Translater

22 اکتوبر 2016

اب ضرورت ہے دیش میں اندر سرجیکل اسٹرائیک کی

بھارت اور چین کے الگ تھلگ کرنے کے بعد اب سرکار کو دیش کے اندر دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے ملک کے اندر ہی سرجیکل اسٹرائیک کرنی ہوگی۔ ملک کے اندر پیدا تلخی اور بیحانی اور دشمن کی مدد کرنے والے سلیپر سیل سے زیادہ بڑا خطرہ ہے ۔ بھارت کے سابق قومی مشیر شیو شنکر مینن کا یہ کہنا ہے کہ کئی معنوں میں اہم ہے۔ دیش کے اندر کچھ لوگ ہیں اور ملک مخالف باتیں کرتے ہیں۔ ایسے اشو اکثر اٹھاتے رہتے ہیں۔ جس سے دیش کے دشمنوں کو بہت مدد ملتی ہیں کچھ تو آج بھی سرحد پار اپنے آقاؤں سے ہدایت لیتے ہیں ہم چینلوں میں دیکھا ہے کہ ایسی بحث کرائی جاتی ہیں جس سے دیش کمزور ہوتا ہے ویسے بھی ان جہادی انجمنوں سے دیش کو خطرہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق کیرل کے ساتھ ہی جموں وکشمیر، تلنگانہ، پنجاب اور مغربی بنگال میں بھی سیکورٹی ایجنسیوں نے آتنکی تنظیموں کے رابطے میں رہنے والے کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے سب سے اہم گرفتاری کیرل میں ہوئی ہے جہاں قومی جانچ ایجنسی این آئی اے نے جن 6 دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے ان کا موڈیول بہت ہی خطرناک ارادہ رکھتا ہے۔ اس کا موازانہ حال ہی میں بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ میں ہوئے حملے سے کیا جارہا ہے۔ وہ دیوالی کے آس پاس ساؤتھ انڈیا میں خوف پھیلانے کامنصوبہ بنا رہے تھے۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد بھارت میں آتنکی حملہ کا اندیشہ بڑا ہے اس کے پیچھے وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ایجنسیاں بھارت میں جلد سے جلد حملہ کرنے کی تاک میں ہے۔ جموں وکشمیر میں بارہمولہ راشٹریہ رائفلس ہیڈ کوارٹر پر حملہ کو بھی ایک سلیپر سیل کی کارستانی مانا جارہا ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کئی ریاستوں کے وزراء اعلی کے ساتھ بات کی تھی۔ اور انہیں اپنی سیکوریٹی سسٹم کو چوکس کرنے کی صلاح دی تھی۔ وزارت داخلہ کے ایک افسر اب بھی کئی ریاستوں کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ سیکورٹی نظام کو لے کر لگاتار اطلاعات دے رہے ہیں۔ نکسلی واد ، فرقہ وارانہ کشیدگی ، دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے ماحول و زمینی حملوں کی تیاری کرتا ہے معیشت کی طرف چوٹ پہنچانے والی حرکت جاری نوٹ کی اسمگلنگ بھی خطرے کی آہٹ کو بڑھاتی ہیں۔ لازمی ہے کہ سرکار کو ایسے کسی اٹوٹ اور بلا روک زہر کو پھیلنے اثر کو کم کرنا ہوگا جب تک دیش محفوظ نہیں ہے منظم نہیں رہے گا تب تک باہری دشمنوں سے لڑائی اور ان کے خلاف فیصلہ کن جنگ جیتی نہیں جاسکتی ہیں۔ بلاشبہ اندرونی خطرے کے بارے میں جو اشارہ کرتے ہوئے چیف شنکر نے کہی ہے وہ ان کو سرسری نہیں لیا جاناچاہئے بلکہ انہوں نے چار سال تک سلامتی مشیرکے عہدے پر رہتے ہوئے کافی کچھ دیکھا ہے اب ضرورت ہے اندرونی سرجیکل اسٹرائیک کی۔
(انل نریندر)

چینی سامان کی فروخت روک میں 60% کی گراوٹ

چین کے بنے سامان کی مخالفت میں سوشل میڈیا کی مہم رنگ لانے لگی ہیں حالت یہ ہے کہ مارکیٹ میں چینی سامان کی فروخت میں 50سے 60 فیصد تک کی گراوٹ آچکی ہے اس حالت کو دیکھتے ہوئے تھوک دکانداروں کے پاس کروڑوں روپے کا سامان پھنس گیا ہے ایسے میں چین میں دئے گئے پرانے آرڈروں کو بھی منسوخ کرنے کے ساتھ ہی نئے آڈر بھی بند کئے جارہے ہیں اس بارے میں بھاگیرت پلیس( دہلی کے) ایک تھوک تاجر کے مطابق اس نے دیوالی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سیزن پر چین سے خرید 5کروڑ روپئے کا مال منگایا تھا جس میں بجلی کی لڑیوں کے ساتھ ہی دیگر الیکٹرانک آئٹم تھے کاروباری کے مطابق پیچھے برس بھی پہلی کھیپ میں اتنے ہی رقم کا مال منگایا گیا تھا جو دیوالی کے پہلے بک گیا تھا لیکن اس برس قریبا 60 فیصد مال اٹکا پڑا ہے۔ بھاگیرت پلیس کو الیکٹرانک سامان کے معاملے ا یشیا کے بڑے بازاروں میں شمار کیاجاتا ہے۔ دیوالی پر اس بازار 8سے 10کروڑ روپے کی بجلی کی لڑیوں کے ساتھ دیگر سجاوٹی سامان چین سے آیا ہوا ہے لیکن چین کے سامان کی مخالفت مہم نے یہاں کے دکانداروں کی ہوا نکال دی ہیں ایک دکاندارکے مطابق لوگ یہ جان سامان نہیں لے رہے ہیں کیونکہ چین کا بنا ہوا ہے دیسی پروڈکٹس کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں الیکٹرانک ٹریڈرس ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے مطابق بازار کے حالات کافی خراب ہے لوگوں کا کافی پیسہ چین کے پروڈکٹس میں لگا ہوا ہے لیکن بازار میں چین مخالف ماحول ہے ویسے بھی یہ کہناپڑتا ہے کہ احتجاج کے باوجود دہلی کے بازاروں میں ابھی بھی چینی سامان چھایا ہوا ہے لڑیاں چینی بلب، سجاوٹی سامان چاندنی چوک، بھاگیرت پلیس اور دیگر بازاروں میں بک رہا ہے حالانکہ دکانداروں نے مانا ہے کہ چائنا کے پروڈکٹس کو پابندی کی مانگ کے بعد بازار میں بھی اثر پڑرہا ہے۔ دکانداروں کو روز 20 سے 25 ہزار روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ لیکن وہی دکانداروں کا یہ بھی کہنا ہے پہلے حکومت کو ایسے ٹھوس انتظام کرنے چاہئے تھے کہ چائنا کے مال کی جگہ ہندوستانی پروڈکس خریدے جائے۔ تھوک تاجروں نے مہینوں پہلے اپنے آرڈر دے دیئے تھے پابندی تو اس وقت لگنی چاہئے تھی اثر مسئلے کا حل تو یہ ہے کہ ہم چین کی بنی لڑیوں و دیگر سامان کی قیمت پر ملک کی مال کو بیچیں۔ ہندوستانی سامان کے مقابلے میں چائنا کے ڈیزائنر لائٹیں، لڑیاں، اور کئی چیزیں 40سے 50 فیصدی سستی ملتی ہیں ایک تاجر کاکہنا تھا کہ چینی سامان پر پابندی لگانی تھی تو لوگوں کو خریدنے سے پہلے ہی روکنا چاہئے تھا۔ دہلی نہیں پورے دیش میں چین سے کئی کچے میٹریل اور پروڈکٹس بھارت میں لائے جاتے ہیں اور انہیں بھارت میں تیار کیاجاتا ہے۔ پین ہو یا ایل ای ڈی لائٹیں یا ڈیزائنر آئٹم ، الیکٹریکل سامان ہر چیز کی سپلائی چین سے ہوتی ہیں چاہے براہ راست یا غیربراہ راست طریقے سے کئی سامان کے لئے ہم چین پر منحصر کرتے ہیں۔ دہلی کی شاپنگ کے لئے 2سے ڈھائی مہینے پہلے ہی چینی سامان دہلی میں آجاتا ہے اگر اب انہیں دکاندار نہیں فروخت نہیں کریں گے پورے بازار کا ہر روز 10کروڑ روپے سے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے بھارت کا چینی سامان کے خلاف سوشل میڈیا پر چل رہی کمپین سے چین ناراض ہوگیا ہے اور اس نے احتجاج میں چینی میڈیا اخبار گلوبل ٹائمس نے لکھا ہے بھارت صرف بھونک سکتا ہے چینی سامان کو لے کر چل رہی باتیں بھڑکاؤ ہے ہندوستانی سامان چائنز پروڈکٹس کے مقابلے ٹک نہیں سکتا ہے۔ دیش کے بڑھتے کاروباری خسارے پر بھارت کچھ بھی نہیں کرسکتا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستانی دہشت گردوں کو بین الاقوامی آتنکی اعلان کرانے کی بھارت کی کوششوں کے چین کی مسلسل مخالفت سے زیادہ تر ہندوستانی ناراض ہے اس کے چلتے وہاں سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارم چینی سامان کے بائیکاٹ کی مہم چلا رکھی ہے۔ ا خبار نے ہندوستانی وزیراعظم کے میک ان انڈیا پروجیکٹ کو بھی غیر موزوں قرار دیا ہے۔
(انل نریندر)

21 اکتوبر 2016

مشکل میں’ اے دل‘

خود کو ان چاہی مشکل میں پھنستے دیکھ فلم ہدایت کار و پروڈیوسر کرن جوہر و بالی ووڈ کی کچھ بڑبولی آوازوں کے سر منگلوار کو بدلے بدلے سے نظر آئے۔اسے عوامی جذبات کا دباؤ کہیں یا بنیادی اصلاح کہیں؟ ان ہستیوں کو ممکنہ طور پر یہ احساس ہو گیا کہ دیش کی بات کرنا اورشیو سینا کا ساتھ دیناقطعی مشکل نہیں ہے۔ پاکستانی اداکار فواد خان کی وجہ سے فلم ’’اے دل ہے مشکل‘ کی ریلیز کو لے کر احتجاج جھیل رہے ہدایتکار کرن جوہر نے منگلوار کو کہا کہ وہ مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کو نہیں لیں گے۔ انہوں نے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میری فلم میں اڑنگا نہ ڈالا جائے۔ بتا دیں کہ راج ٹھاکر ے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا اور کچھ دیگر سیاسی تنظیموں نے جموں و کشمیر میں اڑی حملہ کے بعد پاک اداکاروں والی فلموں کی ریلیز کی جم کر مخالفت کی ہے۔ جس کے بعد کرن جوہر کی فلم کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے جو دیوالی سے پہلے 28 اکتوبر کو ریلیز ہونی ہے۔ سنیما گھر کے مالکان کی انجمن نے بھی مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک اور گوا میں پاکستانی اداکاروں کی اداکاری والی فلموں کی نمائش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلم میں رنبیر کپور، ایشوریہ رائے بچن، انوشکا شرما کے اہم کردار ہیں۔ پاکستان کے ایکٹر فواد خان کا فلم میں چھوٹا سا رول بتایا جارہا ہے۔ کرن نے کہا کہ وہ چپ رہے کیونکہ ان کی حب الوطنی کے بارے میں سوال اٹھائے جانے سے وہ دکھی تھے۔ انہوں نے کہا دیش ان کے لئے پہلے ہے اور انہوں نے ہمیشہ دیش کو سب سے بالاتر رکھا۔ فلم کے احتجاج پر نکتہ چینی کرتے ہوئے فلم پروڈیوسر انوراگ کشیپ نے تو وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان جانے پر ان کے معافی مانگنے تک کا اوٹ پٹانگ بیان دے ڈالا۔ اب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے فیس بک پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مودی سے کبھی معافی مانگنے کی بات نہیں کی تھی۔ انہوں نے اپنی صفائی میں لکھا ہے میں نے بس اتنا کہا تھا کہ فلم صنعت کو آسانی سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ میں اپنی بات اس لئے رکھ رہا ہوں کیونکہ مجھے بعد میں میڈیا میں بیان جاری نہیں کرنا پڑا۔ میں نے کبھی کسی صورتحال پر سوال نہیں اٹھایا۔وزیر اعظم مستقبل کے حالات سے انجان پاکستان کے دورہ پر گئے تھے۔ ادھرراج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس کے احتجاج کے باوجود کرن جوہر کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کی ممبئی میں نمائش پولیس کی سکیورٹی میں ہوگی۔ حالانکہ ایم این ایس نے کہا ہے کہ پاکستانی ایکٹر فواد خان کی جوہ سے وہ اس فلم کی ریلیز کے احتجاج پر قائم ہیں۔ بتادیں کہ ایم این ایس کی وارننگ کے بعد فلم اینڈ ٹیلی ویژن پروڈیوسر گلڈ کے مکیش بھٹ اور اسٹار انڈیا کے انوپما چوپڑا اور فلم پروڈیوسر سدھارتھ کپور نے پولیس سے سکیورٹی کی اپیل کی تھی۔ فلم کی پاکستانی تو بہت برائی کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

آئی ایس کے صفائے کیلئے فیصلہ کن جنگ

دنیا میں کبھی اپنے تعلیمی اداروں کے لئے مشہور تین ہزار سال پرانا عراقی شہر موصل اب سب سے بڑی جنگ کا میدان بن گیا ہے۔ آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ ) کا پوری طرح سے خاتمہ کر واپس موصل پر قبضے کے لئے عراقی فوج نے شہر پر حملہ کردیا ہے۔ شہر میں موجود 4 سے8 ہزار آئی ایس دہشت گردوں کو بھگانے کے لئے عراق اور کرد فورسز کے 30 ہزار جوانوں نے مورچہ سنبھال لیا ہے۔ ایتوار کی رات سے شہر پرہوائی حملے اور بموں کی بارش ہورہی ہے۔ عراقی فوجی اور کرد جنگ باز پانچ ہزار امریکی جوان بھاری تعداد میں ہتھیار اور ٹینک لیکر شہر میں داخل ہوچکے ہیں۔عراق نے تو ابتدا میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 9 دیہات کو آئی ایس کے قبضے سے آزادکرالیا ہے۔ بتادیں کہ دسمبر 2011 ء میں یہاں سے امریکی فوج نے گھر لوٹنا شروع کردیا تھا۔ فروری 2012ء تک عراق نے شیعہ ۔ سنی جھگڑا بڑھا۔ مارچ 2013ء میں شام کے پاس والے عراقی علاقے میں آئی ایس نے اپنی پیٹ بنانی شروع کردی۔جون2014ء میں سرکارکے نکمے پن کی وجہ سے آئی ایس نے موصل پر اپنا قبضہ کرلیا تھا۔ کبھی 25 لاکھ کی آبادی والا شہر اب کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اب بھی 10 لاکھ لوگ یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ مقامی شہریوں کے آئی ایس کے ٹھکانے والے علاقے الدایغ سے دور رہنے کی صلاح دی گئی ہے۔ اقوا م متحدہ موجودہ حالات پر تشویش جتا چکا ہے کہ اس لڑائی میں پناہ گزین کا بحران اور گہرا ہوجائے گا۔
محفوظ مقامات تک پہنچنے کیلئے بچوں کو بھوکے پیاسے36 گھنٹے تک پیدل چلنا پڑ رہا ہے۔ آئی ایس دہشت گردوں نے موصل میں کئی بنکر بنا رکھے ہیں اس لئے انہیں ختم کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔موصل کو آزادکرانے کے بعد یہاں سکیورٹی کو لیکر پھر دقتیں پیدا نہ ہوں اس لئے امریکہ ابھی سے 15 ہزار چنندہ لڑاکوں کو ٹریننگ دے رہا ہے۔فوج کے آپریشن کو کمزور کرنے کے ارادے سے آئی ایس نے تیل کے کنوؤں میں آگ لگادی ہے تاکہ آسمان میں کالے دھنوئیں کی وجہ سے انہیں پریشانی ہو۔ اس شہر پر عراق کا دوبارہ کنٹرول ہو جانے سے آئی ایس کے خلیفہ کے راج کرنے کے دعوے کی ہوا نکل جائے گی۔ اقوام متحدہ نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ آئی ایس عراق میں اپنے آخری گڑھ کو بچانے کیلئے شہر کے بچے15 لاکھ شہریوں کو ڈھال بنا سکتا ہے۔ آئی ایس نے موصل پر ہی پہلے قبضہ کیا تھا اس کے بعد عراق اور شام کے بڑے علاقے تک پھیل گیا۔ عراقی فورسز کے موصل شہر سے آئی ایس کوبھگانے کے اپنے آپریشن میں آگے بڑھنے کے ساتھ ہی امریکہ نے کہا کہ آتنکی گروپ کی راجدھانی سے اسے باہر کرنا ایک اہم سیاسی واقعہ ہوگا۔
(انل نریندر)

20 اکتوبر 2016

غیرمعمولی! جسٹس کاٹجو حاضر ہوں

اپنے بڑ بولے پن کے لئے مشہور مارکنڈے کاٹجو آخر کار اب پھنس گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے پیر کو ایک متوقع قدم اٹھاتے ہوئے اپنے ہی ریٹائرڈ جج( جسٹس کاٹجو ) کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ سومیا بدفعلی اور قتل معاملے میں عدالت کے فیصلے میں کیا خامی ہیں؟ سپریم کورٹ نے پہلی بار اپنے کسی سابق جج کو بات رکھنے کے لئے بلایا ہے سپریم کورٹ نے جسٹس کاٹجو کو اس بلاک کا نوٹس لیا ہے جس میں انہوں نے اس کیس کے فیصلے کی نکتہ چینی کی ہے۔عدالت نے ان سے کہا ہے کہ وہ شخصی طور سے کورٹ میں پیش ہوں اور بحث کریں کہ قانون میں یہ وہ صحیح ہے یا عدالت؟ یہ پہلا معاملہ ہے جب سپریم کورٹ نے اپنے ہی کسی سابق جج کو فیصلے کی تنقید کے لئے عدالت میں طلب کیا ہے۔ قابل غور ہے کہ سومیا کوچی کے ایک شاپنگ مال میں کام کیا کرتی تھیں۔1 فروری 2011کو ٹرین میں سفر کررہی تھیں اس دوران ملزم گوبند یامی نے اس پر حملہ کیا۔ اور اسے پلہ توڑ نظر کے پاس اسے ٹرین سے باہر پھینک دیا اور خود بھی چلتی ٹرین سے گود گیا بعد میں سومیا کو پاس کے جنگل میں لے جا کر اس کے ساتھ بدفعلی کی۔ چوٹوں کی وجہ سے 6 فروری ہو سومیاکی ایک اسپتال میں موت ہوگئی۔ جسٹس کاٹجو نے اپنے بلاک میں لکھاتھا کہ سپریم کورٹ نے گوبند یامی کو قتل کا ملزم نہ ٹھہرا کر بھول کی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ ملزم کا ارادہ قتل کرنے کا تھا اس لئے اسے قتل کا قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ لیکن عدالت نے آئی پی سی کی دفعہ 300 پر توجہ نہیں دی۔ جس میں قتل کو لے کر 4مرحلوں میں تشریح کی گئی۔ صرف پہلے حصے میں قتل کی مانگ کو کیس میں ثابت کردیاجائے تو اسے قتل مانا جائے گا۔ چاہے اس میں قتل کی منشا نہیں رہی ہو۔ افسوس ہے کہ عدالت نے دفعہ 302کے بارے میں اسٹڈی نہیں کی۔ اس فیصلہ کی کھلی عدالت میں پھر سے غور ہوناچاہئے۔ عدالت نے جسٹس کاٹجو کے پوسٹ پر نوٹس لیتے ہوئے ان سے 11نومبر کو سماعت میں حصہ لینے کی اپیل کے ساتھ کہا ہے کہ وہ خود آکر بتائے کہ فیصلے میں ایسی کیا خامی ہے کہ عدالت اس پر نظر ثانی کریں؟ جسٹس راجن گوگئی پی سی پنت اور یو یو للت کی بنچ نے پوسٹ کے اس حصے کی تشریح بیان کرتے ہوئے نظر ثانی عرضی میں بدل دیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ اس کورٹ کے ریٹائرڈ جج کا نظریہ ہے اس پر پورے سمان اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس راجن گوگئی سربراہی والی بنچ نے 15دسمبر کو سومیا قتل معاملے میں گوبند یامی کو ثبوتوں کمی میں قتل کا قصور نہیں ماناتھا۔ بنچ نے نچلی عدالت اور اس کے بعد ہائی کورٹ سے اس کی موت کی سزا کو منسوخ کردیا تھا۔
(انل نریندر)

تین طلاق، حلالہ اور کثیر شادیوں پر بحث

مسلم فرقوں سے وابستہ تین حساس ترین اشو تین طلاق، حلالہ اور کثیر شادی پر سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کے پیش کردہ حلف نامے اور آئینی لاء کمیشن سے مانگی گئی تجاویز کو لے کر مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر مسلم انجمنوں نے جیسا تلخ احتجاج کا مظاہرہ کیا ہے اس میں آنے والے وقت کی کچھ تصویروں کی بحال ضرور جھلک مل رہی ہیں۔ بحث کو سیاسی چشمے کی بنیاد پر دیکھنے کے بجائے فرقے میں مسلم خواتین کے حق اور عزت سے جوڑ کر دیکھا جائے تو سبھی کی بھلائی ہے یہ تینوں اشو نہ تو نئے ہیں اور نہ ہی پہلی بار بحث ہورہی ہیں۔تازہ معاملے میں طلاق اشو مسلم خواتین سائرہ بانو کی سپریم کورٹ میں دی گئی عرضی سے وابستہ ہے اب اسے لے کر مرکزی سرکار اور مسلم تنظیمیں آمنے سامنے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر تنظیموں جیسی سخت احتجاج کیاہے اس سے صاف ہے یہ تنظیمیں تین طلاق کو غیرقانونی ماننے اور نکاح وغیرہ معاملوں پر ایک قانون بنائے جانے کی کوشش کو آسانی سے قبول کرنے والی نہیں ہے۔ حالانکہ مرکزی حکومت ابھی سول کوڈ قانون بنانے کی کوئی بات نہیں کی ہے۔ لاء کمیشن نے صرف کچھ سوال جاری کرکے ان کاجواب مانگا ہے وہ سوال صرف مسلمانوں سے متعلق نہیں ہے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے صاف کہا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ سرکاری فیصلہ نہیں ہے عدالت کے حکم پر سرکار آگے بڑھ رہی ہیں انہو ں نے آئین ہر شخص کو یکساں حق اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے جہاں تک پرسنل لاء کا تعلق ہے میرا ماننا ہے کہ پرسنل لاء کے تحت ملے حقوق پر آئینی کنٹرول ہوناچاہئے۔ پرسنل لاء امتیاز کو بڑھاوا نہیں دے سکتا ہے اور نہ ہی انسانی وقار کو ایک ساتھ سمجھوتہ کرسکتا ہے پھر ہمیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ پہل مرکزی سرکار کی طرف سے نہیں ہوئی ہیں۔ بلکہ سپریم کورٹ کی طرف سے ہوئی ہیں۔ اس کے سامنے مسلمانوں کو تین طلاق اور عیسائیوں کے طلاق سے متعلق معاملے کی سماعت کے لئے آئے ہوئے ہیں حقیقت میں تین طلاق، حلالہ اور کثیر شادیاں یہ تینوں رواج ہے جن کا نقصان فرقے کی خواتین کو اٹھانا پڑسکتا ہے اور مسلم فرقے کے اندر اس میں ایک رائے نہیں ہیں ایک تشریح یہ ہے کہ تین طلاق کے لئے مہینے کا فرق ہو اور صلح کے راستے کھلے ہوئے ہوں اور بہت سے معاملوں میں مسلم اداروں میں اور نشے میں اور فون پر دی گئی طلاق کو جائز مانا ہے بحث تو اسی پر ہے کہ آخر مرد کو ایک طرفہ طلاق دینے کا حق کیوں ہو؟ دلیل یہ بھی دی جاتی ہیں مرد میں صحیح فیصلہ لینے کی صلاحیت ہوتی ہیں یہ ٹھیک ہے کہ مذہبی جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہئے اور عقیدت کا احترام ہوناچاہئے عورتیں ایسے وقت میں جب کسی معاملے میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں یہ بات گلے نہیں ا ترتی یہ فیصلہ لینے میں مرد سے کمتر ہوتی ہیں۔ شیعہ عالم نے تین طلاق کی رواج کو ختم کرنے اور اس سے متعلق قانون بنائے جانے کی حمایت کی ہے۔ مسلم سماج اس معاملے میں دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔ اور ثابت کرتا ہے کہ کوئی قرآن و حدیث کا معاملہ نہیں ہے اگر ایساہوتا تو خود اسلام کو ماننے والے دنیا 22ملکوں نے اس غیرانصانی رواج کو خاتمہ نہ کیا ہوتا۔ ویسے بھارت بھی ایک سیکولر ہونے کی وجہ سے آئین کے تحت چلتا ہے اور یہاں کسی کو مذہب رسم ورواج یا عبادت میں سرکاریں مداخلت نہیں کرسکتی۔لیکن جب آئین میں جنسی برابری اور انسانی وقار کا حق دیا ہے تو اس کی تعمیل کرنا بھی سرکاروں کی ذمہ داری ہیں۔ امید کی جاتی ہیں کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اوردیگر مسلم انجمنیں جو احتجاج کررہی ہیں وہ اصلیت کو سمجھیں گی اسے مذہبی مداخلت کا معاملہ نہ مانتے تو انسانی ضرورت سمجھیں گی۔
(انل نریندر)

19 اکتوبر 2016

دہشت گردی پر پاک تو الگ تھلگ تھا ،مودی نے چین کو بھی بے نقاب کردیا

اڑی آتنکی حملہ کے بعد پاکستان کو عالمی برادری میں الگ تھلگ کرنے کی مہم رنگ لائی۔ چین کو چھوڑ کر باقی سبھی ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائی۔ یہ بڑی طاقتیں دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں پر لگام لگانے کے حق میں نظر آئے۔ سبھی نے نریندر مودی کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی حمایت کی اور دہشت گردی کو پوری دنیا کے لئے خطرہ بتایا ۔ روسی صدر ولادیمیر پتن کے ساتھ جوائنٹ میڈیا پریس کانفرنس میں پی ایم مودی نے کہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف روس کا رخ صاف ہے وہ اسے ختم کرناچاہتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے لئے بھارت اور روس کا موقف ایک جیسا ہے ہم سرحد پار دہشت گردی سے نپٹنے کے اشو پر روس کی سمجھداری اور حمایت کی تعریف کرتے ہیں۔ روسی صدر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں دیش ایک دوسرے کاتعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مخصوص اختیارات حاصل فوجی سمجھداری کے تئیں فوجی ساجھے داری کے لئے عہد بند ہیں۔ گوا میں برکس چوٹی کانفرنس میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جنگ پنگ نے دہشت گردی کے اشو پر تو تال میل بڑھانے کی بات کہی ہے لیکن پٹھان کوٹ حملہ کے سرغنہ مسعود اظہر پر اقوام متحدہ سے دہشت گرد اعلان کروانے کی بھارت کی مہم پر حمایت کرنے سے ٹال گئے ۔ بھارت چین اس قدم سے کافی مایوس تھا، جب اس نے اظہر کو اقوام متحدہ کے ذریعے دہشت گرد قرار دیئے جانے بھارت کے قدم میں تکنیکی بینچ پھنسا دیا تھا۔ چینی صدر شی چنگ پنگ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو ڈیفنس بات چیت اور ساجھے داری کو مضبوط کرنی چاہئے۔ بے شک مسعود اظہر پر چین کی حمایت فی الحال نہیں ملی ہوں لیکن روس نے صاف کردیا ہے کہ بھارت نے برکس چوٹی کانفرنس میں پاکستان کے حق میں اب ماحول بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ چین پر ڈپلومیٹک دبدبہ حاصل کرلیا ہے۔ ماہرین کاخیال ہے کہ بھارت نے سرحد پار دہشت گردی پر برکس کے دیگر ممبر ملکوں ساؤتھ افریقہ اور برازیل کو بھی ساتھ لیا ہے تو چین پرڈپلومیٹک دباؤ بڑھ جائے گا ویسے چین پر دباؤ بڑھانے کے لئے بھارت نے برکس کی مفصل میٹنگ میں پمسٹیک ممبروں کی سرحد پار دہشت گردی کی طرف رخ موڑنے کے لئے انہیں پہلے ہی راضی کرلیا ہے۔د ہشت گردی پر بھارت کو روس کا ساتھ ملا ہے دونوں دیشوں کو ایک دوسری کی سخت ضرورت تھی۔ امریکہ کی طرف سے لگائی گئی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روس کو بڑے ڈیفنس سودے کی ضرورت تھی دوسری طرف بھارت بھی اپنے سب سے بھروسہ مند دوست سے حمایت چاہتا تھا۔ دونوں کی مراد پوری ہوگئی اور یقینی طور سے یہ چین اور پاکستان دونوں کے لئے ڈپلو میٹک جھٹکا ہے اور بھارت روس کے درمیان ڈیفنس سودوں سے جہاں بھارت کو سب بڑے بھروسے مند دوست روس نے دوستی کی مثال پیش کی ہے وہی چین تو اس بڑھتی دوستی سے تلملا گیا ہے سرحد پار دہشت گردی پر بھارت کاساتھ دینے کے علاوہ روس سے پانچ ا یس۔ 400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کا تحفہ دے کر ہوائی خطرے سے نپٹنے کا ہتھیار بھی دے دیا ہے۔ اس کی اہمیت ا س سے بھی سمجھی جاسکتی ہیں کہ یہ ہوائی ڈیفنس میزائل سسٹم دنیا کی نہ صرف تجدید ترین تکنالوجی ہے بلکہ اس کے پاس بھارت کا ڈیفنس سسٹم کسی بھی دیش( پاکستان۔ چین) کاسامنا کرنے میں پوری طرح سے اہل ہوگا۔ ایسا کر اس نے بھارت کو پاکستان ہی نہیں چین سے بھی بچنے کا سیکورٹی کووچ بھی دستیاب کرا دیا ہے۔ پاکستان تو پہلے ہی دنیا سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا برکس چوٹی کانفرنس میں نریندر مودی نے چین کابھی پردہ فاش کردیا ہے۔
(انل نریندر) 

اے ٹی ایس کی کاررائی سے این سی آر میں بڑا حملہ ٹلا

دیش کو سرحد پار سے حملوں کاخطرہ تو تھا ہی لیکن دیش کے اندر بھی کئی تنظیمیں ہے جو دیش کی آزادی کو وقانون و نظم کے لئے خطرہ ہے تازہ مثال ہے نوئیڈا میں نکسلیوں سے جڑے بڑے گینگ کاپردہ فاش ہونا یوپی کے نوئیڈا میں نکسلیوں کے ایک بڑے گینگ کو بے نقاب کرکے پولیس نے دہلی اور این سی آر میں ایک بڑے نکسلی حملے کی سازش کو ناکام کردیا ۔ نوئیڈا کے سیکٹر۔ 49 کے ہنڈن وہار، صدرپور اور چندولی سے پکڑے گئے نکسلی دہلی اور این سی آر میں بڑی واردات کوانجام دینے کے لئے اے کے 47 خریدنے کے فراق میں تھے ۔ سنیچرکی رات اور ایتوار کی صبح ہنڈن وہار اور صدرپور علاقوں سے نکسلی گروہوں سے جڑے9خطرناک مجرموں کے بارے میں اطلاعات سے اے ٹی ایس کی ٹیم نے چندولی ضلع سے گروہ کے سرغنہ روی داس کو گرفتار کیا ہے۔اس کے پاس سے فوج کی رائفل، 550 کارتوس کے علاوہ 3ایس ایل آر میگزین بھی برآمد ہوئی ہیں۔ ان میں ممنوعہ نکسلی تنظیم پیپلز وار گروپ کا پانچ لاکھ کاانعامی کمانڈر رنجیت پاسوان بھی ہے۔ سیکٹر۔ 49 ہنڈن وہار کے رہنے والے ایک شخص نے ایس ا یس پی کو مشتبہ افراد کے بارے میں خبر دی تھی بھلے ہی یہ کہہ کر آئی جی اے ٹی ا یس نے نوئیڈا پولیس کی کڑکڑی ہونے سے بچا لی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قریب ایک مہینہ پہلے یوپی اے ٹی ایس کی بنارس ٹیم نے الیکٹرانک نگرانی کے ذریعہ سے نوئیڈا کے کچھ مشتبہ سرگرمیوں کو ٹریس کیا تھا۔ اس کے بعد سے اے ٹی ایس لگاتار یہاں رہ رہے نکسلیوں کی ہر حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اے ٹی ایس کے ایک افسر نے بتایا کہ الیکٹرانک سرویلینس اور مینوئلی بھی اس کی سرگرمیوں کو ٹریک کیاجارہاتھا۔ اے ٹی ایس کے آئی جی اسیم ارون کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے دو بم بنانے کے ماہر ہے آئی جی کے مطابق یہ لوگ سیکٹر۔ 49 ہنڈن وہار میں رہ رہے تھے۔ سالار پور میں آفس کھول کر پراپرٹی ڈیلنگ کی آڑ میں لوکل بدمعاشوں کو جوڑ رہے تھے یہ بینک ، اے ٹی ایم لوٹ مار اور پھروتی اور اغوا اور سپاری لے کر قتل کرنے کے فراق میں تھے۔آئی جی نے بتایا کہ ان کے پاس سے جلاٹین کی 45چھڑیں، ڈیٹونیٹر، پستل اور طمنچے ،گولیاں کاریں موبائل وغیرہ ملیں ہیں۔ چندولی سے گرفتار سرغنہ کے پاس سے جو سامان برآمد ہوا ہے وہ سب کسی سیکورٹی فورس لٹا ہوا لگ رہے ہیں۔ نوئیڈا کے ایس ایس پی دھرمیندر یادو نے بتایا نوئیڈا کے ایک شہری کی خبر پر اے ٹی ایس نے اتنی بڑی کارروائی کرکے ایک بڑے حملے کی سازش کاپردہ فاش کیاہے۔ شہری کی پہچان چھپاتے ہوئے بتایا کہ اس شہری کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔ پولیس کی کارروائی سے ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے بچا ہے۔
(انل نریندر)

18 اکتوبر 2016

بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑھتے قدم

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں بھلے ہی علاقائی نیتاؤں کو سامنے رکھ کر بی جے پی چناؤ میں اترنے کا ارادہ رکھتی ہوں لیکن ابھی بھی حقیقت یہ ہے کہ جیت کے لئے پارٹی کو ایک بار پھر وزیراعظم نریندر مودی کے کرشمے پر زیادہ منحصر رہناپڑے گا۔ خاص کر یوپی جیسی بڑی ریاست کے چناؤ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے۔ یہ لگتا ہے کہ صحیح بھی ہو کیونکہ تازہ سروے میں بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں ابھر کر سامنے نظر آرہی ہیں۔ انڈیا ٹوڈے۔ ایکسس کے ذریعہ کرائے گئے اوپینن پول کے مطابق اگلے سال ہونے والے چناؤ میں بھاجپا سرکار بنانے کی پوزیشن میں دکھائی پڑرہی ہیں۔ یوپی چناؤ کو لے کر کرائے گئے سروے میں بھاجپا کو 170 سے 180سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایاجارہا ہے۔ بی ایس پی دوسرے نمبر پرنظر آرہی ہیں۔ اس کو 115سے 124سیٹیں مل سکتی ہیں سروے کے مطابق ملائم سنگھ یادو کی پارٹی سپا کو بھاری نقصان اٹھاناپڑسکتا ہے۔ سپا دوسرے نمبر پر گھس جائے گی اور پارٹی کو 90سے 103سیٹوں پر اندازہ ہے۔ سماج وادی پارٹی کی اندرونی رسہ کشی پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہیں۔ سپا کنبے کے اندر جاری سنگرام کو ایک مہینے سے زیادہ ہوچکا ہے۔ لیکن ابھی بھی یہ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ خود ملائم سنگھ کے آگ میں گھی کا کام کیا ہے انہوں نے کہاہے کہ یوپی کااگلا سی ایم طے نہیں ہوا ہے اس کا فیصلہ چناؤ کے بعد ہوگا ۔ وہی وزیراعلی اکھلیش یادو نے جواب دیا یوپی کااگلا سی پی ایم یوپی کی جنتا ہی طے کرے گی۔ ادھر شیو پال یادو نے اب اپنے طریقے سے تنظیم اور ٹکٹوں کے بٹوارے میں تبدیلی شروع کردی ہیں۔ اس سے اکھلیش حمایتی بے چین ہے ان کی ٹیم اہم ممبر کنارے کئے جارہے ہیں اندرونی کھینچ تان کااثر اب ورکروں اور تنظیم کے عہدے داران اور ممبران اسمبلی پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔ بہن جی نے اس سروے کو اسپانسر قرار دیا ہے انہوں نے کہاہے کہ زیادہ تر میڈیا ہاؤس کے مالک دھنا سیٹھ اور سرمایہ دار ہے جو چناؤ کے دوران بھاجپا اور کانگریس جیسی پارٹیوں کی ہوا بنانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ سروے بھی اسی کی ایک کڑی ہے ان پارٹیوں کے اشارے پر ہمارا حوصلہ گرانے کے لئے اور یوپی کی عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کیاجارہا ہے۔ ا دھر بی جے پی نے اروناچل پردیش سرکار میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسی طرح اروناچل پردیش 15 واں راجیہ بن جائے گا جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ ہندوستان میں 30 ریاستیں اور مرکزی زیرانتظام ریاست ہیں ۔ جموں وکشمیر ۔ راجستھان۔ پنجاب ۔ ہریانہ۔ مہاراشٹر۔ گجرات۔ گوا ۔ چھتیس گڑھ ۔ جھاڑ کھنڈ ۔ آسام۔ مدھیہ پردیش۔ سکم۔ اور ناگالینڈ میں بی جے پی سیدھے طور پر اقتدار میں ہیں یہ اتحادی رول میں ہے۔ بے شک ان ریاستوں میں آج بی جے پی اقتدار میں ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی کی پارٹی کے ترپ کے اکا ہے۔
(انل نریندر)

اس دیوالی پر چینی سامان کا بائیکاٹ کرو

سوشل میڈیا پر ڈریگن( چین) کے بائیکاٹ مہم سے تاجروں کو دیوالی کے سیزن میں بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔بھارت۔ پاکستان جاری تناؤ میں چین کے بھارت مخالف رویہ کے بعد سوشل میڈیا، فیس بک، واٹس سب وغیرہ پر چین سے آئے سامان کونہ خریدنے کے لئے اپیل نے اب اپنااثر دکھاناشروع کردیا ہے۔خوردہ کاروباریوں کا کہناہے کہ چینی پروڈکٹس کی مانگ میں 20 فیصدی کی کمی آئی ہے لیکن سرکاری میڈیا کا دعوی ہے کہ ہمارے پروڈکٹس اب بھی پورے بھارت میں مقبول ہے اور بائیکاٹ کی اپیل کو کامیابی نہیں مل سکتی ہیں۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس نے کہا ہے کہ دیوالی میں چین کے روشنی اور ڈیکوریٹیوں سامان کاکافی استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ تہوار سے تین مہینے پہلے ہی بازار میں آجاتے ہیں۔ یہ پروڈکٹس اس بار بھی ہول سیلروں کے پاس ہے، لیکن خوردہ کاروباریوں کی طرف سے ڈیمانڈ 20 فیصدی تک کم ہے کیونکہ لوگ ا نہیں خریدیں گے نہیں، دیوالی سے پہلے سرکاری خفیہ ڈائریکٹر نے کروڑوں کی مالیت کے چین میں تیار پٹاخے ضبط کئے ہیں۔ تغلق آباد میں انگلینڈ کنٹینر ڈپو میں 6بڑے کنٹینر سے ناجائز طور سے آئے ان پٹاخوں کو ضبط کیا گیا ہے۔نوئیڈا کے تاجروں نے 150 کروڑ کے چینی سامان کی درآمد کو منسوخ کردیا ہے کیونکہ اس بار لوگوں کے درمیان چینی سامان استعمال نہ کرنے کاپیغام پھیلایاجارہا ہے حالانکہ کچھ تاجروں نے 100 کروڑ روپئے کاسامان خرید لیا ہے ان تاجروں کو گھاٹا ہونے کا ڈر لگ رہا ہے۔ شہر کے تجارتی ایشویشن کاکہنا ہر برس اکیلے دیوالی سیزن کے پٹاخے ، لائٹیں، اور دیگر سجاؤٹی سامان قریب 250 کروڑ روپئے کا کاروبار ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے اشو پر پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے اپنے رک کا خمیازہ چین کو ہندوستانی بازار سے مل رہی مایوسی کی شکل میں بھگتنا پڑرہا ہے۔ اس دیوالی پر لوگ ملکی سامان اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ مٹی کے دیپوں کی مقبولیت پھر سے پڑرہی ہیں اور اس کی قیمت پانچ روپے سے شروع ہورہی ہیں۔ دیوالی سے پہلے لوگ 20 سے 25 دیا خریدیں کرتے تھے وہی اس بار 50سے 100 دیے خرید رہے ہیں۔ چائنز دیے کی مارکیٹ قدرتی رنگوں سے بنے اس دیو میں لکشمی گنیش جی کی مورتیوں والے دیو کو بھی لوگ ترجیح دے رہے ہیں ان کی ابتدائی قیمت 50 روپئے ہے۔ چینوں لڑی کی فروخت میں بھی گراوٹ آئی ہے چائنامارکیٹ میں انڈین مارکیٹ سے کافی ریوینیو ملتا ہے پھر بھی وہ انڈیا کی جگہ وہ پاکستان کو سپورٹ کررہا ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ چین کا سامان نہ صرف سستا ہوتا ہے بلکہ اس کی کوالٹی بھی بہتر ہوتی ہے اسے میں ہمیں اپنے سامان کو بہتر عمدہ اور سستا بنانا ہوگا تبھی جا کر یہ مہم پوری طرح کامیاب ہوگی۔
(انل نریندر)

16 اکتوبر 2016

کیا ہم تیسری جنگ عظیم کی طرف بڑھ رہے ہیں

شام بحران پر روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے اور اگر اس پر لگام نہیں لگتی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ تیسری جنگ عظیم بھی چھڑ سکتی ہے۔ روس کی فوج کی طرف سے جاری تیاری کچھ خاص اشارہ بھی دے رہی ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کافی جارحانہ فیصلے لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے خبر آئی ہے کہ پوتن نے روس کے اعلی حکام، سیاستدانوں اور ان کے خاندان کو اپنے وطن لوٹنے کوکہا ہے۔ اسی سلسلے میں روس نے حال میں برصغیر میں بیلسٹک میزائلوں کا بھی تجربہ کیا ہے۔ پوتن نے روسی ایڈمنسٹریٹو اسٹاف، ریجنل ایڈمنسٹریشن ، لا میکرس اور پبلک کارپوریشن کے ملازمین کو یہ حکم جاری کیا ہے کہ وہ اپنے غیرممالک میں پڑھ رہے بچوں اور وہاں رہ رہے اپنے قریبی لوگوں کو فوراً وطن واپس بلا لیں۔ اگر کچھ میڈیا رپورٹ کی مانیں تو روس کی فوج نے جاپان کے نارتھ میں تعینات اپنی سب مرین سے نیوکلیئر جنگی سامان ڈھونے کی صلاحیت والے راکٹ کا بھی تجربہ کیا ہے۔ روس کی میڈیا ایجنسیوں کے مطابق روس کے نارتھ ویسٹ میں واقع گھریلو سائٹ سے بھی میزائل چھوڑی گئی ہے۔ روس کا جارحانہ قدم یہیں نہیں رکا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق روس نے پولینڈ اور لیتھوینیا کے ساتھ لگی سرحد پر بھی نیوکلیئر صلاحیت والی میزائلیں تعینات کردی ہیں۔ 2011ء سے شام میں خانہ جنگی کے حالات ہیں اور دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور روس میں اسی کو لیکر کشیدگی ہے۔ شام کی بشر الاسد حکومت اور باغیوں کے درمیان لڑائی چل رہی ہے۔ امریکہ جہاں اسد مخالفین کے ساتھ ہے اور اسد کو ہٹانے پر اڑا ہوا ہے وہیں روس اسد سرکار کی نہ صرف کھل کر مدد کررہا ہے ساتھ ساتھ اسد کو اقتدار میں برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ روس ایلوندو شہر میں اسد سرکار کی مدد کیلئے بمباری کررہا ہے۔ حالانکہ پچھلے مہینے یہاں جنگ بندی تو ہوئی لیکن بمباری لگاتار جاری ہے۔روسی صدر کو لگ رہا ہے کہ دنیا تیسری جنگ عظیم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ روس نے جتنے بھی فیصلے لئے ہیں ان کا سیدھا پیغام ہے کہ وہ شام کو لیکر کسی سمجھوتے کو تیار نہیں ہیں۔ امریکہ کا ساتھ دینے والے دیش روس کی شام میں کردار کی تنقید کررہے ہیں۔ فرانس نے حال ہی میں روس پر شام میں جنگی جرائم میں شامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ روس کے صدر پوتن نے اپنا فرانس کا دورہ منسوخ کیا۔ امریکہ میں صدرارتی چناؤ کمپین اپنے شباب پر ہے۔ پتن ڈونالڈ ٹرمپ کی کھلی حمایت کررہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر ہلیری کلنٹن امریکہ کی اگلی صدر بنتی ہیں تو تیسری جنگ عظیم چھڑ سکتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ روس اور امریکہ میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور جنگ عظیم کی نوبت نہیں آتی۔
(انل نریندر)

عمارتوں پر قبضہ کرنے کی دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی

کشمیر وادی میں کرفیو پابندیوں اور علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کے سبب پچھلے 97 دنوں سے عام زندگی متاثر ہورہی ہے۔ اس دوران سرحد پار سے ایک بار پھر آتنکی تنظیموں کی ہلچل تیز ہورہی ہے۔ دیکھنے میں آرہا ہے کہ دہشت گردوں کے جموں و کشمیر میں حملے تیز ہوگئے ہیں۔ تازہ مثال سرینگر جموں ہائی وے پر واقع پامپور کی ہے۔ یہاں ایک سرکاری عمارت میں دہشت گردوں کو سکیورٹی فورس نے بدھوار کو 56 گھنٹے کی مشقت کے بعدڈھیر کردیا۔ پیر کو سویرے یہاں گھسے لشکر طیبہ کے ان دونوں دہشت گردوں کے صفائے میں قریب 56 گھنٹے کا وقت لگ گیا۔ ایک افسر کے مطابق بلڈنگ سے 60 سے زیادہ کمروں کی تلاشی میں وقت لگا۔ آتنکی بلڈنگ کی محفوظ جگہوں پر تھے جس سے سکیورٹی ملازم اندر نہیں گھس پا رہے تھے۔ انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی آر) کی اس چھ منزلہ عمارت میں اسی سال فروری میں حملہ ہوا تھا۔ تب 48 گھنٹے مڈبھیڑ چلی تھی۔ خفیہ ایجنسیوں کی مانیں تو اس طرح کے حملے دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلے دہشت گرد سکیورٹی فورس سے مڈ بھیڑ کرنے کے بجائے فدائی دھماکے کیا کرتے تھے لیکن اب وہ انہیں زیادہ سے زیادہ الجھانا چاہتے ہیں۔ پٹھانکوٹ ایئربیس میں بھی دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں 80 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا تھا۔ مڈ بھیڑ اتنی زیادہ دیر چلے گی دیش دنیا میں میڈیا کوریج اتنی ہی زیادہ ملے گی۔ اس سال بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ اور 26/11 کے ممبئی حملے میں ہمیں ایسا دیکھنے کو ملا۔ دہشت گردوں کو عمارت میں بنکر جیسی سکیورٹی مل جاتی ہے ان کی لوکیشن کا بھی پختہ پتہ نہیں چلتا۔ سکیورٹی فورس کے پاس محدود متبادل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف سکیورٹی فورس نقصان کم کرنے کی حکمت عملی پر کام کرتی ہے۔ اس لئے فوراً عمارت اڑانے کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ دہشت گردوں کا سازو سامان اور کھانے پینے کا سامان ختم ہونے کا انتظار سکیورٹی فورس کے جوان مجبوری میں لمبی کارروائی کرتے ہیں۔ لمبی لڑائی میں آتنکی دنیا کی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ای ڈی آر کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر ٹھیک ٹھاک حالات کے راستے پر نہیں جاسکتا۔ سرجیکل اسٹرائک کے بعد آتنکی تنظیموں میں کھلبلی مچلی ہوئی ہے۔ ان کی اب کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں دہشت گردوں کوہندوستانی علاقے میں داخل کروا کر حملوں کو انجام دیاجائے۔ سرجیکل اسٹرائک کا بدلہ لیا جائے۔ آٹومیٹک ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں کی ایک ٹیم نے بدھوار کو نارتھ کشمیر کپواڑہ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کی۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نارتھ کشمیر میں یہ سرحد پار سے گھس پیٹھ کی چوتھی کوشش ہے۔ ظاہرہے ان حملوں میں تیزی آگئی ہے۔ آتنکی تنظیمیں اور پاک فوج کی یہ نئی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...