15 اکتوبر 2016

بوکھلائی شریف سرکار دہشت گردوں کوبھول کر صحافیوں کے پیچھے پڑی

دہشت گردوں کو سرپرستی دینے کے سبب آج پوری دنیا میں الگ تھلگ پڑنے سے بوکھلایا پاکستان اپنا سارا غصہ میڈیا پر اتارنے پر آمادہ ہے۔ دہشت گردوں کو ہر ممکن مدد دینے کو لیکر نواز شریف سرکار اور پاک فوج کے درمیان تلخ اختلافات کی خبر دینے والے’ ڈان‘ اخبار کے سینئر صحافی سرل المیڈا کے پاکستان سے باہر جانے پر پاک حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ ’دی ڈان‘ کے ستون اور جرنلسٹ سرل نے ٹوئٹ کر کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ انہیں اخراج کنٹرول فہرست میں رکھا گیا ہے۔ یہ پاکستان سرکار کی حد کنٹرول کا سسٹم ہے۔ اس کے تحت فہرست میں شامل لوگوں کو دیش چھوڑنے سے روکا جاتا ہے۔ المیڈا نے کہا کہ انہوں نے کافی عرصے پہلے سے غیرملکی دورہ کا منصوبہ بنایا ہواتھا۔ اب سے کم سے کم چار ماہ پہلے یہ پلان تھا۔ کئی ایسی چیزیں ہیں جنہیں میں کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ نواز سرکار نے اس پابندی پر سرکاری طور پر کوئی بیان تو نہیں جاری کیا لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے حکام نے کہا کہ وہ اس من گھڑت کہانی کو چھاپنے کے لئے ذمہ دارلوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ بتادیں سرل المیڈا نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایک اہم میٹنگ میں فوجی اور سول قیادت کے درمیان مبینہ دراڑ دکھائی پڑ رہی ہے۔ اس میٹنگ میں طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو کہا گیا تھا کہ آتنکی گروپوں کو اس کی طرف سے حمایت دئے جانے سے پاکستان عالمی سطح سے دنیا میں الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ ایک ہفتے پہلے المیڈا نے دی ڈان اخبار میں پہلے صفحے پر شائع اس خبر میں آگے لکھا تھا ،دراڑ پڑنے کی بنیادی وجہ وہ آتنکی گروپ ہے جو پاکستانی فوج کی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں۔ بھارت اور افغانستان میں آتنکی حملے کرتے رہتے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ پاکستان کو فوج کے چیف راحیل شریف کے دباؤ کے بعد نواز شریف سرکار نے یہ قدم اٹھایا۔ المیڈا پر لگی پابندی کے خلاف پاکستان کا پورا میڈیا متحد ہوگیا ہے اور سرکار کے اس قدم کی مخالفت ہورہی ہے۔سرل پر دیش چھوڑنے پر روک لگا کر پاکستان نے اپنی مصیبت کو اور بڑھا لیا ہے۔ عالمی برادری کے درمیان پہلے سے ہی بدنام پاکستان اب بین الاقوامی سماچار مافیاؤں میں اس وجہ سے سرخیوں میں ہے کہ اس نے کسی مجرم آتنکی کے دیش چھوڑنے پر پابندی لگانے کے بجائے ایک صحافی پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا۔ اخبار کے مدیر کی جانب سے سرل کی حمایت میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جو لکھا اس کی سچائی کی جانچ پرکھ کی گئی تھی۔ پاکستانی میڈیا کا ایک گروپ بھی سرل المیڈا کے خلاف کھڑا دکھائی پڑ رہا ہے۔ ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی را ء کے ایجنٹ ہیں۔ ہم اپنے پاکستانی بھائی صحافی سرل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاک سرکار کے اس قدم کی مذمت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

جے للتا کی ہیلتھ پر اٹھتے سوال

تامل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کی بیماری نے سبھی کو چکر میں ڈال دیا ہے۔ جے للتا کی ہیلتھ کولیکر طرح طرح کے سوال اٹھ رہے ہیں۔ بیشک انا ڈی ایم کے چیف کا حال چال پوچھنے اور اظہار ہمدردی گھٹانے میں سیاسی پارٹیاں کوئی کوتاہی نہیں کر پارہی ہیں مگر اماں کے مستقبل میں سرگرم رہنے پرسوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ بڑی اپوزیشن پارٹی ڈی ایم کے نے جے للتا کی صحت پر کئی سوال کھڑے کئے ہیں۔ ڈی ایم کے چیف ایم کروناندھی نے کہا ہے کہ کئی دنوں سے ہسپتال میں بھرتی جے للتا کیسے گورنر کو یہ صلاح دے سکتی ہیں کہ ان کے سارے محکمے کے کام کاج پینر سلوم کو سونپے جائیں؟ جے للتا کے سبھی محکمے وزیر مالیات پینر سلوم کو سونپ دئے گئے ہیں جنہیں جے للتا کا بھروسے مند مانا جاتا ہے۔ کروناندھی نے سوال کیا کہ جب کوئی ہسپتال میں جے للتا سے مل نہیں سکتا تو گورنر ودیا ساگر راؤ نے یہ کیسے طے کرلیا کہ سلوم جے للتا کا کام سنبھالیں گے؟ کیا وزیر اعلی نے اپنے سبھی محکمے ان کو ٹرانسفر کرنے کی صلاح دینے والے لیٹر پر دستخط کردئے ہیں یا نہیں؟ 20 دن سے زیادہ عرصے سے چنئی میں واقع اپولو ہسپتال میں داخل وزیر اعلی جے للتا کی صحت کو لیکر ہاسٹل کے افسران نے اب تک کئی میڈیکل بولیٹن جاری کئے ہیں۔ حالانکہ اس میں جے للتا کی بیماری کے بارے میں نہیں بتایا گیا بس محدود بات کہی گئی ہے۔ سیاسی گلیاروں سے لیکر عام جنتا اس کوشش میں ہے کہ آخر جے للتا کی حالت میں بہتری ہے تو پھر ریاستی حکومت کوئی کلئر کٹ بیان کیوں نہیں دیتی؟ تامل ناڈو کے گورنر، کیرل کے وزیراعلی پنا رئی وجین اور کانگریس نائب صدر راہل گاندھی، مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو، بھاجپا پردھان امت شاہ سمیت کئی لیڈروں کو ہسپتال جانے پر جے للتا کو دیکھنے یا ان سے ملنے نہیں دیا گیا۔ جس طرح ان کی صحت کو لیکر قیاس آرائیوں کا دور جاری ہے آنے والے وقت میں اے ڈی آئی ایم کے کے لئے چیلنج بھرا وقت ثابت ہوسکتا ہے۔ میڈیکل بولیٹن پہلے ہی بحث کا اشو بنا ہوا تھا اب وزیر اعلی کی صلاح پر محکموں کے الاٹمنٹ پر کروناندھی نے سوالیہ نشان لگا کر معاملے کو اور سنگین بنا دیا ہے۔ ظاہر ہے ڈی ایم کے چیف کسی گڑ بڑی کا اشارہ کررہے ہیں۔ جے للتا کے بارے میں واضح اطلاع جاری کئے بغیر ریاستی سرکار کے لئے اس سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ چنئی کے اپولو ہسپتال میں بھرتی جے للتا کی ہیلتھ پر ماہرین کی ایک ٹیم لگاتار نگرانی رکھی ہوئے ہے۔ اپولو ہسپتال کی جانب سے جاری بولیٹن کے مطابق محترمہ جے للتا کو سانس سے متعلق ضروری آلات اور اینٹی بایو ٹک دوائیں اور کھانے کے بارے میں احتیاط برتی جارہی ہے اور ان کی فیزیوتھیرپی بھی کی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

14 اکتوبر 2016

امریکی صدارتی امیدواروں کی بحث کا گرتا معیار

امریکہ میں صدارتی چناؤ اگلے مہینے ہونا ہے۔ کمپین اپنے شباب پر پہنچتی جارہی ہے۔ دونوں امیدوار ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی میں ایتوار کو دونوں کے درمیان دوسرا صدارتی مباحثہ پہلی والی بحث سے زیادہ گرا ہوا رہا۔ امریکہ میں اس بار کا چناؤ اس معنی میں تاریخی مانا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں پہلی بار کوئی خاتون صدارتی عہدے کی امیدوار بنی ہے لیکن بدقسمتی سے کہا جائے گا کہ یہ چناؤ اور بحث ایک معنی میں بہت ہی اہم ہے کہ وہاں خواتین کی جیسی بے عزتی اس بار ہورہی ہے ویسی نہ صرف امریکہ کے بلکہ کسی دیش کے چناؤ میں اب تک نہیں ہوئی تھی۔ 90 منٹ کی اس دوسری بحث میں مانا جارہا ہے کہ ہلیری کلنٹن کا پلڑا بھاری رہا۔ نفرت سے بھرے ماحول میں دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر نجی حملوں کی بوچھار کردی ہے۔ الفاظ کے ساتھ ساتھ جسمانی ہاؤ بھاؤ سے بھی ایک دوسرے کو لیکر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ فحاشی تبصروں کے سبب تنقیدوں کا سامنا کررہے ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر اور ہلیری کے شوہر بل کلنٹن کو ڈھال بنانے کی کوشش کی۔ بل کلنٹن کے معاشقوں کا ذکر کرتے ہوئے ان پر عورتوں کے جنسی استحصال کا الزام لگایا۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کو خواتین کا شکاری اور سب سے خراب امیج والا بتایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور سیاسی عہدے کے ایک اعلان کردہ امیدوار پر غرور ، نسل پرستی اور خاتون مخالف ہونے کے جتنے الزامات ہیں ، اتنی ہی تیزی سے اپنے نئے بیانات کے ذریعے وہ ان الزامات کی تصدیق بھی کرتے جارہے ہیں۔ دوسرے دور کی بحث کے ٹھیک پہلے ٹرمپ کی ماضی گذشتہ میں کی گئی کچھ سخت خواتین مخالف باتیں بھی میڈیا میں آگئی ہیں۔ فطری ہی ہے یہ مسئلہ بحث میں اٹھنا ہی تھا مگر اس کی تردید کرنے یا اس پر اپنا موقف رکھنے کے بجائے ٹرمپ نے اس کے جواب میں سابق صدر بل کلنٹن کو نشانہ بنایا اور ہلیری کلنٹن پر بھی کم سنگین نہیں ہیں لیکن سیاست شاید ان کی بھی وہی ہے کہ اپنے اوپر لگے الزامات کے بچاؤ کے لئے اپنے حریف پر ہی حملہ بولیں۔ ہلیری اورٹرمپ کے درمیان دوسری بحث ٹوئٹر پر بھی چھائی رہی۔ 1.70 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے ٹوئٹ کیا اور ٹوئٹر کے ترجمان نے بتایا کہ یہ ابھی تک کا سب سے زیادہ ٹوئٹ کی گئی صدارتی بحث ہے۔ 64 فیصدی نے ٹرمپ پر اور 76فیصدی نے ہلیری کے بارے میں نظریات رکھے۔ بحث کے بعد سی این این او آر جی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں 97 فیصدی لوگوں نے ہلیری کو اور 34 فیصد نے ٹرمپ کو ونر مانا ہے۔ غور طلب ہے کہ 27 ستمبر کو منعقدہ پہلی بحث کے بعد سی این این کے سروے میں 62فیصدی لوگوں نے ہلیری کو ونر مانا تھا۔
(انل نریندر)

اسٹرائک لمبی حکمت عملی کے تحت ہوئی، آگے بھی یہ چلتی رہے گی

ہندوستانی فوج کے ذریعے کی گئی سرجیکل اسٹرائک ٹھیک ویسے ہی ہوئی جیسا کہ دیش امید کررہا تھا۔ ہماری سرجیکل اسٹرائک دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے جنرلوں اور جہادی سرغناؤں کے دماغ کو بھی ٹارگیٹ کررہی ہے۔ اڑی حملہ کے بعد بھارت کے ڈی جی ایم او جنرل رنبیر سنگھ نے کہا تھا کہ ہم جوابی کارروائی ضرور کریں گے لیکن جگہ اور وقت ہم طے کریں گے۔ یہ حملہ اسی حکمت عملی کا کامیاب نتیجہ ہے۔ کنٹرول لائن کے آس پاس اس طرح کے حملوں کا پلان ہماری فوج کے پاس ہمیشہ رہتے ہیں۔ فوج کو آتنکی ٹھکانوں لانچ پیڈ کی پوری جانکاری ہے۔ یہ سرجیکل اسٹرائک سے ہمیں لگتا ہے کہ لمبی حکمت عملی کے تحت کی گئی اور ابھی یہ آگے بھی چلتی رہے گی۔ حال ہی میں ہماری سیاسی لیڈر شپ نے پاکستان کے خلاف کھل کر بیان دئے اور فوج کو جوابی کارروائی کرنے کی کھلی چھوٹ دی۔ اس سے فوج کو حوصلہ ملا۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے وہ تو ہمیشہ سے انکار کرتا ہی آرہا ہے کہ اس نے کبھی دہشت گردی کا ساتھ دیا ہے۔ وہ تو یہاں بھی نہیں مانتا کہ ان سب اسباب سے اس کا کبھی نقصان ہوا۔ پاکستان کا یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان منع کررہا ہے کہ ایسی کوئی اسٹرائک ہوئی ہے۔ ایل او سی پر جو لانچنگ پیڈ ہے دراصل وہ پاک فوج کے کیمپ ہیں۔ وہیں دہشت گردوں کو پناہ ملتی ہے۔ اس اسٹرائک کا نقصان صرف دہشت گردوں کو ہی نہیں بلکہ پاکستانی فوج کے جوانوں کو بھی ہوا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد بھلے ہی دہشت گرد پاکستان کے اندرونی علاقوں میں بھاگ گئے ہوں لیکن وہ وہاں بھی زیادہ دن تک محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔ ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیاں اب پاکستان کے اندرکوبرٹ آپریشن (خفیہ کارروائی) کرکے بھارت کے دشمنوں کو ختم کرنے کی تیاری میں ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں سے وابستہ ایک سینئر افسر کے مطابق پاکستان کے اندر مضبوط نیٹوک تیار کرلیا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کا استعمال کور آپریشن کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔دراصل مودی سرکار کے سرجیکل اسٹرائک کے فیصلے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ انہیں بھروسہ ہے کہ پاکستان کے اندر دیش کے دشمنوں کو ختم کرنے کیلئے سرکار کوبرٹ آپریشن کو ہری جھنڈی دے دے گی۔ پہلے سرکار ایسے جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کے ڈوزیئر پاکستان کو بھیج کر چپ چاپ بیٹھ جاتی تھی یہی وجہ ہے کہ پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی میں آتنکی آقاؤں کے حوصلے مسلسل بڑھتے چلے گئے۔ مودی سرکار آنے کے بعد پاکستان کو ڈوزیئر دینے کا سلسلہ بند ہوا اور اب سرجیکل اسٹرائک کر بھارت نے اپنا رخ صاف کردیا ہے۔ کوبرٹ آپریشن دشمنوں کے خلاف ایک خفیہ کارروائی ہے۔ اس میں دشمن کی ہر ایک حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے۔ ان آپریشنوں کی خاص بات یہ ہے کہ مشن ختم ہونے کے بعد بھی حملہ آوروں کی پہچان کا پتہ نہیں چلتا۔
(انل نریندر)

13 اکتوبر 2016

چین سے ملے جنگی ہتھیاروں کے دم پر اکڑتا پاکستان

پچھلے پانچ برسوں میں چین نے پاکستان کو امریکہ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہتھیار بیچے ہیں۔پاکستان نے چین سے تقریباً70فیصدی ہتھیار خریدے ہیں اور امریکہ سے صرف19 فیصدی۔ ایک دہائی پہلے پاکستان کو ہتھیار بیچنے میں امریکہ اور چین کی حصے داری تقریباً برابر تھی۔ بسلسلہ 39 اور 38 فیصد۔ حالانکہ ماہرین مانتے ہیں کہ اب بھی ہتھیاروں کے معاملے میں پاکستان بھارت سے بہت پیچھے ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں چین سے کئی ہتھیار خریدے ہیں۔ پچھلے مہینے پاکستان نے چین سے8 آبدوز خریدی ہیں۔ یہ سودا 33 ہزار روپے کا تھا۔ 250 سے300 جے ایف 17- جنگی جہازوں دونوں مل کر پاک ایئر فورس کے لئے بنا رہے ہیں۔ 25 ہزار ٹن والے ذوالفقار کیٹگری کے 4 جنگی بیڑے چین سے خریدے ہیں۔ 500 ٹن والے ہلکی کٹیگری کے 4 چھوٹے جنگی بیڑے 600 خالد ٹینک خریدے ہیں جو چین کے ٹائپ 90-2 جیسے ہیں۔ 9 ایم کیو ۔16 میزائل سسٹم، زمین سے ہوا میں مارنے میں اہل ہیں۔4 ایواکس (ایئر بورن وارننگ سسٹم) پچھلے چار سال میں پاکستان کو دی جانے والی امریکی ڈیفنس تعاون رقم میں 73 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ وہیں امریکہ نے سبسڈی پر 8 ایف۔16 جنگی جہاز بھی دینے سے منع کردیا ہے۔ ماہرین کی مانیں تو ورلڈ طاقت کی شکل میں ابھر رہا چین امریکہ سمیت مغربی ملکوں کو کئی محاذ پر چیلنج دے رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی پاکستان کے ذریعے یا سیدھے بھارت کو غیر متوازن رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ اور روس کے بعد چین ہتھیاروں کا تیسرا بڑا برآمداتی ملک ہے۔ عالمی ہتھیار برآمدگی میں اس کی حصے داری5.9 فیصدی ہے جو 2010ء میں 3.6 فیصد تھی۔ ہتھیار سپلائی میں چین ، امریکہ اور روس کی حصے داری بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کو ہتھیار فروخت کرنے کے پیچھے چین کا مقصد پیسہ کمانا نہیں بلکہ وہ پاکستان کی فوجی طاقت کو بھارت کے برابر لانے کی کوشش کررہا ہے۔ پچھلے پانچ سال کے دوران جو ہتھیار پاکستان کو دئے ہیں ان میں زیادہ تر فرینڈلی پرائس پر ہیں۔ مقصد صاف ہے جو ہتھیار چاہئیں ہم سے لو، ہم مناسب دام لگادیں گے۔ جموں و کشمیر میں فوج اور سکیورٹی فورس پر ہورہے تازہ حملوں میں چین کے ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ آتنکی چین میں تیار گولے داغ رہے ہیں۔ پاکستان فوج لائن آف کنٹرول اور بارڈر پر رہائشی علاقوں میں چین کے مورٹار داغ رہی ہے۔ ایجنسیوں نے اس بارے میں مرکزی وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کو بھی مطلع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرجیکل اسٹرائک کے بعد لشکر طیبہ ، جیش محمد اور حزب المجاہدین نے ہاتھ ملا لیا ہے۔ کڑوی سچائی تو یہ ہے کہ پاکستان چین سے ملے ہتھیاروں کے دم پر اکڑ رہا ہے۔ چین ہی پاکستان کا واحد دوست بچا ہے۔
(انل نریندر)

ہرسال0 9260 کروڑ کی غذائی پیداوار کی بربادی

اکثر ہم سے کہا جاتا ہے کہ کھانا برباد ہونے سے بچائیں۔ ہمیں ان بچوں کے بارے میں سوچنے کو کہا جاتا ہے جو ہر دن بھوک سے تڑپ کر مر جاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بھارت ہر دن کھانے لائق غذا تو پیدا کرتا ہے لیکن پھر بھی لاکھوں لوگ بھوکے سونے کو مجبور ہیں۔ ایک سرکاری اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت میں ہر برس 70 لاکھ ٹن کھانا برباد ہوتا ہے۔ وزارت زراعت کی فصل تحقیقی یونٹ سیفیٹ نے یہ اسٹڈی کی ہے۔ بھارت میں ہر سال جتنا کھانا برباد ہوتا ہے وہ برطانیہ کی قومی پیداوار سے زیادہ ہے۔ اتنا کھانا تو مصر جیسے دیش کے لئے سال بھر کے لئے کافی ہوتا ہے۔ یہ اسٹڈی دیش میں 14 ویں ایگری کلچرل زون کے 120 ضلعوں میں کی گئی ہے۔ اس کے مطابق برباد ہوئے کھانے کی قیمت 92 ہزار کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ یہ رقم بھارت سرکار کے ذریعے نیشنل فوڈ سکیورٹی پروگرام کے تحت خرچ کی جانے والی رقم کی دو تہائی ہے۔ اسٹڈی کے مطابق پھل ، سبزیاں اور دالیں سب سے زیادہ بربادہوئی ہیں۔ اس کے مطابق غذائیت کا سڑنا ،کیڑے پڑنا اور موسم کی خرابی اور اسٹوروں کی کمی بربادی کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ فصلوں کی بات کریں تو 10 لاکھ ٹن پیاز کھیتوں سے مارکیٹ آنے کے دوران راستے میں برباد ہوگئی۔ 22 لاکھ ٹن ٹماٹر بھی راستے میں خراب ہوگئے۔ اس بربادی کو روکنے کیلئے کولڈ اسٹوریج بنانے اور کسانوں کو ٹریننگ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اسٹڈی کے مطابق ہر آپریشن اور اسٹیج میں کچھ نہ کچھ نقصان ہوتا ہے۔ اس طرح ذرعی پیداوار کی بڑی مقدار تھالی تک نہیں پہنچ پاتی۔یہ اسٹڈی دو سال پہلے ملی جانکاری کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے کرائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غذائی سامان کو بازار تک پہنچنے میں کئی مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہر قدم پر کچھ نہ کچھ نقصان ہوتا ہے۔ برباد ہونے کے اہم اسباب،کسانوں ،تاجروں کے ذریعے ڈھنگ سے سامان کو نہ سنبھالنا، موسم کی مار جھیلنے والے اسٹوریج اور سپلائر کے پاس کولڈ اسٹوریج کا انتظام نہ ہونا، اسے روکنے کیلئے فوری ضروری قدم اٹھانے ہوں گے۔ اسٹوریج کے پرانے طریقوں کی جگہ جدید طریقوں کی ٹریننگ دینی ہوگی۔ کولڈ اسٹوریج کی تعداد بڑھانی انتہائی ضروری ہے۔ 12 ویں ہند۔ امریکہ اکنامک کانفرنس میں مرکزی وزیر زراعت ہرسمرت کور بادل نے کہا انگنت چیلنجوں کے باوجود ہندوستانی کسان بھارت کی 1.3 ارب جنتا کو کھلانے کیلئے کافی غذا پیدا کررہا ہے۔ بدقسمتی سے فوڈ پروسیسنگ ٹکنالوجی میں یہ رفتار نہیں دیکھی گئی ہے۔ اسے اپنانے کیلئے صنعتوں کو کسانوں کے ساتھ سانجھیداری کرنی چاہئے۔ اس سے ہماری غذائیت کی کوالٹی میں بھی بہتری آئے گی بلکہ ہمارے کسانوں کے لئے زیادہ آمدنی یقینی ہوگی اور برباد میں کمی آئے گی۔
(انل نریندر)

11 اکتوبر 2016

ہماری آئینی تاریخ میں پہلی بار تین طلاق پر اسٹینڈ لیا

بھارت سرکار پہلی بار تاریخ میں مسلم خواتین کے حق میں کھل کر آگے آئی ہے۔ معاملہ مسلمانوں کے درمیان تین طلاق ، نکاح، ہلالہ اور کثیر شادی کے سوال کا ہے۔ جمعہ کو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا ہے مسلمانوں میں رائج تین طلاق ، ہلالہ، نکاح اور کثیر شادیاں اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں ہیں۔ مرکزی سرکار نے مسلم فرقے میں تین طلاق کے رواج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 65 برسوں سے اس فرقے میں اصلاح نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کو سماجی و اقتصادی طور سے کمزور بنا دیا گیا ہے۔ قانون وزارت کے ذریعے داخل حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی رسموں کے جواز کی یکسانیت اور احترام غیر امتیازبھرے اصولوں کے پس منظر میں سپریم کورٹ کے ذریعے پھر سے محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آئین کی دفعہ۔25 کے تحت تین طلاق یا کثیر شادی کی چھوٹ نہیں ملی ہے اور نہ ہی یہ مذہب کا حصہ ہے۔ مسلمانوں میں ایسی روایت کی منظوری کو چیلنج کرنے کے لئے سائرہ بانو کی طرف سے دائر عرضی سمیت دیگر عرضیوں کا جواب دیتے ہوئے مرکز نے آئین کے تحت جنسی برابری کے حق کا نپٹارہ کیا تھا۔ اس میں کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر جمہوریت میں یکساں درجہ بھارت کے آئین کے تحت خواتین کو دستیاب و وقار فراہم کرنے سے انکار کرنے کیلئے مذہب ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ آئینی اصولوں کا ذکرکرتے ہوئے اس نے کہا کوئی بھی کام جس سے خواتین کے سماجی ، مالیاتی یا جذبات خطرے میں پڑتے ہیں ، یا مردوں کی سنک کی زد میں آتی ہیں تو یہ آئین کی دفعہ14 اور 15 (یکساں حقوق ) کے تقاضے کے مطابق نہیں ہے۔ داخل حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام کو سرکاری مذہب ماننے والے بہت سے ملکوں نے شادی اور طلاق سے وابستہ قانون بدل دئے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان (1961) سے بنگلہ دیش (1971 ) سے مصر (1929) سے اور سوڈان(1935 )سے ،شام (1953) میں طلاق سے متعلق قوانین میں ترمیم کر تین طلاق پر پابندی لگا سکتے ہیں تو بھارت میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ سرکار نے بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ان پر دستخط کر چکا ہے کہ خواتین کے برابری کے حق کو منظور کرتے ہیں اور برابری کے حق کو ماننے کے لئے پابندی ہیں۔ سرکار نے سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے داخل حلف نامے کا بھی حوالہ دیا۔ سرکار نے کہا کہ بورڈ نے خود تین طلاق اور کثیر شادی کو بلارکاوٹ طریقے سے مانا ہے۔ ایسے میں کسی بھی غیر مناسب طور طریقے کو مذہب کا حصہ نہیں کہا جاسکتا۔ بتادیں کہ اسی سال جون میں بھارت میں تین طلاق کی روایت کو ختم کرنے کے لئے ایک آن لائن عرضی پر قریب 50 ہزار مسلم خواتین نے دستخط کئے تھے۔
(انل نریندر)

دہشت گردی بند کرو، بچوں کو لشکر کی غلط تعلیم بند کرو

بھارت کی طرف سے سرجیکل اسٹرائک ہونے کے ہر دعوے کو جھٹلا رہے پاکستانی حکمرانوں کی پول اب ان کی جنتا ہی کھول رہی ہے۔ پہلے کنٹرول لائن پر واقع گاؤں والوں نے ہندوستانی میڈیا کو اس آپریشن کے بارے میں بتایا اب پورے غلام کشمیر اور گلگت کے باشندے سڑکوں پر نکل کر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ان کا علاقہ کس طرح پاکستان کی آتنکی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ حال ہی میں مظفر آباد میں آتنک حمایتی پاکستان حکومت اور پاک فوج کے خلاف ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے پی او کے کے باشندے مظاہرہ کررہے ہیں۔ مظفر آباد کے علاقے کوٹلی ،چناری، میر پور، گلگت، ڈائمراور نیلم وادی کے باشندوں نے جمعرات کو سرکار مخالف نعرے لگاتے ہوئے جم کر مظاہرہ کیا۔ لوگوں نے کھل کر کہا ان آتنکی ٹریننگ کیمپوں سے ان کی زندگی جہنم بن گئی ہے۔ ان درندوں کی وجہ سے وہ جہنمی زندگی جینے کے لئے مجبور ہیں۔ مظاہرین نے نواز سرکار کے خلاف جم کر نعرے لگائے۔ مظاہرین دہشت گردی بند کرو، بچوں کو لشکر کی غلط تعلیم دینابند کرو، جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان یہاں کے بچوں کو بھی دہشت گردی کا پاٹھ پڑھا رہا ہے۔ پاکستان سے آئے لوگوں نے پی او کے میں مدرسے کھول رکھے ہیں جہاں بچوں کو آتنکی بننے کا سبق پڑھایا جاتا ہے، ان پر پابندی لگائی جائے۔ جہاں کہیں بھی طالبان اور دہشت گردوں کے کیمپ ہیں انہیں بند کیا جائے۔ گلگت کے ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ اگر انتظامیہ طالبانی آتنکی کیمپوں کا خاتمہ نہیں کرتی تو ہم خود کارروائی کر انہیں تباہ کر دیں گے۔دائمر ،گلگت اور باسین اور کئی دیگر علاقے ایسے ہیں جہاں آتنکی کیمپوں کی موجودگی کی وجہ سے عام لوگوں کو آنے جانے کی مناہی ہے۔ جس طرح سے ان علاقوں میں وہاں کی عوام کھل کر پاک حکومت اور فوج کی آتنکی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اتر آئی ہے اس سے بھارت کا یہ الزام صحیح ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان والے کشمیر سے بھارت میں دراندازی کرانے کیلئے بڑی تعداد میں آتنکیوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ دو مہینے پہلے مقبوضہ کشمیر میں کافی تعداد میں لوگوں نے جلوس نکال کر ترقی کے اشو پر پاک سرکار کو گھیرنے کی کوشش کی تھی۔ بھارت کی سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے مسلسل یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ حالیہ دنوں میں کنٹرول لائن پر کس طرح سے آتنک وادیوں کی آمدورفت بڑھی ہے۔ پورے علاقے میں یہ بات آگ کی طرح پھیل گئی ہے۔ اب آتنکی کیمپ و ان کے لانچ پیڈ کے نقصان کی خبر سب کو مل چکی ہے۔ دیش کی مسلح فورس نے بھارت سرکار کو کہا ہے کہ لگاتار چھ مہینوں تک کمپین چلانے پر ہی پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں ٹیرر ڈھانچے کو ٹھیک ٹھاک طریقے سے تباہ کیا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

09 اکتوبر 2016

سرجیکل اسٹرائک پر شک ہے توخود جاکر دیکھتے کیوں نہیں

سیاست کرنے کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔ ہم یہ تو سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھاجپا سے اور سرکار و پارٹیوں کی پالیسیوں سے اختلافات ہیں اور آپ کو ان کی تنقید کرنے کا بھی ہماری جمہوریت میں پورا اختیار ہے لیکن جب آپ ہندوستانی فوج پر ہی سوال اٹھانے لگیں اور انہیں جھٹلانے لگیں تو آپ نہ صرف قومی مفادات کے خلا ف بات کررہے ہیں بلکہ آپ ہمارے بہادر جوانوں جو دن رات سکیورٹی کے لئے بلیدان دے رہے ہیں ان کا حوصلہ توڑنے کا کام کررہے ہیں۔ جب بھارتیہ فوج کے ڈی جی ایم او کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائک کیا ہے تو یہ ماننا پڑے گا اور یہ فائنل ہے۔ آپ اب فوج سے ہی ثبوت مانگ رہے ہیں فوج نے سرجیکل اسٹرائک کی پوری ویڈیو گرافی کی ہے۔ قریب 90 منٹ کا یہ ویڈیوفوج نے سرکار کو دے دیا ہے لیکن سرکار نے صحیح فیصلہ کیا ہے کہ اس ویڈیو کو پبلک کرنا دیش کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہوا میں یوں ہر بات کا ثبوت مانگنا ٹھیک نہیں ہے۔ بھارت کی جانب سے ایل او سی کے پار پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کئے جانے کے مرکزی سرکار کے پاس تین ذرائع سے بھیجے گئے سرجیکل اسٹرائک کے ثبوت موجود ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پی او کے میں ہندوستانی فوج کی طرف سے انجام دئے گئے سرجیکل اسٹرائک کے یو اے بی ڈرون سے لئے گئے ثبوت ہیں۔ یو اے وی کے ذریعے اس کارروائی کا ویڈیو سرکار کے پاس ہے۔ دوسرا ثبوت یہ ہے کہ سیٹیلائٹ کے ذریعے بھی اس سرجیکل اسٹرائک کا ویڈیو بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرجیکل اسٹرائک کو انجام دینے کے وقت ہندوستانی فوجیوں نے جو ہیلمٹ پہنے تھے اس پر لگے کیمرے سے بھی کارروائی کی ریکارڈنگ کی گئی ہے جو ثبوت کے طور پر مرکزی حکومت کے پاس موجود ہے۔ پاکستان کی آتنکی تنظیموں کے ٹھکانوں پر فوج کی سرجیکل اسٹرائک کے ان ثبوتوں کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں و سرکار کا یہ تجزیہ صحیح ہے، مناسب ہے کہ فی الحال انہیں پبلک کرنا دیش کے مفاد میں نہیں ہے۔ ایک تو فوج کی حکمت عملی راز میں رکھنے کے لئے ایسا ضروری ہے اور دوسرے اس لئے بھی کہ اس طرح کے آپریشن کو عام نہ کرنے کی ایک غیر تحریری روایت ہے۔ جب امریکہ کی نیوی سیلس کے جوانوں نے ایبٹ آباد (پاکستان) میں گھس کر اسامہ بن لادن کو مارا تھا تو کیا سرجیکل اسٹرائک کی تفصیلات کا ویڈیو آج تک پبلک نہیں کیا۔ امریکہ کی عوام یا سیاست دانوں نے اپنے صدر نیوی سیلس کی کارروائی پر شبہ تک ظاہر نہیں کیا تھا اور نہ ہی آج تک آپریشن کی تفصیلات دی گئی ہیں۔آج تک امریکی حکومت نے ان کو سامنے نہیں کیا کہ اس آپریشن میں کتنے نیوی جوانوں نے حصہ لیا تھا، ان کے نام کیا ہیں؟ آج کے جدید دور میں کچھ بھی نہیں چھپ سکتا۔ سرجیکل اسٹرائک پر جاری سیاست اور اسے لیکر اٹھے سوالوں کے درمیان انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے بڑا خلاصہ کیا ہے۔ اخبار میں شائع رپورٹ میں کنٹرول لائن پار رہنے والے چشم دید نے پچھلے ہفتے آتنکی کیمپوں پر ہوئی ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائک کا آنکھوں دیکھا حال بتایا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح سرجیکل اسٹرائک میں مارے گئے آتنک وادیوں کی لاشوں کو29 ستمبر کو صبح سویرے ٹرکوں میں بھر کر لے جایا گیا۔ چشم دید کے مطابق کم وقت میں ہوئی فوج کی تابڑ توڑ فائرنگ میں آتنکی کیمپ نیست و نابود ہوگئے اور ان عینی شاہدین کے بیان سے ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائک پر سوال اٹھا رہے پاکستان اور ہمارے دیش کے کچھ سیاسی نیتا بے نقاب ہوگئے ہیں۔ چشم دید نے اسٹرائک کے دوران نشانہ بنائی گئی کچھ ایسی جگہوں کے بارے میں بھی بتایا ہے جنہیں بھارت اور پاک کی طرف سے بھی پبلک نہیں کیا گیا۔ کہا جارہا ہے سرجیکل اسٹرائک پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن اس سے پہلے فوج یا حکومت نے کئی اسباب کے سبب ان کا خلاصہ نہیں کیا۔ اسی طرح میانمار میں کی گئی فوجی کارروائی کے ثبوت بھی سامنے نہیں لائے گا۔ سرجیکل اسٹرائک کے ثبوت مانگنا سیاسی شرارت تو ہے ہی سرکار اور فوج کی توجہ ہٹانے اور ان کو بدنام کرنے کی حرکت بھی ہے۔ یہ ایک طرح سے ضروری بھی تھا کہ وزیر اعظم نے بھاجپا نیتاؤں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوج کی کارروائی کے معاملے میں زیادہ بڑبولا پن نہ دکھائیں اور اس معاملے میں چنندہ لوگ ہی اپنی بات رکھیں۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ آج کانگریسی نیتا سنجے نروپم ثبوت کی بات کررہے ہیں جبکہ ڈی جی ایم او نے اعلان کیا تھا کہ ہندوستانی فوج نے ایل او سی کے پار سرجیکل اسٹرائک کیا ہے تو سب سے پہلے سونیا گاندھی کی رہنمائی میں پوری کانگریس نے سرکار اور فوج کی حمایت کی تھی۔ آج انہیں کی پارٹی کے ایک چھٹ بھیا نیتا سوال اٹھا رہے ہیں؟ ایسی سرجیکل اسٹرائک مستقبل میں بھی ہوسکتی ہے۔ اگر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق 100 دہشت گرد گھس پیٹھ کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چل رہے 42 آتنکی ٹریننگ کیمپوں کی پختہ جانکاری اور نقشہ ہے۔ ان میں سے 18 کیمپ زیادہ سرگرم ہیں۔ 14 لانچنگ پیڈ ان دنوں سرگرم ہیں۔ کیا ہر بار سرکاراور فوج کو اٹیک کا ثبوت دینا پڑے گا؟
(انل نریندر)

نواز کی پاک فوج کو صاف اور غیرمتوقعہ وارننگ

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے پاکستان میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔پہلی بار کھلے طور سے پاکستان نے چنی ہوئی نواز شریف سرکار اور پاکستان کی اصل حکمراں پاک فوج کے درمیان پھوٹ پڑ گئی ہے۔ اگر پاکستان کے مشہور اخبار ’ڈان‘ کی رپورٹ کو صحیح مانا جائے تو پاکستان کی نواز شریف سرکار نے پہلی بار فوجی قیادت کو سخت وارننگ دی ہے کہ عالمی برادری میں اگر الگ تھلگ نہیں پڑنا چاہتے تو دہشت گردوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرنی پڑْ گی۔ حکومت نے دہشت گردوں پر کارروائی میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے کوئی دخل اندازی نہ کرنے کے ساتھ پٹھانکوٹ حملے کی جانچ و 2008ء میں ممبئی حملے کا مقدمہ چلانے کے احکامات بھی دئے ہیں۔ انگریزی اخبار’ ڈان‘ کے مطابق گزشتہ دنوں پنجاب صوبے کے وزیر اعلی شہباز شریف (نواز کے بھائی) اور اختر کے درمیان زور دار بحث ہوئی۔ پیر کو ہوئی آل پارٹی میٹنگ کے مارے میں حالانکہ زیادہ کچھ نہیں بتایا گیا لیکن اس میں دو مرحلوں کے ایکشن پر کارروائی کے لئے اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ پہلے مرحلے کے ایکشن میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل رضوان اختر اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر نصیب جنجوا پاکستانی صوبے کا دورہ کر صوبائی کمیٹیوں کے سربراہوں و آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈروں سے ملیں گے۔ اس ایکشن پلان کا مقصد یہ سندیش دینا ہوگا کہ فوجی رہنمائی میں چلنے والی خفیہ ایجنسیاں دہشت گرد گروپوں پر کارروائی میں کوئی دخل اندازی نہیں کریں گی۔ پاکستان کی اپوزیشن پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے جمعرات کو پاک وزیر اعظم نواز شریف کی دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دینے کے لئے سخت نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف کے اس رویہ کی وجہ سے اڑی حملے کے بعد دیش الگ تھلگ پڑگیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر اعتجاز احسان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران کہا پاکستان کا الگ تھلگ پڑنا نواز شریف کی ذاتی ناکامی ہے۔ بی بی سی اردو نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں نواز شریف کی پارٹی پی ایم ایل این کے ایک ایم پی اور خارجی معاملوں کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبر رانا محمد افضل نے حافظ سعید سمیت سبھی نان اسٹیٹ ایکٹرس کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے کہا حافظ سعید پاکستان میں کونسے انڈے دیتا ہے جو ہم نے اسے پال رکھا ہے۔ نان اسٹیٹ ایکٹرس ان خطرناک لوگوں کے لئے استعمال لفظ ہے جو اقتدار میں نہ رہتے ہوئے بھی دیش میں اپنی یکساں حکومت چلاتے ہیں۔ بی بی سی اردو کی خبر نے ’ڈان‘ کی اس خبر پر مہر لگائی جس میں پاکستان کے الگ تھلگ پڑنے کا ڈر بتایا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے خارجی معاملوں کی کمیٹی کے اجلاس میں ایم پی رانا محمد افضل نے حافظ سعید کا نام لیکر کہا کہ حافظ سعید کونسے اپدیش دیتا ہے۔ انہوں نے آگے کہا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حال یہ ہے کہ آج تک حافظ سعید کو ختم نہیں کرسکے۔ رانا نے کہا بھارت نے حافظ سعید کو لیکر دنیا میں پاکستان کی ایسی امیج بنا دی ہے کہ جب بھی کشمیر مسئلے پر پاکستان دنیا کو اپنا رخ بتاتا ہے تبھی وہاں کے افسران کہتے ہیں کہ حافظ سعید کی وجہ سے دونوں کے رشتے خراب ہیں اور گلگت بلتستان کے ایک نامو لیڈر کا کہنا ہے کہ کشمیر پاکستانی فوج کے لئے پیسہ کمانی کی مشین ہے جووادی میں حالات کو جوں کا توں بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ ساتھ ہیں انہوں نے یہ بھی کہا جو گلگت میں چور ہے وہ جموں و کشمیر میں دوست نہیں ہوسکتے۔ نواز شریف سرکار نے پاک فوجی قیادت کو صاف اور منظم اور غیر متوقعہ وارننگ دی ہے اور ممنوعہ آتنکوادی گروپوں کے خلاف کارروائی سمیت اہم اشوز پراتفاق رائے بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
(انل نریندر)