Translater

18 مئی 2019

بہار میں آخری مرحلے کی سیٹوں کے لئے سنگرام

بہار میں دو دن میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تین ریلیاں اور کانگریس صدر راہل گاندھی نے جمعرات کو ریلی روڈ شو کر آخری مرحلے کی آٹھ سیٹوں کو ہر حالت میں جیتنے کی پرزور خواہش اور اس کی کوشش کی گواہی دے رہی ہے ۔دونوں خیمے اس آخری محاز کی فتح میں اپنا آخری داﺅں اسی حساب کھیلا ہے کہ جس سے ان کو زیادہ سے زیادہ سیٹیں ملیں ،مہا گٹھ بندھن کے پاس اس مرحلے میں پانے کے لئے بہت کچھ ہے گٹھ بندھن کے حساب سے یہ سبی آٹھ سیٹیں این ڈی اے کی ہیں ۔ہاں پچھلے چناﺅ میں ان میں سے دو سیٹوں کو جیتنے والی لوک جن شکتی پارٹی اب مہاگٹھ بندھن کے ساتھ ہے ۔جو اس پر بھاری ہے ۔مقصد اپنی سیٹوں کو بچانا راشٹریہ لوک سماج وادی پارٹی کے نام والی دو سیٹوں (کراواٹ اور جہان آباد)کو بھی اپنا بنانا سب کی زبردست کوششیں جاری ہیں ۔این ڈی اے نے بڑے نیتاﺅں کی سابق ٹولی بہار میں اتار دی ہے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ وغیرہ مختلف حلقوں میں گھوم رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ ششیل کمار مودی وغیرہ کی تو زبردست ریلیاں ہو ری ہیں ۔ویسے بڑے کانگریس غلام نبی آزاد شکتی سنگھ گوہل گھومنے لگے جو دوسری ریاستوں کے چناﺅ میں لگے تھے تیجسوی یادو نے چناﺅ میں پرچار کی تعداد اور بڑھا دی ہے دونوں فریقین کا روڈ شو زوروں پر ہے ۔پچھلے مرحلوں کے تجربوں سے این ڈی اے مہا گٹھ بندھن اپنی بنیادی ووٹوں کو محفوظ رکھنے کی لائن پر کام کر رہے ہیں ۔چھٹے مرحلے میں کئی حلقوں میں ووٹنگ پیٹرن نے اس کی ضرورت بتائی دوسرے کے ووٹ بینک میں سیندھ ماری کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی کو بھی تعبیر کرنے کی پر زور کوشش ہو رہی ہے ۔نیتاﺅں کو انہیں کی ذات برادری کے علاقوں میں گھمایا جا رہا ہے ۔لالو پرساد یادو کو کان و کان پیغام پہنچانے والی تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔19مئی کو پاٹلی پتر پٹنہ صاحب آرا ،نالندہ،جہان آباد،ساسا رام،بکسر وغیرہ میں ووٹ پڑیں گے 2014میں آٹھ میں سے چھ سیٹوں کو بھاجپ جے ڈی یو نے جیتا تھا ۔دو سیٹیں آل ایل ایس پی کے حصے میں آئیں تھیں ۔

(انل نریندر)

آخری9سیٹوں کے لئے بنگال میں گھمسان

عام چناﺅ کے درمیان مغربی بنگال میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان تشدد آمیز سیاسی ٹکراﺅ جاری ہے جس کے چلتے تیزی سے بدلے حالات کو دیکھ کر سوال کھڑا ہو رہا ہے کہ صوبے کی سیاست کیا موڑ لینے جا رہی ہے اور یہ حالات کیوں ہیں ؟بی جے پی کی بات کریں تو اس دفعہ بنگال سے پارٹی کو بے حد امیدیں ہیں ۔پارٹی صدر امت شاہ نے پھر دعوی کیا ہے کہ وہ ریاست کی 42میں سے 23سیٹوں پر جیت حاصل کریں گے ۔بی جے پی کے لئے یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگر اسے ہندی بیلٹ میں کچھ سیٹوں کانقصان ہوتا ہے تو بنگال سے اس کی بھرپائی کی جا سکے گی ۔مغربی بنگال میں ہر مرحلے میں ہوئے تشدد وہاں سیاست کے پرتشدد کردار کو تو ظاہر کرتا ہی ہے لیکن آخری مرحلے سے پہلے بھاجپا صدر امت شاہ کے روڈ شو میں ہوئے زبردست جھگڑے اور 19ویں صدی کے نامور سماج سدھارک اشور چندر ودیہ ساگر کی مورتی توڑے جانے کا واقعہ افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ قابل مذمت بھی ہے ۔اور حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ چناﺅ کمیشن کو مداخلت کر وہاں20گھنٹے پہلے ہی چناﺅ کمپین میں کٹوتی کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست کے پرنسپل ہوم سیکریٹری اور سی آئی ڈی کے اے ڈی جی کو ہٹانا پڑا جو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے لئے بڑا جھٹکا ہے ۔مغربی بنگال کی 42میں آخری نو سیٹوں پر 19تاریخ کو پولنگ سے پہلے کولکاتہ میں ہوئے تشدد سے سیاست ہی نہیں دیش کی سیاست بھی گرما گئی ہے تشدد کے بارے میں الزام تراشیوں کے درمیان ممتا نے بی جے پی سے سیدھا مورچہ لے کر جنتا کو یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ مودی شاہ سے ٹکر لینے میں اہل ہے۔وہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ مضبوط متابادل وہی ہے اقتدار مخالف ووٹوں پر اس کا فطری حق ہے ممتا بنرجی قریب 12سال پہلے اسی انداز میں تین دہائی پرانی لیفٹ حکومت کے سامنے کھڑی ہوئی تھیں اور اپنے مسلسل جد و جہد سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس کو پیچھے دھکیلا پھر خود لیفٹ کو ہرا کر اقتدار میں آگئیں ممتا بنرجی اس سیاسی ٹکراﺅ کو بنگالی وقار سے جوڑ کر بی جے پی کو آﺅٹ سائڈر پارٹی کی شکل میں پیش کرنا چاہتی ہیں ۔بی جے پی سرکار اور پارٹی سے ٹکر اکر یہ بھی پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ ٹی ایم سی بنگالی ،ضمیر کی لڑائی لڑنے والی اکلوتی پارٹی ہے اس حکمت عملی کے ساتھ وہ کولکاتہ کی سڑکوں پر اتر چکی ہیں۔

(انل نریندر)

آخری مرحلے میں سبھی پارٹیوں نے پوری طاقت جھونکی

ایک مہینے سے زیادہ چلے چناﺅی سفر کا آخری مرحلہ کیا ایکس فیکٹر بنے گا؟19مئی کو بہار کی آٹھ چنڈی گڑھ کی ایک ہماچل کی چار پنجاب کی 13سیٹوں اور یوپی کی 13 سیٹوں و بنگال کی نو سیٹوں اور جھارکھنڈ کی 3سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے اس میں کس سیاسی پارٹی کا کیا داﺅں چلے گا؟19مئی کو ہونے والے آخری مرحلے کے چناﺅ سے پہلے یہی سوال پوچھے جا رہے ہیں ۔11اپریل سے شروع ہوئے عام چناﺅ 19تاریخ کو 59سیٹوں پر ووٹ ڈلنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا ۔آخری لڑائی کتنی اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ لمبی تھکان والے چناﺅ مہم کے باوجود سبھی پارٹیوںنے اپنی ریلیوں کی تعداد بڑھا دی ہے ۔بی جے پی کے لئے ان سیٹوں پر سب سے زیادہ چنوتی ہے ۔2014میں بہار ،اترپردیش ،ہماچل،کی ان سیٹوں پر جو بھاجپا کا گھڑ مانی جاتی ہیں اس کے لئے انتہائی اہم بن گئی ہیں ۔چنڈی گڑھ کی واحد سیٹ پر بھی کمل کھلا تھا ۔مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ کی سبھی سیٹیں بی جے پی کو ملی تھیں ۔پارٹی کے سامنے اپنے ان علاقوں کو بچانے کے ساتھ مغربی بنگال میں نو سیٹوں پر کھاتہ کھولنے کی بھی چنوتی ہے ۔اس نے اس بار سب سے زیادہ محنت اسی ریاست میں کی ہے ۔اترپرد طیش کی جن 13سیٹوں پر چناﺅ ہونے ہیں ان میں وارانسی بھی ہے ۔جہاں سے پی ایم مودی کھڑے ہیں ۔وارانسی کو چھوڑ کر باقی جگہ سخت مقابلہ مانا جا رہا ہے ۔پوروانچل سے مہا گٹھ بندھن کو بے حد امید ہے ۔دراصل 2014میں ان تیرہ میں سے 10جگہ پر سپا ،بسپا کو ملے ووٹ بی جے پی سے زیادہ ہیں ۔اسی مرحلے میں گورکھپور میں ووٹ پڑنے ہیں ۔جہاں سب سے پہلے مہاگٹھ بندھن کا تجربہ کامیاب ہوا تھا ۔کانگریس کی سدھار کی امید بھی ہے آخر مرحلے میں خاص کر پارٹی مدھیہ پردیش پنجاب میں بہتر کر نا چاہے گی ۔پنجاب میں کیپٹن امریندر سنگھ کو زیادہ کامیابی کی امید ہے ۔پارٹی بہار کی دو سیٹوں اور چنڈی گڑھ بی جے پی سے چھیننے کی کوشش میں لگی ہے ۔سبھی پارٹیاں ووٹنگ پر نظر رکھیں گی ووٹ فیصد پر نظر رکھنے کی دو وجہ ہیںکیونکہ چناﺅ والے زیادہ تر علاقوں میں کچھ دنوں سے بہت زیادہ گرمی پڑ رہی ہے ۔پھر رمضان کا مہینہ بھی جاری ہے بارہ مئی کو چھٹے مرحلے میں مسلم علاقوں میں توقع سے کم ووٹ پڑے تھے ۔اب تک کا ٹرینڈ دیکھیں تو پولنگ کا فیصد غیر تصلی بخش ہی ہے مغربی بنگال میں پولنگ کا فیصد بڑھا ہے ۔جبکہ یوپی ،بہار جیسی ریاستوں میں امید سے کم ووٹ پڑے۔

(انل نریندر)

17 مئی 2019

ہماچل میں اصل جنگ وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر اعلیٰ کے درمیان

دیو بھومی ہماچل میں عام چناﺅ کی جنگ دلچسپ ہو گئی ہے ۔ 2014میں صوبہ میں بھاری کامیابی حاصل کرنے والی بھاجپا کے لئے چاروں سیٹیں برقرار رکھنے کی چنوتی ہے ۔حالانکہ لوک سبھا چناﺅ میں ہار کے بعد ہماچل میں اقتدار گنوا چکی کانگریس نے واپسی کے لئے پوری طاقت جھونک دی ہے ۔اسمبلی چناﺅ میں پریم کمار بھومل کی ہار کے بعد بنے وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کی قیادت میں یہ پہلا چناﺅ ہو رہا ہے وہیں کانگریس نے سابق وزیر اعلیٰ ویر بھدر سنگھ کو لوک سبھا چناﺅ میں کمپین کی باگ ڈور سونپی ہے ۔ہماچل پردیش کی چاروں سیٹوں پر تو بھاجپا اور کانگریس کے امیدواروں میں ہی مقابلہ نہیں ہے بلکہ دیش کے بڑے نیتاﺅں میں کتنا دم بچا ہے اس کا بھی فیصلہ ہونا ہے ۔ہمیرپور سیٹ پر موجودہ ایم پی انوراگ ٹھاکر بھاجپا سے چوتھی بار میدان میں ہیں ۔جبکہ ممبر اسمبلی رام لال ٹھاکر کانگریس کے امیدوار ہیں ۔وہ تین بار چناﺅ ہار چکے ہیں ۔اس سیٹ سے تین بار بھاجپا ایم پی رہے سریش چندریل کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں وہ منڈی سیٹ کے آبائی حلقہ ہونے کے سبب وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کی ساکھ کا سوال ہے کانگریس نے بھاجپا کے موجودہ ایم پی رام سروپ شرما کے خلاف سابق مرکزی وزیر مواصلات رہے سکھرام کے پوتے آشرے شرما کو اتارا ہے ۔سکھرام کے بیٹے انل شرما کو بھی جے رام سرکار نے اپنے بیٹے کے لئے عہدہ چھوڑنا پڑا ویر بھدر سنگھ کے متنازعہ بیانوں سے آشرے کی مشکلیں بڑھیں ہیں ۔کانگڑا سیٹ میں جے رام سرکار کے وزیر کشن کپور اور کانگریس کے ممبر اسمبلی پون کاجل کے درمیان مقابلہ ہے بھاجپا نے موجودہ ایم پی شانتا کمار کی جگہ ان کے قریبی کشن کو اتارا ہے ۔شملہ ریزو سیٹ یہاں سے بھاجپا اور کانگریس دونوں نے سابق فوجیوں اور ممبر اسمبلی کو اتارا ہے ۔کانگریس کے دھنی رام سانڈل بھاجپا سے سریش کشپ آمنے سامنے ہیں ۔ہماچل سے کئی سرکردہ نیتاﺅں کی ساکھ بھی امیدواروں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر سابق وزیر اعلیٰ پریم کمار دھومل سابق وزیر اعلیٰ ویر بھدر سنگھ مرکزی وزیر رہے سکھرام جے پی نڈا شانتا کمار ،سبھی ہماچل سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں ۔دیکھیں کس کا پلڑا بھاری پڑتا ہے ؟

(انل نریندر)

بڑا سیاسی دنگل بنا مرزا پور

وارانسی کے بعد پروانچل کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز سیٹوں میں سے ایک مرزا پور پارلیمانی حلقہ وقار بنی ہوئی ہے ۔اس سیٹ پر مرکزی وزیر انو پریا پٹیل اور این ڈی اے کی اتحادی اپنا دل کوٹے سے چناﺅ میدان میں ہیں ۔مہا گٹھ بندھن کی طرف سے یہ سیٹ سپا کے کھاتے میں ہے ۔سپا نے رام چرتر نشاد کو مقابلے میں اتارا ہے ۔وہ پہلے بھاجپا میں تھے اور مچھلی شہر سے ایم پی تھے ٹکٹ نہ ملنے پر پالا بدل لیا ۔سپا نے انہیں مرزا پور ٹکٹ دیا ہے ۔کانگریس نے ایک بار پھر اپنے پرانے کانگریسی سرکردہ لیڈر کملا پتی ترپاٹھی کے پڑپوتے للیتش ترپاٹھی پر اپنی امید جتائی ہے ویسے یہاں کل نو امیدوار ہیں ۔ماں وجے واسنی کی نگری میں پیتل صنعت ،پتھر صنعت اور قالین صنعت و بنکروں کا مسئلہ کوئی اشو اس چناﺅ میں نظر نہیں آرہا ہے ۔اپنا دل امیدوار انو پریا پٹیل اپنے ترقیاتی کاموں کے ساتھ مودی کو پھر وزیر اعظم بنانے کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہیں اور راشٹر واد اور وکاس پر ان کی زیادہ توجہ ہے سپا امیدوار رام چرتر نشاد اکھلیش اور مایاوتی کا گنگان کر رہے ہیں سابق ایم پی پھولن دیوی کا نام لینا بھی نہیں بھولتے وہ پھولن دیوی کے برادری کے ہیں ۔امیدوارللیتش ترپاٹھی اپنے رشتہ داروں کے ذریعہ ضلع میں کرائے گئے وکاس کے کاموں کے ساتھ کانگریس کے چناﺅ منشور کے کچھ اہم حصہ نیائے کے 72ہزار روپئے اور 22لاکھ نوکریوں کو جنتا کے درمیان ترجیح سے اُٹھا رہے ہیں مرزا پور میں 1805886ووٹر ہیں جن میں دلت ووٹروں کی تعداد تقریبا25فیصدی یعنی 452381ہے ۔اس سیٹ پر سب سے زیادہ دلت ہیں یعنی 25فیصد یعنی452381ہیں اس سیٹ پر سب سے زیادہ انتہائی پسماندہ طبقات 49فیصدی ہے ۔جبکہ جنرل طبقہ 25فیصدی ہے اس چناﺅ میں اشوز کی جگہ ذات ،پات کے تجزیوں کا تزکرہ بھی زیادہ ہے ۔پچھلے چناﺅ میں اپنا دل امیدوار انوپریا پٹیل کو بڑے فرق سے کامیابی ملی تھی اور ان کو 52فیصد ووٹ ملے تھے ۔سپا امیدوار کو اپنے روایتی ووٹ بینک کا سہارا ہے ۔تو وہیں للیتش ترپاٹھی چناﺅ کو سہہ رخی بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔لیکن یہاں ذات پات کے تجزیے زیادہ حاوی لگتے ہیں۔

(انل نریندر)

پنجاب میںکانگریس اور اکالی دل میں کانٹے کا مقابلہ

لوک سبھا چناﺅ کے آخری مرحلے میں 19مئی کو پنجاب کی سبھی 13سیٹوں پر ایک ساتھ ووٹ پڑیں گے ۔کانگریس ،اکالی دل،بھاجپا،اور عام آدمی پارٹی سبھی سیٹوں پر کامیابی ملنے کا دعوی کر رہی ہیں ۔پنجاب میں کانگریس کی سرکار ہے ۔اور وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ پارٹی کی پوزیشن مضبوط کرنے میں لگے ہیں ۔چونکہ ان کی ساکھ بھی داﺅں پر لگی ہے ۔اسمبلی چناﺅ میں کامیابی کے بعد کیپٹن کا یہ مقابلہ کافی چیلنج بھرا ہے ۔اکالی بھاجپا نے بھی پورا زور لگا رکھا ہے ۔عآپ پارٹی نے بھی مقابلے کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔پولنگ سے دو دن پہلے ڈیرہ سچا سودہ اپنے پتے کھولے گا اس کے بعد ہی کسی بھی پارٹی کے تجزیے بن اور بگڑ سکتے ہیں ۔فیروز پور سیٹ پر 25سال سے اکالی دل قابض ہے اور اس مرتبہ سابق ڈپٹی سی ایم سکھ بیر بادل میدان میں ہیں ۔بادل کے سابق ساتھی اور دو بار اکالی دل سے ایم پی رہے شیر سنگھ کانگریس ی امیدوار کی شکل میں ان کو ٹکر دے رہے ہیں ۔شیر سنگھ کو اکالی دل ہمایتوں کے غصہ کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے ۔آپ کے امیدوار ہرجیندر سنگھ کاکا اور سی پی آئی کے ہنسراج گولڈن پی ڈی اے کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں ۔بھٹنڈا سیٹ پر بادل خاندان کی بہو اور مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل تیسری مرتبہ میدان میں ہیں ۔یہاں اکالی دل آٹھ بار کامیاب ہو چکا ہے ۔پارٹی کو شری گرو گرنتھ صاحب کی بے ہرمتی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔سرمرت کا اہم مقابلہ کانگریس کے ممبر اسمبلی راجہ ونڈنگ اور آپ کے ممبر اسمبلی بلجیندر کور کے علاوہ اپنی پارٹی بنا کر اترے عآپ کے باغی ممبر اسمبلی سکھ پال کھیڑا سے ہے۔گرداس پور سے اداکار سنی دیول کے اترنے کے بعد یہاں سب کی نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں ۔ان کا ڈھائی کلو کے ہاتھ والا ڈائیلاگ سے مقبول سنی کا مقابلہ موجودہ ایم پی سنیل جاکھڑ سے ہے ۔سورگیہ ونود کھنہ بھاجپا کے ٹکٹ پر 1998سے 2014تک ایم پی رہے تھے ۔ان کی موت کے بعد بھاجپا نے ضمنی چناﺅ میں یہ سیٹ کانگریس کے ہاتھوں ہار گئی تھی پارٹی نے ایک بار پھر بالی ووڈ اسٹار کے سہارے تقدیر آزمانے کی کوشش کی ہے ۔عآپ نے پٹر مسی کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔سنگت سیٹ سے عام آدمی پارٹی کے پنجاب یونٹ کے صدر اور موجودہ ایم پی بھگونت سنگھ مان کو پھر سے اتارا ہے ۔ان کا مقابلہ کانگریس کے کیول سنگھ ڈھلو اور پروندر سنگھ ڈلسا سے ہے ۔2014میں بھگونت مان نے سکھ دیو ڈھلسا کو بھاری ووٹوں سے ہرایا تھا ۔پٹیالہ پارلیمانی سیٹ سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کی بیوی پرنیت کور کانگریس کی امیدوار ہیں ۔اس وقت ان کا مقابلہ ایم پی ڈاکٹر دھرم ویر گاندھی جو2014میں آپ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے سے ہے ۔اس مرتبہ وہ اپنی پارٹی بنا کر اترے ہیں ۔اس مرتبہ ڈاکٹر گاندھی کو پرنیت کے علاوہ اکالی دل کے سابق وزیر سرجیت سنگھ رکھڑا سے بھی چیلنج مل رہا ہے عآپ کی طرف سے نیا چہرہ مینا متل ہیں ۔آنند پور صاحب سے منیش تواری میدان میں ہیں ۔ان کا مقابلہ اکالی دل کے پریم سنگھ اور چندو ماجرا سے ہے ۔عام آدمی پارٹی نے یہاں نریندر سنگھ شیر گل کو اتارا ہے پھر بھی مقابلہ کانگریس اور اکالی دل کے ہی درمیان ہے ۔وہیں اکالی دل ٹکسالی کے سیکریٹری ویرندر سنگھ کو میدان میں اتار ا ہے ۔

(انل نریندر)

16 مئی 2019

ہماچل کی چھوٹی کاشی میں'' راموں''کی ساکھ داﺅں پر

ہماچل پردیش کی چھوٹی کاشی کہی جانے والی منڈی لوک سبھا سیٹ پر راموں کی ساکھ اور وقار داﺅں پر لگ گیا ہے ۔ایک طرف پنڈت سکھرام کی ذاتی وقار کا سوال ہے تو دوسری طرف پردیش کے وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر اور موجودہ ایم رام سروپ شرما کے لئے بھی ان کے اپنے وجود اور ساکھ کی لڑائی ہے کانگریس کی طرف سے سکھرام کے پوتے بھویہ شرما میدان میں ہیں ۔تو وہیں بی جے پی نے اپنے موجودہ ایم پی کو پھر سے موقعہ دیا ہے بھلے ہی سکھرام کی کانگریس میں گھر واپسی ہو گئی ہے لیکن ان کے بیٹے و ہماچل سرکار کے سابق وزیر انل شرما ابھی بھی بی جے پی میں ہیں ۔ایک طرف پارٹی تو دوسری طرف بیٹے کے درمیان پھنسے انل شرما نے در پردہ طور پر خود کو موجودہ چناﺅ سے الگ کر لیا ہے بیٹے کو کانگریس کا ٹکٹ ملنے کے بعد انہوںنے جے رام سرکار سے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ہماچل کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ بھلے ہی یہ مقابلہ بھویہ اور رام سروپ کے درمیان ہو رہا ہے لیکن اصلی مقابلہ پنڈت سکھرام اور وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کے درمیان ہے ۔رام سروپ کافی عرصہ سے جنتا کے درمیان میں ہیں ۔سکھرام پہلے پوتے آشرے شرما کے لئے بھاجپا سے ٹکٹ مانگتے رہے ہیں ۔جب بات نہیں بنی تو کانگریس سے ٹکٹ حاصل کر لیا ۔اپنے اپنے امیدواروں کو جتانے کی کوشش میں دونوں ہی سرکردہ لیڈوں کی ساکھ داﺅں پر لگی ہے ۔دونوں ہی نیتا اسی علاقہ کے ہیں وزیر اعلیٰ کی سیٹ سرج منڈی لوک سبھا میں آتی ہے ۔تذکرہ یہ بھی ہے کہ سی ایم اپنا گڑھ بچانے کے لئے پوری طاقت جھوکے ہوئے ہیں ۔منڈی کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ جو پارٹی اسے جیتی ہے دہلی میں وہی اقتدار میں آتی ہے ۔بی جے پی یہ مودی کے نام و کام کے علاوہ راشٹرواد اور سرجیکل اسٹرائک کو اشو بنا رہی ہے ۔پی ایم مودی منڈی میں ہوئے اپنے حالایہ ریلی میں فوج اور ون رینک ون پیشن اور سرجیکل اسٹرائک جیسے اشو کو اٹھایا حالانکہ جیسے ایک سابق سرکاری افسر نے بتایا کہ پی ایم تقریر میں یہ بات نہیں بتا پائے کہ انہوںنے پچھلے پانچ برسوں میں ہماچل کے لئے کیا کیا ہے ؟

(انل نریندر)

امرتسر میں ہردیپ پوری کی امیدیں مودی کی مقبولیت پر ٹکی

پنجاب میں شاید یہ پہلا لوک سبھا چناﺅ ہے کہ جہاں نشے کا اشو نہیں ہے اور نہ ہی اس کو طول دیا گیا ۔پنجاب میں آخری مرحلہ میں 19مئی کو ووٹ پڑیں گے سال 2014کا لوک سبھا چناﺅ اور اس کے بعد 2017کا پنجاب اسمبلی چناﺅ نشے کے ارد گرد لڑا گیا تھا ۔لیکن اس مرتبہ مودی کی مقبولیت ہے تو دوسری طرف کانگریس کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے کارنامے ہیں ۔اتحاد میں جہاں مودی کے نام کا سہارا ہے کانگریس بھی مودی کا نام ہی لے رہی ہے ۔اس لئے کیونکہ اس کے سبھی تیر مودی پر ہیں ۔اس لئے پنجاب کی امرتسر سیٹ ہمیشہ وقار کا باعث رہی ہے ۔اس مرتبہ بھی یہ سرخیوں میں ہے بھاجپا نے جاٹ اکثریتی سیٹ پر مرکزی وزیر ہریدیپ سنگھ پوری کو میدان میں اتارا ہے ۔جبکہ کانگریس نے موجودہ ایم پی گرجیت اوجھلا پر داﺅں کھیلا ہے ۔پہلی بار لوک کا چناﺅ لڑ رہے ہردیپ پوری کو ان کے حلقہ میں سخت ٹکر مل رہی ہے ۔امرتسر سیٹ بڑی رد بدل کے لئے جانی جاتی ہے بھاجپا 2014کے لوک سبھا چناﺅ میں مودی لہر کے وقت مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی جیسے بڑے چہرے کے ساتھ میدان میں اتری تھی لیکن اسے زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔اس سے پہلے نو جوت سنگھ سدھو تین مرتبہ اس لوک سبھا سیٹ سے کامیاب ہو تے رہے تھے ۔اس سے پہلے اس سیٹ پر تین بار بھاجپا نے جیت درج کی تھی ۔عام آدمی پارٹی نے اس سیٹ پر کلدیپ سنگھ دھالیوال پر بھروسہ جتایا ہے ۔وہیں سی پی آئی نے دس وندر کور کو ٹکٹ دیا ہے ۔کانگریس کے امیدوار جہاں جاٹ سیٹ ہیں وہیں ہردیپ پوری امرتسر میں پیدا ہوئے ہیں ۔سکھ تو ہیں لیکن جاٹ نہیں پوری کو پردھان منتری نریندر مودی کا قریبی مانا جاتا ہے وہ کرتارپور کوریڈور تقریب میں شامل ہونے کے لئے پاکستان بھی گئے تھے حالانکہ پوری کو یہ اطمیان ہے کہ 2014کے مقابلے اس مرتبہ ان کے سامنے کیپٹن امریندر سنگھ جیسے بھاری بھرکم امیدوار سے مقابلہ نہیں ہے ۔امرتسر لوک سبھا سیٹ کے اندر کل نو اسمبلی سیٹوں میں سے آٹھ پر کانگریس کی نمائندگی ہے ۔ہریدیپ پوری کا مقابلہ سخت ہے ۔دیکھیں مودی کی مقبولیت کیپٹن پر بھاری پڑتی ہے یا نہیں ؟

(انل نریندر) 

یوگی کے گڑھ میں بھاجپا کی ساکھ داﺅں پر

ایک سال پہلے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی چھوڑی سیٹ پرضمنی چناﺅ میں جھٹکا کھا کر لوک سبھا چناﺅ کے لیئے یوگی اب کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور ضمنی چناﺅ کی ہار کا بدلہ لینے کے لئے موجودہ ایم پی پر وین نشاد کو پارٹی میں شامل کرانے سے لے کر پارٹی کی ہمایت لینے جیسی سبھی امکانی سیاسی داﺅں کھیل چکے ہیں ۔اس کے باوجود وہ کسی طرح خطرہ نہیں اٹھانا چاہتے اس لئے گورکھپور میں ڈیرا ڈال دیا ہے ۔پوری حکمت عملی کو تیار کی ہے سبھی حلقوں میں بوتھ سمیلن کر چکے ہیں ۔بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ کا روڈ شو 16مئی کی شام کو ہونا ہے ضمنی چناﺅ میں بھاجپا اس پارلیمانی سیٹ سے وابسطہ پانچ میں سے تین اسمبلی سیٹیں کمپیر گنج ،گورکھپور دیہات اور سہجنوا ہار گئی تھی بھاجپا اور گٹھ بندھن کی لڑائی کو تکونہ بنانے کے لئیے کانگریس جد و جہد کرتی نظر آرہی ہے ۔لڑائی بھاجپا و اتحا دکے درمیان ہے بھاجپا نے فلم اداکار روی کشن کو اپنا امیدوار بنایا ہے پچھلا چناﺅ کانگریس کے ٹکٹ پر جونپور سے روی کشن لڑے لیکن ہار گئے تھے بھاجپا نے ضمنی چناﺅ کی طرح پھر برہمن امیدوا ر پر داﺅں لگایا ہے ۔گٹھ بندھن نے رام سیتو تنازعہ کو کھڑا کیا ہے موجودہ ایم پی پروین کے بھاجپا میں جانے کے بعد سپا نے تنازعہ کو بڑھا دیا ہے ۔پچھلے چناﺅ میں بسپا سے لڑے تھے اور 1.76لاکھ ووٹ پائے تھے وہ سابق ممبر اسمبلی اور منتری رہے ہیں ۔کانگریس نے سیول بار ایسوشی ایشن اور یوپی بار کونسل کے ممبر مدھو سودن تواری کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔پہلی بار کانگریس سے لوک سبھا چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔جہاں ذات پات کے حساب کا سوال ہے ۔جہاں تک ذات پات کے سوال کا حساب ہے گورکھپور سیٹ پر نشاد اور مسلمان شیڈول قبائل ،برہمن،ویشیہ اور کائست اور چھتریہ لوگوں کی آبادی ہے ۔بتا دیں کہ گورکھپور لوک سبھا سیٹ پر دس مرتبہ رہے چکے گورکھپور کے مہنت پیٹھا دھیشور مہنت دگ وجے سنگھ 1967میں مہنت اویدھ ناتھ 1970,1989,1991,1996اور یوگی آدتیہ ناتھ 1998سے 2014تک مسلسل پانچ بار رہے ۔اس لئے یوگی کے لئے اب یہ سیٹ ساکھ کی لڑائی بن گئی ہے ۔خاص کر ضمنی چناﺅ کے بعد ۔

(انل نریندر)

15 مئی 2019

دہلی میں راشٹر واد اور روزگار کے اشو پر ووٹ پڑا

دہلی میں اتوار کو ووٹروں نے دوپہر میں جوش دکھایا صبح شام رہے سست ویسے تو دہلی میں دن بھر ووٹ برسے لیکن 2014کے مقابلے (65.09)سے 2019میں کم (6027)ووٹ ہی پڑ سکے شروع کے دو گھنٹے میں دہلی کے آٹھ فیصدی ووٹروں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا اور دن چڑھتے چڑھتے اضافہ ہوا اور آخری گھنٹے میں پولنگ میں چھ فیصدی کا اضافہ ہوا ۔رمضان کا اثر صبح میں دکھائی دیا کیونکہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اصلی رونق 11بجے کے بعد ہی دیکھنے کو ملی چاندنی چوک ،مٹیا محل،بلی ماران میں صبح کی ووٹنگ میں رمضان کا اثر نظر آیا ۔جبکہ دہلی کے عالی شان علاقوں میں ملا جلا اثر رہا ۔شالی مار باغ،ماڈل ٹاﺅن،اشوک وہار سمیت کئی جگہ پولنگ مرکزوں میں اچھے ووٹ پڑے ساﺅتھ دہلی میں ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے لوک کم نکلے زیادہ تر علاقوں میں صبح میں دس بجے تک 15سے بیس فیصدی ووٹنگ ہوئی گاﺅں دیہات اور بستیوں میں دوپہر تک چہل پہل نظر آئی راجدھانی میں چناﺅ میں بجلی پانی ،تعلیم،مہنگائی،جیسے اشوز پر راشٹر واد اور روزگار کا اشو ہاﺅی رہا ۔دہلی میں ہر ایک طبقہ اور عمر کے لوگوںنے راشٹر واد اور روزگار کو دھیان میں رکھ کر اپنے پسند کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیا ۔مغربی دہلی کے لوک سبھا حلقے پلہ بختاورپور میں پولنگ کے بعد ایک پچاس سالہ ووٹر نے کہا کہ اس نے قومیت کو لے کر ووٹ دیا ان کے سامنے صرف دیش کی سلامتی کا خیال تھا وہیں ساﺅتھ دہلی کی ایک ووٹر نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ ہمیں یہ سرکار ہٹانی ہے ہر قیمت پر ایسے ہی چاندنی چوک کے علاقہ دریا گنج میں ووٹ ڈالنے کے بعد ایک شخص نے بتایا کہ روزگار کو ذہن میں رکھ کر ووٹ ڈالا ہے آج چاروں طرف بے روزگاری ہے ریہڑی پٹری والوں کو بھگایا جا رہا ہے آخر اس چھوٹے کارباری جائیں تو کہاں جائیں؟انہوںنے ایسی سرکار بنانے کے لئے ووٹ ڈالا ہے جو سب کو روزگار کے مواقع مہیا کر اسکے یہ ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ایک ووٹر کا کہنا تھا کہ دیش کی ترقی کے لئے اس نے ووٹ دیا ہے اور دیش کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ دیش کی ترقی کا بھی خیال رکھیں کل ملا کر لگتا ہے دہلی کا ووٹر گھر سے من بنا کر آیا تھا کہ اس نے کس کو ووٹ دینا ہے ۔

(انل نریندر)

جمہوریت کا مہوتسو جاری ہے ،پکچر ابھی باقی ہے

کسی بلاک بلسٹر فلم کی طرح اس چناﺅی بلاک بسٹر کی کہانی اب کلائمکس کی طرف بڑھ رہی ہے ۔سات مرحلوں سے سجے 17ویں عام چناﺅ کا چھٹا مرحلہ پورا ہو گیا ہے ۔19مئی کو ساتواں اور آخری مرحلے کے پورا ہونے کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان کا یہ مہوتسو ختم ہو جائے گا ۔لوک سبھا کی کل 543سیٹوں کے لئے ہو رہے چناﺅی مہا سمر کے چھ مرحلو ں کے بعد اب آٹھ ریاستوں میں صرف 59سیٹیں باقی ہیں جہاں چناﺅ ہونا ہے اور ان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہائی پروفائل وارانسی سیٹ بی شامل ہے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ نے پورا یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ بھاجپا کے 2014کے مقابلے زیادہ سیٹیں بڑھیں گی ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے اشوکے بل پر اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دیش بھر میں اپیل کرنے سے یہ سیٹیں پچھلی مرتبہ سے 55زیادہ ہوں گی ۔واضح ہو کہ بھاجپا نے 2014میں 543میں 282سیٹیں حاصل کر کے واضح اکثریت سے اپنا سرکار بنایا تھا ۔لہذا امت شاہ اس مرتبہ 337سیٹیں ملنے کی امید کر رہے ہیں ۔وہیں کانگریس صدر راہل گاندھی نے دعوہ کیا کہ 23مئی کو جب چناﺅ کے نتائج آئیں گے تب پی ایم نریندر مودی کا غبارہ پھٹ جائے گا ۔راہل گاندھی ہرزون لو ک سبھا سیٹ سے کانگریس امیدوار ڈاکٹر گووند مجالدے کی چناﺅی ریلی سے خطاب کر رہے تھے مودی جی کانگریس پارٹی نے نوجوانوں کسانوں اور مزدوروں ماﺅں بہنوں نے مودی نریندر مودی والا غبارہ پھوڑ دیا ہے اور اب اس کی ہوا نکل گئی ہے ۔وہیں بھاجپا کے سب سے پرانے ساتھیوںمیں سے ایک شرو منی اکالی دل کے نیتا اور سورگیہ پردھان منتری اندر کمار گجرال کے بیٹے نریش گجرال نے کہا کہ اس چناﺅ میں کسی کو مکمل اکثریت نہیں ملے گی اور جو بھی پردھان منتری بنے گا انہیں صحت مند جمہوریت کے لئے ہر کسی کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا نریش نے کہا کہ میں امید افزا ہوں کہ مجھے لگتا ہے کہ اس چناﺅ میں این ڈی اے کو اکثریت ملنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔پوچھے جانے پر اگر بھاجپا اکثریت سے دور رہتی ہے تو گٹھ بندھن کا نیتا کون ہوگا اس پر گجرال کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پارٹی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس کے نیتا کون ہوں گے ؟یہ ان کا مخصوص اختیار ہے وہ جسے چنتے ہیں ہیں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اس چناﺅی کہانی کا دی اینڈ بھی قریب ہے لیکن تل تال بر قرار ہے مانوکہانی شروع ہو گئی ہو نہ تو نیتا ہی بے زار ہوئے ہیں اور نہ ہی جنتا سبھی بھر پور آنند لے رہے ہیں ۔سیاسی کردار اپنے کردار میں ڈھلے ہوئے ہیں ۔جنتا قیاس آرائیوں میں ہے ۔حالانکہ جنتا جناردھن ہے اور فیصلہ اسی کے ہاتھوں میں ہے ۔وہ طرح طرح کے سیاسی کرداروں کے طرح طرح کے اداکاری اور فوٹو فلمیں اور چہرے کا باریکی سے معائنہ کرتی ہیں اور پھر اپنی پسند کے مطابق اپنا ووٹ دیتی ہیں ۔جمہوریت کا مہوتسو جاری ہے ۔پکچر ابھی باقی ہے ۔

(انل نریندر)

ناک کی لڑائی بنی پٹنہ صاحب

وہ کبھی بھاجپا کے دوست تھے اب شترو ہیں ۔لوک سبھا چناﺅ کے آخری مرحلے میں 19مئی کو پٹنہ صاحب پارلیمانی سیٹ پر پردھان منتری چناﺅ کے بعد سب کی نظریں پٹنہ صاحب حلقہ پر ٹکی ہیں ۔یہاں دو دھریندروں کا مقابلہ ہے بھاجپا نے پرانے ایم پی شترو گھن سنہا کا ٹکٹ کاٹ کر یہاں سے مرکزی وزیر اور بھاجپا کے سرکردہ لیڈر روی شنکر پرساد کو امیدوار بنایا ہے ۔دو بار سے بھاجپا کے لئے یہ سیٹ جیتنے والے شترو گھن سنہا کو پہلے سے اندازہ تھا کہ بھاجپا انہیں چناﺅ ی میدان سے باہر کا راستہ دکھا سکتی ہے ۔اس لئے انہوںنے بر وقت بھاجاپ کو الوداع کہہ کر کانگریس کا دامن تھامنے کی حکمت عملی تیار کر لی ۔شترو گھن پچھلے دو چناﺅ سے پٹنہ صاحب سیٹ جیت کر بھاجپا کی جھولی میں ڈالتے رہے ہیں ۔لیکن اس مرتبہ ان کا مقابلہ بھاجپا کے ہی امیدوار سے ہوگا ۔اس لئے بھاجپا اور کانگریس کے درمیان یہاں جیت کسی کے لئے آسان نہیں ہوگی ۔شترو یہاں ہیٹرک لگانے کے فراق میں ہیں وہیں روع شنکر پرساد پہلی مرتبہ چناﺅ لڑنے جا رہے ہیں پٹنہ صاحب سیٹ پر ذات پات تجزیہ کی بنیاد پر یہاں کائست کا دبدبہ ہے ۔یہ پانچ لاکھ سے زیادہ ہیں یا دو اور راجپوت ووٹروں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے ۔لیکن اس مرتبہ دونوں طرف بڑے کائست چہرے کھڑے ہونے کی وجہ سے ووٹ بٹنے کی قیاس آرائیاں جار ی ہیں ۔پٹنہ صاحب لوک سبھا سیٹ میں چھ اسمبلی سیٹیں بختیار پور ،بانکی پور،پٹنہ صاحب،دیچھا،وغیرہ سیٹیں شامل ہیں ۔ان میں سے پانچ بھاجپا کے پاس ہیں ۔صرف فتوحا سیٹ آر جے ڈی کے پاس ہے۔سال 015میںاسمبلی چناﺅ ہوا تھا تب بہار میں زیادہ تر سیٹیں مہا گٹھ بندھن نے جیتی تھیں شاٹ گن کی شکل جانے جانے والے شتر و گھن سنہا کہتے ہیں کہ سپا ،بسپا اتحاد کے نیتا چاہتے تھے کہ وہ لکھنو سے اپنا امیدوار کے طور پر چناﺅ لڑائیں لیکن جب میں نے کہا کہ میں اپنی سیٹ سے ہی لڑنے کا خواہش مند ہوں تو انہوںنے اپنی بیوی پونم کا نام پیش کر دیا ان کا کہنا تھا کہ انہیں پٹنہ صاحب کے ووٹروں پر پورا بھروسہ ہے ۔جنہوںنے ہمیشہ ان کی ہمایت کی ہے اور آشرواد دیا ہے اور جو ریکارڈ ووٹوں کے فرق سے جیتنے میں مدد کی ہے اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوگا ۔مہا گٹھ بندھن کی وجہ سے شترو کو کائست ووٹوں کے علاوہ مسلم اور یادو فرقہ کا بھی ووٹ مل سکتا ہے ۔وہیں روی شنکر پرساد کو بھی کائست ووٹوں کو اپنی طرف کھیچنے میں بڑی چنوتی ہوگی ساتھ ہی جے ڈی یو کے ساتھ ہونے سے انہیں کرمی،اور انتہائی پسماندہ ووٹ بھی مل سکتے ہیں ۔مودی کی مقبولیت پر سوال روی شنکر پرساد شترو کو سخت ٹکر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔چندر گپت موریا اور سمدر گپت جیسے حکمرانوں کی یہ سرزمین ہے ۔گوٹلیہ جیسے دانشور یہاں رہے اور معاشیات جیسی تصنیف کی اس پاک سر زمین میں کیا شترو گھن سنہا ہیٹکر لگا سکتے ہیں ؟

(انل نریندر)

14 مئی 2019

رافیل ڈیل :ایف آئی آر درج کیوں نہیں ؟

سپریم کورٹ نے رافیل جنگی جہاز سودے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے داخل کردہ عرضیوں پر جمعہ کے روز سماعت کر کے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے ۔سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا ،ارون شونی،پرشانت بھوشن،ودیگر کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اگر کوئی فریق تحریری طور پر موقوف رکھنا چاہتا ہے تو دو ہفتے میں رکھ سکتا ہے عدالت ہذا نے چھتیس رافیل جنگی جہاز خرید کو لے کر حالانکہ مختلف اشوز پر مرکزی حکومت سے کئی سوال پوچھے عرضی میں بڑی عدالت کے 14دسمبر کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی گئی ہے جس میں مرکز کے رافیل سودے کو کلین چٹ دی گئی تھی ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی کی بنچ نے للتا کماری معاملہ میں ایک فیصلے کا ذکر کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ جرم ہونے کا ثبوت ہونے پر ایف آئی آر ضروری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آپ للتا کماری فیصلے کی تعمیل کرنے کے لئے مجبور ہیں یا نہیں ؟اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے بنچ سے کہا کہ یہ پہلی نظر میں ایک معاملہ ہونا چاہیے ورنہ وہ (ایجنسیاں)آگے نہیں بڑھ سکتی ہیں ۔اطلاعات میں پختہ جرم کا انکشاف ہونا چاہیے ۔بنچ میں جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ایم کے جوزف بھی شامل تھے بنچ نے پچھلے سال 14دسمبر کے فیصلے کے خلاف دائر عرضیوں پر مرکزی سرکار اور وکیل پرشانت بھوشن سمیت دیگر صحافیوں کی دلیلیں سنیں ۔بھوشن کا کہنا تھا کہ سرکار نے کئی دستاویز چھپائے ہیں اس لئے ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینی چاہیے اس پر بھارت کے اٹارنی جنرل وینو گوپال نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اس لئے عرضیوں کو خارج کر دیا جانا چاہیے ۔عدالت نے وینو گوپال سے پوچھا کہ پچھلے سودے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بات تھی اس سودے میں کیوں نہیں ہے ؟سابق مرکزی وزیر ارون شوری نے کہا کہ سرکار ،سی اے جی تو دستاویز دے سکتی ہے تو کورٹ کو کیوں نہیں ؟عدالت کو دی گئی غلط معلومات کے سبب ہی بنیادی حکم میں خامیاں ہیں اور اتنی غلطیاں محف اتفاقی نہیں ہو سکتیں ۔کورٹ نے سرکار پر بھروسہ کیا لیکن سرکار نے غلط جانکاری عدالت کو دے کر بھروسہ توڑا بھوشن کا کہنا تھا کہ سیکورٹی معاملوں والی کیبنٹ کمیٹی کی آخری میٹنگ کے بعد سودکے کے دستاویز سے آٹھ ضمنی پیروں کو کیوں ہٹایا گیا ؟اس میں کرپشن سے جڑی نکات بھی تھیں ؟انہوںکہا ہم سودا منسوخ کروانا نہیں چاہتے ہم جانچ چاہتے ہیں ۔حکومت نے گزشتہ نومبر میں کیسے کہا کہ سی اے جی نے رافیل کی قیمت پچھلے سودے کے مقابلے کم بتائی سی اے جی رپورٹ کا پہلے پتہ کیسے چلا ؟تین ماہرین نے رافیل کی قیمت بینک گارنٹی اور سرداری گارنٹی نہ ہونے کو لے کر اعتراض جتایا تھا بغیر بینک گارنٹی اور سرکاری گارنٹی کے بغیر سود کیسے ہو گیا وزیر اعظم کا دفتر دخل دے رہا تھا ۔قومی سلامتی کے مشیر کا بھی رول تھا ۔مودی نے سودے کا اعلان کیا اس دوران انل امبانی اور فرانس کے حکام کے درمیان میٹنگ ہوئی تھی اس دوران فرانس حکومت نے امبانی کو کروڑوں روپئے کی انکم ٹیکس چھوٹ دی تھی پرشانت بھوشن نے کہا کہ یہ ایسے ثبوت ہیں جو شک پیدا کرتے ہیں اور جانچ کے لئے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے کے لئے کافی ہیں ۔عدالت نے حالانکہ فیصلے میں یہ کہا تھا کہ 36رافیل جنگی جہازو ں کی خرید میں فیصلہ لینے کی کاروائی پر شبہ ظاہر کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ۔عدالت نے 58ہزار کروڑ روپئے کے سودے میں مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ والی مانگ کی عرضیوں کو خارج کر دیا تھا دال میں کچھ کالا ضرور ہے لیکن پتہ تو تب چلے گا جب ایف آئی آر درج ہوگی اور باریکی سے پورے معاملے کی جانچ ہوگی امید کی جاتی ہے کہ سپریم کورٹ معاملے کی تہہ تک جائے گا۔

(انل نریندر)

بھارت کا ڈیوائڈر انچیف

امریکہ سمیت دنیا کے بڑے سبھی ملکوں میں 2019لوک سبھا چناﺅ کا تذکرہ ہو رہا ہے ۔امریکہ کی سب سے زیادہ دنیا میں مقبول میگزین میں ایک میگزین ''ٹائم''نے اپنے نئے شمارے کے کور پیج پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ متنازع ہیڈ لائن شائع کی ہے ۔اس میں وزیر اعظم کو بھارت کا ڈیوائڈر انچیف یعنی پھوٹ ڈالنے والوں کا سربراہ قرار دیا ہے ۔یعنی بھارت کا چیف تباہ کاری کرنے والا بتایا ہے ۔حالانکہ ساتھ ہی انہیں ریفارمر یعنی اصلاح پسند بھی بتایا ہے۔ٹائم کے ایشیا شمارے نے بھارت کی لو ک سبھا چناﺅ اور پانچ سال میں مودی حکومت کے کام کاج پر ایک بڑی اسٹوری شائع کی ہے ۔میگزین کے اندر کور اسٹوری کا عنوان ہے کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مودی سرکار کے اور پانچ سال سہن کر پائے گی ؟اس میں کہا گیا ہے کہ مودی نے اپنی تقریروں اور بیانوں میں ہندوستان کی عظیم شخصیتوں پر سیاسی حملے کئے ان میں نہرو تک شامل ہیں ۔وہ کانگریس نجات بھارت کی بات کرتے ہیں ۔انہوںنے کبھی ہندو مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کا جذبہ مضبوط کرنے کے لئے کوئی قوت ارادی نہیں دکھائی اور مضمون لکھنے والے آتش تاسیر ہندوسانی صحافی اور بھاجپا ہمایتی لولین سنگھ اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر رہے سلمان تاسیر کے بیٹے ہیں ۔سلمان کا توہین مذہب قانون کی مخالفت کرنے پر ان کے ہی محافظ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا ۔آتش لکھتے ہیں کیوں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان مودی سرکار کے پانچ سال اور جھیل پائے گا؟مودی نے 2014میں اختلافات کو امید کے ماحول میں بدلا تھا ۔لیکن 2019 میں وہ لوگوں کے اختلافات کو یاد رکھنے اور دیش میں پھیلی مایوسی کے ماحول کو بھول جانے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔پہلے وہ مسیحا تھا اور ہندﺅں کی دوبارہ آواز کو زندہ رکھنے کے وسیع پروگرام کی بات کرتے ہوئے روشن مستقبل کی امید جتایا کرتے تھے اب وہ پھر سے چنے جانے کی کوشش کر رہے ہیں،۔نو صفحات کے مضمون میں آگے لکھا ہے کہ وہ پولرائزیشن کے ذریعہ اقتدار میں آنا دکھائی پڑتے ہیں ،بھارت میں جس فراخ دلانہ تہذیب کا تذکرہ کیا جاتا تھا وہاں آج دھارمک راشٹرواد،مسلمانوں کے خلاف منفی جذبات اور ذات پات کی کٹرتا پنپ رہی تھی ٹائم میگزین کی یہ بڑی اسٹوری ایسے وقت آئی ہے جب 2019لوک سبھا چناﺅ جاری ہیں ۔اور ابھی ایک مرحلے کا چناﺅ اور ہونا باقی ہے جس میں خود وزیر اعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ بنارس شامل ہے جیسی اسٹوری ٹائم نے کی ہے ایسی اسٹوری بھارت کے کسی اخبار اور میگزین نے آج لکھنے کی ہمت نہیں ہے ۔کیونکہ ڈر کا اتنا ماحول بنا ہوا ہے بے شک بھاجپا اور پی ایم ہمایتی اس کی جم کر تنقید کریں لیکن سچائی تو یہ ہے کہ اس میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔واضح ہو کہ اسی ٹائم میگزین میں 2012،2015,2016میں کور اسٹوری چھپ چکی ہے ۔چوتھی مرتبہ ٹائم کے صفحہ پر دو بار سرکار کی صلاحیتوں پر سوال اُٹھایا گیا ہے ۔ایک بار پرسن آف دی ائیر اور اب چوتھی بار ڈیوائڈر انچیف کے نام سے آرٹیکل میں حملہ کیا گیا ہے ۔

(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...