Translater

18 جولائی 2020

خاتون کانسٹبل سے بدتمیزی میں وزیر کا بیٹا گرفتار!

گجرات کے شہر صورت میں لیڈی کانسٹبل سے بدتمیزی کے الزام میں وزیر کے بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے ۔صورت میں کرفیو خلاف ورزی کے معاملے میں ریاستی وزیرصحت کشور دھانگی کے لڑکے پرکاش سنگھ سمیت سات لڑکوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان کو اتوار کو گرفتار کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد صورت و دیگر شہروں میں لوگوں کی سپورٹ سنیتا یادو کے بینر لیکر سڑکوں پر آگئے ۔اس سے پہلے وزیر نے اپنے بیٹے کابچاو¿ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف سیاسی سازش کی جارہی ہے ۔وہ شوراشٹر میں سیاسی طور پر مضبوط ہیں اور آنے والے مقامی بلدیاتی چناو¿ کو دیکھتے ہوئے سیاسی حریف ان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں ان کے بیٹے بھی نے بھی لیڈی کانسٹبل پر گالی گلوج کرنے ووردی کا روب دکھانے کا الزام لگایاتھا شوشل میڈیا میں وائرل کرکے آڈیو کر ایڈٹ کرکے چلانے کا بھی الزام ہے ۔لیڈی کانسٹبل سنیچر کو استعفیٰ دینے کے بعد سے روپوش ہے ۔واردات 8جولائی کی بتائی جارہی ہے ۔پرکاش نے بتایا کہ لیڈی کانسٹبل کی بات اپنے وزیر پتا سے بھی کروائی لیکن سنیتا یادو نہیں مانی ۔صور ت میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے چلتے انتظامیہ و پولیس رات کے کرفیو سے لیکر ہیر او کپڑا بازار بند کرنے جیسے قدم اٹھا رہی ہے ایسے مین وزیر کے بیٹے بنا ماسک پہنے پکڑے گئے اور دوستوں کو چھڑانے پہونچ گئے ۔ان لڑکوں نے لیڈی کانسٹبل کے ساتھ بدتمیزی کی اور اس درمیان کہا سنی ہوئی غور طلب ہے کہ واردات کے درمیان سنیتا نے پولیس انسپکٹر وی این ساغر کو اس کی جانکاری دی تو انہوں نے کہا کہ ان کا نام ڈائمنڈ و ٹیکسٹائل فیکٹری نہیں چلنے دینے کا ہے اور پوائنٹ پر کسی کو روکنے کا نہیں اس کے بعد سنیتا یادو نے اپنا استعفیٰ دے دیا ۔ (انل نریندر)

اگلے مہینے مل جائے گی کورونا ویکسین !

امریکہ کی جس یونیورسٹی نے سب سے پہلے دعوی کیا تھا کہ اس نے کورونا ویکسین بنا لی ہے اور وہ اگست میں مریضوں کو دست یا ب کرانے کی تیاری میں ہے چھوٹے پیمانے پر ہوئے انسانوں پر تجربے میں یہ ویکسین انسانوں کے لئے محفوظ مانی گئی ہے ۔ماسکو کی سیمو نوف یونیورسٹی نے 38رضاکاروں پر طبی تجربہ پورا کیا تھا اور روس کی فوج میں بھی جو تجربے ہوئے وہ کامیاب نکلے ۔گیم لارڈ سینٹر کے ہیڈ الیگزینڈر پیٹرس ورگ نے بتایا کہ انہیں امید ہے کہ کورونا کی ویکسین 12سے 14اگست کے درمیان عام آدمی تک پہونچ جائے گی ۔الیگزینڈر کے مطابق پرائیویٹ کمپنیاں مل کر ستمبر سے ویکسین کے پیمانے پر پروڈکشن شرع کر دیں گی ۔یملئی سینٹر کے ہیڈ کے مطابق ویکسین کا انسانوں پر تجربہ پوری طر ح سے کامیاب ثابت ہوا ہے ۔اگست میں جب مریضوں کو ویکسین دی جائے گی تو یہ ان کے فیس تھری ٹرائڈ جیسا ہوگا ۔کیونکہ جنہیں ڈوس ملے گی ان کی مانیٹنگ کی جائے گی ۔فیس ایک اور دو میں عام طور پر کسی ویکسین کی دوا کی سیفٹی جانچ ہوتی ہے ۔انسٹی ٹیوٹ نے 18جون سے تجربہ شروع کیا تھا اور نو رضاکاروں کو ایک ڈوس دی گئی اور دوسرے نو والنٹئیرس کی گروپ کو بوسٹر ڈوس ملی اور کسی والنٹئر پر دوا کے منفی اثر دیکھنے کو نہیں ملے ۔انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ۔سیمن آف یونیورسٹی میں والنٹئرس کے گروپ کو اگلے دو ہفتے میں ڈسچارج کیا جائیگا انہیں 23جون کوڈوس دی گئی اب یہ سبھی 28دن تک آئیسولیشن میں رہیں گے تاکہ کسی اور کو انفیکشن نا ہو۔18سال سے 65سال کے ان والنٹئرس کو چھ مہینے تک مانیٹر کیا جائیگا ۔روز عام جنتا کو دوا دینے کی تیاری میں اس لئے ہے کیونکہ وہ کورونا ویکسین ٹسٹنگ کی ریس میں سب سے آگے نکلنا چاہتا ہے ۔امریکہ برازیل اور بھارت کے بعد سب سے زیادہ تیار ی میں لگا ہوا ہے ۔روسی حکومت پہلے کہہ چکی ہے کہ ہم پچاس سے زیادہ علیحدہ علیحدہ دواو¿ں پر کام کررہے ہیں اور ان کے سائنسدانوں نے کھلے عام کہا ہے کہ ویکسین ڈولپ کرنا قومی وقار کا سوا ل ہے ۔الیگزینڈر نٹس برگ کا دعویٰ ہے کہ اس بات کی گارنٹی ہے کہ ویکسین اگلے دو سال تک کورونا سے بچا لےگی ۔ (انل نریندر)

غیر ملکی طلبہ کے ویزا پر ٹرمپ کایوٹرن!

ٹرمپ انتظامیہ نے حیران کن قدم اٹھاتے ہوئے اپنا حکم واپس لے لیا جس میں کہا گیا تھا ہندوستانیوں سمیت ہزاروں طلبہ کو ان کے وطن واپس بھیجا جائے گا اور ان طالب علموں کو واپس بھیجا جانا تھا کورونا کی وجہ سے یونیورسٹی صرف آن لائن کلاس دے گی ٹرمپ سرکار کو اپنے فیصلے پر یو ٹرن لینا پڑا فیصلے کو دیش کی 17ریاستوں سمیت گوگل ،فیس بک جیسی کئی کمپنیوں اور ہارورڈ ،ایم آئی ٹی یونیورسٹیوں نے عدالت میں فیصلوں کو چیلنج کیا تھاعرضی میں دلیل دی گئی تھی کی نئی گائڈ لائن سے کئی طرح کی قانونی اڑچنیں پیدا ہونگی مالی نقصان بھی ہوگا امریکہ کی فیڈرل عدالت کے ایک جج نے پوچھا تھا تب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے چھ جولائی کے قائدے کو منسوخ کرنے پر رضامندی جتائی دیش بھر میں ناراضگی تھی اور تعلیمی اداروں نے اس فرمان کی کھل کر مخالفت کی تھی اب حکم کو واپس لینے کے بعد طلبہ نے راحت کی سانس لی ہے۔ جج الیسن برّا نے مقدمے کے سماعت کے درمیان کہا کہ مجھے مطلع کیا گیاہے کہ انتظامیہ اس سلسلے میں پرانی پوزیشن میں لوٹ آئے گا اور مارچ میں جو پالیسی لاگو کی گئی تھی وہ بہال کردی گئی ہے۔ اور غیر ملکی طلبہ آن لائن کلاس لیتے ہوئے طالب علم ویزا پر امریکہ میں رہ سکتے ہیں۔ غیر ملکی طلبہ نے سال 2018میں امریکی معیشت میں 44.7عرب ڈالر کا اشتراک کیا تھا انسٹیوٹ آف انٹر نیشنل ایجوکیشن کے مطابق 2018-19کے تعالمی شیسن کے لئے امریکہ میں دس لاکھ غیر ملکی طالب علم تھے ۔ٹرمپ کے فیصلہ واپس لینے کو ہارورڈ یونیورسٹی کے چیئر میں بینکان نے اسے تاریخی جیت قرار دیا ہے ان کا کہنا کہ سرکار ایک نیا گائڈ لائن جاری کرسکتی ہے۔ اور عدالت نے ہماری قانونی دلیل کو مانا ہے جو ہمیں عدالتی راحت دلائے گی یہ اعلان ہزاروں غیر ملکی طلبہ کے لئے راحت لیکر آیا ہے جن میں ہزاروں ہندوستانی طالب علم بھی داخل ہیں ۔ایم پی بریڈاینیڈرنے کہا یہ بین الاقوامی طلبہ اور کالجوں کے لئے جیت ہے۔ (انل نریندر)

17 جولائی 2020

ایک لاکھ کروڑ کے مندر کا انتظام،شاہی خاندان کے حوالے !

سپریم کورٹ نے کیرل میں بنے ایک لاکھ کروڑ سے زائد کے اساسے والے تاریخی شری پدما ناب سوامی مندر کے انتظام کا اختیار تراون کورٹ کے سابق شاہی خاندان کو سونپ دیا ہے بڑی عدالت نے کیرل ہائی کورٹ نے 2011کے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا جس میں مندر کا اساسہ اور انتظام کا کنٹرول شاہی خاندان کے اختیار کو برقرار رکھا ہے حالانکہ عدالت نے مندر کے بند ایک تحہ خانے میں مہراب کو کھولنے کا فیصلہ مند ر انتظامیہ کمیٹی پر چھوڑ دیا ہے جسٹس للت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شاہی خاندان کے آخری حکمراںکسی کی موت کے سبب مندر کا انتظام کا اختیار شاہی پریوار سےن نہیں چھیگا ایک نئی کمیٹی کی تشکیل تک مندر سے وابسطہ معاملوں کا انتظام تری اننت پورم کی ضلع جج کی سربراہی والی کمیٹی کریگی ۔مندر میں مالی گھوٹالے کو لیکر انتظامیہ اور انتظام کا تنازعہ نو برسوں سے سپریم کورٹ میں لٹکا ہواتھا مندر کے پاس دو لاکھ کروڑ روپئے کا اساسہ ہے ۔بنچ نے اپریل 2019میں اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ۔شری پدما نابھ سوامی مندر دنیا کا سب سے امیر ترین مندروں میں سے ایک ہے اور عظیم مندر کی دوبارہ تزئین 18ویں صدی میں اس کے اس وقت کے موجودہ شکل میں تراون کورٹ کے شاہی خاندان نے کرائی تھی جنہوں نے 1947میں انڈین فیڈریشن سے پہلے ساو¿تھ کیرل و تمل ناڈو کے کچھ حصوں میں راج کیا تھا ۔سپریم کورٹ نے د و مئی 2011کو کیرل ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگاتے ہوئے مندر کے تہ خانے میں رکھے قیمتی زیورات اور دیگر سامان کے لسٹ تیار کرنے کی ہدایت دی تھی 8جولائی 2011کوعدالت نے مندر کے تہہ خانے کے بھی دروازہ کھولنے کی کاروائی اگلے حکم تک روک دی ہے ۔وہ اس دعوے کی جانچ کرائیگی کہ مندر کے تہہ خانے کے ایک دروازے کے اندر ایک پر اسرار اور بیش قیمت خزانہ رکھا ہے وہیں وکیل بھوپال سبرا منیم نے دروازے کو کھولنی کی درخواست کی تھی ۔ (انل نریندر)

سرکار گرانے کے درمیان انکم ٹیکس کے چھاپے !

راجستھان میں تیزی سے بدلتے سیاسی حالات کے درمیان اچانک محکمہ انکم ٹیکس نے پیر کے روز کانگریس نائب صدر راجیو اروڑا ور کانگریس نیتا دھرمیندر راٹھور نیتا کے یہاں انکم ٹیکس محکمہ نے چھاپے مارے اس کے علاوہ جے پور کوٹا ،دہلی اور ممبئی میں ان دونوں لیڈروں کے اڈوں پر چھاپہ ماری کی اس کے علاوہ راجیہ اسمبلی کی خرید وفروخت کے اندیشے سے کانگریس اور ممبران اسمبلی کی گروپ بندی کا مرکز بنے جے پور کے پاس ایک ہوٹل میں بھی چھاپہ مارا گیا جن کمپنیوں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے ان میں سے دو کو نائب وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کا قریبی مانا جاتا ہے ۔کانگریس کے ذرائع نے کہا پارٹی نیتا راجیو اروڑا دھرمیندر راٹھور کے کمپلیکس میں چھاپہ ماری کی گئی ۔اروڑا راجستھان کانگریس کے نائب صدر ہیں وہیں راٹھور راجیہ بیج نگم کے سابق چئیرمین ہیں جس ہوٹل میں چھاپہ ماراگیاوہ اشوک گہلوت کے بیٹے ویبھو گہلوت کے قریب دوست ہیں سیاسی گلیاروں میں خبر گرم ہے ۔جبکہ گہلوت کے قریبی کچھ آزاد ممبران اسمبلی پر بھی چھاپے پڑ سکتے ہیں ۔اور ریاست میں سرکار گرانے کی کوشش کے دوران چھاپے ماری کو لیکر سیاست شروع ہو گئی ہے ۔انکم ٹیکس کی ٹیم نے راٹھور کے گھرجب چھاپہ ماراتھا وہیں سبھی لوگوں کا داخلہ روک دیاگیا ۔جے پور کے ساتھ ہی کوٹا دہلی اور ممبئی میں ایک ساتھ کئی جگہ چھاپے مارے گئے ۔وہیں امرپالی ڈیلرس کے پارٹر مالک راجیو اروڑاکے گھر بھی چھاپا ماراگیا اور کئی دفتروں پر کاروائی ہوئی اور کانگریس نیتا رنجیو سرجیوالا نے الزام لگایا کہ بھاجپا کی طرف سے ہر مرتبہ جانچ ایجنسیوں کوآگے کر دیا گیا جاتا ہے اور چھاپے ماری کرکے ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔سرجیوالا نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ آخر بھاجپا کے وکیل میدان میںآگئے ہیں اور انکم ٹیکس محکمہ نے جے پور میں چھاپا ماری کی اور اس کے بعد اب ای ڈی کب آئیگی ۔ (انل نریندر)

کوی اولی نے رچی کل یگ کی رامائن!

نیپال کے وزیر اعظم کے پی اولی پچھلے کئی دنوں سے بھارت مخالف بیان دے رہے ہیں ۔لیکن ان کا تازہ بیان ہنسی کا موضوع بن گیا ہے ۔اولی نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ اصلی آیودھیا تو نیپال کے ویر گنج کے پاس ایک گاو¿ں ہے اور وہیں بھگوان رام کا جنم ہواتھا ۔بھگوان رام بھارت کے ہی نہیں بلکہ نیپال کے راجکمار تھے ان کے اس قول پر وہ اپنے گھر میں ہی ہنسی کا موضوع بن گئے ہیں ۔نیپال میں ان کا جم کر مزاق اڑایاجارہا ہے ۔سابق وزیر اعظم بابو راو¿ بھٹا رائے نے ٹوئٹ کر کہا کہ اگر کبھی اولی کے ذریعے تصنیف کلیوگ کی نئی رامائن سنئے ۔سیدھے بیکنڈ دھام کی یاترا کیجئے ۔نیپال کے سابق وزیر خارجہ رمیش ناتھ پانڈے نے کہا کہ اگر اصل آیودھیا ویر گنج میں ہے تو پھر سریو ندی کہا ں ہے ؟مذہب سیاست اور ڈپلومیسی سے اوپر ہے یہ بڑا جذباتی اشوہے ایسی بیان بازی سے آپ صرف شرمندگی محسوس کرا سکتے ہیں ۔راشٹریہ پرجا تنتر پارٹی کے چئیرمین اور سابق وزیر اعظم کمل تھاپا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایسے بیان دے کر اولی بھارت اور نیپا ل کے رشتے اور بگاڑنا چاہتے ہیں جبکہ انہیں ابھی کشیدگی کم کرنے کے لئے کام کرنا چاہے ۔ان کے بیان پر تعجب ظاہرکرتے ہوئے ان کے سابق میڈیا مشیر اور تربھون یونیورسٹی کے کندن آرچل نے کہا کہ کیا اولی ہندوستانی ٹی وی چینلوں سے مقابلہ کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اولی پارٹی کا نام ہے کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کمیونزم جو مذہب کو نہیں مانتا اولی نے جب حلف لیاتھا تو انہوں نے بھگوان رام کا نام لینے سے منع کر دیا تھا جب بھارت کے وزیر اعظم نے جنک پور میں پوجا کی تو اولی نے نہیں کی تھی لیکن آج اولی کو رام اور آیودھیا کی چنتا ہور ہی ہے ۔اس درمیان پی ایم کا مزاق اڑتا دیکھ نیپال کے وزارت خارجہ کو صفائی دینی پڑی اس کا کہناتھا کہ ان تبصرے کسی سیاسی اشو سے نہیں وابسطہ اور نا ہی کسی کے جذبات کوٹھینس پہونچانے کا ارادہ تھا ۔آیودھیا بابری مسجد کے معاملے میں فریق رہے اقبال انصاری بھی اولی کے بیان سے خفا ہیں ان کا کہنا ہے کہ رام کے سیوک ہنومان جی کو غصہ آیا تو نیپال دنیا کے نقصہ سے غائب ہو جائیگا ۔آیودھیا میں بھگوان رام کے ساتھ ہنومان جی بھی بیٹھے ہیں آیودھیا کا احترام ساری دنیا کے لوگ کرتے ہیں وہیں مندر ٹرسٹ کے ممبر مہنت دیویندر داس نے کہا اولی نے چین کے دباو¿ میں ایسا بیان دیا ہے ۔وہیں کانگریس نیتا ابھیشیک شنگوی نے کہا کہ نیپال کے پی ایم اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں۔وہ کٹپتلی ہیں جو چین کی لائنیں بول رہے ہیں بھگون شری رام کو بھارت سے الگ کرنے کا اولی کا راگ ان کے گھٹیا گمراہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے اس لئے اولی کا بیشک ساری دنیا میں مذاق اڑایا جا رہا ہے لیکن اس سے اس کے آقا چین ضرور خوش ہوگا ۔اور اولی کی پیٹ تھپتھپا رہا ہوگا ۔ (انل نریندر)

16 جولائی 2020

طاہر حسین نے فسادیوں کو انسانی ہتھیار بنا لیا!

عام آدمی پارٹی کے معطل کانسلر طاہر حسین کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران آئی پی افسر انکت شرما کے قتل کرنے معاملے میں ضمانت خارج کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین رسوخ والا شخص ہے اور اس نے دنگائیوں کا استعمال انسانی ہتھار کی شکل میں کیا جو اس کے اکسانے پر کسی کابھی قتل کر سکتے تھے ۔ایڈیشنل شیشن جج یادو نے کہا کہ حسین جیسے طاقتور لوگ ضمانت پر چھوٹنے پر معاملے کے گواہوں کو دھمکا سکتے ہیں ۔اور مجھے لگتا ہے کہ اس بات کے کافی ثبو ت دستیاب ہیں کہ طاہر حسین واردات کی جگہ پر موجود تھا اور ایک خاص فرقہ کے فسادیوں کو ہدایت دے رہا تھا اس نے اپنے ہاتھوں کا استعمال نہیں کیابلکہ انسانی ہتھیار بنا کر فسادیوں کا استعمال کیا۔اس معاملے میں جن گاو¿ں کے بیان درج کئے گئے ہیں وہ اسی علاقے کے باشندے ہیں ۔دہلی پولیس نے معاملے میں اپنی چارشیٹ میں الزام لگایا تھا کہ انکت شرما کے قتل کے پیچھے گہری شازش ہے اور طاہر کی رہنمائی میں بھیڑ میں اس کو نشانہ بنایا ۔معاملے میں ملزم طاہر حسین کے وکیل جائز علی نے اپنے مو¿کل کو ضمانت دینے کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مو¿کل کے انکت شرما کے شامل ہونے کو لیکر پولیس کے پاس کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے دوسرے پولیس جان بوجھ کر گاو¿ں کے بیان درج کرنے میں دیری کررہی ہے ۔تیسرا ان کا مو¿کل موقع واردات پر موجود نہیں تھا ۔ (انل نریندر)

روم جل رہا ہے اور نیروچین کی نیند سو رہے ہیں!

پہلے کرناٹک میں سرکار گئی پھر مدھیہ پردیش میں اب راجستھا ن کی کانگریس سرکار پر سنکٹ کے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔چھتیس گڑھ کا قلعہ بھی بہت محفوظ نہیں ہے ۔آخر کیا وجہ ےہ کہ سوا سو سال پرانی کانگریس کسی بھی ریاست میں ایک دو برس سے زیادہ اقتدار میں رہنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔ہر جگہ ان کے اپنے ممبران اسمبلی کی بغاوت ہی اس کے لئے مشکل کا سبب بن رہی ہے ۔اس کے بڑی وجہ یہ ہے کہ کانگریس میں اب کوئی سنکٹ موچک نہیں بچا اور پارٹی صدر سونیا گاندھی اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں راہل گاندھی صر ف ٹوئٹر پر سرگرم ہیں کم و بیش یہی حال پرینکاکا بھی ہے ان تینوں کے علاوہ پارٹی میں ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو مشکل گھڑی میں راہ نکال سکے ۔اشوک گہلوت ،دگ وجے سنگھ ،کملناتھ ،جیسے نیتاو¿ں کے مقابلے تنظیم کے جنرل سکریٹری کیسی وینو گوپال ان سے زیادہ جونئیر ہیں ان کی آواز نا کار خانہ میں توتی کے برابر ہے ۔زیادہ تر سینئیر لیڈرون کو پہلے ہی کنارے لگا دیاگیا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد ایک کانگریس کے قلعے ڈھتے جارہے ہیں ۔اور گاندھی پریوار صرف خاموش تماشائی بننے پر مجبور ہے اس کے چلتے جہاں کانگریس کئی ریاستوں میں اقتدار کھو چکی ہے وہیں دوسری طرف اس کے چلتے کئی جگہ اقتدار میں آتے آتے رہ گئی لیکن کانگریس سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہے ۔حالیہ تصوریر راجستھان کی ہے یہاں کملناتھ سرکار پر خطرہ منڈلارہا ہے اور گہلوت کی کرسی ہلتی نظرآرہی ہے ۔پارٹی کا ایک گروپ ناراض ہو کر ایک طرف بیٹھا ہوا جیسے چار مہینے میں مدھیہ پردیش میں تصویر سامنے آئی تھی اب راجستھان میں ڈپتی سی ایم و ریاستی کانگریس صدر سچن پائلٹ نارا ض بتائے جا رہے ہیں ۔کانگریس اپنے یہاں جو اتھل پتھل ہے اس کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار قراردیتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ کانگریس کی لیڈر شپ اپنے یہاں کی بالا دستی کی لڑائی اور گروپ بندی پر قابو پانے پر ناکام نظرآرہی ہے ۔راجستھان میں وزیر اعلیٰ اور ڈپٹی سی ایم کے درمیان آپسی گروپ بندی اور تلخی کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔پائلٹ کے پردیش صدر بننے کے بعد سے دونوں میں اقتدار کی جنگ اور اپنی بالا دستی کی لڑائی لڑ رہی ہے ۔بھلے ہی اسمبلی چناو¿ کے دوران کافی کانگریس صدر راہل گاندھی کے چلتے دونوںمیں آپسی اختلافات بھلا کر کام کرنے کی بات کہی ہے لیکن حقیقت یہی رہی کہ دونوں کے درمیان دوریاں کم نہیں ہوئی اور ریاست میںہونے والے بلدیاتی اداروں کے چناو¿ کے پیش نظر بھی پائلٹ کو لگ رہا ہے کہ پارٹی صدر ہونے کے باوجود فیصلے کہیں اور سے ہوں گے ۔وہیں پارٹی کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ پائلٹ کی محنت اور لگن کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔یہ بھی افواہ ہے کہ سارا جھگڑا پائلٹ کو ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹانے کی مہم سے شرو ع ہوا ۔روم جل رہا ہے اور نیرو چین کی نین سورہے ہیں ۔ (انل نریندر)

مرنے سے پہلے وکاس نے اگلے سارے راز!

ہندی کے اخبارات دینک جاگرن اور راشٹریہ سہارا میں شائع خبر کے مطابق 8پولیس ملازمین کے قاتل اور انعامی بدمعاش وکاس دوبے کو ایس پی ایف نے بھلے ہی ایس ٹی ایف نے بھلے ہی مڈبھیڑ میں مار گرایا ہو لیکن مرنے سے پہلے اجین سے کانپور آتے ہوئے راستے میں وکاس دوبے نے اپنے ساتھیوں کے نام ایس ٹی ایف کو بتا دئیے تھے کہ کس سے ان کا کاروباری تعلق تھا کون افسر اس کی مدد کرتا تھا اور کون کون لیڈ ر اس کی سیاسی گلیوں میں پہونچ بناتے تھے ۔وکاس نے ان سبھی کے نام مرنے سے پہلے ایس ٹی ایف کو بتا دئیے وکا س کے این کاو¿نٹر کے بعد اس کے مددگاروں نے سوچا کہ اب تو اس کے سارے راز دفن ہو گئے ہیں ۔اور وکا س کی کہانی ختم ہو گئی ہے ۔لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ایس ٹی ایف نے اس کے انکاو¿نٹر سے پہلے سارے راز اگلوا لئے تھے اور اس نے اس کے بیانات کی ویڈیو گرافی کرا کر سی ڈی انتظامیہ کو سونپ دی ہے ۔وکاس کے پورے نیٹورک کو نیست و نابود کرنے کے عہد بند انتظامیہ کی ہدایت پر اب جانچ ایجنسیاںوکاس کے ذریعے بتائے گئے لوگوں پر شکنجہ کسنے کی تیار ی کررہی ہے ۔وکاس کو کانپور لانے کے لئے ایس ٹی ایف کے سی ای او تیز بہادر سنگھ کی قیادت میں ایچ ٹی ایف کے پچاس کمانڈواور معاملے کے انچارج انسپکٹر نواب گنج پچوری و پانچ پولیس ملازمین کے ساتھ اجین گئے تھے ایس ٹی ایف اور پولیس وکاس کو سڑک کے راستے چہل لارہی تھی ۔کئی گھنٹے لمبے سفر میں ایس ٹی ایف نے وکاس دوبے سے پوچھ تاچھ شروع کی تھی ۔ذرائع کے مطابق ٹیم نے وکاس سے پچاس سے زیادہ سوال پوچھے تھے ۔ان میں سے کچھ سوال واردات سے متعلق کچھ اس کے ساتھیوں سے متعلق تھے ایس ٹی ایف کے ذرائع کے مطابق وکاس نے اپنے ساتھیوں میں سب سے پہلے چار بڑے کاروباریوں کے نام لئے یہ کاروباری اونچی پہونچ رکھنے والے ہیں اور وکاس کی ان کے ساتھ پارٹنر سپ ہے ۔وکاس جے رام کے ذریعے ہونے والی کمائی کو ان چار بڑے کاروباریوں کے دھندے میں لگاتاتھا جس کا ایک حصہ بندھا ہواتھا ۔یہ کاروباریوں کے ذریعے پہونچا دیاجاتا تھا ۔اس کے علاوہ یہ چاروں کاروباری دیگر معاملوں میں بھی وکا س کی مدد کیا کرتے تھے وکاس نے پانچ بڑے عہدے پر تعینات پولیس اور انتظامی حکام سے دوستی ہونے کی بات بتائی ہے ۔وکاس نے بتایا کہ وہ ان حکام کے ذریعے اس پر پڑنے والے پولیس کے دباو¿ کو ختم کرانے اور اپنے خلاف ہوئی شکایت کو دبانے کے ساتھ اپنے چہیتے لوگوں کا ٹرانسفر اور تقرری کا کام بھی کراتا تھا ۔ایک سابق افسر کے ذریعے ایک تھانے دار اور چار چوکی انچارجوں کی تعیناتی کی گئی تھی ۔دیکھنا اب یہ ہے کہ وکاس دوبے کے ذریعے دئیے گئے ناموں پر اب کیا کاروائی ہوتی ہے ۔کیا انتظامیہ ان کے نام لیک کریگا یا اس معاملے کو ایسے ہر معاملوں کی طرح دبا دیگا ۔ (انل نریندر)

15 جولائی 2020

ورک فرام ہوم مستقبل میں بھی جاری رہیگا!

مرکزی سرکار کے ملازمین کو مستقبل قریب میں الگ الگ کام کرنے والے لوگوں کو اپنے گھروں میں کام کرنا پڑ سکتا ہے ۔انلاک ہونے کے بعد بھی ملازمین پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین نے اپنے گھر سے کام کرنے کی عادت ڈال لی ہے۔ڈی او پی ٹی نے مستقبل میں سرکاری کام کاج کے طریقوں کو لیکر مفصل مسودہ ایس او پی تیار کرکے مختلف وزارتوں اور محکموں کو اس پر رائے دینے کو کہا ہے اس میں لاک ڈاو¿ن ختم ہونے کے بعد ملازمین کے لئے گھر سے کام کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں ۔وزارت نے کہا ایسا امکان ہے سینٹر سکریٹرئیٹ میں ملازمین کی موجودگی کم ہے ۔اور کام کی جگہ پر شوشل ڈسٹنسنگ رکھنے کے لئے انہیں الگ الگ ورکنگ گھنٹوں میں کام کرنا پڑے اس کام کاج کو ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلانے کے لئے ملازمین کے لئے نئے پیمانے عمل طے کیا گیا ہے ملامین کو گھر سے کام کرنے کے لئے انٹرنیٹ سروس کیلئے پیمنٹ بھی کیا جا سکتا ہے ضرورت پڑی تو الگ سے گائڈ لائنس بھی جاری کی جا سکتی ہیں آج کل تو کئی بڑی کمپنیاں ورک فرام ہوم کو بڑھاوا دے رہی ہے یہی نہیں کچھ تو یہ بھی کررہی ہیں کہ یہ بھی ضروری نہیں کی آپ کی کمپنی جس شہر میں وہیں گھر سے کام کرے ۔آپ کسی دوسرے شہر سے بھی کام کر سکتے ہیں ۔کام ضروری ہے آفس میں حاضری ضروری نہیں۔ (انل نریندر)

900برس چرچ ،500سال مسجد پھر میوزم ©...پھر مسجد !

ترکی میں چھٹی صدی کی تاریخی عمارت ہاگیہ اسٹوفیاکو عدالت نے پھر سے مسجد بھال کرنے کا فیصلہ دیا ہے اس کے بعد ترکی کے صدر طیب اردگان نے اسٹوفیا کو مسجد کی حیثیت میں کھولنے کا اعلان بھی کردیا اور بین الاقوامی وارننگ کو در کنار کردیا گیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کی 1500برس پرانی عمارت کی پہچان میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے ہاگیہ صوفیا 900برس تک گرجا گھر کی حیثیت میں جانی گئی اس کے 500برس بعد تک وہ مسجد کی شکل اور پھر میوزم کی حیثیت میں جانی گئی اور پھر اس عمارت کا تنازع عدالت کے دروازے تک پہونچا تو عمارت کو امریکہ اور اسرائیلیوں کے احتجاج کے باوجود مسجد قرار دے دیا گیا عدالت کا کہنا تھا کہ جدید ترکی میں عمارت کو میوزم کی حیثیت میں غیر قانونی طور پر بدلا گیا تھا ©یونسکو کی بین الاقوامی وراثت میں شامل اس تاریخی عمارت کو سب سے زیادہ لوگ دیکھنے آتے ہیں ۔قاہرہ نے عدالت کے فیصلے کو مھذب دنیا کو اکسانے والا فیصلہ قرار دیا ہے وہیں روس کے ایک بڑے چرچ نے کہا کہ عدالت نے ان کی کوئی بات نہیں سنی اور اس فیصلے سے مشرق سے لیکر مغرب تک حالات خراب ہو سکتے ہیں ترکی کے صدر اردگان نے پچھلے سال صدارتی چناو¿ میں ا س چرچ کو مسجد میں بدلنے کا اعلان کیا تھا ترکی کا ہاگیہ صوفی یمن دنیا کے سب سے بڑے گرزہ گھروں میں سے ایک رہا ہے اسے چھٹی صدی میں مہا راجہ بائی زیٹائن کے حکم سے بنوایا گیا تھا اسکے بعد اسے دوبارہ مسجد میں بدلا گیا جب عثمانیہ سلطنت نے 1543قسطنطنیہ (جسے بعد میں استنبول کا نام دیا گیا ) شہر پر قبضہ کیا گیا تو اس چرچ کو مسجد بنا دیا گیا استنبول میں بنا یہ چرچ ایک نقاصی کا انوکھا نمونہ مانا جاتا ہے جس نے دنیا بھر میں بڑی عمارتوں کے ڈیزائن پر اپنی چھاپ چھوڑی ہے دور حاضر میںترکی کے اسلام نواز پارٹی اسے مسجد بنانے کی مانگ کو لیکر کافی عرصے سے جد وجہد کرتی رہی ہے ۔جبکہ سیکولر بنیادپر بٹی ہوئی ہے ۔اور چرچ کو مسجد بنانے کی مخالفت کر رہی ہے ۔قاہرہ ،امریکہ نے چرچ کو مسجد بنانے کی مخالفت کی ہے ۔امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو نے کہا کہ اس عمارت کی پوزیشن میںتبدیلی ٹھیک نہیں ہوگی کیونکہ یہ معاملہ الگ الگ مذہبی عقیدتوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتارہا ہے ۔صدر اردغان نے ترکی کی سیاست میں اسلام کو کھینچ کر قومی دھارا میں لانا چاہتے تھے ۔جس کیلئے 17سال سے وہ لگے تھے وہ طویل عرصے سے اس چھٹی صدی کے گرجا گھر کو مسجد کا درجہ واپس دلانے کی جد و جہد کررہے تھے جسے جدید سیکولر ترکی کے ابتدائی دنوں کے حکمراں مصطفی کمال عطاءترک نے 1934میں اسے میوزیم میںبدلاتھا ۔لیکن اب یہ پھر مسجد کی شکل میں بحال کردی گئی ہے ۔ (انل نریندر)

کورونا سے لڑائی میں دھاروی بنی مثال!

کورونا کی لڑائی میں ممبئی کی جھکی بستی دھاروی میں دنیا بھر کو راہ دکھائی ہے ۔ڈبلیو ایچ اوکے ڈائرکٹر جنرل تدروس گریوئیس نے جینوا میں کہا کہ دنیا بھر میں ایسی کئی مثالیں ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں بھلے ہی وباکا قہر زبردست ہو لیکن اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ان میں سے کچھ مثالیں ہمارے سامنے ہیں جیسے اٹلی اسپین ،ساو¿تھ کوریا و ممبئی میٹرو شہر کی بے حد گنجان والا علاقہ دھاروی ہے جو اس وقت اس شہر کی سب سے بڑی جھگی بستی ہے ۔ایک وقت کووڈ19-حساس قرار دیدیا گیا تھا اور اب یہاں اس کورونا وائرس کے پھیلاو¿ پر قابو پا لیا گیا ہے ۔ممبئی میٹرو شہر پالیکا (بی ایم سی )نے کہا کہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے تعاون اور اجتماعی شراکت داری کے ذریعے مہم چلائی گئی ۔اور جانچ نے اس وبا کے خلاف لڑائی میں مدد کی ۔بی ایم سے کے کے جی نارتھ وارڈ کے جوائن کمشنر کرن دیواکر نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن نے مریضوں کا انتظار کرنے اور ان کے ملنے والے لوگوں کا پتہ لگانے اور انہیں کوارنٹائن میں بھیجنے اور گھر میں الگ تھلگ کرنے سب کی اپنے روایتی نکتہ نظر میں تبدیلی کر سرگرمی سے جانچ شروع کرنے پر زور دیاگیا ۔حال ہی میں اب کووڈ 19-کے مریضوں کی تعداد 2359ہے۔اس وقت صرف 166مریض زیر علاج ہیں اور 1952مریضوں کو اب تک اسپتالوں سے چھٹی مل چکی ہے ۔دیواکر کا کہنا ہے کہ دھاروی کی کم سے کم 80فیصد آبادی اور 450کمیونٹی ٹوائلٹس پر منحصر ہے ۔اور انتظامیہ نے ایک دن میں کئی مرتبہ ان ٹوائلٹس کو وائرس سے نجات دلائی ۔ہم نے 4ٹی ٹریکنگ ،ٹسٹنگ اور ٹریٹنگ پر توجہ دیکر اس وائر س پر قابو پانے کی کوشش کی ۔اس کے علاوہ بزرگ لوگوں کی خاص طور پر دیکھ بھال کی گئی اور 8246سینئیر شہریوں پر سروے کیاگیا ۔دھاروی میں نا صرف بھارت کی دیگر ریاستوں کو کورونا مرکز کو راستہ دکھایا ہے بلکہ ساری دنیا کو ایک مثال پیش کی ہے ۔ (انل نریندر)

14 جولائی 2020

سینٹا ئزر کے سائڈ ایفیکٹ !

کورونا وبا کے چلتے سینیٹا ئزر کا استعمال کررہے لوگوں کو خراب کوالٹی کے سبب کھال سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے پریشانیاں ہورہی ہیں ۔ بھوسا کھیڑی کا باشندہ خاندان کے 2افراد کے ہاتھوں میں انفیکشن ہو گیا ہے ایسے ہی سندھی گھرانے کے باشندے کے ایک بزر گ کے ہاتھ کے اوپری حصے میں کھجلی ہو گئی ہے ایسی شکایتیں ڈاکٹروں کو پاس آرہی ہیں ایک شخص ریتیش گودھا فارچون کی دوکان پر سامان کی پیکنگ کے بعد مارکیٹ سے بار بارہاتھ سینیٹائز کرنے پڑتے ہیں جس وجہ سے انکے ہاتھوں میں کھجلی ہو گئی ہے انکے کام میں ہاتھ بٹانے کی وجہ سے انکے ہاتھوں میں کھجلی ہو گئی ہے یہی حال ایک عورت انیتا تیواری کا بھی ہوا وہ سرکاری محکمہ میں کام کرتی ہیں اور وہ لوگوںکے ہاتھوں پر سینیٹائز کرتی ہیں یہ انفیکشن سینیٹائزر میں 65سے 70فیصدی الکوہل ہوتا ہے جس وجہ سے کھال خراب ہو رہی ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ کینسر جیسے سنگین مرض کابھی سبب بن سکتا ہے بہتر یہ ہے کہ ہینڈ واش سے صاف کریں دستانے پہنیں تبھی سینیٹائز کریں اچھی کوالٹی سینیٹائزر استعمال کریں پیسہ بچانے کے چکر میں گھٹیا سینیٹائزر آپ کو نقصان پہونچا سکتا ہے۔ (انل نریندر)

کیا ہوا سے انفیکشن پھیلتا ہے ؟

ابھی تک ورلڈ ہیلتھ تنظیم کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا انفیکشن کسی سطح کے رابطے میں آنے سے نہیں ہوتا اور سائنسداں اس ثبوت کی تصدیق کر رہے تھے ۔یہی وجہ تھی WHO کے حکام نے کوڈ 19بیماری کے بچاو¿ کے لئے خاص طور پر ہاتھ دھونے کی صلاح تھی لیکن اب وہ یہ کہ رہے ہیں کہ خاص حالات میں ہو امیں انفیکشن کا امکا ن کو مسترد نہیں کیا جا سکتا اسکا مطلب یہ ہو کہ جب لوگ ایک دوسرے سے بات کر رہے ہوتے ہیں تو منھ سے سانس میں زرّات کے ذریعے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے ۔ ہو ا سے انفیکشن کا کیا مطلب ہے؟ اگر کورونا کے ہوا سے پھیلنے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو حفاظتی قدم بدل جائیں گے ۔جب ہم سانس کے ذریعے جراثیم یا وائرس لیتے تو وہ ہوا میں تیر رہے زرّات کو ہم تک پہونچاتا ہے اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ بند اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر کورونا کا انفیکشن ہو سکتا ہے۔امریکہ کے واشنگٹن شہر ماو¿نٹ برمن میں ایک آدمی پر کم سے کم 45 لوگوں کو متاثر کا شبہہ ہے یہ لوگ ایک گانے والی پارٹی کے ممبر تھے انہوں نے سماجی دوری کے کو ئی قائدہ نہیں توڑا تھا ۔جنوری کے آخیر میں چین کے ایک شہر میں بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا وہاں ایک آدمی کے ذریعے 9لوگوں کو انفیکشن پھیلانے کا شبہہ تھا سبھی لوگوں نے ایک ہی ہوٹل میں کھانا کھایا تھا۔ کچھ سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایئر کنڈیشن سے وائرس اور بھی زیادہ پھیلے گا بیماری جس طرح سے پھیلتی ہے اس سے یہ طے ہوتا کہ اسے روکنے کے لئے کیا قدم اٹھائے جائیں ۔ڈبلیو ایچ او کے قانون کے تحت نیم گرم پانی سے بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے کی صلاح دی گئی ہے اس کے علاوہ سماجی دوری بہت ضروری ہے لیکن کچھ سائنسدانوں کا اب یہ کہنا ہے ان احتیاطی قدموں کی اہمیت ہے لیکن ہوا سے انفیکشن پھیلانے کی صورت میں یہ ناکافی ہونگے ۔حال ہی میں 32ملکوں کے 239سائنسدانوں نے ڈبلیو ایچ او کو خلا خط لکھا تھا جس میں ہوا کے ذریعے انفیکشن پھیلنے کی احتیاط برتنے کے لئے گائڈ لائن بنانے کی اپیل کی ہے ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ وہ کوئی فیصلہ لینے سے پہلے ثبوتوں کی جانچ کرے گا تنظیم کے ایک دوسرے مشیر ڈاکٹر ڈیوڈ ہیمین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جو ریسرچ ہو رہی ہے اس سے ایجنسی کو ٹھوس نتیجوں کی امید ہے تاکہ وائرس کی روک تھا م کے لئے نئی حکمت عملی بنائی جا سکے ۔ (انل نریندر)

کیا گہلوت اپنی سرکار بچا لیں گے؟

راجستھان میں راجیہ سبھا چناو¿ کے دوران ممبران اسمبلی کی خریدو فروخت کو لیکر شروع ہوئی سیاست نے اب مشکل بڑھا دی ہے۔ خریدو فروخت کے الزام میں تین آزاد ممبران کے خلاف مقدمہ اور دیگر کی گرفتاری کے بعد دن بھر کانگریس بھاجپا میں الزام تراشیوں کا دور چلتا رہا ۔ گہلوت کی کانگریس سرکا ر داو¿پر لگی رہی مدھیہ پردیش کی طرح راجستھان میں بھی ماحول بنانے کی کوشش چل رہی ہے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اتوار کو کہ بھا جپا نیتا ان کی سرکار کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انکی حکومت مضبوط ہے اور پانچ سال چلے گی ۔ اور بھاجپا کے مقامی لیڈر اپنی مرکزی لیڈر شپ کے اشارے پر سرکار گرانے اور کمزور کرنے کی سازش تیار کر رہے ہیں اور راجستھان میں بھی مدھیہ پردیش جیسا ماحول بنانے کی کوشش جاری ہے اور کانگریس ممبران کو 25 -25کروڑ روپیے کا لالچ دیا جارہا ہے واضح رہے کہ راجستھان کی 200ممبری اسمبلی میں کانگریس کے101ممبر ہیں جب کی بھاجپا کے 72اور آزاد 13و بسپا 6اور راشٹریہ لوک تانترک پارٹی کے 3 اور بھارتیہ ٹرائبل پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی کے 2-2ممبر ہیںجبکہ راشٹریہ لوک دل کے 1ممبر ہیں ۔ گہلوت کا کہنا ہے کی بھاجپا ریاستی صدر ستیس پنیا اور اپوزیشن لیڈر گلاب چند کٹاریا اور راجیندر راتھوڑوزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پر سازش رچ رہے ہیں۔اشوک گہلوت کی سرکار کمزور کرنے کے پیچھے بنیادی وجہ ہے نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ کی اہم خواہش وہ وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں کیونکہ انسے چناو¿ سے پہلے کانگریس نے وعدہ کیا تھا ۔ جو پارٹی میں رسہ کشی کی وجہ سے پورا نہیں ہو پایا ۔ اب خبر ہے کہ بھاجپا نیتا جوتر ادتیہ سندھیا سے سچن پائلٹ کی ملاقات ہوئی ہے کہا جا رہا کہ سچن کے ساتھ 22ممبر اسمبلی ہیں لیکن کانگریس کے ذرائع اسکی تردید کر رہے ہیں سرکار گرانے کے لئے کم سے کم 30ممبران کی ضرورت ہو گی 8درکار ممبران کو بھاجپا توڑ سکتی ہے اگر گہلوت سرکار گرتی ہے تو اسکی سب سے بڑی وجہ کانگریس ہائی کمانڈ ہوگا نہ کی بھاجپا ۔اتنے وقت میں وہ گہلوت پائلٹ کو جھگڑے کو دور نہیں کرسے اشوک گہلوت سرکار نے اس کرونا دور میں قابل قدر کام کیا ہے راجستھاں ماڈل کی تعریف ساری دنیا میں ہو رہی ہے دیکھنا اب یہ ہے کی سیاست کے پرانے ہوشیار کھلاڑی گہلوت اپنی سرکار کو بچا پاتے یا نہیں ؟ (انل نریندر)

12 جولائی 2020

کیا آئی پی ایل اس برس ہوگا ؟

بی سی سی آئی کے چئیرمین سوربھ گانگولی کی پہلی ترجیح بھارت میں آئی پی ایل کا انعقاد کرانا ہے انہیں امید ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے معاملوں سے وابسطہ تشویشات کے باوجود 2020میں اس لبھاو¿ میں ٹی ٹوئنٹی لیگ کا انعقاد ہوگا یہ بہت مقبول کھیل ہے ٹی ٹوئنٹی لیگ آئی پی ایل کا انعقاد 29مارچ کو ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کی بیماری کے سبب اسے بے میعاد کیلئے ملتوی کر دیاگیا ۔سابق ٹیم انڈیا کے کپتان نے کہا کہ کرکٹ کا عام حالات میں لوٹنا اہم ترین ہے اور آئی پی ایل کو لیکر کوئی بھی فیصلہ بین الاقوامی کونسل ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بعد ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا انعقاد اکتوبر نومبر میں آسٹریلیا میں ہونا ہے کرکٹ شائقین کیلئے یہ اچھی خبر ہے کہ انگلینڈ میں ویسٹ انڈیز ،انگلینڈ ٹسٹ سریز کا آغاز ہوچکا ہے ۔آئی پی ایل کا انعقاد دیش سے باہر منعقد کرانے کے متبادل کے بارے میں بی سی سی آئی تلاش کررہا ہے ۔دبئی اور نیوزی لینڈ دو ایسے متبادل ہیں جہاں ستمبر سے نومبر کے درمیان انعقاد کیا جا سکتا ہے پیسے کے سبب ہی متحدہ عرب عمارات سری لنکا ،اور اب نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈ نے اپنے یہاں بھی آئی پی ایل کی تجویز بی سی سی آئی کو بھیج دی ہے ۔دراصل آئی پی ایل میں اتنا پیسہ ہے اس کے ناہونے سے سرمایہ کاروں کو کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے کھلاڑی بھی گھر بیٹھے بیٹھے اتاولے ہو رہے ہیں اور ہی بات ناظرین کی وہ تو میدان میں پھر سے کرکٹ دیکھنے کے لئے پریشان بیٹھے ہیں دیکھتے ہیں بی سی سی آئی اور آئی سی سی کیا فیصلہ کرتا ہے ۔شروعات تو ہوگئی ہے انگلینڈ بنا م ویسٹ انڈیز میچ کھیلا جائیگا ۔ (انل نریندر)

رپورٹ :سونا پہلی بار 50ہزارتک پہونچا !

کورونا وائرس سے پیدا غیر یقینی ماحول می سب سے محفوظ سرمایہ کا ذریعہ سونا بتایا گیا ہے سونے کے بھاو¿ آسمان چھو رہے ہیں بدھوار کو عالمی سطح پر نیویارک میں سونے کا بھاو¿ 0.05فیصد کی تیزی کے سبب 2011کے بعد پہلی بار 1810.80ڈالر فی اونس تک اچھلا ۔پچھلے نو برسوں میں پہلی بار 1800ڈالر فی اونس کی اونچائی کو توڑا ۔کوڈیما کموڈٹی کے ڈائرکٹر اجے کوڈیما نے بتایا کہ سونے کے اس وقت سارے اثرات موجود ہیں اکوٹی بازار میں اتار چڑھاو¿ سے درکار مانگ بھی تیزی سے بڑھی ہوئی ہے اس سے دیوالی تک بھاو¿ ایم سی ایکس پر 53ہزار روپئے کے اسٹنڈرڈ کو توڑ سکتا ہے دہلی کے صرافہ بازار میں سونا بھاو¿ بدھوار کو 723روپئے کی بڑھت کے ساتھ بند ہوا اور 49ہزار آٹھ سو انٹھانوے فی دس گرام رہا حالانکہ چاندی ایک سو چار روپئے ٹوٹ کر پچاس ہزار چار سو سولہ روپئے فی گرام رہ گئی ۔بدھوار کو ڈالر کے مقابلے روپیہ نو پیسے ٹوٹ کر 75.02روپئے پر بند ہوا ۔ماہرین نے کہا کوڈ 19-کے بحران کے بعد سے لوگ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے پر پیسہ لگا رہے ہیں کیونکہ سونے کا بھاو¿ مسلسل بڑھ رہا ہے کورونا اور لاک ڈاو¿ن سے معیشت بحران میں نظر آئی اس سے سونے کے دام میں دوبارہ تیزی آئی ۔بھارت چین میں کشیدگی بڑھنے سے بڑی ابھرتی معیشت ایک نئی چنوتی میں گرتی نظر آرہی ہے سرمایہ کار مشکل وقت کے لئے سونے میں پیسہ لگا رہے ہیں پچھلے ایک سال میں 56فیصدی ریٹرن دیا ہے ۔سونے میں پچھلے چھ مہینوں کے اندر 25فیصدی سے زیادہ اضافہ سونے کے دام میں ہوا ہے ۔وقت اچھا ہے سونے پر پیسہ لگانے کے لئے ۔ (انل نریندر)

جذبہ ،حوصلہ بلند!106برس کی عمر میںکورونا پر جیت

دہلی میں کورونا کا قہر بڑھتا جا رہا ہے وہیں اس سے ٹھیک ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے کہا جاتا ہے کہ بچوں اور بزرگوں کو خاص دھیان رکھنا چاہیے کیونکہ یہ وبا ان پر سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہے لیکن حال ہی میں دہلی میں دو تین مریض ایسے ٹھیک ہوئے ہیں جن کی عمریں 106برس و 90برس اور 87برس کی ہیں دہلی میں 100سے سال سے زیادہ عمر کے ایک بزرگ کورونا سے اپنے بیٹے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے صحتیاب ہوئے ہین ۔دلچشپ یہ ہے کہ وہ 1918میں پہلے اسپینش فلو کے وقت 4سال کے تھے ان کے بیٹے کی عمر بھی قریب 70برس ہے ۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ 106برس کے مریض کو حال ہی میں کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی اور خاندان کے دیگر افراد کو بھی چھٹی دی جا چکی ہے ۔راجیو گاندھی سپر اسپیشلٹی اسپتال کے ڈاکٹر سو سال سے زیادہ کے شخص کے کورونا وائرس کے تیزی سے ٹھیک ہونے پر تعجب ہے کیونکہ اس وائرس سے انہیں زیادہ خطرہ تھا وہیں دہلی میں 87سال کی خاتون اور الزائمر سے متاثر ان کے 90سالہ شوہر نے کورونا وائرس کو مات دے دی ہے وہ انہیں اسپتا ل سے چھٹی دے دی گئی ہے ۔دہلی میں ٹھیک ہونے کے اعداد شمار کو دیکھتے ہوئے اس میاں بیوی جوڑے کے دیگر مریضوں کیلئے آشا کی کرن ہے ۔25مئی کو 87سالہ خاتون کو کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد اسپتال لایا گیا تھا ان کا آپریشن کیاگیاتھا لیکن اس سے پہلے ان کی کووڈ جانچ کی گئی تو وہ کورونا متاثر پائی گئیں اور ان کے شوہر کو بھی انفیکشن پایاگیا اس کے بعد انہیں اندر پرست اپولو ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا دس دنوں میں ان کی صحت میں بڑی زبردست بہتری آئی جب مہیلا جانچ میں انفیکشن نہیں پایاگیا تو ان کا کامیاب آپریشن کیا گیا ۔ہڈی کے سینئیرڈاکٹر سرجن بھتندر کھربندا نے بتایا کہ زیادہ عمر کے کورونا سے کئی بیماریوں سے متاثر لوگوں کو کوڈ سے زیادہ خطرہ ہے اور اسی وجہ سے بزرگوں کی سب سے زیادہ موتیں ہوئی ہیں اس لئے اس خاتون کو ہلکے اثرات تھے لیکن ان کی کئی بیماریوں کو دیکھتے ہوئے ہر منٹ نظر رکھنا ہمارے لئے اہم تھا ایسے معاملوں میں مریض ٹرامہ میں بھی جا سکتا ہے ۔جس سے ان کے ٹھیک ہونے کے کی کاروائی پر اثر پڑتا ہے حالانکہ سبھی پریشانیوں سے پارپاتے ہوئے ان میاں بیوی جوڑے کو 22جون سے چھٹی دے دی گئی ۔جاکو راکھے سائیاں مار سکے نا کوئی۔ (انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...