اشاعتیں

نومبر 16, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پی کے کیوں چاروں کھانے چت ہوئے

2025 کے بہار اسمبلی انتخابات پرشانت کشور اور ان کی جن سورج پارٹی کے لیے پہلا بڑا انتخابی امتحان تھا۔ اس انتخاب نے پرشانت کشور کی اپنی پیشین گوئی کو ثابت کر دیا کہ ان کی پارٹی یا تو اوپر اٹھے گی یا نیچے گر جائے گی۔ نتائج نے پارٹی کو نیچے رکھا۔ پرشانت کشور کی تصویر پر بنائی گئی جارحانہ اور وسیع مہم کے باوجود جن سورج پارٹی اپنے ابتدائی جوش کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔ اس نے 243 میں سے 238 سیٹوں پر الیکشن لڑا، ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔ دس میں سے چار رائے دہندگان (تقریباً 39 فیصد) نے فون کال، ایس ایم ایس، واٹس ایپ، یا سوشل میڈیا کے ذریعے پارٹی کی طرف سے کم از کم ایک سیاسی پیغام موصول کرنے کی اطلاع دی، جس میں سب سے زیادہ تعداد بی جے پی کی ہے۔ اسی طرح 43 فیصد نے گھر گھر رابطہ کرنے کی اطلاع دی، جس سے جن سورج پارٹی ووٹروں سے رابطہ کرنے کے اس طریقہ کار کے لحاظ سے تیسری سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ رابطے کی اس سطح نے پارٹی کو عملی طور پر بہار کی بہت سی زیادہ قائم پارٹیوں کے برابر کر دیا ہے۔ اتنی موجودگی کے باوجود اس کی حمایت محدود رہی۔ اس کے بعد سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا پرشانت ...

بہار نتائج قومی سیاست پر گہرا اثر کریں گے

بھارت میں 10 سال سے مرکز اور زیادہ تر ریاستوں میں سرکار چلا رہی بی جے پی جب لوک سبھا چناؤ2024 میں 240 سیٹوں پر اٹک گئی اور بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں آئی تو کئی تجزیہ نگاروں کو لگا تھا کہ یہاں سے ہندوستانی سیاست میں شاید بی جے پی ڈھلان پر آجائے لیکن اسکے بعد سے دیش کی کئی ریاستوں میں ہوئے چناؤ میں مسلسل جیت کر بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ یہ جائز ے کہیں نہ کہیں غلط تھے ۔ہریانہ مہاراشٹر دہلی اور اب بہار میں جیت درج کرنے کے بعد بی جے پی نے یہ ثابت کر دیا وہ چناؤ جیتنا جانتی ہے ۔آج بھی چناؤی حکمت املی بنانے اور اسے کامیاب کرنے میں بی جے پی کے سامنے کوئی سیاسی پارٹی ٹھہرتی نہیں ہے تازہ مثال بہار کی ہے ۔اب بھارت کے اہم ہندی زبان والی ریاست بہار میں بھی بی جے پی ،جے ڈی یو اور کئی علاقائی پارٹیوں کے این ڈی اے اتحاد نے غیر متوقع اور بے مثال جیت درج کی ہے ۔بہار اسمبلی چناؤ کا نتیجہ بھارت و قومی سیاست پر گہرا اور دورندیشی اثر ڈال سکتا ہے۔یہ نتیجہ بی جے پی کےلئے ایک بڑی جیت اور مثبت اشارے کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے جس نے مرکز کی این ڈی اے سرکار اور اسکی قیادت کو مضبوطی دی ہے وہیں اپوزیشن...

بہار میں نتیش کمار کی بھروسہ مندی!

بہار اسمبلی چناؤ کے نتیجوں نے یہ تو ثابت کر ہی دیا ہے کہ 20سالہ عہد کے بعد بھی نتیش کمار کا ابھی بھی بھروسہ بنا ہوا ہے۔آج بھی نتیش بہار کے سب سے بڑے مظبوط لیڈر ہیں۔ اسمبلی چناؤ مہم کے دوران انکی صحت اور سرگرمی پر سوال چھائے رہے۔میڈیا سے انکی دوری کچھ سطحوں سے انکے بیان اور انکے ترج عمل پر لوگ سوال پر سوال اٹھا رہے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اسٹیج پر انکی غیر موجودگی اور روڈ شو میںبرابر نہ شامل ہونا تنازعہ اشو بنا ہوا تھا۔بہار کے اپوزیشن لیڈر تجسوی یادو نتیش کمار لاچار وزیر اعلی کہتے تھے لیکن یہ سب کے باوجود بہار کے عوام کہ رہے تھے نتیش کمار کی پارٹی اس مرتبہ اچھی پرفارمینس پیش کرے گی۔جے ڈی یو نے غیر متوقع جیت درج کی پارٹی دفتر سے لےکر وزیر اعلی ہاؤس تک پوسٹر لگے۔ٹائگر ابھی زندہ ہے جے ڈی یو کے نگراں صدر سنجے جھا پہلے سے ہی اپنے انٹرویو میں کہہ چوکے تھے نتیش کمار کو جب جب ہلکے میں لیا جاتا ہے تو وہ اپنی پرفارمینس میں لوگوں کو چوکاتے ہیں۔ اس بار بہار میں 67.3فیصد پولنگ ہوئی جو پچھے چناؤ سے 9.6فیصد زیادہ ہے۔مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا پولنگ 8.15فیصد زیادہ رہا۔عام طور پر یہ مانا گ...