Translater

12 ستمبر 2014

سی بی آئی چیف رنجیت سنہا نے اپنی ساکھ اور ایجنسی کے وقار پر بھی داغ لگایا!

دیش کی سب سے بڑی وقاری جانچ ایجنسی سی بی آئی اس وقت بحران کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے کہ اس کے وجود اور اس کی غیر جانبداری پر ہی سوالیہ نشان کھڑے ہوگئے ہیں۔ جب بھی کوئی بڑاواقعہ یا گھوٹالہ کا معاملہ سامنے آتا ہے تو اس کی جانچ سی بی آئی سے کروانے کی مانگ اٹھنے لگتی ہے۔ لیکن جب اس ایجنسی کے سربراہ اعلی پر ہی سنگین الزام لگنے لگیں تو ظاہر سی بات ہے کہ ایجنسی کی غیر جانبداری اور اس کی پاک دامنی پر ہی سوال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے طریقہ کار پر اٹھے سوالات سے رنجیت سنہا کی شخصی ساکھ تو داؤ پر لگی ہی ہے بلکہ ساتھ ساتھ انہوں نے ایجنسی کو بھی بھاری دھکا پہنچایا ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم جانچ کے دوران ملزمان سے ملنے کے الزامات پر جواب طلب کر چکی سپریم کورٹ نے اب کول گیٹ گھوٹالے میں بھی ان سے سوالات پوچھے ہیں۔ رنجیت سنہا پر کوئلہ گھوٹالے میں بھی جانچ کے دوران ملزمان سے ملنے کے ثبوت ملے ہیں۔ دونوں ہی معاملوں میں سپریم کورٹ نے ان کے سرکاری مکان کے استقبالیہ دفتر میں رکھے رجسٹر کو اہمیت دی ہے اور پہلی ہی نظر میں الزامات کو سنگین مانا ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے سامنے مشکل چیلنج کھڑا ہوگیا ہے۔ وہ ایسے دو گھوٹالوں سے وابستہ معاملوں میں پھنس گئے ہیں جن کی وجہ سے سابقہ یوپی اے سرکار کی ساکھ داغدار ہوگئی تھی۔عوامی رائے اور عدلیہ کی نگاہوں میں یہ دونوں معاملے ٹو جی گھوٹالے اور کول گیٹ بیحد حساس ہیں لیکن یہ سب جانتے ہوئے بھی سی بی آئی چیف ٹو جی اسپیکٹرم اور کوئلہ گھوٹالوں کے ملزمان سے کھلے عام ملتے رہے ہیں۔ اسے انجانے میں ہوئی بھول ماننے کو شاید کوئی تیار ہوگا۔ اس معاملے کا خلاصہ ہونے پر انہوں نے ایک طرف اس کتاب کے جواز پر سوال اٹھائے جس میں ان کے مکان پر آنے جانے والے لوگوں کی تفاصیل درج تھیں ساتھ ہی یہ دلیل بھی دی کہ ایسی ملاقاتوں میں کوئی معاملہ غیر ضروری نہیں ہے۔ صاف ہے ان متضاد دلائل کو سپریم کورٹ نے منظور نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے رنجیت سنہا کے گھر پر ہوئی ملاقاتوں کو بھی سنگین مانا ہے۔ عدالت نے صاف کردیا کہ ان الزامات پر زبانی جواب دینے سے کام نہیں چلے گا۔ 15 ستمبر تک اگلی سماعت پر رنجیت سنہا سے اس بارے میں صاف طور پر تحریری جواب مانگا گیا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ اگر الزام صحیح پائے گئے تو ان دونوں معاملوں میں فیصلے منسوخ ہو سکتے ہیں۔ رنجیت سنہا کے لئے آنے والے کچھ دن فیصلہ کن ہوسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے موقف کی وجہ سے اس بڑی اور سنجیدہ جانچ ایجنسی کی جو خفت ہوئی ہے اس سے سرکار بھی شش و پنج میں مبتلا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سرکار نے ڈائریکٹر سے کچھ جانکاری مانگنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے اشارے بھی دئے ہیں جن کا مطلب یہ نکالا جاسکتا ہے کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کیلئے آنے والے دن اچھے نہیں ہیں۔ ویسے بھی سی بی آئی ڈائریکٹر کا عہدہ دو سال کے لئے ہوتا ہے اس کے پہلے اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔ ایسی صورت میں سپریم کورٹ کو فیصلہ لینا ہوگا۔ ویسے بھی رنجیت سنہا اس سال کے آخر تک اپنے دو سال پورے کر چکیں گے۔ غور طلب ہے غیر سرکاری انجمن سینٹر فار پبلک ریسٹوریٹ لیٹیگیشن کے وکیل پرشانت بھوشن نے الزام لگایا کہ ٹو جی اسپیکٹرم اور دوسرے معاملوں کے کئی ملزم ملزمہ کمپنیوں کے افسران یقینی طور سے نہ صرف سنہا کے گھر پر ملا کرتے تھے بلکہ سنہا کچھ ملزمان کو بچانے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

دنیا کے نمبر ون اسپنر سعید اجمل پر پابندی؟

ایک چونکانے والے فیصلے نے انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے غلط گیند بازی ایکشن (یوکنگ) کے چلتے پاکستان کے بہترین اسپنر سعید اجمل کو معطل کردیا ہے۔آئی سی سی نے منگلوار کو ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ آزاد جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعید اجمل کی گیند بازی ایکشن غلط ہے اور اس لئے انہیں فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے۔ معطل رہنے تک اجمل عالمی کرکٹ میں گیند بازی نہیں کرسکیں گے۔ 2009ء میں بھی ان کے ایکشن پر اعتراض جتایا گیا تھا لیکن پرتھ (آسٹریلیا) میں واقع لیب نے انہیں کلین چٹ دے دی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہمیں اپیل کرنے کے لئے دو ہفتے کا وقت ملا ہے اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔ پاکستان ورلڈ کپ مہم کیلئے سعید اجمل بیحد اہم کھلاڑی ہیں۔پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف کے مطابق سعید اجمل کی گیند بازی پر آئی سی سی کے ذریعے لگائی گئی پابندی ٹیم کی گیند بازی کے لئے بیحد خطرناک ہوگی۔ لطیف نے منگل کو کہا کہ آئندہ اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز اور ورلڈ کپ کے پانچ مہینے پہلے اجمل پر لگی پابندی سے پاکستانی ٹیم کی گیند بازی کی لائن ختم ہوجائے گی۔ اجمل آئی سی سی کی ایک روزہ رینکنگ میں سب سے اوپر ہیں۔ وہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی گیند بازی کی فہرست میں بھی سب سے اوپر 10 نمبر میں شامل ہیں۔ اجمل کے بغیر پاکستانی گیند بازی کو ختم سمجھنا چاہئے۔ ایک دیگر مہان اسپنرعبدالقادر نے کہا کہ آئی سی سی کا رویہ پاکستان کھلاڑیوں کے تئیں امتیازی ہے ان کے سبھی قاعدے اور سزائیں ہمارے کھلاڑیوں کے لئے ہیں تب کبھی ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہمارے کھلاڑی ہی کیوں نشانے پر ہوتے ہیں؟ جب ہم نے ریورس سوئنگ میں ماسٹری حاصل کی تو انہوں نے کہا یہ بے ایمانی ہے اور آج سبھی کہہ رہے ہیں کہ خود اجمل نے کہا کہ میں مایوس ہوں لیکن میں نے اگلے سال ہونے والے ورلڈ کپ میں کھیلنے کی امید نہیں چھوڑی ہے۔ میں اس پابندی کو ایک سنگین معاملہ نہیں سمجھتا۔ میں جانتا ہوں کہ میں اپنی پریشانیوں پر عبور پا لوں گا اور واپسی کرنے کا اہل ہوں۔ اجمل نے مزیدکہا ایک فائٹر ہوں اور جانتا ہوں کہ ورلڈ کپ سے پہلے عالمی کرکٹ میں واپسی کرنی ہوگی۔ ضرورت پڑی تو اپنے ایکشن کو بہتر کرنے کیلئے سابق بڑے گیند بازوں سے صلاح اور ماہرین سے رائے لوں گا۔ جانچ میں پایا گیا ہے کہ اپنے اوور کی سبھی 6 گیندوں پر ان کا ہاتھ 15 ڈگری سے زیادہ گھومتا ہے جو قواعد کے تحت قابل قبول نہیں ہے۔ سری لنکا کے خلاف پچھلے مہینے گالے میں ہوئے ٹیسٹ کے بعد ان کی گیند بازی کے ایکشن کی شکایت کی گئی تھی یہ پہلی بار نہیں جب بر صغیر کے اسپنروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سب سے متنازعہ معاملہ سری لنکائی آف اسپنر متھیا مرلی دھرن کا رہا۔ ان کی کئی بار شکایت کی گئی لیکن بایو مکینک جانچ میں پایا گیا کہ ان کا ہاتھ پیدائشی اسی طرح کا ہے کہ اس سے 15 ڈگری سے زیادہ نہیں موڑا جاسکتا۔ ہندوستانی اسپنر ہر بھجن سنگھ میں اس میں پھنس چکے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں اجمل کھیل پائیں گے اور آئی سی سی اپیل میں ان کے حق میں فیصلہ ہوگا۔
(انل نریندر)

11 ستمبر 2014

سیلاب میں پھنسے کشمیری پوچھ رہے ہیں کہاں ہیں علیحدگی پسند لیڈر؟

محض کچھ دنوں کی موسلہ دھار بارش سے آئے سیلاب نے سرزمیں پر جنت کہلائے جانے والے کشمیر کی تصویر ایسی خراب کردی ہے کہ جسے دیکھ کر دل بیٹھ جاتا ہے۔گذشتہ 60 برسوں میں پہلی بار آئے اس زبردست سیلاب نے وہاں کی عام زندگی کو تباہ کردیا ہے 200 سے زائد جانیں جا چکی ہیں ، قریب400 دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں جن میں 50 بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ جس جموں وکشمیر کی خوبصورتی سے راغب ہوکر سیاح آتے تھے وہاں دور دور تک پانی پانی اور جان بچانے کے لئے لوگوں میں چیخ و پکار کی آوازیں سنائی پڑ رہی ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے بجلی، پانی و مواصلاتی نظام ٹھپ پڑا ہے۔ لوگ اونچی عمارتوں کی چھتوں پر راتیں گزارنے کومجبور ہیں۔ بغیر کھائے پئے مدد کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ہندوستانی فوج کے جوانوں کا جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اب تک ہزاروں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا ہے۔سات دنوں سے سیلاب میں گھرے کشمیر کیلئے فوج اور ایئر فورس اور بحریہ کے جوان کسی فرشتے سے کم نہیں ہیں۔ ابھی تک50 ہزار لوگوں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے بچایا جاچکا ہے۔راحت رسانی مہم اور لوگوں کو نکالنے کا کام دن رات جاری ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوجی اس کام میں لگے ہوئے ہیں ہمیں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی تعریف کرنی ہوگی کہ جنہوں نے اس قدرتی آفت سے بچنے کیلئے فوری کارروائی کی اور مرکز سے نہ صرف ہر ممکن مدد کا اعلان کیا بلکہ ساتھ ہی 1 ہزار کروڑ روپے کی مزید رقم بھی دینے کا فیصلہ کیا جو جاری کردی گئی ہے۔ اس سے پہلے راحت رسانی فنڈ کے ذریعے جموں و کشمیر کو 1100 کروڑ دستیاب کرائے جاچکے ہیں۔ نریندر مودی کے کٹر تنقید کرنے والے کانگریس کے سینئر لیڈر دگوجے سنگھ نے جموں وکشمیر میں سیلاب سے نمٹنے میں وزیر اعظم کی طرف سے دکھائی گئی دلچسپی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں فوج اور پولیس اور سکیورٹی فورس کے راحت رسانی کے کام کے ساتھ ہی وہ بھارت کے وزیر اعظم کی اس بات کیلئے بھی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے بہت تیزی سے کام کیااور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی طرف بھی مدد کا ہاتھ بڑھایا۔ کانگریس کے ایک دیگر سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے بھی کہا کہ سیلاب کے حالات کو لیکر انہوں نے وزیر اعظم سے بات کی تھی اور وہ ان کے رد عمل سے کافی خوش ہیں۔ وزیر اعظم نے ریاست کا دورہ کرنے اور 1 ہزار کروڑ روپے کا راحت پیکیج دینے کا اعلان کرنے میں ذرا بھی دیری نہیں دکھائی۔ قدرت کے قہر سے جنت میں ہوئی تباہی کو دیکھنے کے لئے وادی کے علیحدگی پسند اور حریت کانفرس کے لیڈر اپنے گھروں سے باہر تک نہیں نکلے اور سیلاب متاثرہ لوگوں کی خبر گیری تو دور کی بات ہے بد قسمتی دیکھئے وادی میں جو پتھر باز فوج اور سکیورٹی فورس پر پتھر مارتے تھے وہ بھی اب ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر سر خم ہیں۔ بنیادی طور پر اننت ناگ کے باشندے اور اس وقت سری نگر کے راج باغ میں رہ رہے مشتاق احمد نورابادی کہتے ہیں کشمیر کو تباہ کر چکے علیحدگی پسند اب ہم پر رحم کریں کیونکہ ہم اب کشمیری عوام اس قدرتی آفت میں اپنے مددگار کے طور پر ہندوستانی فورسیز کو ہی دیکھتے ہیں۔ہم کشمیریوں نے گیلانی صاحب کے کہنے پر سکیورٹی فورس پر پتھروں سے حملے کئے اور حالات خراب کئے لیکن آج ہمیں اس مصیبت کی گھڑی میں صرف سکیورٹی فورس ہی بچا رہی ہے۔ ہم نہ صرف سیلاب کے پانی سے گھرے مکانوں سے باہر نکال رہے ہیں بلکہ محفوظ مقامات پر لے جا کر ٹینٹ اور کمبل بھی دئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فورس کے اس چہرے کے بعد ہم خود کو بیحد شرمندہ محسوس کرتے ہیں ہم کیوں علیحدگی پسند لیڈروں کے اشارے پر کشمیر کا ماحول بگاڑ رہے ہیں۔ اب اس تکلیف کے وقت میں نہ تو گیلانی صاحب اور نہ ہی دیگر علیحدگی پسند لیڈر ہماری مدد کیلئے سامنے آرہے ہیں بلکہ وہ خود کو بچانے میں لگے ہیں۔ تکلیف تو یہ بھی ہے کہ اس قدرتی مصیبت میں پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے اور دہشت گردوں کو کشمیر میں دراندازی کرانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ سیلاب اور بارش کے حالات ختم ہونے کے بعد ہی صحیح صحیح جانکاری ہوسکے گی اور جائزہ لیا جاسکے گا کہ اصلیت میں جان و مال کا کتنا نقصان ہوا ہے؟ اس قدرتی آفت میں عمر عبداللہ سرکار بری طرح سے فیل نظر آئی۔ اگر ہندوستانی فوج اور سکیورٹی فورس نے بغیر وقت گنوائے راح رسانی کا کام نہ کیا ہوتا تو تباہی کا منظر کچھ اور ہی ہوتا۔
(انل نریندر)

بھارت کی 77فیصدی لڑکیاں جنسی تشدد کا شکار!

ہمارے دیش میں یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ خواتین ، جوان لڑکیاں اور بچیوں کے خلاف جنسی استحصال کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ صبح اخبار دیکھ کر دل بیٹھ جاتا ہے۔ جب خبر پڑھتے ہیں فلاں جگہ ایک چھوٹی بچی یالڑکی یا خاتون سے آبروریزی یہ بدفعلی ہوئی ہے ۔ اس سلسلے میں یونائیٹڈ نیشنز چلڈرن فنڈ (یونیسیف) کی ایک رپورٹ جاری ہوئی ہے۔اس کا عنوان ہے (Hidden in plain sight) اس میں سماج کے سیاہ پہلو سے روبرو کرایا گیا ہے۔ کچھ ایسی ڈراؤنی سچائی سامنے آئی ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سماج میں لڑکیوں، بچیوں اور شادی شدہ عورتوں کو یا تو جنسی تشدد یا حوس کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ 15 سے19 سال کی عمر میں تقریباً آدھی لڑکیاں اپنے والدین سے جنسی اذیتیں جھیلتی ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ بتاتی ہے سماج میں بچوں کے تئیں مار پیٹ اس قدر چلن بڑھ گیا ہے کہ کئی بار تو اسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے یا عام واقعہ مان کر چھوڑدیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 سے19 سال کی عمر کی77 فیصد لڑکیاں اپنے شوہر یا شریک حیات کے ذریعے کم سے کم ایک بار آبروریزی کا شکار ہوتی ہیں۔ ساؤتھ ایشیائی ملکوں میں ہر پانچ میں سے ایک لڑکی اپنے دوست سے اذیت کا شکار بنتی ہے چاہے وہ شادی شدہ ہو یا نہیں۔ اس معاملے میں بھارت اور بنگلہ دیش دونوں ہی بدنام ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 15 سے19 سال کی عمر کی 34 فیصدی شادی شدہ لڑکیاں شوہروں کی جنسی اذیت یا جذباتی ٹھیس پہنچانے کا شکار ہوتی ہیں۔ اس عمر میں 21 فیصد لڑکیاں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ سنگل کہیں یا غیر شادی شدہ لڑکیوں کو کسی کنبے کے فرد یا کسی دوست یا کسی واقف کار یا یہاں تک کہ ٹیچروں کے جنسی استحصال کا شکار ہونا پڑتا ہے۔آذربائیجان، کمبوڈیا، ہیتی، بھارت ،لائبیریا، سیمور وغیرہ ملکوں میں زیادہ تر معاملوں میں متاثرہ کی ماں یا سوتیلی ماں اس مار پیٹ کیلئے قصور وار پائی جاتی ہیں۔ 2012ء میں لڑکوں کی گھروں میں ہونے والے قتل کے معاملے میں بھارت تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ بھارت میں بھلے ہی 19 سال تک کے تقریباً 9400 بچے اور لڑکیاں مارے گئے تھے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ 15سے19 سال کے درمیان 41 فیصدی لڑکیاں شوہر یا دوست کے ذریعے اپنے ساتھ کی گئی جنسی بدفعلی کو بھی ذمہ دار مانتی ہیں۔ یونیسیف کی اس رپورٹ میں بچاؤ کے اقدامات یا حکمت عملیاں بھی تجویز کی گئی ہیں ان میں والدین کی حمایت کرتے ہوئے بچوں کو زندگی کے آداب سکھانا، ان کے کٹر مزاج کو بدلنا، سوسائٹی کی عدلیہ یا کرمنل وسوشل سسٹم و سروس میں تبدیلی لانے اور تشدد سے زیادہ سے زیادہ ثبوت اکٹھا کر ان کا استعمال کے تئیں بیداری لانا اس سے چکائی جانے وائی انسانی ،سماجی و اقتصادی قیمت کو لوگ سمجھ سکیں گے۔
(انل نریندر)

10 ستمبر 2014

دہلی میں سرکار بننے اور چناؤسے بچنا چاہئے!

اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے میری رائے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو دہلی میں سرکار بنانی چاہئے۔سرکار کے بغیر نہ تو کوئی افسر جوابدہ ہے اور نہ ہی دہلی میں ڈولپمنٹ کا کام ہورہا ہے۔ ممبران اسمبلی کو ساری سہولیات مل رہی ہیں ،عوام لاچار ہے۔ چاہے معاملہ بجلی کا ہو یا پانی کا یا قانون و نظام کا ہو ، ہر سیکٹر میں لاپروائی کا مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ممبر اسمبلی اس لئے پریشان ہیں کہ ان کے کام نہیں ہورہے اور وہ کسی سے شکایت نہیں کرپا رہے۔ چھ ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں دہلی میں صدر راج نافذ ہے۔ بیشک لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ ایک نیک انسان ہیں، ایماندار اور غیر جانبدار لیکن تب بھی دہلی کو ایک چنی ہوئی سرکار کی ضرورت ہے۔ جہاں تک اروند کیجریوال کے ڈراموں کا سوال ہے ہم نے پہلے بہت دیکھے ہیں آج اخلاقیات کی دوہائی دینے والے کیجریوال بھول گئے ہیں جب انہوں نے اپنے بچوں کی قسم کھائی تھی کہ میں کسی سے حمایت لوں گا نہ دوں گا۔ اس کے باوجود انہوں نے کانگریس کی مدد سے سرکار بنائی اور خود وزیر اعلی بن گئے۔ جب آپ نے سرکار بنا ہی لی تھی تو پھر اسے چلانے میں دقت کیوں ہوئی؟ لیکن جن لوک پال کا زبردستی بہانا بنا کر آپ نے39 دنوں کی سرکار چلاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا اور دہلی کو لاوارث چھوڑدیا۔ اگر آپ سرکار چلاتے تو بھی بات تھی لیکن نمبروں کے کھیل میں سارا معاملہ الجھ گیا ہے۔ اسٹنگ آپریشن جیسے ڈرامے کرکے کیجریوال سرکار بننے سے روک رہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں تازہ چناؤ ہونے چاہئیں کبھی نہیں ہونے چاہئیں۔ دہلی میں اگر نئے چناؤ ہوتے ہیں تو بلا وجہ ایک طرف مہنگائی بڑھے گی اور دوسری طرف اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں نئے چناؤ میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت مل پائے اور پھر معلق اسمبلی آجائے تو کیا ہوگا؟ دہلی میں سرکار بنانے کو لیکر بھاجپا اپنے پتے نہیں کھول رہی ہے۔ 15 سال بعد اقتدار کے قریب پہنچنے کے باوجود بھاجپا میں الجھن کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کا رول اہم ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی بھاجپا پردیش پردھان ستیش اپادھیائے نے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے سرکار بنانے کیلئے مدعو کرنے اور اس کے بعد اسمبلی پارٹی کا لیڈر چننے کی بات کرکے گیند اب ایل جی کے پالے میں ڈال دی ہے۔ آئینی معاملوں کے واقف کاروں کے مطابق نجیب جنگ کے پاس فی الحال دو متبادل ہیں پہلا بھاجپا کو سرکار بنانے کیلئے مدعو کرنا دوسرا اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلا کر اسپیکر کو پیغام بھیج کر لیڈر آف دی ہاؤس کا چناؤ کرانا۔ ان کے مطابق مسلسل پیچیدہ ہوتے حالات میں اسمبلی کے ذریعے سرکار کی تشکیل کے امکانات تلاش کرنا بھی سبھی فریقین کے لئے مفید ہوگا۔ کیا راستہ این سی ٹی سی ایکٹ کی دفعہ9 کے تحت لیفٹیننٹ گورنر اسمبلی اسپیکر کو پیغام بھیج کر لیڈر آف دی ہاؤس کا چناؤ کرانے کو کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کے پیغام سے متعلق پارٹیوں کے لیڈر ایوان کے لئے اپنا امیدوار کھڑا کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ریزولوشن پر خفیہ بیلٹ کو دیکھتے ہوئے نہ تو پارٹیاں وہپ جاری کر سکتی ہیں اور نہ ہی بعد میں اکثریت ثابت کرنے کی ضرورت ہوگی لیکن اس راستے میں بھی کئی خطرات موجود ہیں۔ بھاجپا کے لئے یہ متبادل خطرے بھرا ہے کیونکہ خفیہ ووٹنگ کا فائدہ بھاجپا کو ملنے کی امید ہے اس فائدہ کی حقدار دیگر پارٹیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ ایسے میں ’آپ‘ بھی اگر اپنا امیدوار اتارتی ہے تو ممبران کے ذریعے اسے بھی چننے کی آزادی ہوگی ساتھ ہی کانگریس کے8 اور3 آزاد امیدوار اس صورت میں ایوان سے غیر حاضر ہوئے بنا فیصلہ کن رول میں آئیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دہلی میں عوامی نمائندہ سرکار بنے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ ممبران میں تقریباً سبھی ممبر دوبارہ چناؤ کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ پھر سے کامیاب ہوکر آئیں گے؟ جہاں تک ممکن ہوسکے دہلی کی عوام پر نئے چناؤ کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے اور تنقید کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ساتوں کی ساتوں سیٹ جتا کر دہلی کی عوام نے بھاجپا کو اپنا مینڈیٹ دے دیا ہے۔
(انل نریندر)

دہلی این سی آرمیں سرکاری ہسپتالوں کی قابل رحم حالت!

نہ صرف بھارت میں بلکہ پوری دنیا میں ڈاکٹروں کو بھگوان کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان سے قطعی امید نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے پیشے میں لاپرواہی برتیں یا پھر غیر مناسب طریقے سے زیادہ پیسہ کمانے کیلئے اپنے پیشے کو داغدار کرنے والے ہتھکنڈے اپنائیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کے ڈاکٹر سارے غیر مناسب کام کررہے ہیں۔ غریبوں کیلئے راجدھانی اور این سی آر کے 46 ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت ہے لیکن اسے شاید ہی کوئی نافذ کرتا ہو۔آئے دن خبر آتی رہتی ہے کہ ان تمام ہسپتالوں میں جتنے بستر خط افلاس کی زندگی گزارنے والے کارڈ یافتگان کے لئے محفوظ ہیں اتنا داخلہ نہیں دیا جاتا۔ غریب مریض لاکھوں روپے کا بل دینے کو مجبور ہیں یہاں تک کہ مریض کے ذریعے پیش کئے جانے والے دستاویز میں بھی کوئی نہ کوئی خامی نکال کر معاملہ لٹکا دیا جاتا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں غریب کے علاج کو لیکر سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اگر کسی شخص کی ماہانہ آمدنی 8086 روپے سے کم ہے تو اسے غریب مانا جائے گا۔ دہلی این سی آر کے46 ہسپتالوں میں تقریباً700 بیڈ کو ریزرو رکھنا ہوگا لیکن ایسا ہونہیں رہا۔ ہسپتالوں کا یہ حال ہے ڈاکٹر کبھی کبھی اتنی لاپرواہی برتتے ہیں جس کا کوئی حساب نہیں اب عدالتیں بھی سخت ہوتی جارہی ہیں۔ لاپرواہی کے معاملوں میں عدالتوں نے معاوضہ دلانا شروع کردیا ہے تاکہ ڈاکٹر جوابدہ بنیں اور مریض سے لاپرواہی نہ برتیں۔ حال ہی میں ایک لڑکی میڈیکل لاپروائی کا شکار بننے کے12 سال بعد سپریم کورٹ نے 20 لاکھ روپے معاوضہ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس نے جو پریشانیاں جھلیں ہیں اور مستقبل میں جو پریشانیاں آئیں گی اسے دیکھتے ہوئے یہ معاوضہ مناسب ہے اور دلیل آمیزحکم ہے۔ہسپتال کی لاپرواہی کے سبب دوسالہ بچی کا گوشت گل گیا تھا جس سے اس کا داہنہ ہاتھ کاٹنا پڑا حالانکہ لڑکی کو اگست2000ء میں سردی کھانسی اور بخار کے علاج کیلئے ہسپتال میں داخلکرایا گیا تھا۔ اس کی نسوں میں رقیق دوا ڈالی گئی لیکن نس کی بجائے غلطی سے یہ نازک جگہ پہنچ گئی جس سے داہنے بازو میں خون کی سپلائی بند ہو گئی اور اس کا گوشت سڑ گیا۔ سرکار ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ چھ ماہ سے زیادہ وقت سے دہلی سرکار کے واحد ایک سپر اسپیشلٹی ہسپتال میں نیورو سرجری کے شعبے میں بچوں کے آپریشن ٹالنے پڑ رہے ہیں۔ محض ایک ڈرل مشین نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو آپریشن کے لئے دوسرے ہسپتال بھیجنا پڑ رہا ہے۔ معاملہ دہلی سرکار کے ماتحت جی بی پنتھ ہسپتال کے نیورو سرجری شعبے کا ہے۔ یہاں ڈرل مشین خراب ہونے اور نئی مشین نہ آنے کی وجہ سے بچوں کی نیورو سرجری ٹالنی پڑ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کی مانیں تو بغیر ڈرل مشین کے بچوں کے دماغ کا آپریشن کرنا خطرناک ہے لہٰذا ہسپتال کے ڈاکٹر خطرہ مول لینا نہیں چاہتے اور مریضوں کو دوسرے ہسپتال میں بھیج دیتے ہیں۔یہ تسلی کی بات ہے کہ ہمارے وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن خود ایک ڈاکٹر ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب غریبوں کے علاج میں آئی ان کمیوں کو دور کرنے کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں ضروری سازو سامان پرتوجہ دیں گے اور کمی کو پورا کریں گے۔
(انل نریندر)

09 ستمبر 2014

القاعدہ کی تازہ دھمکی کوسرسری طورپر نہ لیں!

القاعدہ کے چیف ایمن الظواہری نے ہندوستان میں جہاد چھیڑنے سے متعلق جو ویڈیوجاری کیا ہے اسے ہم صرف اس لئے نظرانداز نہیں کرسکتے کہ یہ کمزور پڑتی اس انتہا پسند تنظیم کی لاچاری کی مثال ہے۔ یہ صحیح ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے ابھرنے کے سامنے القاعدہ اب خود کمزور پڑ رہا ہے۔ کچھ دن پہلے ہی امریکہ نے آگاہ کردیا تھا کہ القاعدہ بھارت کو نئے سرے سے نشانہ بنانے کی سازش رچ رہا ہے اس لئے ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کے لئے القاعدہ کے سرغنہ کا نیا ویڈیو ٹیپ کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔ لیکن اس خطرے کی تصدیق ضرور ہوتی ہے کہ یہ ہمارے لئے سنگین تشویش کی بات ہے۔ دراصل القاعدہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اسلام دشمن کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے ایک سرکردہ انسداد دہشت گردی ماہر نے یہ وارننگ دی ہے سی آئی اے کے سابق ماہر برنس ریڈیل نے بتایا کہ اس سال القاعدہ سرغنہ ایمن الظوہری کا یہ پہلا ویڈیو ہے اور اسے بہت سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ ریڈیل کا کہنا ہے کہ القاعدہ کی پاکستان میں بنیاد ہے اس کو لشکر طیبہ کے ساتھ قریبی تال میل ہے اور لشکر انڈین مجاہدین سے رابطے میں ہے۔ اس گٹھ جوڑ کی وجہ سے القاعدہ بھارت کیلئے خطرہ ہے۔ تجزیہ نگار بھلے ہی اسے زیادہ کٹر دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے سامنے اپنے بونے پڑتے وجود کو بچانے کی القاعدہ کی کوشش قرار دیں لیکن بھارت کے تئیں اس کے ارادوں کو ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دیش کی بڑی خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کی میٹنگ بلا کر اس چیلنج کا جائزہ لیا۔ یہ ضروری بھی ہے کیونکہ بھارت کیلئے چوطرفہ خطر ہ ہے۔ جس آئی ایس سے القاعدہ کے خوف سے متاثر ہونے کی بحث چھڑی ہے اس کی پھیلتی بنیاد کے نقشے میں بھارت بھی شامل ہے۔ جب تک عراق میں آئی ایس کے بینر تلے لڑنے کے لئے بھارت سے300 جوانوں کی بھرتی جیسی خبریں آتی رہیں گی تب تک ہمارے لئے چنوتی بڑی ہے۔وزیر اعظم نے صحیح کہا ہے کہ ہر جرائم پیشہ اور دہشت گرد کسی کا لڑکا ، بھائی ، پڑوسی بھی ہے وہیں پر بندش لگے تو یہ زیادہ کارگررہے گا۔ پاکستان۔ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے ساتھ آئی ایس کے بڑھتے اثر کو دیکھتے ہوئے مرکز اور ریاستی سرکاروں کو آتنکی خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ سرگرم ثبوت دینا ہوگا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بھارت سرکار بین الاقوامی سطح پر القاعدہ کے خلاف آتنک واد کے خلاف اور زیادہ سرگرم ہو کیونکہ آتنکی تنظیموں کو درپردہ اور براہ راست طور سے حمایت دینے والے ملکوں اور خاص طور سے سعودی عرب و پاکستان پر کوئی لگام نہیں لگا پا رہی ہے۔ بات چاہے القاعدہ کی ہو یا پھر آئی ایس میں تبدیل ہوئی آتنکی تنظیم کی، ان دونوں کو خوراک اور پانی سپلائی میں سعودی عرب کا رول کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے اپنی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ذریعے طالبان اور القاعدہ کے ساتھ کس طرح قسم قسم کی دیگر آتنکی تنظیموں کو پالنے اور پروان چڑھانے کا کام کیا۔ بدقسمتی یہ ہے دہشت گرد تنظیموں کے ابھارکے پیچھے ایک بڑا رول امریکہ کا بھی ہے جس نے آتنک واد کے خلاف مہم چھیڑی ہوئی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ کی ’وار آن ٹیرر‘ لڑائی اس کے خلاف خطرے تک ہی محدود ہے۔ اسے بھارت کی کوئی تشویش نہیں ہے۔ امریکہ ۔پاکستان کے تئیں اس لئے بھی نرم رخ اختیار کئے ہوئے ہے کیونکہ اسے افغانستان سے نکلنا ہے اور اس کام میں اس کے لئے بھارت سے زیادہ پاکستان کارآمد ہے لہٰذا دہشت گرد تنظیموں کے ارادوں کو ناکارہ کرنے کے لئے بھارت کو اپنے سکیورٹی سسٹم، خفیہ ایجنسیوں، مرکز اور سرکاری تال میل کو چست درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی دیش میں فرقہ وارانہ بھائی چارہ بنا رہے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ ہمارے دیش مخالف دیش اس کمزوری کو ہمارے خلاف استعمال نہ کرنے کی چال میں کامیاب نہ ہوپائے۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ کا لائق خیر مقدم فیصلہ!

آدھی سے زیادہ سزا کاٹ چکے تہاڑ جیل میں بند زیر سماعت قیدیوں کو سپریم کورٹ نے رہا کرنے کا جو حکم دیا ہے وہ لائق خیر مقدم ہے۔ بڑی عدالت نے سبھی چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ اور سیشن ججوں سے جیلوں میں عدالتیں لگا کر آدھی سے زیادہ سزا کاٹ چکے قیدیوں کو فوراً رہا کرنے کو کہا ہے۔ یہ عدالتیں لگاتار دو ماہ تک لگانی ہوں گی۔ اس فیصلے سے غریب قیدیوں کو بڑی راحت ملے گی جو ضمانت یا بانڈ کا انتظام نہیں کرپاتے۔ چیف جسٹس آر ۔ ایس لوڈھا کی سربراہی والی بنچ نے جمعہ کو جوڈیشیل مجسٹریٹ کو 1 اکتوبر سے عدالتی کارروائی شروع کرنے کو کہا ہے۔ اس کے بعد سبھی مجسٹریٹ اپنے ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو اس کی رپورٹ بھیجے گے۔ ہائی کورٹ رجسٹرار اس رپورٹ کو سپریم کورٹ میں داخل کریں گے۔ بنچ کا کہنا ہے اس معاملے کی سماعت اب8 دسمبر کو ہوگی کیونکہ مودی سرکار بھی اس پر غور کررہی تھی اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ جلد ہی سپریم کورٹ کے حکم پر عمل شروع ہوگا اور ہزاروں قیدیوں کو جیل کی سلاخوں سے نجات ملے گی۔ اس وقت جیلوں میں موجود ہر تیسرا قیدی جرم کی سزا کاٹ رہا ہے باقی تو جیل میں رہ کر فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔سست جوڈیشیل سسٹم اور کئی برس تک چلنے والے مقدموں کی وجہ سے نہ تو ان کی سزا پر فیصلہ ہوپارہا ہے اور نہ ہی ان کی رہائی پر۔ کئی تو اپنے جرم کیلئے مقرر سزا سے زیادہ دن کاٹ چکے ہیں۔ بہت سے قیدیوں کے پاس ضمانت یا مچلکہ بھرنے کے لئے پیسے تک نہیں ہیں اس لئے مجبوری میں جیل میں رہنا پڑرہا ہے۔ جیلوں میں اس وجہ سے قیدیوں کی مقرر تعداد سے زیادہ قیدی بھرے جارہے ہیں اندازہ ہے دیش کی جیلوں میں اس وقت قریب تین لاکھ 85 ہزار قیدیوں میں تقریباً2 لاکھ54 ہزار قیدی زیر سماعت ہیں۔ کچھ معاملوں میں تو زیر سماعت قیدی اپنے جرم کے لئے ملنے والی اصل سزا سے بھی زیادہ وقت جیل میں گزار چکے ہیں۔ آئی پی سی کی دفعہ436(A) زیر سماعت قیدی کو میادہ سے زیادہ میعاد تک حراست میں رکھنے کے بارے میں ہے اس میں یہ سہولت ہے کہ اگر ایسا قیدی جو زیر سماعت رہتے ہوئے اپنے جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا کی میعاد جیل میں گزار چکا ہو تو کورٹ اسے ذاتی مچلکہ پر یابغیر کسی ضمانتی کی رہا کرسکتی ہے۔مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد سنگھ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ دیش کی جیلوں میں کل جتنے قیدی ہیں ان میں 66 فیصد زیر سماعت ہیں یعنی ان کا جرم طے نہیں ہوسکا ہے۔ معمولی الزامات میں گرفتار قیدیوں کے برسوں تک جیل میں پڑے رہنے سے ظاہر ہے کہ اسے آئین میں دستیاب شہری حقوق کی سخت خلاف ورزی مانا جائے گا۔ اگر مقدمے کا فیصلہ آنے تک ایسے قیدی الزام سے بری ہوجاتے ہیں جیسا کہ اکثر ہوتا ہے ، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان کی زندگی کے بیش قیمتی برسوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کیسے ہوگی اور اس کے لئے کون ذمہ دار ہوگا؟ بڑی تعداد میں غریب خاندانوں سے آئے زیر سماعت قیدی اسلئے بھی جیل میں پڑے رہتے ہیں کیونکہ ان کی ضمانت لینے اولا کوئی نہیں ہوتا۔ اتنی بھاری تعداد میں زیر سماعت قیدیوں کا ہونا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے عدالتی سسٹم کی سست روی اور جرائم و انصاف کے عمل کی ناقابلیت کا ثبوت ہے اس لئے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ لائق خیر مقدم ہے۔
(انل نریندر)

07 ستمبر 2014

نٹھاری ہتیا کانڈ: موت نزدیک بے خوف کھلنائک!

16 بچوں کویون شوشن کے بعدبے دردی سے قتل کرنے والانٹھاری کانڈ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔اہم ملزم سریندر کولی کومیرٹھ جیل میں 7سے12 ستمبر کے درمیان کسی بھی دن پھانسی پر لٹکایا جاسکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نوئیڈا کے پاس نٹھاری میں مشہور زمانہ اور خوفناک واقعہ میں 16 بچوں کی سلسلہ وار جنسی ذیادتی کے بعدقتل کرنے کے مجرم سریندر کولی کو 5 معاملوں میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ17 معاملے ابھی بھی زیر التوا ہیں۔ دیش کو جھنجھوڑ دینے والے نٹھاری کانڈ کے اہم ملزم کے ڈیتھ وارنٹ کوجاری ہوئے ساڑھے تین سال کا وقت گزر چکا ہے۔ ڈیتھ وارنٹ کو عمل میں لانے کی ساری رکاوٹیں ختم ہوچکی ہیں۔ سال2006ء میں نوئیڈا کے سیکٹر31 کی ڈی۔5 کوٹھی کے نالے میں ایک درجن سے زیادہ معصوموں کے کنکال برآمد ہوئے تھے۔ معاملے میں مونیندر سنگھ پنڈھیر و نوکر سریندر کولی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جنوری 2007 ء میں کیس سی بی آئی کو سونپا گیا تھا۔ معاملے میں مونیندر سنگھ پنڈھیر اورسریندر کولی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے مونیندر سنگھ کو پھانسی کی سزا کو راحت دے دی جبکہ سریندر کولی کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔ سی بی آئی کے خصوصی جج ایس۔ لال نے سال2011 ء میں کولی کا ڈیتھ وارنٹ جاری کیا اس پر کولی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دوبارہ نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی تھی ساتھ ہی راشٹرپتی کے پاس رحم کی درخواست دائر کی گئی۔ جولائی2014ء میں سپریم کورٹ نے اور بعد میں راشٹرپتی نے درخواست کو خارج کردیا۔ ویسے بیشک ڈیتھ وارنٹ تو جاری ہوگیا ہے لیکن اب بھی وہ سپریم کورٹ میں نئی نظرثانی کی درخواست داخل کر اپنی موت کی تاریخ پر پھر روک لگوا سکتا ہے۔ ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کی اطلاع ملنے کے باوجود کولی کے رویئے میں کوئی بدلاؤ دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔یہ سزا یافتہ ملزم اب اپنی موت کی گھڑیاں گن رہا ہے۔سولی پر لٹکائے جانے سے پہلے کولی کی کوئی آخری خواہش نہیں ہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ سریندر کولی کو ایسے گھناؤنے کانڈ کا کوئی پچتاوا نہیں ہے۔ سلاخوں کے پیچھے وہ 7 سال8 مہینے سے زیادہ کا وقت گزار چکا ہے۔جیل محکمے کے ڈائریکٹر جنرل آر ۔ آر بھٹناگر نے بتایا کہ کولی کو7 سے12 ستمبر کے درمیان کسی بھی دن پھانسی دی جائے گی۔ پون نام کے جلاد کے ذریعے پھانسی چڑھائے جانے کے امکانات ہیں۔ میرٹھ جال میں39 سال بعد کسی کو پھانسی ہوگی۔ وہاں آخری پھانسی 1975ء میں مظفر نگر کے کرن سنگھ کو ہوئی تھی۔ کولی کو اگر پھانسی ہوتی ہے تو میرٹھ جیل میں یہ18 ویں پھانسی ہوگی۔ کولی کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کی خبر سے نٹھاری کانڈ کے متاثر خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی حالانکہ جو لوگ اس کانڈ کے شکار ہوئے ہیں ان کی واپسی تو نہیں ہوسکتی مگر ان کی آتما کو شانتی ضرور ملے گی۔ سریندر کولی کو پھانسی ملنے کے بعد ہی میرے بچوں کو انصاف ملے گا یہ کہنا ہے منگو لال متاثر کا۔ مونیندر سنگھ پنڈیر کو بھی پھانسی ہونی چاہئے ۔ جب دونوں ملزم پھانسی کہ پھندے پر لٹکیں گے تبھی بچوں کی آتما کو شانتی ملے گی۔ ایک اور متاثر کا کہنا ہے کہ انصاف ملنے میں دیر لگی ہے لیکن یہ بچوں کے حق میں دیا گیا فیصلہ ہے۔ سریند ر کولی کو پھانسی ملنا ہی بچوں کو شردھانجلی ہوگی۔ میرا بیٹا کبھی لوٹ کر نہیں آسکتا لیکن ان دونوں کو پھانسی کی سزا ملنے سے دل کو سکون ضرور ملے گا۔
(انل نریندر)

821 سالوں کے بعد تاریخ دوہرانے کی راہ پر نالندہ وشو ودیالیہ!

پورے دنیا میں تعلیم اور علم کے میدان میں پہچان بنانے والے نالندہ وشو ودیالیہ کا تصورحقیقت بن گیا ہے۔سوموار کو آٹھ صدیوں کے بعد نالندہ نے پھر تعلیم کی مند مند بیار بہنی شروع ہوئی ہے۔ 821 سال بعد اس وشوودیالیہ کی بنیادی روح تاریخی مہاوہار کی طرز پر ہے۔ پانچویں صدی میں گپت شاسک کمار گپت پرتھم(450-470) کے ذریعے قائم اس وشوودیالیہ کو تین بار غیر ملکی حملہ آوروں نے ڈھایا۔ اب 21 ویں صدی میں ایک بار پھر نالندہ اپنے وقار کو قائم کرنے کی کوششوں میں ہے۔لال پتھروں سے بنے تاریخی نالندہ وشوودیالیہ کے کھنڈروں سے 10 کلو میٹر دور راجگیر میں 446 ایکڑ میں اسے دوبارہ شروع کیا جارہا ہے جو2021 ء تک پورا ہوگا۔ایشیا کے ساتھ پوری دنیا کے طالبعلموں کے لئے تعلیم کے سب سے بڑے مرکز رہے نالندہ میں دو غیر ملکی اور آٹھ ہندوستانی طالبعلموں کے ساتھ تدریسی کام شروع ہوگا۔ اس وقت کے مہاوہار میں بدھ دھرم کے مہایان اور ہری یان فرقوں کے مذہبی گرنتھوں کے علاوہ ہیتوودھا(انصاف) شبد ودھا (ویاکرن) چکتسا ودھا اور ویدوں کی پڑھائی ہوتی تھی۔ نئے وشوودیالیہ میں 7 موضوعات پر فی الحال پڑھائی ہوگی۔ اس میں تاریخ وماحولیاتی سائنس کے علاوہ بدھشٹ اسٹڈیز، فلاسفی اور کمپریٹیو ریلیجنس، لنگوسٹکس اینڈ لٹریچر، انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ پیس اسٹڈیز اور انفارمیشن سائنس اینڈ ٹکنالوجی موضوعات پر پڑھائی ہونی ہے۔ تاریخی نالندہ وشوودیالیہ کی طرز پر بین الاقوامی وشو ودیالیہ قائم کرنے کا خواب چاہے پورا ہوگیا ہو لیکن اس کا تصور کرنے والے سابق راشٹرپتی اے۔ پی۔ جے عبدالکلام کو اس کا سہرا جاتا ہے۔28 مارچ 2006ء کو کلام نے اپنے بہار دورہ کے سلسلے میں سابق وشوودیالیہ کو دوبارہ زندہ کرنے کی صلاح دی تھی۔ یہ خیال انہوں نے بہار ودھان منڈل کے مشترکہ سیشن کو خطاب کرتے ہوئے رکھا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعلی نتیش کمار نے اس تصور کو سچ کرنے کیلئے کافی کوششیں کیں اور نالندہ کی زمین ایک بار پھراپنی سنہری تاریخ کو دوہرا رہی ہے۔ حکومت ہند نے2007ء میں نوبل انعام جیتنے والے امرتیہ سین کی قیادت میں نالندہ مینٹر گروپ قائم کیا۔ اس گروپ میں چین، سنگاپور، جاپان اورتھائی لینڈ کے نمائندوں کو شامل کیا گیا جس سے اس وشوودیالیہ کی بین الاقوامی سانجھے داری ہوسکے۔اس مینٹر گروپ کو ہی وشوودیالیہ کی گورننگ باڈی کے روپ میں بدل دیا گیا۔چانسلر ڈاکٹر گویا سبروال نے کہا کہ کئی جھنجھٹوں کو جھیلتے ہوئے ہم نے اپنے نشانے کی پہلی کڑی پار کرلی ہے۔کئی رکاوٹیں آئیں الزامات پر الزامات لگائے گئے لیکن ایک کے بعد ایک سبھی الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ ہم اپنی منزل کی جانب بڑھتے گئے نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ڈین ڈاکٹر شرما نے کہا کہ جیت کا دوسرا نام نالندہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ترک حملہ آوربختیار خلجی نے 1193ء میں نالندہ وشوودیالیہ کو ڈھا کر ہزاروں بودھ بھکشوؤں کو ماردیا تھا۔ حملہ آوروں کے ذریعے آگ لگائے جانے کے بعد نالندہ کی وشال لائبریری تین ماہ تک جلتی رہی تھی۔ اس تاریخی حصولیابی کیلئے سبھی کو بدھائی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...