کمانڈر حسین سلامی نے دعوی کیا کہ امریکی ڈرون ایران کی ہوائی حدود کی ریڈ لائن پار کر چکا تھا اس لئے اسے ہوا میں مار کرنے والی میزائل سے گرا دیا ۔امریکی ڈرون ٹائٹن نے یو 2-جاسوسی جہاز کی جگہ لی ہے ۔یہ 56ہزار فٹ کی اونچائی پر 30گھنٹے تک 6سو کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اڑ سکتا ہے ۔اور یہ 50فٹ لمبا ہے اور اس کے ایک بازو کی لمبائی 130فٹ ہے ۔اسے صرف راڈار گائڈیڈ میزائل سے گرایا جا سکتا ہے ایران کے پاس روس کی ایس 3-میزائل سسٹم ہے جس ڈرون کو مار گرایا یہ واقعہ ایسے وقت ہوا ہے جب میڈیا رپوٹرس میں اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران میں نیوکلیائی جنگ پھر چھڑ سکتی ہے اسے دیکھتے ہوئے روسی صدر ولاد میر پوتن نے امریکہ کو خبر دار کیا ہے کہ وہ حملہ کرنے کی غلطی نہ کرئے امریکہ صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز ڈرون گرائے جانے کو لے کر ایران کو کھلی چنوتی دے ڈالی ۔ٹرمپ نے ٹوئٹ کر کہا کہ ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے اس کی کم سے الفاظ والی چیتاونی کو بڑی کارروائی کی طرف اشارہ مانا جا رہا ہے ۔ٹرمپ کے سخت لہجے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کچھ بڑا قدم اُٹھا سکتا ہے وہیں امریکہ دفاع پینٹا گون نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے بین الااقوامی ہوائی ژون میں ڈرون گرایا امریکہ کے ذریعہ ایران کو دھمکی دینے کے بعد پہلے جنگ کا خطرہ اب اور بڑھ گیا ہے ۔ایسے میں دنیا کے کئی دیش امریکہ کے ساتھ اور مخالفت میں آگئے ہیں ۔ایران کی طرف داری کر رہے روس نے خبر دار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ نے حملہ کیا تو بھاری تباہی مچے گی ۔سعوعی عرب نے امریکہ کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے خلیج میں نازک صورتحال پیدا کر دی ہے ۔سعودی عرب نے خلیج کے حالات کو بگاڑنے کے لئے سیدھے طور پر ایران کی جارحانہ رویہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔اس وقت مشرقی وسطی میں دھماکہ خیز حالات بنے ہوئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے امریکہ کے ڈرون کو گرا کر جارحانہ و خطرناک رویہ کو ذمہ دار ٹھہریا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے امریکہ کے ڈرون کو گرا کر جارحانہ اور خطرناک رویہ اختیار کر لیا ہے فی الحال امریکہ خاموش ہے اور اس نے ایران کی اس کارروائی کا کوئی جواب نہیں دیا ہے لیکن صدر ٹرمپ کے واقف کار کہتے ہیں کہ وہ چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہے ہو سکتا ہے امریکہ اس کا جواب ضرور دے اور اس پر سنجیدگی سے غور ہو اگر امریکہ نے کوئی سخت قدم اُٹھایا تو کھلی جنگ چھڑ سکتی ہے جس میں بہت تباہی مچے گی ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...