Translater

07 اپریل 2012

نوٹنکی باز پاکستان


Published On 7 March 2012
انل نریندر
جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ پاکستان کی ایک عدالت نے القاعدہ کے سابق سرغنہ اسامہ بن لادن کے خاندان کے14 افراد کو9 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے ، کیونکہ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان آئے اوررہے تو مجھے ہنسی آگئی۔ پاکستان کو نوٹنکی کرنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ بن لادن کی تین بیویوں دو بیٹیوں کو باقاعدہ طور سے 3 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تین بیویوں میں سے سب سے چھوٹی یمن کی ہے اور باقی دو سعودی عرب کی باشندہ ہیں۔
پچھلے سال2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے لادن کو مار گرایا تھا۔ انہیں وہیں سے پکڑا گیا تھا۔ اب یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسامہ بن لادن برسوں سے پاکستان میں ہی رہ رہا تھا۔ اس کا سیدھا رابطہ پاکستان خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بنا ہوا تھا۔ برطانیہ کے اخبار دی ٹیلی گراف نے دوبارہ سرگرم ہوئی انٹر نیٹ ویب سائٹ وکی لکس کے ذریعے شائع کردہ 50 لاکھ نئے دستاویزات سے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے کم سے کم 12 افسران کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع محفوظ مقام پر چھپے ہونے کی خبر تھی اور وہ اپنی موت سے پہلے اسامہ جس مکان میں رہ رہا تھا اسے بنوانے کے لئے آئی ایس آئی نے خاص طور سے ایک آرکیٹیکٹ مقرر کیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ لادن کے اس ٹھکانے پر لشکر طیبہ کے لوگ بھی آتے جاتے رہتے تھے۔ رپورٹ میں آگے بتایا گیا پاکستان کی فوجی اکیڈمی کے پاس بنے لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے کے اصلی دستاویزتو غائب ہیں لیکن اس کے آرکیٹیکٹ کو آئی ایس آئی نے باقاعدہ طور پر مقرر کیا تھا۔ آرکیٹیکٹ کو یہ کہہ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ایک معزول انتہائی اہم شخص اس مکان میں رہنے آرہا ہے ۔ یہ ہی نہیں اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتا تھا اور اس کے دوبچوں کی پیدائش ایبٹ آباد کے سرکاری ہسپتال میں ہوئی تھی اور پھر بھی پاکستان یہ دعوی کرے کے اسے اسامہ کے پاکستان میں رہنے کی جانکاری نہیں تھی، مضحکہ خیز نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ یہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟ آج تک پاکستان نے کسی بھی بات کو قبول کیا ہے؟
یہ تو داؤد ابراہیم کو بھی نہیں جانتے۔ بار بار یہ ہی کہتے ہیں کہ داؤد پاکستان میں نہیں ہے جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کراچی کے کلکٹن ایریا میں برسوں سے رہتا ہے اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ اب لادن کی بیوی اور بچوں کو جیل میں یہ کہہ کر ڈالنا کے وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں رہ رہے تھے، یہ نوٹنکی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ لیکن اب پاکستان کی نوٹنکی بے نقاب ہوچکی ہے۔ ساری دنیا اسے جان چکی ہے اس لئے شاید ہی کوئی اب یہ مانے کے پاکستانی فوج آئی ایس آئی اور پاک سرکار کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایبٹ آباد میں کون رہ رہ ہے۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

اشوک گہلوت سرکار سنکٹ میں پھنسی


Published On 7 March 2012
انل نریندر
کانگریس کے ستارے ان دنوں گردش میں چل رہے ہیں۔ آئے دن کوئی نیا انکشاف ہوجاتا ہے اور کانگریس اعلی کمان اس سے مقابلے میں لگ جاتی ہے۔ اچھی چل رہی ریاستی حکومت اس کے لئے نیا درد سر پیدا کردیتی ہے۔ اب آپ راجستھان میں اشوک گہلوت سرکار کا ہی قصہ لے لیجئے۔ اچھی چل رہی سرکار میں اپنی ہی پارٹی والوں نے اشوک گہلوت حکومت کے لئے نئی پریشانی کھڑی کردی ہے۔ دیش بھر سے مل رہی سیاسی شکست کے بعد اب راجستھان میں بھی اس کے ممبران اسمبلی نے اپنی ہی گہلوت حکومت کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے راجستھان کے قریب دو درجن ممبران اسمبلی نے دہلی میں ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔ ان کی مانگ ہے کہ پارٹی ہائی کمان فوراً وزیر اعلی اشوک گہلوت کو کرسی سے ہٹاکر مرکزی وزیر سی پی جوشی کو ریاست کی باگ ڈور سونپے۔ ان ممبران اسمبلی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل سے مل کر حکومت کے خلاف شکایت کی ہے۔ انہوں نے کا کہ ریاستی حکومت میں ان کی کوئی سن نہیں رہا ہے اس سے ممبران اسمبلی اور ورکروں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ممبران اعلی کمان کو آگاہ کیا ہے کہ اگر وقت رہتے حالات نہیں ٹھیک کئے گئے تو پارٹی کو اگلے چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اتنا ہی نہیں اپنے چہیتے لوگوں کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں جس سے ایک طرف کرپشن کو شہ مل رہی ہے تو دوسری طرف کانگریس پارٹی کی ساکھ ملیامیٹ ہورہی ہے۔ ناراض ممبران اسمبلی نے راہل گاندھی سے بھی ملاقات کی اور انہیں صاف طور سے بتادیا ہے کہ اگر اشوک گہلوت وزیر اعلی کے عہدے پر بنے رہے اور انہیں فوراً ہٹایا نہیں گیا تو قریب ڈیڑھ سال بعد ہونے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کے ساتھ ساتھ اس کا بھی بھٹا بیٹھ جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ ناراض ممبران کی تعداد بڑھ رہی ہے اب یہ60 کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ 200 نفری راجستھان اسمبلی میں کانگریس کے پاس106 ممبران ہیں۔ یہاں یہ بھی غور طلب ہے کہ راہل اپنے گھر تغلق روڈ کے بجائے سونیا گاندھی کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر ملے لیکن سونیا ان سے نہیں ملیں۔ ان ناراض ممبران اسمبلی کی ناراضگی تو پہلے وزرا کے تئیں تھیں لیکن اب وزیر اعلی بھی ان کے نشانے پر آگئے ہیں۔
بجٹ اجلاس سے پہلے جے پور میں ہوئی کانگریس اسمبلی پارٹی کی میٹنگ میں بھی ناراضگی سامنے آئی تھی۔ میٹنگ میں ممبران اسمبلی نے وزرا کے طریقہ کار پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس میٹنگ میں وزیر اعلی گہلوت نے ممبران سے کہا تھا کہ وزرا کی شکایت ان سے کی جائے اوروزیر اعلی نے ہی کوئی شکایت نہیں سنی ہے تو پھر کانگریس صدر کو بتائیں۔ ہمارا خیال ہے اشوک گہلوت ایک اچھے لیڈر ہیں جن پر شخصی کوئی الزام نہیں لگا۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنا عوامی رابطہ اور ممبران سے تال میل بہتر بنانا ہوگا۔ انہیں اس مسئلے کو خود ہی سلجھانا چاہئے۔ یہ کانگریس ہائی کمان کا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے لیکن جب ممبران کی بات کوئی سنے گا ہی نہیں تو ان کے پاس دہلی آنے کے علاوہ کوئی متبادل ہی رہ جاتا ہے۔ کانگریس کی آپسی لڑائی کہیں پارٹی کو راجستھان میں بھی نہ ڈوبا دے۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Congress, Daily Pratap, Rajassthan, Vir Arjun

06 اپریل 2012

Reminder: Mohsin Syed invited you to join Facebook...

facebook
Hi,
Syed wants to be your friend on Facebook. No matter how far away you are from friends and family, Facebook can help you stay connected.
Other people have asked to be your friend on Facebook. Accept this invitation to see your previous friend requests
Mohsin Syed
97 friends · 67 photos · 10 notes · 11 Wall posts
Accept Invitation
Go to Facebook
This message was sent to advertisement2.urdu@blogger.com. If you don't want to receive these emails from Facebook in the future or have your email address used for friend suggestions, please click: unsubscribe.
Facebook, Inc. Attention: Department 415 P.O Box 10005 Palo Alto CA 94303

حافظ سعید انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں دوسرے نمبر پر

دیرآید درست آید۔ اتنے دن کے بعد آخر کار امریکہ کوبھی یہ سمجھ میں آگیا کہ اسامہ بن لادن کے بعد آج کی تاریخ میں دنیا میں سب سے خطرناک دہشت گردی تنظیم لشکرطیبہ بن گئی ہے اور اس کا چیف حافظ سعید دنیا کا انتہائی مطلوب دہشت گرد ہے۔ امریکہ نے پیر کی رات حافظ سعید کے سرپر 10 ملین ڈالر (قریب50 کرور روپے) کے انعام کا اعلان کیاتھا۔ حافظ سعید ممبئی میں ہوئے حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہے اور وہ پاکستان میں رہ کر اپنی دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے نشانے پر امریکہ، بھارت خاص طور پر ہیں۔ بھارت نے سعید کو لیکر کئی بار پاکستان پر دباؤ بنایا لیکن پاکستان نے ہمیشہ معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ ہی بہانا بنایا کہ سعید کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ حافظ سعید نے انعام کے اعلان کے بعد پاکستانی ٹی وی چینلوں میں کہا کہ ہم کسی غار میں نہیں چھپ کر بیٹھے ہیں اور اگر امریکہ میں ہمت ہے تو وہ ہمیں گرفتار کرلے ۔ یہ ہی نہیں سعید نے انعام کے اعلان کے بعد امریکہ پر زور دار حملہ بولا اور کہا پاکستان کے راستے ہونے والی نیٹو سپلائی روکے جانے اور ڈرون حملوں کے خلاف ملک گیر احتجاج سے واشنگٹن مایوس ہوگیا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل نے حافظ سعید کے حوالے سے کہا ہم غاروں میں نہیں چھپے بیٹھے ہیں جو ہمیں تلاش کرنے کیلئے انعام رکھے جائیں۔
سعید نے کہا مجھے یقین ہے کہ یا تو امریکہ کی بہت محدود جانکاریاں ہیں اور وہ بھارت کے ذریعے دی جارہی غلط اطلاعات کی بنیاد پر فیصلے لے رہا ہے یا پھر وہ مایوس ہے۔ امریکہ کی ریوارڈس فار جسٹس ویب سائٹ نے حافظ سعید کو عربی اور انجینئرنگ کا سابق لیکچرر اور جماعت الدعوی کا بانی ممبر بتایا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ کٹر پسند اسلامی تنظیم ہے جس کا مقصد بھارت کے کچھ حصوں اور پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ لشکر طیبہ اس تنظیم کی لڑاکو شاخ ہے امریکہ کی موجودہ انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں حافظ سعید کا نمبر دوسرا ہے۔ پہلے نمبر پر القاعدہ کا سرغنہ ایمن الظواہری کا نام ہے جن پر 2.5 کروڑ ڈالر کا انعام پہلے ہی مقرر ہے۔
امریکہ کے اس قدم کا بھارت نے خیر مقدم کیا ہے۔ اس طرح سے بھارت کے ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے کہ لشکرکا چیف آج کی تاریخ میں سب سے زیادہ خطرناک آتنکی ہے۔ بھارت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے کہا کہ امریکہ کا قدم اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔ وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا امریکہ کا یہ قدم ممبئی حملوں کے قصورواروں کو سزا دلوانے اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے امریکہ اور بھارت کے عزم کوظاہرکرتا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اجمیر شریف زیارت کرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم نے زرداری کے لئے لنچ کا اہتمام کیا ہے۔ امید ہے کے لنچ میں بات چیت کے دوران منموہن سنگھ زرداری کے ساتھ اس تازہ اعلان پربھی غور و خوض کریں گے۔ ادھر پاکستان کے اندرونی معاملوں کے وزیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہمیں امریکہ کی طرف سے انعام کے اعلان کے بارے میں کوئی سرکاری طور پر جانکاری نہیں ملی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Hafiz Saeed, Lashkar e Toeba, Pakistan, Terrorist, 26/11, Asif Ali Zardari,

عام جنتا پر بھاری پڑتی وی آئی پی سکیورٹی؟

دہشت میں اس وقت تقریباً پانچ لاکھ پولیس ملازمین کی کمی ہے۔ یہ تعداد جو سرکاری اسامیوں کے مطابق ہے یعنی اتنی جگہ خالی ہیں لیکن اس سے نہ تو مرکزی سرکار کو اور نہ ہی ان ریاستی سرکاروں کو زیادہ فکر ہے سبھی کے لئے جنتا سے زیادہ وی آئی پی سکیورٹی ترجیحاتی ہے۔ اس قت ہر وی آئی پی کی پرائیویٹ سکیورٹی میں اوسطاً تین پولیس والے لگے ہوئے ہیں اس کی وجہ سے جنتا کی حفاظت کرنے کے لئے بہت کم پولیس والے بچتے ہیں۔ 761 شہریو ں کی سلامتی کے لئے ایک پولیس والا تعینات ہے۔ وزارت داخلہ کے بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ کے پیش کردہ اعدادو شمار کے مطابق 25 ریاستیں اور مرکزی زیر انتظام حکومتوں میں 16778 ممبران پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی افسروں وزرا و جج صاحبان کی سلامتی کے لئے 50059 پولیس والے تعینات ہیں۔ یہ نمبر منظور ہوئے وی آئی پی سکیورٹی سے 21761 زیادہ ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ زیادہ تر ریاستی سرکاروں کی ترجیح قانون و نظم نہیں بلکہ وی آئی پی سلامتی ہے۔ 2010ء میں بہار میں سب سے زیادہ 3039 وی آئی پی کو سکیورٹی مہیا کرائی گئی جبکہ پنجاب میں 1685 ، مغربی بنگال میں 1640 کو دہلی میں 5001 اور آندھرا میں 3958 ملازمین کو وی آئی پی سکیورٹی میں تعینات کیا گیا۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وی آئی پی کی سکیورٹی میں تعینات پولیس والوں کی تعداد بڑھائی گئی ہے لیکن عام آدمیوں کی تعداد کے حساب سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری 2011 کو فی لاکھ آبادی پر 173.51 جوان کی منظوری ملی تھی لیکن تعیناتی 131.39 جوانوں کی تھی۔ زیادہ آبادی والی ریاستوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ مغربی بنگال میں فی ایک لاکھ آبادی پر 81 پولیس ملازم ہیں جبکہ بہار میں88 ، مدھیہ پردیش میں 115، راجستھان میں 118 پولیس والے ہیں۔ تریپورہ میں یہ اوسط 1124 ، منی پور میں 1147، میزورم میں1112 پولیس والے ہیں۔ مرکزی وی آئی پی کی فہرست کے علاوہ ہر ریاست میں اپنی بھی ایک وی آئی پی فہرست ہے جن کی تعداد ہزاروں میں جاتی ہے۔
وی آئی پی سکیورٹی میں تعینات اتنے پولیس ملازمین کی وجہ سے عام جنتا کی سلامتی پر برا اثر پڑرہا ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں اس طرح کی وی آئی پی سکیورٹی نہیں ہوتی۔اگر وزیر اعظمرام لیلا میدان جارہے ہوں تو بہادرشاہ ظفر مارگ پر ہمیں اپنے دفتر تک کار میں جانے سے روک دیا جاتا ہے۔ ٹریفک بالکل بند کردیا جاتا ہے۔ کئی ایسے قصے ہوئے ہیں جب مریض کو ہسپتال لے جارہی ایمبولنس کو بھی وی آئی پی روڈ پر ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے کافی دیر تک روک دیا جاتا ہے۔ اس بات پر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی کے یہ چند منٹ اس مریض کی بگڑتی حالت پر کیا اثر انداز ہوں گے۔ ایسے ٹھاٹ تو پرانے راجہ مہاراجاؤں کے وقت بھی نہیں ہوا کرتے تھے جو آج کے ان راجے مہاراجوں (وی آئی پی) کے لئے کئے جاتے ہیں اور یہ سب اس عام جنتا کی قیمت پر جس کے ووٹ سے یہ کرسی تک پہنچے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, delhi Police, VIP Security, Vir Arjun

ڈریس ریہرسل یا وارننگ و سازش؟

امسال جنوری کے مہینے میں کیا ہندوستانی بری فوج کے کچھ لوگوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی تیاری کرلی تھی؟ ان فوجی ٹکڑیوں تختہ پلٹ کی نیت سے کیا باقاعدہ دہلی کو گھیرنے کے لئے مہم آگے بڑھا دی تھی؟ یہ ہیں کچھ برننگ سوال جو بدھوار کی صبح سے ہی راجدھانی میں موضوع بحث بنے رہے۔ دراصل انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے بدھوار کے شمارے میں ایک سنسنی خیز انکشاف سے ہلچل مچ گئی۔ ایڈیٹر شیکھر گپتا کی لکھی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کس طرح16-17جنوری کی رات حصار اور آگرہ سے فوج کی دو بڑی ٹکڑیاں دہلی کے لئے کوچ کرکے آگے بڑھی تھیں۔ تمام گولہ بارود سے مسلح انفینٹری برگیڈ کی ٹکڑیاں دہلی کے ایک دم قریب پہنچ گئی تھیں۔ کسی طرح صورتحال پر قابو پایا گیا۔ فوج کی حصار33 ویں ڈویژن کی ٹکڑی بہادر گڑھ آکر رک گئی اور یہاں سے آگے نہیں بڑھی۔ دوسری ٹکڑی آگرہ سے (12 ڈویژن) گولہ بارود اور ٹینکوں کے ساتھ پالم کے پاس آکر رک گئی۔ کیا یہ اتفاق تھا کے 16 جنوری کو ہی بری فوج کے جنرل وی کے سنگھ اپنی عمر کے معاملے کو لیکر سپریم کورٹ گئے تھے۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ سے دہلی کے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ گئی۔ ہلچل کہنا غلط ہے بلکہ کھلبلی بہتر لفظ ہوگا۔ سیاستدانوں کے خبر سنتے ہی طوطے اڑ گئے۔ سرکار کی جیسا کے عادت و مجبوری ہوتی ہے نہ رپورٹ کو سرے سے مسترد کیا اور نہ رپورٹ کو مانا کے بٹالینیں آگرہ اور حصار سے بہادر گڑھ اور پالم تک تو آئی تھیں لیکن یہ بھی کہا ہے کہ بری فوج کی سرگرمیاں عام ہیں۔ حالانکہ سرکار یہ نہیں بتا پارہی ہے کہ بری فوج نے ڈیفنس وزارت کی جانکاری میں لائے بغیر دہلی کے لئے کوچ کیوں کیا؟ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بدھوار کو کہا یہ رپورٹ ڈر پیدا کرنے والی ہے۔ ایسی رپورٹ پر زیادہ توجہ نہیں دی جانی چاہئے۔ فوج کے چیف اور سرکار کے درمیان جاری رسہ کشی کے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کے فوج کے چیف کا عہدہ بہت بڑا ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایسا کچھ نہ کریں جس سے اس کے وقار پر آنچ آتی ہو۔
وزیر دفاع اے کے انٹونی نے فوج کی طرف سے کسی قسم کے تخت پلٹ کے ڈر کو پوری طرح سے بکواس قراردیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ فوج ایسا کچھ نہیں کرے گی جس سے ڈیموکریسی کمزور ہو۔ انٹونی کے مطابق فوج کی دیش بھکتی پر سوال نہیں اٹھنے چاہئیں۔ ڈیفنس وزارت کے ترجمان نتانشو نے بتایا کہ فوج اس قسم کی مشقیں کرتی رہتی ہے اور سابق بری فوج کے جنرل وید پرکاش ملک نے کہا میں تو اسے ایک مضحکہ خیز رپورٹ ہی کہہ سکتا ہوں۔ یہ کسی کی شرارت لگتی ہے۔ میرا خیال ہے فوج کی مشقیں یومیہ ٹریننگ کا حصہ تھیں اور ڈیفنس وزارت کو اسے نوٹیفائی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ سابق فوج کے چیف ایڈمرل پرکاش کا تبصرہ تھا صحافت کی یہ ایک بڑی ہی غیر ذمہ دارانہ مثال ہے۔ مجھے تعجب نہیں ہے کہ اس رپورٹ کو چھاپنے کا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔ سابق ایئر فورس کے چیف ایئرمارشل ایس پی تیاگی نے کہا کہ رپورٹ پوری طرح غلط ہے اتنی ہی مضحکہ خیز۔ میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہوں گا۔
سی ادے بھاسکرجو ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسٹ ہیں کا کہنا تھا کہ جس طرح فوج نے دہلی کی طرف بڑھنے کے بارے میں خبر چھپی ہے اس سے اس کو مایوسی اور تشویش ہوئی ہے۔ جیسا کے فوج کی کوئی تختہ پلٹ کی اسکیم تھی۔ انڈین ایکسپریس کے ذریعے دی گئی یہ خبر غلط نہیں ہے۔ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ فوجی ٹکڑیوں کی اس دن حرکت نہیں تھی۔ سبھی اسے جنرل مشقیں بتا رہے ہیں۔ یہ رپورٹ تشویش کا باعث ضرور بنتی ہے۔ ہمارے مطابق انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بھروسے پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ نہ تو شیکھر گپتا ایسی سنسنی خیز خبریں پھیلانے والے صحافی ہیں اور نہ ہی اخبار اتنا غیر ذمہ دار ہے، تو پھر 17-16 جنوری کو کیا ہوا؟ ایک ٹکڑی کے مشقیں کرنے کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن ایک دن دو مختلف شہروں سے تقریباً ایک ہی وقت دو ٹکڑیوں کی نقل و حرکت پر سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کافی چھان بین کی گئی ہے ان کا نتیجہ یہ ہے کہ جنرل وی کے سنگھ ایک ایماندار اور وفادار افسر ہیں یہ بات ثابت ہوچکی ہے۔ کیا یہ ایک ڈریس ریہرسل تھی؟ ویسے بھارت جیسے دیش میں سیاسی تختہ پلٹنا آسان نہیں۔ تختہ پلٹ کی کوئی بھی کوشش بری فوج کے دہلی ایریا کمانڈر کی جانکاری میں لائے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔
اگر بری فوج کوئی مشقیں کررہی ہے تو یہ دہلی ایریا کمانڈر کو پتہ ہونا چاہئے۔اس لئے دہلی کے ایریا کمانڈر سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کی جانی چاہئے۔دیش میں کہیں بھی کسی طرح کی مشقیں کی جاتی ہیں تو اس کی پہلے سے جانکاری نہ صرف ڈیفنس وزارت کو ہونی چاہئے بلکہ سول حکام کو بھی پتہ ہونا چاہئے تاکہ عام زندگی متاثر نہ ہو۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ سے ایک بات اور سامنے آئی ہے وہ یہ کہ فوج اور یوپی اے سرکار میں بھاری اختلافات ہیں۔ فوج میں اس سرکار کو لیکر بہت زیادہ مایوسی کا ماحول ہے۔ فوج اس لئے بھی ناراض ہے کے دہلی میں بیٹھے سرکاری بابو فوجی سامان کی سپلائی پر لاپروائی برتتے ہیں جس کی وجہ سے فوج کی اہلیت متاثر ہورہی ہے اور یہ سرکار گھوٹالوں سے نمٹنے میں اپنا سارا وقت گذار رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سرکار دیش کی سلامتی سے سمجھوتہ کررہی ہے۔ اس مسئلے کے دونوں پہلو ہیں۔ فوج کی یہ سرگرمی عام اس لئے ہے کہ فوجی ڈویژن کی ہر تیسرے ماہ مشقیں ہوتی رہتی ہیں اور اس کی سرکار کو جانکاری دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ فوجی مشق کے کلنڈر میں اس بارے میں اطلاع درج تھی۔ 26 جنوری کی وجہ سے دہلی میں کئی ڈویژن پہلے سے ہی تعینات تھیں۔ ایک چھوٹی ٹکڑی سے تو دہلی پر قبضہ نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف یہ عام اس لئے ہے کے فوجی ڈویژن کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانے پر اطلاع دینی پڑتی ہے۔
عام طور پر مشق کے لئے دہلی کو نہیں چنا جاتا۔ 26 جنوری کی وجہ سے دہلی میں فوج کی موجودگی کے باوجود مشقوں کی اسکیم کیوں بنی؟ متعلقہ ڈویژن کے سینئر افسران نے اس کی حساسیت کو کیوں نہیں سمجھایا پہچانا؟ ایسے بہت سے سوال ہیں جن کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ 16 جنوری کی یہ موومنٹ عام مشقیں نہیں تھیں ہو سکتا ہے کہ سوئی حکومت کو جگانے کے لئے یہ جھٹکا دیا گیا یا پھر یہ کسی بڑے کام کے لئے ڈریس ریہرسل تھی۔
A K Antony, Anil Narendra, Coup, Daily Pratap, General V.k. Singh, Manmohan Singh, Vir Arjun

04 اپریل 2012

چناؤ کمیشن نے پہلی بار جھارکھنڈ راجیہ سبھا چناؤ منسوخ کیا


Published On 4 April 2012
انل نریندر
چناؤ کمیشن نے گڑ بڑی کی شکایت ملنے کے بعد جھارکھنڈ کا راجیہ سبھا چناؤ منسوخ کردیا ہے۔ شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے جب چناؤ کمیشن کو اتنا سخت فیصلہ لینا پڑا ہے۔ جھارکھنڈ میں اب اس چناؤ کانوٹیفکیشن نئے سرے سے جاری ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نامزدگی اور ووٹنگ بھی نئے سرے سے ہوگی۔ غور طلب ہے کہ جمعہ کے روز جھارکھنڈ کی دو اور اتراکھنڈ کی ایک راجیہ سبھا سیٹ کے لئے ووٹنگ ہوئی، اسی درمیان ایک واقعہ ہوا یہ کہ جھارکھنڈ میں ووٹنگ سے پہلے ایک آزاد امیدوار آر کے اگروال کے قریبی کے پاس 2.15 کروڑ روپے برآمد ہوئے۔ چناؤ کمیشن کو اندیشہ ہوا کے یہ رقم ووٹ کے بدلے ممبران اسمبلی کو دی جانی تھی۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے اس فیصلے کیلئے چناؤ کمیشن کی تعریف کی ہے۔ میل کا پتھر قرار دیتے ہوئے اڈوانی نے کہا اس قدم سے پیسے کے زور پر چناوی اکھاڑے میں کودنے والے لوگوں پر لگام لگائی جانے کا راستہ صاف ہوجائے گا۔ انشمن مشرا کی امیدواری کو لیکر بھاجپا کے اندر گھمسان ابھی ٹھنڈا نہیں پڑا تھا کہ جمعہ کو صبح سویرے پولنگ سے پہلے آزاد امیدوار آر کے اگروال کے چھوٹے بھائی سریش اگروال کی کار سے انکم ٹیکس محکمے نے چھاپہ مار کر 2 کروڑ15 لاکھ روپے ضبط کئے۔ اسی کے ساتھ ممبران کی ایک فہرست بھی ملی۔ جھارکھنڈ کا تازہ تنازعہ تاریک وطن کاروباری انشمن مشرا کے ساتھ ہوا۔ بھاجپا صدر نتن گڈکری نے انشمن مشرا کی حمایت کرنے کے اعلان کے بعد بھاجپا میں بغاوت ہوگئی۔ سینئر لیڈروں کے دباؤ میں مشرا سے بھاجپا کی حمایت واپس لینی پڑی اور اسی معاملے سے بھاجپا کی خوب خفت ہوئی۔ انشمن مشرا نے غصے سے کارروائی کے طور پر ارون جیٹلی اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی پر الزام لگا دئے ، لیکن جلد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا یا کرایا گیا اور انہوں نے معافی مانگ لی۔ لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی۔ ارون جیٹلی نے انشمن مشرا پر ان کے خلاف مبینہ جھوٹا الزام لگانے پر 100 کروڑ روپے کے ہتک عزت کا مقدمہ ٹھوک دیا ہے۔ مجرمانہ ہتک عزت عرضی میں جیٹلی نے ایک اور اینگل جوڑدیا۔ اس تنازعے میں اب کرناٹک کے گورنر ایچ آر بھاردواج کو بھی زد میں لے لیا ہے۔ اس عرضی میں ارون جیٹلی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی مشرا سے ملاقات 2011ء کے وسط میں بینگلور کے راج بھون میں ہوئی تھی۔ جب بھاردواج نے مشرا کو ناشتے کے لئے مدعو کیا تھا۔ جیٹلی نے عرضی میں تذکرہ کیا ہے کہ وہ مشرا کی راج بھون میں ہیں مہمان نوازی اور ان کے ناشتے کے ٹیبل پر ہوئی موجودگی پر حیرت زدہ تھے۔ بقول جیٹلی مشرا کی موجودگی کے دوران ہی بھاردواج نے ریاست سے متعلق معاملوں پر غور وخوض کیا جبکہ مشرا کا ریاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اگر مشرا کا معاملہ کورٹ میں سنا جاتا ہے تو اس سے ہنسراج بھاردواج کی کرکری ہوسکتی ہے۔ادھر جیٹلی نے مشرا سے بات چیت ٹیلی کاسٹ کرنے والے ٹی وی چینلوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انٹرویو میں مشرا نے جیٹلی سمیت بھاجپا کے دیگر لیڈروں پر سنگین الزام لگائے تھے۔ مشرا نے تو معافی مانگ لی ہے لیکن لگتا ہے ٹی وی چینل جیٹلی سے ضرور پریشان ہوں گے۔ جیٹلی نے قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا ہے کہ جن چینلوں نے جتنے منٹ تک مشرا کا انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا ہے اتنی ہی مدت تک وہ جیٹلی سے معافی مانگیں۔ جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل ایک قبائلی اکثریت ریاست کی شکل میں ضرور ہوئی لیکن یہاں سے راجیہ سبھا میں شروع سے ہی باہر کے لوگ خاص طور پر سرمایہ داروں نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ اس سلسلے میں ایک کرپٹ روایت کی شکل میں منظوری ملے اس سے پہلے چناؤ کمیشن نے جمہوری روایات کو بچانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ جھارکھنڈ میں سرکاروں کی تشکیل کو لیکر بھی گٹھ جوڑ اور حمایت اور مخالفت کی کافی گھناؤنی سیاست ہوتی رہی ہے۔ اب بھی وہاں ایک اتحادی حکومت ہے جس کے تال میل کے بجائے اندرونی رسہ کشی کے خبریں آئے دن سرخیاں بنتی ہیں۔ چناؤ کمیشن نے راجیہ سبھا چناؤ تو منسوخ کردیا ہے اس سے شاید ہی بھاجپا میں گھمسان رک پائے۔ صدر نتن گڈکری نشانے پر ہیں۔ ادھر ارون جیٹلی مشرا کو سبق سکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, Jharkhand, Rajya Sabha Poll, Vir Arjun

مہنگائی منہ پھاڑے جات ہے۔۔۔


Published On 4 April 2012
انل نریندر
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر فیصلہ بیشک کچھ دنوں کے لئے ٹل جانے سے بھلے ہی لوگوں کے لئے تھوڑی راحت مل گئی ہو لیکن نئے کاروباری سال کے آغاز میں تقریباً سبھی چیزوں کے دام بڑھنے سے ہورہا ہے۔ بجٹ میں بڑھی ایکسائز ڈیوٹی اور سروس ٹیکس بڑھنے سے کھانا پینا، گھومنا پھرنا سب کچھ مہنگا ہونے جارہا ہے۔ عام آدمی کو ڈس رہی مہنگائی ڈائن کا ڈنک اور تیز ہوگیا ہے۔ سرکار کے بجٹ میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے پروڈکشن ٹیکس میں اضافہ اور سروس ٹیکس کی شرح کا دائرہ دونوں بڑھا کر عام جنتا کی پیٹھ پر 45 ہزار کروڑ روپے کے ٹیکس کا بوجھ لاد دیا ہے۔ ان دونوں ٹیکسوں میں اضافہ ایتوار سے لاگو ہوگیا ہے۔ پروڈکشن ٹیکس کی شرح کو 10 سے بڑھا کر12 فیصدی کرنے کا اثر بازار میں دستیاب تمام سامان پر ہوگا۔ سیمنٹ برانڈڈ ،ریڈیمیٹ گارمینٹ سے لیکر سونا اور زیورات سبھی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پروڈکشن ٹیکس کے ساتھ سروس ٹیکس بھی صارفین پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اب اس کے دائرے میں ان علاقوں کی سرکاری خدمات بھی جڑ رہی ہیں جہاں وہ نجی سیکٹر سے مقابلہ آرا ہیں۔ اس کے تحت ٹرینوں میں AC1-AC2 ٹائر میں سفر کرنے والے مسافروں کو ایتوار سے زیادہ کرایہ دینا پڑے گا۔ پلیٹ فارم ٹکٹوں کے لئے بھی 3 روپے کے بجائے5 روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ بجلی، زمین، فلیٹ و موٹر سائیکل، کار کے لئے زیادہ پیسے چکانے ہوں گے۔ سونا ،چاندی خریدنا مہنگا ہوگیا ہے۔ شراب مہنگی ہوگئی ہے، چیک ڈرافٹ و پوسٹل آرڈر کی میعاد 6 مہینے سے گھٹا کر 3 مہینے کردی گئی ہے۔ پوسٹ آفس میں ڈپازٹ، پی پی ایف ،این ایم سی میں زیادہ سود ملے گا۔ لائف انشورنس سے بنے رہنے کے ساتھ آٹو انشورنس میں بھی اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کی مار جھیل رہے عام آدمی کو اب موٹربیمہ کی بڑھی ہوئی شرحوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا۔ بھارتیہ بیمہ ریگولیٹری ڈولپمنٹ اتھارٹی نے مختلف زمروں میں تھرڈ پارٹی موٹر پریمیم چارج 5 سے 20 فیصدی تک بڑھایا ہے۔ تھرڈ پارٹی بڑھی ہوئی قسط شرحوں کے پریمیم کے ساتھ صارفین کو دو فیصدی بڑھا ہوا سروس ٹیکس بھی چکانا ہوگا۔ نئی شرحیں جمعہ سے نافذ العمل ہوگئی ہیں۔ مہلائیں بھی اس سے اچھوتی نہیں۔ ان کے بیوٹی سامان سمیت بیوٹی پارلر کا خرچ بھی مہنگا ہوا ہے۔ دیش کے نامی گرامی ایسوسی ایشن ایسوچیم نے بھی مہنگائی کے بارے میں سروے کرایا ہے۔ اس سے زیادہ تر عورتوں نے کہا ہے کہ گھریلو بجٹ کے قابو میں رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ بڑھتے خرچ پر لگام لگانا مشکل ہورہا ہے۔
70 فیصدی عورتوں کا خیال ہے کہ زیادہ سروس ٹیکس کے سبب فون سروس سمیت سبھی ضروری چیزیں مہنگی ہوں گی۔ اتنا ہی نہیں پروڈکشن ٹیکس میں اضافے سے عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہوگی۔ آمدنی تناسب کے حساب سے نہیں بڑھے گی۔ جس حساب سے خرچ بڑھ جائے گا ۔ مہنگائی آنے والے دنوں میں اور بڑھے گی۔ اگر پیٹرول ،رسوئی گیس وغیرہ کے دام بڑھتے ہیں تو ان کا سیدھا اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار سے پریشان عام آدمی کی کمر ٹوٹ جائے گی لیکن اس سرکار کو عام آدمی کی فکر کہاں ہے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ جو جانے مانے ماہر اقتصادیات ہیں ،کی پالیسیوں نے غریب آدمی کا تو بیڑا غرق کردیا ہے دوسری طرف گھوٹالے پر گھوٹالہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ غریب جنتا کی جیب میں ڈاکے سے ہی تو آرہا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Petrol Price, Price Rise, Scams, Vir Arjun

03 اپریل 2012

جیولروں کی ہڑتال سے تباہ ہورہے ہیں کاریگر


Published On 3 April 2012
انل نریندر
پچھلے18 دنوں سے دہلی کی جیولری مارکیٹ ٹھپ پڑی ہے۔ وزیر خزانہ کے بجٹ پرستاؤ کی کچھ تجاویز کو لیکر دریبہ، قرولباغ، بھوگل، شاہدرہ جیسی دہلی کے تمام بلین ایسوسی ایشن بازاروں میں اپنا مظاہرہ کرکے احتجاج کررہی ہیں۔ اترپردیش کے تمام صرافہ بازار بند پڑے ہیں اور جلوس نکال رہے ہیں۔ یہ سب پرنب مکھرجی کے بجٹ میں غیر برانڈڈ جیولری پر ایک فیصدی ایکسائز ڈیوٹی لگانے کولیکر ہے۔ لگتا ہے پرنب دادا ٹیکس بڑھاتے وقت یہ بھول گئے کہ جیولروں کے پاس لاکھوں کاریگر بھی کام کرتے ہیں اور اس ہڑتال سے ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ جیولری بنانے والے ایک کاریگر روزانہ 200 روپے دہاڑی پرایک جیولر کے یہاں کام کرتا ہے لیکن ہڑتال کے سبب 16 دنوں سے بغیر کسی تنخواہ کے دھرنے پر بیٹھا ہے۔ اس امید میں کہ ہڑتال ختم ہوجائے گی اور وہ جیولری بنانے کے کام میں پھر سے اپنی روزی روٹی کما سکے گا۔ یہ کہانی صرف ایک کاریگر کی نہیں بلکہ دریبا میں ہی ایک لاکھ سے زیادہ کاریگروں کے پاس ہڑتال کے سبب کام نہیں ہے۔ ان میں سے 50فیصدی یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ دریبا کے کاریگروں کی ایسوسی ایشن کی رہنمائی کررہے سنیل کمار نے بتایا کہ یہاں80 فیصدی کاریگر کام نہ ہونے کے سبب اپنے گاؤں چلے گئے ہیں۔ کاریگروں کے ساتھ جیولر بھی پریشان ہیں۔ ایک جیولر نے بتایا کہ سیلری والے کاریگروں ملازمین کو 15 دن کی تنخواہ اپنے جیب سے دینا پڑے گی اور ان 15 دنوں میں کوئی کمائی نہیں ہوئی ہے۔ ابھی سب سے ضروری ہے کہ حکومت ایکسائز ڈیوٹی واپس لے کیونکہ اس کے بعد اپریل سے ہمارے لئے کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ دیش بھر کے جیولر 17 مارچ سے ہڑتال پر ہیں۔ گذشتہ جمعہ کو پنجاب کے وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل نے وزیر خزانہ کو خط لکھ کر ان لوگوں کے مطالبوں کا حل نکالنے کی مانگ کی تھی۔ راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس اور اس کی حریف مارکسوادی اس مسئلے پر سونا کاروباریوں اور صرافہ تاجروں کی ہڑتال پر ایک ساتھ نظر آئیں۔ دونوں پارٹیوں نے احتجاج کررہے جیولروں کی یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے سرکار سے بڑھی ایکسائز ڈیوٹی واپس لینے کی مانگ کی ہے۔ دریبا جیولرس ایسوسی ایشن کے صدر نرمل جین نے بتایا کہ جب تک سرکار اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی تب تک صرافہ کاروباری طبقہ ہڑتال واپس نہیں لے گا۔ ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداروں نے بھی کہا سرکار کو بھی اس ہڑتال سے ہم سے زیادہ نقصان ہورہا ہے۔
سرکار ایک طرف کالی کمائی کو روکنا چاہتی ہے لیکن ڈیوٹی بڑھا کر اس نے بغیر ٹیکس دئے اسمگلنگ کرنے والوں کو فروغ دیا ہے۔ پچھلے 16 دن میں 18 کروڑ روپے سے زیادہ کی ایکسائز ڈیوٹی جوڑنے کے لئے 450 سے زیادہ کروڑ روپے کی انکم کا نقصان ہوا ہے جو سرکار کو کسٹم ڈیوٹی کے ذریعے ملتا ہے۔ آل انڈیا جیولرس ایسوسی ایشن کے چیئرمین بمل گوئل نے کہا کہ سرکار نے کسٹم ڈیوٹی کے علاوہ ویٹ سے ملنے والے 112 کروڑ روپے کا بھی نقصان کیا ہے۔ جیولر سرکار سے یہی مانگ کررہے ہیں کہ سرکار امپورٹ ڈیوٹی کو 4 سے گھٹا کر 3 فیصدی کرے۔ غیر برانڈڈ زیورات سے ایکسائز ڈیوٹی ہٹائے جانے اور 2 لاکھ روپے کی نقد بکری پر 1 فیصدی ٹی سی ایس کی تجویز یعنی 2 لاکھ نقد کے زیورات خریدنے پر 2 ہزار روپے کے بوجھ کو منسوخ کرے۔سرکار درآمد ٹیکس یا ویٹ بڑھا دے لیکن برانڈڈ جیولروں کو ایکسائز ڈیوٹی سے دور رکھے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gold Ornaments, Vir Arjun

ماسکو۔تیزی سے بدلتاماسکوواد


Published On 3 April 2012
انل نریندر
مارچ کے ٹھنڈے جمعہ کو ماسکو کے بیچ سے گذرنے والی بولشایاتاترسکایا اسٹریٹ پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ سڑک روس کی راجدھانی کی سب سے پرانی جھیل کے پاس سے گذرتی ہے۔ ماسکو میں آج کل 20 لاکھ سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔ یہ اب یوروپ میں مسلم عوام کا سب سے بڑے شہروں میں سے ایک بن گیا ہے اور کچھ مساجد اتنی بڑی آبادی کے لئے کافی نہیں ہیں۔ نماز جمعہ کے دوران اس تاریخی عمارت میں لوگوں کی بھیڑ زیادہ ہوتی ہے۔ ہزاروں لوگ کھلے میں برفباری کے درمیان نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ زیادہ تر مسلمان مشرقی وسطی کے سابق سوویت یونین سے آئے نوجوان تارکین وطن ہیں۔ غریبی اور جدوجہد نے انہیں روس میں نئی زندگی کا آغاز کرنے کیلئے مجبور کیا ہے۔ لاکھوں ازبیک، ،تاجک اور کرغزعوام ماسکومیں ملازمتیں کررہے ہیں۔ ازبیکستان سے آئے نوجوان کو ازبیکی کہا جاتا ہے۔ہم اس بات کے شکر گزار ہیں کہ ماسکو میں اتنی مساجد ہیں لیکن دوسرے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انتظامیہ مسلمانوں کے مسائل کو نظر انداز کررہا ہے۔ شہر کی تاریخی مسجد کے امام حسن فاقر میدوف کا ماننا ہے کہ موجودہ سہولیات کافی نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم انتظامیہ سے اور مساجد بنانے کی اجازت مانگ رہے ہیں لیکن وہ ہماری بات نہیں مان رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں کو اب کھلے آسام کے نیچے بارش اور برفباری کے درمیان نماز ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ماسکو کی پرانی تاتر مسجد اب نئی عمارت میں تبدیل ہورہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی سبھی نمازیوں کے لئے یہ جگہ کم پڑ رہی ہے۔ پرانی مسجد کے پاس گھوم رہی دو نوجوان لڑکیوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ ماسکو بڑھ رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ تارکین وطن کو اپنی طرف راغب کررہا ہے جس میں بہت سے مسلمان ہیں۔ روس میں گرجا گھر بھی بنائے جارہے ہیں۔ عیسائی، مسلمانوں کو بھی مسجد بنانے سے روکا نہیں جانا چاہئے لیکن بہت سے روسیوں کو ڈر ہے کہ زیادہ غیر ملکیوں کی بساست سے روس کے کلچر اور وہاں کا رہن سہن بدل رہا ہے۔ ایک قومی تنظیم روساویٹ کے ورکر یوری گوسرکی فرماتے ہیں کہ لوگ مذاق کررہے ہیں کہ ماسکو اب ماسکوواد بن گیا ہے۔اب سڑکوں پر دوسرے ملکوں کے زیادہ چہرے نہیں دکھائی دیتے۔ہمیں اسلامک ممالک سے آئے لوگوں پر اعتراض نہیں ہے لیکن ہمیں ان مسلمانوں کو روکنا ہوگا۔ پہلے روس میں مسلمان تارکین وطن پر حملے ہوا کرتے تھے لیکن اب ان کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔ روسی انسانی حقوق تنظیم سووا کے مطابق نسلی حملوں میں 2011ء کے دوران 7 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور28 لوگ زخمی ہوئے ہیں جبکہ2008ء میں ان حملوں میں مرنے والوں کی تعداد57 تھی۔ باہر سے آئے زیادہ تر لوگوں کو کام کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے جن سے مقامی لوگ کام لینے سے ہچکچاتے ہیں۔ پورے شہر ہلال دکانوں اور دیگر چیزوں کا جال سا بچھ گیا ہے۔جن میں مہنگے ریستواں سے لیکر جہاں ایک مرتبہ کھانے کی قیمت 10 ہزار روپے تک ہے، سستے ہوٹل بھی شامل ہیں۔جہاں مغربی ایشیائی لوگوں کو سکی ہوئی تندوری روٹیاں مل جاتی ہیں، سموسے بھی بنتے ہیں۔ ہلال سموسہ روس کا سب سے مقبول ٹیک اوون بن گیا ہے۔روس میں بڑی تعداد میں لوگ مذہب اسلام اپنا رہے ہیں۔ ایک سینٹر میں مذہب بدلنے والی مسلم خواتین کا رجسٹریشن کیا جاتا ہے۔ اسلام ہمیشہ سے روس کا دوسرا بڑا مذہب رہا ہے لیکن وہ اتناکٹر پسند کبھی نہیں رہا جتنا آج ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Moscow, Muslim, Russia, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...