Translater

05 جولائی 2014

جب منتری جاوڑیکر نے تاخیر سے آئے ملازمین کو چھٹی پر بھیجا!

وزیر اطلاعات و نشریات مسٹر پرکاش جاوڑیکر نے پیر کے روز اچانک اپنی وزارت میں چھاپہ مارا اوردفتر میں پایا کہ بہت سے افسران غائب ہیں۔ تاخیرسے دفتر پہنچنے والے بابوؤں کے پسینے چھوٹ گئے۔ انہیں پتہ چلا کہ حاضری رجسٹر وزیر موصوف اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ کچھ دیر بعد چپڑاسی نے انہیں چھٹی کی درخواست تھمادی اور دیکھتے ہی دیکھتے وزیر اطلاعات و نشریات مسٹر پرکاش جاوڑیکر کے کمرے کے باہر چھٹی کی درخواست لے کر کھڑے بابوؤں کی لائن لگ گئی۔ قریب200 ملازمین کو زبردستی ایک دن کی چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ دراصل جاوڑیکر صاحب مسلسل شعبہ جاتی ملازمین کو وقت پر دفترآنے کی ہدایت دے رہے تھے لیکن کسی نے ان کی نہ سنی۔ پیر کے روز وہ خود صبح9 بجے دفتر پہنچ گئے اور 9:30 بجے انہوں نے وزارت کے ہر کمرے کا معائنہ کیا اور دیکھا کہ ملازمین کی برائے نام حاضری ہے اور وہ اپنے کمرے میں پہنچے اور حاضری رجسٹر منگالیا۔ ملازمین دیر سے دفتر پہنچے تو انہیں چپڑاسیوں نے چھٹی کا فارم تھمادیا۔ یہ بھی کہا کہ اسے بھر کر منتری جی سے چھٹی لینی ہوگی۔ دیر سے آنے والے بابوؤں کو وزیر موصوف نے پہلے جھاڑ پلائی اور پھر ایک دن کی چھٹی پر بھیج دیا۔ جاوڑیکر کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ہے کام وقت پر ہو، بابو گیری کم ہو کام زیادہ اور کم از کم گورمنٹ اور زیادہ گورننس محکمے میں لاگو ہو۔ مسٹر جاوڑیکر نے200 لیٹ لطیف بابوؤں کو ایک دن کی علامتی چھٹی پر بھیج کر صحیح پیغام دیا ہے۔ پیر کو وقت سے پہلے وزارت پہنچے منتری جی جب اپنے کمرے میں جانے کے بجائے دفتروں کے چمبروں کی طرف مڑے تو انہیں 200 کرسیاں خالی پڑی ملیں۔وزیر موصوف نے خالی کرسیوں کی اپنی موبائل سے تصویریں کھینچی پھر آنے والے لیٹ لطیف بابوؤں کو اپنے پاس بھیجنے کو کہا۔ سب کو شخصی وارننگ دی گئی۔وزیر شہری ترقی وینکیا نائیڈو نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی وزارت کا اچانک معائنہ کیا تو انہیں بھی اپنی وزارت میں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے محض وارننگ دے کر سب کو سدھرنے اور اپنا رویہ بدلنے کی ہدایت دی۔ یہ حکومت بدلاؤ کو لیکر مینڈیڈ لیکر آئی ہے اور وزیر اعظم سے لیکر وزیر تک بدلے ہوئے رویئے اور محنت اور لگن اور عوام کی توقعات کی تکمیل اور انصاف کی تکمیل کے لئے 100فیصد خود کو وقف کرنے کی مثال قائم کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کیا یہ تبدیلی اکیلے وزیر اعظم اور وزرا کے بدلے جانے سے آجائے گی جبکہ ان کی وزارت میں چراغ تلے اندھیرا ہی بنا رہے۔ اس لئے وزیر اعظم نے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد بڑے محکموں کے سکریٹریوں کے ساتھ سیدھے رابطہ قائم کیا۔ بتایا جاتا ہے افسر شاہی اشاروں کو جلد ہی اپناتی ہے لیکن دو محکموں کے اچانک معائنے سے تو لگتا ہے کہ تبدیلی کا پیغام ٹھیک سے نیچے تک نہیں پہنچا ہے۔ سکریٹریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نیچے کی مشینری پر شکنجہ کسیں اور سرکار کی منشا کے مطابق 100 فیصدی ڈلیوری یقینی کریں۔ ہم پرکاش جاوڑیکر اور وینکیا نائیڈو کے اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

سنندہ پشکر کی موت کا معاملہ پھر گرمایا !

سابق مرکزی وزیر ششی تھرور کی اہلیہ سنندہ پشکر کی موت کا معاملہ ایک بار پھر گرماگیا ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سائنس یعنی ایمس کے ایک ڈاکٹر جو فورنسک شعبے کے ہیڈ بھی ہیں، ڈاکٹر گپتا نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ردو بدل کریں اور بار بار کہا جارہا تھا پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ ہی لکھا جائے سنندہ پشکر کی موت ایک دم فطری ہے اور اس میں کسی گڑ بڑی کا اندیشہ نہیں ہے۔ ایمس میں اپنے کو نظرانداز کئے جانے سے ناراض ڈاکٹر سدھیر گپتا نے کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا سنندہ پشکر کی رپورٹ بدلنے کیلئے دو طاقتور وزیر غلام نبی آزاد اور ششی تھرور رپورٹ میں سنندہ کی موت کو قدرتی دکھانا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر گپتا کے مطابق ان کے جونیئر ایک شعبہ جاتی فیکلٹی کے ممبر کو پرموشن کیا جارہا ہے تاکہ اسے شعبے کا چیف بنایا جاسکے۔ یہ فیکلٹی ممبر یوپی اے سرکار کے وقت شعبے میں مقرر ہوا ہے اس فیکلٹی ممبر کا پرموشن اس لئے نہیں ہورہا ہے کیونکہ سنندہ پشکر معاملے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ بدلنے کے دباؤ میں نہیں آئے تھے۔قابل ذکر ہے اس سال17 جنوری کو مرکزی وزیر ششی تھرور کی اہلیہ سنندہ پشکر کو جنوبی دہلی کے لیلا ہوٹل میں مشتبہ حالت میں مردہ پایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 8 بجے قریب جب ششی تھرور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی میٹنگ کے بعد ہوٹل گئے تھے تب انہیں سنندہ کی لاش کے بارے میں پتہ چلا۔ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے دعوی کیا ہے کہ سنندہ پشکر آئی پی ایل فکسنگ سے جڑے کچھ خلاصے کرنے والی تھیں اس لئے ان کو مار ڈالا گیا۔ سوامی کا مزید کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو لیکر کورٹ میں جائیں گے۔ ڈاکٹر سدھیر گپتا کے الزامات پر ایمس کے ترجمان ڈاکٹرامت گپتا نے کہا ایمس انتظامیہ پر اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ بدلنے کے لئے سدھیر گپتا پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ اگر ان پر باہر سے کوئی دباؤ تھا تو انہیں اس بارے میں اپنے ثبوت پیش کرنے چاہئیں۔ اگر ایمس کو محسوس ہوگا یا ہدایت ملے گی تو ڈاکٹر گپتا کے خلاف قاعدے کے مطابق کارروائی ہو سکتی ہے۔ دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے کہا کہ معاملے میں اگر ضرورت پڑی تو گپتا سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ ششی تھرور سے بھی پھر سے پوچھ تاچھ ہوسکتی ہے۔ نئے واقعے کے بعد تھرور نے اپنے رد عمل میں کہا کہ میری بیوی سنندہ کی تکلیف دہ موت کی جانچ جلد اور کھلے پن سے ہو تاکہ سبھی قیاس آرائیوں پر روک لگ سکے۔ عام طور پر یہ خیال بنا ہوا ہے کہ سرکار نے اثر رکھنے والے لوگ قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے کے لئے کسی بھی سطح پر کھیل کرلیتے ہیں جس طرح سے ڈاکٹر سدھیر گپتا نے الزام لگائے ہیں ایسے میں ضروری ہوگیا ہے کہ سنندہ پشکر کی موت کے معاملے کی نئے سرے سے پڑتال کرائی جائے ورنہ موت پر پردہ پڑا رہے گا۔
(انل نریندر)

04 جولائی 2014

تپس پال:صرف معافی سے کام نہیں چلے گا

مغربی بنگال کے کرشنا نگر پارلیمانی حلقے سے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر چن کر لوک سبھا پہنچے تپسپال کی اپنی سیاسی حریفوں کو دھمکانے کے دوران کی گئی خاتون مخالف رائے زنی پوری طرح سے قابل قبول نہیں بلکہ قابل مذمت ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ کوئی لیڈر اور خاص طور سے ایک ایم پی ویسی زبان کا استعمال کرسکتا ہے جیسی تپسپال نے کی ہے۔ ایم پی نے پارلیمانی تقاضوں کی تمام حدود کو پار کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ سی پی ایم کے ورکروں نے ان کے حمایتیوں کے خلاف کچھ بھی کہا تو وہ دکھا دیں گے کہ وہ سب سے بڑے رنگ باز ہیں۔ یہاں تک کہا کہ انہیں اپنے ورکروں کو بھیج کر سی پی ایم کی خاتون ورکروں کی آبروریزی کروادیں گے تاکہ انہیں سبق ملے۔ نیوز چینل پرتپس کے بیان کو دکھانے جانے پر مغربی بنگال سمیت پورے دیش میں اس کا ردعمل سامنے آیا ۔یہ فطری ہی تھا کہ ترنمول کانگریس کی سینئر لیڈر شپ اور چوطرفہ بڑھتے دباؤ کے بعد تپسپال نے اس بیان کے لئے غیر مشروط معافی مانگ لی لیکن پورا معاملہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مغربی بنگال میں تشدد کی سیاست کو بدلنے میں ممتا بنرجی ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہوں نے اپنے حریفوں کے تئیں بیہودہ الفاظ کا استعمال چناؤ کمپین میں کیا تھا کیونکہ اس طرح کی زبان تو کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے۔ اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا کہ انہوں نے ایک خط لکھ کر معافی مانگ لی ہے کیونکہ ایک توا ن کا خط صرف اپنی پارٹی کے لیڈروں کو مخاطب ہے اور دوسرے انہیں فوری معافی بھی مل گئی۔ رہی بات مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ترنمول کانگریس لیڈر ممتا بنرجی کی تو ان کا رد عمل اور بھی زیادہ چونکانے والا رہا۔ تپس کی گرفتاری کی مانگ اٹھائے جانے پر ممتا بنرجی کہتی ہیں ویسے تو تپس نے سنگین جرم کیا ہے لیکن کیا میں ان کی جان لے لوں؟ غور طلب ہے لوک سبھا چناؤ کے دوران تپسپال جو ایک بنگلہ اداکار بھی ہیں،مارکسی ورکروں کے خلاف غیرمہذب بیان دیا کہ ترنمول کے کسی بھی شخص کو ہاتھ لگایا تو لڑکے بھیج کر مارکس وادی پارٹی کے گھر میں ریپ کرادوں گا اور گولی مروادوں گا۔ بیشک مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کی پرانی تاریخ رہی ہے جس نے کانگریس لے کر مارکسوادی پارٹی کے لمبے عہد کے دوران شدت اختیار کرلی لیکن ترنمول کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد وہاں کا سیاسی طور طریقہ بالکل نہیں بدلا ،بلکہ ترنمول نے بغاوت کی سیاست کو ہی آگے بڑھایا۔ اگر بد زبان لیڈروں کو اتنی آسانی سے معافی مل جائے گی تو پھر اس میں شبہ ہے کہ ان کے جیسے لیڈروں کو کوئی سبق سکھایا جاسکتا ہے۔ تپسپال نے جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں وہ قانونی کارروائی کی مانگ کرتے ہیں۔ ممتا بنرجی کو اس کا احساس ہونا چاہئے کہ تمام سیاسی کامیابیوں کے باوجود ترنمول کانگریس کی ساکھ ایک ایسی پارٹی کی بنتی جارہی ہے جس کے لیڈر بے لگام ہونے کے ساتھ ساتھ تشدد میں بھی یقین رکھتے ہیں۔ترنمول کانگریس نے خود کو پال کے اس بیان سے الگ رکھا ہے لیکن اسے ان کی معافی کو ناکافی مان کر رفع دفع نہیں کرنا چاہئے بلکہ ترنمول کو ان کے خلاف سخت کارروائی کر ایک نئے شروعات کرنی چاہئے۔ صرف معافی سے کام نہیں چلے گا۔
(انل نریندر)

لشکر طیبہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے فراق میں !

پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ اور اس کی ساتھی تنظیم جماعت الدعوی 2008ء میں ممبئی حملے کے بعد تیزی سے طاقت بن کر ابھری ہے۔ اب یہ تنظیم نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ دعوی کیا ہے امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی نژاد مصنف عارف جمال نے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’کالس فار ٹرانس نیشنل جہاد‘‘لشکر طیبہ کے بارے کتاب میں لکھا گیا ہے یہ سبھی جانتے ہیں کہ جماعت الدعوی ہوائی اور سمندری طاقت حاصل کررہی ہے لیکن کم لوگوں کو معلوم ہے یہ انتہا پسند تنظیم اجتماعی تباہی والے ہتھیار وں پر بھی قبضہ جمانا چاہتی ہے۔ جماعت الدعوی جانتی ہے کہ پاکستان کے خلاف جاکر وہ نیوکلیائی تکنیک نہیں حاصل کرسکتی۔ 260 صفحات سے زیادہ کی اس کتاب میں جمال نے لکھا ہے کہ جماعت الدعوی ٹھنڈے دماغ سے اور بیحد خطرناک طریقے سے اپنی اسکیموں پر کام کررہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ہمارے نظریئے سے پہلے ہی نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرلے۔ مصنف نے نتیجہ نکالا ہے پاک سرکار لشکر طیبہ، جماعت الدعوی یا اس کے سرغنہ حافظ سعید کے خلاف شاید ہی کوئی کارروائی کرے کیونکہ فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا مقصد ہے جنگ سے بچتے ہوئے بھارت کو نقصان پہنچانا۔ جمال نے اپنی کتاب میں صاف لکھا ہے کیونکہ امن کے دور کے دوران پاکستانی فوج نے جہادی تنظیموں کا بھارت اور افغانستان کے خلاف استعمال کیا ہے اور پچھلے ہفتے ہی امریکہ نے جماعت الدعوی کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ اب امریکہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی جماعت کی سبھی املاک کو ضبط کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی امریکہ آتنکی تنظیم کی اقتصادی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا سکتا ہے۔ جمال نے اپنی کتاب میں مزید لکھا ہے کہ مغربی دیش بھی پوری طرح سے نہیں چاہ رہے ہیں کہ پاکستان جماعت الدعوی کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔ ایسے میں پاکستان بھی اس پر زیادہ سنجیدہ نہیں دکھائی پڑ رہا ہے۔ ویسے بھی پاکستانی فوج نے ہی پہلے کشمیر اور پھر افغانستان میں جہاد کیلئے دہشت گرد تنظیموں کو کھڑا کیا ہے۔
پانچ سال سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی پاکستان نے ممبئی حملے کے قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ لشکر کے کمانڈروں کے خلاف شرمناک سماعت سے صاف ہے کہ پاکستان کا اردہ جہادیوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نومبر2008ء میں ہوئے آتنکی حملے کا ماسٹر مائنڈ کوئی اور نہیں جماعت الدعوی کا چیف حافظ سعید ہے۔ حملے میں اس کے رول کو لیکر بھارت۔ پاکستان کو ثبوت دے چکا ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی اب تک نہیں ہوئی۔ وہ آج بھی پاکستان میں کھلے عام گھومتا ہے اور بھارت کے خلاف زہر اگلتا ہے۔ بھارت ہی نہیں پوری دنیا کے لئے یہ نہایت خطرناک پوزیشن ہوگی اگر لشکر طیبہ کے ہاتھ نیوکلیائی ہتھیار لگ جائیں۔
(انل نریندر)

03 جولائی 2014

دہشت کا نیا چہرہ خلیفہ ابو برق البغدادی!

عراق اور شام کے بڑے جغرافیائی حصے پر قبضہ جما چکے سنی دہشت گردوں اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ لیوینٹ (آئی ایس آئی ایل) نے خودکو ایک نئی اقتداروالی اسلامی ریاست اعلان کرتے ہوئے اپنے سرغنہ ابو برق البغدادی کو خلیفہ کا درجہ دے کر دنیا بھر کے جہادیوں اور مسلمانوں میں ان پرایمان لانے کوکہا ہے۔ جہادیوں نے اپنی ویب سائٹ پر یہ پیغام جاری کیا ہے۔ایک مسلح طاقت اچانک شام اور عراق کی سرحد سے ابھرتی ہے اور مہینے بھر سے بھی کم وقت میں شام کے ایک حصے پر اپنے قبضے کا اعلان کرتے ہوئے عراق کے شہر پرقابض ہوتی چلی جاتی ہے۔جب تک لوگ اس کے نام کا مطلب سمجھ پائیں تب تک اس کے بربریت آمیز کارناموں کی ویڈیو پوری دنیا میں چھا چکے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ایک ویڈیو میں اپنے قبضے والے علاقے کو اسلامی ملک (خلافت) بتاتے ہوئے وہ اپنے سربراہ ابو برق البغدادی کو نہ صرف اس علاقے کا بلکہ پورے اسلام کا سیاسی اور مذہبی پیشوا (خلیفہ) اعلان کردیتی ہے۔ کچھ برس پہلے تک محض دو ڈھائی ہزارافراد والی آئی ایس آئی ایل کے اس اعلان سے بھلے ہی اس کے پروپگنڈے کا ہتھکنڈہ کہہ کر مسترد کردیا جائے مگر اسلامی دنیا میں ہورہی اس افراتفری کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ حالانکہ القاعدہ سے الگ ہوئے گروپ سے تیار کی گئی آئی ایس آئی ایل کے تشددپر مبنی طریقے بتاتے ہیں کہ اس ناپاک تنظیم کے ارادے کچھ اور ہی ہیں وہ دنیا کو90 برس پہلے ایک مختارریاست کے زوال سے پہلے کے اس دور میں لے جانا چاہتی ہے جب برطانیہ ،فرانس جیسی بڑی طاقتوں نے جغرافیائی حدود نہیں متعین کی تھیں۔ بیشک یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ تشدد میں یقین رکھنے والی اس تنظیم کو اسلامی دنیا کی کتنی حمایت حاصل ہے مگر اس کی یہ حرکت امریکہ اور مغربی ملکوں کی ناکامی کی بھی لائن کھینچتی ہے۔ امریکہ نے ڈکٹیٹر صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل کرنے اور جمہوریت کی بحالی کے لئے عراق پر قبضہ کرلیاتھا مگر جس طرح سے اس نے عدم استحکام کے درمیان اپنی فوج وہاں سے واپس بلا لی اس سے وہاں کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔
امریکہ نے گہرے بحران کی صورت میں جس طرح سے اپنی فوج کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھا وہ کسی غیر معمولی تباہی کو دعوت دینے جیسا تھا۔ آج حالات یہ ہوگئے ہیں کہ وہاں کی سنی حکومت بغداد اور اس کے آس پاس تک سمٹ کر رہ گئی ہے اور تیل کے سہارے معیشت چلانے والا یہ دیش کرد، سنی اور شیعہ اکثریتی علاقوں میں تین ٹکڑوں میں بٹنے کو تیار ہے۔ اگر وہاں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری جلدی سے جلدی مداخلت نہیں کرتی تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ آئی ایس آئی ایل صرف عراق اور شام کے لئے خطرہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک ایسا خطرہ ہے جو کچھ معنوں میں القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ رمضان المبارک کے موقعے پر پورے سماج اور خاص کر مسلم فرقے کے سبھی اصلاح پسندوں کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ اس مقصد مذہب کو وہ ایسی پتھر ذہن رکھنے والی طاقتوں کے ہاتھوں داغدار نہیں ہونے دیں گے۔
(انل نریندر)

دو روپے کے جھگڑے میں داروغہ نے کیا طلبہ کا انکاؤنٹر!

محض دو روپے کے لئے ٹیلی فون بل کے تنازعے میں 12 سال پہلے بہار پولیس نے ڈکیٹ بتا کر تین طالبعلموں کو فرضی مڈ بھیڑ میں مار دیا تھا۔ گذشتہ منگل کو سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ نے پٹنہ کے ایک تھانہ انچارج کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ ایک سپاہی اور چھ تاجروں کو تاحیات عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ پٹنہ کے اپر ضلع و سیشن جج روی شنکر سنہا نے واقعہ کوایک ہی سنگین نوعیت کا معاملہ مانا ہے۔ پردیش میں پہلی بار فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں ملزم تھانہ انچارج شمس عالم کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ معاملہ28 دسمبر2002ء کا ہے۔ وکاس رنجن، پرشانت اور ہمانشو فون کرنے کے لئے آشیانہ نگر کے پاس ایک مارکیٹ میں گئے تھے۔ یہاں ایس ٹی ڈی بوتھ چلانے والے کملیش نے ان سے دو روپے زیادہ لے لئے اس پر ان کا جھگڑا ہوگیا۔ کملیش نے دیگر دوکانداروں کے ساتھ مل کر تین طالبعلموں کی جم کر پٹائی کی۔ اس کے بعد دوکانوں کے شٹر گراکر شاستری نگر تھانہ پولیس کو خبردی گئی۔ یہ واقعہ شام 4 بجے کا تھا۔ پولیس نے ہارڈ ویئر انجینئرنگ کے طالبعلم وکاس رنجن یادو اور آر پی ایس کالج کے طالبعلم پرشانت سنگھ اور ذاکر حسین بی ایس سی فرسٹ ایئر کے طالبعلم ہمانشو یادو کو خطرناک مجرم بتاتے ہوئے داروغہ نے تاجروں کے ساتھ ملی بھگت کر تینوں زخمی طالبعلموں کو فرضی مڈ بھیڑ میں مار ڈالا تھا۔ داروغہ شمس عالم نے تینوں طالبعلموں کو اپنی سرکاری ریوالور سے قریب سے گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا۔ داروغہ نے اس واقعہ کو ذاتی فائدے اور انعام پانے کے لالچ میں انجام دیا تھا۔ داروغہ ان طالبعلموں کو علاج کے لئے ہسپتال نہیں لے گئے۔ایڈیشنل اپر ضلع و سیشن جج روی شنکر سنگھ فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے یہ ریمارکس دئے جج نے کہا داروغہ نے فرضی طریقے سے طالبعلموں کے پاس سے دو دیسی پستول اور گولی برآمدگی دکھائی۔ داروغہ کی ہدایت پر کراس موبائل کے سپاہی ارون کمار سنگھ نے وار لیس پر خبر دی تھی کہ تین خطرناک بدمعاش فون بوتھ میں ڈکیتی کرنے کے دوران انکاؤنٹر میں مارے گئے۔
موت کی سزا کی تصدیق کے لئے عدالت معاملے کو ہائی کورٹ بھیجے گی اس کے بعد ریاستی سرکار کی طرف سے سزا پر مہر لگانے کے لئے سرکاری اپیل کرے گی۔ عدالت نے قصوروار داروغہ و سپاہی پر 60-60 ہزار اور چھ دوکانداروں پر15-15 ہزار روپے کا جرمانہ بھی ٹھونکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جرمانے کی رقم واردات میں مارے گئے تینوں طالبعلموں کے خاندانوں کو دی جائے گی۔ اگر قصوروار جرمانہ نہیں دیتے تو انہیں ایک دو ماہ قید کی سزا مزید بھگتنی پڑے گی۔ اس سے پہلے بسر جیل میں بند شمس عالم اور دیگر ملزموں کو سزا سنانے کے لئے عدالت میں 12 بجے سخت حفاظت میں پیش کیا گیا۔ داروغہ سمیت تمام8 ملزمان فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائرکرسکتے ہیں۔ دن کے 12 بجتے ہی قصورواروں کو سخت چوکسی میں عدالت میں لایا گیا۔ کٹہرے میں 26 منٹ تک سبھی کھڑے رہے۔12-22 منٹ پر جج نے سزا سنائی شروع کی۔ مجرم خاموش تھے شاید سوچ رہے ہوں گے کہ انہوں نے یہ کیا کیا؟
(انل نریندر)

02 جولائی 2014

کانگریس کا پنتھ سیکولرازم ؟

عام چناؤ میں پارٹی کی ہار کے اسباب کی جانچ کے لئے کانگریس کی تشکیل کمیٹی کے چیئرمین و سینئر لیڈر اے ۔ کے انٹونی نے سیکولرازم کے مسئلے پرپارٹی کی پالیسی پر سوالیہ نشان لگا کرآخر کار ایسا اشو اٹھا دیا جس پر پارٹی کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ انٹونی نے کہا سماج کے ایک طبقے کو ایسا لگا کہ کانگریس صرف ایک خاص فرقے کو ہی آگے بڑھانے کا کام کرتی ہے۔ایک ہفتے میں دیش کی قریب آدھی ریاستوں میں ہارے ہوئے امیدواروں اور دوسرے بڑے لیڈروں کے ساتھ میراتھن منتھن کرنے پر کمیٹی نے پایا کہ مہنگائی اور کرپشن نے بھلے ہی کانگریس نیا ڈوبائی لیکن اسے کھائی میں لے جانے اور حریف نریندر مودی اور ان کی پارٹی کو تاریخی اونچائی پر پہنچانے کی بڑی وجہ کانگریس کی مسلم پرستی رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کانگریس لیڈروں کی یہ رائے ایسے وقت آئی ہے جب پارٹی مہاراشٹر میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی تیاری کررہی ہے۔ چناؤ کے دوران اور اس سے پہلے کانگریسیوں کے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے چکر میں جس طرح اندھا دھند طریقے سے مسلم کارڈ کھیلا، اس پر دیش کے مسلمان تو بھروسہ نہیں کرسکے لیکن اپوزیشن میں مودی جیسے طاقتور متبادل نے ہندوؤں کو بھاجپا کے حق میں ضرور متحدکردیا۔ اس پولارائزیشن کو بنیادی سطح پر لے جانے کے لئے مودی کے پاس آر ایس ایس جیسی ایک اہل متبادل پہلے سے موجود تھا۔ ان امیدواروں نے جو چناؤ ہار گئے تھے، نے مسلم پرستی کے کئی اسباب گنائے جو چناؤ سے پہلے پارٹی نے اپنائے۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا یہ کہنا کہ دیش کے وسائل پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے۔ سلمان خورشید کا 9 فیصدی ریزرویشن، کپل سبل چناؤ کی منجھدار میں شاہی امام سے کانگریس کے حق میں فتوی جاری کرنا، دگوجے سنگھ جیسے راہل گاندھی کے قریبی جنرل سکریٹری اوسامہ بن لادن کو اوسامہ جی اور بابا رام دیو کو ٹھگ کہنا پارٹی کو چناؤ میں بہت بھاری پڑا۔ یہ تمام باتیں ان امیدواروں نے انٹونی کمیٹی کو بتائیں جو اپنا چناؤ ہارنے کے بعد دہلی میں بیٹھ کرہار کے اسباب پر غور و خوض کرنے آئے ہیں۔ حالانکہ ریاستی سطح پر شروع ہوا یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں اور ابھی اترپردیش ،ہریانہ، پنجاب، گجرات ، راجستھان جیسی ریاستوں سے فیڈ بیک ملنا باقی ہے۔ بدقسمتی یا دوسری پارٹیوں کو یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ اس طرح کی ایکطرفہ مسلم پرستی سے ان کواتنا چناوی فائدہ نہیں پہنچا جتنا وہ سمجھ رہے تھے۔ چاہے وہ ترنمول کانگریس ہو، آر جے ڈی ہو، سماجوادی پارٹی ہو یا نتیش کمار کی جنتادل (یو) ہو سبھی نے پنتھ سیکولرازم کی اپنے ڈھنگ سے تشریح شروع کردی اور اسے خوش آمدی کی علامت بنا دیا۔ اس کا ردعمل ہوا ان پارٹیوں نے اکثریتوں کے جذبات کو نظرانداز کیا جانے لگا۔ بہتر ہو کہ کانگریس اور اس کی بڑ بولی سیاسی پارٹیاں یہ دیکھیں کہ بھارت کے آئین کے معماروں نے پنتھ سیکولرازم کا استعمال کرنے کی ضرورت کیوں نہیں سمجھی تھی؟ یہ ایک فرقہ وارانہ لفظ ہے۔ بھارت کو اسے اپنانے کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کیونکہ وہ پہلے ہی اکثریتی اور سرو دھرم احترام کے تئیں وقف تھے۔کانگریس اور اس کی یکساں آئیڈیالوجی والی موقعہ پرست سیاسی پارٹیوں کو یہ عام بات سمجھ لینی چاہئے کہ اگر وہ پنتھ سیکولرازم کے بہانے کسی ایک فرقے کو متحد کریں گے تو دوسرے فرقے میں اس کا رد عمل ہونا ضروری ہوگا۔ انٹونی کا بیان اہمیت کا حامل اس لئے بھی ہے کیونکہ وہ نہ صرف سونیا گاندھی کے بھروسے مند ہیں بلکہ عام چناؤ میں پارٹی کی ہار کے اسباب کا پتہ لگانے والی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ کیا کانگریس لیڈر شپ اپنی خوشامدی کی پالیسی کو بدلے گی۔
(انل نریندر)

شیطانی چالوں سے نہ باز آنے والا چین!

چین اپنی فطرت سے باز نہیں آرہا ہے۔ اپنے پرانے برتاؤ کے مطابق اس نے ایسے وقت میں متنازعہ نقطوں کو کھڑا کردیا ہے جب بھارت کے نائب صدر حامد انصاری چین کی دعوت پر پیچنگ کے دورے پر ہیں۔ عادتیں اچھی ہوں یا بری وقت کے ساتھ ساتھ کردار کا ایک اندرونی حصہ بن جاتی ہیں۔ پنچ شیل کی 60 ویں سالگرہ پر اگر ایک طرف ہمارے نائب صدر حامد انصاری کو اپنا مہمان بنا کر رشتوں کو آسانی سے بلندیاں دینے کی بات کررہا ہے تو دوسری طرف اروناچل پردیش کو اپنا حصہ دکھانے والا نقشہ دنیا کو دکھا رہا ہے تو اس میں کونسا تعجب ہے؟چین کے سرکاری اخبار ’’پیپلز ڈیلی‘‘ میں چین کا ایک ایسا ہی نقشہ شائع ہوا ہے جو بھارت کے لئے گہری تشویش پیدا کرتا ہے۔ نئے نقشے میں اروناشل پردش کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے بڑے حصے کو چین کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ پچھلے قریب ایک ہفتے سے چین بھارت کو اکسانے والے اشارے دے رہا ہے۔ چینی فوج نے اتراکھنڈ کے بارہ ہوتی علاقے میں گھس پیٹھ کی اور کچھ دیر رہنے کے بعد پیچھے واپس لوٹے۔ اسی طرح لداخ میں گونگ جھیل کے ہندوستانی علاقے میں گھس کر اس پر اپنا دعوی جتایا۔ اس کے علاوہ چین پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او) میں ریل لائن بچھانے کی اسکیمبنا رہاہے۔ چین نے اپنے مغربی شہرشن زیانگ کے کراگر علاقے سے پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو جوڑنے والی ریل لائن بنانے کے لئے شروعاتی اسٹڈی کرانے کو لیکر فنڈ بھی جاری کردیا ہے۔ 1800 کلو میٹر چین۔ پاکستان ریلوے لائن اسلام آباد اور کراچی تک لے جانے کی اسکیم ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پرآزادی کے ٹھیک بعد1948ء میں پاکستانی فوجوں کے ساتھ مل کر قبائلیوں نے بھارت پر حملہ کیا تھا اور اس کا بڑا حصہ اپنے قبضے میں کرلیا تھا تب سے بھارت اس پر اپنا دعوی پیش کرتا رہا ہے۔ اس سے بھی خطرناک حرکت وہ برہمپتر ندی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے میں دکھا رہا ہے جس کا خمیازہ بھارت کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔28 جون 1954ء کو بھارت۔ چین ، میانمار نے بین الاقوامی رشتوں کے تعین پر پانچ یعنی پنچشیل پر دستخط کئے تھے اس کے مطابق ان دیشوں نے ایک دوسرے کی سرکاری یکجہتی کا احترام کرنے ، دوسرے کی سرداری کو ماننے، ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملوں میں مداخلت نہ کرنے، پرامن اصول کے وجود کے تئیں خود کو عہد بند کیا تھا مگر برتاؤ میں جو سامنے آیا اس زخم کے درد سے بھارت آج تک نہیں سنبھل پایا۔ چین نے بھارت میں توقع کی تھی کہ اس کے ہر پھیلاؤ والے قدم کی حمایت کرے ۔1962ء میں اس نے بھارت پر حملہ کیا پھر بھارت نے نکسلیوں کو ہتھیار دئے ۔ ان کو ٹریننگ کے ذریعے مدد کی۔ ہر بین الاقوامی اسٹیج پر بھارت مخالف رویہ اختیار کیا۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اس میں پنچشیل کہاں تھے؟ دراصل اس تاریخ کا سبق یہ ہے کہ نیت ٹھیک نہ ہو تو اچھے سے اچھے اصول بھی بے سود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ چین بیشک ان دنوں ہمارا سب سے بڑا کاروباری سانجھیدار بننے کی سمت میں جیجان سے لگا ہوا ہے لیکن اس نے ایسے غیر متوازن تجارت کا راستہ بنایا جس کا تمام فائدہ صرف اسی تک پہنچ رہا ہے۔ مودی سرکار چین کے خطرے اور اس سے متعلقہ فائدوں کے درمیان بیشک پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ منموہن سنگھ کی حکومت کے زمانے میں غیر متوقعہ سرحد پر ڈھانچے کھڑے کرنے کی تیاری بھی شروع ہوگئی اور ان علاقوں میںآبادی بسانے کی بھی اسکیم کو بھی بنیادی شکل دے رہا ہے۔ منہ توڑ جواب کی شکل میں اروناچل پردیش کے ہی ایم پی کرن رٹجو کو وزیر مملکت کی شکل میں تمام ذمہ داریاں نبھانے کا موقعہ دیا گیا ہے۔ ایک طرف نئے وزیر اعظم مودی کے حکمراں ہوتے ہوئے بھی اس نے تعلقات بہتر بنانے کی دہائی دینا شروع کردی۔ ساتھ ہی وہ اپنی پاؤں پھیلانے والی پالیسی کا ثبوت دیتے ہوئے بھارت کے جغرافیائی حصے پر دعوی بھی ٹھوک رہا ہے۔ اس لئے بھارت کو چین کے ساتھ رشتوں میں بہت چوکسی برتنی ہوگی۔ اس کی شیطانی چال پر لگام لگانے کے لئے ضروری یہ بھی ہے کہ بھارت میں کھپائے جانے والے اربوں کھربوں کے چینی مال پر پابندی لگادی جائے۔ یہ ضروری ہے کہ بھارت ،جاپان،ویتنام، فلپن جیسے چین سے متاثرہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کو نئی شکل دی جائے۔ چین کو دو ٹوک پیغام دینا ضروری ہے او رمودی سرکار سے یہ ہی امید ہے۔
(انل نریندر)

01 جولائی 2014

کہاں رہ گئے اچھے دن؟ مودی حکومت کے30 دن

تمام امیدوں اور توقعات کے ساتھ مرکز ی اقتدار میں آئی مودی سرکار کے عہد کا ایک مہینہ پورا ہوگیا ہے۔پانچ برسوں کیلئے چنی گئی کسی بھی حکومت کو اس کے ایک ماہ کے کام کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاسکتا۔ لیکن جس طرح غیر متوقعہ مینڈیڈ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت بنائی اس میں اس سرکار کے صرف ایک ماہ ہی نہیں بلکہ ایک ایک دن کا تجزیہ ہونا فطری ہے۔ قریب دو مہینے لمبے چلی چناؤ مہم کے دوران بھاجپا کا جو نعرہ سب سے زیادہ مقبول ہوا وہ تھا ’’اچھے دن آنے والے ہیں‘‘ یہ نعرہ عام جنتا کے دل و دماغ پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس لئے جس دن نریندر مودی نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا تھا اسی دن سے اچھے دن لوٹنے کی امید کی جارہی ہے۔ عام آدمی کے لئے اچھے دن کا مطلب مہنگائی کم ہونا، نوجوان بے روزگاروں کو نوکری، حکومت میں کرپشن پر لگام لگانا، قانون و سسٹم میں صفائی، بجلی ، پانی جیسی روز مرہ کی دقتوں سے راحت پانا ہے۔ مودی سرکار کو ایک مہینہ پورے ہونے پر مبارکباد اور تنقیدوں کے ساتھ ایک مفادِ عامہ کی عرضی بھی دائر ہوئی ہے۔ ممبئی کی ایک انجمن نے وعدے توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے عرض دائر کر پوچھا ہے کہ اچھے دن کہاں ہیں؟ آل انڈیا اینٹی کرپشن اینڈ سٹی زنز ویلفیئر کور کمیٹی و اس کے بانی ایم وی ہالمارگ کی طرف سے ممبئی ہائی کورٹ میں یہ مفاد عامہ کی اپیل دائر کی گئی ہے۔ کانگریس ایم پی سابق وزیر ششی تھرور کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سفید گھوڑے پر سوارایک فیصلہ کن لیڈر کی ساکھ جلد ہی پھینکی پڑنے والی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ مودی کی ساکھ جنتا کے درمیان اس وجہ سے مقبول ہوگئی کہ جنتا فیصلے لینے میں ہچکچاہٹ کے سبب یوپی اے انتظامیہ سے پریشان ہوگئی ہے لیکن انہیں اب لگتا ہے کہ مودی ایک شخص کے انتظامیہ کے انداز کی طاقت اور حدود جلد ہی سامنے آجائیں گی۔ مودی کا وزرا کی غیر موجودگی میں سکریٹریوں سے الگ ملنا ہمارے جمہوری نظام میں اور کیبنٹ کی جوابدہی کے اصول پر درحقیقت کچھ سوال اٹھاتا ہے۔ ہمارے سسٹم کے مطابق عام طور پر وزیر اپنے محکموں کے لئے جوابدہ ہوتے ہیں اس ایک ماہ کے عہد کے دوران آنے والے وقت میں اچھے دن دیکھ پانے کی عام آدمی کی امیدیں بھلے ہی برقرار ہوں لیکن ابھی اچھے دن آگئے ہوں ایسا نہیں لگ رہا ہے۔ مانسون کے بادلوں کی طرح ابھی تو یہ سوہاونے دن دور دور تک نظر نہیں آتے۔ یہ ضروررہا کہ اس درمیان مودی سرکار نے ٹھہرے کام کے کلچر کو بدلا ہے۔ اعلی سطح پر سرکاری اقدار میں سیاسی پاکیزگی کا ایجنڈہ بھی کچھ ضرورت کارگر ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے کیونکہ وزیراعظم نے صاف صفائی کا کام اقتدار کی گنگوتری سے ہی شروع کیا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ابھی ایک بھی ایسا فیصلہ نہیں ہوپایا جس سے لوگوں کو یہ پکا یقین ہوجائے کہ واقعی اچھے دنوں کا وعدہ صرف چناوی جھانسہ نہیں تھا۔ پچھلے دنوں مودی حکومت نے ریل کرایہ مال بھاڑے میں زبردست اضافہ کرکے کڑوی دوا جنتا کو دے دی ہے۔ ریلوے کی تاریخ میں کبھی ایک ساتھ کرایہ میں اتنا اضافہ نہیں ہوا تھا۔ مال بھاڑہ اتنا بڑھ جانے سے مہنگائی کا اور کرنٹ لگنا طے ہے۔ بڑھی ہوئی شرحیں لاگو کردی گئی ہیں۔ پارلیمنٹ سیشن 7 جولائی سے شروع ہورہا ہے کیا سرکار ریلوے بجٹ میں یہ اضافہ نہیں کر سکتی تھی؟ ان باتوں پر نریندر مودی یوپی اے سرکار کی تنقید کرتے تھے اب خود بھی وہی کررہے ہیں۔ سرکار کئی اور سیکٹروں میں سبسڈی کا بوجھ کم کرنا چاہتی ہے۔ خاص کر تیل سیکٹر میں۔ ظاہر ہے کہ اس پر عمل ہوا تو غریبوں کو ملنے والا سستا مٹی کا تیل مہنگا ہوجائے گا۔ رسوئی گیس کے دام بھی اتنے بڑھ جائیں گے کہ درمیانے طبقے کے اچھے دنوں کے خواب ایک دم چکنا چور ہوجائیں گے۔ عراق بحران نے جہاں باہری محاذ پر سرکار کیلئے اگنی پریکشا کی چنوتی کھڑی کردی ہے وہیں مہنگائی اور بڑھ جانے سے سرکار کو گھریلو محاذ پر بھی بڑی چنوتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس دوران سست دکھائی دینے والی دیش کی بڑی افسر شاہی نئی حکومت کے تیوروں سے ہلکان دکھائی پڑتی ہے وہیں وزیر اعظم نریندر مودی سرکار چلانے کے اپنے طریقے کے سبب وزیر کی جگہ خود مودی ہی صرف سروے سروا سرخیوں میں ہیں بلکہ جنتا سے رابطہ کرنے میں بھی منتری بہت پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔ حلف برداری کے دوران سارک ممالک کے سربراہ مملکت کو بلانے کے بعد پہلے غیر ملکی دورہ کیلئے بھوٹان کو چن کر وزیر اعظم نے پڑوسی دیشوں سے بہتر تعلق بنانے کا صاف پیغام دے کر دنیا کی توجہ اپنی طرف مائل کی۔ اسی دوران ویزا تنازعے کے سبب امریکہ سے خود کا خوشگوار رشتہ نہ ہونے کے باوجود وزیر اعظم نے امریکہ جانے کا پروگرام طے کرکے سب کو چونکا دیا۔مودی سرکار کے سامنے کچھ غیر متوقعہ چنوتیاں بھی آکھڑی ہوئی ہیں، ان میں ایک ہے کمزور مانسون دوسرا عراق بحران۔ان دونوں چنوتیوں کے چلتے اس سرکار کووہ حق بھی نہیں ملا جو عام طور پر کسی نئی حکومت کو ملتا ہے۔ ایک مہینہ پورا ہونے پر شروع ہوئی تنقیدوں پر اپنی رائے زنی کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہر نئی سرکار کو کچھ وقت دیا جاتا ہے جسے ہنی مون پیریڈ کہتے ہیں۔ پچھلی سرکار کے لئے بھی 100 دن دئے گئے تھے لیکن ہمیں100 گھنٹے بھی نہیں ملے۔انہوں نے کہا 67 سال کے مقابلے ایک مہینہ کچھ نہیں ہوتا۔اپنی مقبولیت کے مطابق مودی نے سخت فیصلے میں کوئی ٹال مٹول نہ دکھانے کا ارادہ ظاہرکیا۔ اگلے مہینے میں ریلوے بجٹ کے ساتھ عام بجٹ آنا ہے جس طرح کے اقتصادی حالات ہیں ان میں بہت راحت کی امید نہیں ہے۔ باوجود اس کے مودی سرکار سے امید کی جارہی ہے کہ وہ دیش میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنائیں گے جس سے نوکریوں کی گنجائش بنے اور بے روزگار لڑکوں میں مایوسی کم ہو۔ ریل کرایہ بڑھنے، مانسون اوسط سے کم رہنے کی خبروں سے مہنگائی اور بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ یوپی اے سرکار کے فیصلوں پر مہر لگا کر مودی سرکار کانگریس کی بی ٹی کہی جائے تو غلط نہ ہوگا۔ درمیانہ اورکمزور طبقہ جس نے مہنگائی سے پریشان ہوکر کانگریس کو سبق سکھایا وہ مودی سرکار کے ابتدائی فیصلوں کو مجبوری مان کر فی الحال صبر کر سکتی ہے لیکن وہ کب تک یہ کڑوی دوا نگلتا رہے گا یہ کہنا مشکل ہے۔
(انل نریندر)

29 جون 2014

نیشنل ہیرالڈ کی جائیداد ہتیانے کا سونیا ۔ راہل پر الزام!

ڈاکٹر سبرامنیم سوامی بھارتیہ سیاست میں ایک بے مثال کردار کے طور سے اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ جس کے پیچھے وہ پڑ گئے اس کا جلدی سے پیچھا نہیں چھوڑتے۔عرصے سے ان کے نشانے پر کانگریس صدر سونیا گاندھی و نائب صدر راہل گاندھی رہے ہیں۔ قانون کے معاملے کے خاصے جانکار ہیں اس لئے عدالت جانے سے وہ کتراتے بھی نہیں۔ سونیا گاندھی کے خلاف انہوں نے ہی سب سے پہلے غیر ملکی ہونے کا مدعا اٹھایا تھا۔ لمبے عرصے سے وہ سونیا گاندھی کو عدالتوں میں گھسیٹنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اب تک انہیں اس میں کامیابی نہیں ملی تھی۔ پہلی بار انہیں جمعرات کو ایک بڑی کامیابی ملی۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے نیشنل ہیرالڈ کیس میں ڈاکٹر سوامی کی عرضی پر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو حاضر ہونے کے لئے سمن جاری کردیا ہے۔ اس کے علاوہ آسکر فرنانڈیز ،موتی لال وہرا، سیم پترودا اور سمن دوبے کو بھی کورٹ میں حاضر ہونے کے لئے سمن جاری کئے گئے ہیں۔ عدالت نے 7 اگست کو سبھی کوحاضر ہونے کو کہا ہے۔ معاملہ بند ہوچکے اخبار نیشنل ہیرالڈ کی دہلی ، اترپردیش اور ملک کے مختلف حصوں میں قریب 2ہزار کروڑ کی جائیداد سے جڑا ہے۔ یہ حکم پٹیالہ ہاؤس میں واقع میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ گومتی منوچا نے دیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اسی جج صاحبہ نے اروند کیجریوال کو بانڈ نہ بھرنے پر تہاڑ پہنچایا تھا۔ ڈاکٹر سوامی نے الزام لگایا تھا کہ نیشنل ہیرالڈ اخبار کو شائع کرنے والی کمپنی ڈی ایسوسی ایٹڈ جرنلس لمیٹڈ کی اربوں روپے کی جائیداد کو دھوکہ دھڑی کرکے ہڑپ لیا گیا۔ اس کے لئے کانگریس نے بنا سود کا 90 کروڑ روپے کا قرضہ بھی دکھایاگیا، یہ انکم ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی تھی۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی کاروباری مقاصد کے لئے قرض نہیں دے سکتی۔ کانگریس نے 23 نومبر2010ء کو قانون کے تحت ینگ انڈیا کمپنی بنائی ۔ اس میں سونیا۔ راہل کی 38-38 فیصد کی حصہ داری ہے۔ پارٹی نے ایسوسی ایٹڈ جرنلس کی دین داریاں(خاص کر90.25 کروڑ کا قرض) ینگ انڈیا کو بیچ دیا۔ اس کے عوض میں اس سے50 لاکھ روپے لے لئے۔ اس طرح دو ہزار کروڑ روپے کی نیشنل ہیرالڈ کی جائیداد کانگریس لیڈر شپ نے ینگ انڈیا کی معرفت اپنے قبضے میں کرلی۔کمائی کے لئے نیشنل ہیرالڈ کی عمارت کا ایک حصہ پاسپورٹ آفس کو کرائے پر دیا گیا یہ بھی غلط ہے۔ مجسٹریٹ نے سمن جاری کرتے ہوئے کہا اب تک کہ ثبوتوں سے ایسا لگتا ہے کہ ینگ انڈیا کمپنی دو ہزار کروڑ روپے کی جائیداد ایکوائر کرنے کے لئے مکھوٹے کے طور پر کام کررہی تھی۔ ملزمین کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کی مناسب بنیاد ہے۔کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ہمیں جب دستاویز ملیں گے تو اس پر بڑے پیمانے پر ریسرچ کے بعد جواب دیں گے۔ حالانکہ بتایا جارہا ہے کہ کانگریس سمن کو چنوتی دینے کے لئے ہائی کورٹ میں عرضی دے سکتی ہے۔ اس بیچ ڈاکٹر سوامی نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو خط لکھ کر معاملے کی انکم ٹیکس سے جانچ کی مانگ بھی کی ہے۔یہ پہلی بار ہے جب سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو عدالت میں گھسیٹا جارہا ہے اور عدالت نے بھی سمن جاری کردیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جلد ہی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرکے سمن کو ہی خارج کرانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے بغیر پختہ حقائق کے سمن جاری کئے ہیں۔ لوک سبھا چناؤ میں کراری ہار کے بعد کانگریس لیڈر شپ کا منو بل کافی کمزور ہے۔ ڈاکٹر سوامی کو یہ کامیابی ملی تو وہ اتساہت ہوگئے ہیں۔ اب انہیں بھروسہ ہوگیا ہے کہ وہ کانگریس کے اولین خاندان کو تمام گھپلوں میں پھنسا دیں گے تو کئی نئے حقائق دنیا کے سامنے اجاگر ہوجائیں گے۔ ویسے بھی ڈاکٹر سوامی اب بھاجپا کا حصہ بن چکے ہیں ایسے میں سنگھ پریوار بھی سونیا مخالف مہم میں ان کا ساتھ دینے کو تیار ہے۔ بڑی چناوی ہار کے بعد ڈاکٹر سوامی کی اپیل کا کم سے کم فوری طور پر ہی صحیح کانگریس کے لئے ایک نیا سردرد بن گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے عدالت میں اب لمبی لڑائی چلے گی۔ 7 جولائی کو جس دن سونیا ۔ راہل کو عدالت میں پیش ہونے کا سمن دیا گیا ہے اسی دن سنسد کا بجٹ سیشن بھی شروع ہورہا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس معاملے میں کانگریس کا کمزور پہلو یہ ہے کہ ایک تو اس پر جنتا کا فنڈ ینگ انڈیا کمپنی کو بنا سود کے دینے کا الزام ہے دوسرا لیز قواعد کے مطابق ہیرالڈ ہاؤس کو بنا پریس چلائے کرائے پر نہیں دیا جاسکتا جو ابھی دیا جارہا ہے۔ تیسرا پارٹی پر ہیرالڈ کی پوری جائیداد کو معمولی رقم دے کر ہڑپنے کا الزام ہے۔یہی چیزیں کانگریس کی پھانس بن گئی ہیں۔
(انل نریندر)

نکسلی ہر سال 100 کروڑ روپے وصول کرلیتے ہیں!

نکسلواد ہمارے ملک کے سب سے بڑے مسئلوں میں سے ایک ہے۔ملک کے کم سے کم 10 راجیہ اس سے سیدھے متاثر ہیں۔ یوپی اے سرکار اپنے 10 سال کے دور میں اس سے نمٹنے میں ناکام رہی۔ اب مودی سرکار اس مسئلے سے کیسے نمٹتی ہے یہ دیکھنا ہے۔ مودی سرکار نے نکسلیوں سے نمٹنے کے لئے نئے سرے سے ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ گرہ منترالیہ نے اس کے لئے27 جون کو بیٹھک بلائی ہے۔ دیش کے دس نکسل متاثر راجیوں کے نمائندے اس میں حصہ لیں گے۔ وزارت داخلہ نے آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڑیسہ، تلنگانہ، یوپی اور پشچمی بنگال کے اعلی افسران کو بیٹھک کے لئے بلایا ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ان راجیوں کو نکسل مہم پر فیڈ بیک کے ساتھ نئے سرے سے فیوچر پلان پیش کرنے کوکہا ہے۔ نکسل آندولن کا ایک بہت ہی اہم نقطہ ہے پیسہ۔ چھتیس گڑھ دیش میں ماؤ واد سے سب سے زیادہ متاثر ریاست ہے اور اس کی ایک وجہ نکسلیوں ، ماؤوادیوں کو وہاں سے ملنے والی بڑی رقم ہے اور مختلف ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق ماؤ وادی راجیہ میں ہر سال لگ بھگ 80 سے100 کروڑ روپے تک وصول کرتے ہیں۔ راجیہ کے نکسل متاثر راج نند گاؤں ضلع کے سیتا گاؤں اور سوندھی کے جنگل میں اس سال چار مارچ کو سکیورٹی فورسز نے نکسلیوں کے ذریعے بنایا گیا ایک ڈمپ برآمد کیا تھا جس میں 29 لاکھ روپے تھے۔ پولیس نے نکسلوادیوں کی اتنی بڑی رقم پہلی بار پکڑی تھی۔ نکسل متاثر علاقوں میں ایسے سینکڑوں ڈمپ ہیں جس میں نکسلی اپنی رقم چھپا کر رکھتے ہیں۔ ڈمپ حقیقت میں زمین کھود کر بنائی گئی ایک ٹنکی ہوتی ہے۔مختلف معاملوں سے پولیس کو نکسلیوں کے ذریعے یہاں سے ہر سال80سے100 کروڑ روپے کی رقم جمع کرنے کی جانکاری ملی ہے۔ اس کی تصدیق گذشتہ دنوں پکڑے گئے ڈنڈ کارن اسپیشل زونل کمیٹی کے ترجمان گڑما اسینڈی عرف جی بی کے پرساد نے مانا ہے ۔ افسران نے بتایا کہ نکسلی اپنے اثر والے علاقوں کی جنتا سے لگ بھگ تین کروڑ روپے، ویاپاریوں سے لگ بھگ 10 کروڑ روپے، ٹھیکیداروں سے20 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹروں سے لب بھگ10 کروڑ روپے، تیندوپتا ٹھیکیداروں سے لگ بھگ 2 کروڑ روپے، بانس اور جنگل کاٹنے والے ٹھیکیداروں سے لگ بھگ15 کروڑ روپے،متاثرہ علاقے میں رہنے والے صنعتکاروں سے لگ بھگ20 کروڑ روپے اور علاقے میں کام کرنے والے ملازمین اور افسران سے چندے کی شکل میں لگ بھگ 2 کروڑ روپے وصولتے ہیں۔فنڈ بہت ہی احتیاط کے ساتھ جمع کیا جاتا ہے۔ ہر سطح پر صرف دو لوگوں کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ فنڈ کہاں رکھا جارہا ہے اور کہاں اکٹھا کیا جارہا ہے۔ نکسلی ماؤوادی روپئے کا استعمال پرنٹنگ کام ، دواؤں اور حامیوں کے علاج، کمیونی کیشن ذرائع کی خریداری، ہتھیار اور گولہ بارود کی خریداری، کھانے کے سامان کی خریداری میں کرتے ہیں۔ حامیوں اور ورکروں کو جیل سے باہر نکالنے کے لئے عدالتی کارروائی پر بھی فنڈ خرچ کیا جاتا ہے۔ اکھٹا کی گئی رقم کو بہت ہی احتیاط کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔اس سے حامیوں کیلئے گاڑیا خریدی جاری ہیں،سونے کے بسکٹ خریدے جاتے ہیں اور کئی بار بینک میں بھی رکھے جاتے ہیں۔ مرکزی سرکار و ریاستی سرکاروں کو نکسلیوں ،ماؤوادیوں سے صحیح معنی میں لڑنا ہے تو یہ ضروری ہے کہ ان کی آمدنی پر کنٹرول ہو۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ان کی دہشت ختم ہوگی۔ اکیلے ملٹری یا پولیس کارروائی سے یہ مسئلہ ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...