Translater

30 جولائی 2011

آخرکار یدی یروپا کو جانا ہی پڑا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 30th July 2011
انل نریندر
آخر کار بھاجپا ہائی کمان نے ہمت اور ہوشیاری دکھائی اور کرناٹک کے وزیر اعلی بی ۔ایس یدی یروپا کوہٹانے کا فیصلہ کرہی لیا۔ حالانکہ انہوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے سب طرح کے ہتھکنڈے اپنائے لیکن بھاجپا اعلی کمان کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ بھاجپا اعلی کمان نے بدھوار دیر رات ہی انہیں بتا دیا تھا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں ۔ اس کے بعد جمعرات کی صبح پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں انہیں وزیراعلی کے عہدے سے ہٹانے کے بارے میں کئے گئے فیصلے پر مہر لگادی گئی۔ پارٹی نے یدی یورپا کو ہٹانے کے بارے میں تب ہی ذہن بنا لیا تھا جب لوک آیکت جسٹس سنتوش ہیگڑے کی رپورٹ کے کچھ حصے افشا ہو گئے تھے۔ لیکن پارٹی چاہتی تھی کہ پہلے لوک آیکت اپنی رپورٹ باقاعدہ طور پر حکومت کو سونپ دیں۔ رپورٹ سپرد کرنے کے فوراً بعد ہی یدی یورپا کو دہلی طلب کیا گیا۔ انہیں کرسی چھوڑنے کو کہا گیا۔ یدی یورپا بغیر استعفیٰ دئے بنگلورو پہنچ گئے اور انہوں نے اپنی طاقت آزمائی کے لئے ممبران اسمبلی و وزرا کی میٹنگ بلائی ، جس میں ان کے ہاتھ مایوسی لگی۔ ان کی طلب کردہ میٹنگ میں کل13 ممبران اسمبلی ہی پہنچے تھے۔ دراصل بھاجپا ہائی کمان یدی یورپا کی چال کو سمجھ گیا تھا۔ ادھریدی یورپا سے ناراض گڈکری نے ممبران اسمبلی کو ان سے دوری بنانے کیلئے فون کردیا تھا۔ وزیروں کو صاف کہا گیا کہ اگر انہوں نے یدی یورپا کا اب بھی ساتھ دیا تو انہیں اگلی کیبنٹ میں نہیں لیا جائے گا۔ ہائی کمان نے ایم وینکیانائیڈو کو آپریشن یدی یورپا کیلئے بنگلورو روانہ کردیا۔ پارٹی کے سخت رویئے کو دیکھتے ہوئے یدی یورپا نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور کہا کہ وہ 31 جولائی کو باقاعدہ استعفیٰ نامہ دیں گے۔ اکیونکہ 31 جولائی کو شکل پکش شروع ہورہا ہے۔ 30 جولائی کو اماوسیہ ہے اور جیوتشیوں نے انہیں شبھ مہورت میں استعفیٰ دینے کی صلاح دی ہے۔
یدی یورپا نے اپنے جانشین کے طور پر ممبر پارلیمنٹ سدانند گوڑا کا نام تجویز کیا ہے لیکن پارٹی جمعہ کو ہوئی ودھان منڈل کی میٹنگ میں نیتا کا فیصلہ کرنے والی تھی۔ تازہ اطلاع کے مطابق گوڑا کے نام پر یدی یورپا کے اختلاف کی وجہ سے یہ میٹنگ ٹل گئی ہے۔ دہلی سے ارون جیٹلی اور راجناتھ سنگھ کو مشاہد بنا کر بھیجا گیا۔ وزیر اعلی کے دعویداروں میں ایشورپا ، بی ایس آچاریہ، سریش کمار اور انند کمار بھی دعویدار ہیں۔ یدی یورپا لنگوت ہیں۔کرناٹک کی سیاست میںیہطبقہ کا فیصلہ کن کردار نبھاتا ہے۔اپنی اس ذات کی طاقت پر ہی یدی یورپا ہائی کمان کو بلیک میل کررہے تھے۔ ریاست کی کل آبادی میں لنگائیت قریب27 فیصد ہے جبکہ اس کے بعد دوسرے مقام پر ووک لنگ ہیں جو17 فیصد ہیں۔ سابق وزیر اعلی ایچ ڈی دیوگوڑا اسی طبقے سے آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یدی یورپالنگوت فرقے کے بڑے نیتا کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ کرناٹک بھاجپا اسمبلی پارٹی میں بھی 35 سے زیادہ ممبران اسمبلی اسی طبقے ہیں اور ممبران کے بلبوتے پر ہی اسمبلی چناؤ ہوں یا لوک سبھا چناؤ یا پنچایت چناؤ لنگوت کارڈ کھیل کر یدی یورپا بھاجپا کو چناؤ جیتانے کے ساتھ ساتھ اپنی جڑیں بھی جماتے رہے ہیں۔ بھاجپا کو جانشین چنتے وقت کرناٹک کے ذات پات کے تجزیوں کو ضرور ذہن میں رکھنا ہوگا۔ جہاں تک ممکن ہو یدی یورپا کا جانشین بھی لنگوت فرقے سے ہی ہوگا۔
کرناٹک کی سیاست میں ایک بہت بڑا سیکٹر ریڈی بندھو بھی ہیں۔ ان کی کہانی کسی فلمی سے کم نہیں لگتی۔ پولیس کانسٹیبل کے بیٹے جن کے پاس سائیکل خریدنے کی ہمت تھی ان کے پاس آج اپنا ہیلی کاپٹر ہے۔ سیاسی پکڑ ایسی کے وزیر اعلی یدی یورپا اور مرکزی لیڈر شپ بھی انہیں کنارے کرنے کی ہمت نہیں جٹا پارہی ہے۔ ان پر لوہے اور ابرق کے ناجائز کھدائی کرانے کے سنگین الزام لگے ہوئے ہیں۔ وہ قریب1500 کروڑ کے معدنیاتی کاروباری ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سال 2002 ء میں کھدائی اور اس کے درآمدات کے کاروبار میں اترنے کے بعد ان کی املاک اربوں میں ہے۔ اوبلا پورم مائننگ کمپنی کا مالکانہ حق کرناٹک کے وزیر سیاحت بی جناردن ریڈی کے پاس ہے تو یدی یورپا سرکار میں بڑے بھائی جی کروناکرن ریڈی وزیر محصول ہیں جبکہ چھوٹے بھائی سمیشور بلاری سے اسمبلی کے ممبر ہیں۔ سال2009 ء میں بھی ریڈی بندھوؤں نے یدی یورپا کے خلاف اس لئے بغاوت کردی تھی کہ انہیں بلاری میں اپنے من پسند افسران کی تقرری کا اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ تب بھی سشما سوراج کی مداخلت سے معاملہ سلجھ گیا تھا۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر کہتے ہیں کہ بلاری میں کانگریس کے گڑ کو توڑنے کے لئے بھاجپا کو ان کا سہارا لینا پڑا۔ ریڈی بندھوؤں کا سیاسی عروج بلاری پارلیمنٹ سیٹ سے پہلی بار کانگریس صدر سونیا گاندھی کے چناؤ لڑنے کے دوران ہوا تھا۔ بھاجپا نے سونیا کے خلاف سشما سوراج کو میدان میں اتارا تھا تب ریڈی بندھوؤں نے سشما کو کاچی ماں کا درجہ دیتے ہوئے ان کی جیت کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ لیکن جیت سونیا گاندھی کی ہوئی۔ ریڈی بندھوؤں کے سشما سوراج سے رشتوں کو لیکر اکثر سوال اٹھتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں سشما نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ ریڈی بندھوؤں سے ان کا کوئی کاروباری مفاد نہیں ہے۔ یدی یورپا کے جانشین کے چننے کے وقت بھاجپا اعلی کمان کو ریڈی بندھوؤں سے کیا سیاست اپنانی ہے اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا ۔ کیونکہ یہ سرکار بنانے اور اکھاڑنے میں اہم کردار نبھاتے آئے ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Hegde, Karnataka, Lokayukta, Rajnath Singh, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yadyurappa

آئی ایس آئی سے 18 کروڑ لئے اور وہ ہی طے کرتی تھی ایجنڈا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 30th July 2011
انل نریندر
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایجنٹ غلام نبی فئی کو بدھ کے روز امریکی عدالت نے ایک لاکھ ڈالر یعنی 45 لاکھ روپے کے مچلکے پر ضمانت دے دی ہے۔اسے نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے پیرو ں میں ریڈیو بیڑیاں باندھ دی جائیں گی جس سے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ امریکی فیڈرل ایجنسی ایف بی آئی نے گذشتہ ہفتہ فئی کو آئی ایس آئی سے پیسہ لیکر غیر مناسب طریقے سے کشمیر پر امریکی پالیسی کو اثر انداز کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ الیگزینڈریا کی ضلع عدالت کے جسٹس رابرٹ جونس نے فئی کو ضمانت دینے اور ریڈیو ٹیک کے ساتھ نظربند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ہندوستان کے کشمیر میں پیدا فئی کو ورجینا کے فیئر فیکس میں واقع اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ فئی اور ان کی چینی نژاد بیوی کو پاسپورٹ جمع کرانے کو کہا گیا ہے۔ فئی نے کہا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو امریکہ سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ اس نے ایک تحریری بیان میں کہا ’’کشمیر کے لوگوں کو یہ سوچ پر ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ عالمی طاقتیں خاص کر امریکہ انہیں مایوس کرے گا‘‘۔ فئی کے وکیل نے ضمانت ملنے پر ان کے ذریعے تحریر کردہ بیان کی کاپی تقسیم کی۔ اس میں فئی نے کہا ’’جموں و کشمیر ریاست کے لوگوں کے تئیں میری عمر بھر وفاداری رہے گی، چاہے وہ کسی بھی پس منظر میں ہو۔ میرا عزم انہیں بھی اپنا مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے خود اعتمادی کا اختیار حاصل کرنے میں مدد کرنے کا ہے۔‘‘
اس سے پہلے غلام فئی نے عدالت میں کہا کہ میں آئی ایس آئی کے اشاروں پر کام کرتا تھا اور آئی ایس آئی سے میں نے40 لاکھ ڈالر قریب 18 کروڑ روپے لئے۔ فئی کے وکیلوں نے حالانکہ دلیل دی کہ کشمیری امریکن کونسل کے سربراہ فئی نے ہمیشہ آزاد کشمیر کی حمایت کی ہے۔ ایف بی آئی ایجنٹ ساراویب لڈین نے عدالت کو بتایا کہ فئی کی ہر میٹنگ کا ایجنڈا اور تقریر آئی ایس آئی طے کرتی تھی۔ امریکی اٹارنی جنرل گارڈن کرومبرک نے الزام لگایا کہ فئی پچھلی دو دہائی سے امریکہ میں آئی ایس آئی کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہا تھا۔ حلف نامے میں الزام لگایا گیا کہ کے اے سی اپنے آپ کو ایسی کشمیری تنظیم بتاتی ہے جو کشمیریوں کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ اور اسے امریکیوں سے پیسہ ملتا ہے۔ جب تین سینٹروں میں سے ایک ’’کشمیر سینٹر‘‘ آئی ایس آئی اور پاکستان سرکار کے کچھ لوگ چلا رہے ہیں ، دو دیگر سینٹر لندن اور براسیلز میں قائم ہیں۔ حکومت ہند کو اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لینی چاہئے تاکہ اسے پتہ چلے کہ پاکستان کس کس سیکٹر میںآپریٹ کرتا ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ بھارت کے نامی گرامی صحافی غلام فئی کے آئی ایس آئی اسپانسر شدہ پروگراموں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
Tags: America, Anil Narendra, Daily Pratap, Fai, FBI, ISI, Jammu Kashmir, Pakistan, USA, Vir Arjun

29 جولائی 2011

اور اب پاکستان نے گلیمر کا سہارا لیا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 29th July 2011
انل نریندر
تمام دنیا میں اپنی گرتی ساکھ سے پریشان پاکستان نے اب گلیمر کا سہارا لیا ہے۔ پاکستان کی نئی وزیر خارجہ حنا ربانی ایک ماڈل زیادہ لگتی ہیں بہ نسبت ایک وزیر خارجہ کے۔وزیر خارجہ بننے کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ان کا کہیں اور سے نہیں بھارت سے شروع ہوا۔ حناربانی محض 34 سال کی ہیں۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر خارجہ ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی یعنی20 جولائی کو انہوں نے وزارت سنبھالی تھی۔ حنا پاکستان کے لیڈر مسلم نیتا ملک غلام نور ربانی کھر کی بیٹی ہیں۔ وہ 2001ء میں بیرون ملک سے ہوٹل مینجمنٹ کی ڈگری لیکر آئی تھیں اور 2002 سے سیاست میں سرگرم رہ کر خاندان کی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ حنا بزنس مین فیروز گلزار کی اہلیہ ہیں اور ان کے دو بیٹے ایک بیٹی ہے۔حنا خود بھی ایک بڑے کاروبارکی مالکن ہیں۔ پچھلے پاکستانی وزرا خارجہ کی طرح سپاری سوٹ والے اولڈ مین نہیں بلکہ وہ بلا کی خوبصورت ماڈل جیسی ہیں۔ 34 سالہ حنا نے بھارت میں آکرہلچل مچا دی ہے۔ یوں تو پاکستان کے بہت سے وزیر بھارت آتے رہتے ہیں لیکن جس طرح حنا نے بھارت کے نوجوانوں کو متاثر کیا ویسا شاید کسی اور پاکستانی لیڈر نے نہیں کیا۔ عام طور پر پاکستان کی خاتون افسر یا لیڈر کسی غیر مرد سے ہاتھ نہیں ملاتی، صرف آداب کے لئے ہی ہاتھ اوپر اٹھاتی ہے لیکن حنا ربانی نے یہ روایت توڑ ڈالی۔ انہوں نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اس طرح سے انہوں نے پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ اب ان کے ملک کی چال ڈھال بدل گئی ہے۔ لیکن بیشک پاکستان نے اب گلیمر کا سہارا لیا ہو اس کا ایجنڈا نہیں بدلا۔ حنا نے پہلے دن سے ہی کشمیر مسئلے کو اہم ایجنڈا بنانے کی کوششیں شروع کردیں۔ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے سے اترنے کے بعد وہ سیدھی پاکستانی ہائی کمیشن گئیں۔ وہاں پہلے سے ہی موجود علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ فاروق ان کا انتظارکررہے تھے۔ سب نے مل بیٹھ کر کشمیر پر تبادلہ خیالات کئے۔ حنا نے پیر کے روز لاہور میں جے کے ایل ایف لیڈر یٰسین ملک سے بھی ملاقات کی تھی۔ حیدرآباد ہاؤس میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے ساتھ بات چیت میں حنا نے واضح اشارے دے دئے کہ آج بھی پاکستان کی بات چیت کا بنیادی ایجنڈہ کشمیرہے۔ بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستان کا ایجنڈہ نہیں بدلہ لیکن چہرے بدل گئے، گلیمرس ،ماڈل وزیر خارجہ بن گئی ہو لیکن آج بھی کشمیر کا راگ ہی اس کی ترجیح ہے۔ ہندوستان ہمیشہ سے مہمان نوازی کے لئے جانا جاتا ہے ہمیں حنا کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرنا چاہئے لیکن ان کے گلیمر پر نہیں جانا چاہئے۔ اور اپنے ایشوز کو موثر ڈھنگ سے رکھنا چاہئے۔ ویسے ایک اسلامی ملک میں جہاں عورتوں پر سخت پابندیاں ہوں، برقع پہننے پر زور دیا جاتا ہو، وہاں ایک خوبصورت عورت جو سوٹ پہن رہی ہو، ہاتھ ملاتی ہو کیا یہ اپنے آپ میں ایک تضاد نہیں ہے؟ جس ملک میں کٹرپسندوں کا راج ہو وہاں حنا کیسے ؟ حنا ربانی کھر کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنایا جانے پر جماعت متحدہ مجلس عمل نے ناراضگی جتائی ہے۔ پارٹی کے چیف مولانا فضل الرحمن نے ربانی کی تقرری کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کو یہ عہدہ دینا دانشورانہ فیصلہ نہیں ہے۔ ہمیں اس فیصلے پر اعتراض ہے۔ ہمیں یہ پتہ نہیں ہے کہ حنا ربانی کس طرح سے سفارتی مورچے پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔ وہ ایک خاتون صنعتکار ہیں اور ان کے پاس کوئی سفارتی یا سیاسی تجربہ نہیں ہے۔ ایسے میں یہ دانشورانہ فیصلہ نہیں ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Hina Rabbani Khar, India, Jammu Kashmir, Pakistan, Vir Arjun

حکومت مجھے اورمیرے ساتھیوں کو مٹانے پر تلی ہے: بابا رام دیو



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 29th July 2011
انل نریندر
مرکزی حکومت و وزارت داخلہ اور دہلی پولیس کی تمام دلیلوں کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے رام لیلا میدان میں 4 جون کو بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر ہوئی کارروائی پر صاف حکم دیا ہے کہ اس رات کی سی ڈی سپریم کورٹ میں پیش کی جائے۔ کورٹ خود سی ڈی کو دیکھے گا اور مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں یہ یقینی بنائے گا۔ جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس سوتنتر کمار کے ڈویژن بنچ نے کہا کہ وہ5 اگست کی شام 4:15 بجے سبھی فریقین کے وکیلوں کی موجودگی میں واقع کی سی ڈی دیکھیں گے۔ عدالت نے مرکزی حکومت و دیگر سرکاری ایجنسیوں سے کہا ہے کہ انہیں جو بھی حلف نامے داخل کرنے ہیں وہ تین دن کے اندر داخل کردیں۔ 8 اگست اور16 اگست کو اس معاملے کی سماعت کی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ آدھی رات میں بے قصورلوگوں کی پٹائی نہیں کی جاسکتی ،چاہے وہ کوئی بھی لوگ ہوں۔ عدالت یقینی بنائے گی کہ مستقبل میں ایسا برتاؤ نہ ہو۔ دہلی پولیس کی جانب سے پیش سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ پہلے یہ ثابت ہو کہ ایسا ہوا بھی تھا۔ اس پر جسٹس سوتنتر کمار نے تبصرہ کیا ’’ کچھ تو ہوا ہے ‘‘۔ ساتھ ہی عدالت نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو نوٹس بھیجے جانے سے متعلق دلیل پر کہا یہ معاملہ ابھی زیر سماعت ہے اور پہلے حلف نامہ دائر کرنے دیا جائے اس کے بعد اس مسئلے کو دیکھا جائے گا۔ ادھر بابا رام دیو نے پیر کے روز نئی دہلی میں کانسٹیٹیوشن کلب میں ایک پریس کانفرنس میں غصے بھرے انداز میں کہا کہ مرکزی حکومت کو نہ تو دہشت گردی سے مطلب ہے اور نہ ہی بدعنوانی سے۔ ان کا مرکز توصرف میں ہوں۔ سرکار مجھے اور میرے ساتھیوں کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ طرح طرح سے ہم لوگوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔ سی بی آئی سمیت تمام ایجنسیوں کو ہمارے پیچھے لگادیا گیا ہے تاکہ کوئی سازش اور کوئی ہتھکنڈہ اپنا کر ہماری ساکھ کو متاثر کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا ہمارے یوگ آچاریہ بال کرشن کے خلاف سرکار کیا کارروائی کروائے گی، کارروائی کرنی ہے تو پہلے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم کے خلاف کرے، جن کے نام بدعنوانی کے ملزم سابق مرکزی وزیر اے راجہ نے لئے ہیں۔ سوامی رام دیو نے کہا کہ بال کرشن نے کچھ بھی غلط نہیں کیا اور نہ ہی ان کی ڈگری فرضی ہے۔ انہوں نے کہا یہ کیسا مذاق ہے۔ ہم بیرونی ممالک سے کالی کمائی واپس لانے کی بات کرتے ہیں ، بدعنوانی کی بات کرتے ہیں تو ہمارے خلاف دیش دشمنوں جیسا برتاؤ کیا جارہا ہے۔ 4 جون سے پہلے جو حکومت ہمیں ایک سچا وطن پرست کہہ رہی تھی وہ مجھے مٹانے پر آج تلی ہوئی ہے۔
فرضی ڈگری اور پاسپورٹ کے الزامات کو لیکر سی بی آئی بال کرشن پر شکنجہ کستی جارہی ہے۔ پاسپورٹ معاملے میں سی بی آئی نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور بال کرشن کو پکڑنے کے لئے جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے۔ بابا رام دیو کے ساتھی بال کرشن کے خلاف سخت رویہ اپنا کر سی بی آئی نے ایک بار پھر سے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک آزاد ایجنسی نہ ہوکر مرکزی حکومت پر کام کرنے والا ایک ہتھیار ہے۔ حالت یہ ہے کہ بال کرشن کا پاسپورٹ منسوخ کرانے پر آمادہ سی بی آئی نے کانگریس کے سابق ایم پی سبا کا پاسپورٹ منسوخ کرانے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی جبکہ اس معاملے میں وہ سبا کے خلاف چارج شیٹ تک داخل کرچکی ہے۔ سی بی آئی کے سینئر وکیل تسلیم کرتے ہیں کہ ایم کے سبا کے خلاف الزام بال کرشن سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ سی بی آئی نے ابھی تک بال کرشن کی ہندوستانی شہریت پر انگلی نہیں اٹھائی ہے۔ اس کے پاس صرف پاسپورٹ دفتر میں جمع کیا بال کرشن کی تعلیمی ڈگریوں کے فرضی ہونے کے ثبوت ہیں جبکہ سبا کے معاملے میں سی بی آئی نے عدالت میں چارج شیٹ داخل کر اس کے ہندوستانی شہری نہ ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اس کے باوجود آج تک جانچ ایجنسی نے سبا کا پاسپورٹ منسوخ کرانے کے لئے وزارت خارجہ سے درخواست دینے کی ضرورت نہ سمجھی۔ یہ ہی نہیں سی بی آئی کی چارج شیٹ کے باوجود سبا نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کوبدستور جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ ایک سابق ایم پی کو ملنے والی سہولیات کا فائدہ بھی مل رہا ہے۔مزیدار بات یہ ہے کہ بال کرشن کے فرضی پاسپورٹ میں فوری کارروائی شروع کرنے والی سی بی آئی کو سبا کے خلاف کارروائی کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ وقت لگ گیا ہے۔ سرکار کی نیت صاف ہے ۔بابا رام دیو ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ سرکار انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اب مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bal Krishan, CBI, Daily Pratap, Vir Arjun

28 جولائی 2011

بقول اے راجہ پردھان منتری اورچدمبرم کو سب معلوم تھا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 28th July 2011
انل نریندر
تقریباً ایک ہفتے بعد پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہونے والا ہے۔ پہلے سے ہی کئی طرف سے گھری کانگریس پارٹی اور اس کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور گھرنے والے ہیں ۔ اپوزیشن میں پہلے سے ہی کئی مسئلوں پر سرکار کے خلاف گھیرا بندی تیزی کردی ہے۔ ایسے میں اے راجہ کا سی بی آئی کی غیر ملکی عدالت میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ پر براہ راست الزام لگانے سے پارٹی اور سرکار دونوں کی خاصی کھنچائی ہونے کا امکان ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ معاملے میں بنیادی ملزم اور سابق وزیر اے راجہ پر کارروائی میں تاخیرکو لیکر پہلے ہی سپریم کورٹ کی پھٹکار جھیل چکے وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام اب اس تنازعے میں گھسیٹے جانے سے یوپی اے سرکار میں کھلبلی مچنا فطری ہے۔ عدالت میں اپنے بچاؤ میں دلیل دیتے ہوئے راجہ نے کہہ دیاکہ ٹو جی اسپیکٹرم کے تمام اہم فیصلے انہوں نے اکیلے نہیں کئے۔ ان میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم کی رضامندی رہی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت میں ٹوجی اسپیکٹرم معاملے میں سرکاری وکیل اور دفاع کے وکیلوں کی دلیلوں کا دور چل رہا ہے۔ وکیل استغاثہ کی دلیل سن لی گئی ہیں۔ اب بچاؤ فریق کو اپنی دلیل رکھنے کا موقع ملا ہے۔ اے راجہ کی طرف سے اس کی وکیل نے ایک تحریری بیان پڑھا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ٹو جی اسپیکٹرم لائسنسوں کی تقسیم میں کوئی منمانی نہیں کی۔ بھاجپا لیڈر شپ والی این ڈی اے حکومت کے دور سے وزارت میں جو پالیسی چلی آرہی تھی انہوں نے بھی اپنے عہد میں اس کی تعمیل کی ہے۔ راجہ کا کہنا تھا کہ اگر وزارت میں چلی آرہی ہے اس پالیسی کی تعمیل کرکے انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے تو اس سے پہلے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر بھی اتنے ہی قصوروار ہیں اور انہیں بھی ان کے ساتھ تہاڑ میں ہونا چاہئے۔ راجہ نے یہ کہہ دیا ہے کہ یہ بات وزیر اعظم کی جانکاری میں تھی کہ سوان اور یونی ٹیک کمپنیوں کی کافی حصے داری ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس چلی گئی تھی۔ ان کمپنیوں کو ٹو جی اسپیکٹرم کے لائسنس جاری کئے گئے تھے اس مسئلے پر وزیر مالیات پی چدمبرم نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ ایسے میں ان پر یہ الزام صحیح نہیں ہے کہ انہوں نے غیر ملکی کمپنیوں کے معاملے کی جانکاری سرکار سے چھپائی تھی۔
راجہ کے عدالتی بیان سے فکر مند حکومت نے اپنے حکمت عملی ساز وزرا کی فوج ’’ڈمیج کنٹرول‘‘ کے لئے لگا دی ہے۔ کپل سبل سے لیکر پی چدمبرم، پون بنسل او رنارائن سوامی تک سبھی راجہ کے بیانوں کو ایک ملزم کا بیان ثابت کر اپوزیشن کے حملوں کا جواب دینے میں لگ گئے ہیں۔ یوپی ، بہار اور کرناٹک میں اجاگر ہوئے تازہ گھوٹالوں کے پیش نظر بھاجپا سمیت سبھی اپوزیشن پارٹیوں کو آئینہ دکھانے کی حکمت عملی پر عمل شروع ہوچکا ہے۔ یہ اپنی جگہ ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن اس سے راجہ کے الزامات دھل نہیں جاتے۔ اس لئے ایک طرف کپل سبل نے راجہ کے بیانات کو ایک ملزم کا بیان ثابت کرنے کی کوشش کی تو چدمبرم نے بھاجپا پر یہ الزام مڑ دیا کہ دھماکے کے الزامات میں شامل دکشن پنتھی کٹر پنتھیوں کے خلاف کارروائی کی وجہ سے بھاجپا بوکھلائی ہوئی ہے۔ اور ساری بوکھلاہٹ میں وہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے استعفوں کی مانگ کررہی ہے۔ مگر اے راجہ کے بیان کے بعد سرکار کے سب سے ایماندار کہے جانے والے وزرا کی ساکھ پر آنچ آگئی ہے اور وہ کیسے ثابت کریں کہ واقعی منموہن سنگھ اور چدمبرم کو ٹو جی گھوٹالے کی جانکاری نہیں تھی؟ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کے سپہ سالاروں کو یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ انہوں نے پہلے اسی اے راجہ کا بچاؤ کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ راجہ نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اب اس موقف سے کیسے پلٹیں گے؟ کسی بھی گھوٹالے کا ملزم اپنے بیان میں جو کچھ کہتا ہے اس پر پوری طرح بھروسہ کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن یہ بھی مان کر نہیں چلا جاسکتا کہ ہر معاملے میں اس کی دلیل مسترد کردینی چاہئے۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کے ملزم جو یہ الزام لگا رہے ہیں کہ اسپیکٹرم پانے والی کمپنیوں کے ذریعے شیئر بیچے جانے کے مسئلے پر وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم کے ساتھ تبادل�ۂ خیال کیا گیا تھا، یہ ایک سنگین الزام ہے۔ راجہ کی مانیں تو ٹو جی اسپیکٹرم پانے والی کمپنیوں کے ذریعے اپنی حصے داری غیر ملکی کمپنیوں کو بیچنے کے فیصلے کو مرکزی وزیر مالیات نے وزیر اعظم کی موجودگی میں منظوری دی تھی۔ حکمراں فریق راجہ کے اس الزام کو ایک ملزم کا بیان بتا کر پلہ جھاڑ سکتا ہے لیکن محض اس دعوے سے شبہ کے بادل چھٹنے والے نہیں ہیں ۔ اس لئے اور بھی نہیں کیونکہ یہ بات پہلے بھی سامنے آچکی ہے کہ راجہ کے فیصلوں پر وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ چدمبرم نے بھی اعتراض کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس سلسلے میں ان دونوں نے خط بھی لکھے تھے اور اس کے ثبوت موجود ہیں۔ عام جنتا تو یہ جاننا چاہے گی کہ آخر راجہ پر اس اعتراض کا کوئی اثر کیوں نہیں ہوا اور انہیں منمانی کرنے سے کیوں نہیں روکا جاسکا؟ اے راجہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی جانچ کی کئی بنیاد ہو سکتی ہیں ۔ سب سے اہم تو یہ ہے کہ راجہ کی گرفتاری میں اتنی دیر کیوں لگی؟ گرفتاری سے پہلے تک یہ ہی وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم ان کا ہر طرح سے بچاؤ کرنے میں لگے ہوئے تھے، خود وزیر اعظم نے اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں کسی طرح کی گڑ بڑی سے انکار کیا تھا۔ اتنا ہی نہیں دیدہ دلیری اور منمانے طریقے سے کئے گئے اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے چلتے ہوئے نقصان کو صفر بتایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسپیکٹرم حاصل کرنے والی کمپنیوں نے کس طرح اپنی حصے داری بیچ کر اربوں روپے کمائے اور یہ تو جگ ظاہر ہے کہ اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے وقت سارے قاعدے قانون کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ کیا حکومت کے سربراہ ہمیں یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے منع کرنے پر بھی ان کے ایک وزیر نے منمانی کی اور ان کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی؟ہم اتحاد کی مجبوریوں کو ایک حد تک سمجھ سکتے ہیں لیکن اپنی سمجھ سے باہر ہے کہ راجہ اپنے الزامات کو ثابت کرنے کیلئے عدالت میں کیسے ثبوت دیتے ہیں اور عدالت اس پر کیا رخ اپناتی ہے؟ ابھی تو اے راجہ نے یہ الزام لگائے ہیں آگے دیکھتے جائیے کون کون کیا الزام لگاتا ہے۔

گلے کی ہڈی بنے یدی یروپا کو بلا تاخیر ہٹائیں


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 28th July 2011
انل نریندر
بدعنوانی کے مسئلے پر یوپی حکومت کے خلاف مہم چلا رہی بھاجپا کی سینئر لیڈر شپ کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدی یروپا کو لیکر بری طرح پھنس گئے ہے۔ جنوبی ہندوستان میں اپنی پہلی حکومت کو بچانے کیلئے بھاجپا ہائی کمان کوئی خطرہ اٹھانے سے کترارہا ہے۔ لوک آیکت سنتوش ہیگڑے نے یدی یروپا کو بدعنوانی کیلئے قصوروار قراردیا ہے اور شری ہیگڑے کی نیت اور ان کے بھروسے پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ وہ گورنر ہنسراج بھاردواج کی طرح نہیں جو پرائیویٹ ایجنڈے یا سیاسی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ جسٹس ہیگڑے ایک ایماندار اور اچھی ساکھ کے انسان ہیں۔ اگر انہوں نے وزیر اعلی کو قصوروار پایا تو یہ صحیح ہوگا۔ دراصل بھاجپا لیڈرشپ کے لئے یدی یروپا گلے کی ہڈی بن چکے ہیں جسے نہ وہ نگل پا رہی ہے اور نہ ہی اگل پا رہی ہے۔ یدی یروپا ہر بار یہ ہی دلیل دیتے ہوں گے کہ اگر مجھے ہٹایا تو حکومت گر جائے گی۔ اور جنوبی ہندوستان میں بھاجپا نے جو پیر جمائے ہیں وہ اکھڑ جائیں گے۔ بھاجپا لیڈر شپ کو یدی یروپا کی بلیک میلنگ کے سامنے اب اور نہیں جھکنا چاہئے۔ یدی یروپا کے سبب بھاجپا کی مرکزی سرکار کے خلاف بدعنوانی کی مہم کو بھی دھکا لگ رہا ہے اور کانگریس کو یہ موقعہ ملتا ہے کہ وہ بھاجپا پر دوہرے پیمانے اپنانے کا الزام لگا سکے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے کہا ہے کہ لوک آیکت کی رپورٹ آنے کے بعد یدی یروپا پر مناسب فیصلہ ہوگا۔ کہہ تو یدی یروپا بھی یہ ہی رہے ہیں کہ رپورٹ آنے کے بعد پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی اسے مانیں گے۔ بھاجپا لیڈر شپ کو بلا تاخیر یدی یروپا کو ہٹا کر ان کے جانشین کا اعلان کردینا چاہئے۔ اب اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ ممکن ہے کچھ بااثر طاقتوں کو کچھ دوسرے فائدے یدی یروپا کے ٹکے رہنے سے ہوتے رہے ہوں، لیکن اگر جسم کے کسی حصے میں کینسر ہوجائے تو کیا جسم کو بچانے کیلئے اس حصے کو کاٹ نہیں دیتے؟ اگر یدی یروپا سرکار چلی بھی جاتی ہے تو بھی بھاجپا کو واپس آنے میں فائدہ ملے گا۔

27 جولائی 2011

غلام فائی کی گرفتاری سے پھربے نقاب ہوا پاکستان


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 27th July 2011
انل نریندر
سبھی جانتے تھے کہ امریکہ میں پاکستان لابی بہت زیادہ طاقتور ہے اور پچھلے کئی برسوں میں اسی لابی کے سبب سب کچھ جانتے ہوئے بھی امریکی انتظامیہ پاکستان کی اقتصادی، فوجی، مدد کرتا چلا آرہا ہے۔ لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ اس لابی کے پیچھے کون کون سی طاقتیں کام کررہی ہیں۔ گذشتہ دنوں امریکہ نے اپنے ایک اور شہری کو گرفتار کیا ہے جو دہائیوں سے ایک رضاکار تنظیم کی آڑ میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لئے کام کررہا تھا اور کشمیر پر ہند مخالف پروپگنڈے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہا تھا۔ کشمیری امریکن کونسل نامی اس رضا کار تنظیم کے ڈائریکٹر کی شکل میں غلام نبی فائی آئی ایس آئی سے حوالہ کے ذریعے کروڑوں روپے یومیہ طور پر پاتا تھا اور اس کا استعمال امریکی ممبران پارلیمنٹ کو کشمیر پر بھارت کے خلاف بھڑکانے کیلئے کرتا تھا۔ غلام فائی ایسے دوسرے پاکستانی نژاد امریکی ہیں جنہیں امریکہ نے گرفتار کیا ہے۔ اس سے پہلے آتنکی ڈیویڈ ہیڈلی گرفتار ہوا تھا۔ چونکانے والی بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ فائی آئی ایس آئی کے اشاروں اور پیسوں سے امریکہ میں کشمیر پر سمینار انعقاد کرتا تھا اور اس انعقاد میں بہت سے نامی گرامی ہندوستانی بھی شامل ہوا کرتے تھے۔ذرائع کے مطابق حکومت ہند نے نامور صحافی دلیپ پڑگاؤنکر کو جموں و کشمیر معاملے میں اہم مذاکرات کار بنایا ہے۔ وہ بھی فائی کے سمینار میں حصہ لے چکے ہیں۔ آئی ایس آئی کے تعاون سے منعقد ہونے والے ان سمیناروں میں حصہ لینے میں نامور صحافی کلدیپ نیئر، علیحدگی پسند لیڈر میر واعظ عمر فاروق، راجندر سچر، صحافی گوتم نولکھا، ہریندر باویجہ، منوج جوشی، حمیدہ نعیم، وید بھسین، جے ڈی محمد سمیت تمام ہندوستانی رہے ہیں۔سمینار میں نہ صرف کشمیر مسئلے پر بحث ہوتی تھی بلکہ پاکستان کی حمایت کرنے والا ریزولیشن پاس ہوتا تھا۔ فائی دراصل سمینار کے بہانے پچھلے 25 برسوں سے دنیا کا کشمیر پر نظریہ بدلنے میں لگا ہوا تھا۔ اس کی کوشش اس کے ذریعے سے کشمیر مسئلے کو بین الاقوامی طور پر اٹھانا ہے۔بھارت کو کشمیر کے باشندوں کے ساتھ نا انصافی کرنے کا قصوروار بنانا اور دور تک سازش کے تار جوڑنے کی تھی۔ ایف بی آئی کے مطابق فائی امریکہ سے اسپانسر کشمیر امریکن کونسل کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہے وہ اسے آئی ایس آئی کے اشارے پر چلا رہا ہے۔ فائی پر آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرنا، اس کے اشارے پر پاکستان کے کشمیر پرموقف کو حمایت دینے کے ارادے سے ماہرین اور سیاستدانوں ، صحافیوں اور سماج کے پسندیدہ لوگوں کیلئے سمینار انعقاد کرکے لوگوں کا نظریہ بدلنے کا الزام ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق ان کی اس کوشش کا کئی امریکی سینیٹر بھی حصہ رہے ہیں۔ فائی کو ایف بی آئی کے ذریعے گرفتار کئے جانے کے بعد بھارت میں اس کی آنچ پہنچی۔ اور پتہ چلا کہ کئی ہندوستانی نامی گرامی ہستیاں بھی ان کے بلاوے پر امریکہ کا دورہ کرتی رہی ہیں۔ خفیہ ذرائع بتاتے ہیں کہ سمینار میں حصہ لینے کیلئے فائی کے زیر اثر لوگوں کو کافی فخر ہوتا تھا۔اس کے لئے امریکہ آنے جانے، سمینار میں حصہ لینے، رہنے کھانے کے علاوہ اس میں حصہ لینے کے عوض میں بھاری رقم ملتی تھی۔ سمینار کے آخر میں ایک ریزولوشن بھی پاس ہوا کرتا تھا اور اس میں پاکستان کی حمایت کرنے والی رائے کو بدلنے والا ریزولوشن بھی پاس کیا جاتا تھا۔ دلیپ پڑگاؤنکر نے فائی کے ذریعے منعقدہ سمینار میں اس کے بلاوے پر امریکہ جانے کی بات مانی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت پہلے فائی کی دعوت پر وہاں گئے تھے۔ لیکن انہیں فائی کے آئی ایس آئی کے ساتھ وابستہ ہونے کی کوئی معلومات نہیں تھی۔ کیا یہ محض اتفاق تھا کہ غلام فائی کی گرفتاری عین ایسے موقع پر ہوئی جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھارت میں تھیں۔ امریکہ کو کم سے کم چھ سال پہلے سے غلام کی حقیقت معلوم تھی۔ ایک بار تو فائی کو بھاری بھرکم رقم (نقدی) کے ساتھ پکڑا گیا تھا اور اس سے گہری پوچھ تاچھ ہوئی تھی۔ بھارت کافی عرصے سے فائی اور ان کے رضاکاروں کے خلاف کارروائی کی مانگ کررہا تھا۔ کمائی کا کوئی براہ راست ذریعہ نہ ہونے کے باوجود غلام فائی امریکہ میں رئیسوں کی طرح زندگی بسر کرتا تھا۔ تعجب نہیں کہ فائی ہند مخالف کی شکل میں نامور ری پبلکن ایم پی ڈین برٹن کو غلام نے سب سے زیادہ چندہ دیا تھا۔ موجودہ صدر براک اوبامہ بھی انجانے میں اپنی چاؤ مہم میں غلام فائی سے چندہ لے چکے ہیں۔ پاکستان غلام فائی کے ذریعے امریکہ کو اس بات کے لئے راضی کرنا چاہتا تھا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کے کشمیر میں ریفرنڈم ہونا چاہئے۔فائی کی پیٹھ تو اقوام متحدہ میں بھی تھی۔ غلام مقبوضہ کشمیری علیحدگی پسندوں کا تووہ سب سے بڑا سفیر تھا اور اس کی گرفتاری سے ان بھارت مخالف عناصر کے ہوش اڑنے فطری ہی ہیں۔ ڈاکٹر غلام فائی کا مقدمہ شکاگو میں ہیڈلی۔ رانا مقدمے کے بعد امریکہ میں دوسرا ہائی پروفائل مقدمہ ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ آخر کار پاکستانی خفیہ ایجنسی پر اس بات کا دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوگا کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں پر لگام لگائے۔ آئی ایس آئی کے سارے روابط کا پتہ لگائے؟ ہوسکتا ہے کہ غلام فائی کے آتنکی تنظیموں سے بھی سیدھے تعلقات ہوں۔ دیکھیں مقدمے میں کیا ابھر کرآتا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Fai, ISI, Pakistan, Vir Arjun

چوطرفہ دباؤ میں مایاوتی



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 27th July 2011
انل نریندر
جیسے جیسے اترپردیش میں اسمبلی انتخابات قریب آتے جارہے ہیں ویسے ویسے مایاوتی کی مشکلیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ چار برس تک تو حالات بہن جی کے قابو میں ہی رہے لیکن پانچویں سال میں حالات ان کے قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ ان پر چوطرفہ دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ راہل گاندھی زمین پر اترکر گاؤں گاؤں گھوم رہے ہیں تو دوسری طرف عدالتوں نے مایاوتی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرکے ایک نئی پریشانی پیدا کردی ہے۔ ان سب کی وجہ سے مرکزی حکومت نے بھی ریاستی حکومت کی گھیرا بندی شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق گھوٹالوں اور مجرمانہ سازشوں کے لئے بدنام ہوچکی قومی دیہی ہیلتھ مشن اسکیم سمیت مرکز کی سبھی اسکیموں کے لئے پچھلے چار برسوں میں بھیجے گئے پیسے کے استعمال کا حساب اترپردیش حکومت سے مانگے جانے کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ اس کا آغاز ریاستی حکومت کو این آر ایم ایم اسکیم کے تحت دی جانے والی رقم میں 700 کروڑ سے زیادہ کی کٹوتی کردی گئی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مایاوتی کے قریبی مانے جانے والے کچھ صنعت کاروں ،بلڈروں پر جانچ ایجنسیوں کا قافیہ تنگ ہونے لگا ہے۔پچھلے دنوں ریاستی حکومت کے ایک طاقتور وزیر کے خلاف قتل کے ایک معاملے میں ہائی کورٹ کی جانب سے سی بی آئی جانچ کے احکامات پر بھی جلد ہی عمل ہوسکتا ہے۔ وزارت داخلہ یہ بھی حساب لگا رہا ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے بلائی گئی کتنی میٹنگوں میں مایاوتی ابھی تک شامل ہوئی ہیں؟ وزارت داخلہ سے ملی اطلاع کے مطابق مایاوتی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ذریعے بلائی گئی ایک بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کی ہے۔ سرکار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اترپردیش کو پچھلے چھ برسوں میں این آر ایم ایم کے تحت 8570 کروڑ روپے دے دئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس برس 3137 کروڑ روپے کی رقم اور ملی۔ اب تک کل 15008 کروڑروپے دئے جاچکے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اس کے خرچ کا کوئی حساب کتاب مرکز کو نہیں دیا ہے۔ یہ ہی حال منریگا، اندرا آواس یوجنا، راجیو گاندھی دیہی الیکٹریفکشن یوجنا جیسی دیگر مرکزی اسکیموں کا بھی ہے۔ان کی مد سے مرکز سے ریاست کو اربوں روپے کی رقم آ چکی ہے لیکن خرچ کا حساب ریاستی سرکار نے اب تک مرکز کو نہیں دیا جبکہ گجرات، بہار، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تملناڈو، کرناٹک، جھاڑکھنڈ، اتراکھنڈ کی غیر کانگریسی سرکاریں بھی مرکزی اسکیموں پر کس طرح سے رقم خرچ کرتی ہیں اس کا حساب کتاب وہ باقاعدہ دیتی ہیں۔ اس سرکار کے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے اربوں کا دھندہ کیا تو راجدھانی تک آنے والی مرکزی اسکیموں کو جم کر لوٹا ہے۔ جب سرکار کی سرپرستی میں وزیر لوٹنے میں لگے ہیں تو ممبران پارلیمنٹ اور اسمبلی کے دباؤ و استحصال کو کون روکے گا؟اسی وجہ سے کئی مقامات پر قتل عام ، آبروریزی کے معاملے میں وزیر سے لیکر ایم ایل اے تک پھنسے ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی کی جارحانہ کوششیں ریاست میں کانگریس کی واپسی کے لئے بھی رنگ لانے لگی ہیں۔ نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا میں بھی زمین تحویل کو لیکر عدالتوں کے فیصلوں نے بھی مرکز اور کانگریس دونوں کا حوصلہ بڑھا دیا ہے۔کل ملاکر مایاوتی بری طرح سے پھنس گئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اپنے سیاسی کیریئر کی اس سب سے بڑی چنوتی سے وہ کیسے نمٹتی ہیں؟
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

26 جولائی 2011

’نوٹ کے بدلے ووٹ‘ معاملے پر امرسنگھ سے لمبی پوچھ تاچھ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 26th July 2011
انل نریندر
نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جمعہ کے روز راجیہ سبھا ایم پی امرسنگھ سے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ہے۔ اس معاملے میں پہلے ہی سے گرفتار دو ملزمان سنجیو سکسینہ اور سہیل ہندوستانی سے بھی آمنا سامنا کرایا گیا۔اس تین گھنٹے کی پوچھ تاچھ پر باقاعدہ طور سے دہلی پولیس کی ذریعے کوئی بریفنگ ابھی تک نہیں کی گئی ہے۔ اسلئے اس دوران کیا سوال جواب ہوئے ان کے بارے میں دعوے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اخبارات میں جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں ان سے تھوڑا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سوالوں کی لائن کیا رہی ہوگی۔ امر سنگھ جمعہ کی صبح ہی 10.45 بجے اپنی مرسڈیز کار میں چانکیہ پوری میں واقع کرائم برانچ کے انٹرسٹیٹ سیل میں پہنچ گئے۔ اور دوپہر تقریباً 12.50 منٹ تک کرائم برانچ کے پولیس افسران امر سنگھ سے پوچھ تاچھ کرتے رہے۔ پھر اسپیشل سیل کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایل ۔ این راؤ بھی پہنچ گئے۔ راؤ ماضی میں بھی ٹیپنگ معاملے میں امر سنگھ سے پوچھ تاچھ کرچکے ہیں۔ دوپہر دو بجے پوچھ تاچھ ختم ہونے کے بعد وہ میڈیا ملازمین کے سوالوں کا جواب دئے بغیر نکل گئے۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا پوچھ تاچھ کے دوران امر سنگھ کا برتاؤ ٹھیک رہا اور وہ خود اعتمادی سے بھرے ہوئے ہے۔افسران نے پوچھ تاچھ کے دوران تقریباً ڈیڑھ بجے سہیل ہندوستان اور امر سنگھ کا آمنا سامنا بھی کرایا۔ امر سنگھ نے سہیل کے ایک کروڑ روپیہ دینے کے الزامات سمیت سبھی الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا سنجیو سکسینہ میرا پرائیویٹ سکریٹری رہ چکا ہے لیکن جب یہ کانڈ ہوا تب وہ ایک بسپا نیتا کا پرائیویٹ سکریٹری تھا۔ ایک شائع رپورٹ کے مطابق امر سنگھ نے سبھی سوالوں کا گول مول انداز میں جواب دیا۔ دہلی پولیس کرائم برانچ نے امر سنگھ کے لئے 15 سوالوں کی فہرست تیار کررکھی تھی۔ پہلا سوال تھا کہ22 جولائی 2008 کو پارلیمنٹ میں لائے گئے ایک کروڑ روپے کے سلسلے میں ایک خاص ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔ اس نمبر والے شخص کے بارے میں وہ کتنا جانتے ہیں۔ دوسرا سوال ،کچھ کھاتوں کے بارے میں ان سے پوچھا جن سے ’چیک فار ووٹ ‘ کے لئے ایک کروڑ روپے نکالے گئے تھے۔ تیسرا سوال تھا 22 جولائی کوایم پی اشوک ارگل، مہاویر سنگھ بھگوٹا،چھگن سنگھ کلہتے ان کی رہائش گاہ پر آئے تھے یا نہیں؟ چوتھا سوال کہ امر سنگھ نے اپنے پی اے سنجیو سکسینہ کی ملاقات ان تینوں سے کروائی تھی یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق امر سنگھ کا ڈرائیور سنجے ان معاملوں میں اہم کڑی ہے جو واردات کے بعد سے ہی غائب ہے۔پانچواں سوال ،کیا امر سنگھ نے 22 جولائی کی صبح سنجے کو سنجیو کے ساتھ فیروز شاہ روڈ بھیجا تھا؟ اگلا سوال ،رشوت کے ایک کروڑ روپے بیگ میں ان کے گھر پرپائے گئے تھے؟ ذرائع نے بتایا سوال نمبر8 کے وہ ایک کروڑ روپے کس کے تھے؟ امر سنگھ نے اس کی جانکاری سے انکار کردیا تو اگلا سوال سنجیو کی پوچھ تاچھ میں آئے اور حقائق پر کیا گیا۔ پولیس نے پوچھا کہ سنجیو نے کہا ہے کہ امر سنگھ کا ڈرائیور اسے لیکر گیا تھا۔ تو آپ کو (امر سنگھ) اس کی جانکاری کیسے نہیں ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ابھی تک پوری طرح لڑکھڑا چکے امر سنگھ سے ہلکا سوال کرتے ہوئے پولیس نے پوچھا کہ وہ سنجیو سکسینہ کو کب سے جانتے ہیں اور اسے واقع سے متعلق کیا کام سونپ رکھا تھا؟ تیرہواں سوال پھر سخت تھا۔ پہلے سوال میں پوچھے گئے فون نمبر پر واپس لوٹتے ہوئے پولیس نے سوال داغا کہ19 اور 21 جولائی 2008 کے دوران اس نمبر پر ان کی کتنی بات ہوئی، اور کس سے ہوئی کیوں اور کیا ہوئی؟ کال تفصیلات کے مطابق امر سنگھ نے اس نمبر پر اس درمیان کئی مرتبہ بات چیت کی۔ پندرواں اور آخری سوال تھا کہ کلستے نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ امر سنگھ نے سنجیو کو ممبران پارلیمنٹ سے ملوایا تھا۔ اس میں کتنی سچائی ہے؟
ادھر شری امر سنگھ سے چانکیہ پوری سیل میں پوچھ تاچھ ہورہی تھی ادھر بہت سے لیڈروں کی سانسیں اٹکی ہوئی تھیں۔ انہیں یہ ڈر ستا رہا تھا کہ پتہ نہیں امر سنگھ کیا کہہ دیں؟ امر سنگھ استادوں کے استاد ہیں۔ وہ اپنے جو بچانے کیلئے انگلی کسی بھی طرف گھما سکتے ہیں۔ خاص کر کانگریسی لیڈروں میں کافی ہلچل رہی۔ پوچھ تاچھ کے بعد کانگریسی نیتا سنجیدہ نظر آئے۔ کل تک کانگریس کے سینئر لیڈر کہہ رہے تھے کہ سہیل ہندوستانی کے بیان پر کانگریس اور امر سنگھ جیسی شخصیت سے پوچھ تاچھ ٹھیک نہیں ہے۔ سہیل بھاجپا کے پٹھو اور دلال ہے۔ پولیس کی پوچھ تاچھ کے بعد ہی پارٹی نیتا احمد پٹیل کو کلین چٹ دے دی ہے۔ سوال کیا جارہا ہے کہ پوچھ تاچھ سے پہلے ہی پولیس نے کسی کو بھی کلین چٹ کس بنا پر دے دی؟ کانگریس کے ترجمان اشوک منو سنگھوی نے کہا کہ اس معاملے میں قانون اپنا کام کررہا ہے کیونکہ معاملہ کورٹ کے سامنے ہے اس لئے پارٹی کی طرف سے رد عمل دینا مناسب نہیں ہے۔ایک دوسرے کانگریسی سینئر لیڈر نے کہا کیا دہلی کو ایک کورٹ نے نوٹ کے بدلے ووٹ میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے کردار کو بھی مسترد کردیا ہے اس لئے پولیس بہت جلد سچائی تک پہنچ جائے گی۔ یہ پورا کھیل بھاجپا کی طرف سے اسپانسر تھا جس سے کانگریس اور سرکار بدنام ہو۔ دوسری طرف بھاجپا نے دہلی پولیس کے ذریعے عدالت کو یہ بتائے جانے پر کہ معاملے میں کانگریس یا سپا کے کسی نیتا کے شامل ہونے کی بات جانچ میں سامنے نہیں آئی لیکن کہاپولیس کا بیان بے ایمانی کو چھپانے والا اور جانچ کے نام پر دھبہ ہے۔ بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے پولیس جانچ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ جب جانچ پوری نہیں ہوئی، معاملے کے متعلق لوگوں کے بیان نہیں ہوئے تو پھر پولیس اس نتیجے پر کیسے پہنچ سکتی ہے کہ پورے معاملے میں فائدہ پانے والی کانگریس یا اس پورے کانڈ کو انجام دینے والی سپا کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔بھاجپا ترجمان نے کہا کہ اگر جانچ اسی طرح ہونی ہے تو جانچ ایک چھلاوا ہے اور پولیس اپنے سیاسی آقاؤں کے اشارے پر پورے معاملے میں لیپا پوتی کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جاویڈکر نے کہا کہ پولیس کی جانچ میں تیزی ویسے ہی سپریم کورٹ کے دباؤ کے بعد آئی ہے لیکن لگتا ہے کہ پولیس پوری طرح سے سیاسی دباؤ میں کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس معاملے میں ایمانداری اور قاعدے سے جانچ کرے تو 15 دن کے اندر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ویسے بھی معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت کو دہلی پولیس کو کنوینس کرنا ہوگا کہ وہ اگر اس نتیجہ پر پہنچی ہے تو کس بنا پر پہنچی ہے؟ پھر عدالت کے موقف پر منحصر کرے گا کہ کیس کس سمت میں چلنا ہے۔ ابھی سے کچھ بھی دعوے سے کہنا شاید غلط ہوگا۔
Tags: Ahmed Patel, Amar Singh, Anil Narendra, BJP, Cash for Vote Scam, Congress, Daily Pratap, delhi Police, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...