Translater

12 اپریل 2014

کیا چناؤ ووٹ فار چینج ہوگا: کم سے کم دہلی سے توایسا لگتا ہے!

دہلی میں لوک سبھا سیٹوں پر جمعرات کو ہوئی پولنگ کے لئے صبح سے ہی ووٹروں میں زبردست جوش نظر آیا۔عالم یہ تھا کہ بہت سے پولنگ مرکزوں پر صبح سے ہی ووٹر پہنچ گئے تھے جن میں سب سے پہلے ووٹ ڈالنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ پچھلے2009 کے لوک سبھا چناؤ میں پولنگ52 فیصدی ہوئی تھی اور کانگریس ساتوں سیٹوں پر کامیاب رہی تھی اور بھاجپا ہار گئی تھی لیکن 2013 کے اسمبلی چناؤ میں پولنگ65فیصدی ہونے پر کانگریس دوڑ سے باہر ہوکر 70 میں سے8 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ اس کے چلتے بڑھی پولنگ فیصد کو لیکر 2014 لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا بہت خوش ہے۔دہلی میں 64 فیصدی پولنگ ہوئی ہے۔ دہلی کے سٹہ بازار میں 6 سیٹوں پر بی جے پی امیدوار کے حمایتی مانے جارہے ہیں۔ سٹے کے ریٹ میں محض نئی دہلی سیٹ پر کانگریس کے اجے ماکن ، بی جے پی کی امیدوار میناکشی لیکھی سے آگے ہیں ۔ دراصل اجے ماکن نہ صرف ایک مضبوط امیدوار ہیں بلکہ انہوں نے علاقے میں کام بھی کیا ہے اور اپنے وٹروں سے جڑے رہے ہیں۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا بی جے پی نے نئی دہلی جیسی وقاری سیٹ جس پر اٹل جی لڑا کرتے تھے اور اس کے بعد اڈوانی جی لڑے اس وجہ سے یہ دیش کی اہم سیٹ مانی جاتی ہے ، اس پر میناکشی لیکھی کو کیوں امیدوار بنایا؟ یہاں سے سشما سوراج یا ارون جیٹلی جیسے بڑے لیڈر کو اتارنا چاہئے تھے۔ اب تو اس سیٹ پر میناکشی کو مودی لہر کا سہارا ہے۔ اگر وہ کامیاب ہوتی ہیں تو مودی لہر کی وجہ سے ہی ہوں گی۔ چاندنی چوک سیٹ پر مرکزی وزیر کپل سبل، ڈاکٹر ہرش وردھن،صحافی سے لیڈر بنے آشوتوش کے درمیان سخت مقابلہ رہا۔ بیشک کپل سبل نہ صرف ایک قابل امیدوار ہیں بلکہ انہوں نے اپنے حلقے میں کام بھی کیا ہے اور ووٹروں سے جڑے رہے ہیں لیکن ناراضگی کے فیکٹر کی کاٹ کرنا ان کے لئے مشکل لگ رہا ہے۔جس کانگریس ووٹ پر شاہی امام کے فتوی شعیب اقبال کی حمایت کے اعلان پر سبل صاحب امید لگائے بیٹھے تھے وہ شاید انہیں پولنگ کے دن نہیں دکھائی دی۔ چاندنی چوک میں اقلیتی ووٹروں نے لگتا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار آشوتوش کو ووٹ دیا ہے اس کی وجہصاف ہے انہیں لگا کہ کپل سبل اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ نریندر مودی اور بھاجپا کے بڑھتے قدموں کو روک سکیں اس لئے ایسے امیدوار یا پارٹی کو ووٹ دیں جو یہ کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ویسے ماننا پڑے گا اروند کیجریوال ایک بڑے شاطر سیاستداں اور پلانر ہیں یا جو بھی ان کے لئے حکمت عملی بناتا ہے وہ بہت ہی چالاک ہے۔ کیجریوال نے مودی کو نشانہ بنایا وہ وارانسی سے اس لئے چناؤ لڑنے گئے تاکہ دیش میں یہ پیغام جائے صرف وہ ایک اکیلے ایسے شخص ہیں جو مودی کو روک سکتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دہلی کے زیادہ تر اقلیتوں نے ان کی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو دہلی میں مقابلہ بھاجپا بنام آپ پارٹی ہوجائے گا اور کانگریس تیسرے نمبر پر چلی جائے گی۔ یہاں کیونکہ ہم چاندنی چوک پارلیمانی سیٹ کی بات کررہے ہیں مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ بھاجپا نے ڈاکٹر ہرش وردھن کو یہاں سے کیوں لڑوایا؟ اول تو اگر انہیں لوک سبھا کا چناؤ لڑوانا ہی تھا تو مشرقی دہلی سے لڑواتے جہاں سے وہ اسمبلی چناؤ جیتے تھے اور وہ ان کا اپنا حلقہ بھی ہے۔ ویسے تو دہلی اسمبلی چناؤ پھر سے ہونے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کو ان کے لئے رکھنا چاہئے تھا۔ اب اگر کسی بھی وجہ سے بی جے پی کی چال چاندنی چوک میں کامیاب نہیں ہوتی اور چناؤ نتیجہ برعکس آتا ہے تو ڈاکٹر ہرش وردھن کہاں کے رہیں گے؟ لوک سبھا کی91 ویں سیٹوں پر ہوئے تیسرے مرحلے کی پولنگ کے بعد حکمراں کانگریس کو جو اندرونی رپورٹ ملی ہے اس کے مطابق دہلی سے کانگریس پارٹی کا پتا صاف ہونے کا پورا امکان ہے جبکہ دہلی سے لگے ہریانہ میں اسے تین اور یوپی بہار میں ایک ایک سیٹ ملنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ دہلی کی سبھی ساتوں سیٹوں میں سے کانگریس شام سے پہلے تک صرف نئی دہلی اور چاندنی چوک سیٹ پر مقابلے میں رہی لیکن پولنگ پوری ہوتے ہوتے دونوں سیٹیں بھی کانگریس کے ہاتھ سے نکلتی دکھائی دے رہی ہیں۔ باقی بچی پانچ سیٹوں پر کانگریس مقابلے میں نہیں ہے۔ یہاں بھاجپا کا مقابلہ عام آدمی پارٹی سے ہورہا ہے۔ دہلی سے جڑے کانگریس کے ایک بڑے نیتا کے مطابق دہلی میں بھاجپا سبھی سیٹوں پر جیت جائے تو تعجب نہیں ہوگا کیونکہ لوگوں نے بھاجپا کے امیدوار کے نام پر نہیں بلکہ نریندر مودی کے نام پر بھاری پولنگ کی ہے۔ پارٹی کا یہ بھی اندازہ ہے عام آدمی پارٹی بھی ایک دو سیٹ نکال سکتی ہے۔ دہلی لوک سبھا چناؤ میں مسلم طبقہ اس بار پوری طرح چپ رہا۔ پرانی دہلی کے مسلم ووٹروں کا رجحان عام آدمی پارٹی پر اور دوسرا رجحان کانگریس پر تھا۔ کچھ دن پہلے جامع مسجد کے شاہی امام اور ممبر اسمبلی شعیب اقبال کے اعلان سے بھی لگتا ہے کہ کانگریس کے وہ کام نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا سب کانظریہ الگ ہوتا ہے دونوں نے اپنے فائدے کے لئے ہم کو کٹھ پتلی کی طرح نچانے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کانگریس نے آزادی کے بعد سے جو راج کیا اس میں لوگوں کی زندگی میں تو تبدیلی آئی مگر کرپشن اور مہنگائی اس بار بڑھی تھی۔ ہمارا کانگریس سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔پہاڑ والی گلی کی باشندہ ایک عورت حنا نے بتایا کہ اس نے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا ’آپ‘ پارٹی کے آشوتوش کو ووٹ دیا ہے کیونکہ وہ ایماندار ہے اور ان کو ایک بار موقعہ ملنا چاہئے۔ اسمبلی میں ان کی پارٹی کا کام ملا جلا رہا۔ اگر کیجریوال اقتدار چھوڑ کر نہیں جاتے تو لوک سبھا چناؤ میں ان کی پارٹی کو 3 سیٹیں ملنی پکی تھیں۔ ان کواس کا ہرجانہ لوک سبھا چناؤ میں ضرور بھگتنا پڑے گا۔ ایک اور خاتون زرینہ خاں نے بتایا کہ انہوں نے نوٹا بٹن دبانا ہے وہ مودی کو ووٹ دینا چاہتی تھیں مگر اس بار بھاجپا نے خود نہیں مودی کو سامنے رکھ کر چناؤ لڑا ہے جس طرح سے ان کی تقریریں چناؤ منشور میں مسلم طبقے کو لیکر وعدے کئے ہیں دیکھنا ہوگا کہ کب تک وہ پورا کرتے ہیں۔ ووٹ فیصد سے حوصلہ پائی بھاجپا کا کہنا ہے نوجوان طبقے نے بڑھ چڑھ کر اس پولنگ میں حصہ لیا پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’’ووٹ فار چینج‘‘ کو اپنی رائے دی ہے۔ صاف ہے کہ چناؤ میں سب سے بڑا اشو نریندر مودی ہیں اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے چناؤ مودی بنام باقی امیدوار ہوا ہے۔
(انل نریندر) 

11 اپریل 2014

جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ میں پرامن چناؤ کرانا سب سے بڑی چنوتی ہے!

لوک سبھا چناؤ کے پہلے مرحلے کے تحت جھارکھنڈ کے چار لوک سبھا حلقوں میں 10 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گییہ علاقے ہیں کوڈرما، چترا، پلامو اور لوہر دگا۔ ادھر چھتیس گڑھ کی بستر سیٹ پر بھی 10 اپریل کو ووٹ پڑیں گے۔ یہ سبھی علاقے نکسل متاثر ہیں۔جنگل، پہاڑوں سے گھرے ان علاقوں میں پرامن چناؤ کرانا چناؤ کمیشن اور انتظامیہ کے لئے سب سے بڑی چنوتی ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں جھارکھنڈ کی سیٹوں کی۔ابھی لوہردگا پر بھاجپا ،پلامو پر جھارکھنڈ مکتی مورچہ، چترا پر آزاد اور کوڈرما پر جھارکھنڈ وکاس مورچہ کا قبضہ ہے۔ چاروں سیٹوں پر اس قدر سمی کرن بدلے ہوئے ہیں پلامومیں اس بار جھارکھنڈ مکتی مورچہ نہیں لڑ رہا ہے۔پچھلی بار جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ٹکٹ پر چن کر سانسد بنے کامیشور بیٹھا اس بار ترنمول کانگریس کے امیدوار ہیں۔ جارکھنڈ مکتی مورچہ نے یہاں یوپی اے کے اپنے سہیوگی راشٹریہ جنتادل کے امیدوار کو سمرتھن دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوڈرما علاقے سے اس بار بھاجپا کے پردیش ادھیکش روندر رائے لڑ رہے ہیں۔ جارکھنڈ وکاس مورچہ کے بابو لال مرانڈی نے یہاں سے خود لڑنے کے بجائے پرنب ورما کو اتارا ہے۔کانگریس کے روایتی امیدوار تلک دھاری سنگھ اور بھاگپا مالے کے راجکمار یادو بھی میدان میں ہیں۔ چترا جھارکھنڈ کا سب سے زیادہ نکسل متاثر علاقہ ہے۔یہاں سے پچھلی بار اندر سنگھ نامدھاری آزاد لڑ کر جیتے تھے۔ اس بار نامدھاری میدان سے باہر ہیں۔ بھاجپا نے سنیل سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ کانگریس نے اپنے پرانے امیدوار اور راجیہ سبھا ممبر دھیرج ساہو کو اتارا ہے۔ لوہر دگا سے پچھلی بار سدرشن بھگت نے کانگریس کے رام شیکھراوراؤں اور آزادچمرالنڈا کو ہرایا تھا۔ اس بار بھی یہ ہی تینوں امیدوار ہیں۔ ایک دہائی سے بھی زیادہ وقت سے سرکار اور ماؤ وادیوں کے درمیان جنگ کا میدان بن چکے چھتیس گڑھ کے بستر میں10 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پختہ اطلاعات ہیں کے بستر میں ووٹنگ کے موقعے پر نکسلی بڑی واردات کی تیاری میں ہیں۔ ایتوار کو تو انہوں نے ایک پولنگ پارٹی کو نشانہ بنایا اور راجنند گاؤں میں آئی ای ڈی دھماکہ کیا اس میں دو جوان گھائل ہوگئے۔ آدیواسی ہمیشہ کی طرح خاموش ہیں۔ بستر پارلیمانی علاقے کی چناوی جنگ میں عام آدمی پارٹی امیدوار سونی سوری نے مقابلہ رومانچک بنادیا ہے۔
راشٹریہ میڈیا میں بھلے ہی بستر چناؤ کا بہت زیادہ ذکر نہیں ہورہاہو لیکن سونی کے سمرتھن میں اترے دیش ودیش کے لگ بھگ 200 این جی او نے اسے انٹر نیشنل سمیت سوشل میڈیا میں چرچا کا موضوع بنا ہی دیا ہے۔ پولیس کے مظالم سے متاثر رہی یہ آدیواسی مہلا سونی یہاں موجودہ ممبر پارلیمنٹ و بھاجپا کے دنیش کشپ اور کانگریس کے کپل ورما کے خلاف میدان میں تال ٹھونک رہے ہیں۔ حالانکہ سپا۔ بسپا سمیت کل 8 امیدوار میدان میں ہیں۔کشپ کو اپنے پتا و یہاں سے چار بار سانسد ہے بلی رام کشپ کی چھوی ،مودی کی لہر اور پردیش سرکار میں سگے بھائی کے منتری ہونے کا فائدہ مل رہا ہے جبکہ نکسل حملے میں مارے گئے مہندرکے بیٹے دیپک کرما اب بھی سہانوبھوتی ووٹ پانے کی امید سے کانگریسی امیدوار ہیں۔ سوامی اگنی ویش سے لیکر پرشانت بھوشن تک سونی کے حق میں پرچار کرچکے ہیں۔ حالانکہ نکسلیوں نے یہاں چناؤ کا بائیکاٹ کر اس میں حصہ لینے والوں کو دھمکی دے رکھی ہے۔ اس کے باوجود بستر کے 12.97 لاکھ ووٹر جمعرات کو اپنے ووٹنگ کے حق کا استعمال کریں گے۔ اہم مقابلہ سونی سوری ، دنیش کشپ اور دیپک کرما کے درمیان نظر آتا ہے۔
(انل نریندر)

مظفر نگر کے دنگوں کی ٹیس کیا سیاسی گل کھلاتی ہے؟

گڑ اور شکر کی مٹھاس پروسنے والی مظفر نگر پارلیمانی سیٹ کی ستمبر2013ء میں ایکاایک بین الاقوامی فلک پر دنگا متاثر علاقے کی شکل میں پہچان بن گئی ہے۔کسان سیاست کا یہ اہم علاقہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کے لئے مانا جاتا تھا پر ستمبر میں ایسے بھیانک فرقہ وارانہ دنگے ہوئے کے ان کی دہشت اور تناؤ کی وجہ سے 700 سے زیادہ خاندانوں کے لئے گاؤں کی مٹی بیگانی ہوگئی۔ اس پارلیمانی علاقے کے اہم شائے راہوں کی بری حالت دکھاتی ہے یہاں بربادی کی داستاں۔ اس بار سارے دیش کی نظر اس مظفر نگر پارلیمانی سیٹ پر ٹکی ہوئی ہے۔ چناؤ کے اس عظیم جنگ کے اکھاڑے میں بھاجپا، کانگریس، سپا اور بسپا کے امیدوار ووٹروں کا رخ اپنے حق میں کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ وہ ووٹروں کو علاقے کے پچھڑے پن کو دور کرنے کے سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ بھاجپا نے سنجیو بالیان کو امیدوار بنایا ہے ، بسپا نے2009ء میں ہاتھی پر سوار ہوکر سنسد میں پہنچے قادر رانا کو پھر موقعہ دیا ہے۔ کانگریس نے یہاں راشٹریہ لوکدل سے گٹھ بندھن کے بوتے پنکج اگروال پر داؤ لگایا ہے جبکہ سپا نے وریندر گوجر کو چناؤ اکھاڑے میں سائیکل کی سواری کا موقعہ دیا ہے۔ہربار امیدوار کے چناؤ اور ووٹوں کے پولارائزیشن میں جاتی سمی کرن حاوی ہونے کا احساس ہوا۔اس بار حالات بدلے ہونے کا احساس ہورہا ہے۔ ووٹر ستمبر میں ہوئے دنگوں کی ٹیس کا اظہار کرنے سے نہیں ہچک رہے ہیں۔ امیدوار اور ان کے سمرتھک بھی اسی ٹیس سے ووٹوں کا پولارائزیشن کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چوک رہے ہیں۔ کانگریس نے یہاں سے مظفر نگر سے نگر پالیکا کے چیئرمین نوجوان نیتا پنکج اگروال کو بیشک اتارا تو ہے پر پنکج کے چیئرمین بننے کے بعد لوک سبھا چناؤ لڑنے کا ان کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ پنکج نے نگر پالیکا کے علاوہ دیگر کوئی چناؤ نہیں لڑا ہے۔
کانگریس نے یہاں یووا کارڈ کھیلتے ہوئے ان پر بھروسہ جتایا ہے اور اس کے لئے انہوں نے پہلے سے اعلان شدہ امیدوار سورج سنگھ ورما کا ٹکٹ کاٹ کر انہیں دیا ہے۔ بھاجپا نے بھی یووا نیتا ڈاکٹر سنجیو والیان کو ٹکٹ دے کر یہاں پولارائزیشن کو آگے کر مظفر نگر کے دنگوں کے بعد ہوئے حالاتوں کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ پچھلے کئی چناؤ میں بھاجپا یہاں سے ہارتی آئی ہے۔ بسپا نے یہاں موجودہ سانسد قادر رانا کو دوبارہ میدان میں اتارا ہے۔ پچھلی بار وہ بھاجپا آر ایل ڈی گٹھ بندھن کی امیدوار انورادھا چودھری کو چناؤ ہرا کر پہلی بار لوک سبھا میں پہنچے تھے۔ اس چناؤ میں رانا پریوار کا وقار داؤ پر لگا ہے۔ قادر رانا کے بھائی نور سلیم رانا بھرکاول سے بسپا ودھایک ہیں۔ وہاں سے ان کے بھتیجے شاہنواز رانا بجنور سے سپا کے لوک سبھا امیدوار ہیں۔اس پارلیمانی علاقے میں 18 لاکھ سے زیادہ ووٹر ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ لگ بھگ 32 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔دوسرے پائیدان پر مانے جانے والے جاٹ ووٹروں کا رجحان چناؤ سمی کرن میں الٹ پھیر کرنے کی حیثیت میں نہیں ہے۔ بسپا کا سمی کرن دلت ۔ مسلم پر ٹکا ہے وہیں سپا کے علمبردار مسلم ووٹروں کو سائیکل کی سواری کراکر چناؤ جیتنا چاہتے ہیں۔ بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کو جاٹ ،ویش، براہمن، تیاگی، ٹھاکر، سینی سمیت دیگر برادریوں کے لامبند ہونے کی آس لگی ہے۔ وہیں مسلم ووٹوں کے بٹوارے سے انہیں چناؤ میں سیاسی سنجیونی ملنے کی امید ہے مگر علاقے کے دنگے کیا سیاسی گل کھلاتے ہیں اس پر سبھی کی نگاہ ٹک رہی ہے۔
(انل نریندر)

10 اپریل 2014

کانگریس کو بھروسہ ہے سونیا اس مرتبہ بھی پارٹی کو بچا لیں گی!

پچھلے ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے کانگریس صدر سونیاگاندھی نے اچھا وقت بھی دیکھا ہے اور خراب بھی لیکن خراب وقت میں ورکروں کا حوصلہ نہ ٹوٹنے دینے اور برے دور سے پارٹی کو نکالنے میں ان کی مہارت پر کانگریس میں کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہے۔لیکن اس مرتبہ سونیا گاندھی کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ کانگریس میں جس طرح کی مایوسی کا ماحول اس وقت ہے ایسا پہلے شاید کبھی رہا ہو۔ چناوی سروے 16 ویں لوک سبھا میں کانگریس کو اس کی پارلیمانی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم سیٹیں ملنے کی قیاس آرائی کررہے ہیں۔ راہل گاندھی کو پارٹی کا نائب پردھان بنانے کے بعد سے سونیا گاندھی نے خود کو زیادہ وقت تک پردے کے پیچھے سے اپنا رول نبھانے تک محدود رکھا ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ فیصلے کرنے کی آزادی بھی دے دی ہے لیکن ساتھ ہی ان پر آنچ نہ آئے اس کے لئے وہ کافی چوکس ہیں۔ ممبئی کی آدرش سوسائٹی میں سابق وزیر اعلی اشوک چوہان کو بچانے کی کوششوں کی تنقید کے باوجود انہیں لوک سبھا کا ٹکٹ دئے جانے کے لئے جب راہل سے سوال پوچھے جانے لگے تو وہ ذمہ داری لینے کے لئے سامنے آئیں۔ لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کے کمزور امکانات کو دیکھتے ہوئے سونیا گاندھی نے اب اپنی مصروفیت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن کیا ’اٹ از ٹو لیٹ‘؟ یعنی کیا بہت دیر ہو چکی ہے؟ لوک سبھا چناؤ کے نتائج سے پہلے ہی کانگریس کو اپنی شکست کی آہٹ ملنے لگی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور کانگریس کے چناوی انتظام دیکھ رہے جے رام رمیش نے ایک انٹرویو میں کہا چناوی ماحول کانگریس کے خلاف ہے ان کا کہنا ہے کانگریس حقیقی معنی میں لوک سبھا چناؤ ہار گئی ہے کیونکہ سینئر لیڈر شپ لوگوں سے بات چیت نہیں کرپائی۔ جے رام اپنی بیباکی کیلئے جانے جاتے ہیں۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ 10 سال اقتدار میں رہنے کے سبب اقتدار مخالف لہر کا مقابلہ پارٹی کررہی ہے وہ اس کے لئے سینئر لیڈر شپ پر نشانہ لگا سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جنتا سے رابطہ کٹ جانے کے سبب میڈیا زیادہ سرگرم عدلیہ اور کیگ جیسے سرکاری اداروں کے ذریعے اٹھائے گئے سوالوں کا سینئر لیڈر شپ جواب دینے میں نا کام رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی کانگریسی لیڈر آن دی ریکارڈ یہ بات تسلیم کرچکے ہیں کہ اس بار کانگریس کو کڑی چنوتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کانگریس کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کے کانگریس لیڈر ٹکٹ پا کر بھی پارٹی چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔پہلمنڈ سے بھاگیرت پرساد اور اب گوتم بودھ نگر سے رمیش چند تومر کا بھاگنا یہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ کانگریس کی حالت خستہ ہے۔ کانگریس پہلے کو یوپی اے کے کارناموں کو زور شور سے اٹھا رہی تھی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ پارٹی نے سیکولرزم کے اشو پر پولارائزیشن کو اپنی امیدوں کی بنیاد بنا لیا ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی کے لیڈر اب اپنی تقریر میں بھاجپا پی ایم امیدوار نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ ادھر وزیر دفاع اے ۔کے انٹونی نے یہ بے لاگ بیان دیا کہ کانگریس سیکولر ازم کے سوال پر آگے آنے والی سبھی پارٹیوں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہے۔ فی الحال بھلے ہی وہ کانگریس کے خلاف چناؤ لڑ رہی ہوں۔ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کے تجزیئے میں یہ تجربہ اہمیت کا حامل بنا رہے گا کے بھارت میں زیادہ تر موقعوں پر سیاسی لہر ملک گیر نہیں ہوتی لیکن سیاسی مبصرین کی سمجھ یہ ہے کہ قومی مینڈینٹ کا خاکہ ریاست میں ہونے والے مقابلوں سے ہوتا ہے جبکہ یہ مقابلے وہاں کے مقامی ،سماجی، سیاسی اور ذات پات کے تجزیوں سے طے ہوتے ہیں۔ایسے میں ممکن ہے کہ مرکز کی اگلی سرکار طے کرنے میں سب سے اہم کردار علاقائی پارٹیوں کا سامنے آئے۔ اگر کانگریس کا ابتدائی مقصد نریندر مودی اور بھاجپا کو روکنا ہے تو اس لحاظ سے ایسے حالات اس کے موافق بنے گے تب وہ سیکولر مورچے کو ساتھ لے کر یا اسے حمایت دے کر اپنا سیاسی مقصدحاصل کر سکے گی۔ عام قیاس آرائیوں کے باوجود شاید اسی امکان اور سونیا گاندھی کی پائیدار شخصیت نے کانگریس کی امیدوں کو زندہ رکھا ہے۔ پارٹی نے ممکنہ طور پر اپنا برہماستر چلا دیا ہے۔ سونیا گاندھی نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی بکھری ہوئی کانگریس پارٹی میں جس طرح سے جان پھونکی تھی آج ویسی ہی سیاسی حالت ہے۔ دیکھیں سونیا گاندھی کیا 2014ء میں ایسا کرپاتی ہیں یا نہیں؟
(انل نریندر)

میرا کمار، سشما سوراج، کملناتھ، جوتر آدتیہ سندھیا کی کامیابی یقینی؟

دلت سیاست کے جانے مانے ستون رہے سابق نائب وزیر اعظم بابو جگجیون رام کے پارلیمانی حلقے ساسا رام سے ان کی صاحبزادے اور لوک سبھا اسپیکر محترمہ میرا کمار ایک بار پھر میدان میں ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے میرا کمار کا مقابلہ جنتادل (یو) سے پارٹی بدل کر آئے چھیدی پاسوان سے ہے۔ اتنا ہی نہیں نریندر مودی سے بھی۔ بھاجپا کا ووٹ بینک مانے جانے والے سورن ووٹر اگر پاسوان کو ووٹ دے دیتے ہیں تو صرف نریندر مودی کو دیش کی کمان سونپنے کے لئے دیں گے۔ جنتادل (یو) نے سابق آئی ایس افسر کے ۔ پی رمیا کو میدان میں اتارا ہے۔ بہار میں کانگریس 10 سیٹوں پر چناؤ لڑ رہی ہے اور ساسا رام ان کی سب سے مضبوط سیٹمانی جارہی ہے۔ میرا کمار کے کھاتے میں ان کے والد سورگیہ جگجیون رام کی وراثت شوہر منجل کمار کی کشواہا برادری ہے۔ قومی سیاست میں بڑا قد مقامی سیاست اور داؤ پیچ سے دوری نہر، سڑک اور ساسا رام اسٹیشن پر ٹرینیں رکوانے جیسے ترقی کے کام اور ریاست آر جے ڈی کے اتحاد سے مسلم اور یادو ووٹروں کی یکمشت حمایتی جیسی باتیں میرا کمار کا پلڑا بھاری کررہی ہیں۔ بھاجپا حمایتی اپنے حق میں دو باتیں گناتے ہیں مودی کی لہر اور لہر ہی چھیدی پاسوان کی نیا پار لگائے گی۔بسپا امیدوار بالیشور بھارتی اور جنتادل (یو) امیدوار کے۔ پی رمیا کے میدان میں اترنے سے دلت ووٹ میں تقسیم ہورہی ہے جبکہ بھاجپا کے حق میں سبھی متحد ہیں اس لئے مقابلہ کانٹے کا ہے۔ مدھیہ پردیش میں ہونے والے چناؤ کے لئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈرسشما سوراج، مرکزی وزیر کملناتھ اور جوترادتیہ سندھیا سمیت کئی سرکردہ لیڈر چناوی میدان میں ہیں۔ ہریانہ کی باشندہ سشما سوراج ودیشا پارلیمانی سیٹ سے مسلسل دوسری بار اپنی قسمت آزمارہی ہیں۔ 2009ء میں انہوں نے یہاں سے پہلی بار چناؤ جیتا تھا۔ انہوں نے اس سیٹ کو پہلی بار بڑی آسانی سے جیت لیا تھا کیونکہ تب کانگریسی امیدوار راجکمار پٹیل کی نامزدگی تکنیکی وجہ سے مسترد ہوگئی تھی۔ ودیشا سے اس بار سشما کے لئے پارلیمنٹ میں پہنچے کی راہ مشکل بنانے کے لئے کانگریس کے سکریٹری جنرل اور سابق وزیر اعلی دگوجے سنگھ کے رشتے دارلکشمن سنگھ کو ان کے خلاف میدان میں اتارا ہے ، وہ پہلی بار چناؤ لڑ رہے ہیں اور بھاجپا میں بھی رہ چکے ہیں۔ مرکزی وزیر شہری و کانگریس لیڈر کملناتھ اپنی روایتی سیٹ چھندواڑہ سے ہی چناؤ لڑرہے ہیں۔ یہاں سے1997 ء کے ضمنی چناؤ کو چھوڑ کر کانگریس نے 1957 سے لگاتار اس سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے وہ اس سیٹ سے آٹھ بارچناؤ جیت چکے ہیں اور 9ویں بار پھر امیدوار ہیں۔ بھاجپا نے ان کے سامنے چودھری چرن بھان سنگھ کو امیدوار بنایا ہے۔ کملناتھ کی جیت تقریباً طے سے ہے۔ شری مادھوراؤ سندھیا کے بیٹے اور مرکزی وزیرمملکت جوتر ادتیہ سندھیا اس مرتبہ گنا پارلیمانی سیٹ سے اپنی قسمت آزمارہے ہیں یہ پورا علاقہ گوالیار کی سابق سندھیا ریاست کے ماتحت رہا اور یہ ہی وجہ ہے چمبل اور گوالیار ، انچل کی کسی سیٹ سے سندھیا گھرانے کا کوئی امیدوار چناؤ میں نہیں ہارا۔ جوتر ادتیہ سندھیا گنا سے پہلی بار 2002ء کے ضمنی چناؤ میں کامیاب ہوئے تھے۔ اب بھی ان کی یہاں سے کامیابی تقریباً یقینی لگتی ہے۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2014

بھاجپا گھوشنا پتر میں دونوں نگیٹیواور پوزیٹیوباتیں ہیں!

کافی جدوجہد کے بعد پہلے مرحلے کا چناؤ شروع ہونے کے قریب تین گھنٹے کی دیری کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے آخر کار اپنا گھوشنا پتر جاری کردیا۔گھوشنا پتروں کو اب شاید ہی کوئی ووٹر سنجیدگی سے لیتا ہو۔ اہم سوال یہ ہے کہ گھوشنا پتر میں جو وعدے کئے جاتے ہیں ان میں سے پورے کتنے ہوتے ہیں؟ ’وعدے ہیں وعدوں کا کیا‘ ایک ہندی فلم کے اس ہٹ گیت سے چناوی گھوشنا پتروں کو لیکر عام آدمی کی مایوسی کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے چناوی وعدوں پر عام آدمی میں ایسی غیر یقینی گھر کرتی جارہی ہے جو ان کے اعتماد تک کو سنکٹ میں ڈال رہا ہے۔ بہرحال بھارتیہ جنتا پارٹی کے گھوشنا پتر میں دونوں باتیں ہیں نگیٹیو بھی اور پوزیٹیو بھی۔ پہلے بات کرتے ہیں نگیٹیو بھی۔ گھوشنا پتر میں کئی ایسے مدعے ہیں جو کانگریس کے مدعوں سے ملتے جلتے ہیں صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہے۔تبھی تو کانگریسی نیتا اسے کٹ پیسٹ جاب کہہ رہے ہیں۔مینو فیسٹو میں نہ تو کوئی ٹائم ٹیبل ہی دیا گیا ہے اور نہ ہی ٹارگیٹ۔ مثال کے طور پر یہ کہیں نہیں کہا گیا کے ہم بھرشٹاچار ، مہنگائی وغیرہ جیسے اہم مدعوں کو اتنے وقت میں ختم کردیں گے۔ اس گھوشنا پتر میں نریندر مودی بنام اڈوانی دونوں کیمپ کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ بیشک رام مندر ، دفعہ370 اور کامن سول کوڈ کو گھوشنا پتر میں شامل تو کیا گیا لیکن آخری وقت پرآخری صفحہ پر۔ پھر رام مندر کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آئین سے بہتر ہوتا اگر یہ بھی کہتے کہ عدالتوں کے فیصلے سے حل نکلے گا۔ آئین تو کہیں نہیں کہتا کہ مندربناؤ مسجد بناؤ۔ اس گھوشنا پتر میں کئی اچھی باتیں بھی ہیں۔ میری رائے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ نریندر مودی اور بھاجپا نے اقلیتوں کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا ہے۔ مودی نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ میں بدلے کی بھاونا سے کام نہیں کروں گا۔اس کا اقلیتوں میں اچھا اشارہ جائے گا۔مدرسوں کو جدید بنانے کے لئے کوئی کثر نہیں چھوڑی جائے گی جہاں بھی لوگ چاہیں گے ۔ یہ ہے شاید مینی فیسٹو میں مدرسوں کو ماڈرن بنانے کا اقلیتوں کو ہی فائدہ ہے اگر یہاں اسٹنڈرڈ کی ڈگری ملتی ہے تو اس سے انہیں تعلیمی، سرکاری کالجوں میں، سرکاری نوکریاں ملنے میں فائدہ ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان کی مالی ترقی ہوگی۔ یہ بات اقلیتوں کو سمجھنی چاہئے۔ گھوشنا پتر میں کہا گیا ہے کہ پارٹی اقلیتوں کو برابر کے موقعے دے گی۔ انہیں تعلیم ،صنعت اور دیگر میدانوں میں آگے لانے کے لئے برابر موقعے پیدا کئے جائیں گے۔یہ مینی فیسٹو میری نظر میں بہتر ہے۔مودی نے جو حال میں بھاشن دئے ہیں ان کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ ٹیکس ریفارم پر ہلہ ہورہا تھا کہ بھاجپا ایسا کرے گی ویسا کرے گی، صرف ٹیکس کو آسانبنانے کی بات کہی گئی ہے۔ایف ڈی آئی میں ریٹیل میں منظوری نہیں دے گی لیکن جہاں روزگار کے مواقع بڑھنے کے امکانات ہوں گے ان معاملوں میں ایف ڈی آئی لائی جائے گی۔ روزگار اور رہائش کے بہتر موقعوں کے لئے پارٹی کی سرکار دیش میں 100 نئے شہر بسانے کی بات بھی کہی گئی ہے، جو اچھی بات ہے۔ اس گھوشنا پتر میں پارٹی کی روایتی پرانی سوچ والے ہندوتو کے تتو اور وکاس ایجنڈے والی نئی سوچ کا ذائقے دار مربع بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔جموں و کشمیر کا خصوصی درجہختم کرنے ،کامن سول کوڈ نافذ کرنے، مدرسوں کو جدید بنانے اور رام مندر ایسے مدعے ہیں جن پر اب پورے چناؤ بھر ہنگامہ ہوتا رہے گا۔ پارٹی جانتی ہے کہ اس ہنگامے سے چناوی نفع یا نقصان کے گنت پر اثر پڑے یا نہیں لیکن اس کا نام تو ہر وقت گونجتا ہی رہے گا۔بھرشٹاچارکا مداوا سوساشن کو بتاتے ہوئے وعدہ کیا گیا ہے کہ بھاجپا کی سرکار شفاف اور اثر دار ہوگی جس میں پرشاسن،قانون و انتظام اور پولیس جیسے ورگوں کی بہترین شرکت رکھی جائے گی۔ گاؤں کی ترقی، 100 نئے شہروں کی تعمیر ، ہر گاؤں میں انٹرنیٹ، دیش کے چاروں کونوں کو بلٹ ٹرین سے جوڑنے جیسے وعدوں کے ساتھ انکم ٹیکس و دوسرے ٹیکسوں میں بھی سدھار کی باتیں کہہ کر ہر ورگ کومتاثر کرنے کی کوشش گھوشنا پتر میں دکھائی دیتی ہے لیکن یہ سب باتیں تبھی ضروری ہوں گی جب بھاجپا پہلے لوک سبھا میں اپنا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ 272+ لائے اور نریندر مودی دیش کے اگلے پردھان منتری بنیں۔
(انل نریندر)

آسام۔ کیرل و کرناٹک کا چناوی تجزیہ

آج کے اس مضمون میں بات کروں گا کچھ ریاستوں کی۔ آسام میں 16 ویں لوک سبھا چناؤ کے لئے ووٹنگ کی شروعات 7 اپریل کو ہوگئی ہے۔اتفاق ہے کہ ان چناؤ میں پہلا ووٹ وہیں پڑے گا جہاں دیش میں سب سے پہلے سورج نکلتا ہے یعنی نارتھ ایسٹ میں۔ جہاں آسام کی پانچ اور تریپورہ کی ایک سیٹ پر ووٹ پڑیں گے کل ملاکرپورے نارتھ ایسٹ میں لوک سبھا کی25 سیٹیں ہیں جس میں اکیلے آسام میں 14 سیٹیں آتی ہیں۔2009 ء میں کانگریس کو 7، بھاجپا۔ آسام گن پریشد گٹھ بندھن کو 5، بوڈو پیپلز فرنٹ کو1 اور آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو 1 سیٹ ملی تھی۔ سیون سسٹر کے نام سے جانے جانیوالی 7 ریاستوں سکم،اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور، تریپورہ، میزورم، میگھالیہ اور آسام کو جوڑ کر بننے والے اس علاقے کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں سے لے دے کر 2000 کے لگ بھگ بولیاں اور زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بنگلہ دیشیوں کی گھس پیٹھ کا سوال یہاں اس بار بھی اہم مدعا بنا ہوا ہے۔ بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی نے بھی ناجائز طور سے گھسے بنگلہ دیشیوں کے مدعے کو زور شور سے اٹھایا ہے۔ آسام میں کانگریس کی سرکار ہے اور ترن گگوئی مکھیہ منتری ہیں۔ کانگریس۔ بھاجپا اور مقامی پارٹیوں میں بڑا مقابلہ ہے۔ پچھلے سال آسام میں راج نیتک استھرتاکے سال بھی رہے ہیں جو کہ 2000 سے ہی ترن گگوئی کی کانگریس سرکار کا یہاں شاسن ہے۔ موجودہ چناؤ میں جہاں بھاجپا نریندر مودی کی مقبولیت کو بھنانے کی کوشش کررہی ہے وہیں کانگریس پچھلے دنوں سے اپنے کام اور مکھیہ منتری ترن گگوئی کی سرکار کے پردرشن پر داؤ کھیل رہے ہیں۔ آسام گن پریشد اس بار بھاجپا سے الگ چناؤ لڑ رہی ہے اور مقابلے میں پورا زور لگائے ہوئے ہے وہیں ان پرانے کھلاڑیوں کے مقابلے نئی پارٹیاں آئی یوڈی ایف اور ڈی پی ایف بھی میدان میں ہیں۔دیش کے اتر کے بھاگ سے آسام سے چلتے ہیں دکشنی بھاگ کیرل ۔ کیرل میں دو اہم مورچے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ اور لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کے درمیان مقابلہ برابر کا نظر آرہا ہے۔اقلیتوں کے نام پر کئی چیتاونیوں کے باوجود حالت یو ڈی ایف کے لئے اچھی نظر آسکتی ہے۔ کیرل کے مسلمان نئی دہلی میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے امکان سے ہوشیار نظر آرہے ہیں۔ پرچار کے دوران جو مدعے سامنے آئے ہیں ان مدعوں سے ایل ڈی ایف کو کھویا جن آدھار پانے میں مدد ملی ہے اور وہ اپنے مقابلے کے مورچوں کو بڑی چنوتی دیتی نظر آرہی ہے۔قدرتی ہے کہ بھاجپا اور دوسرے چھوٹے دل اس چناؤ میں بھی ان دونوں مورچوں سے بہت پیچھے ہیں۔ کنڑ علاقے کرناٹک میں لوک سبھا کی 28 سیٹوں کے لئے اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی برسراقتدار کانگریس ،جنتادل سیکولر میں تکونا دنگل ہے۔ راجیہ میں کہیں کہیں جنتادل (یو) کمیونسٹ مورچہ میدان میں ہے۔ پردیش کے 4.37 کروڑ ووٹروں میں ہندو 83.90فیصد ہیں، مسلم 12.20 فیصد،عیسائی 1.90فیصد، بودھ0.70 اور جین 0.8فیصدی ہیں۔ کرناٹک کی ذات پات اور مذہب کے تانے بانے میں لنگیات 12فیصد ،ووکلنگا11فیصد، پچھڑی منجھولی کسان جاتیاں39 فیصد، دلت16.2 ،ونواسی6.3 فیصد ہیں۔حالانکہ کرناٹک کی کل آبادی ووٹ بینک کے 47فیصد کا دعوی کیا گیا ہے۔15 ویں لوک سبھا یعنی2009ء کے چناؤ میں بھاجپا کو19، کانگریس کو6 اور جنتادل سیکولر کو3 سیٹیں ملیں تھیں۔2013ء چناؤ میں بھاجپا بنیادی طور پر مکھیہ منتری بدلنے اور وی ایس یدی یرپا کے بغاوت کی وجہ سے حال میں بھاجپا پی ایم امیدوار نریندر مودی کی رہنمائی میں دوبارہ پارٹی میں لوٹے ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس، بھاجپا و جنتادل میں اہم مقابلہ ہے۔ 
(انل نریندر)

08 اپریل 2014

فرقہ پرستی بنام سیکولرزم کی بحث میں غائب ہوئے اصل اہم اشو!

جامع مسجد کے شاہی امام کا فتویٰ ویب پورٹل ،کوبرا پوسٹ کا اسٹنگ آپریشن، عمران مسعود کا متنازعہ بیان اور امت شاہ کی دھمکی سبھی پہلے مرحلے کی پولنگ سے ٹھیک پہلے پولارائزیشن کی سیاست کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان سب کی شروعات کانگریس امیدوار عمران مسعود نے کی جب انہوں نے سہارنپور حلقے میں ایک ریلی میں کہہ دیا کہ یہ گجرات نہیں یہ سہارنپور ہے جہاں44 فیصدی مسلمان ہیں اور یہاں اگر مودی آئے تو ان کی بوٹی بوٹی کاٹ دی جائے گی۔ کانگریس سمیت سبھی سیاسی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی اور مسعود کو جیل تک جانا پڑا۔ اس کا جواب سنیچر کو امت شاہ اور راجستھان کی وزیر اعلی وسندرا راجے سندھیا نے دیا۔ امت شاہ نے مظفر نگر کے قصبے شاملی میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا جس طرح سے مظفر نگر فسادات میں اکھلیش سرکار نے ایک طرفہ کارروائی کرکے ہندوؤں کی بے عزتی کی ہے اس کا بدلہ لینا چاہئے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کے مرکز میں مودی کی سرکار آئی تو ایک دن میں ہی اکھلیش سرکار گر جائے گی۔ ادھر وسندرا نے ایک ریلی میں کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ مودی کو کاٹ دیں گے چناؤ کے بعد دیکھیں گے کون کسے کاٹے گا۔ اب بات کرتے ہیں کوبرا پوسٹ کے اسٹنگ آپریشن کی۔ لوک سبھا چناؤ کے لئے پولنگ شروع ہونے سے چند دن پہلے ایودھیا میں متنازعہ بابری ڈھانچہ گرانے کے 22 سال پرانے معاملے کو لیکر آئے اس اسٹنگ آپریشن پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ گڑے مردے اکھاڑنے کے طرز پر کوبرا پوسٹ نے اسٹنگ آپریشن کے ذریعے دعوی کیا ہے کہ 6 دسمبر1992ء کا جو واقعہ ایودھیا میں ہوا اور وہاں کارسیوکوں کے بے قابو ہونے یا بھیڑ کو اکسانے کا نتیجہ ہی نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے آر ایس ایس اور بھاجپا کی منظم سازش تھی اور اس میں بھاجپا کے سینئر لیڈروں کے ساتھ اس وقت کے کانگریسی وزیر اعظم نرسمہا راؤ تک کا مشتبہ رول تھا۔ ایسے وقت میں دیش کے سامنے ترقی اور اچھا انتظامیہ اور کرپشن سے نمٹنے کی چنوتی ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے پولارائزیشن کرنا اور سیاست کرنا ضرور مقصد دکھائی پڑتا ہے۔ اس اسٹنگ آپریشن کو تو سی بی آئی نے بھی خارج کردیا ہے۔ سی بی آئی نے صاف کردیا کہ اس اسٹنگ کی ثبوت کے طور پر کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سی بی آئی ایک سینئر افسر نے کہا کہ پورے معاملے کی جانچ کے بعد سبھی 20 ملزمان کے خلاف جانچ ایجنسی دو دہائی پہلے ہی چارج شیٹ داخل کرچکی ہے۔ عدالت میں مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ ایسے میں اس اسٹنگ کو نئے ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ ہی نہیں سی بی آئی نے کافی گہرائی میں جاکر ملزمان کے خلاف ثبوت اکھٹے کئے تھے۔ اسٹنگ کے پیچھے سیاسی منشا ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی بی آئی خود کو سیاسی تنازعے میں نہیں الجھانا چاہتی۔ اس کے پیچھے سیاسی پولارائزیشن کی کوششیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ جامع مسجد کے شاہی امام کے کھلے طور پر کانگریس اور ترنمول کانگریس اور راشٹریہ جنتادل کے حق میں مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے اپیل کی گئیتھی اس کو بھی سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔ دوسری طرف بھاجپا چاہے لاکھ دعوی کرے لیکن اس کے نیتا اپنی کٹر ساکھ سے باہر نکلتے نہیں دکھائی دے رہے لہٰذا ان کے حریفوں کو فرقہ وارایت کی بنیاد پر حملے کرنے سے سیاسی فائدے دکھائی پڑتے ہیں۔ بھاجپا بیشک اس اسٹنگ آپریشن کے پیچھے ایک بڑی سازش دیکھ رہی ہے مگر 80 سیٹوں والی ریاست اترپردیش سے دہلی جانے کی تیاری کررہے اس کے حکمت عملی ساز بھی جانتے ہیں اگر واقعی پولارائزیشن ہوتا ہے تو اس کا کھلے طور پر فائدہ بھاجپا کو ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف اپنے سب سے چیلنج بھرے چناؤ کا سامنا کررہی کانگریس کو بھی شاید لگ رہا ہو کہ پولارائزیشن سے سپا اور بسپا سے ٹوٹ رہے مسلم ووٹر اس کی طرف لوٹ آئیں۔ اسے دیش کی بدقسمتی ہی مانیں کہ فرقہ وارانیت بنام سیکولرازم کی اس بحث میں دیش کی عوام کے اصل اشو درکنار ہورہے ہیں۔ مہنگائی ، کرپشن، بے روزگاری ، اعلی تعلیم اور ترقی،سکیورٹی جیسے اشو جو اس چناؤ میں سب سے اہم ہونے چاہئے تھے اس بیکار کی بحث میں وہ کہیں دب گئے ہیں۔
(انل نریندر)

پٹتے اروند کیجریوال نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے!

بیچارے اروند کیجریوال نہ گھر(دہلی) کے رہے نہ گھاٹ (کاشی) کے رہے۔ بیچ میں ہی لٹک گئے۔ آئے دن کیجریوال پٹتے رہتے ہیں۔ پچھلے جمعہ کو جامعہ کے باشندے عبدالواحد نے حملہ کردیا۔ ساؤتھ دہلی کے پارلیمانی سیٹ کے لئے روڈ شو کے دوران اس نے کیجریوال کو گھونسا جڑدیا۔ پولیس کو دئے بیان میں واحد نے خود کو ’’آپ‘‘ پارٹی کا ورکر بتایا۔ اس کا کہنا ہے وہ مظفر نگر فسادات پرکیجریوال کی خاموشی اور ملاقات کا وقت نہ ملنے سے خفا تھا۔ کیجریوال جمعہ کو قریب 10 بجے ساؤتھ دہلی کے گوبند پوری میٹرو اسٹیشن سے روڈ شو پر نکلے تھے۔ تھوڑی دور آگے بڑھے اور اپنے حمایتیوں سے ہاتھ ملا رہے تھے تبھی واحد گاڑی پر چڑھ گیا اور اس نے ان کی پیٹھ پر گھونسا مارا اور تھپڑ مارنے کی بھی کوشش کی۔کیجریوال کا رد عمل تھاکچھ لوگ وزیر اعظم بننے کے لئے کسی حد تک جا سکتے ہیں۔ یعنی یہ حملہ نریندر مودی نے کروایا؟ یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں جب اروندکیجریوال حملہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی ان پر حملے ہوچکے ہیں۔28 مارچ کو ہریانہ میں واقع چرخی دادری میں ایک شخص نے ان پر حملہ کردیا تھا۔ کیجریوال وقت رہتے خود کو جھوکا کر بچ گئے۔ حملہ کرنے والے نے خود کو سماجی کارکن انا ہزارے کا ورکر بتایا۔ وارانسی میں25 مارچ کو ایک چناؤ ریلی کے دوران بھی کچھ لوگوں نے کیجریوال سمیت ان کی پوری ٹیم پر کالی سیاہی پھینک دی۔ اتنا ہی نہیں جبکیجریوال بابا کیدار ناتھ اور بابا وشواناتھ کے درشن کے لئے جارہے تھے تو ان کی کار پر کسی نے انڈو سے حملہ کردیا۔ وارانسی سے کیجریوال نے بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی کے خلاف میدان میں اترنے کا اعلان کردیا ہے۔ ادھر کیجریوال کے گھر یعنی دہلی میں ان کی ’آپ‘ پارٹی دو ٹکڑوں میں داہنے پر کھڑی ہے۔ گزشتہ جمعرات کو ایک اخباری کانفریس میں پارٹی کے قومی ایگزیکٹو کے بانی ممبر اشونی اپادھیائے نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی کے ممبروں کی جنتر منتر پر ایک خصوصی میٹنگ بلائی جائے گی۔ اس میں پرستاؤ پاس کر موجودہ ورکنگ کمیٹی کو بھنگ کرنے کی تجویز لائی جائے گی۔ اپادھیائے کا کہنا ہے کہ’ آپ‘ کی قومی ایگزیکٹو میں300 ممبر ہیں۔ پارٹی آئین کے مطابق سال میں دو بار اس کی میٹنگ ضروری ہیحالانکہ 10 فیصدی ممبروں کی عام رائے سے اس ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کبھی بھی بلائی جارسکتی ہے۔ اس کو بھنگ کرنے کے لئے50 فیصد ممبران کی رضامندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو کے70 ممبروں نے میٹنگ بلانے پر رضامندی دے دی ہے۔ اروندکیجریوال ، منیش سسودیا، سنجے سنگھ سمیت سبھی ممبروں کو میٹنگ کے بارے میں خبر کردی گئی ہے۔ اپادھیائے کا کہنا ہے کہ پارٹی کچھ لوگوں کی مٹھی میں قید ہوکر رہ گئی ہے اس لئے ناراض ممبر ایگزیکٹو توڑنے اور نئی کمیٹی بنانے کا پرستاؤ لا سکتے ہیں۔ اس موقعے پر پارٹی سے نکالے گئے ممبر اسمبلی ونود بننی کا کہنا ہے نئی ایگزیکٹو سے کیجریوال اور منیس سسودیا جیسے لوگوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔ بہرحال چناؤ کی اس گہما گہمی کے درمیان اصلی اور نقلی ’آپ‘ کو لیکر بغاوت کے سر تیز ہونے کے آثار ہیں۔ ادھر ان سب باتوں سے بے فکر کیجریوال دعوی کرتے پھر رہے ہیں اس بار لوک سبھا چناؤ میں کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی اور کھچڑی مینڈیٹ آئے گا۔ اور اس وجہ سے دو سال کے اندر پھر سے چناؤ کے لئے جنتا تیار رہے۔
  1. (انل نریندر)

06 اپریل 2014

امیٹھی میں بیٹا، بہو اور وشواس میں جنگ!

دیش کی ہائی پروفائل سیٹوں میں سے ایک امیٹھی کی سیٹ ہے۔80 کی دہائی میں کانگریس نیتا سنجے گاندھی کے آنے کے بعد سے کچھ ایک موقعوں کو چھوڑدیا جائے تو امیٹھی پارلیمانی علاقہ نہرو۔ گاندھی پریوار کا گڑھ رہا ہے۔گاندھی پریوار نے ہمیشہ سیدھی لڑائی میں یہاں بڑی جیت درج کی ہے۔اپوزیشن پارٹی کے امیدوار کبھی بھی گاندھی پریوار کو یہاں سے چنوتی نہیں دے پائے۔امیٹھی کے کل12 چناؤ (دو ضمنی انتخابات سمیت) میں 9 بار نہرو ۔گاندھی پریوار کے امیدوار رہے جبکہ تین بار پریوار کے قریبی کیپٹن ستیش شرما میدان میں اترے۔ امیٹھی سے راہل گاندھی بہت مضبوط امیدوار ہیں۔ کانگریس نائب صدر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کانگریس کے پی ایم امیدوار بھی ہیں۔ کانگریس کا بہت حد تک دارومدار راہل گاندھی پر منحصر ہے۔اس بار امیٹھی کا رن گاندھی پریوار کے بیٹے راہل ، ٹی وی سیریل کی بہواسمرتی ایرانی اور عام آدمی پارٹی کے کمار وشواس کے ساتھ ہی بسپا کے بیچ ہونا طے سا لگتا ہے اگر امیٹھی کی راہل گاندھی کے کام اور پریوار سے ہے تو بھاجپا کی اسمرتی ایرانی بھی ساس بھی کبھی بہو تھی کی تلسی کے روپ میں گھر گھر پہچان رکھتی ہیں۔ وشواس کی کویتاؤں سے بھی لوگ واقف ہیں۔ تلسی کے آنے سے امیٹھی میں بھاجپا میں ایک نیا جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسمرتی کو نریندر مودی کا خاص مانا جاتا ہے۔ انہیں امیٹھی بھیج کر مودی کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ دیش بھر میں راہل کو للکارتے مودی کے سامنے اب انہی کے گھر میں اپنی طاقت دکھانے کی چنوتی بڑھ گئی ہے۔ بھاجپا نے بیشک امیٹھی سے اسمرتی کو اتارا ہو لیکن اس کے لئے کوئی زمینی تیاری نہیں کی ہے۔ دیش کے سب سے طاقتور خاندان کے مقابلے کے لئے گمبھیر چنوتی پیش کرنے کی پارٹی نے اب تک کسی چناؤ میں صحیح معنوں میں کوشش نہیں کی ہے نتیجے سامنے ہیں۔سنگٹھن بکھرا ہوا ہے۔ چناؤ در چناؤ کی ناکامیوں نے کاریکرتاؤں کا منوبل توڑدیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار کمار وشواس گھٹیا لوک پریتا حاصل کرنے کے لئے اشلیل باتوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ سنئے کیا کہتے ہیں۔گاؤں تک سندیش پہنچ گیا ہے۔اب چاہے ایرانی آئے، پاکستانی آئے یا ایٹالین یا امریکہ راہل پہلے سے ہی ایک ایکٹر ہیں اور ایک اور ایکٹریس لڑنے کے لئے آگئی ہے۔ لیکن امیٹھی نے پہلے ہی فیصلہ کرلیا ہے۔ بھاجپا اورکانگریس کے درمیان بنارس اور امیٹھی سیٹوں پر کوئی سہمتی بنی ہے۔اسمرتی نے جواب میں کہا ’آپ‘ اور کانگریس کے درمیان کی سہمتی تو جگ ظاہر ہے اور دہلی میں جب انہوں نے سرکار بنائی تو سب لوگوں نے دیکھ لیا تھا۔ جہاں تک وشواس کی بات ہے مجھے ان سے رتی بھر بھی سنمان ملنے کی امید نہیں ہے۔مہلاؤں کے تئیں سنمان نہ دکھانے کا ان کا اتہاس رہا ہے۔ وشواس 12 جنوری سے ہی امیٹھی میں ڈیرا جمائے ہیں۔ وشواس گاندھی پریوار کے ونشواد کے خلاف چناؤ پرچار میں جٹے ہیں۔ اس بیچ ان کے خلاف آدھا درجن سے زیادہ مقدمے بھی قائم ہوچکے ہیں۔اسمرتی کے نام پر وہ کہتے ہیں کہ امیٹھی میں ٹی وی کلاکار کا جادو نہیں چلے گا اور وہ صرف یہاں چناؤ ہارنے آئی ہیں۔ بسپا نے یہاں سورن امیدوار ڈی پی سنگھ کو کھڑا کیا ہے۔یہ محض ایک اوپچارکتا ہے۔سپا نے راہل کے خلاف کوئی امید وار ہی نہیں کھڑا کیا۔ راہل گاندھی اپنے چناؤ پرچار میں امیٹھی کو اپنا گھر بتا رہے ہیں جس سے ان کا خاندانی رشتہ ہے سالوں پرانا۔ یہاں سے ان کے چاچا سنجے گاندھی، پتا راجیو گاندھی، ماتا سونیا گاندھی سانسد رہ چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امیٹھی کی جنتا سانسد نہیں چنتی دیش کا ایک پردھان منتری چنتی ہے۔ اس لوک سبھا چناؤ میں نریندرمودی کا کافی شور ہے۔ بھاجپا اس لہر پر سوار ہوکر اقتدار میں آنے کا سپنا سجائے ہے۔اتر پردیش میں واپسی کے لئے وہ پوری طرح سے مودی لہر کے بھروسے ہے۔ امیٹھی میں اس کا بڑا امتحان ہوگا۔ 2014 ء کا چناؤ مودی بنام راہل بن چکا ہے۔ اس چناؤ میں بیشک کانگریس کے خلاف ماحول ہے اور یہ کسی بھی کانگریسی امیدوار پر بھاری پڑ سکتا ہو پر امیٹھی میں ہماری رائے میں راہل سرکشت مانے جارہے ہیں تو اس کی واجب وجوہات بھی ہیں۔ ان کے بڑے قد سے ان کے علاقے کو بڑی امیدیں ہیں۔
(انل نریندر)

ہریانہ میں تکونے مقابلے میں کانگریس کو ہڈا کا ہی سہارا!

ہریانہ میں ہورہے لوک سبھا چناؤ صوبے کے کئی دگجوں کے لئے موت و زیست کی لڑائی کا سوال بن گیا ہے۔ ایک جانب ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کی ساکھ داؤ پر ہے تو وسری جانب سورگیہ چودھری دیوی لال کے بیٹے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ کی زیر قیادت والی انڈین نیشنل لوک دل کی زندگی داؤ پر ہے۔ ہریانہ میں مرکزی سرکار اور راہل گاندھی کے بجائے بھوپندر سنگھ ہڈا کے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگا جارہاہے لیکن مرکزی سرکار کی نیتیوں کی وجہ سے اینٹی انکمبینسی فیکٹر کا اثر ہریانہ میں بھی دکھنا فطری ہے۔ کانگریس مان کر چل رہی ہے کہ دوسری ریاستوں کی طرح اس کے ہریانہ کے بھی سبھی سانسد (کل9) واپسی کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ 10 پارلیمانی حلقوں والے ہریانہ میں کانگریس تین چار امیدواروں سے آس لگا رہی ہے۔ہریانہ لوک سبھا چناؤ اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ صوبے میں اسی سال اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ اس لئے عام چناؤ بھوپندر سنگھ ہڈا کے لئے سیمی فائنل جیسا ہے۔ گذشتہ عام چناؤ کے وقت ہڈا کی لہر تھی اور کانگریس یہاں کی 10 لوک سبھاسیٹوں میں سے9 جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔ راجیہ میں اوم پرکاش چوٹالہ اور ان کے بیٹے اجے چوٹالہ کو ٹیچر بھرتی گھوٹالے میں جیل میں بند ہونے کی ہمدردی اٹھانے کے چکر میں انیلو لگی ہوئی ہے۔ پارٹی کے چناؤ کی کمان چوٹالہ کے چھوٹے بیٹے ابھے چوٹالہ کے پاس ہے۔انیلو امیدواروں کی مدد میں پرکاش سنگھ بادل کی رہنمائی والی شرومنی اکالی دل کے کارکن بھی جٹے ہوئے ہیں۔ بھاجپا کے سونی پت، بھیوانی ، مہندر گڑھ اور گوڑگاؤں سیٹ سے کانگریس سے آئے لوگوں کو ٹکٹ دینے کا مدعا بنا کر انیلو نیتا پرچار کررہے ہیں کہ وہ نریندر مودی کو پردھان منتری بنانے کے لئے بنا شرط سمرتھن دیں گے۔ ایسا بھاجپا سے ناراض ووٹروں کو لبھانے کے لئے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا جارہا تھا۔ بھاجپا کو جب لگا کے اس کا فائدہ کئی جگہ کانگریس کے امیدواروں کو ہورہا ہے تو نریندر مودی نے انیلو پر حملہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ ان کے نام پر ووٹ نہیں مانگیں۔ انیلو کے چناؤ نشان ’چشمے‘ کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ انہیں پردھان منتری بنانے کے لئے کمل کے نشان پر ٹھپا لگائیں۔ ریاست میں اس بار چونکہ ادھی گرہن، سرکاری نوکری میں بھائی بھتیجہ واد ، بھرشٹاچار ، مہنگائی اور علاقائی ترقی جیسے مدعے ووٹروں کا رخ طے کریں گے۔ سونی پت، روہتک، بھیوانی اور حصار چار سیٹیں ایسی ہیں جہاں جاٹھ ووٹر امیدوار کی ہار جیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ حال ہی میں جاٹوں کو ریزرویشن دینے سے کانگریس کو ان سیٹوں پر فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ سرسہ چونکہ پنجاب سے لگتا ہے اس لئے یہاں شرومنی اکالی دل کا بھی اثر ہے۔اس بار بھاجپا کا گٹھ بندھن ہچکا کے ساتھ ہے اور پنجاب ودھان سبھا میں کامیابی کے بعدشرومنی اکالی دل ہریانہ میں اپنی موجودگی درج کرانا چاہتا ہے۔ روہتک سیٹ سے سانسد دپیندر سنگھ ہڈا نے اپنے علاقے میں بہت کام کیا ہے اور ان کے ووٹروں نے انہیں سب سے زیادہ 10 میں سے 6.77 نمبر دئے ہیں۔ کانگریس مہا سچیو اور ہریانہ کے پربھاری ڈاکٹر شکیل احمد کہتے ہیں کہ چوکونہ مقابلہ کی وجہ سے کانگریس کو فائدہ پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہریانہ میں مضبوط رہی ہے اور چوٹالہ کا اثر یہاں ختم ہوچکا ہے۔ کیجریوال اور ان کے امیدوار ہریانہ میں کانگریس کو نقصان پہنچانے کی حالت میں نہیں ہیں۔ کرکشیتر میں موجودہ سانسد نوین جندل کے موضوع پر پارٹی زیادہ نہیں سوچ رہی کیونکہ وہ اپنے چناؤ کے لئے اپنے بوتے پر راستہ بنا لیں گے۔جیسے میں نے کہا کہ ہریانہ میں کانگریس صرف بھوپندر سنگھ ہڈا کے کئے وکاس کے مدعے پر لڑ رہی ہے۔دیکھتے ہیں مودی لہر کا یہاں پر کتنا اثر ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...