Translater

04 ستمبر 2015

Condemning the suppression cycle over Egyptian reporters

Egypt has started a suppression cycle on the media. An Egyptian court has punished three reporters of TV channel Al-Jazira with three years imprisonment. All these were punished for working without press license and telecasting news harmful for Egypt by the court of Judge Haroon Fareed.  Reporters having been punished in second hearing of the case are Mohd. Fahmi, Bahar Mohammed and Peter Grest. Mohd. Fahmi is presently a Canadian citizen quitting Egyptian citizenship, Bahar Mohammed belongs to Egypt and Peter Grest is an Australian citizen repatriated to Australia. Earlier all the three had been imprisoned for seven to ten years but now it has been reduced to three years. Judge Haroon Fareed said that they are neither members of Press Syndicate nor a telecaster syndicate.  They were working without a license. The trio have refuted the charges framed against them.  US has urged the Egyptian Government to stop this suppression and expressed its deep concern and despair.  External Affairs spokesperson John Kerry stated that US is deeply concerned and despaired by the judgement of the Egyptian court regarding the three reporters of Al Jazira. He said that we urge the Egyptian Government to take all possible steps to revise this judgement. He said that the judgement weakens the liberty to expression essential for stability and progress.

On the other hand, the Egyptian President Abdel Fateh Al Sisi has approved the controversial anti-terrorist law. Now no reporter or media will be able to report against the government stated release regarding the terrorist attacks. The reporter violating this law may be booked under the anti-terrorist law. Provisions have been made to save army and policemen from the legal fallout of their action. The new law has been implemented by publishing it in the gazette. According to this law, broadcasting of false information against the official statement may lead to two years’ imprisonment, besides fine of 2 to 5 lac Egyptian pound may be imposed. Media has strongly opposed it. Special courts have also been established. Legal provisions to save their judges, police and army personnel from strictness during judgements or while on duty have also been included in this law.  Moreover, provision has been made for death sentence for forming terrorist group or joining such group. We oppose the steps of Egyptian Government to suppress the reporters and condemn the efforts to ban the freedom of expression of speech.

ANIL NARENDRA

صرف دہشت گرداور ملکی بغاوت معاملوں میں موت کی سزا کی سفارش

پھانسی کی سزا کے معاملے میں آئینی کمیشن کی سفارش اس بحث کو لیکر اس حل کی طرف ہم جا سکتے ہیں جو محض اپنے ہی دیش میں ہی نہیں دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی چھڑی ہوئی ہے۔ سوال ہے’’ پھانسی دینے کی سزا‘‘؟ یہ کب دی جائے، کس کو دی جائے؟ آئینی کمیشن نے جو سفارش کی ہے اس کے مطابق صرف دہشت گردی اور ملکی بغاوت کے معاملوں میں پھانسی کی سزا دی جانے کی پیروی کی ہے۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس اے پی شاہ کا کہنا ہے کہ کمیشن کے9 میں سے6 ممبران رپورٹ سے متفق ہیں۔ 3 غیر متفق ممبران میں دو سرکار کے نمائندے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کا اصول ہمارے آئین کے بنیادی جذبے کے منافی ہے۔بدلے کے جذبے سے جوڈیشیری نہیں چل سکتی۔ رپورٹ اس اشو پر مرکوز ہے کہ ہندوستان میں موت کی سزا ہونی چاہئے یا نہیں؟ رپورٹ کی ایک کاپی وزیر قانون کو سونپی جائے گی۔ پینل کے تقاضوں میں ترمیم کی مانگ پر پارلیمنٹ میں ہی غور ہوگا۔ یہ رپورٹ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ ممبئی سیریل بم دھماکوں کے قصوروار یعقوب میمن کو پھانسی دئے جانے کے بعد اب اس بات پربحث شروع ہوگئی ہے کہ کمیشن کے کچھ اہم لب و لباب یہ ہیں قانون میں عمر قید کا مطلب عمر قید ہی ہوتا ہے۔ ایک طے وقت کے بعد رہائی ریاستی حکومت کرتی ہے۔ کئی ریاستوں میں الگ الگ طرح کے معاملوں میں عمر قید کی میعاد الگ الگ طے کی گئی ہے۔ سارا زور پھانسی پر ہونے کی وجہ سے پولیس اور جوڈیشیری اور خود جرائم کی اصلاحات جیسی باتوں پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے ثابت معاملوں میں پھانسی دئے جانے کا فیصلہ دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ہی خود کئی بار نچلی عدالتوں میں منمانے طریقے سے دی گئی پھانسی کی سزا پر تشویش ظاہر کی ہے۔ صدر اور گورنر کو ملے معافی کے اختیار کے باوجود غلط شخص کو پھانسی دئے جانے کے اندیشات کو پوری طرح سے دور نہیں کیا جاتا۔ پھانسی کی سزا اکثر اقتصادی ، سماجی طور سے کمزور لوگوں کو ہی ملتی ہے۔ ہماری سفارش ہے کہ صرف دہشت گردی اور ملکی بغاوت کے معاملوں میں ہی پھانسی دی جائے۔ ہم امید کرتے ہیں ایک دن ہر طرح کے جرائم کے لئے پھانسی کی سزا بند ہوجائے گی۔ یہ تو آئینی کمیشن کا کہنا ہے کہ حالانکہ پھانسی کی سزا کولیکر آئینی کمیشن نے جو سفارش کی ہے اس پر خود کمیشن کے ممبران بھی ایک رائے نہیں تھے لیکن یہ اہم ہے کہ پھانسی کی سزا کو پوری طرح سے ختم کرنے کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔ دہشت گردی اور ملکی بغاوت معاملے میں پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کی جو سفارش کی گئی وہ اپنے آپ میں مناسب ہے۔ بھارت دہشت گردی جیسے خطرے کا سامنا کررہا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے اس سزا کو بالکل ختم کرنے سے دیش کی سلامتی کو نقصان ہوسکتا ہے۔ویسے یہ دلیل بھی ہے کہ پھانسی کی سزا ان دہشت گردوں کے لئے جو اس کے توڑ کا کام نہیں کرسکتی جو مارنے مرنے پر آمادہ ہے۔ یہ ایک حد تک صحیح نہیں ہے لیکن اس کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا جو دہشت گرد خون خرابے پر آمادہ ہو یا جنہوں نے خود کو فدائی حملہ آور کی شکل میں مان لیا ہو انہیں پھانسی کی سزا سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ریپ ریسٹ آف ریئر کے معاملوں میں بھی پھانسی دینا صحیح ہے۔ نربھیا کانڈ جیسے معاملوں میں جہاں بربریت اور بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا جائے وہاں پھانسی ہی دینا مناسب ہوگا۔ جرائم پیشہ میں خوف پیدا کرنا ضروری ہے۔ بغیر خوف کے قانون و حکومت نہیں چل سکتی کیونکہ پورا اشو ہی بحث کا ہے جو دیش میں چھڑی ہوئی ہے اس لئے دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
(انل نریندر)

ہرگھنٹے دیش میں 15 لوگ خودکشی کررہے ہیں

آل انڈیامیڈیکل انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز(ایمس)میں زیر تعلیم طالبہ کا ہاسٹل میں خودکشی کرنا تشویش کا باعث ہے۔ دیش میں خودکشی کی واقعات کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ دیش میں ہر گھنٹے 15 لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ پچھلے سال(2014) میں 1 لاکھ31 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اپنی جان دی۔ اس معاملے میں ریاستوں میں مہاراشٹر اور شہروں میں چنئی ٹاپ پر ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی طرف سے جاری کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق سال2014 کے دوران جن لوگوں نے خودکشی ان میں سے 69.7 فیصدی کی سالانہ آمدنی 1 لاکھ روپے سے کم تھی۔ دوسرے لفظوں میں غریبی زندگی کو کس طرح سے متاثر کرتی ہے اسی سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال خودکشی کرنے والوں میں قریب70 فیصدی وہ لوگ تھے جن کی آمدنی 1 لاکھ روپے سالانہ سے کم تھی جبکہ اپنی زندگی ختم کرنے والے 26.9 فیصد افراد کی سالانہ آمدنی1 لاکھ سے5 لاکھ روپے تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق پچھلے سال قومی سطح پر شہروں میں خودکشی کی شرح زیادہ تھی۔ یہ شرح 10.6 فیصدی کے مقابلے شہروں میں 12.8 فیصدی تھی جہاں تک خودکشی کے اسباب کی بات ہے تو اس میں گھریلو پریشانیاں (شادی سے لیکر طلاق) کے معاملوں کا اشتراک 21.7فیصدی رہا جبکہ جان دینے کے پیچھے18 فیصدی بیماری وجہ تھی۔ ان اعدادو شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خودکشی کے ہر ایک 6 معاملوں میں ایک گرہستن شامل تھی اور کل مرد اور عورتوں کا تناسب 68.32 تھا۔ 2014ء میں خودکشی کرنے والوں میں سب سے زیادہ19.7 فیصد اپنا کام کرنے والے لوگ تھے اس کے علاوہ12فیصد مزدور،7.4فیصد تنخواہ دار ،6.1 فیصد طالبعلم اور 0.7فیصد ریکائرڈ لوگ شامل ہیں۔ جہاں تک خودکشی کے طریقے کا سوال ہے تو 41.48 فیصدی لوگوں نے پھانسی لگا کر خودکشی کی تھی جبکہ26فیصدی نے زہریلی چیزیں کھا کر کی ۔6.9فیصد نے خودسوزی کی۔ 5.6فیصد نے ڈوب کر اور1.1 فیصد نے عمارتوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دی۔ خودکشی کرنے والوں میں 20.2فیصد میٹرک پاس تھے جبکہ19فیصد نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی تھی۔ پچھلے سال خودکشی کرنے والوں میں 14.3فیصد جاہل اور11فیصد 12 ویں کلاس تک پڑھنے والے تھے۔ہوسٹل اور اسکولوں میں اس طرح کا ماحول بنانا ضروری ہے جس سے دیش کے کونے کونے سے آئے طالبعلم خودکو محفوظ اور ایک ہی خاندان کا حصہ سمجھیں۔ ہم ان خودکشیوں کو تو روکنے کی کوشش کریں جو بچوں میں ہورہی ہیں۔ بچوں سے وقتاً فوقتاً بات چیت کر ان کی پریشانیوں کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ ایمس انتظامیہ اور حیدر آباد کے کالج کو یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ان طالبعلموں کے ساتھ کچھ بھی غلط نہ ہو۔ طالبات کو بھی سمجھنا چاہئے خودکشی کی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2015

جٹے چار،مودی پر وار لڑائی آر پار کی

پٹنہ میں ہوئی ایتوار کو جنتا دل (یو) ، آر جے ڈی، کانگریس اور سپا مہا گٹھ بندھن نے سوابھیمان ریلی میں اپنی ہنکار بھری۔ اس میں نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کے ساتھ ساتھ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی موجودگی خاص معنی رکھتی ہے۔ صاف ہے کہ بہار اسمبلی چناؤ اب محض ایک ریاست کا چناؤ نہیں رہ گیا ہے۔ اس میں مرکز کی بی جے پی سرکار اور اپوزیشن دونوں نے ہی اپنا سب کچھ جھونک دیا ہے۔ اب یہ دونوں کیلئے ہی آر پار کی لڑائی بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں سرکار کے تئیں نرم رویہ اپنانے والی سماج وادی پارٹی نے بھی شیو لال یادو کو اس میں شرکت کرنے کے لئے بھیجا۔ باوجود اس کے ٹکٹ بٹوارے میں پارٹی کو نظر انداز کیاگیا ہے۔ سبھی اپوزیشن لیڈروں نے وزیر اعظم نریندر مودی پرجم کر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے صرف جھوٹے وعدے کئے ہیں اور اب تک کچھ بھی نہیں کیا ہے جس کے سبب لوگوں کا ان پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ نتیش نے کہا کہ پہلے والے پی ایم کم بولتے تھے اور یہ(مودی) بولتے رہتے ہیں ، سنتے نہیں۔ مودی چلے تھے بہار کو للکارنے لیکن اراضی بل پر گھٹنے ٹیک دئے۔ جو ہمارے ڈی این اے پر سوال اٹھاتے ہیں وہ بتائیں کہ ان کے پوروجوں نے کیا کیا؟ لالو پرساد یادو نے اپنے منفرد انداز میں کہاکہ بہار میں جنگل راج پارٹII کی بات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں منڈل راج پارٹII ہے۔ مودی جی نے دو ریلیوں میں صرف یہاں کے لوگوں کو گالیاں ہی دی ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی سرکار کا چوتھائی عہد پورا ہوچکا ہے۔ اب تک شوبازی کے علاوہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ آپ لوگ یہ بات مجھ سے بہتر جاتنے ہیں۔ سونیا گاندھی بولیں ، وزیر اعظم نے بار بار بہار کی بے عزتی کی ہے۔ وہ جب بھی موقعہ پاتے ہیں بہار کے ڈی این اے اور کلچر کے بارے میں رائے زنی کرتے ہیں۔لالو نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی کو بیوقوف نہ سمجھیں، ہم غریب ہیں لیکن ضمیر کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ سپا کے شیو پال سنگھ نے کہا کہ مودی کا جادو اب ختم ہوچکا ہے۔ بھاجپا نے بھی پلٹ وار کیا۔ اس کے لیڈر روی شنکر پرساد نے کہا کہ ریلی میں سونیا سپورٹنگ موڈ میں تھیں۔ نتیش تو مکھوٹا ہیں اصلی سوتردھار لالو ہیں۔ لالو پہلے منڈل راج I کا حساب دیں پھر پارٹ II کی بات کریں۔ ریلی میں بھیڑ کے لحا ظ سے کافی لوگ پہنچے لیکن کچھ واقف کاروں کا خیال ہے کہ اس سوابھیمان ریلی کو لے کر جس طرح سے چار پارٹیوں کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو اور سپا نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے اڑی چوٹی کی کوشش کی وہ بھیڑ بہار کی راجدھانی کے تاریخی گاندھی میدان میں امید کے مطابق نہیں اکٹھے ہوپائی۔ نتیش کمار کی ادھیکار ریلی میں زیادہ بھیڑ تھی۔ بہار کی نظر سے دیکھیں تو ریلی کا پیغام وہ تھا جو لالو ۔نتیش نے دیا۔ تقریر کاسلسلہ چار گھنٹے سے زیادہ چلا۔ نتیش کمار کو عام ریلی سے پہلے ہی مودی مخالف سیاست کی کڑی بن گئے تھے۔ اس کا اگلا مرحلہ یہ رہا کہ اپنے سب سے مضبوط حریف لالو پرساد یادو سے ہاتھ ملا کر و کانگریس صدر سونیاگاندھی کو جوڑ کر مشترکہ اپوزیشن کیلئے ایک نئی زمین تیار کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ اس سے دوسری پارٹیوں کو بھی تقویت ملی اور وہ بھی ساتھ آ کھڑی ہوئیں۔ ان کا یہ اتحاد پارلیمنٹ میں بھی دکھائی دیا۔ اتحاد کے لیڈروں کو اپنے اپنے ایجنڈے ضرور ہیں لیکن انہیں پتہ ہے کہ اگر ابھی بھی وہ ایک ساتھ نہیں آ پاتے تو کل کو شاید کھڑے ہونے کی زمین نہیں بچے گی۔ دوسری طرف بی جے پی کے لئے بھی یہ چناؤ جینے اور مرنے کا سوال بن گیا ہے۔ بہار میں بی جے پی ایسے وقت میں اس چناؤ کا سامنا کرنے جارہی ہے جب اس کا ہنی مون پیریڈ گزر چکا ہے اور مودی کی مقبولیت کا گراف گرتا جارہا ہے اور جنتا نے ان کی پالیسیوں کا محاسبہ شروع کردیا ہے۔ بہار چناؤ اب سبھی فریقین کیلئے ساکھ اور سیاسی مستقبل کا سوال بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

مصر میں صحافیوں کو کچلنے کی کارروائی کیلئے مذمت کرتے ہیں

مصر میں صحافیوں پر زیادتیوں کا دور شروع ہوگیا ہے۔ مصر کی ایک عدالت نے الجزیرا چینل کے تین صحافیوں کو تین سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ تینوں کو بغیر پریس لائسنس کے کام کرنے اور مصر کیلئے مضر مواد کو ٹیلی کاسٹ کرنے کیلئے جج حسن فرید کی عدالت نے یہ سزا سنائی۔ معاملے کی دوبارہ سماعت میں سزا پانے والے صحافی محمد فہمی، بہر محمد اور پیٹر گریسٹ شامل ہیں۔ محمد فہمی مصر کی شہریت چھوڑ کر کینیڈا کے معزول شہری ہیں۔ بہر محمد مصر اور پیٹر گریسٹ آسٹریلیا کے شہری ہیں جن کی آسٹریلیا کو حوالگی ہوچکی تھی۔ تینوں کو پہلے سات سال کی سزا ملی تھی لیکن اب انہیں تین برس کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔جج حسن فرید نے کہا کہ تینوں افراد نہ تو پریس سینڈیکیٹ کے ممبر ہیں اور نہ ہی ایگریڈیٹڈ ہیں۔ تینوں بغیر لائسنس کے کام کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کیا ہے۔ امریکہ نے صحافیوں کی اس سزا پر گہری تشویش اور مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سرکار سے اس میں نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ الجزیرا ٹی وی کے تینوں صحافیوں کو لیکر مصر کی ایک عدالت کے ذریعے دئے گئے فیصلے سے امریکہ کو گہری مایوسی اور تشویش ہوئی ہے۔ ہم لوگ مصر کی سرکار سے اس فیصلے پر غور کرنے کے لئے سبھی ممکن قدم اٹھانے کی اپیل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا یہ فیصلہ استحکام اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔ اظہار آزادی کو کمزور کرتا ہے۔ادھر مصر کے صدرعبدالفتح المیسی نے متنازعہ آتنک انسداد قانون کو منظوری دے دی ہے۔ اب کوئی صحافی یا میڈیا آتنکی حملے کے سلسلے میں سرکاری بیان کے خلاف خبر نہیں دے سکے گا۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے صحافی پر بھی دہشت گردی انسداد قانون لگایا جاسکتا ہے۔ اس قانون میں فوج اور پولیس کے جوانوں کو قانونی تنازعوں سے بچانے کی بھی سہولت رکھی گئی ہے۔ نئے قانون کو گزٹ میں شائع کر نافذ کردیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سرکاری بیانوں سے برعکس کوئی جھوٹی معلومات شائع کرنے کے لئے دو سال تک کی جیل ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ 2 سے5 لاکھ مصری پاؤنڈ تک کا جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ میڈیا نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔خصوصی عدالتیں بھی بنائی گئی ہیں۔ ان کے ججوں ، پولیس اور فوج کے جوانوں کوجیوری کے دئے گئے فیصلوں یا جیوری پر کی گئی سختی سے بچانے کے قانونی انتظام بھی اسی قانون میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دہشت گرد گروپ بنانے والے یا کسی دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے والے کو موت کی سزا کی سہولت ہے۔ مصر حکومت کے ذریعے صحافیوں پر کچلنے کی کارروائی کے اقدام کی ہم مخالفت کرتے ہیں اور صحافیوں کی آزادی پر پابندی لگانے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

02 ستمبر 2015

اب اورنگزیب نہیں ، اے پی جے عبدالکلام روڈ

ہندوستان کے متنازعہ بادشاہ ابوالمظفر محی الدین محمد اورنگزیب کے نام پر بنی شاہراہ کا نام بدلنا بالکل صحیح ہے۔ حال ہی میں اٹھی مانگ کے بعد لٹین زون میں دہلی کی شاندارسڑک اورنگزیب روڈ اب اے پی جے عبدالکلام روڈ کے نام سے جانی جائے گی۔ نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی ) نے جمعہ کے روز اس شاہراہ کا نام بدلنے کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ این ڈی ایم سی کے وائس چیئرمین کرن سنگھ تنور نے کہا کہ سماج کے کچھ پرانے لوگوں نے سابق صدر کے تئیں شردھانجلی کے طور پر اس سڑک کا نام بدلنے کی درخواست کی تھی۔ یہ معاملہ جمعہ کو کونسل کے سامنے رکھا گیا۔ جس نے اتفاق رائے سے اس پر اپنی مہر لگادی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم سی فائنل اتھارٹی ہے اور پھر سے نام رکھنے کے لئے کسی آئینی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ بھاجپا ایم پی مہیش گری نے بھی وزیر اعظم کو خط لکھ کر تاریخ کی غلطیوں کو سدھارنے کیلئے اورنگزیب روڈ کا نام بدل کر کلام کے نام پررکھنے پر غور کرنے کی درخواست کی تھی۔ گری نے کہا تھا یہ کلام کے تئیں سچا خراج عقیدت ہوگا۔ اورنگزیب روڈ انڈیا گیٹ کے قریب تاج مان سنگھ ہوٹل سے لیکر صفدر جنگ روڈ تک بنا ہوا ہے۔ اسے راجدھانی کے سب سے امیرترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دیش کی تاریخ میں اورنگزیب کٹر سنی مسلمان اور ہندو شیعوں پر مظالم کے لئے جانا جاتا ہے۔ وہ اتنا کٹر تھا کہ اس نے اپنے خاندان والوں کو بھی نہیں بخشا۔ اس نے اپنے والد کو قید کیا ، و بھائی کو مارا۔ درجنوں قریبی رشتے داروں کو مارا۔ ہندوؤں پر جزیہ اور بڑے مندروں کو تباہ کر اس پر مسجدیں بنوائیں۔ شیعوں کو مارا یہاں تک کہ عیسائیوں تک کو بھی نہیں بخشا۔ یہ سب اسلام کے نام پر کیا گیا۔ 
سکھ گوروؤں کے تئیں اس کے کٹر برتاؤ کے سبب ہی اسے کھلنائک مانا جاتا رہا ہے لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس میں اویسی جیسے کٹر لیڈر شامل ہیں، جو اسے غلط بتا رہے ہیں اور الزام لگ رہا ہے کہ اسے تاریخ کی حقیقت بدلنے کا قدم مانتے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پہلے تو ٹوئٹ کرکے اس کا سواگت کیا لیکن بعد میں کسی دباؤ کے چلتے انہوں نے اسے واپس لے لیا۔ اروند کیجریوال نے روڈ کے نئے نام رکھنے کے لئے مرکزی سرکار کی تعریف کی تھی۔ شام4.50 پر ٹوئٹ پر گریٹ لکھ کر مرکزی وزارت شہری ترقی کو شکریہ تک کہا۔ مودی سرکار کی مخالفت کے باوجود کیجریوال کے ذریعے مرکزی سرکار کی تعریف کرنے پر بھاجپا ایم پی مہیش گری نے شام ساڑھے پانچ بجے ٹوئٹ کرکے جوابی مبارکباددی۔ ساتھ ہی گری نے لکھا ہے کہ اروند جی یہ جانکاری شیئر کرنے کے لئے شکریہ۔ لیکن کیجریوال بیک مار گئے۔ خیر ہم ڈاکٹر عبدالکلام کے نام پر اس روڈ کا نام رکھنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

چک دے انڈیا: 36 سال بعد اولمپک کا ٹکٹ

ہندوستانی خاتون کھلاڑیوں کے اچھے دن شروع ہوگئے ہیں۔ ادھر ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کو راشٹرپتی بھون میں ایک پروقار تقریب میں دیش کا اہم ترین ایوارڈ راجیو گاندھی کھیل رتن سے نوازا گیا تو ادھر خبر آئی ہندوستانی مہلا ہاکی ٹیم کو 36 سال بعد اولمپک میں کھیلنے کا موقعہ ملے گا۔ لینڈر پیس کے بعد ثانیہ دیش کا سپریم کھیل ایوارڈ پانے والی دوسری ٹینس کھلاڑی ہیں۔ثانیہ نے کہا کھیل رتن میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ اپریل2012ء میں مہلا یوگل میں نمبر ون رینکنگ حاصل کرنے والی خاتون ہیں۔ ثانیہ مرزا اپنی جوڑی دار مارٹینا ہنس کے ساتھ مسلسل تین مہلا یوگل خطاب جیت چکی ہیں۔ وملڈن جیسے انتہائی اہم ترین ٹینس ٹورنامنٹ کا بھی یوگل فائنل جیتنے کا سہرہ ثانیہ کو جاتا ہے۔ ہم ثانیہ کو اس کے کارناموں پر مبارکباد دیتے ہیں۔ ادھر 36 سال بعد اگلے سال برازیل میں ہونے والے اولمپک کے لئے بھارتیہ مہلا ہاکی ٹیم نے کوالیفائی کرلیا ہے۔ 1980 ء کے ماسکو اولمپک کے بعد پہلی بار بھارتیہ مہلا ٹیم کھیلوں کے اس مہا کنبھ میں کھیلے گی۔ ماسکو اولمپک میں بھی اس لئے بھارتیہ ٹیم کو کھیلنے کا موقعہ ملا تھا کیونکہ کچھ دیشوں نے اولمپک کا بائیکاٹ کردیا تھا۔
ساؤتھ کوریا، ارجنٹینا، برطانیہ، چین، جرمنی، نیدرلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، امریکہ پہلے ہی اولمپک کے لئے کوالیفائی کرچکے ہیں۔ریو میں اولمپک کے لئے کوالیفائی کرنے کے ساتھ ہی بھارتیہ مہلا ہاکی ٹیم تاریخ میں دوسری بار اولمپک میں شرکت کرنے والی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ ایسا یورو ہاکی چمپئن شپ میں انگلینڈ اور ہا لینڈ کی ٹیموں کے فائنل میں پہنچ جانے کے سبب ہوا لیکن جولائی میں کھیلی گئی ہاکی ورلڈ لیگ میں پانچویں مقام پر رہنا بھی اس ٹیم کیلئے معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ یہ مقام اس نے جاپان کو ہراکر حاصل کیا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ موجودہ بھارتیہ مہلا ہاکی ٹیم اتنی تگڑی نہیں ہے کہ اسے لیکر ’چک دے انڈیا‘ جیسے سپنے دیکھے جاسکیں۔ لیکن اپنی سطح کے حساب سے اس کی حالت اتنی بھی بری نہیں ہے۔ اس سے پہلے ٹیم نے صرف ایک بار 1980ء میں ماسکو اولمپک میں سانجھے داری کی تھی لیکن اس کے سبب کا میں تذکرہ اوپر کر چکا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹیم نے قسمت سے ملے اس موقعہ پر پورا فائدہ اٹھایا اور ماسکو اولمپک میں چوتھا مقام حاصل کیا۔ ابھی حالت یہ ہے کہ مختلف ٹورنامنٹوں کے ذریعے کوالیفائی کرکے و ٹیموں میں دسویں ٹیم کی شکل میں ٹیم انڈیا کا نام جڑ گیا ہے۔ جلد ہی افریقہ اور اوسینیا ٹورنامنٹ سے نکل کر دو اور ٹیمیں اولمپک ٹورنامنٹ کا حصہ بنیں گی۔ چیف کوچ میتھائنس اہرنس کی نگرانی میں45 بھارتیہ مہلا کھلاڑی پورے دم خم کے ساتھ پریکٹس کیمپ میں لگی ہوئی ہیں۔ ان میں سے33 کھلاڑیوں کا اولمپک کیلئے انتخاب ہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ٹیم کا سلیکشن کھیل قابلیت پر ہوگا اور اس میں کوئی سیاست نہیں ہوگی۔ چک دے انڈیا۔
(انل نریندر)

01 ستمبر 2015

شینا ، اندرانی اور مرڈر مسٹری!

سنسنی خیز شینا بورا قتل کانڈ ویسے تو ایک مجرمانہ واردات ہے مگر اس نے ہمارے آج کے فائیو اسٹار کلچر سماج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واردات سے جدید طرز زندگی جینے والا پہلو سامنے لاکر رکھ دیا ہے۔ شینا بورا قتل کانڈ کو لیکر ہورہے تازہ انکشافات کے بعد فطری ہی ہے ایک بار پھر انسانی رشتوں کی کھسکتی زمیں پر تجویز جتائی جانے لگی ہے۔ایک ماں اپنے بچوں کو اس لئے بھائی بہن کی شکل میں پیش کرتی رہی اور انہیں ڈرا دھمکا کر اپنے رشتوں کو اجاگر کرنے سے روکتی رہی کہ اس کا سماجی وقار اورشاہانہ زندگی پر آنچ نہ آئے۔ وہ خود شان و شوکت اور چمک دمک کی زندگی گزارتی رہی لیکن پہلی شادی سے پیدا ہوئے دو بچوں پردے کے پیچھے رکھ کر انہیں اپنے رحم و کرم پر پلنے پر مجبور کرتی رہی۔اپنی شاہانہ شخصیت کو اتنا بے رحم بھی بنا سکتی ہے کہ اپنی ہی اولاد کا گلا گھونٹنے میں اس کے ہاتھ نہیں کانپے۔ اندرانی مکھرجی اس کی تازہ مثال ہے۔ پولیس کی چھان بین سے پتہ چلا ہے کہ اندرانی مکھرجی نے اپنے تیسرے شوہر پیٹر مکھرجی اور آس پاس کے تمام لوگوں سے یہ بات چھپائے رکھی کہ 21-22 سال کی عمر میں اس کی پہلی شادی ہوئی تھی جس سے دو بچے شینا اور میخائل ہیں۔ ان دونوں بچوں کو وہ چھوٹی عمر میں ہی اپنے والدین کے پاس چھوڑ کر اپنی شاہانہ زندگی گزارنے کے خواب دیکھ کر گھر سے نکل گئی تھی۔ پھر اس نے کولکاتہ کے ایک تاجر سے شادی کی بعد میں ایک مشہور انگریزی چینل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹر مکھرجی سے میل جول بڑھایا اور ان سے شادی کر ساتھ رہنے لگی۔ پہلی شادی سے پیدا ہوئے بڑے بیٹے سے شینا کی محبت ہوگئی تو اندرانی کو ناگوار گزرا اور اس نے شینا کو قتل کردیا۔ کہیں نہ کہیں اس کے پیچھے پیسوں کا معاملہ بھی وابستہ لگتا ہے۔ روز روز نئے انکشاف ہورہے ہیں۔ حالانکہ یہ واردات اتنی الجھی اور اتنی سوالوں میں گھری ہوئی ہے کہ کسی کے بھی بارے میں صاف صاف کچھ کہنا فی الحال مشکل ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس پڑھے لکھے پانچ ستارہ کلچر کے سماج میں پیسہ، عہدہ، وقار اور چمک دمک والی زندگی کا کریز اتنا بھاری ہے کہ اس کی انسانی احساسات کند ہوتے جارہے ہیں۔ آج کے اس دور میں رشتے کتنے کھوکھلے اور خودغرض اور مطلبی ہوگئے ہیں یہ واردات اس کی مثال بن گئی ہے۔ اس سے تو یہ بھی لگتا ہے کہ آروشی قتل کانڈ میں ماں باپ کا ہاتھ ہونا بھی اب ممکن ہی لگتا ہے۔ اس وقت یہ ماننا مشکل لگ رہا تھا کہ کوئی ماں باپ اپنی ہی اولاد کو قتل کرسکتے ہیں؟ مگر جب ایسے رشتے اور جھوٹ اور نہایت خودغرضی کی بنیاد پر بننے لگیں اور سچائی چھپانے کے لئے اپنی ہی اولاد کا قتل کسی عام سرگرمی کی طرح کردیا جائے تو سمجھنا چاہئے کہ انسانی تہذیب کا سفر الٹی سمت میں یعنی بربریت کی طرف مڑ گیا ہے۔
(انل نریندر)

26/11 کے بدلے پر مبنی فلم ’’فینٹم‘‘ پر پاک میں پابندی؟

ایتوار کی شام کو میں نے مشہور فلمساز کبیر خان کی فلم ’’فینٹم‘‘ دیکھی۔ڈائریکٹر کبیر خان دہشت گردی کے اشو کو لیکر فلمیں بناتے رہتے ہیں۔ اکثر ان کی ہر فلم میں دو ملکوں (بھارت۔ پاکستان) کی کہانی بیان کی جاتی ہے۔ ابھی عید کے موقعے پر آئی ان کی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کو دونوں ملکوں کے ناظرین نے کافی پسند کیا لیکن سیف علی خاں اور کٹرینہ کیف کو لیکر ان کی اس فلم ’فینٹم‘ پر پاکستان نے پابندی لگادی ہے۔ پاکستان کی ایک عدالت نے ممبئی کے 26/11 حملوں کے مساٹر مائنڈ حافظ سعید جو لشکر طیبہ کے چیف بھی ہیں کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے بالی ووڈ فلم ’فینٹم‘ کی ریلیز پر روک لگا دی ہے۔ لشکر اور جماعت الدعوی کے سرغنہ حافظ سعید نے عرضی میں کہا تھا کہ فلم میں اس کے اور تنظیم کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ دکھایا گیا ہے۔ سعید کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال حسن نے اس فلم کو پاکستانی سنیما گھروں میں دکھانے پر روک لگادی۔ پاکستان میں یہ فلم 28 اگست کو ریلیز ہونی تھی۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے سینسر بورڈ تک نے فلم کو دیکھے بغیر ہی اس فلم پر پابندی لگادی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس فلم کی کہانی سے بوکھلا گیا ہے۔ یہ فلم مصنف حسین زیدی کے ناول ’’ممبئی اویجرس‘ ‘ پر مبنی ہے۔ ’فینٹم‘ ممبئی کے26/11 آتنکی حملے کے بعد کے حالات پر بنی ہے۔ اس حملے کے جو4 ماسٹر مائنڈ تھے حافظ سعید، زکی الرحمن لکھوی، ڈیوڈ ہیڈلی اور ساجد میر کو بھارت کا ایک فوجی افسرکس طرح ان کے گھروں میں جاکر مارتا ہے ، دکھایا گیا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح بھارت نے 26/11 کے ماسٹر مائنڈ کو مار کر بدلہ لیا ہے۔ فلم کی کہانی کچھ ایسی ہے فوج کے سابق افسر ڈینیل خان (سیف علی) جس پر بزدلی دکھانے اور اپنی ٹیم کو خطرے میں ڈالنے کا الزام ہے ، اسے لیکر اس کے والد بھی اس سے ناراض ہیں۔ سرکار کی منظوری کے بغیر کی انڈین سیکریٹ سروس کے ہیڈ رائے( ستیہ سانچی مکھرجی) ایک ایسے خطرناک مشن کو گرین سگنل دے دیتے ہیں۔ سیکریٹ مشن کے لئے ڈینیل خان کو چنتے ہیں اور را ایجنٹ سمت مشرا ایک پلان تیار کرتا ہے جس میں ایک کوبرا ایکشن کے ذریعے آتنک وادیوں کو سبق سکھانے کی ٹھان لیتا ہے۔ ایسے میں یہ یاد آتی ہے کہ ڈینیل خان اور اسے ڈھونڈ کر اس مشن کیلئے منایا جاتا ہے۔ باقی کہانی میں نہیں بتاؤں گا کیونکہ اگر بتادی تو آپ کا سسپینس ختم ہوجائے گا۔ فلم کا ایکشن غضب کا ہے ۔ فلم دیکھتے وقت ایسا لگتا ہے کہ آپ کوئی غیر ملکی فلم دیکھ رہے ہیں۔ سیف علی خان نے بہت زوردار رول نبھایا ہے۔ کیٹرینہ کیف نے اپنی طرف سے بہت اچھی کوشش کی ہے۔ فلم کی شوٹنگ بیرونی ممالک کے کئی شہروں میں ہوئی ہے۔ لڑائی کے کچھ سین بیروت میں بھی شوٹ کئے گئے ہیں۔ وہ اصل لڑائی کے سین ہیں۔ایکشن سین کے لئے سیف نے زبردست محنت کی ہے۔ کچھ سین کبیر خان کی پہلی فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ کی یاد دلاتے ہیں۔ سیکریٹ سروس کے ہیڈ رائے کے کردار میں ستیہ سانچی مکھرجی نے بہترین اداکاری کی ہے۔ شاہنواز پردھان فلم میں حافظ سعیدنبھا رہے ہیں ،اتنا بڑھیا لگے کہ ان کا کردار پاکستان میں فلم پر پابندی لگنے کی ایک سبب بنا۔ پاکستان کو اس بات کو سے بھی گھبرا گیا ہے کہ اس فلم سے یہ بھی ایک طرح سے ثابت ہوجائے گا کہ 26/11 حملوں کا ذمہ دار پاکستان تھا۔ اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی تھی اور اس پلان کو عملی جامہ پہنایا لشکر طیبہ کے 10 لڑکوں نے۔ یاد رہے اجمل قصاب ان میں سے ایک تھا جسے زندہ پکڑ لیا گیا تھا بعد میں پھانسی پر لٹکا دیاگیا تھا۔ اس فلم میں یہ بھی دکھایاہے کہ کس طرح بھارت دہشت گردی کے گڑھ پاکستان میں گھس پر ان آتنکی سرغناؤں کو ٹھکانے لگا سکتا ہے۔ جوابی کارروائی کا ایک راستہ یہ بھی ہے۔ آپ سب اس فلم کو ضرور دیکھیں۔
(انل نریندر)

31 اگست 2015

Significance of the capture of Qasaab-III

Despite the cancellation of NSA level talks Pakistan is unwilling to mend its mischievous behaviour.  Neither its attitude has changed nor its actions.  This has resulted in successful live capture of a terrorist who came across the border by Indian security forces within a month. While Indian Army enjoys high morale on capturing this terrorist on Thursday, Pakistan has been exposed again on international level. Earlier this month, the villages had nabbed a Pakistani terrorist, Naved. It was nice that the terrorist nabbed by security forces in Baramulla second time was not exhibited as earlier in enthusiasm, thus giving time to Pakistan to destroy all the proofs related to him. It is well known that Pakistan avoids treating the captured terrorists as its citizens. We feel India has undergone some changes in its policy. It appears that live capturing of a terrorist, is a part of the new strategy of Indian Security Forces. India intends to expose Pakistan through a live terrorist. That is why security forces have recently insisted on capturing of terrorists instead of killing them. Security experts also agree with this strategy. One expert says Pakistan is constantly being exposed with live capture of terrorists. However Pakistan would ignore the facts again. The world has to understand why Pakistan avoids the dialogue with India? Pakistan is supporting with its total machinery in conspiracy of spreading terrorism in India. Live captured Naved and Sajjad itself are solid proof against Pakistan, yet their interrogation can reveal the conspiracy framed by Lashkar-e-Toiba, Pak Army and ISI against India. The major fact behind Pakistan’s moving backing out from NSA level talks is that India could have submitted the solid proof based on the information collected form Naved.  Stating Kashmir as important issue in relations with India, Pakistan has always intended to take Kashmir issue on international forums, but live captured terrorists have strengthened India’s stand. We can’t understand why doesn’t India insist talking about Pakistan’s claim over Gilgit-Baltistan area of Kashmir? Why doesn’t India raise the issue of the freedom of Baluchistan?  Baluchistan got independence on 11th August, 1947 three days before the independence of Pakistan. Despite being independent, Pakistan is forcibly occupying it, murdering its leaders. Bugati was murdered by Musharraf and the case is still going on in Pakistan.  India has till now harmed itself by adopting defensive stand regarding Kashmir on World forums.  India should also raise the fact on international levels that if Pakistan treats Occupied Kashmir as disputed territory then in which capacity it has given out thousands of kilometres area to China? Now 50000 Chinese soldiers are there to build roads and infrastructure in PoK. Why doesn’t India raise such issue that put Pakistan in a tight spot? India has got a good chance not only to expose this neighbouring country but also to force it to adopt a defensive approach.

Anil Narendra

 

30 اگست 2015

قصاب III کی گرفتاری کی اہمیت

قومی سلامتی مشیر سطح کی میٹنگ منسوخ ہونے کے بعد بھی پاکستان اپنے حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ نہ تو اس کے رویئے میں کوئی خاص فرق آیا ہے اور نہ ہی اس کی حرکتوں میں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ مہینے بھر کے اندر ہی بھارتیہ سکیورٹی فورسز کو سرحد پار سے آئے ایک اور دہشت گرد کو زندہ پکڑنے میں کامیابی ملی ہے۔ جہاں جمعرات کو پکڑے جانے سے اس آتنکی سے ہندوستانی فوج کے حوصلے بلند ہیں وہیں قومی بین الاقوامی سطح پر پھر پاکستان بے نقاب ہوا ہے۔ اس سے پہلے اسی ماہ میں ایک دوسرے پاکستانی دہشت گرد کو دیہاتیوں نے دبوچ لیا تھا۔ ایک طرح سے یہ اچھا ہوا کہ بارہمولہ میں سکیورٹی فورس کے ہاتھ لگے آتنکی کی ویسی نمائش نہیں کی گئی جیسے پہلے جانے انجانے میں اور جوش میں آکر ہونے دی گئی تھی۔ فی الحال اس دوسرے آتنکی کے پتے اور ٹھکانے کے بارے میں مفصل طور پر تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ یہ اس نقطہ نظر سے مناسب ہی ہے، کیونکہ پاکستان فوری طور پر اسے اپنا شہری ماننے سے تو انکار کرتا ہی اور ساتھ ساتھ اس سے متعلق ثبوتوں کو بھی ضائع کرنے میں لگ جاتا ہے۔ جب تک وہ اودھمپور میں پکڑے گئے آتنکی کے گھر والوں کو چھپانے کا کام کرتا تب تک میڈیا کی پہنچ ان تک ہو چکی تھی۔ یہ طے ہے کہ پاکستان اپنے جانے انجانے انداز میں اس آتنکی کے بارے میں بھی یہی کہے گا کہ یہ اس کا شہری نہیں ہے۔ لگتا ہے بھارت کی پالیسی میں تھوڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ دراصل زندہ آتنکی کو پکڑنا بھارت سرکار کی نئی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے۔ ہندوستان کی منشا زندہ دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو بے نقاب کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں سکیورٹی ایجنسیوں کی کوشش آتنکیوں کو مارنے کے بجائے زندہ پکڑنے کی رہی ہے۔ سکیورٹی ماہرین بھی اس حکمت عملی سے متفق ہیں۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ زندہ آتنکی کے پکڑے جانے سے پاکستان مسلسل بے نقاب ہورہا ہے۔ حالانکہ پاکستان ایک بار پھر حقائق کو نامنظور کرے گا لیکن دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان آخر کیوں بات چیت سے بچ کر بھاگتا ہے؟ پاکستان مسلسل بھارت میں دہشت پھیلانے کی سازشوں میں پوری مشینری کو تعاون دیتا رہا ہے۔ زندہ پکڑے گئے نوید اور سجاد سے پاکستان کے خلاف یہ بنیادی ثبوت تو ہیں، اس سے پوچھ تاچھ میں بھارت کے خلاف لشکر طیبہ ، پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے رچی جا رہی سازشوں کے بارے میں بھی پتہ چل سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ قومی سکیورٹی مشیروں کی میٹنگ سے پاکستان کے پیچھے ہٹنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ بھارت انہیں نوید سے ملی معلومات کی بنیاد پر ٹھوس ثبوت بھی پیش کرسکتا تھا۔ بھارت کے ساتھ رشتوں میں کشمیر کو اہم اشو بتانے والے پاکستان کی ہمیشہ سے منشا تو یہی رہی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کشمیر اشو کو بین الاقوامی اسٹیج تک لے جا سکے، لیکن زندہ پکڑے گئے دہشت گردوں سے تو بھارت کا موقف ہی مضبوط ہوتا ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیںآتا کہ بھارت کشمیر کے گلگت ، بلتستان خطے میں بھی اپنے دعوے پر زور کیوں نہیں دیتا؟ کیوں نہیں بھارت بلتستان کی آزادی کا اشو اٹھاتا، بلوچستان 11 اگست 1947ء کو آزاد ہوا تھا۔ یعنی کے بھارت اور پاکستان کی آزادی سے تین دن پہلے۔ آزاد ہونے کے باوجود پاکستان نے اس پر زبردستی قبضہ کررکھا ہے۔ ان کے لیڈروں کا قتل کررہا ہے۔بگتی کا قتل مشرف نے کروایا اور آج بھی پاکستان میں یہ مقدمہ چل رہا ہے۔ ابھی تک بھارت نے عالمی اسٹیج پر کشمیر کو لیکر ڈیفنس رویہ اپنا کر اپنا ہی نقصان کیا ہے۔ بین الاقوامی اسٹیجوں پر یہ بھی بھارت کو اٹھانا چاہئے کہ جب پاکستان اپنے حصے کو متنازعہ مانتا ہے تو کس حیثیت سے اس نے ہزاروں مربع کلو میٹر چین کو دے دیا؟ آج وہاں 50 ہزار چینی فوجی تعینات ہیں جو سڑکیں و ڈھانچہ بنا رہے ہیں۔ آخر بھارت کیوں نہیں ان اشو کو اٹھاتا جس سے پاکستان کو جواب دینا بھاری پڑے؟ بھارت کے پاس یہ اچھا موقع ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس پڑوسی ملک کو نہ صرف بے نقاب کرے بلکہ ڈیفنس رویہ اختیار کرنے پرمجبور ہو۔
(انل نریندر)

بہار چناؤ میں بھاجپا کی بڑھتی چنوتیاں

بہار اسمبلی چناؤ سیاسی طور پر الجھا ہوا ہے۔ جتنی پارٹیاں اتنا ہی ڈر و خدشات۔ بہار میں خاص طور سے مقابلہ جنتا دل (یو) اور آر جے ڈی کانگریس اتحاد اور این ڈی اے اتحاد میں ہونے کا امکان ہے۔ گذشتہ8 مہینے سے تیار مذہبی مردم شماری کے اعدادو شمار کو بہار اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے جاری کرنے کے پیچھے یہی پیغام گیا کہ بی جے پی کی قیادت والی سرکار اس اشو پر چناؤ میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں سوال اٹھ رہے ہیں کیا حقیقت میں بی جے پی کو اس کا فائدہ ملے گا؟ واقف کاروں کا خیال ہے کہ بہار کے اعدادو شمار میں مسلمانوں کی تعداد بڑا اضافہ جیسے دھماکہ خیز اشارے ہیں لیکن یہ اشو پولرائزیشن میں مدد کرسکتا ہے۔ ایم آئی ایم پارٹی کے لیڈر اسعد الدین اویسی کے بہار میں چناؤ لڑنے کے اعلان کے ساتھ ہی وہاں پولرائزیشن تیز ہوگیا ہے۔ بی جے پی کی نظر ریاست کے تقریباً 30 فیصدی ووٹروں پر ہے۔ بی جے پی بھلے ہی وزیر اعظم کی قیادت میں وکاس کے ایجنڈے پر چناؤ لڑنے کا دعوے کرے،لیکن پارٹی کو پتہ ہے کہ نتتیش بھی گورننس کے اشو پر مضبوط ہیں۔ بہار میں پولرائزیشن آسان نہیں ہوگا۔ ریاست میں حال میں مذہب سے زیادہ ذات برادری سطح پر لامبندی دکھائی دے رہی ہے۔ بی جے پی کے لئے کچھ چنوتیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ سابق فوجیوں کو ون رینک ون پنشن کا اشو اگر جلد نہ سلجھایا گیا تو بی جے پی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ بہار میں بھی ریٹائرڈ فوجیوں کی تعداد کم نہیں ہے اور اس کے لئے ذات سے زیادہ اہم پنشن کا اشو ہے۔گجرات میں پٹیل فرقے کو ریزرویشن کا مطالبہ اور اس کی وجہ سے بھڑکے تشدد کے واقعات نے گجرات کے ساتھ ساتھ بہار کو لیکر بھی بی جے پی کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔ وزیر اعظم نے ریاست کے لوگوں سے امن قائم کرنے کے علاوہ وزیر اعلی اور ریاست کے بڑے لیڈروں سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ مان رہی ہے کہ اس پر جلد ی قابو نہیں پایا گیا تو حالات سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے ہاردک پٹیل کی حمایت کر بھاجپا کی پریشانی اور بڑھا دی ہے۔بہار کی سیاست پسماندہ طبقے پر مرکوز ہے اس لئے بھی اس پر اس اشو کا اثر پڑ سکتا ہے۔ بھاجپا خود بھی مودی کو پسماندہ بتا کر بہار میں سیاست کررہی ہے۔ ایسے میں اگر گجرات کے اس نوجوان پٹیل لیڈر کو نتیش کی حمایت ملتی ہے تو وہ بھاجپا کی چناؤ مہم کے لئے چنوتی ہوسکتا ہے۔ بھاجپا کی نظر اروند کیجریوال پر بھی ہے جو بہار میں نتیش کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔ ہاردک پٹیل کے عام آدمی پارٹی سے بھی تعلقات رہے ہیں ایسے میں اس تحریک کو سیاسی سمت میں مڑنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بہار میں اس وقت کانٹے کی ٹکر کے حالات ہیں۔ دیکھیں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...