Translater

11 مئی 2013

پنجرے میں بند سرکاری طوطا سی بی آئی

بدھوار کو دو بڑے فیصلوں کا دن تھا پہلا کرناٹک میں جنتا جناردن کو مینڈیٹ دینا تھا اور دوسرا دیش کی بڑی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلہ کا دن تھا۔ صبح کرناٹک نتائج نے کانگریس کو جہاں خوشی فراہم کی اور وہ پھولی نہ سمائی لیکن دوپہر ڈھلتے ڈھلتے سپریم کورٹ نے اس کی امیدوں پر پانی پھیردیا اور سورج ڈھل گیا۔ کوئلہ گھوٹالے کی سماعت کررہی تین نفری بنچ نے سی بی آئی کے ساتھ ساتھ سرکار کو جم کر لتاڑ لگائی۔ عدالت نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہا کہ سرکار نے سی بی آئی کی جانچ رپورٹ میں اس حد تک چھیڑ چھاڑ کی ہے کہ اس کا بنیادی مقصد ہی بدل گیا۔ کوئلہ گھوٹالے کی جانچ میں چھیڑ چھاڑ میں عدالت نے جیسی لتاڑ لگائی اس سے اس کی رہی سہی ساکھ مٹی میں مل گئی۔ ایسا اسلئے بھی ہوا کیونکہ بڑی عدالت نے سی بی آئی کی رپورٹ میں تبدیلی کرنے کے لئے کوئلہ وزارت کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے دفتر کے جوائنٹ سکریٹری کو بھی نشانے پر لیا۔سپریم کورٹ کی طرح سے دیش کو بھی اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ آخر ان دونوں حکام کو سی بی آئی رپورٹ دیکھنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیونکہ یہ پہلے سے صاف ہے کہ ان دونوں حکام نے یہ جانچ رپورٹ دیکھی ہی نہیں بلکہ اسے بدلا بھی۔اس لئے بڑی عدالت کا سوال اور سنگین ہوجاتا ہے۔ بلا شبہ سب سے سنجیدہ اور شرمناک بات یہ ہے کہ وزیراعظم کا ایک افسر بھی جانچ رپورٹ میں اس حد تک ترمیم کرانے کا ملزم ہے کہ اس کا بنیادی ضمیر ہی بدل گیا۔ آخر کانگریساور اس کی قیادت والی مرکزی حکومت اپنے ایسے وزیر اعظم کا بچاؤ کس طرح کرسکتی ہے جس کے افسر نے چپکے سے جانچ رپورٹ بدلوائی۔ سپریم عدالت کے تازہ ریمارکس میں سچائی ہے کہ سی بی آئی کی موجودہ حالت پنجرے میں قید سہمے طوطے کی طرح ہے۔ سیاستدانوں سے وابستہ اس کی جانچ رپورٹ اقتدار کے پٹھوؤں کی رٹی رٹائی لائن پر ہوتی ہے۔ کوئلہ کھدائی الاٹمنٹ گھوٹالے پر اس کی اسٹیٹس رپورٹ میں کئی سطح پر کرائی گئی تبدیلیوں میں بھی یہ ہی بات عائدہوتی ہے اس لئے عدالت نے سی بی آئی کی پھر حد بندی کرتے ہوئے ہدایت دی کہ اسے ناک کی سیدھ میں چلتے ہوئے کسی کے دباؤ میں نہیں آنا چاہئے اور معاملے کی تہہ تک جانا چاہئے۔ اسی کے لئے اس کی تشکیل کی گئی تھی۔ ایک طرح سے سی بی آئی کو اس کے اختیار اور اس کے کام کے طریقوں کو یاددلانا ہے۔ یہ قومی شرم کا موضوع ہے کے ہمارے دیش کا قانون منتری تو غیر قانونی کام کرتا ہی ہے وزیر اعظم بھی درپردہ طور پر اس کا ساتھ دیتا ہے۔ اتنا ہی نہیں ان کے قانونی افسر بڑی عدالتوں میں جھوٹ بولتے ہیں۔ آخرایسی سرکار اپنا سر اونچا اٹھا کر کیسے چل سکتی ہے جس کے تمام افسر ایک طرح سے چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھ پکڑے گئے ہوں؟ یہ بے شرمی اور ڈھٹائی کی کہانی ہے کہ کانگریس اور مرکزی اقتدار کو ابھی غلطی ماننا تو دور رہا خود کو صحیح ثابت کرنے کے لئے قسم قسم کی دلیلیں گڑھی جارہی ہیں۔ کیا کرناٹک میں جیت کی خوشی کو لوک سبھا اور اخلاقیات کو نظرانداز کرنے کا بھی موقعہ دے رہی ہے؟ کیا اسی وجہ سے پارلیمنٹ کوبے میعاد کے لئے ملتوی رکھا گیا ہے؟
(انل نریندر)

پارلیمنٹ میں ’وندے ماترم ‘کی کھلی توہین

جمہوریت کا مندر مانے جانے والی پارلیمنٹ میں مریادائیں لانگنے کا ایک اور معاملہ بدھ کو ہمیں دیکھنے کو ملا۔ بہوجن سماج پارٹی کے ایک ایم پی اے قومی گیت ’وندے ماترم‘ کی ہی توہین کرڈالی۔ اترپردیش کے سمبھل سے چنے گئے ممبر پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق ہاؤس کے دوران ایوان میں بجنے والے وندے ماترم کی دھن کے درمیان اٹھ کر باہر چلے گئے۔ اپنے اس عمل کو صحیح مانتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مذہب اسلام خدا کے علاوہ کسی اورکی عبادت کی اجازت نہیں دیتا اس لئے مستقبل میں بھی ایسی صورت بننے پر ایسا ہی کریں گے جو ایوان میں انہوں نے بدھوار کو کیا۔ حالانکہ برق کے برتاؤ کی لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں سختی سے خبردار کیا اور کہا کہ مستقبل میں ایسا کبھی نہیں ہونا چاہئے۔ بھاجپا نے قومی گیت کی توہین پر برق کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ممبران کے اپنی سیٹ پر پہنچتے ہی روایت کے مطابق ہاؤس ختم ہونے کے لئے وندے ماترم کی دھن بجنے لگی۔ تمام ممبران ایوان میں قومی گیت کے تئیں احترام میں کھڑے ہوگئے۔ اس بیچ اچانک ممبر پارلیمنٹ شفیق الرحمان برق باہر نکل کر جانے لگے ان کی بغل میں ہی ممبر پارلیمنٹ وجے سنگھ بہادر نے انہیں روکا لیکن برق ان کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے باہر چلے گئے۔ اس دوران دھن شروع ہونے سے پہلے ایوان میں وزیر اعظم نہیں پہنچ پائے وہ کوریڈور میں ہی اس دھن کو سن کر احترام میں کھڑے رہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے بیحد ناراض میرا کمار بسپا ایم پی برق کو نوٹس بھیجنے پر غور کررہی ہیں۔ ادھر پارلیمنٹ کمپلیکس میں بھاجپا نیتا شاہنواز حسین نے بھی میرا کمار کی ناراضگی اور سخت تبصرے کو صحیح مانتے ہوئے برق کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ میرا کمار کی وارننگ کا برق پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ 
انہوں نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر ایوان سے باہر گئے تھے کیونکہ اسلام کی روایت کے مطابق میں وندے ماترم گیت میں شامل نہیں ہوسکتا۔ ہمارا مذہب صرف ایک خدا کی عبادت کی اجازت دیتا ہے اس لئے اس سے پہلے وندے ماترم کی دھن شروع ہونے سے پہلے ہی وہ ایوان سے باہر لے جاتے تھے۔ لیکن کیونکہ بدھوار کو سب کچھ اچانک ہوا اس لئے وہ سمجھ نہیں پائے کے قومی گیت کی دھن بجنے والی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے کہا کہ ایک ممبر قومی گیت کی دھن بجنے کے دوران ایوان سے چلے گئے میں نے اس کا سنگین نوٹس لیا ہے۔ جاننا چاہوں کی ایسا کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ممبران خیال رکھیں ایسا آگے کبھی نہیں ہونا چاہئے۔ ادھر برق صاحب کا جواب تھا میں اپنی قوم کے لئے جان دے سکتا ہوں لیکن وندے ماترم کے لئے نہیں۔ یہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے اس لئے اگر مستقبل میں ایسی حالت آتی ہے تو پھر بھی میں ایسا ہی کروں گا۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ وندے ماترم کی دھن کو لیکر دیش میں کوئی قاعدے قانون نہیں ہے۔ بلا شبہ یہ الگ بات ہے کہ اس قومی گیت کو راشٹریہ گان’ جن گن من‘ کی طرح آئینی درجہ حاصل نہیں ہے لیکن اس کے لئے کوئی پروٹوکول یا گائڈ لائنس بھی نہیں جاری کی گئی ہیں۔
(انل نریندر)

10 مئی 2013

کرناٹک میں کانگریس جیتی نہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ہاری ہے

7 سال کے بنواس کے بعد اپنے پرانے جنوبی گڑھ میں کانگریس کی واپسی ہوئی ہے۔ قومی سطح پر گھوٹالوں کے الزامات سے گھری کانگریس نے24 ممبری اسمبلی کے چناؤ میں شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 121 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے جو اکثریت کے نمبر 113 سے آگے بڑھ گئی ہے۔وہیں مقامی سطح پر کرپشن کے اشوسے گھری اور اپنے پانچ سال کے عہد میں تین وزراء اعلی بدلنے والی بھاجپا کو محض30 سیٹوں پر جیت ملی ہے۔ 2008ء کے چناؤ میں پارٹی کو110 سیٹیں ملی تھیں۔ اسی طرح جنتا دل ایس کی کارکردگی میں کوئی خاص بہتری نہیں دکھائی دی،اسے بھی40 سیٹیں ملیں۔ گذشتہ چناؤمیں اسے28 سیٹیں ملیں تھی۔ ادھر سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یروپا کی پارٹی کے جی پی کو کل 6 سیٹیں ملیں لیکن اس کا کارنامہ یہ ضروررہا کے اس نے کرناٹک میں بھاجپا کی پہلی سرکار کا بنٹا دھار کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہماری رائے میں کانگریس جیتی نہیں بلکہ بھاجپا ہاری ہے۔ ساؤتھ انڈیا میں بھاجپا کا ایک واحد قلعہ اگر ڈھے گیا تو اس کے لئے اس کی اپنی کارگذاری ہی ذمہ دار ہے۔اچھا انتظامیہ اور بہتر ساکھ کا رونا رونے والی بھاجپا کی کرناٹک سرکار کرپشن اور بدانتظامی کی علامت بن گئی تھی۔ کرناٹک چناؤ کے نتیجوں کو دیکھنے کے بعد جمہوریت میں آستھا بڑھنا فطری ہی ہے۔ اس کے پیچھے کہیں بی جے پی کی کراری ہار یا 14 برسوں بعد کانگریس کا اکثریت سے واپسی کرنا ذمہ دار نہیں ہے۔ کرناٹک اس چناؤ میں یقینی طور پر کرپشن اور بدانتظامی ،عدم استحکام اور بھائی بھتیجہ واد کے ساتھ پیسے اور طاقت کا بھی دبدبہ رہا۔ ذہنی طور پر ووٹر اپنے مقصد کے تئیں اتنے چوکس رہے کہ لیانگت بکا لنگا جیسی برادری کے تجزیئے بھی نتیجے کے رخ کو بدلنے میں ناکام رہے۔ گدی سنبھالنے اور جشن مناتی کانگریس پارٹی کو اپنی طاقت کی غلط فہمی میں اترانے کی جگہ ان نتیجوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ اگر وہ ریاست میں چوست انتظامیہ اور ڈھانچہ بندی کے فروغ کے ساتھ روزگار کے موقعے تلاش کرنے میں کوتاہی برتے گی تو اس کا حشر دہلی کے قومی شاہراہ تک نہیں بلکہ بی جے پی یا بی ڈی ایس کی طرح گمنامی کی کھائی میں گرنا ہوگا۔ کرناٹک کے نتیجوں نے پھر ثابت کردیا ہے کرپٹ سرکاریں چاہے کسی بھی پارٹی کی ہوں، لوگ انہیں اکھاڑنے سے گریز نہیں کرتے۔ ہماچل میں دھومل ، اتراکھنڈ میں نشنک اور کھنڈوری اور اترپردیش میں مایاوتی کی سرکاروں کو اکھاڑ پھینک کر ووٹروں نے اپنی سیاسی بیداری کا ثبوت دیا ہے۔ کرناٹک کے نتیجوں نے ان تینوں ریاستوں کی طرح متبادل کے طور پر جو سرکار چنی ہے اسے واضح اکثریت دی ہے یعنی اتحادی کی سرکاروں کے دن اب مرکز میں ابھی بھلے ہی لدتے نظر نہ آرہے ہوں لیکن ریاستوں میں ان کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ پارٹی لیڈر شپ نے چناؤ اعلان کے ساتھ ہی یہ مان لیا تھا کہ تنہا بھاجپا آئی سی یو میں جا چکی ہے۔ بھاجپا میں ایسا نظریہ رکھنے والوں کی کمی نہیں جو اب یہ کہتے ہیں کہ یدی یروپا کو پارٹی سے نہ ہٹاتے تو شاید یہ دن دیکھنے کو نہ ملتا لیکن پارٹی کے بڑے نیتا لال کرشن اڈوانی کی ہدایت پر اقتدار کی پرواہ نہ کی گئی۔ ایمانداری اور اخلاقی اقدار کی پرواہ کی گئی۔ ان کا اب کہنا ہے کرناٹک میں کانگریس کی یہ جیت ووٹوں کے بٹوارے کی وجہ سے ہوئی۔ دیش بھر میں کانگریس کا صفایا طے ہے۔ اس چناؤ نتیجے کے بعد کانگریس بہت گد گد ہے۔ اس کے نیتا یہ مان کر چل رہے ہیں کہ اس جیت نے پارٹی کو اس پر لگے کرپشن کے الزامات سے کلین چٹ دے دی ہے۔ ان کا یہ سوچنا بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں اگر ہم پچھلے چناؤ نتائج پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے لوک سبھا چناؤ میں شمالی ہندوستان، جنوبی ہندوستان کی پولنگ کا پیٹنٹ الگ رہتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران جب پورے دیش میں کانگریس مخالف لہر چل رہی تھی تب ساؤتھ انڈیا نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ جب بوفورس اشو پر وی پی سنگھ نے کانگریس مخالف مہم چھیڑی تھی تب تھی ساؤتھ انڈیا اس پارٹی کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ اس لئے ساؤتھ انڈیا کی ایک ریاست کے نتیجوں کو اگلے سال ہونے والے عام چناؤ کے نتیجوں سے جوڑنا شاید صحیح نہ ہو۔ ان چناؤ کو نریندر مودی ، راہل گاندھی کے امتحان کے طورپرکچھ لوگ دیکھ رہے تھے۔ مودی بھاجپا کو ڈبونے سے نہیں بچا سکے تو یہ بھی صحیح ہے کہ راہل کانگریس کے اثر سے نہیں جیتی بلکہ ریاست کے لوگوں نے اس بار نگیٹو ووٹنگ کی ہے۔ انہیں بھاجپا کوہرانا تھا اور انہیں مستقل متبادل کے طور پر وہاں کانگریس نظر آئی۔ مرکز میں گھوٹالے سے گھری کرپشن کی علامت بنی یوپی اے سرکار کو بیشک ان نتائج سے تھوڑی راحت ملی ہوگی لیکن کرناٹک کا جن آدیش مرکزی سرکار کے لئے اپنے کئے کارناموں پر پانی پھیرنے کا کام نہیں کرسکتی۔
(انل نریندر)

پڑوس میں چناؤ: نواز شریف فی الحال سب سے آگے

پاکستان میں11 مئی کو عام چناؤ ہونے جارہے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کے بیچ ہورہے چناؤ میں کون جیتے گا یہ کہنا کافی مشکل ہے۔ قومی اسمبلی کیلئے کل سیٹیں 342 ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں کے لئے کل2721 سیٹوں میں عورتوں کے لئے 60 سیٹیں اور اقلیتوں کیلئے 10 سیٹیں محفوظ ہیں۔ سیاسی طور سے سب سے طاقتور پنجاب صوبہ ہے۔ یہاں پر 148 سیٹیں ہیں۔ یہاں سے 55 فیصدی ممبر چنے جائیں گے۔ روایتی طور سے نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے لیکن اس بار عمران خاں کو بھی کچھ حلقوں میں کامیابی ملنے کی امید ہے۔ اس طرح صوبہ پنجاب میں سہ رخی مقابلہ ہونے کی امید ہے۔ اقتدار مخالف لہر ، دہشت گرد حملوں کا خطرہ اور لیڈر شپ نہ ہونے کے سبب پی پی پی کو سب سے زیادہ خمیازہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد صوبہ سند ہے جہاں 61 سیٹیں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کا کاروباری مرکز کراچی اور صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں کافی اثر ہے۔ خان عبدالغفار خاں سرحدی گاندھی کی اپنی عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں سخت مقابلہ ہے۔ اس کے بعد خیبرپختون خواہ صوبے میں 35 سیٹیں ہیں۔ یہاں عمران خاں اور نواز شریف کی پارٹی کے بیچ مقابلہ ہے۔ اس علاقے میں اے این پی کا دبدبہ تھا لیکن مسلسل طالبانی حملوں اور کرپشن کے معاملوں کے سبب ان کی طاقت کم ہوگئی ہے۔ اب آتی ہے بلوچستان اسمبلی جہاں 14 سیٹیں ہیں۔ فیڈرل ایڈمنسٹریٹ ٹرائیول ایریا (فاٹا) 14 سیٹیں اور اسلام آباد2 سیٹیں۔ اس چناؤ میں اہم سیاسی کھلاڑی نواز شریف، آصف علی زردای، عمران خاں میدان میں ہیں۔ دنیا کی جانی مانی سروے کمپنی گیلپ نے اپنے تازہ سروے میں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے حالات کا تجزیہ کیا ہے۔ اس کے مطابق نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ کو کافی لوگوں کی حمایت مل رہی ہے۔ تحریک انصاف پارٹی کو 14 فیصدی لوگوں کی حمایت مل رہی ہے۔ وہیں صدر آصف علی زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے میں پچھڑ رہی ہے۔ اسے مجموعی طور پر17 فیصدی لوگوں کی حمایت مل رہی ہے۔ شجاعت حسین کی قیادت والی پاکستان مسلم لیگ قائد کے پاس صرف4 فیصدلوگوں کی حمایت ہے۔ باقی دوسری پارٹیوں کو20 فیصد ووٹ ملیں گے ۔ یہ سروے اگر صحیح نکلتا ہے تو ایک بار پھر نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ فوج کے ہاتھوں معزول ہونے کے بعدسابق وزیر اعظم اور پی ایم ایل این لیڈر نواز شریف نے اب فوج کی کٹھ پتلی بننے سے انکارکردیا ہے۔ اقتدار میں آنے پر فوج ان کے ماتحت ہوگی اور وہ فوج کے باس ہوں گے۔ نواز نے اشارے دئے ہیں کہ موجودہ فوج کے چیف جنرل اشفاق کیانی اس سال نومبر میں ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ کیانی کو ایک اور توسیع دینے کے سوال پر انہوں نے بڑی چالاکی سے کہا میں نہیں سمجھتا کہ وہ آگے اپنی میعاد بڑھائے جانے کے خواہشمند ہیں۔ دیکھیں پاکستان کے چناؤ نتائج کیاتصویر پیش کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

09 مئی 2013

سرکار حکمت عملی مات و بے شرمی سے بھلے ہی بچا لے پر کب تک؟

کانگریس کے ترجمان و وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ دیش کا آئین کہتا ہے جب تک شخص کا قصور ثابت نہیں ہوتا تب تک اسے بے قصور مانا جانا چاہئے۔ اس لئے جانچ رپورٹ آنے تک وزیر قانون اشونی کمار اور ریل منتری پون کمار بنسل اپنے عہدے پر بنے رہیں گے۔ کانگریس کو یہ کہہ کر کچھ دنوں کی مہلت مل جائے گی لیکن دونوں وزرا کو دیر سویر استعفیٰ دینا ہی پڑے گا۔ بلکہ قانونی کارروائی سے بھی مقابلہ آرا ہونا پڑسکتا ہے کیونکہ کوئلہ گھوٹالے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ہم اشونی کمار کے بارے میں کوئی رائے زنی نہیں کرسکتے لیکن جہاں تک ریل منتری پون کماربنسل کا سوال ہے وہ کیوں نہیں دیں گے استعفیٰ؟ ممکن ہے یوپی اے سرکار کو کرناٹک چناؤ میں کامیابی طاقت دے دے لیکن پون بنسل کو بچانے کابہانہ نہیں مل سکتا۔ ریلوے بورڈ میں ملائی دار عہدہ حاصل کرنے کے لئے بھانجے کو دی گئی رشوت کو وزیر موصوف کیسے جھٹلائیں گے؟ ریلوے بورڈ کے ممبر مہیش کمار1975ء ریلوے میں ہیں اور ان کے اس لمبے تجربے کی طرح بنگلورو کی ریل ٹھیکیدار کمپنی منجوناتھ کابھی بڑا تجربہ ہے۔اتنے تجربے کار لوگ کروڑ روپے کی رقم کا داؤں وجے سنگلا کے ساتھ لگانے کو تیار کیسے ہوگئے؟یہ سوال اہم اس لئے ہے کہ فون ٹیپنگ کے دوران سی بی آئی کو ریل منتری پون کمار بنسل کا ذکر سیدھے سیدھے تو نہیں لیکن اشارہ صاف ہے کہ اس پر کون یقین کرے گا کہ وجے سنگلا ریل وزارت میں اتنا دبدبہ رکھتے ہیں کہ اپنے دم خم پر ریلوے بورڈ میں کسی کی تقرری محض پیسے کے زور پر کروا لیں؟ دراصل وجے سنگلا صرف ریل منتری کا بھانجہ ہی نہیں بلکہ وہ اپنے ماما شری کے چناوی حلقے کا سیاسی انتظام بھی دیکھتے ہیں اور چناؤ کے دوران بڑے کرتا دھرتا ہوتے ہیں اس لئے وجے کا اپنے ماما شری پر کتنا اثر ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بنسل کے بھانجے وجے سنگلا چندی گڑھ میں سب سے زیادہ طاقتور اشخاص میں سے ایک مانے جاتے ہیں۔ کروڑ ہی نہیں اربوں کی زمین کی جائیداد کے مالک وجے سنگلا کام کرنے کرانے میں ماہر شخص کے طور پر مانے جاتے ہیں۔ چندی گڑھ کو جاننے والے افسر اور کاروباری لوگوں کا کہنا ہے کہ وجے سنگلا پبلک میں پون بنسل کے ساتھ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت نہیں دکھائی پڑتے تھے لیکن پیچیدہ سے پیچیدہ کاموں میں ان کا ضرور اثر دکھائی پڑتا تھا۔ کہیں ریلوے کا کام اٹک جائے تو وجے کے پاس جائیے جیسی بات تھی۔ شری پون بنسل اور وجے سنگلا کے دوہرے رشتے کے بارے میں چل رہی جانچ سے پتہ چل جائے گا کہ وجے سنگلا کرائے کے مکان میں اربوں کے مالک کیسے بن گئے؟ ایک وقت وہ پنچکولہ میں کرائے کے مکان میں رہنے کے لئے وجے نے ماما شری کو خود پھنسایا۔ آج وجے سنگلا کے پاس چندی گڑھ میں چار ایکڑ کے مکان کے ساتھ لمبا چوڑا مال ہے۔ اس مال کے لئے 100 کروڑ سے زیادہ تو کنورجن چارج دیتے ہیں۔ چندی گڑھ سے ملحق بستی میں فیکٹری آس پاس اور کئی فیکٹریاں ہیں اور چندی گڑھ سے ہی لگے جکر پور میں ایک نامی اسکول ہے۔ پنجاب کے چندی گڑھ میں کاروبار ہے اور کئی جگہ ریئل اسٹریٹ کے دھندے سے لیکر دہلی تک مہنگی جگہوں پر وجے نے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں۔سچائی بتاتی ہے کہ بھانجے کی کمپنیوں میں ا ن کے رشتے دار اونچے عہدوں پر تو ہیں ہی ،سیاست میں پون بنسل کی ترقی کے مطابق اس کے بھانجے کی کاروباری اسٹریٹ بھی پھلتی پھولتی رہی ہے۔ کبھی ایک ریل حادثے پرلال بہادر شاستری نے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن اب گھوٹالوں میں اپنے رشتے داروں کے ملوث ہونے پر بھی منتریوں کو عہدہ چھوڑنے کے لئے احلاقی طور سے مجبور نہیں کرتی۔ فی الحال حکمت عملی مات کے ذریعے سرکار اپنے داغی وزرا کو بھلے ہی بچا لے لیکن کتنے دن تک بچائے گی؟ دیر سویر پون بنسل کو استعفیٰ تو دینا ہی پڑے گا۔
(انل نریندر)

چینی فوج پیچھے ہٹی پر کس قیمت پر؟

مشرقی لداخ کے دولت بیگ اولڈی علاقے میں چینی فوج نے15 اپریل کو19 کلو میٹر اندربھارت کی سرحد میں گھس کر اپنے تمبو گاڑھ لئے تھے اس کے جواب میں ہندوستانی فوج نے بھی چینی فوج کے خیموں کے سامنے اپنے تمبو گاڑھ لئے تھے۔ اس طرح20 دنوں تک آمنے سامنے فوجیں کھڑی رہیں۔ رشتوں میں کشیدگی بڑھنے لگی تھی ۔ پھر بھارت سرکار نے اعلان کردیا کہ چینی فوجیوں نے اپنے تمبو اکھاڑ لئے ہیں اور وہ جتنا آگے بڑھے تھے وہ پیچھے لوٹ گئے جہاں کبھی وہ تعینات تھے۔ وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اسے سرکار کی بڑی ڈپلومیٹک جیت قراردیتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔ آہستہ آہستہ اصلیت سامنے آنے لگی ہے۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے50 فوجی واپس لوٹ گئے۔لیکن جو بات ہے عوام کو نہیں بتائی گئی وہ یہ تھی کہ سودے بازی کی گئی اور اسکی ایک شرط یہ تھی کہ اگر چینی فوجی 19 کلو میٹر پیچھے ہٹیں گے تو بھارتیہ فوج بھی پیچھے ہٹے گی۔ 14 سال پہلے کارگل میں اپنی سرزمین کو خالی کرانے کیلئے جان کی بازی لگانے والی ہندوستانی فوج کے لئے ڈی بی او سیکٹر میں پیچھے ہٹنے کی جیت حقیقی طور سے شرمناک ہارہے۔ بھارتیہ فوج کو لداخ سیکٹر میں اپنی ہی زمین پر34 کلو میٹر پیچھے اس لئے ہٹنا پڑا کیونکہ سفارتی قدم کے طور پر اسے چین سے مقابلہ نہیں کرنا تھا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جارہا ہے کہ لداخ سیکٹر میں چین کی لال فوج کے مٹھی بھر جوانوں نے ہندوستانی فوج کو بغیر گولی چلائے پیچھے کھدیڑ دیا۔ یہ ہی نہیں بلکہ معاہدے کے تحت اور بھی کئی شرطوں کی تعمیل ہوئی۔ جب خبر آئی کے چین کی فوج اپنے قدم پیچھے ہٹانے کی بات مان گئی تو ہندوستان می خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن بھارتیہ فوج میں اس کولیکر خوشی نہیں تھی۔ ایسا اس لئے کہ ہندوستانی علاقے میں بنائے گئے لال فوج کے ٹھکانوں سے محض300 کلو میٹر دوری پر کیمپ لگائے بھارتیہ جوانوں کو اب اور 15 کلو میٹر پیچھے ہٹنے کا آدیش سنادیا گیا۔ذرائع کے مطابق چینی فوج اسی شرط پر علاقہ خالی کرنے کو راضی ہوئی تھی۔ ہندوستانی فوج دراستے سے آگے اب گشت نہیں کرے گی اور نہ ہی کوئی فوجی سرگرمی چلائے گی اور عام آدمی کی طرح جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عبداللہ بھی لداخ میں گھس پیٹھ کرنے والی چینی فوج کے واپس لوٹنے پر خوش تو ہیں لیکن یہ بات ان کے گلے نہیں اتررہی آخر ہندوستانی فوج کس علاقے کو خالی کرکے لوٹی ہے۔ پیر کو عمر عبداللہ نے کہا مجھے خوشی ہے کہ چینی فوج 19 دنوں تک ہمارے علاقے میں زبردستی پڑاؤ ڈالنے کے بعد لوٹ گئی۔ بتایا جارہا ہے چینی فوج نے ہندوستانی فوج کے ذریعے متعلقہ علاقے کو خالی کرنے کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔ عمر عبداللہ نے سوال کیا کے میری سمجھ میں نہیں آتا کے آخر ہندوستانی جوان کس علاقے سے ہٹے ہیں؟ ہم تو اپنے ہی علاقے میں تھے۔ فوجیوں نے ہی یہاں گھس پیٹھ کی تھی اس لئے ان کا ہٹنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ہندوستانی فوجیوں کا اپنا علاقہ خالی کر لوٹنا گلے نہیں اترتا۔ اس سوال پر مرکزی حکومت کو پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

08 مئی 2013

اپنے عیبوں کو چھپانے کیلئے یہ سرکار کسی بھی حد تک جاسکتی ہے

جس ڈھنگ سے سی بی آئی نے ریلوے وزیر پون کمار بنسل کے بھانجے کو گرفتار کیاہے اور ان کے ذریعے گھوٹالے کا پردہ فاش کیا ہے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سی بی آئی آہستہ آہستہ سرکاری چنگل سے نکل رہی ہے یا یوں کہیں کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا سپریم کورٹ کے سخت رویئے سے گھبرا گئے ہیں اور عدالت نے جو انہیں کوئلہ گھوٹالے میں ڈانٹ لگائی اس کا اثر ہونے لگا ہے یا پھر انہیںیہ ڈر ستا رہا ہے کہ کہیں اگلی تاریخ میں سپریم کورٹ ان کو ہی کٹہرے میں نہ کھڑا کردے اور سیدھی کارروائی کرڈالے؟ وجہ جو بھی ہو ریل منتری کے بھانجے کا پردہ فاش کرکے سی بی آئی نے یہ دکھانے کی کوشش ضرور کی ہے کہ وہ اب سرکار کے اشاروں پر نہیں چلتی اورمنصفانہ جانچ کرے گی۔ کوئلہ گھوٹالے پر سپریم کورٹ میں ایک اہم حلف نامہ داخل کرنے سے ایک دن پہلے سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا نے زور دیکر کہا کہ اس معاملے میں ایجنسی کی جانچ منصفانہ اور صحیح راہ پرچل رہی ہے اور کسی بھی ملزم یا مشتبہ کو بخشا نہیں جائے گا۔ اب سرکار کو اس بات کی تشویش جتائی جارہی ہے اگر سی بی آئی اپنی پر اتر آئی تو کئی دبے معاملے اٹھ سکتے ہیں۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا نے سپریم کورٹ میں داخل چارج شیٹ میں مانا کہ کوئلہ گھوٹالے کی جانچ رپورٹ میں قانون منتری و اٹارنی جنرل کوئلہ وزارت و پی ایم او کے حکام کے کہنے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ 9 صفحات کے حلف نامے میں سنہا نے کہا کہ رپورٹ کے مسودے قانون منتری اشونی کمار اور اٹارنی جنرل جی ای واہنوتی اور وزیر اعظم کے دفتر اور کوئلہ وزارت کی تجاویز پر ترمیم کی گئیں۔ اشونی کمار اور واہنوتی نے تمام الزاموں سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ رپورٹ کے مسودے میں تبدیلی کے لئے ان کی طرف سے کوئی تجویز نہیں آئی ہے۔ واہنوتی نے تو یہاں تک دعوی کیا تھا کہ انہوں نے پروگریس رپورٹ کا مسودہ تک نہیں دیکھا۔سنہا نے ان دعوؤں کو جھٹلاتے ہوئے مانا کہ جانچ کی پروگریس رپورٹ کو لیکر تین ملاقاتیں ہوئیں تھیں اور وائٹ پیپر میں سی بی آئی چیف نے یہ بھی کہا کہ اگر انجانے میں ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کے لئے وہ بغیر شرط معافی مانگتے ہیں۔ جانچ ایماندار افسر کررہے ہیں جو پوری آزادی کے ساتھ کورٹ کی ہدایت کی مطابق چلتی رہے گی۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے حلف نامے کے بعد سرکار کوا پنی صفائی میں کچھ کہنے کو باقی نہیں رہ گیا ہے لیکن یہ طے ہے کہ وہ اب بھی ایسا کرے گی ۔وہ اپنی کارروائیوں کو ہر ممکن طریقے سے جائز ٹھہرانے کی کوشش کرے گی۔ اس سے اس کی جگ ہنسائی کے علاوہ اور کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ کسی بھی سرکار کے لئے اس سے زیادہ بے عزتی کیا ہوسکتی ہے کہ سی بی آئی سپریم کورٹ کے سامنے حلف نامہ داخل کر اس کی پول کھولے؟ اس رپورٹ کو بدلوانے میں جس طرح اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس سے تو یہ ہی ثابت ہوتا ہے سرکار نے ہر حال میں سچائی چھپانے کیلئے کمر کس لی تھی۔ اور یہ بیحد شرمناک اور قانونی حکمرانی سے کئے جانے والا کھلا کھلواڑ ہے۔ ایسی سرکار عزت کی مستحق نہیں ہوسکتی جو چوری چھپے کسی جانچ رپورٹ میں چھیڑ چھاڑ کرے۔ اب سوال محض یہ نہیں کہ قانون منتری کا کیا ہوگا بلکہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر کا افسر کس کے اشارے پر جانچ رپورٹ میں ردوبدل کررہا تھا؟ کیا پی ایم او بغیر پی ایم کی مرضی کے اس طرح کے کام کرنے کا حق رکھتے ہیں؟ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کے حلف نامے سے صرف یہ ہی نہیں ثابت ہوتا کے سرکار سچ گلا گھونٹنے کے لئے کس حد تک جاسکتی ہے بلکہ یہ بھی صاف ہورہا ہے کہ حکمرانی کی اعلی سطح پرکس حد تک گراوٹ آئی ہے۔ اب یہ کہنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی کہ مرکز ی موجودہ سرکار گھوٹالے کی علامت بن گئی ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ گھوٹالوں کے تار جیسے جیسے اعلی عہدوں پر قابض اشخاص اور ان کے دفتروں اور ان کے سگے رشتے داروں سے جڑتے نظر آرہے ہیں ویسے ویسے سرکار انہیں لیکر بے پرواہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ابھی ریل منتری پون بنسل کے کردار کی چھان بین قاعدے سے شروع بھی نہیں ہوپائی کہ رنجیت سنہا نے اپنے حلف نامے سے یہ نیا بم پھوڑ دیا ہے۔ ان حقائق کے عام ہونے کے بعد ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ موجودہ سرکار اپنے عیبوں کو چھپانے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ وزیر اور افسروں کو یہ ہمت کرنے میں تب بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی جب کوئلہ گھوٹالے کی جانچ کی نگرانی سپریم کورٹ کررہی ہے۔ سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ جس دیش میں ایک عام آدمی کے پیر تھانے تک جانے سے کانپتے ہیں وہیں بڑے عہدوں پر بیٹھے اشخاص میں اتنی ہمت کہاں سے آتی ہے؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ گذشتہ برسوں میں ان میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ ہمارے کالے کارنامے اول تو سامنے آئیں گی ہی نہیں اگر آ بھی گئے تو کیا ہو، بہت ہوا تو سی بی آئی جانچ کرلے گی اور وہ سی بی آئی جس کی رپورٹ کیسے جوڑی توڑی جاتی ہے وہ اس معاملے میں عام ہوچکی ہے۔رنجیت سنہا دعوی کررہے ہیں کہ تمام تبدیلیوں کے باوجود کوئلہ گھوٹالے کی جانچ رپورٹ میں یوں ہی تبدیلی نہیں ہوئی ہے لیکن اس پر آسانی سے یقین نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے بھی ایسا ہوا ہے یا نہیں یہ دیکھنے کا کام اب سپریم کورٹ کا ہے۔ سپریم کورٹ کو بہت سے مسئلوں پر فیصلہ لینا ہوگا کہ کیا سرکار کو جانچ ایجنسی کی رپورٹ بدلنے کا اختیار ہے؟ کیا اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگ اقتدار چلانے کے نام پر کچھ بھی کرسکتے ہیں؟ قانون منتری اور دونوں وزارتوں کے افسر پی ایم او کے افسر ،عدالتی افسر ان سب پر سپریم کورٹ کیا کوئی براہ راست تبصرہ کرے گی ۔دیش دیکھ رہا ہے کہ اگر سرکار کو طریقے کی دھاندلے بازی سے کوئی روک سکتا ہے تو وہ جانتا ہے سپریم کورٹ۔ جنتا تو چناؤ آنے پر ہی جواب دے گی فی الحال معاملہ تو عدالت کو ہی طے کرنا ہے۔ 
(انل نریندر)

مکیش انبانی کو سرکاری سکیورٹی دینے پرسپریم کورٹ ناراض

عام آدمی کی سلامتی کو بھگوان بھروسے رکھتے ہوئے بھارت کے سب سے امیر شخص مکیش انبانی کو سکیورٹی مہیا کرانے پر سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے جواب طلب کیا ہے۔جسٹس جی ایس سنگھوی کی بنچ نے بدھوار کو کہا کہ اگر سکیورٹی کافی ہوتی تو دہلی میں پانچ سال کی بچی سے بدفعلی نہ ہوتی۔ امیر لوگ تو پرائیویٹ سکیورٹی رکھ سکتے ہیں پھر بھی انہیں سرکاری سکیورٹی دی جارہی ہے۔ پچھلے مہینے وزارت داخلہ نے انبانی کو زیڈ سکیورٹی مہیا کرائی تھی۔ بنچ نے مکیش انبانی کے نام کا ذکر کئے بغیر کہا کہ ہم نے اخباروں میں پڑھا کہ وزارت داخلہ نے ایک شخص کو سی آئی ایس ایف سکیورٹی مہیا کرائی ہے۔ بنچ نے کہا کہ سرکار ایسے لوگوں کو کیسے سکیورٹی مہیا کراسکتی ہے؟ اگر انہیں کسی طرح کی دھمکی کا اندیشہ تھا تو وہ پرائیویٹ ملازمین رکھ سکتے تھے۔ بنچ نے کہا پہلے پنجاب میں بزنس مین کو سکیورٹی دینے کی روایت تھی لیکن یہ اب ممبئی پہنچ گئی ہے۔ حالانکہ بنچ نے کہا ہمیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کس شخص کو ایکس وائی زیڈ زمرے کی سکیورٹی مہیا کرائی گئی۔ ہمیں صرف عام آدمی کی سلامتی کی فکر ہے۔ بڑی عدالت اترپردیش کے ایک باشندے کے ذریعے داخل عرضی پر سماعت کررہی تھی جس میں سرکار کے ذریعے دی جانے والی لال بتی کا بیجا استعمال ہورہا ہے۔ بنچ نے کہا کہ سرکار بزنس مین کو سکیورٹی مہیا کرا رہی ہے لیکن عام آدمی کی سکیورٹی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ صنعت کار مکیش انبانی کو زیڈ زمرے کی سکیورٹی مہیا کرانے سے سرکار کے فیصلے کو لیکر لیفٹ پارٹیوں نے بھی نکتہ چینی کی تھی ، حالانکہ بعد میں سرکار کی طرف سے صفائی دی گئی کہ مکیش انبانی کی سکیورٹی پر ہر مہینے خرچ ہونے والے 15 سے16 لاکھ روپے مکیش انبانی خود برداشت کریں گے۔ سوال یہ اٹھتا ہے جب 15 سے16 لاکھ روپے ماہانہ خرچ کی بات کی جاتی ہے تواس میں کیا تمام تام جھام کا خرچہ بھی شامل ہے(4-4 کاریں، کمیونی کیشن سیٹ اپ) زیڈ سکیورٹی پر آتا ہے۔ یا یہ رقم صرف ملازمین کی تنخواہ ہے اور اگر مکیش انبانی اتنا خرچ خود برداشت کررہے ہیں تو وہ پرائیویٹ سکیورٹی کیوں نہیں لے لیتے؟ انہیں سرکاری سکیورٹی کیوں چاہئے؟ بنچ نے وی آئی پی کو سکیورٹی مہیا کرانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حفاظت سرکاری خزانے سے کی جارہی ہے یہ کیسی بکواس ہے ،عام آدمی کی سلامتی کا کیا ہوگا۔ عدالت نے کہا جن لوگوں پر مقدمے چل رہے ہیں ان کو ملی سلامتی واپس لی جانی چاہئے اور سرکار کو لال بتی کا بیجا استعمال روکنا چاہئے۔ ایک بار لال بتی روک دیجئے ان کی آدھی حیثیت ختم ہوجائے گی۔ اس کا استعمال اب حیثیت اور اسٹیٹس سمبل بن گیاہے۔ یہ برطانوی دور جیسا ہے۔
(انل نریندر)

07 مئی 2013

چین کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمت اور قوت ارادی ضروری

کچھ دن پہلے ہی چین کی نئی حکومت نے ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کی سمت میں پانچ نکاتی فارمولے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت اور چین کو باہمی رشتوں کو آگے بڑھانے کے لئے ڈپلومیٹک کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ چین کی اس پہل کا ہندوستان نے خیر مقدم کیا تھا اور امید کی تھی کے برسوں سے لٹکے مسئلے اب مل بیٹھ کر سلجھائے جائیں گے لیکن جیسا ہمیشہ ہوتا آرہا ہے چین کے قول اور فعل میں کافی فرق ہے۔ بھارت کوزیادہ دن انتظار نہیں کرنا پڑا اور چین نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا۔ لداخ کے دولت بیگ اولڈی سیکٹر میں چین بھارت کی سرحد میں19 کلو میٹر تک گھس آیاتھااور اس نے نہ صرف اپنے تمبو گاڑھ لئے تھے ۔ اب تازہ اطلاعات ملی ہیں کہ چین نے اپنے فوجی واپس بلا لئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بھارت۔ تبت پولیس کے جوانوں کے ذریعے اپنی مستعدی دکھانے کی وجہ سے چینی فوجیوں نے اپنے قدم پیچھے ہٹا لئے ہیں۔خیال رہے چینی فوجیوں نے جو ٹینٹ لگائے وہ کنٹرول لائن کے 19 کلو میٹر دوری پر تھے۔ ایک انگریزی اخبار کے مطابق چین کے ذریعے ہندوستان کی سرحد میں قبضہ کرنے کی وجہ بھارت 750 مربع کلو میٹر کے خطے سے اپنی پکڑ گنوا سکتا ہے کیونکہ ایسا نہیں لگ رہاتھا کہ چین اب شاید ہی واپس جائے۔ ذرائع کی مانیں چین کی فوجوں کے واپس ہٹنے کے پیچھے اس ماہ ہونے والے چینی صدر لی چنگ فنگ کے دورہ ہند کے پیش نظر یہ پیشرفت ہوئی ہے۔چین کے ذریعے کنٹرول لائن پر قبضہ کوئی پہلی بار نہیں کیا گیا تھا۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 2010 سے لیکر2011 ء کے درمیان وہ 750 سے زیادہ بار قبضہ کرچکا ہے۔اس مرتبہ چین نے نہ صرف گھس پیٹھ کی بلکہ ٹکراؤ کا بھی راستہ اپنایاتھا۔ تعجب یہ ہے کہ اس کے ذریعے سرحد پر ایسے وقت میں حرکت کی گئی جب اس کے وزیراعظم کو بھارت آنا ہے اور ہندوستانی وزیر خارجہ کا دورۂ چین بھی طے ہے۔ ایسے میں موجودہ کشیدگی اور لی چنگ فنگ کے دورے کو آپس میں جوڑ کر دیکھا جانا غلط نہ ہوگا۔ یہ پرکھا ہوا سچ ہے کہ جب بھی چین کی بڑی لیڈر شپ بھارت آتی ہے یا ہندوستانی لیڈرشپ چین جاتی ہے تو اس سے پہلے چین بھارت کو دباؤ میں لینے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے اپناتا ہے۔ دراصل چین کو فکر ہے کہیں بھارت مذاکرات کے دوران تبت مسئلے نہ اچھال دے۔ برہمپتر کا مسئلہ نہ چھیڑدے۔ چین کو عالمی پس منظر میں بھارت کے بڑھتے قدم کی بھی تشویش ستا رہی ہے۔ سوال اب یہ اٹھتا ہے کہ بھارت چین کو کیا جواب دے گا؟ چین کو یہ بھی ناگوار گذر رہا ہے کہ بھارت اس خطے میں انفرسٹریکچر کو مضبوط کرنے میں لگا ہوا ہے۔ موجودہ یوپی اے سرکار کو اس مسئلے کے حل میں یہ آسانی ہوگی کہ اسے لڑنا نہیں پڑے گا۔ وہ برسوں تک چینیوں کے خود لوٹ جانے کی راہ دیکھے۔سمڈرنگ علاقے میں آئے چینی فوجی 7 سال بعد لوٹے تھے۔اب موجودہ چینی دراندازی کے بارے میں بھی بھارت کو یہی تسلی تھی کہ وہ اس بحران کے سلجھنے کا صبر سے انتظار کرے اور اسی حکمت عملی پر وہ عمل پیرا تھا اور چینی فوجیوں کے چلے جانے سے اس کی یہ ڈپلومیسی کافی حد تک کامیاب رہی۔موجودہ معاملے کو لمبا کھینچنے کا ذمہ میڈیا پر تھونپنے کے پیچھے یہ ہی ایک تنگ نظری ہے۔ اس سلسلے میں منموہن سنگھ سرکار یہ نہیں دیکھ رہی کہ ایل او سی پر تنازعہ روکنے کے چارچار سمجھوتے اور یہاں تک کہ ابھی جنوری میں کئے گئے اقدامات کو چین ہی تلانجلی دے رہا ہے۔ ابھی فوج کی یونیفائڈ کمان میں وزیر دفاع نے دوہرایا ہے کہ سارے متبادل کھلے ہیں۔ وہ پچھلے20 دنوں سے یہ ہی بات کہتے آرہے ہیں۔ اب یہ معاملہ لوکل نہیں رہا جسے علاقائی کمانڈرسلجھانے میں اہل ہوں۔چین کے ذریعے تمبو گاڑنے کے پیچھے اس کی دفاعی پالیسی کا حصہ ہے۔ وہاں سے قراقرم پر نظر رکھی جاسکتی ہے اور ہر ایک موسم کے مطابق قومی سطح پرنگرانی کی جاسکے۔ چین یہاں جمنے کے نظریئے سے آیا تھا۔ یہ ہمالیہ خطے میں بھارت کی گھیرا بندی کی ہی ایک کڑی ہے۔ ایک دشمن نظریئے سے موجود چین بھارت کو حکمت عملی کی شکل سے ہمیشہ الجھن میں رکھے گا۔ اگر چین یہاں سے نہیں ہٹتا یا نہیں ہٹایا جاتا تو بھارت کے لئے بھی اس سے نمٹنا ممکن نہیں تھا۔ ڈی بی او کی جغرافیائی اہمیت کے نقطہ نظر سے دفاعی موافقت نہ ہونے کے باوجود بھارت سرکار کی ڈپلومیٹک ناکامی کا ہی نتیجہ ہے کہ چین بھارت کے دیگر پڑوسی ملکوں نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش، میانمار اور پاکستان میں اپنی دخل اندازی بڑھاتا جارہا ہے۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میزائل اسٹور کرنے کے لئے 22 سرنگیں بنانے کی کوشش میں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ چین بھارت پر حملہ شاید نہ کرے لیکن بھارت سرکار کی لاچاری کی وجہ سے زمین ہتھیانے سے وہ چوکے گا نہیں۔ بھارت کوجوابی کارروائی کرنی ہوگی تاکہ وہ آئندہ دراندازی کی ایسی کوئی حرکت نہ کرے اس کے لئے قورت ارادی ، ہمت اور عزم کی ضرورت ہے جو اس یوپی اے سرکار میں دکھائی نہیں پڑتی۔اب چین نے اپنی فوجیں ہٹا لی ہیں لیکن بھارت اور چین اس فیس آف پوائنٹ سے ایک ساتھ ہٹنے کو راضی ہوگئے ہیں حالانکہ ابھی یہ صاف نہیں ہوا کہ چینی فوجیں واپس اسی جگہ چلی گئی ہیں جہاں پر وہ 15 اپریل سے پہلے موجود تھیں۔
(انل نریندر)

بلا تاخیر رام سیتو کو قومی وراثت قرار دیجئے

بھگوان رام کے بنائے رام سیتو کو توڑ کر سیتو سمندرم پروجیکٹ کی تعمیل کے لئے جہاں مرکزی سرکار اڑی ہوئی ہے وہیں محترمہ جے للتا کی انا ڈی ایم کے سرکار نے مرکز کے اس اہمیت کے حامل پروجیکٹ کی پوری طرح مخالفت کی ہے۔اس نے عدالت میں کہا ہے کہ رام سیتو کو قومی وراثت قرار دیا جائے۔ کیونکہ مرکزی پروجیکٹ سمیت متبادل راستوں کو ماحولیاتی ماہرین آر کے پچوری کے کمیٹی پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔ مرکزی حکومت نے پچوری کمیٹی کومسترد کرتے ہوئے عدالت نے فروری میں کہا تھا کہ 829 کروڑ روپے خرچ کرنے کے بعد اس پروجیکٹ کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ میں تاملناڈو سرکار کی جانب سے داخل حلف نامے میں کہا گیا ہے پچوری کمیٹی متبادل راستہ الائنمنٹ 4 اے اور6 اے کو رپورٹ میں مسترد کرچکی ہے۔ رپورٹ میں کمیٹی نے صاف کیا ہے کہ سیتو سمندرم پروجیکٹ کا متبادل راستہ قابل قبول نہیں ہے اور یہ عوامی مفاد میں بھی نہیں ہے۔ سیتو سمندرم پروجیکٹ کی ہمیشہ سے مخالف رہی جے للتا سرکار نے کہا اس پروجیکٹ کو بیچ میں ہی چھوڑدیا جانا چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت اگست تک کے لئے ملتوی کردی ہے۔ مرکزی جہاز رانی وزارت کی جانب سے دائر حلف نامے پر جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی سمیت دیگر فریقین نے سخت اعتراض جتایا تھا۔ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ میں مرکز کے اس اہم پروجیکٹ کے خلاف عرضیاں دائر ہیں۔ حلف نامے میں بھگوان رام کے وجود پر سوال اٹھایا گیا تھا لیکن دیش بھر میں تلخ رد عمل کے بعد سرکار کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا اور ترمیم شدہ حلف نامہ دائر کرنا پڑا۔ اس میں کہا گیا تھا سرکار سبھی مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ سرکار 829 کروڑ روپے جو اس بیہودہ پروجیکٹ پر خرچ کرچکی ہے اس کا رونا رو رہی ہے لاکھوں کروڑوں کا گھوٹالہ کرنے کے بعد بلی حج کو چلی۔ اگر سرکار کو 829 کروڑ روپے کی اتنی ہی فکر ہے تو کیوں نہیں وہ اس کا حساب مانگ لیتی؟ پتہ چلے گا کہ اس میں کروناندھی اینڈ کمپنیاں بھی شامل تھیں جنہوں نے بھگوان رام کو بیچ کر اپنی جیبیں بھرلی ہیں۔ پیسہ کھانے کی نیت سے یہ پروجیکٹ بنایا گیا تھا۔ مرکز میں کیونکہ لیڈر شپ کمزور ہے اس میں ڈی ایم کے کی مخالف کرنے کی ہمت نہیں ہے اس لئے وہ اوٹ پٹانگ حلف نامے دائر کر بے تکی دلیلیں پیش کررہی ہے۔ رام سیتو پوری دنیا میں کروڑوں ہندوؤں کی عقیدت سے وابستہ ہے۔ رامائن ہر گھر میں پڑھی جاتی ہے۔ بھگوان رام ہنومان جی گھر گھر میں پوجے جاتے ہیں۔ ان کے بنائے سیتوتو یہ راون ونش کے کیسے ہوسکتے ہیں؟ کوئی بھی سرکار اس سیتو کو نہیں ہٹا سکتی۔ یہ عقیدت کا سوال ہے اور استھا سے ٹکرانا نہایت خطرناک ہوسکتا ہے۔ اب بھی مرکزی سرکار ہمت دکھا سکتی ہے اور سیتو کو قومی وراثت قراردیکر ہندوؤں کا دل جیت سکتی ہے جس کی اسے اس وقت سخت ضرورت ہے۔ جے شری رام۔ جے گنیش۔
(انل نریندر)

05 مئی 2013

کون تھا سربجیت اس کی کہانی اسی کی زبانی

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں آئی ایس آئی کے ذریعے قتل کی سازش رچی تھی اور بدنصیب شکار سربجیت سنگھ کو آخر کار وطن کی مٹی نصیب ہوئی۔ زندہ تو وہ نہیں لوٹ سکا لیکن تابوت میں ضرور لوٹا۔ سربجیت سنگھ کو پاکستان نے اذیتیں دیکر باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت مارا۔ بھارت میں ہوئے سربجیت کے پوسٹ مارٹم سے پتہ لگا کہ قاتلوں کا ارادہ سربجیت سنگھ کو موت کی نیند سلانا تھا۔ امرتسر کے قریب ہسپتال میں 6 ڈاکٹروں کی ٹیم نے پوسٹ مارٹم کیا جس میں انکشاف ہوا اس کے جسم میں گوردہ اور دل نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کا اندازہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں نکال لی گئی ہوں گی۔ سربجیت پر حملہ26 تاریخ کو نہیں بلکہ20 دن پہلے ہوا تھا۔ سربجیت کے جسم پر کئی زخموں کے نشان پائے گئے جو اشارہ کرتے ہیں جیل میں اس پر حملہ کرنے والے لوگ یقینی طور پر دو سے زیادہ تھے۔ اس کے جسم کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایک اکیلا شخص اس جیسے ہٹے کٹے شخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یقینی طور پر زیادہ لوگوں نے اس پر حملہ کیا۔ ڈاکٹر نے بتایا سربجیت کے جسم پر زخم 6-7 دن پرانے تھے۔ سربجیت کی کھوپڑی دو حصوں میں ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس کے جبڑے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ سربجیت کی پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔ کراچی کی سینٹرل جیل میں سال1986-87 کے درمیان صدر زرداری کے ساتھ جیل میں رہے سابق ہندوستانی جاسوس محبوب الٰہی نے سربجیت پر ہوئے حملے کو آئی ایس آئی کی سازش قراردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں جیل حکام کی ملی بھگت رہی۔ حالانکہ حملہ کچھ دوسرے لوگوں نے کیا لیکن دو قیدیوں کو بلی کا بکرا بنایا گیا۔ الٰہی کا دعوی ہے کہ سال1977 میں جیل اور آئی ایس آئی کے حکام نے انہیں اس بات کی پوری چھوٹ دے رکھی تھی کہ ایک پاک نیتا کا قتل کردیا جائے جو اس وقت لاہور لکھپت جیل میں تھا۔ دیگر قیدیوں کے ذریعے سربجیت پر حملہ ناممکن ہے۔ میں خود پاک جیل میں چار سال رہ چکا ہوں۔میں اچھی طرح سے جانتا ہوں پاکستانی قیدی بھارتی یا بنگلہ دیشی قیدیوں پر کبھی حملہ نہیں کرتے۔ وہ لوگ الگ سیل میں رکھے جاتے ہیں۔ رہائی کی امید میں دو دہائی سے زیادہ وقت تک پاکستانی جیل میں بند رہے سربجیت کی کہانی تو ختم ہوگئی۔ ان پر جو گذری ان کی زبانی نہیں سن سکتے بس محسوس ہی کرسکتے ہیں مگر کارگل کی لڑائی کے بعد پاک جیل میں پانچ سال تک قید رہے ہندوستانی فوجی عارف کی آپ بیتی سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میرٹھ کے گاؤں منڈالی کا رہنے والا عارف فی الحال پنے میں تعینات ہے۔ عارف پر گذری اذیتوں کے بارے میں اس کے بھائی حامد نے بتایا کے پاکستانی جیل میں سب سے آخر میں ہندوستانی قیدیوں کو کھانا دیا جاتا ہے۔ دال کا پانی ،چاول میں کنکر اور کچھ کہنے پر گالیاں اورپٹائی۔ بہتر تھا کہ بھوکے سوجاؤ۔ بیمار ہوگئے تو ہوجاؤ، ہوا نہیں ملے گی۔ پاکستانی قیدی اس کی چادر چھین لیتے تھے تو کبھی اس کے کمرے کی بتی گل کردیتے تھے۔ کارگل جنگ کے دوران کشمیر کے درراس سیکٹر سے عارف پاکستانی سرحد میں چلا گیا تھا اور پاک فوجیوں نے اسے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا تھا۔ سربجیت کا ایسا اکیلا معاملہ نہیں جب پاکستانیوں نے اپنی بربریت اور ناقابل قبول برتاؤ کیا ہو۔ کارگل کی لڑائی کے دوران کیپٹن سورو کالیا کو پاکستانی فوجوں نے 15 مئی1994 کو پانچ جوانوں کے ساتھ قیدی بنا لیا تھا۔ 26 دنوں تک پاکستانی فوجیوں نے انہیں زبردست اذیتیں دیں ۔ آنکھیں نکال لی گئی تھیں اور ذاتی اعضا کو بھی کاٹ دیا تھا۔8 جنوری 2013 ء کو پاکستانی فوج کی بارڈر ایکشن ٹیم نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی۔ گھنے کہرے کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی فوج کے جوان ہندوستانی سرحد میں600 میٹر تک اندر گھس آئے۔ پاکستانی فوجیوں نے کنٹرول لائن پر تعینات ہندوستانی فوج پر بھی فائرننگ کی۔ اس میں فوج کا ایک جوان شہید ہوگیا۔ پاکستانی فوجیوں نے بربریت دکھاتے ہوئے دونوں ہندوستانی فوجیوں لانس نائک ہیمراج اور سدھاکر سنگھ کی لاشوں کو تہس نہس کردیا۔ ہیمراج کا سر کاٹ کر پاکستانی فوجی اپنے ساتھ لے گئے۔ چمیل سنگھ کو 15 جنوری 2013ء میں کوٹ لکھپت جیل میں جیل اسٹاف نے نل سے پانی بھرنے پر اتنا مارا کے دو دن بعد اسی جناح اسپتال میں جس میں سربجیت کو لایا گیا تھا اس کی موت ہوگئی۔ چمیل سنگھ کو جولائی2008ء میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سربجیت کون تھے اس پر کئی طرح کی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ پیش ہے پاکستان کی کوٹ لکھپت جیل سے لکھے گئے خط میں سربجیت سنگھ کی کہانی اس زبانی۔ پوری دنیا کو پتہ ہے کے میں سربجیت سنگھ پنجاب( بھارت) کا رہنے والا ہوں ۔ آج پاکستان کے شہر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں دن گذار رہا ہوں۔ میرا مقصد قارئین کو یہ بتانا ہے کے منجیت سنگھ نہیں سربجیت سنگھ ہوں۔ میں غلطی سے 29-30 اگست کی رات پاک سرحد میں داخل ہوگیا تھا۔ مجھے منجیت سنگھ بنا کر پیش کیا گیا۔ عدالت نے اس بات پر قطعی غور نہیں کیا کہ ملزم کو صفائی دینے کا موقعہ دیا جائے۔ لاہور بم دھماکے کے معاملے میں مجھے سزائے موت کا فیصلہ سنادیا۔ جس دن مجھے پکڑا گیا اسی دن مجھے ایف آئی یو کے حوالے کردیا گیا۔ اس ایجنسی کا کام بھولے بھالے ہندوستانیوں کو گمراہ کرنا اور ہندوستانی پنجاب میں دہشت گردی کو پھیلانا ہے۔ مجھے امیدتھی کہ غلطی سے سرحد کی خلاف ورزی کرچکا ہوں مجھے جلدہی چھوڑدیا جائے گا۔ لیکن قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ جب ایک جولائی 1991ء میں کورٹ میں پیش ہوا تو میں نے جج سے کہا میں منجیت سنگھ نہیں ہوں ،میرا نام سربجیت سنگھ ہے۔ جج نے مجھے یہ کہہ کر ٹال دیا میں پورا انصاف کروں گا لیکن ہرتاریخ پر پولیس نے گواہوں کے طور پر اپنے مخبروں کو پیش کیا۔ کئی گواہوں نے تو یہ کہہ دیا ہمیں پولیس مجبور کررہی ہے کے تم گواہ کو لاہور دھماکے کے زخمیوں نے بھی صاف کہا کہ ہمیں نہیں پتہ کون دھماکے کررہا ہے۔
جیل میں کچھ خط سربجیت نے دوسرے لوگوں کو بھی لکھے تھے جس سے اس کی بے گناہی اور نا انصافی کا پتہ چلتا ہے۔ سربجیت نے یہ خط اپنی بہن دلبیر کور ، کانگریس صدر سونیاگاندھی، بھاجپا لیڈر لال کرشن اڈوانی کو بھی لکھے تھے۔ سربجیت نے ایک خط وزیر اعظم کو بھی لکھا تھا جس میں رہائی کے لئے پاکستان سرکار پر دباؤ بنانے کی اپیل کی تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کی نہ ہی کوئی شناختی پریڈ کرائی گئی تھی اور نہ ہی سربجیت کے پاس سے کوئی برآمدگی ہوئی تھی۔ یہ خط جس کا میں نے ذکر کیا ہے وہ ان کے وکیل اویس شیخ کی کتاب ’سربجیت سنگھ کی داستان‘ سے لیا گیا ہے۔ سربجیت سنگھ کی باتوں سے پتہ چل گیا کہ بھارت سرکار کو اتنا تو غور کرنا چاہئے کہ وہ کھلے طور پر اعلان کرے کہ سربجیت سنگھ بھارتیہ خفیہ کا ایجنٹ نہیں تھا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...