Translater

18 جولائی 2015

12 سال بعد آخر سمجھوتہ ہوگیا!

قریب 12 سال کی کوششوں اور17 گھنٹے لگاتار زبردست بحث و مباحثے کے بعد بڑی طاقتوں نے ایران سے نیوکلیائی ہتھیار معاملے میں سمجھوتہ کرلیا ہے۔ ایران اور سبھی طاقتوں نے اسے بات چیت کا کامیاب نتیجہ قرار دیا ہے۔ اپنی ایٹمی تیاری پر روک لگانے اور اسے بین الاقوامی نگرانی میں سونپنے کا فیصلہ لے کر ایران نے ایسا مثبت قدم اٹھایا ہے جو اس کے ساتھ پوری دنیا کیلئے مفید ثابت ہوگا۔ ایران اور 6 ملکوں کے درمیان اس سمجھوتے کی بات چیت ایک دہائی سے زیادہ وقت سے لٹکی ہوئی تھی اور اس درمیان بین الاقوامی پابندیوں نے اس کا حال بد سے بدتر بنا دیا تھا۔ ایران اڑا ہوا تھا کہ سمجھوتے کے ساتھ ہی اسے میزائل اور بھاری ہتھیاروں کی سپلائی پر لگی پابندیوں سے آزاد کردیا جائے لیکن دوسرے فریق کو اندیشہ تھا کہ اگر ایسا ہوا تو عراق، شام اور یمن میں شیعہ انتہا پسندوں تک خطرناک ہتھیاربے روک ٹوک پہنچانے لگے گا۔ ایران اس شرط پر تیار نہیں تھا کہ اگر سمجھوتے کی خلاف ورزی ہو گی تو اس پر پہلے والی بین الاقوامی پابندیاں اپنے آپ بحال ہوجائیں گی لیکن ان شرطوں کے بعد ایران کو جھکنا پڑا کیونکہ ہتھیاروں پر لگی پابندی کو ہٹنے میں 5 سے8برس تک اسے انتظار کرنا ہوگا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے ساتھ کئی برسوں سے جاری ایران کی بات چیت کبھی ٹھوس نتیجے پر پہنچ جائے گی اس بارے میں ایک سال پہلے تک یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا لیکن شام اور عراق میں آندھی طوفان کی رفتار سے ابھری کٹر دہشت گرد تنظیم آئی ایس ۔ اس نے دیکھتے دیکھتے سارے تجزیئے بدل دئے۔ ایران سے پابندی ہٹانے کو لیکر خلیجی خطے میں سب سے زیادہ احتجاج سعودی عرب اور اسرائیل کی طرف سے ہوتا رہا ہے۔
دونوں ہی ملکوں کے ترجمانوں نے شبہ ظاہر کیا کہ پابندی ہٹنے سے ایران کو غیرممالک میں منجمد اثاثے کی شکل میں جو سینکڑوں ارب ڈالر یکمشت ملنے والے ہیں ان کا استعمال وہ شام میں بشرالاسد کے ڈگمگاتے اقتدار کو مضبوط کرنے کے علاوہ یمن میں ہودی باقیوں اور لبنان میں واقع اڈوں سے اسرائیل کو پریشان کرنے والے حزب اللہ کو اور طاقتور بنانے میں کرے گا۔ ہم اپنی بات کریں تو ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے سے بھارت کو کئی فائدے ہوسکتے ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ کچے تیل کی درآمد میں ملے گا۔ ایران سے بھارت جتنا تیل چاہے اتنا خرید سکے گا۔ پابندی کے سبب اس سال ایران سے 90 لاکھ ٹن سے کچھ زیادہ کچا تیل درآمد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انڈسٹری چیمبرس فکی نے کہا کہ بھارت ایران کے درمیان عرصے سے رکی گیس پائپ لائن پروجیکٹ آگے بڑھے گا۔ایران سمجھوتے کے بعد بین الاقوامی بازاروں میں کچے تیل کے دام میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے۔خلیجی فارس میں تیل گیس کابھاری ذخیرہ فرزاد نامی جگہ پر ہے جسے نکالنے کا سودا ہمیں ایران سے مل سکتا ہے۔ یہاں ہماری او این جی سی بیرونی کمپنی نے 7 سال پہلے تیل گیس کا بھاری ذخیرہ تلاش کیا تھا لیکن ایران پر لگی پابندیوں کے سبب اسے آگے بڑھانے کی ہمت نہیں کر پائے تھے۔ اب موقعہ ہے کہ انرجی کے اس وسیع ذخیرے کو اپنے یہاں لانے کا طریقہ تلاشیں۔ کوئی بھی اس طرح کے سمجھوتے کو زمین پر اتارنے میں مشکلات آتی ہیں اب یہ ایران پر منحصر کرتا ہے کہ وہ ان چنوتیوں سے کیسے نمٹتا ہے۔ عام طور پر پوری دنیا نے اس سمجھوتے کا خیر مقدم ہی کیا ہے۔
(انل نریندر)

ہیمراج کا سر کاٹنے والا آتنکی انور ڈھیر

ڈھائی برس پہلے جموں کی سرحد پر تیرہویں راجپوتانہ رائفلزبٹالین کے لانس نائک ہیمراج سنگھ کا سر کاٹ کر پاکستانیوں کو ہماری سکیورٹی فورس نے سخت جواب دیا ہے۔ ہیمراج کے سر کو کاٹنے والے آتنکی محمد انور کے ذریعے سرحد میں دراندازی کرنے کی کوشش میں ہندوستانی فوجیوں نے اسے مار گرایا ہے یہ خبر آتے ہی ہیمراج کا قاتل مارا گیا اس کے گاؤں (کوسی کلاں) میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ گاؤں میں اس بات پر خوشی ہے کہ ہیمراج کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔ہیمراج کی بیوی نے بھارت سرکار سے آتنکی کا سر بھارت لائے جانے کی مانگ کی ہے۔ہیمراج کے رشتے داروں اور گاؤں والوں نے بدھوار کی شام آتش بازی کرکے دیوالی منائی اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ہیمراج کی ودھوا بیوی دھرموتی نے اپنے شوہر کے سنمان میں ہی اس آتنکی کا بھی سر بھارت لائے جانے کی مانگ حکومت سے کی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا جس طرح پاک فوجیوں کی مددسے وہ آتنک وادی ان کے پتی کا سرکاٹ کے لے گیا تھا اسی طرح اس کا سر بھی کاٹ کر بھارت لایا جائے۔ غور طلب ہے کہ سال2013ء میں 8 جنوری کو جموں و کشمیر کی ویشنودیوی وادی خطے میں سرحد پر چوکسی کرتے وقت پاکستانی فوجیوں نے گھات لگاکر تیرویں راجستھان رائفلز کی 25 جوانوں کی فورس ٹکڑی میں شامل لانس نائک ہیمراج سنگھ اور لانس نائک سدھارکر سنگھ کو بے رحمانہ طریقے سے مار ڈالا تھا۔ بتایا جاتا ہے پاک آتنک وادی محمد انور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہیمراج سنگھ کا سر کاٹ کر لے گیا تھا۔ اس لئے اس کے مارے جانے کی خبر ملنے پر متھرا کے کوسی کلاں تھانہ علاقے کے گاؤں میں جشن منایا گیا۔ پیر کو پونچھ کے میندھر کوٹ سیکٹر میں ہوئی مدبھیڑ میں ہیمراج کا سر کاٹنے کی سازش رچنے والا لشکر طیبہ کا آتنکی محمود انور کو فوج نے مار گرایا۔ بتاتے ہیں جوانوں کے سر کاٹنے کی سازش انور کے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں واقع گھر میں رچی گئی تھی۔ انور لشکر طیبہ کا خطرناک آتنکوادی تھا اور میندھر سیکٹر کی کرشنا وادی میں پاکستان کی ٹیم کا حصہ تھا۔ خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع نے بتایا آتنکی انور پی او کے بروچ گاؤں کا رہنے والا تھا اور وہاں اس کی پرچون کی دوکان تھی۔ انور کے گھر پر پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کرنل صدیقی کی موجودگی میں ہوئی میٹنگ میں صوبیدار جاور خان، احمد خان اور دیگر شامل ہوئے۔ اس واردات کے بعد انور کو لشکر کا کمانڈر بنا دیا گیا تھا۔ اس واقعہ سے آئی ایس آئی کو دھکا پہنچا ہے۔
(انل نریندر)

17 جولائی 2015

لودھا کمیٹی کا دوررس اور تاریخی فیصلہ

کرکٹ کے چمکتے چہروں سے نقاب اترگیا۔ کرکٹ کو داغدار کرنے والوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ آئی پی ایل میں سٹے بازوں کو لیکر سپریم کورٹ کے ذریعے تشکیل جسٹس آر ایس لودھا کمیٹی کے ذریعے دئے گئے فیصلے سے کرکٹ کی آڑ میں چل رہے گورکھ دھندے اور لمبے عرصے سے جاری مفادات کے ٹکراؤ سے وابستہ خدشات کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے جسٹس لودھا کمیٹی نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے آئی پی ایل کی دو مشہور ٹیموں چنئی سپرکنگ اور راجستھان رائلز کی سانجھے داری پر دو سال کی روک لگادی ہے۔ ساتھ ہی ان دو بڑی ٹیموں کے معاون مالک گوروناتھ میپن (چنئی) اور راج کندرہ (راج) کو سٹے بازی میں ملوث پائے جانے پر تاحیات کرکٹ سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی ہے یہ فیصلہ اس بی سی سی آئی کے منہ پر طمانچہ ہے جو مختار ادارے کی دہائی دے کر داد گیری کے انداز میں کرکٹ چلا رہی تھی اور نے آئی پی ایل میں سٹے بازی اور اسپاٹ فکسنگ معاملے میں جانچ میں ایمانداری نہیں دکھا کر قصورواروں کو بچانے کا کام کیا۔ اگر بی سی سی آئی میں کسی نے غلط کام کے لئے آواز اٹھائی ہوتی تو آج اسے یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا لیکن تب سبھی آنکھ بند کر اپنے آقا چیئرمین سرینواسن کی خوش آمد میں لگے ہوئے تھے۔ اصل سوال مہذب لوگوں کا کھیل سمجھے جانے والی کرکٹ کی ساکھ کا ہے جسے بٹہ لگانے میں اس کے کرتا دھرتاؤں نے ہی کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے۔ اس میں سب سے اوپر این سرینواسن کا نام رکھا جاسکتا ہے جن کے داماد گورو ناتھ میپن اور راجستھان رائلز کے مالک راج کندرہ پر لودھا کمیٹی نے تا حیات روک لگا دی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ سرینواسن اپنے داماد کو سزا سنائے جانے اور چنئی سپر کنگز پر دو سال کی پابندی کے باوجود اخلاقی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اس سے پہلے اس کے سابق کمشنر اور بھارت کو مطلوب للت مودی کو لیکر اٹھے حالیہ سیاسی طوفان سے یہ سچ سامنے آیا ہے کہ اس فیصلے نے آئی پی ایل کے تصور کو لیکر سوال کھڑے کردئے ہیں۔ یہ صرف سرینواسن اور للت مودی کی دوستی سے بدلتے عزم کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ لگتا ہے کہ آئی پی ایل کو کچھ لوگوں نے ہی اس لئے کھڑا کیا تاکہ کھیل کی آڑ میں کروڑوں روپے کے وارے کے نیارے کئے جاسکیں۔اداکارہ شلپا شیٹی کے پتی برطانوی شہری راج کندرا جیسے لوگوں کا اس سٹے بازی میں ملوث ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے تار بیرونی ممالک سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ویسے کمیٹی کے اس فیصلے سے کئی سوال بھی اٹھ سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو سزا کیوں؟ دوسرا کہ ان ٹیموں کے کھلاڑیوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا ان کی پھرسے نیلامی کی جائے گی؟ تیسرا ان ٹیموں کو نئے مالکوں کی پوزیشن میں یہ ٹیمیں کھیلنے کا جواز حاصل کرسکتی ہیں؟ جو حالت اب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی پی ایل میں صرف6 ٹیمیں ہی حصہ لے سکتی ہیں۔ اگلے آئی پی ایل ایڈیشن میں ضمنی میچ کم ہوجائیں گے۔ اس کا سیدھا اثر فرنچائزی، بی سی سی آئی اور ٹیلی کاسٹ حقوق حاصل کرنے والوں کی کمائی پر پڑے گا۔ جسٹس مدگل کی رپورٹ اور جسٹس لودھا کمیٹی کے فیصلے سے بہرحال یہ امید تو ضرور بندھی ہے کہ صرف لیپا پوتی کے لئے کچھ چھوٹے کرکٹروں کو ٹانگ دئے جانے سے کام نہیں چلے گا۔ سٹے بازی میں ملوث بڑے لوگوں کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ کرکٹ میں شفافیت لانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے لیکن بڑا سوال تو یہی ہے کہ کیا بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ سرینواسن کی چھایا سے باہر نکل پائے گا؟ سرینواسن نے اپنے داماد کو بچانے کے لئے پوری طاقت جھونک دی تھی اور پورے معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اگر وہ وقت رہتے سختی دکھاتے تو ووٹ کی ساکھ پر آنچ نہ آتی اور نہ ہی آئی پی ایل بدنام ہوتا۔
(انل نریندر)

جج کے سامنے ہی چلتا رہا بولیوں کا دور

سہارا گروپ کی چیف سبرت رائے کی ضمانت کے وابستہ معاملے میں پیر کے روز سپریم کورٹ میں دلچسپ معاملہ سامنے آیا ہے۔اترپردیش کے گورکھپور میں سہارا کی 140 ایکڑ زمین کو بیچنے پر بحث ہورہی تھی۔ دراصل سہارا گروپ کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ سمردھی ڈیولپرس64 کروڑ روپے میں یہ پراپرٹی خریدنے کو تیارہے لیکن گورکھپور ریئل اسٹیٹ کمپنی نے اس کے خلاف عرضی لگادی اور پیر کو جب اس پر سماعت شروع ہوئی تو دونوں کمپنیوں کے وکیل بنچ کے سامنے پیش ہوئے اور زمین کی بولی لگانے لگا۔ بولی150 کروڑ تک پہنچ گئی۔ قابل ذکر ہے کہ سہارا نے 7 جولائی کو 140 ایکڑ زمین64 کروڑ روپے میں سمردھی ڈولپرس کو بیچے جانے کی اطلاع عدالت کو دی تھی لیکن گورکھپور ریئل اسٹیٹ ڈولپرس نے کہا کہ وہ اس زمین کے لئے 110 کروڑ روپے دینے کو تیار ہے۔ عدالت نے کہا وہ اس کا 10 فیصد (11 کروڑ روپے) بطور بیعانہ جمع کرائے پھر اس کی بات سنی جائے گی۔ پیر کو گورکھپور ڈولپرس 11 کروڑ روپے جمع کئے اور سماعت میں شامل ہوگئی۔ بحث شروع ہوئی تو سمردھی ڈولپرس نے کہا کہ وہ 110 کروڑ روپے بھی دینے کو تیار ہے لیکن گورکھپور ڈولپرس نے 115 کروڑ روپے کی بولی لگادی۔ یہ سب کچھ جج صاحبان کے سامنے ہوتا رہا۔ اس پر ججوں نے سمردھی ڈولپرس کے وکیلوں سے پوچھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ سمردھی کے وکیل پارس کوہار کو کورٹ روم میں موجود کمپنی کے لوگوں نے اشارے سے بولی لگانے کو کہا۔ کوہار نے بولی بڑھا کر 125 کروڑ روپے کردی اتنا سنتے ہی گورکھپور ڈولپرس کے وکیلوں نے کہا ہم 140 کروڑ روپے بھی دینے کوتیار ہیں۔ اس پر سمردھی ڈولپرس نے 145 کروڑ کی بولی لگادی، اس پر پھر گورکھپور ڈولپرس نے کہا کہ ہم 150 کروڑ روپے دیں گے آخر میں سپریم کورٹ نے سماعت روک دی اور اگلی تاریخ 3 اگست طے کردی ساتھ ہی شرط رکھی دونوں فریق150 کروڑ روپے کی 25 فیصد رقم جولائی تک تین قسطوں میں جمع کریں ۔ جو فریق بیچ میں بھاگا یا باقی رقم جمع کرانے میں ناکام رہا تو اس کے 37.75 کروڑ روپے ضبط ہوجائیں گے۔ زمین سے ملی رقم سیبی۔ سہارا کھاتے میں جمع ہوگی۔ عدالت نے سبرت رائے کی ضمانت کیلئے اسی کھاتے میں پیسہ جمع کرانے کو کہا ہے۔ ضمانت کیلئے 5 ہزار کروڑروپے نقد اور اتنی ہی بینک گارنٹی جمع کرانی ہے۔ اس کے بعد18 مہینے میں 26 ہزار کروڑ روپے چکانے ہیں۔ رائے کے وکیل کپل سبل نے پچھلی سماعت میں کہا تھا دنیا کا کوئی بھی بزنس گروپ 18 ماہ میں 30 ہزار کروڑ روپے نہیں چکا سکتا۔ بنچ نے سیبی سے کہا کہ وہ سہارا گروپ کی سیبی سہارا کھاتے کی تفصیل مہیاکرائے اور یہ بھی بتائے کہ گروپ کے ذریعے سیبی ۔سہاراکھاتے میں جمع رقم کہاں کہاں سے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ 
(انل نریندر)

16 جولائی 2015

ایک بار پھر پلٹا پاکستان

روس کے شہر اوفا میں تین دن پہلے نئے سرے سے بات چیت شروع کرنے پر رضامندی جتانے والا پاکستان اپنی عادت کے مطابق ایک بار پھر مکر گیا ہے۔یو ٹرن لینے کے لئے مشہور پاک وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ جب تک کشمیر کا ایجنڈا نہیں ہوگا تب تک بھارت سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا پاکستان اپنے وقار اور عزت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستانی قومی مشیر نے بتایا روس میں مودی اور شریف کے درمیان ہوئی بات چیت کسی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز نہیں تھا۔ اس کا مقصد دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے بہتر نظریہ قائم کرنا تھا۔ نریندر مودی اور نواز شریف کی اوفا میں ہوئی بات چیت سے جاگی امیدوں کو پاکستان نے تین دن بھی برقرار نہیں رہنے دیا۔بھارت سرکار نے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات کو ایک کارنامہ بتایا تھا کہ اس سے 26/11 کے قصورواروں کو سزا دلوانے کا اشو پھر ایجنڈے پر آگیا ہے۔ مودی شریف بات چیت کے بعد جاری مشترکہ بیان میں ذکر ہوا کہ نومبر 2008 ء میں ممبئی پر آتنکی حملوں کے سازشیوں کی آواز کے نمونے دینے پر پاکستان رضامندی ہوگیا ہے۔ ادھر پاکستان سرکار کے وکیل نے یہ کہتے ہوئے اس کی تردید کردی کہ ایسے نمونے دینے پر عدالتی روک لگی ہے۔پاکستان نے ممبئی بم کانڈ کے سازشی اور بھارت میں مطلوب دہشت گرد ذکی الرحمان لکھوی کے اشو پر جس طرح سے رخ بدلہ ہے وہ آتنک واد کے اشو پر اس کا دوہرا چہرہ کو ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے۔ اوفا میں دونوں وزرائے اعظم کے مشترکہ بیان میں دونوں لیڈروں نے نہ صرف دہشت گردی کی سبھی شکلوں کی نکتہ چینی کی تھی بلکہ امن اور استحکام قائم کرنے کے لئے اس سے نمٹنے کی سانجھہ ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ اتنا ہی نہیں یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ ممبئی کانڈ کی سماعت تیز کرنے اور ملزمان کی آواز کے نمونے دینے پر بھی رضامندی جتائی تھی لیکن محض تین دن کے بعدہی پاکستان کی طرف سے جو بیان بازی ہورہی ہے اس سے اس کے قول اور فعل کے فرق کو صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔بچی کچی کسر قومی مشیر سرتاج عزیز کے بیان سے پوری ہوگئی ہے۔ یہ بلا وجہ نہیں ہے کہ ٹھیک اسی وقت پاکستانی ہائی کمشنر کے ذریعے عید کے بہانے کشمیری علیحدگی پسندوں کے مدعو کئے جانے کی خبر آئی ہے۔ اس سے پہلے بھی پچھلے سال دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹریوں کی مجوزہ بات چیت سے عین پہلے بھی پاک ہائی کمشنر نے حریت نیتاؤں کو مدعو کرکے بھڑکانے والا کام کیا تھا۔ یہ تمام بیان اچھے ارادے کے اشارے نہیں مانے جاسکتے۔ اب یہ بھارت کو طے کرنا ہے کہ وہ کتنا تحمل دکھاتا ہے ۔ کشمیر کو زبردستی اشو بنانے کی مجبوری پاک سرکار کی ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے پاک حکومت پاک فوج کے ہاتھوں میں محض ایک کٹھ پتلی ہے جسے جب فوج چاہے گھما سکتی ہے لیکن اس سے سچائی تو نہیں بدل جائے گی۔حقیقت تو یہ ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ان جہادی آتنک وادی گروپوں کو ہر طرح کی مدد کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ جب تک پاک سرزمیں پرماحول نہیں بدلتا تب تک امن کی بات کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ کیوں ہم بار بار امن مذاکرات کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

ہندوستانی ٹینس کی تاریخی جیت پر مبارکباد

ہندوستانی کھلاڑیوں نے ٹینس کے مکہ میں خطاب جیت کر اس بار ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ میں تاریخ رقم کردی ہے۔ اس تاریخی کارنامے کا آغاز سنیچر کی دیررات ثانیہ مرزا نے سوئس جوڑی دارمارٹیناہنس کے ساتھ مل کر مہلا ڈبلز خطاب جیتنے سے کی۔اس کے بعد ایتوار کو ہریانہ کے سمت ناگل نے بوائز ڈبلز گروپ اور پھر لینڈرس پیز اور مارٹینا ہنس کی جوڑی نے مکس ڈبلز کا خطاب جیت کر ہندوستانی ٹینس نے ایک یادگار کارنامہ انجام دیا ہے۔ ثانیہ مرزا کی جیت اس لئے بھی تاریخی مانی جائے گی کیونکہ وہ ومبلڈن میں خطاب جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون کھلاڑی بھی بن گئی ہیں۔ہریانہ کے جھجھر ضلع کے جیتاپور گاؤں کے 18 سالہ سمت ناگل کا یہ پہلا گرینڈ سلیم خطاب ہے۔ مہیش بھوپتی کی سرپرستی میں اپنا ٹیلنٹ تلاشنے والے سمت جونیئر سطرح پر گرینڈ سلیم خطاب جیتنے والے پہلے ہندوستانی ہیں۔ اس کے بعد لوگوں کے ہردلعزیز لینڈرپیس اور مارٹینا ہنس کی جوڑی کے مقابلے کابیتابی سے انتظار تھا۔ ساتویں سنگل پیس ہنس نے بھی فائنل میں آسٹریلیا کے الیگزینڈر پیما اور ہنگری کی کیمیا کی ببوس کی پانچویں سنگل جوڑی کوسیدھے سیٹوں میں آسانی سے 6-1 ،6-1 ، سے ہرا کر بھارت کو اس اہم ٹورنامنٹ میں تیسرا خطاب جتایا۔ 42 سالہ لینڈرپیس کا یہ آل انگلینڈ کلب پر چوتھا جبکہ کیریئر کا 16 واں گرینڈ سلیم خطاب ہے۔ بھارت کے رام ناتھن کرشنن نے 1954 میں ومبلڈن چمپئن شپ میں جونیئر سنگل گروپ کا خطاب جیتا تھا۔ لینڈر پیس نے 1990 ء میں ومبلڈن اور 1991 میں یو ایس اوپن میں جونیئر سنگل کا خطاب اپنے نام کیا تھا۔ بوائز ڈبل مقابلے کا خطاب اپنے نام کیا تھا۔ ثانیہ مرزا کو چاروں طرف سے مبارکبادیں مل رہی ہیں۔ صدر پرنب مکھرجی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ثانیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کیا : ’ثانیہ مرزا اور مارٹینا ہنس کو ومبلڈن جیتنے پر دلی مبارکباد۔ ثانیہ مرزا کا یہ کارنامہ ہندوستانی نوجوانوں کو تلقین دے گا۔ وسطی ایشیا کے دورے پر گئے وزیر اعظم نے ٹوئٹ کیا ’مارٹینا ہنس اور ثانیہ مرزا بہترین ٹینس کھیل کر ومبلڈن میں شاندار جیت درج کی ہے ،ہمیں تم پر فخر ہے اور ہم بہت خوش ہیں۔‘ ثانیہ کی شادی پاک کرکٹ شعیب ملک سے ہوئی ہے۔ ٹوئٹ پر کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقعہ ہے جب دونوں دیش ایک ساتھ خوشی منا رہے ہیں کیونکہ ثانیہ بھارت کی بیٹی ہیں اور پاکستان کی بہو۔ بھابھی ہم آپ کو پیار کرتے ہیں ثانیہ کے شوہر اور شعیب ملک نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ہے’ مجھے اس پر فخر ہے اور پختہ عزم، ڈسپلن ، فوکس اور بڑے خوابوں سے ایتھلیٹ بنتے ہیں۔ وہیں پاکستان کے عمر نے لکھا ہے: بھابی یہ بھارت کے بارے میں نہیں ہے یہ ہماری بھابھی کے بارے میں ہے۔ بھابھی آپ جہاں بھی ہو آگے بڑھتی رہو۔ ہم پاکستان آپ کو پیار کرتے ہیں اور ہمیں آپ پر فخر ہے۔‘
(انل نریندر)

15 جولائی 2015

ان سیاسی پارٹیوں کو شفافیت سے پرہیز کیوں

سیاسی پارٹیوں کو عوام کو جوابدہ مان رہے آرٹی آئی یعنی اطلاعات حق قانون کے دائرے میں لانے کا مطالبہ پچھلے کئی برسوں سے اٹھ رہا ہے مگر پارٹیاں اسے ماننے پر راضی نہیں ہیں۔ اب سپریم کورٹ نے بھاجپا کانگریس سمیت 6 سیاسی پارٹیوں کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ انہیں کیوں نہیں آر ٹی آئی کے دائرے میں لایا جائے؟ ان پارٹیوں کو اس مسئلے پر اپنا جواب داخل کرنے کے لئے 6 ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ غیر سرکاری انجمن ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارم نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے مانگ کی ہے کہ وہ سبھی قومی اور علاقائی پارٹیوں کے لئے اپنی آمدنی کے بارے میں مفصل جانکاری کا انکشاف کرنے کو ضروری بنائیں اس میں 20 ہزار روپے سے کم رقم کا چندہ بھی شامل ہے۔ اب تک 20 ہزار روپے سے کم چندہ دینے والوں کا نام بتانا ضروری نہیں ہے اس لئے سیاسی پارٹی بڑی رقم کو چھوٹی چھوٹی رقوم میں بانٹ کر درج کر لیتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ چناؤ کمیشن کے قانون سے بچنے کا دروازہ ہے جس کا فائدہ سبھی پارٹیاں اٹھاتی رہی ہیں۔ سینٹر انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) نے جون2003 ء میں فیصلہ دیا تھا کہ سیاسی پارٹیاں کھلے طور پر پبلک اتھارٹی کی تشریح کے دائرے میں آتی ہیں اس لئے انہیں آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی اطلاعات دینی ہوں گی۔ مگر سیاسی پارٹیوں نے اس فیصلے کو نظرانداز کیا۔سی آئی سی ایک نیم جوڈیشیل ادارہ ہے۔
آخرکار وہ نوٹس بھیجنے کے علاوہ پارٹیوں کے خلاف کوئی قدم اٹھانے میں کمزور تھا اس لئے پارٹیاں اسے سنجیدگی سے نہیں لیتیں لیکن اب یہ سوال دیش کی سپریم عدالت نے پوچھا ہے ظاہر ہے کہ اب پارٹیاں اس سوال کو نظر انداز نہیں کرسکتیں۔ ان کی یہ دلیل رہی ہے کہ آر ٹی آئی ایکٹ پاس کرتے وقت پارلیمنٹ نے سیاسی پارٹیوں کو اس کے ماتحت نہ رکھنے کا فیصلہ لیا تھا اور آئین تشکیل سازیہ کا یہ ضمیر کا حق ہے اس لئے کسی قانون کی وہیں تک حد ہوسکتی ہے جہاں تک پارلیمنٹ اسے طے کرتی ہے۔ مگر اب چیف جسٹس سپریم کورٹ ایم ایل دوت، جسٹس روپا کمار مشر اور جسٹس امیتابھ راؤ کی بنچ کے سامنے وہ عرضی ہے جس میں سیاسی پارٹیوں کو یہ ہدایت دینے کی گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنے سارے چندے کے ذرائع بتائیں۔بہتر ہوگا کہ تمام سیاسی پارٹیاں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے حکم کا احترام کریں۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ عدالتی نوٹس کے جواب میں خود کو آر ٹی آئی کے تحت لانے کا اعلان کردیں۔ دیر سویر تو انہیں ایسا کرنا ہی پڑے گا۔
(انل نریندر)

داغی ممبران اسمبلی نے کی عام آدمی پارٹی ساکھ خراب

دہلی کے سابق وزیر قانون جتندر سنگھ تومر کے بعد اب آپ کے ایک اور ممبر اسمبلی کو جعلسازی کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ کونڈلی سے ممبر اسمبلی منیش کمار پر ایک پلاٹ کے فرضی کاغذات بنا کر اس کا سودا کر 6 لاکھ روپے کا بیعانہ لینے کا الزام ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق منوج نے باقاعدہ ایگریمنٹ کر 2012 میں ان سے روپے لئے تھے۔ متاثرہ کی شکایت پر نیو اشوک نگر تھانہ پولیس نے مئی2014ء میں جعلسازی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ گزشتہ جمعرات کو پولیس اسی معاملے میں ایک کاغذ پر دستخط کرنے کے بہانے بلا کر انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔ وہاں کچھ دیر پوچھ تاچھ کرنے کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد کڑکڑ ڈوما کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں انہیں پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔ پولیس افسران نے بتایا کہ گرفتاری کے فوراً بعد اسمبلی اسپیکر رام نواس گوئل کو فیکس بھیج کر معاملے کی جانکاری دی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق منوج نے سال 2012ء میں تھڑولی گاؤں کے 46 گز کے ایک پلاٹ پر فرضی ایگزیمنٹ بنا کر وجے کمار کے نام کے ایک شخص سے 21.60 لاکھ روپے کا سودا کیا تھا۔ انہوں نے نیو اشوک نگر کے باشندے وجے کمار سے بطور بیعانہ 6 لاکھ روپے لئے تھے۔ 
گرفتار منوج کمار کے خلاف جعلسازی کے تین اور معاملے درج ہیں اس میں مار پیٹ کرنا، دھمکی دینا، چھیڑ چھاڑ، سرکاری کام کاج میں رکاوٹ ڈالنا شامل ہے۔ منوج کمار کی گرفتاری کے بعد عام آدمی پارٹی کے کئی اور ممبر اسمبلی پر دہلی پولیس شکنجہ کسنے کی تیاری میں ہے۔
ان میں پہلا نام ماڈل ٹاؤن کی ممبر اسمبلی اکھلیش پتی ترپاٹھی بتائے جارہے ہیں۔ پولیس نے ان کے خلاف دنگا بھڑکانے سمیت کئی معاملوں میں آنے والے دنوں میں روہنی کی عدالت جسٹس راجندرکمار کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ آپ حمایتیوں کا کہنا تھا کہ ویاپم گھوٹالے سے توجہ ہٹانے کے لئے آپ پارٹی کے ممبران اسمبلی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 
حالانکہ آپ کے ترجمان نے کہا کہ اگر منوج صحیح ہے تو پارٹی انہیں وکیل مہیا کرائے گی اگر وہ قصوروار ہے تو اس کے بچاؤ میں نہیں آئے گی۔آپ کے 21 ممبران اسمبلی پر پولیس کی نظر ہے ان معاملوں سے آپ پارٹی کی ساکھ بری طرح خراب ہورہی ہے۔ ان داغی ممبران اسمبلی کی موجودگی سے کیسے اروند کیجریوال کرپشن سے پاک ، صاف ستھرا انتظامیہ دینے کا دعوی کر سکتے ہیں۔ ان داغیوں نے بھی آپ پارٹی کے حق میں بنے ماحول کا پورا فائدہ اٹھایا اور پارٹی اعلی کمان نے بھی یہ نہیں دیکھا کہ ان لوگوں کا بیک گراؤنڈ کیا ہے، ساکھ کیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ پارٹی اور سرکار کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

14 جولائی 2015

بچے سے بھاری بستہ

بہت ساری کتابوں ، کاپیوں کا بوجھ لے کر روز اسکول جانے والے بچوں کی مجبوری کو لیکر کافی عرصے سے تشویش جتائی جارہی ہے۔ میں نے اسی کالم میں ایک آرٹیکل لکھا تھا ’’بچے سے بھاری بستہ‘‘ ایسی کئی اسٹڈی آچکی ہیں جو بتاتے ہیں کہ بستے کے بوجھ کے چلتے بچوں میں پڑھنے کے تئیں بے توجیہی اور پابندی میں کمی یا چڑ چڑا پن جیسی ذہنی پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بستے کا بوجھ گھٹانے کے لئے حالانکہ کئی بار کوششیں بھی ہوئی ہیں لیکن کوئی پالیسی ساز کوشش ابھی تک نظر نہیں آئی ہے۔ بستے کے بوجھ کے بارے میں شاید پہلی بار کسی سرکاری کمیٹی نے غور کیا ہے۔ 
مہاراشٹر حکومت نے یہ پہل کی ہے۔ دیش کے قریب58 فیصدی اسکولی بچے بستے کے بھاری بھرکم بوجھ کے سبب بیماری کا شکار ہورہے ہیں،مہاراشٹر سرکار کی رپورٹ نے یہ انکشاف کیا ہے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں روزانہ کتابوں کا وزن ڈھونے کی وجہ سے بچوں کی صحت پر پڑنے والا اثر سبھی کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ اس کے مطابق کم عمر کے بچوں میں سے 58 فیصد اپنے بچے کے بوجھ کے سبب ہڈیوں میں کمزوری آنے سمیت کئی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ ان کے پھیپھڑوں پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ اس سلسلے میں معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس نے طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی بچوں کو ٹرالی بیگ لیکر اسکول جانا پڑے گا کیونکہ فی الحال وہ اپنی پیٹھ پرجتنا بھاری بستہ لاد کر اسکول جارہے ہیں وہ ناکافی ثابت ہورہا ہے۔ معاملے کی سماعت کررہی بنچ کے جسٹس بی پی کولا بوالا نے بھی کہا کہ اسکولوں میں بچوں کو روز سبھی مضمون پڑھائے جاتے ہیں اس لئے انہیں روز سبھی کاپی کتابیں پڑھانی پڑتی ہیں۔ ایسے ٹائم ٹیبل میں تبدیلی ہونی چاہئے۔ سرکار نے سماعت کے دوران کہا کہ بچوں کو بستے کے بوجھ سے نجات دلانے کے لئے سرکار اسکولوں میں ہی لاکر بنانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ اس پر بینچ کے دوسرے جسٹس وی ایم کناڈے نے کہا ایسے تو بچوں کے والدین کو دو دو سیٹ کاپیاں کتابیں خریدنی پڑیں گی۔ ایک سیٹ پاس رکھنے کے لئے اور دوسرا اسکول کے لئے کیونکہ بچوں کو بہت زیادہ ہوم ورک دیا جاتا ہے۔ 
کورٹ میں تجاویز پیش کی گئیں کہ سرکار کواسکولی بیگ کا بوجھ کم کرنے کے لئے ای کلاس روم اور آڈیو۔ ویجول تکنیک کا استعمال کریں۔ اس پر کورٹ نے کہا یہ تجویز اچھی ہے۔ اس پر جلدی سے جلدی عمل ہونا چاہئے۔ اگلی سماعت 23 جولائی کو ہے تب سرکار بتائے گی کہ وہ کیا کرے گی۔ ہم امید کرتے ہیں مہاراشٹر سرکار اس سلسلے میں ٹھوس قدم اٹھائے گی اور پھر دیگر ریاستی سرکاریں بھی اسی طرز پر مسئلے کا کوئی حل نکالیں گی۔
(انل نریندر)

سبھی زیر سماعت قیدی تہاڑ سے ضمانت پر رہا ہوں

دہلی سرکار نے جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں تہاڑ جیل میں بند ہزاروں قیدیوں کو انسانی حقوق کی پرزور وکالت کی ہے۔ دہلی حکومت نے ہائی کورٹ سے گھناؤنے جرائم کو چھوڑ کر دیگر جرائم میں 6 ماہ سے زیادہ وقت سے جیل میں بند زیر سماعت قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست کی ہے۔ چیف جسٹس جی ۔روہنی اور جسٹس جینت ناتھ کی بنچ کے سامنے سرکار کی طرف سے سرکاری وکیل راہل مہرہ نے کہا کہ فوری انصاف قیدیوں کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم زیر سماعت قیدیوں کے خلاف درج مقدمات کا جلد نپٹارہ نہیں کرسکتے تو لمبے عرصے تک جیل میں بند رکھنا ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مہرہ نے تہاڑ جیل میں بند خاتون قیدیوں کی صورتحال کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بنچ سے درخواست کی کہ جوڈیشیل سسٹم میں کمیوں کی وجہ سے زیر سماعت قیدیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔تہاڑ جیل میں خاتون قیدیوں کی قابل رحم حالت کو لیکر سپریم کورٹ کے جج جسٹس کورین جوزف نے بھی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا۔ ہائی کورٹ نے بدھوار کو اسی خط پر نوٹس لیتے ہوئے سرکار سے جواب مانگا تھا۔ جسٹس جوزف نے جیل میں 612 خاتون قیدیوں کی قابل رحم حالت کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے اس معاملے میں مناسب کارروائی کرنے کوکہا تھا۔ ہم دہلی سرکار اور جسٹس جوزف کی بات سے متفق ہیں۔ ویسے بھی تہاڑ جیل کا برا حال ہے۔ جج صاحب جیل کی کوٹھہری میں سونے تک کی جگہ نہیں ہے۔ جیل میں تعداد سے کہیں زیادہ خاتون قیدی ہیں۔ گرمی کے چلتے ان کے ساتھ رہنے والے چھوٹے چھوٹے بچے ساری رات روتے بلکتے رہتے ہیں، صاحب ہزاری مدد کیجئے نا، ہمیں انصاف دلائیں۔ تہاڑ جیل میں سزا یافتہ اور زیر سماعت612 خاتون قیدیوں نے سپریم کورٹ کے جج کورین جوزف کو خط لکھ کر یہ درخواست کی ہے۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ کئی خاتون قیدیوں کی ضمانت ہوچکی ہے لیکن طے شرائط کو پورا نہ کرنے کے سبب وہ رہا نہیں ہو رپا رہی ہیں۔ چھوٹے بچے بغیر جرم کے ماں کے ساتھ جیل میں رہنے کو مجبور ہیں۔ 
سپریم کورٹ کے جج کولکھے خط میں تہاڑ جیل نمبر6 میں بند خاتون قیدیوں نے کہا ہے کہ جیل میں صرف 400 قیدیوں کو رکھنے کی سہولت ہے لیکن یہاں600 سے زیادہ خاتون قیدی اور ان کے قریب40 بچے رہ رہے ہیں۔ جیل میں 234 سزا یافتہ اور 412 زیر سماعت خاتون قیدی ہیں۔ان میں 27 غیر ملکی خاتون قیدی ہیں۔ قاعدے کے مطابق 6برس سے زیادہ عمر کے بچے کو ماں کے ساتھ جیل میں نہیں رکھا جاسکتا لیکن کئی بچوں کی عمر کافی زیادہ ہوگئی ہے۔ بچوں کو جیل میں خطرناک خاتون قیدیوں کے ساتھ رکھا جارہا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ہائی کورٹ جلد سے جلد ان کی سماعت کرکے انصاف دلائے گی اور جیل سے انہیں رہا کرے گی۔
(انل نریندر)

12 جولائی 2015

نتیش اور لالو کو تگڑا جھٹکا

بہار ودھان پریشد کی 24 سیٹوں کے چناؤ میں برسر اقتدار جدیو ۔ راجد ۔ کانگریس مہا گٹھ بندھن کو تگڑا جھٹکا لگا ہے۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے سہیوگیوں کا اتساہ بڑھنا قدرتی ہے۔ اس چناؤ میں152 امیدواروں کا سیاسی مستقبل داؤ پر تھا۔ ودھان پریشد کا لوک باڈی کوٹے کی 24 سیٹوں کیلئے 7 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ گوپال گنج میں سب سے کم 2 امیدوار چناؤ میدان میں تھے جبکہ سہرسہ میں سب سے زیادہ 14 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے تھے۔ اس چناؤ میں بھاجپا گٹھ بندھن سے مقابلے میں نتیش کمار ، لالو پرساد، کانگریس، راشٹریہ کانگریس پارٹی نے مہا گٹھ بندھن بنا کر چناؤ لڑا۔ بھاجپا اکیلے دم پر جے ڈی یو مہا گٹھ بندھن پر بھاری پڑی۔ این ڈی اے نے 14 جبکہ جے ڈی یو گٹھ بندھن نے8 سیٹیں جیتی ہیں۔ اس میں سے بھاجپا کو 12، ایل جے پی و آر ایس پی کو1-1 سیٹ ملی ہے جبکہ دیگر کو2 سیٹیں ملی ہیں۔ بہار ودھان سبھا چناؤ کا سیمی فائنل مانے جارہے اس چناؤ میں جیت سے بھاجپا کے حوصلے بلند ہیں۔ بھاجپا ترجمان شاہنواز حسین نے کہا کہ بہار میں بھاجپا ودھان سبھا چناؤ بھی جیتے گی۔ نتیش اور لالو کتنا بھی بڑا مہا گٹھ بندھن بنا لیں بہار کی جنتا نے انہیں نکار دیا ہے۔ ان نتائج سے یہ بھی صاف نظر آرہا ہے کہ کانگریس پر جے ڈی یو۔ آر جے ڈی گٹھ بندھن کتنا ہی مضبوط ہو بھاجپا کچھ معاملوں میں اس سے زیادہ بہتر حالت میں ہے۔ ودھان سبھا چناؤ سے ٹھیک پہلے ان نتیجوں سے راجیہ کے ووٹروں کو ایک پیغام تو گیا ہی ہے کیونکہ ان چناؤ کو سیمی فائنل کہا جارہا تھا۔ پردھان منتری نریندر مودی جب بہار میں مہم کی شروعات کریں گے تو ان کے سامنے اس جیت سے اتساہت بھاجپا کاریہ کرتا ہوں گے۔ ان نتائج نے نتیش ۔ لالو گٹھ بندھن کی پول کھول دی ہے، ہوا نکال دی ہے۔ بالائی سطح پر تو گٹھ بندھن ضرور بن گیا لیکن اس گٹھ بندھن کے بیچ زمینی سطح پر تال میل کا فقدان رہا ۔ یہ ہونا ہی تھا کیونکہ لگ بھگ 2 دہائی سے زیادہ تو یہ پارٹیاں بہار میں ایک دوسرے کے خلاف لڑتی رہی ہیں اور اس گٹھ بندھن کو بنے ہوئے بہت تھوڑا وقت ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دلوں کے کاریہ کرتاؤں میں تال میل کا فقدان نظر آگیا ہے۔ یہی نہیں ایک دوسرے کے خلاف چناؤ لڑتے رہے ہیں اب صرف نیتاؤں کے گلے ملنے سے کام نہیں چلتا۔ سالوں سے جے ڈی یو۔ آر جے ڈی ایک دوسرے کے خلاف لڑتی رہی ہیں۔ پھر بھی ودھان سبھا میں یہ بھی طے نہیں ہوپایا کہ اگلا وزیر اعلی کون ہوگا۔ بیشک لالو نے بھاری من سے نتیش کو قبول کرلیا ہولیکن اندرونی طور پرابھی بھی مخالفت چل رہی ہے۔ ان نتائج سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ بہار میں بھاجپا کا جو جن آدھار تھا وہ کافی حد تک موجود ہے اور مختلف ذاتوں کے ساتھ اس نے جو حکمت عملی بنائی تھی وہ اب بھی کارگر ہے۔ سب سے بڑا جھٹکا تو نتیش کمار کو لگا ہے انہیں جو جن سمرتھن کی امید تھی وہ نہیں ملی۔ یعنی وہ اتنے لوک پریہ نہیں ہیں جتنے وہ اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ بیشک ودھان پریشد اور ودھان سبھا چناؤ الگ الگ ہوتے ہیں، مدعے الگ الگ ہوتے ہیں اور ودھان پریشد کا اثر ودھان سبھا میں بھی پڑے ضروری نہیں ہے، لیکن پھر بھی ہوا کا تو پتہ چلتا ہے۔ نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو اگلے دو مہینے بہت محنت کرنی ہوگی۔ بھاجپا کے لئے یہ نتائج شبھ سنکیت ہیں اور پارٹی کا اتساہت ہونا فطری ہے۔
(انل نریندر)

مارکٹ میں بکتا چین کا سنتھیٹک چاول

راجدھانی میں پھل سبزیوں کو پکانے و تازہ رکھنے کے لئے کیمیکل کا استعمال ہونے کی بات کئی بار ہائی کورٹ میں اٹھ چکی ہے لیکن بدھوار کو دہلی ہائی کورٹ میں دائر ایک اپیل میں الزام لگایا گیا ہے کہ چین سے پلاسٹک سے بنے سنتھیٹک چاول درآمد کر بیوپاری اسے اصلی چاول میں ملا کر بیچ رہے ہیں۔ پہلے بھی دکشنی بھارت کے بازاروں میں پٹے پڑے چین سے لائے گئے سنتھیٹک چاول ملاوٹی نہیں پوری طرح نقلی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ چاول صحت کے لئے بیحد نقصاندہ ہیں۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جی روہنی و جسٹس جینت ناگ کی ڈویژن بنچ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اپیل کو سنوائی کے لئے منظور کرلیا ہے۔ بتا دیں کہ بدھوار کو اپیل کنندہ کے وکیل سگریو دوبے کی پھل سبزیوں میں کیمیکل کا استعمال ہونے کے سلسلے میں اپیل کی سنوائی طے تھی اس دوران اپیل کنندہ نے نئی درخواست دے کر پیٹھ کے سامنے چین سے امپورٹ ہوئے سنتھیٹک چاولوں کی جانکاری دی۔ سگریو دوبے کے مطابق پچھلے کئی سالوں سے دیش میں چین سے اصلی چاول کی جگہ نقلی سنتھیٹک چاول کا امپورٹ ہورہا ہے۔اپیل میں بتایا گیا ہے کہ چاول معیار کی جانچ کے لئے کوئی انتظام نہیں کئے گئے ہیں۔ ان کے سیمپل بھی نہیں لئے جارہے۔ چاول کے علاوہ بازار میں ہینگ، دال اور آم میں کیمیکل کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اپیل میں عدالت سے گزارش کی گئی ہے کہ سرکار کو تھوک ویاپاریوں کے یہاں چھاپہ مارنے اور وہاں سے سیمپل لینے کی ہدایت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں سے یہ دھندہ چل رہا ہے۔ عام لوگ پاسٹک والے چاول و اصلی چاول میں فرق کو پہنچان نہیں سکتے۔ یہ دیکھنے میں تو اصلی لگتا ہے مگر پچتا نہیں ہے اور اس سے گیس کا گمبھیر مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ہینگ بھی نقلی بک رہی ہے اور ٹرک میں آم بھرنے کے دوران ہی اس میں کیلشیم کاربائیڈ رکھ دیا جاتا ہے۔ 50 گرام کاربائیڈ 100 کلو آم کے لئے کافی ہوتا ہے۔ بتا دیں کہ کیا ہے یہ سنتھیٹک چاول؟ سنتھیٹک چاول دھان کے کھیتوں میں نہ اگاکر چین کی فیکٹریوں میں تیار کئے جاتے ہیں۔ چین سے لائے گئے یہ نقلی چاول، آلو ، شقرقند اور پلاسٹک یا پولیمر کے اشتراک سے بنائے جاتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ عام چاول جیسے ہی دیکھتے ہیں لیکن پکانے پر ہی کڑے رہتے ہیں اور پانی سوکھنے کے ساتھ ہی چاول کی اوپری سطح پر ایک مہین پلاسٹک کی شفاف پرت نظر آتی ہے۔ پکاتے وقت اس میں سے پلاسٹک کی بو آتی ہے۔ تھوڑا زیادہ پکانے پر یہ جلنے لگتے ہیں۔مرکزی اور ریاستی سرکاروں کو اس گمبھیر مسئلے پرفوری توجہ دینی ہوگی اور اسے روکنے کے لئے قدم اٹھانے ہوں گے۔
(انل نریندر)

How to Get Approval For Non Hosted Adsense Account




Get Fully Approved Non Hosted Adsense Publisher Account For India USA UK. At very cheap price. 

Bing 120$ Coupons for new Bing ads accounts.


Facebook Coupon 50$ For New Ads Accounts in Stock.


Web Hosting and .COM domain For One Year Only in 10$. Web Designing Services starting at 50$.

Contact Skype id speakmeme email adsenseapproval@ibibo.pw or call +91-8586875020

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...