Translater

14 مئی 2016

26/11 ممبئی آتنکی حملے میں ہمارے لوگ شامل تھے

پاکستان ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے اور بے نقاب کرنے والا بھی اور کوئی نہیں بلکہ خود پاکستانی خطرناک خفیہ ایجنسی کے سابق چیف ہیں۔ یہ بات امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہ چکے حسین حقانی نے کہی ہے۔ حقانی نے کہا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے سابق چیف نے اعتراف کیا ہے کہ ممبئی میں 26/11 کو ہوئے حملہ میں پاکستان کے کچھ ریٹائرڈ افسر شامل تھے۔ 26/11 کے ممبئی آتنکی حملہ میں بھلے ہی پاکستان اپنے یہاں کا ہاتھ ہونے سے انکار کرتا رہا ہو، مگر ایک نئے انکشاف نے اس کی پھر پول کھول کر رکھ دی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل شجا پاشا تب پاکستان کی آئی ایس آئی کے چیف تھے۔ انہوں نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اپنے ہم منصب جنرل مائیکل ہیڈن کے ساتھ 2008ء دسمبر میں ہوئی میٹنگ میں یہ بات قبول کی تھی۔ اس انکشاف کا ذکر امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہے حسین حقانی نے اپنی کتاب ’’انڈیا ورسس پاکستان:وائی کانٹ وی جسٹس دی فریڈم‘‘ میں کیا ہے۔ اس انکشاف سے بھارت کے اس دعوے کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ممبئی حملہ کو پاکستان کی سرزمیں سے انجام دیا گیا تھا، جس میں پاکستان کے لوگوں کا ہی ہاتھ تھا۔ اپنی کتاب میں حقانی نے جنرل پاشا کے 24-25 دسمبر 2008ء کو امریکہ دورہ کا ذکر بھی کیا ہے۔ اسی دوران پاشا نے یہ بات قبول کی تھی۔ حالانکہ آئی ایس آئی اور سی آئی اے سربراہوں کی اس بات چیت کا ذکر تین کتابوں میں ہو چکا ہے لیکن پاشا نے یہ سنسنی خیز انکشاف پہلی بار کیا ہے۔ ویسے تو امریکہ کے اس وقت کے سکیورٹی مشیر کوٹولیزا رائس اور خود جنرل ہیڈن بھی اپنی کتابوں میں اس ملاقات کا تذکرہ کر چکے ہیں۔ حقانی پر 2011ء میں ملکی بغاوت کا مقدمہ چل چکا ہے۔ حقانی نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت سے پاکستان کافی چھوٹا ہے اور روایتی فوجی طاقت کے بوتے پر دہشت گردی سے لوہا نہیں لے پائے گا۔ حقانی نے کہا کہ پاکستان کا ہر اسکولی بچہ سیکھتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی گردن کی نس ہے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے کہ کیا حقیقت میں ایسا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو پاکستان 69 برسوں تک بغیر گردن کی نس سے زندہ کیسے رہا؟ حقانی بے نظیر بھٹو سمیت پاکستان کے چار وزرائے اعظم کے مشیر رہ چکے ہیں۔ کتاب میں حقانی نے وزیر اعظم نواز شریف کے اب تک غیرشائع ایک خفیہ خط کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس میں انہوں نے امریکہ کی وزیر خارجہ کو شکایت کی تھی کہ کشمیر اور پنجاب میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لئے پاکستان کو ملزم بنانے اور حکومت ہند کی ذریعے کشمیر کو دہشت گردی پھیلانے پر امریکہ کوسمجھ پانا مشکل ہے۔ حقانی اس کا بھی انکشاف کرتے ہیں کس طرح سے ایک ہندوستانی کی فون پر خفیہ اطلاق پکڑی گئی جس سے15 دسمبر 2001ء کو پرویز مشرف کی جان بچی تھی۔
(انل نریندر)

بھیک مانگنے سے تو اچھا ہے ڈانس بار میں رقص کرنا

سپریم کورٹ نے ڈانس بارکو لائسنس نہ دینے پر حال ہی میں حکومت مہاراشٹر کو کڑی پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ گزر بسر کے لئے سڑکوں پر بھیک مانگنے یا کوئی سماج کو نہ پسند کام کرنے سے بہتر ہے کہ عورتیں اسٹیج پر ڈانس کریں۔ حکومت مہاراشٹر نے ڈانس بار کی طرف سے کچھ شرطوں کو نہ ماننے کی دلیلیں دے کر انہیں لائسنس دینے سے منع کردیا تھا۔میں بات کرنا چاہتا ہوں سڑک پر بھیک مانگنے والے بھکاریوں کی۔ ہندوستان کی ہر سڑک، بازار ، ہر چوراہے پر بھیک مانگنے والے دکھائی پڑ جائیں گے ان میں کافی تعداد میں بچے شامل ہوتے ہیں۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے کافی پڑھے لکھے ہیں۔ دیش میں کل 3.72 لاکھ کے قریب بھکاری ہیں۔ ا ن میں سے21 فیصد ایسے ہیں جنہوں نے تقریباً12 ویں کلاس تک تعلیم حاصل کی ہے۔ دیش میں تقریباً تین ہزار بھکاری ایسے ہیں جن کے پاس پروفیشنل کورس کا ڈپلومہ ہے۔ کئی تو گریجویٹ اور ایم اے( پوسٹ گریجویٹ) کی تعلیم پوری کرچکے ہیں۔ سال2011ء میں ہوئی مردم شماری رپورٹ میں پیشوارانہ طور سے کوئی کام نہ کرنے والے اور ان کی تعلیمی استعداد سطح کے بارے میں اعدادو شمار اس رپورٹ کا حصہ ہیں۔ ان اعدادو شمار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھکاری بننا ان کی پسند نہیں، بلکہ شاید مجبوری ہے۔پڑھ لکھنے کے بعد اپنی ڈگری و تعلیمی استعداد کی بنیاد پر نوکری (تشفی بخش ملازمت) نہ ملنے پر وہ بھکاری بننے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایک45 سالہ بھکاری نے 12 کلاس تک تعلیم حاصل کی تھی۔ فراٹے دار انگریزی میں اس نے بتایا کہ میں غریب ہوں ، لیکن میں ایک ایماندار انسان ہوں۔ میں بھیک مانگتا ہوں کیونکہ مجھے نوکری کے مقابلے میں زیادہ پیسے مل جاتے ہیں۔ میں روزانہ تقریباً 200 روپے تک کما لیتا ہوں۔ اس سے پہلے وہ ایک ہسپتال میں وارڈ بوائے تھا لیکن وہاں میری تنخواہ روزانہ محض 100 روپے ہی تھی۔ وہ اکیلا نہیں۔ 
احمد آباد کے کالی مندر پر اس کے ساتھ 30 بھکاریوں کا ایک ٹولہ ہے۔ بھکاریوں کے لئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری انجمن ’’مانو سادھنا‘‘کے پیٹرن جوشی کہتے ہیں کہ بھکاریوں کی بازآبادکاری کرنے کافی مشکل ہے۔ بھیک میں انہیں آسانی سے پیسہ مل جاتا ہے وہ لالچ انہیں بڑی آسانی سے بھیک کی طرف لے جاتا ہے۔ ماہر سماجیات گورنگ جونی بتاتے ہیں اگر گریجویٹ کی پڑھائی کرنے کے بعد لوگ بھیک مانگ رہے ہیں تو یہ اشارہ ہے کہ دیش میں بے روزگاری کا مسئلہ کتنا سنگین ہوگیا ہے۔ بھیک مانگنے کی عادت نہ چھٹنے کے پیچھے ایک بڑی وجہ نشے کی لت میں گرفتار ہونا بھی ہے۔ ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ ہم نے ایک نوجوان بھکاری کو کئی بار پکڑ کر کورٹ کے سامنے پیش کیا۔ وہ اچھے گھر سے تھا اسے مجسٹریٹ نے چھوڑدیا کیونکہ وہ اچھے گھر سے تھا۔وہ پھرگھر سے بھاگ کر بھیک مانگنے پہنچ گیا۔
(انل نریندر)

13 مئی 2016

اتراکھنڈ فلور ٹیسٹ کے دوراندیش نتائج

اتراکھنڈ فلور ٹیسٹ کے بعد سے ہی کانگریس پارٹی کا خوش ہونا فطری ہے۔ ہریش راوت کا پھر مکھیہ منتری بننا طے ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھوار کو فلور ٹیسٹ میں راوت کی جیت پر مہر لگادی۔ اس کے بعد کیندر سرکار نے کورٹ کے حکم پر راجیہ میں راشٹرپتی شاسن ہٹانے سفارش کردی۔ منگلوار کو فلور ٹیسٹ کے دوران 61 ووٹ پڑے۔ ان میں سے 33 ووٹ راوت کے حق میں پڑے۔ کانگریس نے ایوان میں اکثریت تو جگاڑبندی سے پا لی لیکن اب وہ اپنے بوتے پر واضح اکثریت میں نہیں رہے گی۔اس کا اثر یہ ہوگا کہ اسے حمایتی پارٹیوں اور ممبران اسمبلی کے آگے جھکنا پڑے گا۔ ہریش راوت کو جو نئے اتحادی ملے ہیں وہ دوسری پارٹی کے ہیں۔ ان پر کسی طرح کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔ ایسے میں انہیں شیشے میں اتارنا چیلنج بھرا ہوگا۔ اب تک اپنے کچھ اتحادی وزراء سے بھی ہریش راوت کا تال میل بگڑ گیا ہے۔ اب جب انہوں نے راوت کا کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ دیا ہے تو ایسے میں ان کو مطمئن کرنے کے لئے بھی زیادہ قدم اٹھانے ضروری ہوں گے۔ اس کے لئے اپنے پاس رکھے ملائی دار مانے جانے والے محکموں کو اپنی کیبنٹ کے ساتھیوں سے بانٹنا پڑ سکتا ہے۔ کانگریس کواس فلور ٹیسٹ سے ایک طرح سے نئی سنجیونی ملی ہے۔ کانگریس کو لگ رہا ہے کہ اتراکھنڈ کے نتیجوں سے آنے والے دنوں میں غیر بی جے پی حکومتوں خاص کر کانگریس حکمراں ریاستوں کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ پارٹی مان رہی ہے کہ ا س پورے معاملے سے اسے پرسپشن کے سطح پر فائدہ ہوگا۔ جس طریقے سے بی جے پی کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے اس کے بعد مانا جارہا ہے کہ بی جے پی حکومت اب کانگریس کی دوسری ریاستوں پر ہاتھ ڈالنے سے تھوڑا سا ہچکچائے گی۔ دراصل اروناچل پردیش کے بعد اتراکھنڈ کی سرکار مرکزی حکومت کا دوسرا شکار بنی۔ مانا جارہا ہے کہ اتراکھنڈ کے بعد مرکزی سرکار کانگریس حکمراں دوسری ریاستوں مثلاً منی پور، ہماچل اور کرناٹک میں مبینہ آئینی بحران کھڑا کر کانگریس حکومتوں کو کمزور کرنے سے بچے گی۔ کانگریس کے ساتھ ساتھ جوڈیشیری سے بھی سرکار کو اس طرح سے نصیحتیں ملی ہیں، اس سے بھی بی جے پی کی امیج کو دھکا لگا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ جن ریاستوں میں اگلے سال اسمبلی چناؤ ہونے ہیں وہاں پر کانگریس کو کتنی ہمدردی ملتی ہے۔ اس پورے معاملے میں بہرحال ہریش راوت کی اسٹنگ آپریشنوں سے ساکھ ضرور خراب ہوئی ہے۔اس بات کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سی بی آئی بار بار اب راوت کو پوچھ تاچھ کے بہانے پریشان کرسکتی ہے۔ کانگریس کے ایک طبقے کا یہ بھی خیال رہا ہے کہ ہریش راوت کو اب ہرانا بہتر ہوگااور نیا چہرہ لا کر اگلے اسمبلی چٹاؤ کی تیاریوں میں پارٹی و حکومت لگ جائے۔ فلور ٹیسٹ میں ہریش راوت سرکار کے حق میں بہوجن سماج پارٹی کا ووٹ کرنا آنے والے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں بننے والے تجزیئے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بیشک بسپا کا ایسا کرنا اس کی مجبوری رہی ہو ۔ پارٹی کے پاس صرف تین ہی متبادل تھے ایک اعتماد کے حق میں ووٹ کریں، دوسرا اعتماد کے خلاف ووٹ ڈالیں اور تیسرا ایوان میں غیر حاضر ہوں۔ آخر دو متبادل بیجے پی کے لئے مددگار ہوتے۔ ایوان سے غیر حاضر ہونا بھی بی جے پی کے لئے فائدہ مند ہوتا، ایسا کرنے سے یہ پیغام جانے کا خطرہ تھا کہ بی ایس پی نے بی جے پی مدد کے لئے ایسا کیا۔ بہن جی یہ قطعی نہیں چاہ رہی تھیں کہ ان پر کسی طرح بی جے پی کی مدد کرنے کا ٹھپا لگے۔ ان کے لئے اتراکھنڈ کی سیاست اتنی اہم نہیں جتنا یوپی ہے۔ بی جے پی سے اپنے آپ کو الگ دکھانے کے لئے بی ایس پی کو اعتماد کے حق میں ووٹ ڈالنا پڑا۔سب سے زیادہ پورے معاملے میں بی جے پی کو نقصان ہوا۔ پارٹی کی ساکھ بھی خراب ہوئی اور اقتدار کی امید چکنا چور ہوگئی۔ انہیں کانگریس کے اندرونی جھگڑے میں پڑنا نہیں چاہئے تھا۔ ہریش راوت سرکار تو اپنی اندرونی سیاست کی وجہ سے خود بخود گر جاتی۔
(انل نریندر)

کیا وجے مالیہ سے قرض کی ریکوری کبھی ہوگی

بینکوں کا قرض نہ چکاپانے کی وجہ سے دیش چھوڑ کر جا چکے صنعتکار وجے مالیہ نے آخر کار راجیہ سبھا کی ممبر شپ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا یہ استعفیٰ پارلیمنٹ کی ایپکس کمیٹی کو نوٹس کے جواب میں راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری کو بھیجا ہے۔ ویسے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ کمیٹی مالیہ کی ممبر شپ منسوخ کرچکی ہے۔مفرور صنعتکار وجے مالیہ کے راجیہ سبھا سے استعفے کو منظور کرنا ان پارٹیوں کے لئے بھی پیغام ہے جو اپنی حمایت کررہے انہیں راجیہ سبھا بھیجتے رہے ہیں۔ بھاجپا، کانگریس اور جنتا دل(سیکولر) سے حمایت لے کر ہی مالیہ دو بار راجیہ سبھا پہنچے تھے۔ اربوں روپے کی املاک کے مالک رہے مالیہ پہلی بار 2002ء میں راجیہ سبھا پہنچے تھے تو انہیں کانگریس اور جنتا دل(ایس) کی بیساکھی ملی تھی۔ مالیہ کا اثر اتنا تھا کہ جیت کے لئے 45 ووٹ چاہئے تھے لیکن انہیں 50 سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ 2010ء میں جب وجے مالیہ نے راجیہ سبھا امیدواری کی دعویداری پیش کی تو انہیں بھاجپا اور جنتادل(ایس ) کی حمایت تھی۔ غور طلب ہے کہ 116 سیٹوں کے ساتھ کرناٹک کے اقتدار میں رہی بھاجپا کے پاس اس وقت اپنے دو امیدواروں کو بھیجنے کے باوجود تقریباً دو درجن ووٹ فاضل تھے جبکہ جنتا دل(ایس) کے پاس 27 ووٹ تھے حالانکہ بھاجپا کی طرف سے کھلے عام حمایت کی بات کو لیکر خاموش تھی لیکن اندرونی طور پر صاف تھا کہ ان کے فاضل ممبران وجے مالیہ کو ووٹ دیں گے۔ ہوا بھی یہی اور مالیہ دوبارہ راجیہ سبھا پہنچ گئے۔ مالیہ اب ہرکسی کے نشانے پر ہیں۔ کانگریس ان کے دیش چھوڑ کر فراری کے لئے این ڈی اے سرکار کو قصوروار ٹھہرا رہی ہے تو بھاجپا کانگریس سے یہ پوچھ رہی ہے کہ ان کی اقتصادی حالت جانتے ہوئے بھی کانگریس کے عہد میں انہیں کیوں ہزاروں کروڑ روپے کا قرض دلایا گیا۔ صرف جنتا دل (ایس) مالیہ کی حمایت میں آج بھی ہے۔ ایسے میں خاص کر کانگریس اور بھاجپا جیسی قومی پارٹیوں کو محاسبہ کرنا پڑے گا کہ راجیہ سبھا یا ودھان پریشد میں کسی آزاد امیدوار کو ووٹ دیں تو ان کی اخلاقی ذمہ داری بھی لیں۔ سرکار جان بوجھ کر بینک قرض نہیں لوٹانے والوں (ول فل ڈفالٹر)کی غیر ملکی املاک بھی ضبط کر سکے گی۔ جمعرات کو لوک سبھا میں پاس نئے بینک رپسی بل میں یہ سہولت ہے۔ حالانکہ اس کے لئے سرکار کو دوسرے ملکوں سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ہی پراپرٹی ضبط کی جاسکے گی۔ بل پر بحث کے دوران ممبران پارلیمنٹ نے وجے مالیہ جیسے ول فل ڈفالٹروں کی بڑھتی تعداد پر تشویش جتائی۔ جواب میں وزیر مملکت مالیات جینت سنہا نے کہا کہ نئے قانون میں ایسے لوگوں اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی آسان ہوگی۔ نیا قانون 12 پرانے قوانین کی جگہ لے گا۔ مالیہ ۔ کنگ فشر جیسے معاملوں میں پہلا اقتدار ملازمین کا ہے۔ سرکار کے بقائے کی ادائیگی کے نمبر کے بعد کا راستہ آتا ہے۔ دیش دنیا کے کارپوریٹ جگت میں وجے مالیہ ایک بڑا نام ہے۔ وجے مالیہ نے اپنے بیٹے سدھارتھ مالیہ کی سالگرہ پر کنگ فشر ایئر لائنس گفٹ کی تھی۔ مالیہ آج کارپوریٹ دنیا میں ایک بے ایمان ، لاپرواہ منتظم کی علامت بن چکے ہیں۔ ہوائی سروس کے سیکٹر میں دیش اور دنیا میں نام کما چکی کنگ فشر ایئر لائنس کے مال وجے مالیہ دیش کے سب سے بڑے مقروزوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے اوپر مختلف بینکوں کی2673 کروڑ روپے (این پی اے) کی دین داری ہے۔ اتنا ہی نہیں ان کے اوپر 17 بینکوں کا بقایا تقریباً 7000 کروڑ روپیہ ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ لندن میں بیٹھے وجے مالیہ حکومت ہند اور سرکاری ایجنسیوں کو الٹا دھمکا رہے ہیں کہ اگر مجھے جیل میں ڈالنے کی کوشش کی تو ایک پھوٹی کوڑی ریکوری نہیں ہو پائے گی۔ خبر آئی ہے کہ برطانیہ نے حکومت ہند سے کہا ہے کہ وجے مالیہ کو برطانیہ سے جلا وطن نہیں کرسکتے۔ ان کی حوالگی کرنے کے لئے درخواست پر غور کر سکتے ہیں۔ حکومت ہند کو لمبی لڑائی کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔
(انل نریندر)

11 مئی 2016

جب آئی ایس آئی نے سابق سی آئی اے چیف کو زہر دیا

امریکہ کے نامور اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک اسپیشل تفتیشی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان سابق سی آئی اے اسٹیشن چیف کو پاکستان کی نام نہاد خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے زہر دیاتھا۔ سی آئی اے کے سابق چیف مارک کیلٹن نے مئی 2011ء میں اس چھاپہ ماری کی قیادت کی تھی جس میں القاعدہ چیف اسامہ بن لادن مارا گیا تھا۔ مارک کیلٹن کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے گھر میں چھاپے ماری کے دو مہینے بعد صحت سے متعلق تشویشات کے تحت اسلام آباد سے ہٹایا گیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی اس تفتیشی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ مارک کیلٹن سی آئی اے سے ریٹائرڈ ہیں اور پیٹ کے آپریشن کے بعد سے ان کی صحت میں بہتری ہوئی تھی لیکن ایجنسی کے حکام نے یہ سوچنا ہے کہ بھلے ہی یہ پختہ نہیں ہے لیکن یہ ممکن ہے کیلٹن کی اچانک بیماری کے پیچھے آئی ایس آئی کے نام سے جانی جانے والی پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) کا کسی نہ کسی طرح اس بیماری میں ہاتھ ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے اس رپورٹ کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے مطابق کیلٹن نے بار بار درخواست کئے جانے کے باوجود انٹرویو دینے سے انکار کردیا لیکن انہوں نے فون پر بات چیت میں کہا کہ ان کی بیماری کی وجہ کے بارے میں کبھی صاف طور پر پتہ نہیں چل سکا۔ انہوں نے کہا وہ پہلے شخص نہیں جنہیں اس بات کا شبہ ہوا ہے کہ انہیں زہر دیاگیا۔ اخبار نے کیلٹن کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس بارے میں میرے دل میں اس طرح کا نظریہ پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ زہر دینے والی بات کی بھلے ہی کوئی بنیاد ہ ہو تو بھی اگر سی آئی اے اور ان کے اسٹیشن چیف آئی ایس آئی کو اس طرح کی حرکت کرنے میں اہل مانتے ہیں تو اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اعتماد میں جو کمی آئی ہے وہ اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔ اخبار کے مطابق موجود و سابق امریکی خفیہ حکام نے کہا کہ آئی ایس آئی کا تعلق صحافیوں ، سفارتکاروں اور دیگر امکانی حریفوں کے خلاف کئی سازشیں رچنے سے رہا ہے ۔ آئی ایس آئی کی کیلٹن سے دشمنی ہے۔ اس درمیان سی آئی اے کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پاکستانی حکام نے وہاں کام کررہے حکام کو زہر دیا۔ ادھر لادن کے مارے جانے کی پانچویں برسی سے پہلے امریکہ نے کہا ہے کہ اب ان کی نگاہیں اسلامک اسٹیٹ کے سرغنہ ابو بکر البغدادی پر ہیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے کہا کہ اب میری نظر بغدادی پر ہے۔ان کے مارے جانے کا بڑا اثر ہوگا۔ آئی ایس صرف ایک تنظیم ہی نہیں بلکہ ایک جنون بن چکی ہے۔
(انل نریندر)

لالو تو بابا کے جبرا فین ہوگئے

سیاست میں نہ تو کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دوست۔ وقت کے مطابق حالات کی بنیاد پر دوست و دشمن بدلتے رہتے ہیں۔ جو مستقل ہوتا ہے تو وہ ہے مفاد۔ کبھی ایک دوسرے کے زبردست حریف رہے آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو اور یوگ گورو بابا رام دیو اب خاص دوست بن گئے ہیں۔ لالو بابا کیجبرا فین بن گئے ہیں۔ ایک دوسرے پر تلخ سیاسی حملہ کرنے والے ہندوستانی سیاست کے دو محاذ بدھوار کو عرصے سے بچھڑے ہوئے کسی جگری دوست و ساتھی کی طرح ملے۔اس دوران دونوں کے درمیان ہوئے ہنسی مذاق سے ایسا لگا ہی نہیں کہ ان میں کبھی36 کا آنکڑا بھی رہا ہے۔آر جے ڈی چیف رام دیو کے ہاتھوں پتنجلی کے ایک ایک پروڈکٹ کا ذائقہ چکھتے گئے اور تعریفوں کے پل باندھتے رہے۔ گالوں پر سورن کرانتی گولڈ کریم ملوانے، پاور بیٹا انرجی بار کھانے کے بعد لالو نے خود کو بابا رام دیو کا مستقل برانڈ امبیسڈر بتایا اور یوگ گورو کو سازشوں سے ہوشیاررہنے کی نصیحت بھی دے ڈالی۔ جواب میں بابا نے لالو کو پیدائشی یوگی بتایا۔ بڑھاپے سے بچنے کے لئے روزانہ ایلوویرا جوس پینے اور گولڈ کریم لگانے کی ہدایت دی۔ بین الاقوامی یوگ دیوس پر پروگرام کی دعوت دینے جب بابا رام دیو لالو کے گھر پہنچے تو وہاں کا نظارہ دیکھنے لائق تھا۔ اس دوران رام دیونے پہلے تو لالو کو یوگ کے بارے میں کچھ ٹپس دئے پھر بطور تحفہ پتنجلی کے کئی پروڈکٹس پیش کئے۔ کافی دیر تک دونوں میں بات چیت ہوئی پھر وہ میڈیا کے سامنے آئے اور یہاں ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھتے بابا نے لالو کو پتنجلی کریم لگاکر کہا کہ’’ لالو کا گالو ویسے بھی بڑا لالو ہے‘‘ یوگ گورو کو کبھی مینٹل کیس و ٹھگ کہنے والے لالو نے رام دیو کو اب یوگ کا مہاراج بتایا۔ بولے : پہلے بابا نے ہمیں میڈیٹیشن کرایا ،غلط فہمیاں دور کرنے سے میرا برین صاف ہوگیا۔ان مول۔ ویلوم بھی کرایا اس سے مجھے فائدہ ہوا۔ غیر ملکی کمپنیوں سے اچھا پروڈکٹس بابا لا رہے ہیں۔ کئی لوگوں کی دکانیں بند ہوگئی ہیں لوگ اس لئے ان سے جلن رکھتے ہیں۔ سرمایہ داروں کے صابن میں سوڈا بہت ہے۔ بابا کے صابن میں گائے کا دودھ ملا ہوا ہے ہمیں اسے استعمال کرنا چاہئے۔ ہم دودھ پینے والے لوگ ہیں اس سے اسکن ٹھیک رہے گی۔ الٹی پلٹی کاسمیٹک لوگ بازار میں بیچ رہے ہیں۔ ہم بابا کے ہمیشہ کے برانڈ امبیسڈر ہیں۔ بابا رام دیو نے کہا : ہم نے اپنے پروڈکٹس بیچنے کے لئے کبھی گلیمر، جھوٹے خوابوں کا سہارا ہیں لیا۔ کسی کا بازار نہیں چھینا، کاسمیٹک نیا وچار، نیا آدھار اور نیا بازار کھڑا کیا ہے۔لالو یادو کو ہم اپنا برانڈ امبیسڈر بنائیں گے۔ پورے سین کو دیکھ کر کسی نے تبصرہ کیا کہ ’’لالو تو بابا کے جبرا فین ہوگئے ہیں‘‘۔
(انل نریندر)

10 مئی 2016

جمہوری تقاضوں اور روایتوں کو برقرار رکھتا فیصلہ

دیش کی تاریخ میں یہ تیسرا موقعہ ہے جب اتراکھنڈ میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں کسی اسمبلی میں فلور ٹسٹ کروایا جائے گا۔ 10 مئی کو یعنی آج اتراکھنڈ اسمبلی میں عدالتی نگرانی میں ہونے والے اعتماد کے ووٹ کے دوران دو گھنٹے کے لئے زندہ ہونے والی ہریش راوت سرکار کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہوگا۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 1998ء میں اترپردیش اور 2005 میں جھارکھنڈ میں ایسا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جوڈیشیری کو تقویت پہنچانے کیلئے اصولی شکل میں معقول ہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھارت سرکار بنام ایس آر بومئی معاملے میں یہ کہا تھا کہ اسمبلی میں اکثریت کا فیصلہ اسمبلی کے اندر ہی فلور ٹسٹ کے ذریعے ہونا چاہئے۔ اس کے بعد ایسے جتنے معاملے عدالت کے سامنے آئے، سبھی میں عدالت نے اسی اصول کو بنیاد بنا کرفیصلے سنائے۔ اتراکھنڈ کے تازہ معاملے میں بھی ہائی کورٹ نے بھی یہی کہا تھا کہ ہریش راوت سرکار کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقعہ ملنا چاہئے۔ یہ اچھی بات ہے کہ مرکزی سرکار نے عدالت کے اس فیصلے کو منظور کرلیا مگر وہ فلور پر اکثریت کے ٹسٹ کے لئے تیار ہوجائے تو اس سے جمہوریت کا مقصد پورا ہوگا۔ شاید یہ بات سرکار کی سمجھ میں آگئی ہے کہ جمہوریت لوک لاج سے چلتی ہے اور ہریش راوت کی جو سرکار خود ہی پہاڑکی ڈھلان سے کھائی میں گرنے کو تیار ہے اسے دھکا دینے کا الزام اسے زیادہ وقت تک اپنے ماتھے پر نہیں لگانا چاہئے۔ حالانکہ اسٹنگ آپریشن کے بہانے خرید و فروخت کے الزام سے گزر رہے ہریش راوت کو سی بی آئی نے گھیر لیا ہے۔ پھر بھی بھاجپا کو مدد پہنچانے نکلے کانگریس کے9 باغی ممبران اسمبلی کو ووٹنگ کے لئے نا اہل قرار دے کر کے سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعلی راوت کو بڑا سیاسی گلیارا دے دیا ہے۔ اب سارے دیش کی نگاہیں 10 مئی کو دہرہ دون پر ٹکی ہیں۔ 10 مئی کو فلور ٹیسٹ کی ہدایت کے بعد اب اتراکھنڈ کی پوری سیاست 32 کے آنکڑے پر ٹکی ہے۔ یہ وہی جادوئی نمبرہے جس کو جٹاکر کانگریس یا بھاجپا اقتدار حاصل کرلے گی۔ 9 باغی ممبران کے بغیر ہونے والے فلور ٹیسٹ میں کل 62 ممبران سرکار کا مستقبل طے کریں گے۔ موجودہ نمبر طاقت کو اگر بنیاد مانا جائے تو موجودہوزیر اعلی ہریش راوت یعنی کانگریس کے 34 ممبران کے بوتے پر اکثریت ثابت کرنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہئے بشرطیکہ بھاجپا ۔ کانگریس اور اسے حمایت دے رہے 6 غیر کانگریسی ممبران کا گروپ پروگریسو ڈیموکریٹک فرنڈ (پی ڈی ایف) میں سیند ماری میں کامیاب نہ ہوجائے۔ منگلوار کو ہونے والے اس فلور ٹیسٹ کے لئے بھاجپا منتظمین نے دہرہ دون سے دہلی تک مورچہ سنبھال لیا ہے۔ بھاجپا لیڈرشپ کسی بھی طرح سے ہریش راوت سرکار کو اکثریت ثابت ہونے نہیں دینا چاہتی ہے۔اس کے لئے بھاجپا اپنے ممبران کو متحد رکھنے کے ساتھ پی ڈی ایف اور کانگریس میں راوت سے ناراض ممبران اسمبلی کو اکھٹا کرنے میں جٹ گئیں ہیں۔ راوت سرکار گرانے کی مہم میں ابھی تک بھاجپا کے داؤ بھلے ہی کامیاب ہیں رہیں ہوں ، لیکن اب وہ اس آخری موقعہ پر جھکنا نہیں چاہتی۔ دراصل یہ معاملہ بھاجپا لیڈر شپ کے لئے اب وقار کا سوال بن گیا ہے۔ سیاسی اخلاقیات اور جمہوری روایات کے لحاظ سے بھی یہ بہتر ہوتا کہ آئین کی دفعہ356 کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس دور میں دفعہ 356 کا استعمال بڑے پیمانے پر ریاستی حکومتوں کو گرانے کیلئے کیا گیا تھا۔ بمشکل تمام پچھلے برسوں میں اس پر لگام لگی تھی اب پھر اس سلسلے سے بچنا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے جمہوری عمل اور روایات کے حق میں ہے فیصلہ سنایا ہے، اس کے جذبے کا احترام ہونا چاہئے۔ ایسے ماحول میں اتراکھنڈ میں اسمبلی کے فلور پر طاقت آزمائش کا فیصلہ نہ صرف کانگریس اور بھاجپا کے درمیان بڑھتے ٹکراؤ کو کم کرے گا بلکہ عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان بنتی غلط فہمی کو بھی دور کرے گا۔
(انل نریندر)

پاکستانی بس ڈرائیور کا بیٹا بنا لندن کا میئر

برطانیہ کی بڑی اپوزیشن لیبر پارٹی کے لیڈر صادق خان لندن کے پہلے میئر چنے گئے ہیں۔ انہوں نے حریف جماعت کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار جیک گولڈ اسمت کو ہرا کر سنیچر کو اس عہدے کے لئے حلف اٹھایا ہے۔ پاکستانی بس ڈرائیور کے صاحبزادے صادق خاں لندن کے میئر بننے والے پہلے مسلم شخص ہیں ساتھ ہی وہ یوروپی یونین کی کسی بھی راجدھانی کے پہلے مسلم میئر شمار کئے جاتے ہیں۔ صادق خاں کی کامیابی پر پاکستان میں جشن منایا گیا ہے۔ عمران خان اور بلاول بھٹو نے انہیں مبارکباد دی ہے۔ صادق نے کامیابی کے بعد کہا،’’ مائی نیم اس ساجد خان اینڈ آئی ایم دی میئر آف لندن۔ ‘ ‘ بالی وڈ اداکارہ شاہ رخ خان نے ایک فلم کے کہا تھا ’’مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ‘‘ صادق نے کہا ہے کہ وہ پورے لندن کے میئر ہیں کسی خاص طبقے کے نہیں۔45 سالہ صادق خان پاکستانی بس ڈرائیور کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے ڈیوڈ کیمرون حکومت نے پاکستانی نژاد کے پہلے مسلم وزیر ساجد جاوید نے بھی انہیں فوراً مبارکباد بھیجی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹے کی طرف سے دوسرے کو مبارکباد۔ حلف برداری کے موقعہ پر صادق خان نے کہا یہ ڈر پر امید اور تقسیم پر اتحاد کی جیت ہے۔ صادق کو 57 فیصد ووٹ ملے ہیں جو برطانیہ میں کسی لیڈر کو ملا اب تک کا سب سے بڑا مینڈیٹ ہے۔ اس سے برطانیہ کی راجدھانی میں لیبر پارٹی کی واپسی ہوئی ہے جو 8 سال سے اقتدار سے باہر ہے۔ اپنی کامیابی تقریر میں خان نے لندن کو دنیا کا سب سے عظیم شہر قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ان کے جیسا کوئی شخص لندن کا میئر چنا جائے گا۔ خان نے کہا لندن تمہارا شکریہ ، میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک لندن کے شہری کو وہ موقعہ ملے جو مجھے اور میرے خاندان کو ہمارے شہر نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا موقعہ صرف وجود بنائے رکھنے کا نہیں بلکہ کامیابی کا ہے۔ گولڈ اسمت کی طرف سے چلائی گئی تقسیم کاری مہم کا درپردہ حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا یہ چناؤ بغیر کسی تنازعے کے نہیں ہوا اور مجھے بہت فخر ہے کہ لندن نے خوف سے بالاتر امید اور تقسیم کے اوپر اتحاد کو چنا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم گولڈ اسمت سورگیہ ارب پتی سر جیمس گولڈ اسمت کے صاحبزادے ہیں اور عمران خاں کی سابق اہلیہ جمیمہ خاں کے بھائی ہیں۔ جمیمہ پاکستان کے کرکٹر سے لیڈر بنے عمران خاں کی سابق اہلیہ ہیں۔ جمیمہ نے بھی بعد میں ٹوئٹ کیا، دکھی ہوں کہ جیک کی مہم اس طرح سے نہیں چل سکی جتنا میں انہیں جانتی ہوں وہ ایک ماحولیاتی ہتیشی، ایماندار اور آزاد خیال والے لیڈر ہیں۔ بتا دیں کہ صادق خاں سب سے پہلے اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب انہوں نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے برطانیہ دورہ کی مخالفت کی تھی۔
(انل نریندر)

08 مئی 2016

اترپردیش کانگریس کے سنگھم:راہل گاندھی

کانگریس کے چناؤکمپین کے برانڈ امبیسڈر پرشانت کشور جو کہ اترپردیش میں کانگریس کے اہم حکمت عملی ساز مقرر ہوئے ہیں ، کو صوبے میں ایک ایسا چہرہ چاہئے جو پارٹی میں گروپ بندی ختم کرنے کے ساتھ سبھی کو ایک ساتھ لیکر چلنے میں اہل ہو۔ پارٹی کے روایتی ووٹ بینک کو راغب کرسکے۔ انہوں نے اس سلسلے میں کانگریس نائب صدر راہل گاندھی و پرینکا گاندھی واڈرا کا نام تجویز کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ راہل گاندھی کو یوپی میں کانگریس کے امکانی وزیر اعلی کے طور پر پیش کیا جائے۔ اترپردیش کے گورکھپور کانگریس کے ورکروں نے تو ایسے پوسٹر بھی لگا دئے ہیں، جن میں راہل گاندھی کو ’’سنگھم‘‘ کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ اس میں راہل اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو خبردارکرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سال 2017ء میں پردیش میں وہ آر رہے ہیں۔ ایسے میں اب بلوائی کرپٹ ، دبنگی اور گھوٹالہ باز ہوشیار ہوجائیں۔ راہل کا یہ پوسٹر تنازعوں میں گھر گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس پوسٹر کو لیکر کانگریس کو نشانہ بنایا ہے۔ غور طلب ہے کہ اگلے سال اترپردیش میں اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں۔ خود راہل گاندھی نے بھی اس پوسٹر کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے۔ ایتوار کو شہر کے مختلف چوراہوں پر یہ پوسٹر دیکھا گیا۔ پوسٹر میں وزیر اعلی اکھلیش یادو، بھاجپا کے پردیش پردھان کیشو پرساد موریہ،ایم آئی ایم آئی ایم کے لیڈر اسد الدین اویسی کو ہاتھ جوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہیں بسپا چیف مایاوتی کی تصویر بھی ہے۔ اس پورے پوسٹر تنازع پر کانگریس کے ضلع پردھان سید جمال کا کہنا ہے کہ پوسٹر وار کی شروعات تو اپوزیشن پارٹیوں نے ہی کی تھی۔ کانگریس ورکر کسی مقدمے سے ڈرنے والے نہیں ہیں، ہر لڑائی کے لئے تیار ہیں۔ اطلاع کے مطابق پرشانت کشور چاہتے ہیں کہ کانگریس وزیراعلی کی شکل میں راہل گاندھی کو نمبر ون پسند کی شکل میں پیش کرے۔ دوسرے نمبر پر پرینکا گاندھی واڈرا اور تیسرے نمبر پر دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت ہوں۔ میڈیا میں سرخیاں بننے کے بعد بھی پرشانت کشور نے نہ تو ان خبروں کی تردید کی اور نہ ہی حمایت۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی نے بھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل اور یوپی کے انچارج مدھو سودن مستری نے کہا کہ وہ راہل ، پرینکا کو پی ایم عہدے کے دعویدار مانتے ہیں۔ وہ اس عہدے کے لئے ہیں نہ کہ وزیر اعلی کے عہدے کے لئے۔ سینئرلیڈر جے رام رمیش نے کہا جہاں تک وہ جانتے ہیں راہل گاندھی امیٹھی سے ایم پی اور پارٹی کے نائب صدر ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اس سال کے آخر (2016) میں راہل کانگریس کے قومی صدر بن سکتے ہیں۔ ایسے میں اترپردیش کا وزیر اعلی بنانے کا خیال کہاں سے آیا وہ نہیں بتا سکتے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ انہیں کیا پتہ نام تو میڈیا ہی چلاتی ہے۔ دیکھیں حکمت عملی ساز پرشانت کشور کی تجویز پر عمل ہوتا ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

دہلی پولیس نے ایک بار پھر دہلی کو دہلنے سے بچایا

دہلی پولیس کی آئے دن نکتہ چینی ہوتی رہتی ہے لیکن جب وہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تعریف میں کنجوسی کیوں ہوتی ہے؟ دہلی پولیس نے ایک بار پھر ایسا کام کیا ہے جس کی تعریف ہونی چاہئے۔ دہلی پولیس اسپیشل سیل کی چوکسی سے ایک بار پر دہلی کودہلانے کی ممنوع آتنکی تنظیم جیش محمد کا پلان ناکام کردیا ہے۔ یا یوں کہیں راجدھانی دہلی، اس کے آس پاس کے علاقے اور اترپردیش کوکئی خوفناک آتنکوادی حملوں سے بچا لیا ہے۔ پٹھانکوٹ آتنکی حملے کو انجام دینے والی آتنکی تنظیم جیش محمد دہلی میں اپنی جڑیں جمانے کی کوشش کررہی تھی۔ جیش محمد کا ساجد ماڈیول دہلی میں آدھا درجن مقامات پر بم دھماکے کرنا چاہتا تھا۔ اسپیشل سیل کے مطابق آتنکی ساکیت میں واقع سٹی کے منتخبہ مال سمیت کئی بھیڑ بھاڑ والے بازاروں کی ٹوہ لے چکے تھے۔ ساجد خان خود ٹوہ لینے آیاتھا۔ افسران نے بتایا تھا کہ ساجد ماڈیول میانمار میں ہو رہے فسادات سمیت ہندوستان میں ہوئے دنگوں کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔یوپی اور دہلی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بدھوار کو 3 آتنک وادیوں کو میڈیا کے سامنے کورٹ میں پیش کیا۔ وہیں 13 مشتبہ کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ جاری ہے۔ اسپیشل سیل کے اسپیشل پولیس کمشنر اروند دیپ کے مطابق اسپیشل سیل کو پتہ لگا تھا کہ جیش محمد کے دہشت گرد دہلی، این سی آر میں بڑی آتنکی واردات کو انجام دینے والے ہیں۔ اس کے لئے کئی مقامات کی ٹوہ لی گئی ہے۔ آتنکی منصوبوں کو ناکام کرنے کے لئے اسپیشل سیل کی ٹیم قریب چھ مہینے سے کام کررہی تھی۔ خفیہ ایجنسیوں کی مدد لی گئی اور مخبر بھی تعینات کئے گئے۔ ٹیم نے جیش محمد کی دہشت گردوں کی پہچان کی اور ان کی ملاقاتوں پر نظر رکھی۔ ان دہشت گردوں سے 11 بیٹری، 2 ٹائمر، 3 پائپ، 250 گرام عمدہ کوالٹی کا بلیک پاؤڈر کے علاوہ جہاد سے متعلق لٹریچر و مسعود اظہر کی تقریر بھی برآمد کی گئی۔ ساجدماڈیول کے ممبر واٹس ایپ گروپ پر چیٹ کرتے تھے۔ ساجد نے واٹس ایپ گروپ بنا رکھا تھا۔ 2 دسمبر 2015ء کو پٹھانکوٹ حملہ کے بعد یہ صاف ہوگیا تھا کہ جیش پھر سے بھارت میں دہشت گردانہ سرگرمیاں چلانے کے لئے سرگرم ہے۔ اس لئے ہم پولیس کے دعوے کو مسترد نہیں کرسکتے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ساجد بم بناتے وقت زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں علاج کے لئے بھرتی ہوا تھا اور یہیں سے ان کو کامیابی ملی تھی۔ دہلی کے علاوہ لونی اور ایک مشتبہ کو دیوبند سے بھی گرفتار کیا گیا۔ دیوبند سے مشتبہ آتنکی پکڑے جانے سے کھلبلی مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق شاکر انصاری پانچ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ وہ روزانہ موبائل ریچارج، جوتے اوردیگر چھوٹا موٹا الیکٹرانک سامان فروخت کرتا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جیش محمد نے سلیپر سیل بنانا شروع کردیا ہے یا اس کے چیف مولانا مسعود اظہر سے متاثر ہوکر کچھ گمراہ نوجوان پر آتنکی واردات کرنے کا پاگل پن سوار ہوگیا ہے تو یہ ہمارے لئے تشویش کا باعث ہے۔ ممکن ہے کہ اس سلیپر سیل میں اور بھی کئی ممبر ہوں۔ آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ دراصل مغربی اترپردیش دہشت گردوں کا سلیپنگ ماڈیول کا گڑھ بن چکا ہے۔ بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی گرفتاری نے خفیہ ایجنسیوں کی نیند اڑادی ہے۔ خفیہ ذرائع کا دعوی ہے کہ مغربی اترپردیش میں سیمی کے سلیپنگ ماڈیول کی تعداد 42 ہے۔ دعوی ہے کہ جیش ایک بار پھر مغربی یوپی میں نیٹورک کھڑا کرنے کی کوشش میں ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ جیش نے اس بار جو بلیو پرنٹ تیار کیا ہے وہ مغربی یوپی کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق دہلی میں واردات کے لئے مغربی یوپی کو خاص مفید مانا گیا ہے۔ کیونکہ مغربی اترپردیش دہلی سے لگا ہوا ہے۔ ساتھ ہی زیادہ تر شہروں میں گھنی آبادی ہے اس لئے یہاں پر انہیں چھپنے میں آسانی ہے۔ ہم دہلی پولیس کوجہاں اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں وہیں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ پولیس خفیہ مشینری اور مخبروں کو پوری طرح سے الرٹ رہنا ہوگا کیونکہ سلیپر سیل کتنا بڑا ہے اس کا ابھی پتہ نہیں چلا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...