Translater

28 اکتوبر 2017

داؤں پر گجراتی ساکھ اور گجرات ماڈل

ہماچل ریاست میں انتخاب کے اعلان کے 13 دن بعد بدھ کو گجرات میں اسمبلی چناؤ کی تاریخ بھی اعلان ہوا ہے . اس بار بھی دو مرحلے میں انتخاب ہوگا. 9 دسمبر کو 89 سیٹوں پر اور 14 دستمبر کو باقی 93 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی نتیجہ 18 دسمبر کو ہی اعلان کیا جائے گا. ملک میں جی ایس ٹی کے بعد ہونے والا یہ پہلا انتخاب ہوگا. اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ گجرات میں انتخابات کی تاریخوں کا اعلان دیر سے اس طرح کیا گیا تاکہ بھاجپا کو فائدہ پہونچایا جا سکے. اگرچہ، انتخابی کمیشن نے ہماچل کے ساتھ گجرات چناؤ کے اعلان نہ کرنے کے بارے میں صفائی دی ہے گجرات کے اسمبلی اسمبلی کے انتخابی بگل بجنے کے ساتھ حکمراں بھا جپا کے مضبوط ترین پی ایم مودی۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی جوڑی اوراپو زیشن خاص طور پر کانگریس کی اگنی پریکشا کا دور شروع ہوا ہے. انتخابی نتائج نہ صرف آنے والے لوک سبھا چناؤ کا فیصلہ، بلکہ ملک کی مستقبل کی سیاست کی اسکرپٹ کا آغاز کرنا بھی ہوگا. چونکہ سوال حکمرانی، بی جے پی اور مخالف دونوں کے لئے پوزیشن کرو یا مرو کی ہے، لہذا، دونوں طرف سے اپنی مکمل طاقت کو جھونک دیا. نریندر مودی کی پی ایم بننے کے بعد بھاجپا 21 اسمبلی انتخاب لڑر ہے ہیں. ان میں سے بی جے پی نے 12 میں جیت حاصل کی ہیں۔کامیابی کے اعداد و شمار کا کوئی کسی کو بھی سکون دے سکتا ہے. اگرچہ ایک طرح سے، تو دسمبر میں ہونے والے گجرات کے انتخابات میں بی جے پی نہ صرف بلکہ نریندر مودی کیلئے 2014 کے بعد سے سب سے اہم انتخابات ہیں. گجرات میں بھاجپا جب اترے گی تو 2014 کے بعد یہ ایسا ہی ہوگا جس میں پارٹی کی اکثریت کی حکومت چل رہی ہے. ری۔الیکشن میں جیت کی کوشش میں جٹی بھا جپا یہاں اتحادیوں کا بھی ساتھ نہیں ہیں. 2014 کے بعد لوک اسمبلی انتخابات، بی جے پی آندھرا پردیش ، اروناچل اوڈیشا، سکیم، تمل ناڈو، جموں کشمیر، آسام، کیرول، پڈوچیری، مغربی بنگال، گووا، منی پور، پنجاب، جھارکھنڈ، ریاستوں میں متحدہ چناؤ لڑچکی ہیں مودی اور شاہ کی جوڑی کی قیادت کے دوران بی جے پی نے 21 اسمبلی کے انتخابات میں سے 12 میں جیت درج کی ہے.ان 21 ریاستو ں میں 14 میں کانگریس یا کانگریس کی قیادت والی سرکاریں تھی ، لیکن دوبارہ اقتدار میں ان کے پاس صرف دو ریاستیں ہیں اور اروناچل ریاست اور پڈوچیری ہیں ان میں . دسمبر میں ہونے جا رہا ہے، گجرات کے اسمبلی انتخابات کے اثرات کی آزمائش ہوگی . بی جے پی لوک اسمبلی انتخابات کا وقت سے ہی مودی کے چہرے کے ساتھ گجرات کی وقارکا سوال پر انتخابی میدان میں ہے، یہاں تک کہ اہم اپوزیشن کانگریس صوبے میں تقریبا دو دو دہائیوں سے اقتدارمیں بھاجپا کے خلاف ذات پات کے خلاف مساواتوں کو اپنی پارٹی میں کرنے میں جٹی ہے. ریاست میں انتخاب سے ٹھیک پہل قد آور رہنما شکر سنگھ و گھیلا کو کھو دیا ہے. حال ہی میں تین اہم تحریکوں کی وجہ سے بحث میں آنے والی نوجوان چہروں کوشیشے میں اتار نے میں جٹی ہے. اس سلسلے میں پارٹی کو او بی سی کے رہنماالپیش ٹھاکر کو منانے میں مدد ملے تو پارٹی رہنما (دلت ) جگنیش اور پاٹیدارہار دک پٹیل کولانے کی طرف بڑھ رہی ہے. کانگریس کو پتہ ہے کہ گجرات کی ہار نہ صرف امکانی سیاسی مستقبل کے بارے میں پانی پھیرے گی ، بلکہ جلد ہی پارٹی کی کمان سنبھالنے جا رہے راہل گاندھی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگادے گی ۔ کچھ سینئر بزرگ کے رہنماؤں کے اندر خانے مانا ہیکہ وہ اس انتخاب میں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل سے نہیں کر سکتے ہیں، لیکن سیٹوں کی تعداد بڑھتی ہے تو یہ راہل کی قیادت میں پارٹی کی مضبوطی کی علامت کے طور پر لیا جائے گا. سونیا کے قریبی احمد پٹیل کی فتح سے پارٹی کے حوصلے میں اضافہ ہوا ہاردک پٹیل الپیش ٹھاکر اور جگینش میوانی کے جڑنے کے امکانات بدل رہے ہیں گجرات کے انچارج اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری اشوک گہلوت نے پارٹی ہائی کمان سے راجستھان سے باہر دی گئی ذمہ داری کو پوری طاقت سے نبھانے میں لگے ہیں . یہ انتخاب فیصلہ کرے گا کہ پی ایم مودی کی طاقت اور بڑھیگی یا یہاں سے گھٹے گی بھاجپاکے گجرات ماڈل بھی داؤں پر ہے ہے. مجموعی طور پر گھمسان ہوگا، دیکھیں کس کا پلڑا بھاری ہوتا ہے؟ اگر سروے کی بات کریں تو بھاجپا کو جتائے بیٹھے ہیں؟
(انل نریندر)

سینما گھروں میں قو می ترانہ پر کھڑے ہونے پر کا سوال

سینما ہالوں میں قومی ترانہ بجایا جانے پر و کھڑا ہونے کے سوال پر سپریم کورٹ کے رخ میں تبدیلی میں ایک طرح سے اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی بھی جمہوری ملک میں ذمہ دار ادارے بھی اپنی غلطیاں سدھار سکتے ہیں . اب صرف 11 مہینے پہلے یعنی 30 نومبر 2016 کو اپنے حکم دیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ پورے ملک کی سینما گھروں میں فلم کے آغاز سے قبل قومی ترانہ بجایا جائے اور اس دوران وہاں موجود تمام لوگوں کو قومی ترانہ کے احترام میں کھڑا ہونا لازمی ہوگا. اس سے مل کر ایک معاملہ پر مقدمہ چل رہا ہے جسٹس دیپک مشراا، جسٹس خان ویلاکرن اور جسٹس چندرچوڑ کی بینچ نے سینٹرل گورنمنٹ کی اس اپیل کو ٹھکرادیا وہ اپنے پچھلے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہئے. عدالت نے صاف کر دیا ہے قومی علامتوں سے وابسطہ قانوں میں کو ئی بھی تبدیلی کرنے پر جواب دیہی سرکار پر ہے اور اسے عدالت کے عارضی فیصلے سے متاثرہوئے بغیر اپنی یہ ذمہ داری نبھانی چاہئے ۔بڑی عدالت نے یہ بھی ریمارکس دئے۔ اگر کوئی شخص کسی قومی ترانہ کے لئے نہیں کھڑا ہو تو اس طرح یہ نہیں کہ وہ کم حب الوطن پرست ہے. معاشرے کی اخلاقیات کی پہرے داری کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ تبصری کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اگلی بارسرکار چاہے گی ہے کہ لوگ سینما گھرو ں میں ٹی شرٹ میں نہیں آئے کیونکہ اس میں قومی ترانے کی توہین ہوگی. سپریم کورٹ نے یہ تازہ نظریہ رکھا کہ اپنے پہلے کی فیصلے سے زیادہ ذہنی اور متفق ہے. دراصل سنیما گھر تفریحی جگہ ہوتے ہیں اور یہاں لوگ کوئی سنگین بات نہیں آتے ہیں. یہاں آنے والے صرف مزاج۔لطف، لطف لینے اور وقت خرچ کرنے کیلئے اپنی تفریح کرنے اور فلم کا مزہ اٹھانے آتے ہیں. لہذا اس طرح کے ہلکا پھلکا مقامات پر قومی گانا چلنا اور اس کی عزت میں دیکھنے والوں کو کھڑا کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی قانونی پا بندی قومی ترانے میں سنجید گی کو متاثر کرنے کے برابر ہے . ویسے بھی اس بات کو دیکھنے والا کون ہے، کیا مشینری ہے کہ قومی ترانے کے دوران ہال میں موجود تمام نظر آنے الے لوگ کھڑے ہو رہے ہیں؟ مہذب سماج کو اسکے حقوق کو محدود کرنے کا حق دیتا ہے البتہ ریاست کو اتنا با ضمیر ہونا چاہیئے کہ وہ اس بات کو دیکھے کہ انسان کی آزادی کا حق محدود کرنے کا جواز کیا ہے؟ عدالت نے اب گیند کی حکومت کے پالے میں ڈال دی ہے . دیکھنا ہوگا کہ حکومت اب بھی اس معاملے میں کیا کرتی ہے ۔
(انل نریندر)

27 اکتوبر 2017

ایئر فورس کا سب سے بڑا ٹچ ڈاؤن

لکھنؤ۔ آگرہ ایکسپریس وے پر اب تک کی سب سے بڑی پروازی ریہرسل میں انڈین ایئرفورس نے منگل کے روز ایک ساتھ 6 جنگی جہاز اتار کر دنیا کواپنی طاقت دکھائی۔ سب سے طاقتور جنگی جہازوں میں شامل جگوار ،سخوئی اور مراج جنگی جہازوں نے جہاں ٹچ ڈاؤن کیا ، وہیں پہلی بار 15 گروڑ کمانڈو کو لیکر 35 ہزار کلو وزنی ہرکولس سی۔130 جے گلوب ماسٹر نے بھی کامیاب لینڈنگ کی۔ تین گھنٹے کے اناؤ کے باگرمؤ میں جنگی جہازوں کا کرتب دیکھ کر لوگ محظوظ ہو اٹھے۔ ایک کے بعد ایک 17 جنگی جہازوں کا ایک ساتھ لکھنؤ۔ آگرہ ایکسپریس وے پراترنا ہمیں ایک ساتھ کئی پیغام دیتا ہے۔ مظاہرہ ہمیں بتاتا ہے کہ انڈین ایئرفورس کی تیاریوں کا ،اس سڑک کا ،جس پر آواز کی رفتار سے تیز اڑنے والے یہ بم برسانے والے جہاز اترے۔ بیشک یہ پہلی بار نہیں تھا جب ایئرفورس کے جہاز ایکسپریس وے پر اترے ہوں لیکن یقینی طور سے یہ ہمارے دیش کے انفراسٹرکچر کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ اس طرح کی قواعد ہمیں نہ صرف فوج کی تیاریوں کو ایک نیا فروغ دیتی ہیں بلکہ فوج میں عام شہریوں کے بھروسے کو بھی کئی طرح سے بڑھاتی ہے۔ ایئر ٹریفک پر نظر رکھنے کیلئے عارضی ایئر ٹریفک کنٹرول روم بنایا گیا تھا۔ آپریشنل ایکسرسائز کو کنٹرول کرنے بی کے ٹی ایئرفورس اسٹیشن کے گروپ کیپٹن جے سبھارس نے کیا جبکہ وسطی ایئرکمان ہیڈ کوارٹر کے سینئر ایئر اسٹاف ایئرمارشل اے ایس بتیلا لینڈنگ ٹریفک کا جائزہ لینے کے لئے پہنچے تھے۔ ایمرجنسی صورت میں ایئر بیس کی جگہ ایکسپریس وے ، ہائی وے کا استعمال کیا جاسکے یہ تھا مقصد اس شو کا۔ جنگ کے دوران سب سے پہلے ایئربیس کی رن وے اور ایئر پورٹ پر ہی سب سے پہلے ہوائی حملے کرکے تباہ کرنے کا دشمن کا ارادہ ہوتا ہے تاکہ جنگی جہاز وہاں سے اڑان نہ بھر سکیں۔ سب سے پہلے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی میں ہٹلر نے ایسی سڑکیں بنائی تھیں جنہیں آٹوبان سے جانا جاتا ہے۔ جہاں ایمرجنسی حالت میں جنگی جہاز اڑان بھر سکیں اور لینڈنگ کرسکیں۔ منگل کے روز جو جنگی جہاز ایکسپریس وے پر اترے ان میں مراج، سخوئی اور جگوار جیسے بم برسانے والے جہاز تھے۔ ساتھ ہی سپر ہرکولس جیسا مالبردار فوجی جہاز بھی شامل تھا۔ ہرکولس کی خوبی یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس سے 200 کمانڈو کو کہیں بھی پہنچایا جاسکتا ہے یہاں تک کہ انہیں پیراشوٹ کے ذریعے بھی اتارا جاسکتا ہے۔ آنے والے وقت میں ایئرفورس اسی طرح کی سڑکوں پر جھارکھنڈ، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے نکسلیوں سے متاثرہ علاقوں میں بھی اسی طرح کی ایکسرسائزکرسکتی ہے۔ انڈین ایئرفورس کو بدھائی۔
(انل نریندر)

ایک بار پھر آبے کا داؤ سیدھا پڑا

جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے اپنے ہمت افزا فیصلوں کے لئے جانے جاتے ہیں اور وسط مدتی چناؤ کرانے کا ان کا ہمت افزاء فیصلہ کتنا صحیح تھا یہ چناوی نتیجوں سے پتہ چل رہا ہے جس میں ان کی رہنمائی والے اتحاد کو دوتہائی اکثریت ملی ہے۔ ایتوار کو ہوئے وسط مدتی چناؤ کے نتیجے بتاتے ہیں کہ آبے کا داؤ فٹ بیٹھا۔ اسی کے ساتھ شنزو آبے کے سب سے زیادہ وقت تک وزیر اعظم بننے رہنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ جاپان کے عام چناؤ نتیجے اندازے کے مطابق بیشک آئے ہوں لیکن ان نتائج کو صرف آبے کی مقبولیت اور ان کی پارٹی کے اثر کا ثبوت ماننا صحیح نہیں ہوگا۔ شنزو کی آسان اور دھماکیدار جیت کے پیچھے سب سے بڑی بات یہ رہی کہ اپوزیشن کی طرف سے کوئی چیلنج نہ ہونا۔ اپوزیشن کے نام پر دونوں ہی پارٹیاں تھیں جو بڑی پارٹی یعنی ڈیموکریٹ پارٹی کی تقسیم سے حال ہی میں وجود میں آئی۔ ان دونوں میں حکمراں پارٹی کو زبردست چنوتی نہ دے پانے کی خود اعتمادی نہیں تھی نہ تیاریاں تھیں ،بلکہ دونوں میں دوڑ لگی تھی کس کو زیادہ سیٹیں ملیں۔ جیت کو لیکر کوئی بے یقینی نہ ہونے کے باوجود اس چناؤپر کافی دلچسپی سے نظر رکھی جارہی تھی۔ نارتھ کوریا کے میزائل تجربوں سے پیدا خطروں کے درمیان ہوئے اس چناؤ کے نتیجوں کی صرف جاپان کے لئے ہی اہمیت نہیں ہے بلکہ اس سے ایشیائی پرشانت خطے میں نئی حکمت عملی بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ شنزو آبے نے اس سے پہلے2014 میں بھی نچلے ایوان کی میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی چناؤ کرایا تھا اور اس میں بھی انہیں کامیابی ملی تھی۔ لیکن اس مرتبہ حالات بالکل الگ تھے۔ نارتھ کوریا نے پچھلے مہینے دو مزائلیں داغی تھیں، جو کہ جاپانی جزیرے ہوکائیدو کے اوپر سے ہوکر سمندر میں جا گری تھیں، یہ ہی نہیں نارتھ کوریا نے جاپان کو سمندر میں ڈوبا دینے تک کہ دھمکی دے رکھی ہے۔ دراصل جاپان امریکہ کا ساتھی اتحادی ہے اس ناطے نارتھ کوریا کے ڈکٹیٹر اور سر پرا کم جونگ اپنا دشمن مانتا ہے۔ جاپان اور نارتھ کوریا کے درمیان نہ تو اقتصادی رشتے ہیں اور نہ ہی ڈپلومیٹک ۔ یوں تو جاپان کی فوج دنیا کی جدیدترین فوجی وسائل سے آراستہ افواج میں مانی جاتی ہے لیکن وہاں کا قانون یہ سرکاری حق نہیں دیتا کہ جاپانی فوج باہر جاکر لڑے۔ آبے اور ایل ڈی پی کا ماننا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں اٹھائے گئے نقصان کے بعد کیا گیا یہ قانون زیادہ مضبوط نہیں رہ گیا ہے اس لئے اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن کیا آبے اب یہ کر پائیں گے؟ آئینی ترامیم کے لئے دونوں ایوان میں دو تہائی اکثریت کی شرط پوری کرنی ہوگی لیکن کیا وہ اپوزیشن کو اس کے لئے تیار کرپائیں گے؟
(انل نریندر)

26 اکتوبر 2017

گجرات میں بھاجپا اپنے ترکش سے سارے تیر آزمانے پر مجبور

وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح سے بار بار گجرات میں طوفانی دورہ کئے ہیں اور تابڑتوڑ پروجیکٹوں کا افتتاح کیا ہے اس سے صاف لگ رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی گجرات اسمبلی چناؤ کے نتائج کو لیکر فکر مند ضرور ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھاجپا اپنا گڑبچانے کے لئے اپنے ترکش سے سارے تیر چلانے پر مجبور ہے۔ گجرات اسمبلی چناؤ کی تاریخ کا اعلان ہوچکا ہے۔قاعدے سے تو گجرات چناؤ کی تاریخیں ہماچل پردیش چناؤ کے ساتھ ہی اعلان کی جانی چاہئے تھیں لیکن ایسا الزام لگایا جارہا تھا کہ چناؤ کمیشن پر دباؤ بنا کر حکومت نے گجرات اسمبلی چناؤ کی تاریخیں ٹلوائیں کیونکہ کورٹ آف کنڈیکٹ نافذ ہوجانے کے بعد پروجیکٹوں کے افتتاح وغیرہ پر روک لگ جاتی ہے۔ گجرات میں پچھلے 20 برسوں سے بھاجپا اقتدار میں ہے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کو مل رہے رسپانس اور پارٹی دار ، دلتوں و او بی سی اور مسلم ملا کر اس بار وہاں تبدیلی کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ فطری ہی ہے کہ اس سے بھاجپا کی بے چینی بڑھی ہے ۔ بھاجپا ابھی تک ترقی کے نعرے کے ساتھ گجرات کے اقتدار پر قابض تھی لیکن جس طرح سے پارٹی دار ،دلت، مسلمان و دیگر پسماندہ فرقے کے لوگوں نے ناراضگی ظاہر کی ہے اس سے لگ رہا ہے کہ 2017 کا اسمبلی چناؤ وکاس کے بجائے ذات پات کے تجزیوں پر زیادہ منحصر کرے گا۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی بھی بڑے اشو ہیں۔ جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد سب سے زیادہ مخالفت کی آوازیں سورت کے تاجروں کی طرف سے اٹھ رہی ہیں اس لئے بھاجپا کا مینڈیٹ مانے جانے والے کاروباری طبقے میں بھی سیند لگنے کا اندیشہ ہے۔ جس طرح سے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کو گجرات میں کافی سپورٹ مل رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ گجرات میں پچھڑی ہوئی کانگریس میں پھر سے جان پڑ رہی ہے۔ راہل نے لگتا ہے کہ اپنے طریقے اور تقریر کا مضمون دونوں کو بدلا ہے۔ ان کا یہ جملہ کے جی ایس ٹی کا مطلب ’’گبر سنگھ ٹیکس ‘‘ جنتا کو بہت پسند آرہا ہے۔ جس راہل گاندھی کو سب سے کمزور نیتا مانا جارہا تھا ان کی ریلیوں اور تقریروں میں لوگ دلچسپی لینے لگے ہیں۔ بھاجپا گجرات ماڈل کو دنیا بھر میں پروپگیٹ کردی رہی ہے لیکن اپوزیشن جس طرح سے گجرات ماڈل کو درکنار کرنے میں لگی ہوئی ہے اس سے بھاجپا کے لئے چنوتی بڑھتی نظر آرہی ہے۔ دوسرے کچھ نئے چہروں کے سامنے آنے سے چناؤ کے تجزیئے اور دلچسپ ہونے والے ہیں جہاں پارٹی داروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہوگی وہیں دلت آبادی میں بھی سیند لگانے کی کوشش ہونا فطری ہی ہے۔ اصل میں پارٹی داروں کے علاوہ گجرات میں دلت آبادی کی بھی تعداد 7 فیصدی کے آس پاس ہے جو چناؤ کے دوران ہر پارٹی کے لئے اہمیت رکھے گی۔ اس کے علاوہ گجرات میں جس طرح ریزرویشن ، شراب بندی، بے روزگاری اور دلت ٹارچر کا معاملہ زور پکڑ رہا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ گجرات میں ابھی بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ادھر بنیادی سہولیات کو لیکر چناؤ ہوگا تو یقینی طور پر بی جے پی یہاں کٹہرے میں کھڑی نظر آئے گی کیونکہ ان سہولیات کے علاوہ گجرات ماڈل کو اشو نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ اس درمیان پارٹی دار نیتا ہاردک پٹیل، دلت نیتا جگنیش میوادھی اور او بی سی نیتا الپیش ٹھاکورکے کانگریس سے جڑنے کی خبروں سے بھاجپا کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ الپیش ٹھاکور نے کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے ۔ گجرات میں اب تک کے چناؤ کا تجزیہ تو یہی بتاتا ہے جدھر پٹیل ،دلت اور پسماندہ طبقاتی برادری کا جھکاؤ ہوتا ہے چناؤ میں جیت اسی پارٹی کی ہوتی ہے لیکن دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات چناؤ کو اپنی شخصی ساکھ کا سوال بنا لیا ہے۔ وہ اتنی آسانی سے تو گجرات اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیں گے۔ وہ موجودہ ماحول کواپنے حق میں کرنے کے لئے کتنے کامیاب ہوتے ہیں یہ تو 18 دسمبر کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ 
(انل نریندر)

کیا نواز شریف کا سیاسی مستقبل خطرے میں ہے

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کی 5 نفری بنچ نے 67 سالہ نواز شریف کو بے ایمانی کے لئے نا اہل قراردیا تھا۔ عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ ان کے اور ان کے بچوں کے خلاف پنامہ پیپرس گھوٹالہ معاملہ میں کرپشن کیس درج کیا جائے اور ان پر الزامات طے کئے جائیں۔ نتیجتاً نواز شریف کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اس معاملہ میں ماننا پڑے گا کہ پاکستانی سپریم کورٹ دیگر ملکوں میں فیصلے سنانے کے حساب سے آگے رہی ہے۔ پنامہ گھوٹالہ میں تو بہت سی نامی گرامی شخصیتوں کا نام آیا ہے لیکن کارروائی سب سے پہلے پاکستان میں ہوئی ہے۔ چاہے اس کے پیچھے کئی طاقتیں لگی ہوں لیکن دنیا کو تو پاکستان نے دکھا دیا ہے کہ ان کے دیش میں جوڈیشیری آزاد اور طاقتور ہے۔ عدالت عظمیٰ کے ذریعے28 جولائی کو پنامہ پیپرس کانڈ میں شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے نااہل قراردیا تھا۔ تین دن پہلے پاکستان کی کرپشن انسداد عدالت نے معذول وزیر اعظم نواز شریف پر کرپشن کے تیسرے معاملے میں الزامات طے کئے ہیں۔ یہ معاملہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور دوسری غیر ملکی کمپنیوں سے جڑا ہے۔ یہاں کی جوابدہی عدالت نے شریف کی غیرموجودگی میں ان پر آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے کے معاملے کے الزام طے کئے اور ان کے وکیل ذاکر خاں کو الزام پڑھ کر سنایا۔ یہ معاملہ قومی جوابدہی عدالت کے ذریعے قائم 8 دسمبر کے شریف کے خلاف درج کرائے گئے پیسہ کمانے اور کرپشن کے تین معاملوں میں سے ایک ہے۔ جسٹس محمد بشیر کے ذریعے پڑھے گئے الزامات پر وکیل ذاکر خاں نے شریف کی طرف سے دلیل دی تھی کہ ان کے موکل بے قصور ہیں۔ شریف اپنی علیل بیوی کلثوم کے ساتھ لندن میں ہیں۔ کلثوم نواز گلے کے کینسر سے بیمار ہیں اور ان کے اب تک تین آپریشن ہوچکے ہیں۔ کرپشن کے الزامات کے سبب نواز شریف کو ریکارڈ تیسری بار عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ انہیں پارٹی صدارت سے ہٹنے کے لئے بھی مجبور کیا گیا۔ حالانکہ انہوں نے پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھی اور اپنے وفادار شاہد خاکان عباسی کو دیش کا وزیر اعظم بنا دیا۔ پانچ نفری چناؤ کمیشن کے صدر ظفر اقبال نے کہا کہ مسٹر شریف پاکستان مسلم لیگ نواز کی سینٹرل ایگزیکٹیوکمیٹی کے ذریعے بلا مقابلہ چنے گئے ہیں انہوں نے کہا پارٹی چیف کے طور سے مسٹر شریف کا دوبارہ انتخاب ان لوگوں کو غلط ٹھہراتے ہوئے انہیں سیاسی دائرے میں واپس لے آیا ہے جن کا کہنا تھا کہ اب وہ اس کے حساب سے ٹھیک نہیں ہیں۔ آنے والے دن نواز شریف کے لئے انتہائی اہم ترین اور چیلنج بھرے ہوں گے۔ اگر ان پر لگے الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو ان کو سزا بھی مل سکتی ہے اور جیل بھی جا سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

25 اکتوبر 2017

وسندھرا راجے سرکار کا ہٹلری فرمان

سرکاری حکام اور ملازمین کو رعایت دینے والا جوآرڈیننس راجستھان کی وسندھرا راجے سرکار لائی ہے اس پر احتجاج ہونا فطری ہی ہے۔ حکومت نے آئی پی سی کی سزا دفعہ اور انڈین آئی پی سی میں ترمیم کی ہے جس کے بعد جج ، مجسٹریٹ و سرکاری ملازمین کے خلاف پریوار واد پر نوٹس لینا ، پولیس جانچ یا معاملہ کی میڈیا رپورٹنگ سے پہلے سرکار سے منظوری لینی ہوگی۔ پیر کو راجستھان اسمبلی کا سیشن شروع ہوتے ہی ریاستی وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ نے یہ بل ایوان میں پیش کیا۔ راجستھان سرکار کے اس بل کی حمایت کرنا مشکل ہے۔ اس کے بعد اب موجودہ اور سابقہ ججوں ، مجسٹریٹوں اور سرکاری ملازمین کے خلاف پولیس یا عدالت میں شکایت کرنے کے لئے سرکار کی اجازت لینی ہوگی۔ ڈیوٹی کے دوران اگر سرکاری ملازم یا ملازمین کے خلاف کوئی شکایت کی جاتی ہے تو ریاستی حکومت کے بغیر ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی۔ اس کے لئے 6 مہینے کا وقت دیا گیا ہے۔ سب سے تعجب کی بات یہ ہے کہ پابندی میڈیا پر بھی نافذ ہوگی۔ سرکار کی اجازت کے بغیر اگر کوئی اس بارے میں کچھ شائع کرتا یا دکھاتا ہے تو دو سال کی سزا کی گنجائش ہے۔اس آرڈیننس جسے راجستھان حکومت قانونی شکل دینا چاہتی ہے، پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں ایک تو یہی کسی ملازم کے خلاف شکایت ہونے پر جانچ کے لئے چھ مہینے کا وقت کیوں ملنا چاہئے؟ اس دوران تو ملزم سرکاری افسر اپنے خلاف سارے ثبوت مٹا ڈالے گا۔ اس سے تو کرپٹ ملازمین کی الٹے مفادات کی حفاظت ہوگی کیونکہ اگلے سال راجستھان میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں ایسے میں اس طرح کا آرڈیننس لاگو کرنے کا مقصد کرپشن کو جائز شکل دینا بھی ہوسکتا ہے اور اپنی ساکھ پاک صاف بنائے رکھنا بھی۔جب کرپشن کے معاملے سامنے نہیں آئیں گے تو وسندھرا سرکار کو فطری طور پر اس کا چناوی فائدہ ملے گا۔ یہی نہیں اس مجرمانہ قانون (راجستھان ترمیم) آرڈیننس 2017 کے مطابق کوئی بھی مجسٹریٹ کسی بھی ایسے شخص کے خلاف جانچ کا حکم نہیں دے گا جو ایک جج یا مجسٹریٹ یا سرکاری کرمچاری ہے یا تھا۔ آخر ایسے آرڈیننس (بل) کا جواز کیا ہے؟ سرکار کی دلیل ہے اس سے سرکاری ملازمین بے خوف ہوکر اپنی ذمہ داری کی تعمیل کرسکیں گے۔ مقدموں کے خوف سے سرکاری حکام ،ملازم عام طور پر فیصلہ کرنے سے بچتے ہیں لیکن سرکاری ملازمین کو ان کی ذمہ داری کی تعمیل میں بیباکی کے لئے سرکار بننے کے قریب چار سال بعد آرڈیننس کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی۔ کہا جارہا ہے کہ سرکاری حکام نے اس کی مانگ وزیر اعلی کے سامنے رکھی تھی۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ ان چار برسوں میں سرکاری حکام اور ملازمین نے اپنی ذمہ داری ٹھیک طرح سے نہیں نبھائی؟ ایسے وقت جب دیش میں یہ ماحول ہے کہ جو سرکاری افسر یا ملازم جنتا کی خدمت کی اپنی ذمہ داری کو ٹھیک سے تعمیل نہیں کرتے، وقت پر اپنا کام پورا نہیں کرتے، معمولی کام کے لئے بھی کئی افسر پیسے کی مانگ کرتے ہیں۔ انہیں سزا دی جانی چاہئے یا انہیں تحفظ دیا جانا چاہئے؟ وسندھرا راجے سرکار کا یہ قدم الٹی گنگا بہانے والا ہے۔ پی یو سی ایل (پیپلز یونین فار سول لیبرٹیز) اس آرڈیننس کے خلاف عدالت میں جا رہی ہے۔ یکایک قانونی ماہر ہی مانتے ہیں کہ یہ قانون و بل قانون کی کسوٹی پر نہیں ٹکے گا۔ پریس کی آزادی پر بھی سوال ہے۔ راجستھان سرکار پریس کو بھی اپنی ڈیوٹی کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔ ایڈیٹرز گلڈ نے بھی اس کی سخت تنقید کی ہے۔ شکایت کو لیکر میڈیا کے پاس جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ آرڈیننس کسی بھی معاملے میں متعلقہ افسر یا ملازم کے نام پر پتہ ،تصویر اور خاندان کی جانکاری کی اشاعت اور پبلسٹی تک پر روک لگاتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی اخبار کسی سرکاری ملازم کے بارے میں کچھ چھاپتا ہے یا ٹی وی پر دکھاتا ہے تو وہ سزا کا حقدار ہوگا۔ اتنے وسیع تحفظ سے تو وہ اور بے اثر ہوں گے۔ ویسے بھی یہ جمہوری سسٹم کے خلاف ہے۔
(انل نریندر)

کم جانگ : کبھی بھی نیوکلیائی جنگ چھیڑ سکتا ہے

ایک سرپھرا ڈکٹیٹر آج پوری دنیا کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ میں بات کررہا ہوں نارتھ کوریا کے پاگل تانا شاہ کم جنگ کی۔ نارتھ کوریا نے اقوام متحدہ میں دھمکی دی ہے کہ کسی بھی وقت نیوکلیائی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں نارتھ کوریا کے نائب ہائی کمشنر کم ان ریانگ نے یہ دھمکی اقوام متحدہ کی کمیٹی کے سامنے دی ہے۔ کم ریانگ نے یہ کہہ کر کوریا جزیرے پر کشیدگی اتنی بڑھا دی ہے کہ نارتھ کوریا اور امریکہ کے درمیان کب نیوکلیائی جنگ چھڑ جائے کہنا مشکل ہے۔ ایک نا سمجھ یا سنکی پن کی حد تک جا چکا انسان کتنا خطرناک ہوسکتا ہے یہ کم جانگ کی حرکتوں سے پتہ چلتا ہے۔ ریانگ نے اقوام متحدہ کی تخفیف اصلاح کمیٹی کے سامنے کہا کہ ان کا دیش اکلوتا ایسا دیش ہے جس کے خلاف امریکہ نے نیوکلیائی حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ کی حکومت ان کے حکمراں کے خلاف خفیہ کارروائی شروع کرنے کی کوشش میں ہے۔ خیال رہے کہ نارتھ کوریا اب ایک مکمل نیوکلیائی کفیل دیش بن چکا ہے۔ یہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ اس کے پاس ایسے خطرناک ہتھیار اور نیوکلیائی بم اور انٹر کانٹینیٹل میزائل موجود ہیں، جس کی مار امریکہ تک ہوسکتی ہے۔ اوپر والا نہ کرے اگر کوئی نیوکلیائی جنگ چھڑتی ہے تو اس کے خطرناک نتیجوں سے پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔ ادھر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی کم سر پھرے نہیں ہیں۔ پچھلے دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نارتھ کوریا کو پوری طرح سے تباہ کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ یہ ہی نہیں ٹرمپ نے کم کو راکٹ مین، پاگل آدمی اور سنکی جیسے القاب سے بھی نوازا اور کہا تھا بدامن ،جرائم پیشہ کے گروہ سے گھرا راکٹ مین اور اپنی اپنی حکومت کے فدائی مشن پر نکل چکے ہیں۔ امریکہ بار بار چین پر دباؤ بنا رہا ہے کہ وہ کم جانگ کو کنٹرول میں رکھے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ نارتھ کوریا کی نیوکلیائی ترقی کے پیچھے چین کا ہی اشتراک ہے اور چین ہی کم جانگ کو اکسا رہا ہے۔ چین نے بھی دکھاوے کے لئے نارتھ کوریا سے امن بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کم جانگ جیسے سنکی تاناشاہ کسی سے ڈر ہی نہیں سکتے۔ ایسے میں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کوئی ایسی غلطی اسے اس قدر نا اکسا دے کہ ہمیشہ ٹرائیگر پر انگلی لگائے بیٹھا یہ شخص کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جو پوری دنیا کو بھگتنا پڑے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے پاگل تاناشاہ کو لمبے عرصے تک اس کے حال پر بھی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ چین سمیت نارتھ کوریا کے نزدیک دیگر دیش کم جانگ کو سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ اسے امریکہ سے ٹکرانے کی ضد چھوڑنی ہوگی اور اپنی دیش کی ترقی پر توجہ دینی ہوگی۔
(انل نریندر)

24 اکتوبر 2017

آئی ایم ایف کے ذریعے اقتصادی اصلاحات کی تین تجاویز

ہندوستان کی تخمینہ اقتصادی ترقی شرح گھٹانے کے ایک ہفتے کے بعد آئی ایم ایف (بین الاقوامی مانیٹری فنڈ) نے ہندوستانی معیشت کے بارے میں جو ریمارکس دئے ہیں وہ حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ بہتری کی سمت میں قدم اٹھانے کیلئے تلقین کرنے والے بھی ہیں۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ہندوستانی معیشت آہستہ آہستہ پٹری پر لوٹ رہی ہے۔اس عالمی ادارہ کے چیف کرسٹینا لیگارڈ نے صاف صاف کہا ہے کہ ہندوستان کی معیشت پٹری پر ہے اور نوٹ بندی و جی ایس ٹی جیسے اہم ترین اقتصادی فیصلوں کے سبب قلیل میعاد میں بھلے ہی ترقی شرح متاثر ہوئی ہو لیکن مستقبل و دیگر موقعوں پر اس کا فائدہ ملنا طے ہے۔ غور طلب ہے کہ اس سے پہلے آئی ایم ایف نے خاص کر نوٹ بندی سے معیشت کے متاثر ہونے کی بات کہتے ہوئے اقتصادی ترقی شرح میں تقریباً ایک فیصد کی کمی آنے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ آئی ایم ایف نے بھارت کیلئے سہ فریقی ڈھانچہ بندی اصلاحات نظریئے کو اپنانے کی بھی صلاح دی ہے۔ اس میں کوآپریٹیو بینکنگ سیکٹر کو کمزور حالت سے باہر نکالنا، محصولات سے متعلق قدموں کے ذریعے سے مالی یونیفکشن کو جاری رکھنا، لیبر اور مصنوعات بازارکی حیثیت کو بہتر بنانے کی اصلاحات شامل ہیں۔ آئی ایم ایف نے ایشیائی برصغیر محکمہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کینت کانگ نے کہا کہ ایشیا کا پس منظر اچھا ہے اور یہ مشکل اصلاحات کے ساتھ بھارت کو آگے لے جانے کا اہم ترین موقعہ ہے۔ بھارت کے لحاظ سے کوآپریٹیو اور بینکنگ سیکٹر کمزور حالات سے باہر نکال کران کی صحت صحیح کرنا بہت ضروری ہے ۔ لیبر اور پروڈکٹ مارکیٹ کی صلاحیت میں مزید سدھار کی ضرورت ہے۔ ریوینیو سے متعلق قدموں کے ذریعے فسکل کنسولیڈیشن کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے۔ ذرعی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہوگا۔ ادھر فکی کے چیئرمین پنکج پٹیل نے ریزرو بینک آف انڈیا کی پالیسیوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صنعتی دنیا کے لئے موزوں نہیں ہے اور پالیسی ساز شرحوں میں کٹوتی نہ کرکے ریزرو بینک کی اقتصادی بڑھوتری میں رکاوٹ پیدا کرسکتاہے۔ غور طلب ہے کہ 4 اکتوبر کو اپنے مانیٹری پالیسی جائزے میں ریزرو بینک نے پالیسی ساز سود شرحوں کو 6 فیصد کی پہلی سطح پر بنائے رکھا جبکہ رواں مالی سال کے لئے اسے دیش کی اقتصادی ترقی کے اندازے کو گھٹا کر 6.7 فیصد کردیا۔ پٹیل نے کہا کہ اس طرح کے قدم ترقی کے منافی ہیں۔ صحافیوں کے ایک گروپ سے پٹیل نے کہا کہ ریزرو بینک موزوں رویہ نہیں اپنا رہا ہے۔ عورتوں کے لئے زیادہ موقعے پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس سے معیشت کے مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی بھی ہوگی۔ کیونکہ ایشیا میں بہتر اور اقتصادی ترقی کے امکانات بنے ہوئے ہیں، ایسے میں ڈھانچہ بندی اصلاحات کو نافذ کر بھارت اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
(انل نریندر)

شی جنگ پنگ کا تختہ پلٹ کی سازش

ایک سینئر چینی افسر کا دعوی ہے کہ چین کے صدر شی جنگ پنگ کو ہٹانے کی سازش کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس افسر نے دعوی کیا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی میں اعلی عہدے پر بیٹھے کچھ افراد نے صدر شی جنگ پنگ کے ہاتھوں سے اقتدار چھیننے کی سازِ کی تھی۔ کرپشن کے خلاف چھیڑی گئی شی جنگ پنگ کی مہم کے بعد پارٹی کے ان ممبروں کو یا تو گرفتار کرلیا گیا تھا یا جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ پارٹی کے بڑے نیتا اور چائنا سیکورٹی ریگولیٹری کمیشن کے چیئرمین لیوشیو نے یہ سنسنی خیز انکشاف پارٹی کی 19 ویں کانگریس کی میٹنگ میں غور و خوض کے دوران کیا۔ ہانگ کانگ کے اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق لیو نے بتایا کہ پارٹی کے اندر باغی لیڈروں نے اقتدار ہتھیانے کے لئے یہ سازش رچی تھی اس میں پارٹی کی پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی کی ممبر شپ کے دعویدار سن جھینسائی اور ان کی بیوی بھی شامل تھیں۔جھینسائی کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے فوری طور اسے پارٹی سے معطل کردیا گیا ہے ۔ان کے خلاف اس کارروائی نے چین کے لوگوں کو بوشیلائی کی یادتازہ کرا دی ہے۔ 5-7 سال پہلے جنگ پنگ کو چنوتی دینے والے شیلائی فی الحال جیل کی سلاخوں کے پیچھے عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ بتادیں کہ شی جنگ پنگ نے 18 اکتوبر کو پارٹی کانگریس کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے ساڑھے تین گھنٹے کی تقریر میں کرپشن کے خلاف لڑائی کا ذکر کیا تھا اور کرپش کے خلاف کارروائی میں اب تک 10 لاکھ افسران کو سزا دلوانے کے بعد پارٹی اور انتظامیہ پر جنگ پنگ کی پکڑ کافی مضبوط ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ چینی جنتا میں بھی ان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ کرپشن کے معاملوں میں اب تک 3453 بھگوڑوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اس مسئلہ پر نظر رکھنے والے کچھ جانکاروں کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد شی جنگ پنگ کے حریفوں کوراستے سے ہٹانا تھا لیکن اس تازہ دعوے نے کمیونسٹ پارٹی کی ساکھ پر سوال کھڑے کردئے ہیں اور پارٹی میں اقتدار کو لیکر چل رہی لڑائی کو دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اس مہم کے بارے میں کئی لوگوں کو لگا کہ کئی گرفتاریاں سیاسی رقابت پر مبنی تھیں اور شی جنگ پنگ کی پوری طاقت ہتھیانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے شی جنگ پنگ نے پارٹی کے اندر اقتدار کو لیکر لڑائی کی خبروں سے انکار کیا تھا۔جمعرات کو چین کے سیکورٹی کمیشن کے چیف یوشیو نے پارٹی کے 6 سینئر ممبران کے نام ظاہر کئے۔جنہیں انہوں نے زیادہ لالچی اور بیحد کرپٹ کہا اور ان لوگوں نے پارٹی کی سینئر لیڈر شپ کو ختم کرنے کی کوشش کی اور تختہ پلٹ کرنے کی بھی سازش رچی تھی۔ لیو نے آگے کہا کہ شی جنگ پنگ نے ان مسائل کو سلجھا لیا ہے اور پارٹی اور دیش کے لئے ایک بڑے خطرے کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ فی الحال شی جنگ پنگ سیف ہیں؟
(انل نریندر)

22 اکتوبر 2017

تریتایگ میں رام ون سے لوٹے ہوں گے ایودھیا میں ایسا ہی نظارہ ہوگا

ایودھیا نے بہت سی دیوالی دیکھیں لیکن اس دیوالی پر ایودھیا بدلی بدلی سی دکھائی دی۔ ہر طرف جوش امنگ تھی۔ ہر آنکھیں انتظار میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ تریتا یگ میں بھگوان رام ون سے جب لوٹیں ہوں گے تو کچھ ایسا ہی نظارہ رہا ہوگا جس کی وہاں موجود آنکھیں گواہی دے رہی ہوں۔ سوچھ، نرمل، سچی سنوری ایودھیا بنا بولے ہی بہت کچھ بیاں کررہی تھی۔ شاید یہ دنیا کو سندیش دے رہی تھی کہ حکمرانی اقتداراعلی سنکلپ لے لیں تو آج بھی بھارت پر رام راجیہ اترنا ناممکن نہیں۔ کلاکاروں اور رام بھکتوں کا جوش دیکھتے ہی بنتا تھا۔ سب رام مے ہوگئے۔ 14 برس کے بنواس سے لوٹے بھگوان رام کا جب سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے راجیہ ابھیشیک کیا تو ہرآنکھ سے خوشی کے آنسو چھلک گئے۔ دیپ اتسو پروگرام کے لئے کئی دن پہلے سے ہی ایودھیا کو سجانے سنوارنے کا کام شروع ہوگیا تھا۔ بڑی شاہراہ سمیت ایک ایک گلی کو چمکایاگیا۔ ایودھیا کی دیوالی اس بار سب سے الگ تھی۔ سب سے شاندار تھی سنہرے رنگوں سے سجا یہ قدیم شہر میں کہیں اندر دھنشی رنگولی تو کہیں سنگیت کے سوور سنے جاسکتے تھے، کہیں بھجن، کہیں رقص کی پیش کش اندھیرے میں قندیل ہواؤں سے اڑ رہے تھے۔ پوری ایودھیا دیپوں سے خاص طور پر سجائی گئی۔ ایودھیا میں پہلی بار ایسا ہوا ہے۔اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سریو ندی کے کنارے رام کی پوڑی پر 2 لاکھ دیپ جلاوا کر ورلڈ ریکارڈ بنا رہے تھے اور اسے پرانی شکل دے رہے تھے۔ سیاسی پروگراموں سے الگ اترپردیش کا چام شہری بھی کم جوش میں نہیں تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے رام للا کے درشن کئے۔14 برس بعد ریاست کی اقتدار میں لوٹی بھاجپا نے اس بار کلیوگی چھوٹی دیوالی کے دن تریتا یگ کے سنیوگ سے جوڑ کر سیاسی سندیش دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تریتا یگ کی طرح بھگوان رام، سیتا اور لکشمن کے 14 برسوں کے بنواس سے ایودھیا واپس آنے والے دن کے جوش و خروش و امنگ کے تصور کے سہارے اسی طرح کا منظر بناتے ہوئے ایجنڈے کو دھار دی گئی۔ شوبھا یاترا نکال کر پشپک ہیلی جہاز کی طرح ہیلی کاپٹر سے بھگوان رام ،سیتا اور لکشمن کو سریو کے ساحل پر رام کتھا پارک کے بغل میں لاکر استقبال کرکے تریتا میں بڑپپن کی طرح وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھوں ابھیشیک کرا کر اور آسمان سے پھولوں کی بارش کے منظر کو تعبیر کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرکے بھاجپا سرکار یہ سندیش دینے میں بھی کامیاب ہوگئی کہ وہ نہ تو رام کو بھولی ہے اورنہ ہی ایودھیا کو۔ پروگرام کے انعقاد کو لیکر تقریب تک یہ صاف ہوگیا کہ بھاجپا نے ماضی گذشتہ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اسے پتہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ایودھیا کو بھولنا اس پر کتنا بھاری پڑ چکا ہے اس لئے دیوالی کے بہانے یہ جتانے کی کوشش کی گئی کہ اس بار وہ اپنے قریبیوں کو نظر انداز کرنے والی نہیں ہے۔ ایودھیا، متھرا اور کاشی تک رام اور شیو و کرشن اس کی طاقت ہیں اس لئے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یہ کہتے ہوئے کہ صرف ایودھیا ہی نہیں بلکہ ہندوتو کے پیروکارو سے جڑے سبھی مقامات کا ایودھیا جیسا ہی وکاس ہوگا شاید اس لئے انہوں نے ودیانچل، شاکسمری دیوی، دیوی پارن نومتر پرنے وغیرہ کو نئی شکل و صورت دینے کی بات کہی۔ ایودھیا یاترا میں یوگی شری رام جنم بھومی درشن کو نہیں گئے انہوں نے مندر کی بات بھی نہیں کی لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ آپ کی بھاونا کا سنمان ہوگا اشاروں میں نہ صرف اپنا بلکہ بھاجپا کی مرکزی و ریاستی سرکار کے عزم کو ظاہرکردیا۔ کل ملاکر اس پورے پروگرام کے سہارے بھاجپا نے نہ صرف مستقبل قریب کا ایجنڈا سیٹ کردیا ہے بلکہ لوک سبھا چناؤ کیلئے بھی جارحانہ رخ کے ساتھ میدان میں اترنے کا اپنا ارادہ ظاہرکردیا ہے۔ اگلے لوک سبھا چناؤ میں ہندوتو پھر سے بڑا اشو ہوگا۔
(انل نریندر)

اب سانپ کے زہر کا کالا کاروبار

مغربی بنگال کی ایس ایس بی نے کوبرا سانپ کے سفید زہر کے کالے کاروبار کے اب بڑے نیٹ ورک کا خلاصہ کیا ہے۔ پیسے کے لئے نئے نئے دھندوں کا پردہ فاش ہورہا ہے۔ ایس ایس بی کی 63 ویں بٹالین 127 نے خاص اطلاع کی بنیاد پر محکمہ جنگلات و کولکاتہ پولیس کے نارتھ سیل کی مشترکہ ٹیم نے تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان سے قریب9 پاؤنڈ زہر برآمد کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی بازار میں اس کی قیمت 100 کروڑروپے بتائی گئی ہے۔ گرفتار ملزمان میں نارائن داس(26 سال) دیبو جوتی بوس(43) بدھ دیو کھنہ (40 ) تینوں مغربی بنگال کے رہنے والے ہیں۔ ایس ایس بی کے مطابق ضبط زہر کوبرا کا سانپ کا رقیق اور کرسٹل و پاؤڈر کی شکل میں تین جار میں اکٹھا کیاگیا تھا۔ میڈیکل کے لئے اس کا استعمال ہوتا تھا۔ اسے کینسر کے علاج و نشہ آور دواؤں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ برآمد زہر کو محکمہ جنگلات کو سونپ دیا گیا۔ پکڑے گئے تینوں اسمگلر ایک بین الاقوامی گروہ کے ممبر ہیں۔ گروہ پڑوسی دیش میں سانپ کے زہر کا کاروبار کرتا ہے۔ اس زہر کو سلی گوڑی کاریڈور کے راستے چین میں اسمگلر کیا جانا تھا۔ اس سے پہلے بھی ایس ایس بی نے 70 کروڑ روپے کے زہر کے ساتھ دو لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ سفید زہر کے اس کالے کاروبار کے بین الاقوامی گروہ کے تار کئی دیشوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ایس ایس بی نے صرف تین جار پکڑے ہیں ابھی بھی 73 ہزار جار زہر غائب ہے۔ اس کی قیمت1100 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ پکڑا گیا زہر فرانس سے اسمگل کرکے ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے کسی دیش میں جہاز کے ذریعے بھیجا جارہا تھا۔ اس جہاز کو بیچ سمندر میں بنگلہ دیشی لٹیروں نے کوئی قیمتی سامان سمجھ کر لوٹ لیا تھا۔ بنگلہ دیش سے یہ زہر کولکاتہ پہنچا اور سلی گوڑی کاریڈور سے چین پہنچانے کی تیاری تھی۔ سلی گوڑی کاریڈور جسے چکن نیک بھی کہتے ہیں،یہاں پر تین دیشوں کی سرحدیں ملتی ہیں اس میں نیپال، بھوٹان و بنگلہ دیش شامل ہے۔ محکمہ جنگلات کے ذرائع کے مطابق ایک سانپ سے .2 گرام زہر ایک مہینے میں نکالا جاسکتا ہے۔ برآمد زہر 9 پونڈ یعنی قریب 3 کلو 600 گرام بنتا ہے اور 33 جار ابھی غائب ہیں۔ ہزاروں سانپوں سے یہ زہر نکالا گیا ہوگا۔ زہریلے سانپ کی صرف چار نسلیں بھارت میں ہیں ، اس میں کوبرا، کنگ کوبرا، کریر اور وائپر شامل ہیں۔ زہریلے سانپوں کی 216 نسلیں بھارت میں پائی جاتی ہیں۔ سلی گوڑی کاریڈور زہر اسمگلروں کے لئے سورگ بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...