Translater

03 اگست 2019

ڈاکٹروں کی ہڑتال سے مریض بے حال

نیشنل میڈیکل کمیشن یعنی نیشنل میڈیکل کونسل بل کے خلاف دہلی کے پندرہ ہزار ریزیڈینٹ ڈاکٹروں کی بے معیادی ہڑتال کے اعلان سے امرجنسی سے لے کر او پی ڈی آپریشن ٹھیتر جیسی خدمات ٹھپ ہو کر رہی گئی ہیں اس بل کے خلاف احتجاج میں ایمس ،صفدرجنگ،آر ایم ایل،سمیت کئی اسپتالوں میں ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ۔دہلی سرکار اور دہلی مونسپل کاروپور طیشن کے اسپتالوں کے ڈاکٹر بھی اس ہڑتال میں شامل ہو گئے ہیں عام طو رپر ہڑتال کے دوران اسپتال میں امرجنسی سیوا جاری رہتی ہے ۔لیکن اس مرتبہ ڈاکٹروں نے وہاں بھی علاج سے صاف منع کر دیا ہے ۔ڈاکٹروں کی ہڑتال میں انڈین میڈیکل ایسوشی ایشن ،فیڈیرشن آف ریزیڈنٹ ڈاکٹرس اسوسی ایشن اور یو آر ڈی جیسی میڈیکل انجومنیں بھی شامل ہیں ۔ڈاکٹروں نے این ایم سی بل کو لے کر آر پار کی لڑائی شروع کر دی ہے ۔مرکزی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہر ہال میں اس بل میں ترمیل کرنی ہوگی ورنہ ڈاکٹر وں کی ہڑتال جاری رہے گی ۔اندازہ ہے کہ اس ہڑتال کی وجہ سے تقریبا ہر روز 50ہزار مریض پریشان ہیں اور ہزاروں کا آپریشن نہیں ہو پایا سرکار کے ذریعہ این ایم سی بل کو لے کر ڈاکٹر ہڑتال کرنے کو مجبور ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس بل کے ایکٹ 32اور 3.5لاکھ غیر میڈیکل لوگوں کو لائسنس دے کر سبھی طرح کی دوا لکھنے و علاج کرنے کا قانونی حق دیا جا رہا ہے اس سے مریضیوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ کچھ اور مانگیں بھی ہیں ہم ترمیم کے لئے سرکار سے مانگ کر رہے ہیں لیکن سرکار خاموش ہے جس کے چلتے ہم ہڑتال کرنے کو مجبور ہیں ۔اس کے بعد آئی ایم اے کے قومی صدر شانت نو سین نے اپنے بیان میں کہا کہ بل کی دفعہ 32نہیں ہٹائی گئی تو سرکار اپنے ہاتھ خون سے رنگے گی ۔وہیں فیڈریشن آف ریزی ڈینٹ ڈاکٹرس اسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سمیدھ نے کہا کہ یہ آر پار کی لڑائی ہے اور ہم کسی صورت میں بل کو پاس نہیں ہونے دیں گے ۔اس سے ڈاکٹر برادری پر برا اثر پڑنے والا ہے یہی نہیں سماج کے لئے بھی اتنا ہی خطرناک ہے اگر ایک نان میڈیکل انسان کسی کو دوا لکھے گا تو اس کی جان تک جا سکتی ہے ۔سرکار ان علاج کرنے والے لوگوں کی زندگی پر داﺅں لگا رہی ہے ۔ہم سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ کیا وہ ایسے لوگوں سے اپنا یا ان گھر والوں کا علاج کروائیں گے ؟یہ لوگ اپنا علاج تو اچھے ڈاکٹروں اور اچھے اسپتالوں میں کرواتے ہیں اور عام لوگوں کا علاج نان میڈیکل بھروسہ چھوڑ دیتے ہیں ۔دہلی میں مرکز اور ریاست اور کارپوریشن کے اسپتالوں میں ہر دن 80سے 90ہزار مریض علاج کے لئے آتے ہیں آئی ایم اے کا دعویٰ ہے کہ دیش بھر میں ان کی شاخوں سے وابسطہ قریب ساڑھے تین لاکھ ڈاکٹروں نے متحد ہو کر نہ صرف ہڑتال کی بلکہ مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا امید کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کا جلد حل نہیں نکلے گا تو مریضوں کو بھاری قیمت چکانی پڑئے گی ۔

(انل نریندر) 

چیف جسٹس گگوئی نے وہ فیصلہ کیا جو عدلیہ میں پہلے کبھی نہیں ہوا

بڑی عدلیہ میں کرپشن کے خلاف سخت قدم اُٹھاتے ہوئے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے پرائیوٹ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کورس میں داخلہ دینے کی اجازت میں مبینہ کرپشن کے معاملے میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے چیئر جج ایس این شکلا کے خلاف سی بی آئی کو باقاعدہ مقدمہ درج کرنے کی اجازت دے دی ہے یہ پہلا مقوقعہ ہے جب ہائی کورٹ کے کسی موجودہ جج کے خلاف اس طرح سے سی بی آئی کو کیس درج کرنے اور جانچ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔الہٰ آباد ہائی کورٹ کے موجودہ جج جسٹس نارائن شکلا بھارت کے ایسے پہلے جج ہوں گے جن پر مقدمہ چلایا جائے گا جسٹس شکلا پر مقدمہ درج کرنے کے لئے سی بی آئی نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک خط لکھا تھا جس میں بتایا تھا کہ بھارت کے سابق جج جسٹس دیپک مشرا کی صلاح پر اس نے جسٹس شکلا کے خلاف ابتدائی جانچ شروع کی تھی اس وقت جسٹس شکلا کے ذریعہ مبینہ دھاندلیوں کا معاملہ اس وقت کے سی جے آئی یعنی جسٹس دیپک مشرا کے نوٹس میں لایا گیا تھا ۔اب یہ خط ملنے کے بعد موجودہ سی جی آئی جسٹس رنجن گگوئی نے سی بی آئی کو جسٹس شکلا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی سی بی آئی نے جسٹس گگوئی کے سامنے اس شروعاتی جانچ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ بھی پیش کیا جس میں سلسلہ وار طریقہ سے سارے واقعات کی جانکاری دی گئی تھی سی بی آئی کے ذریعہ پیش کاغذات اور خط کے پیش نظر جسٹس رنجن گگوئی نے کہا میں نے آپکا خط اور ساتھ نتھی نوٹ کو بھی پڑھا ہے۔اس خط میں جو حقائق اور حالات اور معلومات میرے سامنے رکھی گئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے میں آپ کو باقاعدہ جانچ شروع کرنے کی اجازت دینے کے لئے مجبور ہوں ۔جسٹس نارائن شکلا پر الزام ہے کہ انہوںنے مبینہ طور پر ایک پرائیوٹ میڈیکل کالج کو فائدہ پہنچایا سال 2017-18کے بیچ کے طلباءکے داخلہ کی معیاد غلط طریقہ سے بڑھائی جو سپریم کورٹ کے حکم اور موجودہ ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بھارت میں جولائی 1991تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں تھی لیکن اس کے بعد 25جولائی 1991کو سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے جج ویرا سوامی کے خلاف ایک معاملے کی سماعت کے دوران ایک تاریخی فیصلہ نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں پر بھی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جسٹس شکلا کا معاملہ اپنے آپ میں نہ صرف ایک غیر متوقعہ فیصلہ ہے بلکہ ہمت والا فیصلہ ہے کیونکہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں کبھی کسی جج پر مقدمہ نہیں چلایا گیا ۔اگر جسٹس شکلا قصوروار پائے گئے تو ان پر پوری کارروائی کے تحت تحریک ملامت بھی چلائی جا سکتی ہے ۔یہ ہندوستانی عدلیہ کے لئے آنکھیں کھولنے والا معاملہ ہوگا ۔ہم جسٹس رنجن گگوئی کو اس تاریخی فیصلے پر مبارکباد دیتے ہیں انہوںنے وہ کام کیا جو بھارت کی عدلیہ میں پہلے کبھی نہیں ہوا ۔

(انل نریندر)

02 اگست 2019

میں نے ہزاروں نوکریاں دی ،مگر میں خود کشی کرنے پر مجبور ہوا !

’کیفے کافی ڈے ‘کے چیرمین سدھارتھ کی زندگی کی انتہائی تکلیف دہ کہانی سامنے آئی ہے کرناٹک کے سابق وزیر اعلی ایس ایم کرشنا کے داماد اورکیفے کافی ڈے کے بانی وی جی سدھارتھ دیش کے لئے لڑنا چاہتے تھے لیکن خود سے یا یوں کہیں کہ وہ حالات سے نہیں لڑپائے وہ 29جولائی سے لاپتہ تھے ساو ¿تھ کبڑا کے ڈپٹی کمشنر سینتھل نے بتایا کہ سدھارتھ 29جولائی کو نیترا وتی ندی کے پل سے غائب ہوئے تھے او ر31جولائی کو ہڈوگے باز ار میں ندی کے ساحل پر ان کی لاش بد آمد ہوئی سدھارتھ مالی پریشانی سے دوچار تھے انھوں نے مرنے سے پہلے ملازمین رشتہ داروں وغیرہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں 37سال بعد بھی ایک صحیح اور فائدے والا بزنس ماڈل نہیں تیار کرسکے ۔جن لوگوں نے مجھ پر بھروسہ کیا میں انہیں مایوس کرنے کیلئے ان سے معافی چاہتا ہوں اور میں کافی وقت سے بحران سے لڑ رہا تھا لیکن آج اپنی ہار مانتا ہوں ۔میں ایک پرائیویٹ اکویٹی لیڈر پارنٹر کا دباو ¿ نہیں جھیل پارہا ہوں اس وجہ سے حالات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوگیا ۔انکم ٹیکس کے ایک سابق ڈی جی مجھے پریشان کررہے تھے اور انہوں نے کمپنی کی شیئر ز کو دوبار قرق کیا جس سے ایک کمپنی کے ساتھ معاہدہ کو بلاک کیا جاسکے اسی سبب پیسے کی کمی ہوئی میں آپ سبھی سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ مضبوط رہےں اور ایک نئے انتظام کے ساتھ بزنس چلائیں ۔ساری غلطیوں کے لئے میں ذمہ دار ہوں ۔قانو ن تو مجھے اور صرف مجھے ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے کیونکہ میں نے یہ جانکاری سب سے چھپائی اور پریوار سے بھی میرا مقصد کسی کو دھوکہ دینا یا گمراہ کرنا مقصد نہیں تھا میں ایک ناکام کاروباری ثابت ہوا میں امید کرتا ہوں کے مجھے آپ سمجھوگے اور مجھے معاف کرو گے میں نے اپنی سبھی املاک کی تفصیل او رانکا تخمینہ قیمت کی فہرست اس خط کے ساتھ لگائی ہے اور لائیو ومنٹ رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی پر 2000کروڑ روپے کا قرض سوالوں کے گھیروں میں تھا جنوری میں انکم ٹیکس نے مائنڈری کے 20لاکھ شیئر وں قرق کیاتھا اس کے ساتھ ہی ستمبر 2017میں انکم ٹیکس محکمہ نے سدھار تھ کے کئی کاروبار ی دفاتر پر چھاپہ مارا حالانکہ محکمہ انکم ٹیکس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے کسی کو پریشان کو نہیں اور شعبہ جاتی کاروائی کی ہے سدھارتھ کے جانے کے بعد سی سی ڈی کے سرمایہ کاروں نے کمپنی ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور کمپنی کا شیئر 19.99فیصدی ٹوٹ کر 154.05فی شیئر آگیا ہے اور یہ لگاتار گررہاہے سدھارتھ نے 1996میں محض پانچ لاکھ خرچ کیفے کافی ڈے کی شروعات کی تھی جو اب کروڑوں روپے کا کاروبار ہواگیا کمپنی کے چیئرمین سدھارت خود کشی نے ایک مرتبہ سوال کھڑا کردیا ہے اور سرکاری پالیسیوں کی وجہ سے نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ایک شریف انسان خود کشی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔
(انل نریندر)

اناو ¿ ریپ سانحہ :فلمی سنسنی خیز کرائم اسٹوری !

17سالہ ایک لڑکی ایک ممبراسمبلی کے گھر نوکری کے لئے بات کرنے جاتی ہے اور پھر کچھ وقت بعد وہ بتاتی ہے کہ ممبر اسمبلی کے گھر پر اس کے ساتھ ریپ کیا گیا اس کے بعد وہ لڑکی غائب ہوجاتی ہے ،ا س کے والد کی پولیس حراست میں موت ہوجاتی ہے اس کے علاوہ اس کی چاچی کی بھی موت ہوجاتی ہے اور وہ خود اپنی اس لڑائی کو لڑتے لڑتے اب وہ اپنی زندگی کیلئے بھی جنگ لڑرہی ہے ۔پڑھنے میں یہ کوئی درناک کرائم ڈرالابالی ووڈ سنیماکی کہانی لگتی ہے لیکن یہ سال 2017سے شروع ہوئی اناو ¿ رےپ متاثرہ کی اصل زندگی کی کہانی ہے ۔آج سے تقریبًا دوسال پہلے سرخیوں میں آیا یہ معاملہ ایک بار پھر اب اخباروں کی سرخیوں میں ہے اور اس مرتبہ متاثرہ لڑکی اپنی موت سے بچنے کی جنگ لڑرہی ہے اس بیحد دردناک کرائم کے شروع ہونے سے لیکر اب تک کی کہانی آپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی ۔مرکزی سرکار نے اناو ¿ آبروریزی متاثرہ کی سڑک حادثے کی جانچ کی ذمہ داری منگل کو سی بی آئی کو سونپ دی ہے واضح ہوکہ اترپردیش کے رائے بریلی میں ایک بے قابو ٹرک نے یک کار کو ٹکر مار دی جس سے اس میں سوار متاثرہ اور اس کے وکیل شدید زخمی ہوگئے جبکہ لڑکے کے دورشتے داروں کی موت ہوگئی ۔محکمہ پرسنل اور ٹریننگ محکمہ کے ایک حکم میں کہاگیاہے کہ حادثے کیلئے اکسانے اور اس کی سازش کی جانچ کیلئے یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا ہے اس سنسنی خیز کرائم اسٹوری کا ولن ہے ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر ۔سڑک حادثے میں زخمی اناو ¿ آبروریزی کی شکار لڑکی کی حالت بدستور نازک ہے وہ لکھنو ¿ کے کنگ جارج میڈیکل ہسپتال میں ابھی بھی وینٹی لیٹر پر اپنی زندگی کیلئے جنگ لڑ رہی ہے ۔اس حادثے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے معطل ممبر اسمبلی اس معاملے میں ملزم اورجیل میں بند ہے مگر جس طرح سے متاثرہ اور وکیل کی کار کو ٹکر ماری گئی اس حادثے کو پریوار والوں نے سازش بتایاہے اس پرسرکار اور جانچ ایجنسیوں کو فوری طور پر حرکت میں آنا پڑا کیونکہ یہ واقعی دل دہلانے والا کا واقعہ ہے آخر ریپ متاثرہ انصاف کیلئے جائے تو کہاں جائے ؟یہ بات کسی سی پوشیدہ نہیں کہ لڑکی سے آبرو ریزی کے واقعے کی قریب ایک سال بعد عدلت کے حکم پرہی قصورواروں کے خلا مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں جیل بھیجا گیا اگر جس طرح سے مسلسل گواہوں کو دھمکایا جارہا تھا اس سے انصاف کی باتیں تو محض خواب جیسی ہوگئی تھی اس معاملے میں پولیس کے رویہ پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں اگر پولیس اور انتظامیہ کے ذمہ یہ انتہائی اہم ترین معاملہ تھا تو اس نے فوری طور سے کیوں نہیں جانچ کی ۔پولیس یہ کہہ کر اپنا بچاو ¿ نہیں کرسکتی اقتدار سے جڑے ممبراسمبلی کا معاملہ ہونے کے چلتے ان پر کافی دباو ¿ تھا تویہ بیحد شرمناک ہے ۔جس ٹرک کارکو ٹکر ماری تھی اس کی پلیٹ نمبر کو کوئی کالی چیز لگا کر نمبر چھپایاگیا لڑکی کی حفاظت کیلئے دیئے گئے سیکورٹی جوان دیئے گئے تھے لیکن حادثے کے وقت اس کے ساتھ ایک بھی سیکورٹی جوان نہیں تھا ۔متاثرہ کے خاندا ن کا الزام ہے کہ ممبر اسمبلی سینگر کے لوگ انہیں مقدمہ واپس لینے کی لگاتار دھمکی دے رہے تھے اور یہ حادثہ باقاعدہ انجام دیا گیا ۔اس معاملہ میں لڑکی کی چاچی ایک گواہ تھی جس کی حادثے میں موت ہوگئی ۔آخر جانے کہ کلدیپ سنگھ سینگر کون ہیں ؟اپنی سیاسی زندگی شروعات میں سینگر کانگریسی تھے 2007چناو ¿ سے پہلے وہ بسپا میں چلے گئے ۔اور کانگریس کے امید وار کو بڑے فرق سے ہرادیا 2007آتے آتے اس کی ساکھ دبنگ نیتا کی بن گئی اور انہوں نے سپا کا دامن تھام لیا 2012میں سپا کے ٹکٹ پر چناو ¿ جیتا اور 2017میں بی جے پی کے ٹکٹ پر ایم ایل اے بن گئے ۔اناو ¿ بد فعلی کی شکار لڑکی کی کار کو ٹرک سے ٹکر میں معاملے میں یوپی سرکار اور بھاجپا سیاسی حریفوں کی نکتہ چینیوں کاشکار ہورہی ہے کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں نے منگل کو یہ اشواٹھایا اس پر بھاجپا اور دیش صدر نے کلدیپ سنگھ سینگر کو پہلے بھاجپا سے معطل کردیا تھا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سی بی آئی جانچ کے بعد ہی کیا متاثرہ کو انصاف ملے گا ؟
(انل نریندر )

01 اگست 2019

پاک اخباروں میں عمران کا دورہ امریکہ بےحد کامیاب

پاکستان سے شائع اردو اخبارات میں عمران خان کے دورہ امریکہ سے وابسطہ خبریں سب سے زیادہ سرخیوں میں رہیں ۔عمران خان پچھلے ہفتے سہ روزہ دورے پر امریکہ گئے تھے امریکی صدر ڈونڈلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے میڈیا سے خطاب میں کہا تھا بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھاکہ ان سے کشمیر کے معاملے میں ثالثی نبھانے کو کہا تھا ۔ٹرمپ کے اس بیان کے فوراََ بعد ہندوستانی وزارت خارجہ نے اسکی تردید کر دی لیکن ظاہر ہے یہ بات اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں تھی ۔اخبار ایکسپریس کے مطابق پاکستان لوٹنے کے بعد اسلام آباد ہوائی اڈے پر موجود ورکروں اور حمایتوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ آج مجھے لگا ہے کہ میں غیر ملکی دورہ کر کے نہیں بلکہ ورلڈ کپ جیت کے لوٹا ہوں عمران خان نے خود ان کی پارٹی نے تو اسے تاریخی اور کسی بھی پاکستانی نیتا کا سب سے کامیاب امریکی دورہ قرار دیا ۔لیکن پورے ہفتہ پاکستانی میڈیا میں اس بات پر خبریں چھپتی رہیں کہ آخر عمران کے امریکی دورے سے کیا حاصل ہوا؟اخبار ایکسپریس نے سرخی لگائی کہ کشمیر مسئلہ پر دنیا سرگرم چین بھی ثالثی کا حمایتی اخبار کے مطابق چین و امریکہ کے ثالثی کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی ہمایت میں اعلان کیا ہے ۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چھوئنگ نے کہا کہ چین بھارت اور پاکستان دونوں کا پڑوسی دیش ہے اس لئے چین کی دلی خواہش ہے کہ دونوں ملکوں میں کشمیر مسئلہ کا حل پر امن طریقہ سے کریں اخبار کے مطابق امریکہ کی ثالثی تجویز کا چین کے ذریعہ خیر مقدم کیا جانا بھارت کے لئے ایک سفارتی چھکہ ہے ۔اخبار دنیا میں سرخی لگی ہے بھارت کی ایک اور سفارتی ہار ،بین الا اقوامی سطح پر الگ تھلک پڑنے کا خطرہ ۔کشمیریوں کی تحریک کامیابی کی طرف بڑھنے لگی ہے ۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے کشمیر سے متعلق دئے گئے بیان سے ہندوستانی پارلیمنٹ میں زلزلہ آگیا ۔وزیر خارجہ جے شنکر نے بھلے ہی ٹرمپ کے دعویٰ کو مسترد کر دیا لیکن مودی سرکار ابھی بھی دباﺅ میں ہے ۔اخبار نوائے وقت کے مطابق امریکہ کا خیال ہے کہ عمران ٹرمپ کی ملاقات کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے ۔اخبار نے آگے لکھا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارگن اوٹس نے واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے کہا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ملاقات کامیاب رہی آگے انہوں نے کہا کہ مسئلے کو لے کر آگے بڑھا جائے ۔اسی اخبار میں چھپی ایک خبر کے مطابق امریکہ نے پاکستان کے لئے فوجی مدد بحال کر دیا ہے ۔اب پاکستان کو ایف 16جنگی جہازوں کے لئے بارہ کروڑ 50لاکھ ڈالر اور لاجسٹک مدد کرئے گا ۔

(انل نریندر)

کرپٹ افسران پر سرجیکل اسٹرائک 2-کی تیاری

مودی سرکار کے دوسرے عہد میں کرپٹ اور سست افسران پر سرجیکل اسٹرائک جاری رہے گا۔پچھلے مہینے مالیات سروس سے وابسطہ افسران پر سخت کارروائی کا یہ سلسلہ شروع ہوا حکومت نے محکمہ محصولات کے بارہ سینئر افسران کو جنسی زیادتی کے الزامات میں باہر کا راستہ دکھایا تھا ۔بے شک یہ ضروری قدم ہے قابل تعریف بھی ہے ۔ان حکام کے خلاف لگے الزامات کی تفصیل میں جایں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سارے معاملے نہ صرف سنگین ہیں بلکہ پورے سسٹم اور جانکاری اور معاملوں کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے بھی مسلسل چل رہا تھا ۔مثال کے طور پر آپ ایک انکم ٹیکس کمشنر کا معاملہ ہی لے لیں ان کے خلاف آمدنی سے زیادہ املاک بنانے کے الزامات صحیح پائے گئے تھے اور الزامات کے سبب انہیں دس سال پہلے معطل کر دیا گیا تھا ۔ان کے خلاف کرپشن قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جو ابھی تک چل رہا ہے ۔اسی مقدمہ میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کرپشن روکنے کے ہمارے نظام میں کتنی خامیاں ہیں جب کسی ملازم کو معطل کر کے اس کے خلاف مقدم چلایا جاتا ہے تو اسے معطلی کے دوران اس کی تنخواہ کا ایک حصہ تب تک دیا جاتا ہے جب اس کے معاملے کا قطعی فیصلہ نہ ہو جائے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس معاملے میں آخری فیصلہ پچھلے دس سال سے لٹکا ہوا تھا پچھلے مہینے کرپٹ افسران پر سرجیکل اسٹرائک کا دوسرا حصہ اب کرپٹ آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے خلاف ایکشن لینے کی تیاری ہے ۔ذرائع کے مطابق پی ایم او نے ایسے دو سو افسران کے خلاف کرپشن اور دوسرے معاملات میں کی گئی شکایتوں کا جلد سے جلد نپٹارا کرنے کو کہا ہے ۔جانچ پوری ہونے کے بعد انہیں نوکری سے ہٹایا جا سکتا ہے پچھلے دنوں افسران کے ساتھ ملاقات میں پی ایم نے کرپشن کے التوا معاملوں پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی ۔پی ایم نے وزارت اور محکموں سے آنے والی شکایت اور اس کے خلاف ایکشن لینے میں سست روی پر گہرا اعتراض جتایا تھا ۔ریلوئے ،ڈاک،اور سپلائی سمیت آدھے درجن وزارتوں کے کرپشن سے جڑی شکایت کی فہرست پی ایم اوکو بھیجی گئی پی ایم نے پیش رفت جائزہ میٹنگ میں کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے کہ وزارتی سطح پر شکایت نہ سننے کے سبب پی ایم او میں اپنی شکایت لیکر آرہے ہیں مودی نے اپنی دوسری معیاد میں پی ایم بننے کے بعد اس طرح کی شکایتوں کو ٹالنے پر سخت وارنگ دیتے ہوئے کہا تھا اب ایسے معاملوں میں بلیک اینڈ وائٹ کارروائی ہوگی ۔یعنی جو ایماندار ہوں گے انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اور جو داغی پائے جائیں گے اب انہیں بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا ۔کرپشن سے نجات کے لئے سب سے ضروری یہ ہے کہ مقدمات کا نپٹارا جلد ہو اور سروس سے ہٹایا جانا لائق خیر مقدم ہے لیکن انتظامیہ سے کرپشن مٹانے کے لئے سب سے آگے بڑھ کر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔

(انل نریندر)

31 جولائی 2019

وراٹ اور روہت میں آپسی اختلافا ت سے ٹیم کو ہوتا نقصان

ٹیم انڈیا میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے اور آپسی گروپ بندی بڑھتی جا رہی ہے ۔اور ٹیم انڈیا کے سینر کھلاڑیوں میں اختلافات ہیں ہمیں ورلڈ کپ میں پتہ چلا تھا اب خبریں بھی آنے لگی ہیں ۔کپتان وراٹ کوہلی اور نائب کپتان روہت شرما کے درمیان ٹیم کی سیلکشن کو لے کر بھاری اختلاف ہے ۔حالانکہ وراٹ اور روہت کے درمیان ورلڈ کپ کے دوران ہی کچھ اہم فیصلوں پہ تنازعات ہونے کی خبریں آئیں تھیں ۔روہت شرما نے ٹیم میں محمد سمیع اور رویندر جڈیجا کو جگہ نہ دئے جانے کی مخالفت کی تھی سمیع کو صرف چار میچ کھلائے گئے جبکہ ان کا کھیل شاندار رہا ۔روہت نے جڈیجا کو بھی ورلڈ کپ میں شروع سے موقعہ دیے جانے کی حمایت کی تھی لیکن وراٹ اور کوچ روی شاشتری نے ان کی بات کو نہیں چلنے دیا کلدیپ کے فلاپ ہونے کے بعد جڈیجا کو موقعہ دیا گیا اس نے دیکھایا کہ وہ ایک منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں روہت نے سیمی فائنل میں ہار کے بعد بھی ٹیم کے سیلکشن کو لے کر اپنا اعتراض جتایا تھا ۔اب بھارت کی ونڈے ٹیم میںانہیں سینر کھلاڑیوں کے درمیان تلخی بڑھتی جا رہی ہے بی سی سی آئی کے ایک سینر منتظم نے کوشش بھی کی تھی کہ کوئی کھلاڑی سوشل میڈیا پر ٹیم میں اتحاد پر اختلاف کی بات ڈالتا ہے اس سے ٹیم کی ساخ کو نقصان ہوتا ہے ۔اس لئے ایسا کوئی پوسٹ نہ ڈالے لیکن اس بات کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا دراصل ٹیم میں کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو وراٹ کو بطور کپتا ن پسند نہیں کرتے کچھ کھلاڑیوں کی روہت کے ساتھ نہیں بنتی لیکن وراٹ کو کپتانی سے ہٹانا اتنا آسان بھی نہیں ہوگا ۔بورڈ کے ایک افسر نے بتایا کہ ٹیم میں تنازعوں کی خبروں پر توجہ دی جانی چاہیے ۔اور اس سے پہلے کہ ٹیم کی پرفارمینس پر فرق پڑے مسئلے کو حل کیا جائے ۔اگر ان اختلافات کو فوری طور پر دور نہیں کیا گیا تو یہ ٹیم کے لئے کافی خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے ٹیم کے جذبے پر بھی اثر پڑے گا ۔کنٹرول بورڈ کے افسر کا کہنا تھا کہ آپ کی ٹیم کے دو کپتان ہیں ہو سکتے ۔ان کی میڈیا ٹیم ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا کھیل نہیں کھیل سکتی ۔اس تنازعہ میں دونوں کوچوں کا بھی در پردہ اشتراک رہا ہے ۔روی شاشتری ،سنجے بانگڑ نے ٹیم میں اتحاد قائم کرنے کی جگہ گروپ بندی کو ہوا دی ہے ۔شاید انہیں بدلنے سے ٹیم انڈیا کی حالت بدل جائے ٹیم آج کل ویسٹ اینڈیز کے دورے پر ہے اور وہاں دونوں فارمیٹ میں روہت اور وراٹ کو کپتان بنایا گیا ہے ۔کپتان بنانے سے کام نہیں چلے گا اس کی اپنے مطابق ٹیم کے سیلکشن کی بھی پوری آزادی ہونی چاہیے ۔

(انل نریندر)

کانگریس لیڈر شپ بحران سے پارٹی کو بھاری نقصان

کانگریس صدر راہل گاندھی کو عہدے سے استعفیٰ دینے کے اتنے دن بعد بھی کانگریس لیڈر شپ کون طے کرے یہ ابھی تک فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے ۔راہل گاندھی کے استعفیٰ کے بعد قیادت کو لے کر صحیح تصویر سامنے نہ آنے کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے استعفیٰ کے بعد سے پارٹی لیڈروں میں جھگڑے بڑھ گئے ہیں اور پارٹی کا ڈسیپلین تار تار ہو رہا ہے ۔کوئی نیتا کسی کی نہیں سن رہا ہے ۔راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ میں کانگریس صدر بنانے کے سوا کوئی بڑا فیصلہ نہیں لیا اور جھگڑے اور دسیپلن کا حال یہ ہے کہ ہریانہ میں پردیش صدر اشوک تاور انچارج جنرل سیکریٹری غلام نبی آزاد،کے احکامات کو نہیں مان رہے ہیں ۔تاور کی بنائی چناﺅ سے متعلق کمیٹی کو جب آزاد نے توڑ دیا اور اس کمیٹی کی میٹنگ ہونے دی اسی طرح مہاراشٹر دہلی میں بھی لیڈر شپ کا بحران پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے ۔جب راہل گاندھی نے پارٹی صدارت سے اپنا استعفیٰ دیا تھا تو امید یہ کی جا رہی تھی کہ لوک سبھا میں پارٹی کی کراری شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے راہل کی طرح باقی سینر عہدیداران نے اپنا استعفیٰ نہیں دیا ۔ویسے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ راہل نے جب استعفیٰ کی پیش کش کی تھی تو پارٹی کی سپریم پالیسی ساز باڈی ورکنگ کمیٹی میں غور وخوض ہوتا اور پارٹی کا اتفاق رائے سے صدر چنا جاتا لیکن اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی کانگریس کو نیا صدر نہیں مل سکا ۔کانگریس کے سینر لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ راہل گاندھی کے استعفیٰ کے بعد قیادت کو لے کر شش و پنج سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ کانگریس میں بہتری لانے کا راستہ یہی ہے کہ ورکنگ کمیٹی سمیت پارٹی میں سبھی اہم ترین عہدوں کے لئے چناﺅ ہوں جس سے چنے جانے والے نیتاﺅں کو قبول کرنے میں مدد ملے ۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ کی رائے کی بھی حمایت کی گئی ہے ۔کہ کانگریس کی کمان نوجوان لیڈر کو سونپی جائے اس لئے کانگریس کے اندر ایک طبقہ کی طرف سے کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی کو پارٹی کا نیا صدر بنائے جانے کی آواز اُٹھنے لگی ہے ۔اور پارٹی کے کئی سینر لیڈروں نے ان کی پرزور وکالت کی ہے ۔بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ان میں ہی اپنی دادی اندرا گاندھی کی طرح مشکل وقت میں پارٹی کو دوبارہ کھڑا کرنے کا دم خم ہے ۔ان نیتاﺅں نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ گاندھی پریوار سے باہر کے شخص کو پارٹی صدر بنایا گیا تو پارٹی میں بکھراﺅ ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا مرکزی سرکار کے سابق وزراءنٹور سنگھ ،بھگت چرن داس،جے پرکاش جیسوال،انل شاستری،اور ایم پی ششی تھرور نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ کانگریس صدر کے عہدے کے چناﺅ میں پرینکا ضرور حصہ لیں گی ۔سابق صدر پرنب مکھرجی کے لڑکے ابھیجیت مکھرجی بھی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اپنی دادی کی طرح ہی پرینکا گاندھی میں پارٹی کو اس مشکل دور سے نکالنے اور دوبارہ اقتدار میں لا کھڑا کرنے کی صلاحیت ہے دوسری طرف چناﺅی ہار کے بعد پچھلی 25مئی کی کانگریس ورکنگ کمیٹی میں صدرات سے اپنے استعفیٰ کی پیش کش کر کے راہل گاندھی نے صاف کر دیا تھا ان کے بعد ان کے خاندان کا کوئی اور شخص بھی یہ عہدہ نہیں سنبھالے گا ۔لیکن دقت یہ ہے کہ دو مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کانگریس پارٹی راہل کا متابادل ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو پائی اس درمیان سون بھدر میں آدیواسی قتل عام معاملے میں پرینکا گاندھی کے تیور دیکھ کر تمام پارٹی نیتاﺅں کو ان سے امید ہے کہ اب کانگریس کا کرناٹک سرکار کے زوال اور دیش بھر میں کانگریس پارٹی میں مچی بھگدڑ کو دیکھتے ہوے اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کانگریس کب تک اس اہم ترین معاملے میں فیصلہ لے گی ۔

(انل نریندر)

30 جولائی 2019

آئی ایس آئی اور فوج کے سربراہوں کو عمران اپنے ساتھ امریکہ کیوں لے گئے ؟

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا امریکی دورے سے لوٹنے پر اسلام آباد ہوائی اڈے پر ذبردست خیر مقدم کیا گیا ۔ان کی جماعت تحریک انصاف کے ورکر بڑی تعدار میں موجود تھے پاکستانی میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکہ کے کامیاب دورے سے لوٹے وزیر اعظم کا جس طرح زوردار استقبال ہوا اس پر خود عمران نے کہا کہ اس سے لگتا ہے کہ وہ کسی غیر ملکی دورے سے نہیں لوٹے بلکہ ورلڈ کپ جیت کر آئے ہیں ۔اس موقع پر پارٹی کے ورکر رقص اور گیت گا رہے تھے اور عمران کی حمایت میں نعرے لگ رہے تھے اس موقع پر عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں پاکستان کو عظمیم بنانا ہے شاعر علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق پاکستان کا عظیم ملک بننا یقینی ہے امریکی دورے کی کامیابی کو پاکستان کے لئے بڑی راحت ضرور مانا جا رہا ہے ۔ایک امریکی تجزیہ نگا رنے بھی عمران خان کے دورے کو خوشگوار تبدیلی سے تشبیہ دی ہے ۔مثلا امریکی مگزین غیر ملکی پالیسی نے بھی دورے کی تعریف کی ہے ۔دنیا کے کئی اخباروں اور ٹی وی چینلوں نے جو وسطی ایشیا ءپر گہری نظر رکھتے ہیں نے بھی عمران کی بڑی کامیابی قرار دی ہے ۔صاف نظر آتا ہے کہ عمران نے اور ان کے حمایتی فوجی اداروں نے صدر سے ملاقات سے پہلے اچھا ہوم ورک کیا تھا ۔وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان پہلی بار امریکہ گئے ان کے امریکی دورے نے فوج کا اہم رول رہا ہوگا چونکہ ان کے ساتھ فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوا اور آئی ایس آی چیف لیفینینٹ جنرل فیض حمید بھی تھے ۔عمران آخر فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہوں کو امریکہ کیوں لے کر گئے ؟کیا عمران کو وائٹ ہاﺅس آنے کا امریکہ دوبارہ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر پاکستان شدت پسندوں کے سلسلے میں اپنی پالیسیاں بدلتا ہے تو امریکہ سے اس کے رشتوں میں بہتری آئے گی ؟پاکستان میں سابق کمشنر شرت سمروال کہتے ہیں وہ پیسے مانگنے نہیں جا رہا ہے کہا گیا ہے کہ تجارت اور سرمایہ سب سے اہم ایجنڈا رہا ہوگا لیکن افغانستان نے قیام امن کا اشو بات چیت میں اہم رہا ہوگا ۔امریکہ کے لئے سب سے اہم طالبان ہے جو اس کی فوج کے خلاف افغانستان میں تباہی مچا رہا ہے ۔طالبان پر پاکستان کا کچھ دبدبہ ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ طالبان کے اشو پر امریکہ سے تعاون کرئے ۔ٹرمپ انتظامیہ یہ بھی جانتا ہے کہ فوج کی حمایت کے بغیر پاکستان میں کوئی بھی بڑا فیصلہ نافذ نہیں کیا جا سکتا عمران کے ساتھ امریکی کام سے بات چیت میں دونوں سربراہوں نے معاونت کی تھی امریکہ کی کوشش ہے کہ جنرل باجوا اور آئی ایس آئی چیف حمید کو ساتھ بٹھا کر ان سے ٹھوس یقین دہانی مانگی کہ مستقبل میں سرکار اور دونوں فوج کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے پاکستان کے لئے اس کی اقتصادی اور فوجی حکمت عملی کو لے کر امریکہ بہت اہم ہے چونکہ اہم اشو افغانستان ہی رہا اور اس پر فوج اور آئی ایس آئی چیف اہم رول نبھا سکتے ہیں ۔امریکہ کے رخ میں تبدیلی تو ہوئی ہے آئی ایم ایف نے پاکستان کو بلیک آﺅٹ کر دیا تھا اسے امریکہ روک سکتا تھا لیکن اس نے روکا نہیں کل ملا کر عمران خاں کا یہ دورہ امریکہ پاکستان کے لئے بہت اہم تھا پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے آپسی رشتوں کو پھر سے پٹری پر لایا جائے کیونکہ اس میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی اہم رول ہوگا۔اس لئے عمران خان جنرل باجوا اور آئی ایس آئی چیف لیفنینٹ جنرل حمید کو اپنے ساتھ امریکہ لے گئے تھے ۔

(انل نریندر)

آر ٹی آئی ترمیمی بل جمہورےت پر حملہ ہے !

راجیہ سبھامیں بھاری احتجاج کے بعد بھی آرٹی آئی ترمیم بل کو حل پاس کرنے پر اپوزیشن کی الگ الگ پارٹیوں سے وابستہ 17ممبران پارلیمنٹ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے چیئر مین کو خط لکھا ہے ۔بلوںکو بغیر کسی جائزہ لینے کے بغیر پاس کراناپارلیمانی روایت کے خلاف ہے ۔این ڈی اے سرکار کی طرف سے بغیر عام لوگوں کی مشورے سے پیش یہ ترمیمی بل انفارمیشن کمیشنوں کی مختاری کو سنگین طور سے متاثر کرتا ہے جو اطلاعات حق (آرٹی آئی )قانون کے تحت قطعی فیصلہ کن ہے ۔سال 2005میں پاس آرٹی آئی ایکٹ یقینی طور پر دیش کی عوام کیلئے مضبوط قوانین میں سے ایک رہا ہے اطلاع حاصل کرنے کے لئے اس کے تحت ہر برس 60لاکھ درخواستیں دی جاتی ہیں اس لئے بھارت کا آرٹی آئی قانون مشینری کی شفافیت یقےنی کرنے کے معاملہ میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قانون ہے ۔لو گ تمام مسئلوں پر سرکار کی جواب دہی یقینی کرانے کیلئے اس قانون کا استعمال کرتے ہیں پھر چاہئے معاملہ راشن سے جڑا یا پینشن سے ۔بڑے گھوٹالے ،سرکار ملازمین کی پراپرٹی سے لیکر انسانی حقوق کے خلاف جڑی اطلاعات بھی مانگی جاتی ہےں اس ستعمال دیش کے طاقتور لوگوں سے جواب مانگنے کیلئے بھی کیا جارہا ہے یعنی جمہوری سسٹم میں اقتدار کے بٹوارے کو یقینی بنانے کی اس سمت میں یہ کام بخوبی کام کرتا ہے اسی وجہ سے طاقتور لوگ ،سرکار افسر ونیتا اسے کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ہیں اس لئے انہیں اس میں کامیابی مل گئی ہے ۔آر ٹی آئی ایکٹ 2005میں آرٹی آئی ترمیمی بل 2019مرکزی حکومت کو مرکزی اور ریاستی اطلاعاتی کمیشنوں کے انفارمیشن کمشنروں کی ملازمت میعاد ،تنخواہ بھتے اور دیگر شرائط کو طے کرنے کیلئے قاعدہ بنانے کیلئے حق دینے کی تجویز ہے ۔سینٹر ل انفارمیشن کمیشن کے ساتھ سابق اطلاعاتی کمیشنروں نے ترامیم کو اطلاعاتی کمیشن کی مختاری اور لوگوں کے جاننے کی بنیادی حق پر سیدھا حملہ قرار دیاہے ۔انہوںنے حکومت سے غیر ضروری ترامیم کو واپس لینے کی بھی درخواست کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سرکار اس بارے میں ایماندار نہیں ہے ۔وہ یہ ترامیم کیوں لا رہی ہے؟ایک ایم پی دیپک سندھو نے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ ایک سماجی تحریک کے ذریعہ سے آیا تھا اور آر ٹی آئی ترمیم بل پر جنتا سے کسی بھی طرح کا تبادلہ خیال کرنے میں سرکار کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔اب کوئی بڑا گھوٹالہ سامنے نہیں آئے گا ۔آر ٹی آئی قانون کو کمزور کر کے مودی سرکار نے بد عنوان افراد کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں ۔اس قانون کو اور جنتا کا ہاتھ مضبوط کرنے والے اس قانون میں ترمیم کر کے بدعنوان لوگوں کے ہاتھ مضبوط ہو ں گے آر ٹی آئی قانو اس اصول پر بنا تھا کہ جنتا کو یہ جاننے کا حق ہے کہ دیش کیسے چلتا ہے ؟اس کے لئے اطلاعاتی کمیشن کو مختاری دی گئی کہ وہ سرکاری کنٹرول سے آزاد ہوگا ۔انفارمیشن کمشنروں کی تقرری تنخواہ بھتے اور معیاد یہ سب سپریم کے کورٹ کے جج اور چناﺅ کمشنروں کے برابر ہوگا یعنی سرکاری مداخلت سے آزاد اب چونکہ یہ سرکار ایماندار ہے اس لئے اس میں قانون کو ہی بدل دیا اب اطلاعاتی کمیشن مختار نہیں ہوگا اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری اور معیاد تنخواہ بھتے وغیرہ اب مرکزی حکومت مقرر کرئے گی یعنی یہ سب جسے چاہے جتنے وقت کے لئے رکھے گی ۔جب چاہے گی تو ہٹا دے گی یعنی اب انفارمیشن کمیشن ایک اور پنجرے کا طوطہ بن کر کام کرئے گا ۔آر ٹی آئی قانو اب دنیا کا سب سے بہتر سوئل حق قانو نہیں رہے گا اب اس جمہوریت میں سارے اختیارات صرف چند گنے چنے لوگوں کے ہاتھ میں ہوں گے جمہوریت کا فیڈرل ڈھانچہ اپنی قسمت پر روئے گا۔

(انل نریندر)

28 جولائی 2019

ہما داس پورے دیش کو آپ پر فخر ہے

ہمارے دیش میں کرکٹ کا اتنا بول بالا ہے کہ کھیل شائقین کا دھیان کھیلوں پر کم ہی جاتا ہے اور ٹیلنٹ کا راستہ کانٹوں بھرا ہو سکتا ہے ۔کچھ عرصہ تک کے لئے رکاوٹ نظر آسکتی ہے ۔لیکن اسے اپنے مقام تک پہنچانے سے مستقل طور پر کوئی روک نہیں سکتا میں بات کر رہا ہوں بھارت کی اُڑن پری ہماد اس کی دیش کی نئی اُڑن پری نے حال ہی میں چیک جمہوریہ کے نود پریسٹو ناڈ میں 2جی گرا پری میں عورتوں کی چار سو میٹر دوڑ میں سیزن بیسٹ 52.09سیکنڈ کے ساتھ گولڈ میڈیل حاصل کیا ایک مہینے کے اندر ان کا یہ پانچواں گولڈ میڈیل ہے 2جولائی کو یوروپ میں اور سات اور تیرہ جولائی کو چیک جمہوریہ میں اور سترہ جولائی کو ٹابور گراپی میں الگ الگ مقابلوں میں گولڈ میڈیل حاصل کیا ہماد اس پہلی ایسی ہندوستانی کھلاڑی بن گئی ہیں جنہوںنے عالمی دوڑ چمپین شپ ٹریک میں گولڈ میڈیل حاصل کیا ہے ۔18سالہ ہما اسم کے ڈبرو شہرکے پاس ایک چھوٹے سے گاﺅں کی رہنی والی ہیں انہوںنے محض دو سال میں اپنا نام بین الا اقوامی سطح پر درج کرایا ہے ۔ہما بے حد غریب کنبے سے تعلق رکھتی ہیں ان کے والد کا نام رنجیت داس ہے اور وہ کسان ہیں ۔شروع میں پانچ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہما کو شروع سے فٹ بال میں دلچسپی تھی اور وہ اسکول میں لڑکوں کے ساتھ فٹبال کھیلا کرتی تھیں ۔ہمیشہ سے ہی اسے وہ اپنا کیرئیر بنانا چاہتی تھیں وہ گاﺅں میں آنے والی گاڑیوں کے ساتھ دوڑ لگاتی تھی وہ لڑکوں کو ریس میں ہرا دیا کرتی تھیں یہ دیکھ کر ان کی پی ٹی ٹیچر نے انہیں ریسلر بننے کی صلاح دی مقامی کوچ نپن داس کی صلاح مان کر ہما نے ضلع سطح کی 100اور دو سو میٹر کے مقابلے میں حصہ لیا ہما کی لگن کو دیکھتے ہوئے نپن داس نے انہیں گوہاٹی لے کر آئے یہیں سے ہی ہما داس کا کیرئیر ایتھلیٹ کے طور پر شروع ہوا ہما داس کرکٹ کے مقابلے اپنی تاریخی کارناموں کو بہت توجہ نہ ملنے سے دکھی ہیں ۔کہتی ہیں 11سیکنڈ دوڑنے کے لئے برسوں ایڈیاں گھس جاتی ہیں کوئی ایتھلیٹ روز صبح چار بجے اُٹھ کر آٹھ آٹھ گھنٹے پریکٹس کرتا ہے ایسے میں اگر دیش اس کے کارناموں کو نظر انداز کر دے تو اسے کیسا لگے گا ۔آپ خو د ہی اندازہ لگا سکتے ہیں براہ مہربانی ہمیں بھی کرکٹروں جیسا پیار دیں ہمارے دیش میں بد قستمی سے لمبے عرصے سے دور دراز علاقوں میں غریب پریواروں کے بچے الگ الگ کھیلوں میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ مقامی سطح پر کھیلیں تو وہ اچھے کھلاڑی بن سکتے ہیں لیکن کھیل کے لئے موقوں اور سہولیات کی کمی میں انہیں آگے نہیں بڑھتے کا موقعہ ملتا ۔ہما داس انہیں میں سے ایک ہیں جنہوںنے بہت کم وقت میں یہ ثابت کر دکھایا کہ اکثر وقت پر ٹیلنٹ کی پہچان ہو اور انہیں موقعہ دیا جائے کوئی سہولت مل جائے تو وہ دنیا میں دیش کا نام روشن کر سکتی ہیں ۔

(انل نریندر)

ٹریررستان ہے پاکستان آخر مانیں عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ امریکی دورے کے دوران امریکی ممبران پارلیمنٹ کے سامنے سچائی قبول کر لی ہے ۔جسے پاکستان شروع سے مسترد کرتا رہا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی تیس سے چالیس ہزار دہشتگرد موجود ہیں ۔جنہوںنے افغانستان اور کشمیر میں ٹرینگ لی اور وہاں لڑے بھی ہیں ۔ایک وقت ہمارے دیش میں چالیس ہزار دہشتگرد موجود تھے لیکن پہلے کی پاکستانی حکومتوں نے یہ بات چھپائی عمران نے یہ بھی مانا کہ چودہ فروری کو پلوامہ میں ہوئے حملے کے لئے جیش محمد ذمہ دار ہے ۔یہ پہلی بار ہے جب پاکستانی حکومت یا اس کے وزیر اعظم نے سیدھے سیدھے قبول کیا ہے کہ پلوامہ حملے میں جیش محمد کا ہاتھ تھا ۔جن کا آقا پاکستا ن میں ہے سال در سال جس پاکستان پر دہشگردی کی نرسری ہونے کا الزم لگتا رہا ہے آخر وہاں کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اس سچائی کا اعتراف کر لیا ہے ۔امریکہ میں خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سال بھر پہلے الزام لگا چکے ہیں کہ پاکستان سے ان کے دیش کو جھوٹ اور دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں ملا ۔دراصل عمران نے ایسے وقت میں امریکہ کا دورہ کیا جب ان کا ملک مالی طور سے خستہ حال ہو چکا ہے اور وہ خود چوطرفہ دباﺅ میں ہے ۔وہیں امریکہ کو افغانستان سے اپنی فوج کی واپسی کی لئے پاکستان کی ضرورت ہے اب تک پاکستان کی سرکار جس سچائی کو چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہے اسے وہیں کے وزیر اعظم کے ذریعہ پبلک طور پر بیان دینے کا مقصد کیا ہے؟دراصل پاکستان ابھی ایک طرف مالی بحران سے لڑ رہا ہے دوسری طرف اس کے خلاف دہشتگردی کے مالی مدد کے معاملے میں مالی کارروائی ٹاس فور س کے ذریعہ کارروائی کا خطرہ مڈرا رہا ہے ۔عمران کسی بھی طرح امریکہ کا بھروسہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔تاکہ اپنے دیش کو مالی بحران سے نکال سکیں اس لئے دہشتگردی کے معاملے میں ان کا اعتراف کس کو ہمت کی طرح نہیں بلکہ ایک اور چھلاوے کی طرح دیکھا جانا چاہیے ۔جو کسی طرح سے امریکہ کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں اگر دہشتگردوں کو پناہ دینے کی سچائی نہیں چھپا سکتے تو ایسے میں عمران سرکار کے لئے یہی موزوں تھا کہ اسے تسلیم کر اس کے خلاف اپنی حکومت کے عزم دکھا کر پاکستان کی ساکھ کو بدلیں ۔تاکہ بین الا اقوامی ہمدردی حاصل کر کچھ فائدہ اُٹھایا جا سکے اس لئے بغیر داڑھی والا طالبان خان کے نام سے مشہور عمران کی کئی باتوں پر ایک دم یقین کر لینا مشکل ہے اس لئے عمران کے امریکہ جانے سے پہلے جمعتہ الدوةاور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے سرغنا ں حافظ محمد سعید کو حراست میں لینے کا ناٹک کیا ۔اگر عمران یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی سرکار آنے پر ہی پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارراوئی شروع ہوئی تو یہ سچ نہیں ہے ۔عمران کے برسر اقتدار ہونے سے پہلے سے ہی پاکستان میں دہشتگردوں پر کارروائی جاری تھی ۔طالبان پاکستان جیسی تنظیموں کی وجہ سے پاکستانی مفادات کو چوٹ پہنچ رہی تھی یہ ایران کی ایمانداری کا اعتراف نہیں بلکہ پلوامہ حملے کو مقامی آتنکوادیوں کی کرتوت بتانا ان کی ذہنیت کو دکھاتا ہے ۔ایسے میں بھارت کو یہ ضرور کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا اعتراف دہشتگردی پر نگرانی رکھنے والے فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کی اکتوبر میں ہونے والی میٹنگ میں پاکستان پر شکنجہ کسنے کی بنیاد بنے عمران کو ادھر اُدھر کی بات کرنے کے بجائے اپنی سرزمین پر بھارت مخالف آتنکی تنظیموں کی سرگرمیوں پر سخت کارروائی کر کے دکھانا ہوگا۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...