Translater

08 مئی 2021

کنگنا رنوت کا بند ہوا ٹوئیٹر اکاو ¿نٹ !

قواعد کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ٹوئیٹر نے اداکارہ کنگنا رنوت کا ٹوئیٹر اکاو¿نٹ مستقل طور سے بند کر دیا ہے ۔اب اسے چالو کرنے کے لئے کنگنا کو پھر سے ٹوئیٹر سے درخواست کرنی ہوگی ٹوئیٹر نے یہ کاروائی کنگنا کے ٹوئٹ کو مشتعل اور قابل اعتراض مانتے ہوئے کہی ہے بنگال اسمبلی چناو¿ میں ممتا بنرجی کی قیادت والی پارٹی ترنمول کانگریس کی جیت کے بعد ہوئے تشدد پر کنگنا نے کئی ٹوئیٹ کئے تھے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کیا جس میں انہوں نے ریاست میں صدر راج لگانے اور ایسے تشدد کو جمہوریت کی موت بتاتے ہوئے تشدد کے لئے متما پر الزام لگایا تھا۔اس سے پہلے بھی کنگنا کا ٹوئیٹر اکاو¿نت عارضی طور پر معطل کیا جا چکا ہے ۔پچھلے سال کنگنا کی بہن رنگولی چندیل کا ٹوئیٹر اکاو¿نٹ معطل کیا گیا تھا ۔پیر کو گلوکار اور مصنف حسین حیدری نے ادکارہ کے دو ٹوئیٹ کا نوٹس دیتے ہوئے لوگوں سے ان کے اکاو¿نٹ کی رپورٹ کرنے کی درخواست کی تھی ٹوئیٹر کے ترجمان کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کنگنا نے ٹوئیٹر کے قوانین کیخلاف ورزی کی ہے ۔ان کا اکاو¿نٹ مسلسل غصہ اور تشدد کو بڑھاوا دے رہا تھا ایسا برتاو¿ لوگوں کا ورغلاتا ہے ساتھ ہی ورلڈ پبلک بات چیت کی یہ اقدار کو اس اسٹیج پر کم کرتا ہے ۔ہم ہر اس رویہ پر کاروائی کریں گے جس سے کسی بھی طرح کا نقصان ہو سکتا ہو ہمارے قواعد یہ طے کرنے کے لئے ہیں کہ ہر کوئی عام بات چیت میں آزادانہ اور محفوظ طور سے حصہ لے سکے ۔اکاو¿نٹ مستقل بند کئے جانے کے بعد کنگنا نے کہا کہ خوش قسمتی سے میرے پاس کئی اور اسٹیج ہیں جن کا استعال میں اپنی آواز اٹھانے کے لئے کر سکتی ہوں ۔کنگنا نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی ویڈیو بھی شیئر کیاہے ۔بنگال کے تشد د پر اصلاح پسند بین الاقوامی میڈیا کی خاموشی کو بھارت کے خلاف سازش بتایا گیا ٹوئیٹر نے میری بات کو غلط ثابت کیا کہ وہ امریکی ہے ۔اور ایک سفید فام شخص کو جنم سے ہی ایک براو¿ن رنگ کے شخص کو غلام بتانا اپنا حق لگتا ہے ۔کنگنا نے کہا کہ وہ آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ کیا سوچنا بولنا یا کہنا ہے ۔کنگنا نے آگے کہا ۔ (انل نریندر)

آئی پی ایل پر لگی کورونا انفیکشن کی مار!

کورونا کی مار آئی پی ایل میچوں پر پڑی ہے ۔کولکاتہ چنئی کے بعد حیدرآباد اور دہلی کے سبھی کھلاڑیوں کو کورنا متاثر پائے جانے کے بعد بی سی سی آئی اور آئی پی ایل کنٹرول کونسل نے لیگ کو بے میعاد ملتوی کرنے کافیصلہ کیا ہے حالانکہ منگل کی صبح سے لیگ کے اگلے سبھی میچ ممبئی میں کرائے جانے کی بات ہو رہی تھی لیکن سن رائزرس کے کرتا دھرتا کے متاثر ہونے پر اسے ملتوی کرنے کے بارے میں بھلائی سمجھی گئی ۔ہماری سمجھ سے آئی پی ایل کا انعقاد کورونا دور میں ہونا نہیں چاہے تھا ۔ابھی کچھ ہی مہینہ پہلے آئی پی ایل کا پچھلا سیزن ختم ہوا تھا اسے شروع سے ہی شردیوں میں ہونا چاہیے تھا اس سے بی سی سی آئی کو اسپانسروں اور براڈ کاشٹ کے قریب 2 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔کئی غیر ملکی کھلاڑی اپنے ملکوں میں لوٹنے کو لیکر فکر مند ہیں ۔کیوں کہ کئی دیشوں نے بھارت سے پروازوں پر پابندی لگا دی ہے آئی پی ایل کے چیرمین بلجیشٹ پٹیل نے کہا آئی پی ایل لیگ منسوخ ہونے کے بعد بی سی سی آئی جلد ان غیر ملکی کھلاڑیوں کی واپسی کا کوئی راستہ نکالے گا ۔ادھر کورونا کے بڑھتے مریضوں کی وجہ سے اس سال بھارت میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ یو اے ای میں ہو سکتا ہے ۔بی سی سی آئی کے ڈپٹی چیئرمین راجو شکلا نے کہا کہ ہم دیکھیں گے اس سال آئی پی ایل کے انعقاد کے لئے کوئی صحیح وقت مل سکتا ہے ۔یہ ستمبر میں ہو سکتا ہے ۔لیکن ابھی یہ قیاس آرائی ہے ۔ابھی حالات یہ ہیں کہ ہم ٹورنامنٹ منعقد نہیں کررہے ہیں کرکٹ شائقین آئی پی ایل ملتوی ہونے سے دکھی ہیں ۔لاک ڈاو¿ن کے دوران شام کو اچھا منورنجن ہو جاتا تھا تقریباً آخری دور میں یوں ختم ہونا افسوسناک ہے ۔ (انل نریندر)

آکسیجن نہ دینا قتل عام کے برابر!

کورونا مریضوں کو آکسیجن کی سپلائی نہ ہونے پر عدالتوں نے سخت رخ اختیار کر لیا ہے ۔چاہے سپریم کورٹ ہو یا ہائی کورٹ ہو سبھی جگہ سرکار کی زبردست کھچائی ہو رہی ہے دہلی میں روزانہ 700 میٹرک ٹن آکسیجن سپلائی کی ہدایت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے خلاف شروع کی گئی توہین عدالت کی کاروائی پر روک لگا دی ۔دہلی ہائی کورٹ نے راجدھانی میں ضرورت کے مطابق آکسیجن سپلائی نہ ہونے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے بدھ کو روک لگادی اور کہا حکام کو جیل میں ڈالنے سے دہلی کو آکسیجن نہیں ملنے والی ہے ۔ہم اتنا یقینی کریں کہ لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں ۔اس رائے کے ساتھ عدالت نے صاف کیا کہ وہ کورونا معاملوں سے جڑی نگرانی کے لئے ہائی کورٹ کونہیں روکا جا رہا ہے ۔جسٹس چندر چور اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے آکسیجن کے مسئلے سلجھانے کے لئے فوراً مرکز اور دہلی سرکار کے حکام کو آپس میں میٹنگ کرنے کی ہدایت دی ساتھ ہی مرکز سے بتانے کو کہا تھا کہ پچھلے تین دن میں دہلی کو کتنی آکسیجن دی گئی ۔ہم دہلی کے لوگوں کے تئیں جواب دہ ہیں ہم بھی ہیں رہتے ہیں اور لاچار ہیں ۔ہم یہ تصور کر سکتے ہیں کہ لوگ کس حالت میں ہیں ۔اتر پردیش میں کورونا انفیکشن کے چلتے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کو لیکر الہ آباد ہائی کور ٹ میں سخت رائے زنی کرتے ہوئے کہا یہ نہ صرف مجرمانہ حرکت ہے بلکہ ایسا کرنا قتل عام سے کم نہیں ہے ،ایسی موتوں کی جواب دہی آکسیجن سپلائی کرنے والوں کی ہے جسٹس شدھارتھ ورما اور جسٹس اجیت کمار کی بنچ نے کہا میڈیکل سائنس اتنی آگے ہے کہ ہم ہارٹ ٹرانسپلانٹ کررہے ہیں ۔برین آپریٹ کررہے ہیں دوسری طرف آکسیجن کی کمی سے موتیں ہوتی جا رہی ہیں ۔عدالت نے کہا عام طور پر کورٹ شوشل میڈیا کی خبروں پر دھیان نہیں دیتی ہے مگر اس خبر کی حمایت وکیلوں نے بھی کی ہے ۔اترپردیش میں کئی ضلعوں میں آکسیجن کی سپلائی نہ ہونے کے چلتے موتیں ہوئی ہیں ۔کورٹ نے کہا یہ قتل عام ان لوگوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے جن کے پاس لکوڈ میڈیکل آکسیجن مہیا کرانے اور سپلائی چین بنائے رکھنے کا ذمہ ہے یہ دیکھنا بے حد تکلیف دہ بھی ہے ۔کووڈ کے مریض بنا آکسیجن کے مررہے ہیں ۔ہم لوگوں کو اس طرح کیسے مرنے دے سکتے ہیں ؟ یہ تب ہے جب آج سائنس اتنی آگے بڑھ چکی ہے ۔بنچ نے منگل کو کہا کہ لکھنو¿ اور میرٹھ میں آکسیجن کی کمی سے موتوں کی خبریں آئی ہیں عام طور پر خبروں کی جانچ کے لئے وہ سرکار یا ضلع انتظامیہ کو ہدایت نہیں دیتی لیکن بڑی تعداد میں وکیلوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں سبھی ضلعوں میں یہی حالات ہیں ۔ایسے میں لکھنو¿ اور میرٹھ کے ضلع حکام کو ہدایت دی جاتی ہیں کہ وہ 48 گھنٹہ میں جانچ کر ہمیں رپورٹ دیں ساتھ ہی اگلی تاریخ پر ویڈیو کانفرنسنگ میں کورٹ کے سامنے پیش ہوں ۔ (انل نریندر)

07 مئی 2021

لاک ڈاو ¿ن کے دوران اسکول پوری فیس نہیں لے سکتے !

سپریم کورٹ نے ایک بڑے فیصلے میں اسکولوں کو حکم دیا ہے وہ طلبہ سے تعلیمی سال 2021 کی سالانہ فیس لے سکتے ہیں لیکن اس میں 15 فیصدی کٹوتی کریں تاکہ طلبہ نے ان سے وہ سہولیت نہیں لی جو انہیں اسکول میں میسر ہوتی ہے جسٹس اے ایم کان دلکر کی بنچ نے حکم دیا یہ فیس چھ قسطوں میں پانچ اگست 2021 تک لی جائے گی اور فیس نہ دینے پر یا دیری پر دسویں اور بارہویں کے طلبہ کا رزلٹ نہیں روکا جائے گا اور نہ ہی انہیں امتحان میں بیٹھنے سے روکا جائے کورٹ نے کہا اگر کوئی ماں باپ فیس دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو اسکول ان کے معاملوں پر غور کریں گے لیکن ان کے بچون کا رزلٹ نہیں روکیں گے بنچ نے مانا یہ حکم ڈیجاسٹر منجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ اس میں اس طرح کی رعایت کا ذکر نہیں ہے ۔سرکار وبا کی روک تھام کے لئے فیس اور دیگر چارجز یا ٹھیکہ میں کٹوتی کرنے کا حکم دے سکتی ہے اس ایکٹ میں اتھارٹی کا آفت کے پھیلاو¿ کی روک تھا م کے اقدام کرنے کے لئے مجاز بنایا گیا ہے بڑی عدالت نے کہا کہ اسکولوں نے لاک ڈاو¿ن کے دوران ،بجلی ،پانی ،پیٹرل ،ڈیزل،اسٹیشنری اور رکھ رکھاو¿ کی قیمت بچائی ہے یہ بچت 15 فیصدی کے آس پاس بیٹھتی ہے ایسے میں طلبہ سے پیسہ وصولنا تعلیم کا کمرشلائزیشن کرنے جیسا ہوگا معاملہ راجستھان مین 36 ہزار امداد یافتہ پرائیویٹ اسکولوں اور 220 ایڈڈیافتہ اقلیتی اسکولوں کا ہے راجستھان حکومت نے اسکولوں کو حکم دیا تھا کہ لاک ڈاو¿ن کو دیکتھے ہوئے اسکولی طلبہ سے بیس فیصدی کٹوتی کریں ۔اس حکم کو اسکولوں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور کہا تھا یہ حکم انہیں آئین کی دفع 19.1G کے تحت ملے ہیں ۔کاروبار کرنے کے بنیادی حق کے خلاف ہیں ۔ (انل نریندر)

وزیراعظم دو لاکھ لوگوں کی ریلی پر ہم بھیڑ پر گولیاں نہیں چلوا سکتے !

اپنی چناوی ریاستوں میں انفیکشن کی تیز رفتار پر مدراس ہائی کورٹ کے تلخ ریمارکس کے خلاف چناو¿ کمیشن نے پیر کو سپریم کورٹ میں اپنی صفائی پیش کی ۔مدراس ہائی کورٹ کی بنچ نے دیش میں کورنا کی دوسری لہر کے لئے چناو¿ کمیشن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ کمیشن کے افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے سپریم کورٹ نے ان ریمارکس کے خلاف عرضی پر سماعت کے دوران چناو¿ کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہم چناو¿ کراتے ہیں سرکار اپنے ہاتھ میں نہیں لتیے اگر دور دراز علاقہ میں وزیراعظم دو لاکھ لوگوں کی ریلیاں کررہے ہیں تو ہم (چناو¿ کمیشن)بھیڑ پر گولیاں نہیں چلوا سکتے ۔اسے دیکھنا قدرتی آفات انتظام محکمہ کا کام ہے میڈیا کو بھی ایسے تلخ ریمارکس کی رپورٹنگ سے روکا جانا چاہیے اس پر سپریم کورٹ کے جج ڈی وائی چندر چور و جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے کہا میڈیا کو ججوں کی زبانی ریمارکس کی رپورٹنگ کرنے سے نہیں روکا جاسکتا ۔ججوں کے ریمارکس عدلیہ کاروائی کا حصہ ہوتے ہیں اس کی بھی اتنی ہی اہمیت ہوتی ہے جتنا کورٹ کے باقاعدہ حکم کی ۔کورٹ نے چناو¿ کمیشن کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہائی کورٹ کے ذریعے کئے گئے تبصروں کو ویسے ہی لیجئے جیسے ڈاکٹر کی کڑوی دوائی لی جاتی ہے ۔سپریم کورٹ نے چناو¿ کمیشن کی عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔حالانکہ مدراس ہائی کورٹ کے سخت تبصرہ کے بعد چناو¿ کمیشن نے گنتی کے بعد جشن جلوسوں پر روک لگا دی تھی ۔نتیجوں کے بعد پارٹی دفاتر اور کاو¿نٹنگ مراکز کے باہر لگی بھیڑ پر چناو¿ کمیشن نے کہا انہیں روکنے میں ناکام رہے افسروں پر کاروائی ہونی چاہیے دوسرا چناو¿ کمیشن کے وکیل راکیش دیویدی نے کہا کہ قتل کا الزام نا مناسب ہے ۔جج کو اپنے فیصلے میں لکھنا چاہیے کہ اس کے ریمارکس کا کیا مطلب ہے ؟ جسٹس چندر چور نے کہا کہ ہم چناو¿ کمیشن کی بات سمجھتے ہیں لیکن ہم ہائی کورٹ کے ججوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہے ایسا نہٰں ہے کہ جج گھر سے سوچ کر آتے ہیں کیا بولنا ہے آئینی ادارہ کی حیثیت سے ہم چناو¿ کمیشن کا احترام کرتے ہیں ۔مغربی بنگال میں دو مارچ کو روزانہ کووڈ کے 131 مریض سامنے آرہے تھے ۔جو دو مئی کو 17ہزار 515 ہو گئے یعنی ایک سو دو گنا اضافہ ہوا ایسے ہی آسام میں 158 اور تملناڈو مین 123 گنا کیرل میں 105 گنا اور پڈوچیری مین 96 گنا مریض بڑھ گئے ہیں ۔بنچ نے مانا ریمارکس کاکافی سخت تھا ۔اور یہ تکلیف اور مایوسی میں کیا گیا ہوگا ۔کبھی کبھی جج بڑے مفاد عامہ میں کافی کچھ کہہ جاتے ہیں ۔جسٹس شاہ نے کہا ایک کے بعد ایک حکم پاس کئے جانے کے باوجود ملزم کے ذریعے احکامات کی تعمیل نہیں کی جاتی ۔زمینی حقیقت کی بنیاد پر ایسے ریمارکس پاس کئے جاتے ہیں ۔ (انل نریندر)

جمہوری چناو ¿ میں تشدد کا لائسنس نہیں دیاجا سکتا !

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتیجے آنے کے بعد پچھلے اتوار سے جو تشدد کا دور دورہ شروع ہوا اس پر بلا تاخیر روک لگنی چاہیے ۔ریاست کے مختلف علاقوں میں دنگوں میں مرنے والوں کی تعداد 17 تک پہونچ گئی ہے ۔بی جے پی نے ان میں سے نو لوگوں کو اپنا ورکر ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو ٹی ایم سی میں سات لوگوں کی بی جے پی ورکروں کے ہاتھوں قتل کا الزام لگایا ہے اس درمیان بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا دو دونوں کے دورہ پر کولکاتہ گئے وہاں انہوں نے اس تشدد کے مبینہ ٹی ایم سی ورکروں کے ہاتھوں مارے گئے پارٹی ورکروں کے گھر جاکر ان کے رشتہ داروںسے ملاقات کی دوسری طرف ممتا بینرجی کا الزام ہے کہ بھاجپا اسمبلی چناو¿ میں شرمناک ہار کو پچا نہیں پا رہی ہے اس لئے وہ فرقہ وارانہ تشدد بھڑکا کر ریاست میں صدر راج نافذ کرانے کی کوشش کررہی ہے ۔مشرقی مدنا پور کے بی جے پی ضلع صدر پر لے پال کا دعویٰ ہے کہ ٹی ایم سی ورکروں کو ظلم سے عاجز آکر پارٹی کے کئی ورکر جان بچانے کے لئے گھر سے بھاگ گئے ہیں ۔علاقہ میں کئی جگہ گھروں میں لوٹ مار اور آگ لگانے کے واقعات ہوئے ہیں ۔اور عورتوں کو بھی بخشا نہیں گیا ہے ۔وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے کہا ہے کہ تشدد کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہی بی جے پی مغربی بنگال میں صدر راج لگانے کی کوشش کررہی ہے ۔ان کا کہنا ہے ریاست میں چناو¿ تشدد کے کچھ واقعات ضرور ہوئے ہیں لیکن بی جے پی اس میں آگ میں گھی ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ تشدد ان علاقوں میں زیادہ ہوا جہاں بھاجپا جیتی ہے ۔اس تشدد کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن ہم ایسا نہٰں ہونے دیں گے ۔سکریٹری و ہوم سکریٹی و پولیس ڈائرکٹر جنرل اور کولکاتہ کے پولیس کمشنر کے ساتھ میٹنگ میں تشدد سے پیدا حالات کا جائزہ لیا تھا اور انتظامیہ کو اس پر روک لگانے کے لئے ضروری کاروائی کا میں نے حکم دیاہے ۔ممتا نے کہاپیر تک پورا انتظامیہ چناو¿ کمیشن کے ہاتھوں میں تھا لیکن اس نے چوبیس گھنٹوں کے دوران اس پر لگام کسنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔بھاجپا صدر جے پی نڈا نے کہا بھاجپا ورکروں کی شہادت بے کار نہیں جائے گی ۔پارٹی نے پچھلے دنون ریاست میں تشدد کے واقعات کی فہرست تیار کی ہے جس میںقتل تشدد اور لوٹ پاٹ کے 273 واقعات کے ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور تشدد کے واقعات زیادہ تر دیہات میں ہوئے ہیں وہاں مقامی لوگوں کی رنجش اس کی وجہ ہو سکتی ہے یہ ممکن ہے کہ سینئر لیڈروں نے اس کی حمایت نہ کی ہو لیکن اب ان معاملوں کو اپنے مفادات میں بنانے کی کوشش شروع ہو گئی ہے تیسری مرتبہ ریاست کی کمان سنبھال چکی ممتا بنرجی کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے تشدد کو کنٹرول کرنے کے لئے وہاں قانون نو نظم سنبھالنے والی ایجنسیوں کے ساتھ ہی بے قابو ہو رہے ترنمول کانگریس کے ورکروں کو پیغام دیں دراصل بنگال کی سیاسی تشدد کے ماضی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے اندیشہ جتایا جا رہا تھا کہ نتیجے آنے کے بعد تشدد بھڑک سکتا ہے اور یہ واقعی ایک ٹریجڈی ہے جس وقت مغربی بنگال کو پورے دیش کی طرح کوڈ 19 کی وبا کو کنٹرول کرنے کے لئے اتحاد دکھانا چاہیے تب وہاں سیاسی بدلہ لینے کے لئے تشدد ورپا ہے یہ نہیں بھولنا چاہیے ماکس وادی کمیونشٹ پارٹی اور کانگریس تک نے تشدد کو لیکر ترنمول کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ممتا بنرجی نے اب نئی پاری کی شروعات کر دی ہے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تشدد پر سختی سے قابو پانے کے بعد وہ وباسے پیدا حالات سے موثر طریقہ سے نمٹیں ۔ (انل نریندر)

06 مئی 2021

ہر 4 منٹ میں ایک انفیکشن شدہ مریض کی موت!

راجدھانی دہلی میں کورونا کی بڑھتی رفتار جان لیو اثابت ہو رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے راجدھانی میں ہرایک چار منٹ میں ایک کورونا متاثر شخص کی موت ہو رہی ہے اور ان اموات کے بڑھنے سے دلی میں شرح اموات بھی بڑھی ہے عالم یہ ہے کہ دیش کے بڑے شہروں میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات دہلی میں ہو رہی ہیں دہلی میں گزشتہ چار دن میں پندرہ سو سے زیادہ لوگوں کی مو ت ہو چکی ہے اور پچھلے 24 گھنتے میں ہی 395 لوگ دم توڑ چکے ہیں ۔یعنی ہر گھنٹہ 17 لوگ اپنی جان گنوا رہے ہیں اس حساب سے دیکھیں تو ہر چار منٹ میں ایک موت ہو رہی ہے متوفین کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔اور اب تک دہلی میں 15772 لوگوں کی موت ہو چکی ہے دیش کے بڑے چار شہروں ممبئی چنئی ،کولکاتہ اور دہلی میں سب سے زیادہ موتیں ہوئی ہیں ۔اس وقت راجدھانی میں 4 ہزار سے زیادہ مریض آئی سی یو میں بھرتی ہیں ایسے میں آنے والے وقت میں اموات کی شرح کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے موت کے بڑھتے معاملوں پر اپولو اسپتال کے سینئر میڈیکل افسر ڈاکٹر پردیپ کمار سنگھل کے مطابق دہلی میں پچھلے ایک مہینہ پر ریکارڈ سطح پر انفیکشن کے مریض بڑھ رہے ہیں زیادہ انفیکشن ملنے کی وجہ سے اموات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے کورونا کا ڈبل میوٹنٹ اور نیا اسٹڑین کافی خطرناک ثابت ہو رہا ہے اس وقت متاثرہونے کے بعد مریض کے پھیپھڑے تین سے چار دن میں خراب ہو رہے ہیں ان کو اسپتال میں بھرتی کرنا پڑ رہا ہے اس کے چلتے کئی لوگوں کی موت ہو رہی ہے ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت ضروری ہے نازک حالت میں مبتلا مریضوں کو جلد سے جلد علاج ملے اور ساتھ ہی کچھ سختی برتنے کی ضرورت ہے ۔جس سے انفیشکن کے یومیہ کیسز پر روک لگ سکے ۔راجدھانی میں پچھلے سال نومبر میں کورونا کی تیسری لہر کے مقابلے اس وقت قریب چار گنا لوگوں کی موت روزانہ ہو رہی ہے تب نومبر میں یومیہ اوسطاً 100 لوگ گنوا رہے تھے اس وقت یہ 390 ہے ۔ہیلتھ افسر نے بتایا اس وقت دہلی میں دیگر ریاستوں کے کافی مریض یہاں بھرتی ہو رہے ہیں اور ان لوگوں کی موتین ہو رہی ہیں اس سے بھی موتوں کی ٹیلی بڑھ رہی ہے پچھلے دس دنوں کے نمبروں کو دیکھیں تو 29 اپریل ، 395 ۔ 28 اپریل 368 اور 27 اپریل 381 ، 26 اپریل 380 ، 25 اپریل 350 24 اپریل 357 ، 23 اپریل 348 ۔ 22 اپریل 361 ، ایسے ہی 21 اپریل 249 ، 20 اپریل 277 ، یہ اعداد شمار ہیلتھ ڈپارٹنمٹ کے مطابق ہیں ۔جس تیزی سے دہلی میں کورونا متاثرین کی اموات کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے یہ باعث تشویش ہے بہتر یہ ہے تمام دہلی کے شہری احتیاط برتیں اور گھروں میں رہیں ۔ (انل نریندر)

دوا ، انجیکشن ،ایمبولینس،آکسیجن زیادہ وصولی پر یہاں شکایت کریں!

دہلی میں کورونا کے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو دوہری مار جھیلنی پڑ رہی ہے ایک طرف ہسپتالوں میں بیڈ نہیںمل رہے ہیں تو دوسری طرف دوائیوں و آکسیجن ،انجیکشن اور ایمبولینس سے لیکر مریضوں کی موت ہو جانے پر اس کی آخر ی رسوم کے لئے لوگوں سے بھاری بھرکم پیسہ وصولہ جا رہا ہے مجبوری میں اپنا لوگوں کو سب کچھ داو¿ پر لگانے پر راحت نہیں مل رہی ہے اس معاملے میں دہلی پولیس کو بھی کافی شکایتیں مل رہی ہیں اور شوشل میڈیا سے بھی مسلسل اس طرح کی اطلاعات مل رہی ہیں اسے دیکھتے ہوئے اب دہلی پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی ان سے زیادہ پیسہ وصول رہا ہے یا مدد کے نام پہ بیوقوف بنا کر پیسہ اینٹھنے کی کوشش کررہا ہے تو فوراً دہلی پولیس کی کووڈ ہیلپ لائن 011-23469900 پر کال کرکے پولیس کو اس بارے میں شکایت درج کرائیں ۔ایسی سبھی شکایتوں پر پولیس ایکشن لے گی اگر جانچ میں شکایت صحیح پائی گئی تو ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی دہلی پولیس نے اپی کووڈ ہیلپ لائن کا دائر ہ بڑھاتے ہوئے سنیچرکو شوشل میڈیا کے ذریعے سے اپنی اس پہلے کے بارے میں لوگوں کے ساتھ شیئر کیا ہے ۔دہلی پولیس کے حکام نے بتایا اگر کوئی کورونا کے علاج سے جڑی نقلی دوائیاں بیچ رہا ہو یا دوائیوں کے ساتھ آنجیکشن ،آکسی میٹر ،آکسیجن سلینڈر وغیرہ ساز وسامان کی بلیک کر رہا ہے تو متاثرہ شخص اس بارے میں پولیس کی لووڈ ہیلپ لائن پر شکایت درج کرا سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ اگر کوئی زیادہ منافع کے لالچ میں مریضوں کی دوا کو جان بوجھ کر دبائے بیٹھا ہے یا کوئی ایمبولینس والا مریض کو لے جانے کے لئے زیادہ پیسہ مانگ رہا ہے یا شمشان میں انتم سنسکار کے لئے زیادہ پیسہ مانگا جار ہا ہے تو پولیس کی ہیلپ لائن پر شکایت درج کرا سکیں گے ۔ویسے تو لاک ڈاو¿ن کے دوران ضروری خدمات سے وابسطہ لوگوں کی نقل و حرکت جاری رکھنے اور انہیں اس بارے میں صحیح جانکاری دینے کے لئے اس ہیلپ لائن کو شروع کیاگیا تھا لیکن اس کا دائرہ بڑھاتے ہوئے مریضوں کو آرہی دکتوں یا متوفی کی آخری رسوم سے وابسطہ لوگوں کی شکایت درج کرنے کے لئے بھی اس ہیلپ لائن کا استعمال کیا جا سکے گا ۔ (انل نریندر )

دہلی میں چل رہی ہے دو- دو حکومتیں!

راجدھانی دہلی میں لیفٹنینٹ گورنر کو زیادہ اختیارات دئیے جانے والے قانون کے نافذ ہوجانے پر راجدھانی میں ایک عجب سی صورتحال بن گئی ہے ۔جی این سی ٹی ڈی (ترمیم قانون 2021 ) کا فرمان جار ی ہونے پر یہاں مبینہ طور سے دو دو حکومتیں چل رہی ہیں ۔ایسے میں اختیارات کی اس جنگ میں دہلی سرکار کے افسر لیفٹنینٹ گورنر اور وزیراعلیٰ اروندکیجریوال کے درمیان پس رہے ہیں ۔اگر وزیراعلیٰ اور ان کے وزیر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو اپنی آئینی سپرمیسی کے چلتے فائل لیفٹننٹ گورنر کو بھیجنی پڑتی ہے دوسری طرف حکام میں گمراہی کے حالات بن رہے ہیں ذرائع کی مانیں تو احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر سرکار کے حکام کو دہلی سرکار کے وزراءکی ڈانٹ کھانی پڑرہی ہے ۔کورونا دور میں اختیارات کی یہ جنگ تب زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے جب ایل جی اور وزیر اعلیٰ کو لوگوں کی جان بچانے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے لیکن وہ ایک دوسرے کے الٹ جاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔کورونا منجمنٹ کے محاذ پر کیجریوال سرکار الگ چل رہی ہے ۔تو ایل جی اپنی الگ راہ پکڑے ہوئے ہیں لیکن اس طرح کے حالات میں آخر کا ر نقصان دہلی کے لوگوں کا ہی ہو رہا ہے ۔ایک طرف کیجریوال دہلی میں آکسیجن کی قلت کی بات کر رہے ہیں تو ایل جی نے لوگوں کو آسان طریقہ سے آکسیجن دستیاب کرانے کے لئے آکسیجن کنٹرول روم شروع کر دیا ہے ۔جس کی ہیلپ لائن پر کوئی بھی شخص فون کرکے سلینڈ ر لے سکتا ہے یا اپنا سلینڈر بھروا سکتا ہے ایسے میں دہلی والوں میں عجب حالات پیدا ہو گئے ہیں دہلی میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین دئیے جانے پر وزیراعلیٰ و محکمہ کے حکام کے ساتھ میٹنگ کر حالات کا جائزہ لیا تھا ۔تو ایل جی نے چیف سکریٹری سے ویکسی نیشن کی تیاریوں کی رپورٹ مانگی ہے حالانکہ یکم مئی سے 18 سال سے عمر کے زیادہ لوگوں کے لئے دہلی میں وسیع پیمانہ پر ویکسی نیشن نہیں ہو سکی ۔اب دہلی میں یہ مہم شروع ہوگی غور طلب ہے کہ کورونا پر دہلی سرکار مسلسل ہائی کورٹ سے فٹکار کھا رہی ہے ۔تو دہلی سرکار کہہ رہی ہے کہ دہلی سرکار سے جب حالات نہیں سنبھل رہے تو مرکز کو کیوں نہیں ذمہ داری دی جاتی اس کے علاوہ کورٹ انہیں لگاتار کیجریوال سرکار کو پمبو پایا ہے اور پھٹکار لگائی ہے ان دونوں پاور ہاو¿سیوں کے بیچ دہلی کی جنتا پس رہی ہے براحال ہے ،نہ آکسیجن مل رہی ہے نہ بیڈ مل رہی ہیں اور نہ دوائیاں دستیاب ہیں اور نہ کوئی ذمہ دار ہے ۔ (انل نریندر)

05 مئی 2021

ریٹائرڈ ڈاکٹروں کی تقرری کریں!

کورونا قہر راجدھانی دہلی میں رک نہیں رہا ہے اس وجہ دہلی سرکار کے محکمہ صحت کے اسپیشل افسر آشیش چندر ورما نے جمعہ کو سبھی اسپتالوں کے میڈیکل سپرم ڈنڈنٹ کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ فوراً ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو 1.4 لاکھ ماہانہ تنخواہ پر اپنے اسپتالوں میں تقرر کریں یہ حکم وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد نکالا گیا ہے اس حکم کے سلسلے میں لیفٹننٹ گورنر انل بیجل کو جانکاری بھیج دی گئی ہے محکمہ صھت کے اس افسر نے اپنے حکم میں کہا کہ سھبی میڈیکل ڈائرکٹر ڈاکٹروں کی کمی کو دور کرنے کے لئے ریٹائرڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر جو ایم بی بی ایس کے ساتھ ایم ڈی یا ایم ایس ہوں کو دہلی سرکا ر کے اسپتالوںمیں بھرتی کریں ان کی تقرری اسپشیل ڈاکٹروں کی حیثیت سے کی جائے گی ۔جن ریٹائرڈ ڈاکٹروں کے پاس صرف ایم بی بی ایس کی ڈگری ہے انہین سوا لاکھ روپے اجرت پر مشیر کار کے طور پر مقرر کریں اور جن کے پاس بی ڈی ایس کی ڈگری ہے یا وہ آیوش ڈاکٹر ہین انہیں ایک لاکھ روپے تنخواہ پر مقرر کیا جائے ۔بی ایس سی نرسنگ والی نرس کو چالیس ہزار روپے ماہانہ دسویں پاس نرس کو جنہیں صرف پرائمری ہیلتھ کے بارے میں جانکاری بیس ہزار دو سو پچاس روپے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کیا جائے ۔برمان نے کہا ریٹائرڈ اسپیشل لسٹ ڈاکٹر یا کنسلٹنٹ ڈاکٹر دیش کی کسی بھی ریاست یا مرکزی حکمراں ریاست یا مرکزی سرکار کے اسپتالوں وڈیفنس یا پرائیویٹ کارپوریٹ ہسپتالوں میں کام کرکے ریٹائر ہوئے ہیں وہ دہلی سرکار کے سرکاری اسپتالوں میں مقرر کئے جا سکیں گے ۔ (انل نریندر)

میں بزدل نہیں ، مجھے حالات نے مارا!

آئی ایم سوری میرے بچے ، میں تجھے دیکھ نہیں سکوں گا میں بزدل نہیں تھا ،مجھے حالات نے مارا ہے ایک ویڈیو کے ذریعے دردناک میسج اپنی بیوی کو بھیجنے کے بعد ساکیت میں واقع تعینات ڈاکٹر نے پھانسی لگا کر جان دے دی، ساو¿تھ ضلع کے مالویہ نگر علاقہ میں قائم اسپتال میں قائم کررہے 35 سالہ وویک رائے نے جمع کی رات اپنے کمرے میں پنکھہ سے ساڑی کے سہارے پھندہ ڈال کر خودکشی کر لی موقع واردات سے ایک خودکشی نامہ بھی ملا ہے جس میں کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا فی الحال پولیس نے سی آر پی سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور رشتہ داروں سے پوچھ گچھ کر آگے کی جانچ میںلگی ہوئی ہے ساو¿تھ ڈی سی پی اتل کمار ٹھاکر نے بتایا متوفی ڈاکٹر وویک رائے گورکھپور کے تھے اور دہلی میں رہ کر ساکیت کے میکس ہسپتال سے ہی ڈپلومی ان میڈیسن کورس کررہے تھے ۔وہ اپنے خاندان میں اکیلے ڈٹے تھے ڈاکٹر وویک کی شادی 25 نومبر 2020 کو سنت کبیر نگر ضلع کے گرام بالو ساشن گاو¿ں میں گاو¿ں کے رائے پریوار کی لڑکی سے ہوئی تھی ۔شادی کے بعد دونون دہلی میںرہنے لگے تھے کوکیلا اپنے ماں کے گھر چلی گئی جہاں سے وہ گھر نہیں لوتی اس کو لیکر دونوں میں کوئی جھگڑا چل رہا تھا ان کی بیوی دو مہینہ کی حاملہ ڈی سی پی کے مطابق ڈاکٹر وویک نے اپنے سوسائڈ نوٹ میں اپنے پریوار اور دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے سبھ کامنائیں دی ہیں خودکشی کے اسباب کا پتہ نہیں چل پایا اتنا ضرور لگتا ہے کہ بیوی کے اپنے ماں کے گھر جانے سے وہ دکھی تھا ۔لیکن اس کے چلتے خودکشی کر لیں گے ایسا اندازہ تو گھر والوں کو بھی نہ تھا دوستوں کو کورونا وبا کے ٹائم میں ویسے ڈاکٹروں پر دباو¿ ہے جب وہ روز اپنے سامنے کووڈ متاثرین کو مرتے دیکھتے ہیں تو ان کا دماغ پر اثر پڑتا ہے ۔ (انل نریندر)

تاریخی:پانچ ریاستوں میں مکمل اکثریت والی حکومتیں!

مغربی بنگال ، آسام ،تملناڈو،کیرل اور پڈوچیری کے چناو¿ نتیجوں نے ثابت کر دیا ہے کہ لالچ ، پیسہ ، جھونٹے وعدوں ، طاقت یا اقتدار کا بیجا استعمال کر دھکا مکی سے اقتدار حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔اقتدار میں وہی آئے گا جسے جنتا چاہتی ہے ۔مغربی بنگال ، آسام کیرل،تملناڈو اور پڈوچیری میں مکمل اکثریت والی حکومت بن رہی ہے ۔بنگال میں ممتا بینرجی مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے جا رہی ہیں ۔وہیں آسام میں ایک بار پھر بھاجپا کو سب سے زیادہ سیٹیں ملی ہیں ۔کیرل میں حکمراں ایل ڈی ایف نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے ۔پڈوچیری میں اے آئی ایم آر ڈی نیتا کی قیادت والے این ڈی اے کو کامیابی ملی ہے وہیں تملناڈومیں ڈی ایم کے جیتی ہے ۔ویسے تو چناو¿ چار ریاستوں اور ایک مرکزی حکمراں ریاست میں تھے لیکن سب کی نگاہیں بنگال کے نتیجوں پر لگی تھیں ۔یہ چناو¿ اصل صوبائی تو تھے لیکن انہیں قومی حیثیت دینے کا سہرہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو جاتا ہے ۔بھاجپا کے جتنے نیتا اکیلے مغربی بنگال میں ڈٹے رہے آج تک کسی بھی ریاستی اسمبلی چناو¿ مین قومی سطح کے اتنے لیڈر کبھی نہیں ڈٹے ۔سال بھر سے جس طرح چناوی تیاریاں چل رہی تھیں اس سے اس ریاست کی سیاسی اہمیت کا پتہ چلتا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے بنگال میں اقتدار حاصل کرنے کےلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ساری مشینری جھونک دی ۔بنگال میں ممتا بنرجی دس سال سے اقتدار میں تھیں اس لئے سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ ریاست میں اقتدار مخالف لہر ہے ۔بھاجپا بھی یہ مان کر چل رہی تھی کہ پچھلے دس برسوں کے ممتا عہد کے دوران لوگوں میں ترنمول کانگریس کے خلاف زبردست ناراضگی ہے اور اس ناراض ووٹ سے اسے فائدہ ملے گا ۔بھاجپا نے بنگال میں پوری طاقت جھونک دی ۔وزیر داخلہ امت شاہ نے 200 پار کا نعرہ دیا تھا بھاجپا خیمہ میں ایسا ماحول بنایا تھا کہ مانو مغربی بنگال میں وہ سرکار بنانے جا رہی ہے لیکن بھاجپا کا یہ سپنا ادھوارا رہ گیا اس جیت سے ممتا کا علاقائی قد تو بڑھا ہے ساتھ ہی قومی سیاست میں بھی وہ ایک متبادل بن کر ابھری ہیں ۔قومی سطح پر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ممتا بنرجی بھاجپا کے لئے ایک چنوتی بن سکتی ہیں ممتا کی شاک عام آدمی خاص کر غریب طبقہ کی ہمدرد بنی ہوئی ہیں وہ زمین سے جڑی ایک کامریٹ لیڈر ہیں ۔سب سے بڑی اس جیت کا کارنامہ یہ ہے کہ مودی شاہ کی جوڑی کی تمام کوششوں کے باوجود انہیں ہرایا نہیں جا سکا ۔یہ ایک اتفاق نہیں ہے اب علاقائی لیڈر بھی کھل کر مرکز کے سامنے ڈٹیں گے ممتا کی چناوی سیاست پانچ ستارہ ہوٹلوں کی نہیں ہے بلکہ زمینی حالات کے درمیان وہ موجود رہتی ہیں چناو¿ سے پہلے ترنمول کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو توڑ کر بھاجپا نے زوردار مہم چلائی اس کے نہ صرف سمجھنے میں بنگال کی جنتا نے دیر نہیں لگائی ۔بھاجپا نے بڑا داو¿ ترنمول کے باغی نیتاو¿ں پر کھلا لیکن یہ بھاجپا کی امیدوں کو پورا نہیں کر سکے ۔مکل رائے ، شبھیندو ادھیکاری ،راجیو بینرجی ، ویشالی ڈالمیہ جیسے قریب 37 ممبران اسمبلی بھاجپا نے توڑ کر شامل کئے کل 140 کے قریب ترنمول لیڈر بھاجپا میں آئے ان میں سے تین نیتا ہی جیت سکے ان میں سابق مرکزی وزیرمکل رائے ،ممتا کے خاص تھے ۔شبھیندو ادھیکاری ،مہر گوسوامی جیت سکے ،چناو¿ سے ٹھیک پہلے متھون چکرورتی کو بھی منھ کی کھانی پڑی مودی کا نعررہ دیدی او دیدی کا الٹا اثر ہوا تمام عورتوں نے اس کا برا مانا اور ترنمول کو ووٹ دے دیا ہندوستان کاووٹر بہت ہی سنجیدہ ہو گیا ہے اس نے اس بار اس نے پانچوں ریاستوں میں مکمل اکثریت کی سرکاریں بنائی ہیں اس میں کچھ جوڑ توڑ کی سرکار نہ بن سکے ان چناو¿ نتائج کے قومی سیاست پر گہرہ اثر پڑنا فطری ہے ۔ (انل نریندر)

04 مئی 2021

بیمہ کمپنیاں کورونا علا ج کیلئے پیسہ نہیں دے رہی ہیں!

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور بیمہ کنٹرول ارڈا کی سخت ہدایت کے باوجود بیمہ کمپنیاں کورونا علاج کے خرچ کی ادائیگی نہیں کر رہی ہیں بیمہ کنٹرولر نے پچھلے دنوں کمپنیوں کو حکم دیا تھا کہ کیس لیس علاج کی منظوری ایک گھنٹے کے اندر مل جانی چاہئے لیکن کمپنیوں کا کہنا کہ ہماری طرف سے طے اپرول بھیج دیا جاتا ہے لیکن اسپتالوں نے اپنی طرف سے کووڈ علاج کا خرچ بڑھا دیا ہے اس لئے خرچ ادئیگی کی خانہ پوری میں دقتیں آ رہی ہیں اسپتالوں کی طرف سے بھیجے گئے 1.71لاکھ دعوے ابھی سیٹل مینٹ کی لائن میں ہیں بیمہ کونسل کی طرف سے وزارت داخلہ کو دستیاب کرائے اعداد و شمار کے مطابق 28اپریل تک کووڈ 19کے علاج سے جڑے 18لاکھ دعوے 15,568کروڑ روپئے کی ادائیگی کیلئے بیمہ کمپنیوں کو بھیجے گئے ہیں ۔ ان میں سے 9,30,729دعوو¿ں کو سیٹل مینٹ پورہ ہوگیا ہے اور پیسہ بھی ادا کرد یا گیا ہے لیکن ابھی 1.71لاکھ دعوے ابھی کمپنیوں کے پاس لٹکے ہیں جن کا پیسہ دیا جانا ہے وہیں بیمہ یافتگان کا کہنا ہے کمپنیاں اسپتالوں کی طرف سے کی گئی کئی بار چانچ اور سہولیت کی ادائیگی کرنے سے منع کر رہی ہیں ساتھ ہی علاج کا خرچ ان کے اندازے سے زیادہ ہونا بھی بیمہ یافتگان کو ادائیگی میںتاخیر کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے ۔

انتم یاترا میں بھی من مانے پیسے وصولے جا رہے ہیں !

زندگی کے آخری جگہ (شمشان )میں جمعہ کو پبلک جگہ سے بھی زیادہ بھیڑ شمشان میں دکھائی دیتی ہے پہلے سانسوں کی بے تحاشہ قیمت اور جب سانسوں سے ناطہ ٹوٹ گیا تو ایمبولینس کرائے میں بھی مول تول ہو رہاہے ۔ وبا کے اس دور میں انسانیت کی مثال پیش کرنے کے بجائے شمشان استھل پر انتظار کرنے کی بھی قیمت اصولی جا رہی ہے رشتہ داروں کے ساتھ ایمبولینس گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی بھی کہا سنی ہو رہی ہے ۔ حالانکہ میونسپل کارپوریشن اور ادارے کی ٹیم مسلسل حالات پر نظر رکھ رہی ہے ۔ تاکہ غم زدہ رشتہ داروں کو کم سے کم پریشانی ہو ۔ دوارکا کے سیکٹر 24میں واقع شمشان استھل میں صبح سے پرائیویٹ ایمبولینس نے لاشیں پہونچنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے متوفین میں سبھی عمر اور طبقے کے لوگ تھے الگ الگ اسپتالوں سے لاشوں کو جیسے ہی شمشان میں چتا پر ڈالا جا رہا تھا وہیں ایمبولینس ڈرائیور کرایہ اصولنے کیلئے مول تول کرتے نظر آئے ایک ڈرائیور کو متوفین کے رشتہ داروں سے تین ہزار کے بجائے چار ہزار وپئے دیئے گئے پھر بھی انتظار کے نام پر مزید چارج نہ ملنے پر کہا سنی ہونے لگی ایک ایمبولینس والے نے ویر ارجن کے سینئر پترکاروکو کورونا انفیکشن سے ان کے گھر پچھم وہا رے سے رام منوہر لوہیا پہونچانے کیلے چالیس ہزار روپئے مانگے یہی حال ہے پرائیویٹ ایمبولینس والوں کا ایم سی ڈی نے انتم سنسکار کیلے قیمت طے کر رکھی ہے (دوارکا )ویلفیئر اسوشیشن کے منتظم سندیپ ہڈا کے مطابق انتم سنسکار پر قریب 39سو روپئے خرچ آتا ہے پنڈت اور ضروری خرچ کیلئے قیمت 2ہزار سے 2.5ہزار روپئے لاشوں کی انتم سنسکار کی خانہ پوری کیلئے سبھی مدحوں میں طے قیمت لوگوں کو سہولت دی جا رہی ہے بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی پر چیہ کاٹنے کے بعد لاشوں کے انتم سنسکار کیلئے نمبر دیئے جا رہے ہیں سمسان میں ایک ساتھ چھ سے سات ایمبولینس کھڑے ہونے کا انتظام ہے ایک طرف چتا میں جلتی لاش اور دوسری طرف انتم یاترا کیلئے زیادہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے اس لئے ایک شخص کے موت ہونے پر اس کا انتم سنسکار تک ہر طرف خرچہ ہی خرچہ ہوتا ہے اگر ان ایمبولینس والوں کو موت کے سودا گر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ انسانیت نام کی بات تو چھوڑیئے اس بیماری سے یہ ختم ہوگئی ہے یہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے ۔ (انل نریندر)

ٹیکے کی قیمت و تقسیم کمپنیوں پر نہ چھوڑی جائے!

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی کوو ڈ ویکسی نیشن پالیسی پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں ۔ عدالت نے کہا مرکز اور ریاستوں کیلئے الگ الگ قیمت طے کرنے کی دوا بنانے والی کمپنیوں کو اجازت نہیں دی جاسکتی مرکز کو قومی ویکسی نیشن مہم کے تحت کووڈ کے ٹیکے کو لگانے کی ذمہ داری دینی چاہئے۔ جسٹس دھننزے چندر چو ایل ناگیشور راو¿ اور ایس رویندر بھر کی بنچ نے مرکز ی حکومت سے سوال کیا وہ پیٹرنڈ کے تحت ضروری لائسنس دینے کے اختیار پر غور کیوں نہیں چل رہا ہے ٹیکے کی قیمت اور اس کے تقسیم کی ذمہ داری دوا بنانے والوں پر نہ چھوڑی جائے مرکز کو ا س کی ذمہ داری لینی ہوگی ۔ عدالت نے کہا ٹیکے کی خرید مرکزی حکومت کر ررہی ہو یا ریاستی حکومت آخر یہ دیش کے شہریوں کے لئے ۔ ہمیں قومی ویکسی نیشن مہم کا ماڈل اپنانا ہوگا، مرکزی حکومت صد فیصد ٹیکوں کی خرید اری کرے اور ٹیکے بنانے والوں کی پہچا ن کرے اور ان سے مول بھاو¿ طے کرے اس کے بعد ریاستوں کو ٹیکہ تقسیم کیا جائے ٹیکے کی خریداری کا سینٹرلائزیشن ہونا چاہئے اور تقسیم کی لاب مرکزیت ۔ مرکز نے پچاس فیصد کوٹا پہلے ہی سے ریاستوں کو دے دیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ٹیکے کی پروڈیکشن کرنے والی کمپنی یہ طے کرے گی کہ کس ریاست کو کتنا ٹیکہ سپلائی کرنا ہے ۔ کیا غیر جانبدارانہ اورملکیت انصاف کا معاملہ پرائیویٹ کمپنی پر چھوڑا جا سکتا ہے ؟ ۔بنچ نے کہا کہ ٹیکہ کو ایجاد کرنے اور اس کو بنانے کیلئے 45سو کروڑ روپئے کا فنڈ دیا گیا ہے اس لئے پروڈیکٹ کا مالکانہ حق سرکار کا ہے یہی اب پروڈیکشن کمپنی کہہ رہی کہ مرکز کیلئے قیمت 150روپئے یا اور ریاست کیلئے 300سے400روپئے ہے اور تھوک کے بھاو¿ میں یہ فرق 30سے 40ہزار کروڑ کا ہوتا ہے دیش اتنی بڑی رقم کو خرچ کرے ؟ اس پیسے کا استعمال کہیں اور بھی کیا جاسکتا ہے مرکزی حکومت تھوک میں ٹیکوں کو کیوں نہیں خریدتی ریاست اسے اپنا کوٹہ لے سکتی ہے سپریم کورٹ نے کہا امریکہ میں بھی ایک ٹیکے کی قیمت 2.15ڈالر ہے یوروپ میں اس سے بھی کم بھار ت کے لوگوں کیلئے مہنگی ویکسین کیوں ؟ ریاستی حکومتوں کو چھ سو روپئے اور پرائیویٹ اسپتالوں کو 1200روپئے میں بیچنے کا کیا جواز ہے ؟ بھارت دنیا کا سب سے بڑا انجیکشن خریدنے والا کنزیومر ہے ۔ 1845سال کی عمر کے تقریباً 59کروڑ لوگوں کو ٹیکہ لگنا ہے ان میں سماج کے محروم طبقات کے لوگ اور درج فہرست ذاتوں ور قبائل کے لوگ بھی ہیں ۔ یہ لوگ کہاں سے اتنا پیسہ لائیں گے؟ مشکل کے وقت پرائیویٹ سیکٹر ماڈل سمجھ سے باہر ہے ۔ سپریم کورٹ آج کل جنتا کی آواز بنی ہوئی ہے کوئی تو خیال رکھنے والا ہے مرکز کی غلط پالیسیوں کا اور جنتا کی آوازاٹھانے والا ہے ۔ (انل نریندر)

02 مئی 2021

لاکھوں نوکریوں پر منڈرا رہا ہے خطرہ!

دیش میں کورونا وبا کی دوسری لہرمیں پابندیوں کے چلتے 80 فیصدیں دوکانیں بند ہیں وہیں جو باقی ہیں وہ 20 فیصدی کھلی ہیں وہاں بھی گراہک نہیں آرہے ہیں ۔ایسے میں ریٹیل ایسوشیئشن آف انڈیا کیطرف سے اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر حکومت یا رزرو بینک ان کی مدد کیلئے سامنے نہیں آیا تو سیدھے طور پر چالیس لاکھ نوکریاں جانے کا خطرہ ہے ایسوشیئشن نے نرملا سیتا رمن کو خط لکھ کر ریاستوں میں لاک ڈاو¿ن اور کرفیوجیسے حالات سے پیدا واقف کرایا ہے اس کے علاوہ کاروباریوں کی طرف سے سبھی طرح کے قرض پر سود پر چھوٹ دینے کی بھی مانگ کی گئی ہے ۔کاروواریوں کی دلیل ہے ریٹیل کاروبار میں بچت کم ہوتی ہے آج کے کاروباری ماحول میں بغیر آمدنی یا پھر بہتر کام نہ ہونے سے آمدنی کے چلتے سود کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے ماہرین کے مطابق ریتیل تاجر ایک ایسے خطہ کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں مینوفیکچرنک ،منورنجن جیسے دوسری بڑی صنعتیں سیدھے طور پر جڑی ہوتی ہیں ایسے میں یہاں آنے والی مشکلوں کا اثر پوری ویلیو چین پر پڑتا دکھائی دے گا اگر اسے سہارا نہیں دیا گیا دوسری جگہوں سے بھی نوکریاں جانے اور مندی جیسے حالات پیدا ہونا شروع ہو سکتے ہیں ۔ (انل نریندر)

بنگال کو لیکر شش وپنج میں چناوی پنڈت !

کورونا کی دوسری لہر کے درمیان ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ کے نتیجہ دو مئی یعنی آج اتوا ر کے دن آئیں گے اس درمیان جمعرات کو مغربی بنگال میں آٹھویں مرحلے کی ووٹنگ کے بعد آئے ایگزٹ پول میں ایسی تصویر دکھائی دی جمعرات کو مختلف چینلوں اور ایجنسیوں کے ایگزٹ پول کے نتیجوں میں مغربی بنگال میںحکمراں ترنمول کانگریس اور بھاجپا کے درمیان کانٹے کی ٹکر کا اندازہ جتایا جارہا ہے جبکہ کیرل میں حکمراں لیفٹ فرنٹ اور آسام میں بھاجپا کو پھر سے اقتدار میں لوٹنے کا اندازہ بتایا گیا ہے ۔وہیں تملناڈو میں اقتدار سے باہر انا ڈی ایم کے جاسکتی ہے اور ایک دہائی کے بعد ڈی ایم کے اقتدار میں واپسی کر سکتی ہے کچھ چناوی نتائج کے مطابق پڈوچیری میں کانگریس سے اقتدار جاسکتا ہے بہرحال آج آرہے نتیجوں سے پہلے آئے ایگزٹ پول کے اندازوں میں سب سے اہم ترین مانا جارہا ہے مغربی بنگال میں بھاجپا اور ترنمول میں کانٹے کا مقابلہ ہوا ہے حالانکہ زیادہ تر ایگزٹ پول ترنمول کانگریس کی ہی بڑھت دکھا رہے ہیں لیکن بھاجپا کو تھوڑاآگے دکھا رہے ہیں شروعاتی مرحلوں میں بھاجپا ترنمول سے آگے دکھائی دے رہی ہے لیکن بعد میں ترنمول کانگریس نے اپنی بڑھت بنا لی ہے ایسے ہی آسام میں چناو¿ کمپین کے دوران اور پولنگ تک مقابلہ سخط رہا ہے لیکن ایگزٹ پول کے اندازوں میںحکمراں بھاجپا کی پھر سے اقتدار میں واپسی کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔اور کانگریس کی یوپی اے کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا ہے ایگزٹ پول کے نتیجوں پر بھاجپا کے ترجمان انل بیلونی نے کہا کہ اشاروں سے صاف ہے کہ آسام میں پارٹی کی شاندار واپسی ہو رہی ہے اور بنگال پڈوچیری میں ہم سرکار بنانے جا رہے ہیں تملناڈو اور کیرل میں ہمارے ووٹوں میںاضافہ ہو رہا ہے اگر ایگزٹ پول ہمیشہ کی طرح صحیح ہیں یہ قطعی نہیں کہا جا سکتا ہے پچھلے برسوں کے دوران ہوئے ایگزٹ پول کے اندازہ غلط نکلیں لیکن 1999 میں این ڈی اے کو جتنی شیٹیں ملنے کی امید دکھائی گئی تھی اتنی نہیں ملیں ایسے ہی 2004 میں این ڈی اے کی ہار کو ایگزٹ پول کے فیل ہونے کی بڑی مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے یہی حال 2009 میں ہوا ۔جب یو پی اے ٹوٹ کی سرکار بننے کے اندازہ لگانے والے کم سروے تھے دیکھیں ای وی ایم کی گنتی کے بعد آج کیا تصویر سامنے آتی ہے ؟ (انل نریندر)

یہ بھی گزر جائے گا!

آج ہم لوگ دل ہی دل میں جس وقت کے جلدی گزرنے کے پرارتھنا کررہے ہیں ، وہ جلد ہی گزر جائے گا ۔دقت تب آتی ہے جب ہم ہمت ہارنے لگتے ہیں ۔اور یہی تو ہمیں نہیں کرنا ہے ۔ایک کہانی ہے ،اکبر ہمیشہ بیربل سے ایسے سوال کیا کرتے تھے جس کا جواب دینے میں کسی عام شخص کو مشکل آجائے لیکن ویربل انہیں چٹکیوں میں حل کر دیا کرتے تھے ایک مرتبہ بادشاہ اکبر نے پوچھا بیربل !ایسی بات بتاو¿ جسے سن کر دکھی آدمی خوش ہو جائے اور سکھی آدمی دکھی ہو جائے ۔بیربل نے فوراً جواب دیا کہ مہاراجہ وہ باتیں ہیں یہ وقت بھی گزر جائے گا اکبر بولے یہ بھی کوئی بات ہوئی ؟ تب ویربل نے سمجھایا کہ دیکھئے مہاراجہ اگر آپ کسی دکھی شخص سے کہیں گے کہ یہ دن جلدی گزرنے والے ہیں تو اسے امید بندھے گی کیوں کہ جب سکھ کے دن گزر گئے کیا دکھ کے دن نہیں گزر جائیں گے ؟ اسی طرح سکھی انسان یہ سوچ کر دکھی ہو سکتا ہے کہ جب اس کا سکھ کا وقت گزر جائے گا تو کہیں دکھ تو نہیں آجائے گا لیکن ہم اس سچ کو یاد رکھیں کہ وقت جیسا بھی ہو گزر ہی جاتا ہے ،تو ہمیں برا وقت کبھی پریشان نہیں رکھ سکتا ۔ایسا کبھی نہیں ہوتا ایک دکھ آیا تو ہمیشہ اسی شکل میں ،اسی انداز کے ساتھ وہیں ٹک جائے گا وقت کے ساتھ اس کا جاناطے ہے کچھ لوگ پچھلے ایک سال سے ہم کورونا وبا کے برے دور سے گزر رہے یہں پوری دنیا کے لوگ پریشانی سے باہر نکلنے کے لئے چھٹپٹانے لگے ہیں کوششیں ہوئیں تو کورونا ویکسین بننے کی وجہ سے اس کا حل بھی نکلا اور آہستہ آہستہ چیزیں سنبھلنے لگیں اب اگر ہماری تھوڑی سی لاپرواہی ہی اس وائرس کے کچھ طاقتور ہونے سے پھر ایسا وقت آگیا ہے تو کیا یہ نہیں گزرے گا ضروری بیتے گا کچھ ہی ہفتوں کی بات ہے آج اگر کورونا کا گراف زیادہ دکھائی پڑر ہا ہے تو بڑی تیزی سے یہ نیچے بھی آئے گا دراصل ہمارے لئے سب سے مشکل ہوتا ہے اس وقت کو گزرتے ہوئے دیکھنا ویسے انسان کا برتاو¿ ہے کہ ہمیں دکھ کا وقت آہستہ آہستہ گزرتے ہوئے لگتا ہے اور سکھ کا دور پنکھ لگا کر اڑ جائے گا ؟ اگر ہم تھوڑا سا صبر ار تحمل برتیں اور وقت کی اس سچائی کو جان لیں تومن اپنے آپ ہی خاموش ہو جائے گا ۔بالی ووڈ کے سہنشاہ کہے جانے والے امیتابھ بچن جب کیرئیر کے سب سے اونچے درجہ پر تھے تو فلم کی شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھ ایک ایسا حادثہ ہوا کہ جان جاتے جاتے بچی اب وہ 78 سال کے ہیں اور ٹی وی وہیپاٹائٹس بھی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں انہیں حال ہی میں کورونا بھی ہوا تھا لیکن وہ اسے بھی مات دے کر آگے بڑھ گئے ۔وہ خود بچا چکے ہیں کہ ان کا صرف 25 فیصدی جگر کام کرتا ہے لیکن انہیں ٹی وی شوز یافلموں میں دیکھ کر کبھی آپ اندازہ نہیں لگا پاتے وہ کتنی مشکلوں سے باہر نکلے ہیں شاید ان کی اس کے پیچھے یہی سوچ ہے کہ کسی بھی برے وقت یا درد میں اپنا بھروسہ نہیں کھوناچاہے آپ سوچئیے اگر ان دکتوں کے بعد وہ اس عمر میں خود کو بیحد خوش اور مصروف رکھ سکتے ہیں تو ہم بھی کرسکتے ہیں ہم اس وقت کو خود پر حاوی ہونے کا موقع کیوں دیں جو گزر جانے والا ہے اگر آپ کسی در د سے گزر رہے ہیںتو ایک کاغذ پر لکھیں: یہ بھی گزر جائے گا اسے آپ ایسی جگہ پر لگا دیں جہاں بار بار نظر پڑے اس کے ساتھ ہی اچھے وقت کے لئے پلاننگ کرنا شروع کر دیں ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...