Translater
02 اگست 2025
بحث دو گھنٹے چلی ،مگر سوالوں کا جواب نہیں ملا!
پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر کئی گھنٹے بحث ہوئی بحث میں نہ صرف ہیلدی اور پائیدار اور اچھی رہی بلکہ اس نے حکمراں فریق اور اپوزیشن دونوں کو ان کے بہتر رنگ میں دیش کے سامنے رکھا ۔خاص کر وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت پاک لڑائی کے دوران سیز فائر کو لے کر ثالثی والے دعووں کو سرے سے مسترد کر دیا ۔پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت نے کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کی اور نہ ہی کرے گا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالانکہ تیس مرتبہ سے زیادہ دہرا چکے ہیں کہ انہوں نے جنگ بندی کرائی ۔پی ایم نے ٹرمپ کا نام لئے بغیر ان دعووں کو بے بنیاد بتایا ۔ان کی تقریر میں بہت سارے سوالوں کے جواب تو ملے لیکن بہت سے نہیں ملے ۔سرکار نے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا کہ سیز فائر کو کیوں روکا گیا ؟ سوال ہے کہ جب پاکستان گھٹنوں کے بل کھڑا تھا تب سیز فائر کن شرائط اور کس کے کہنے پر روکی کی گئی ؟ دیش تو چاہتا تھا کہ جب بھارت کا پلڑا بھاری تھا تو ہمیں رکنانہیں چاہیے تھا اور پی او کے پر قبضہ کر لینا چاہیے تھا لیکن ہم اچانک رک گئے یہی نہیں ہم نے پاکستان کو یہ بھی بتادیا کہ ہمارے صرف آتنکی ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے ۔ہم نے پاکستانی فوج اور ڈیفنس سسٹم پر حملہ نہیں کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری ہی زمین پر ہمارے ہی جہاز گرانے میں پاکستان کامیاب رہا ۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن اور کانگریس صدر نے پہلگام حملے میں سیکورٹی کوتاہی کا سوال اٹھایاجاس کاکوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا ۔کھڑگے نے جموں وکشمیر کے ایل جی منوج سنہا کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سرکار پر تنقید کی ۔منوج سنہانے اعتراف کیا کہ آتنکی حملے کی وجہ ہماری کوتاہی تھی ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا سنہا کا بیان کسی کو بچانے کے لئے تھا ۔حملے کی کس نے ذمہ داری لی ؟ کس نے استعفیٰ دیا ۔کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے کہا پہلگام حملے کے بعد کسی دیش نے پاکستان کی مذمت نہیں کی یعنی پوری دنیا میں بھارت کو پاکستان کی برابری پر رکھا ۔سرکار نے جواب میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ صرف تین دیش کھڑے تھے ۔دنیا کے کئی دیشوں نے آتنکی حملوں کی مذمت کی ۔بیشک لیکن کسی نے بھی پاکستان کو پہلگام حملے کا قصوروار نہیں مانا ۔کیا یہ ہماری خارجہ پالیسی کا پردہ فاش نہیں کرتی ؟ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت پاک لڑائی میں پاکستان تو محض ایک مکھوٹہ تھا اصل طاقت تو چین کی تھی ۔ہم پاکستان سے اکیلے نہیں لڑرہے تھے ہم پاک چین گٹھ جوڑ سے لڑرہے تھے ؟ تمام بحث میں سرکار نے ایک بار بھی چین کا نام نہیں لیا ۔جبکہ ہماری فوج نے صاف کہا کہ زمین پاکستان کو 810 فیصد ہتھیار دے رہا ہے اور چین کی فوجی ساز وسامان کے سبب بھی بھارت کے جہاز گرے ۔اس پر سرکار نے ایک لفظ بھی نہیں بولا اور نہ ہی ایک لفظ چین کے ذریعے پاکستان کو دی جارہی مدد پر نہیں کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسی مہینے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت پاک لڑائی کے دوران پاک جنگی جہاز مارگرائے گئے تھے حالانکہ ٹرمپ نے یہ صاف نہیں کیا کہ کس دیش کے کتنے جہاز گرائے گئے ؟ اس سے پہلے پاکستان بھی بھارت کے پانچ جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے ۔حالانکہ بھارت نے ہمیشہ اسے مسترد کیا ہے ۔بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ زیادہ دیش کیوں ہیں؟ بھارت پاک لڑائی کے دوران ترکی ،آذر بائیجان اور چین نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی جبکہ بھارت کے حق میں صرف اسرائیل ہی کھلے طور سے نظر آیا ۔یہاں تک کہ روس نے بھی بھارت کی کھل کر حمایت نہیں کی ۔اس مسئلے پر بولتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی دیش میں بھار ت کو اپنی حفاظت میں کاروائی کرنے سے نہیں روکا ہے ۔اقوام متحدہ میں 193 دیش ہیں اور صر ف تین دیشوں نے ہی آپریشن سندورکے دوران پاکستان کی حمایت میں بیان دیا تھا ۔برکس ،فرانس ،روس اور جرمنی کو ئی بھی دیش کا نام لے لیجئے دنیا بھر سے بھارت کو حمایت ملی پوری بحث میں ایک اہم ترین اشو کپل سبل نے بھی اٹھایا ۔سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے دیش کی ڈیفنس تیاریوں پر سوال کھڑے کئے اور کہا کہ بھارت کے پاس پاکستان سے جنگ لڑنے اور اسے برباد کرنے کے لئے درکار وسائل نہیں ہیں ۔جب ہم پاک سے جنگ کی بات کرتے ہیں تو چین کو بھی جوڑیں کیوں کہ دونوں الگ الگ نہیںہیں ۔پاکستان کے پاس چین کے جدید ترین جنگی جہاز اور فوجی سسٹم ہے ۔جبکہ بھارت کا رافیل آدھی صلاحیت والا جہاز ہے ۔پاک کے پاس 27 اسکوائیڈرن جہاز ہیں جبکہ چین کے پاس 138 اسکوائیڈرن ہیں وہیں ہندوستانی ایئر فورس کے کل 32 اسکوائیڈرن ہیں جو کسی بھی بھارت پاک جنگ کے دوران سب سے کم تعداد ہے۔حال ہی میں ایئر فورس چیف اور دیگر سینئر ملیٹری حکام نے اس کمی کو اجاگر کیا ہے ۔پچھلے گیارہ سالوں سے فوجی تیاری میں بھاری کمی آئی ہے ۔اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا اور نا ہی اس بحث میں اس کا کوئی جواب ملا۔
(انل نریندر)
31 جولائی 2025
آپریشن سندور : اپوزیشن کے سوال !
پیرکو آخر کار پہلگام کے آتنکی حملے کے واقعہ پر لوک سبھا میں زبردست بحث ہوئی ۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پیر کو بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے تینوں ونگ کے تال میل کی بے مثال بتاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس مہم کو یہ کہنا کہ کسی دباو¿ میں آکر روکی گئی غلط اور بے بنیاد ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہار مان لی تھی اور کہا کہ اب کاروائی روک دیجئے مہاراج ۔بہت ہوگیا۔وزیر دفاع نے کہا دس مئی کی صبح جب انڈین ایئر فورس نے پاکستان کے کئی ایئر فیلڈ پر کرارا حملہ کیا تو پاکستان نے اسی وقت ہار مان لی تھی اور لڑائی روکنے کی پیشکش کی ۔بحث میں اپوزیشن نے مرکزی حکومت پر تلخ سوال داغے اپوزیشن نے ایک آواز میں کہا فوج کی طاقت پر انہیں فخر ہے ،لیکن سرکار کی حکمت عملی ،جوابدہی اور خارجہ پالیسی پر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔کانگریس ایم پی گوروگوگوئی اور دیپندر ہڈا نے خاص طور پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ۔کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے کہا کہ سرکار کو بتانا چاہیے کہ پہلگام حملے کے آتنکی اب تک گرفت سے باہر کیوں ہیں ؟ انہوں نے پوچھا کہ آپریشن سندور کے دوران کتنے جنگی جہاز گرے تھے ؟ جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا رول تھا؟ انہوں نے پوچھا کہ جب ہم جیت رہے تھے تو کاروائی کیوں روکی گئی ؟ پاکستان کے قبضہ سے پی اوکے کیوں نہیں لیا گیا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام آتنکی حملے میں سیکورٹی کوتاہی کی اخلاقی ذمہ داری مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لینی چاہیے ۔امت شاہ جموں وکشمیر کے لیفٹننٹ گورنر کے پیچھے نہیںچھپ سکتے ۔یہ چوک ان کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب پورا دیش اور اپوزیشن وزیراعظم کے ساتھ کھڑا تھا تو اچانک جنگ بندی کیسے ہوئی ؟ اگر پاکستان گھٹنوں پر تھا تو آپ کیوں جھوکے،آپ کس کے سامنے جھکے ۔کانگریس نیتا نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 بار کہا کہ انہوں نے تجارت کی بات کرکے جنگ رکوائی ۔ٹرمپ کا کیا رول تھا ؟ انہوں نے سرکار سے سوال کیا کہ پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے ) کو اب واپس نہیں لیں گے تو کب لیں گے ۔میں نے گورو گوگوئی کی تقریر کے اہم حصے اس لئے بتائے ہیں کیوں کہ میرا خیال ہے کہ آپریشن سندور پر اٹھائے گئے سوالوں پر یہ بہت صحیح اور زوردار تقریر تھی جس کا جواب ابھی تک حکمراں فریق کے اسپیکر سرکار سے ابھی تک جواب نہیں دلوا سکے ۔اور تالنے اور ادھر ادھر کی باتوں سے الجھائے رکھنا توجہ ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔کانگریس کے دیپندر ہڈا اور ٹی ایم سی ایم پی کلیان بنرجی کی تقریروں کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔کانگریس ایم پی دیپندر ہڈا نے کہا کہ ہماری فوج نے پاکستان کو منھ توڑ جواب دیا ۔لیکن سرکار کی حکمت عملی میں بڑی خامی رہی ۔اپوزیشن نے آل پارٹی میٹنگ کی مانگ کی تھی لیکن سرکار نے نہیں بلائی ۔دیپندر نے سرکار کی امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بھی جم کر نکتہ چینی کی جبکہ ترکیہ نے پاکستان کی مدد کی تو وزیراعظم سائپرس چلے گئے ۔اچھا سندیش دیا لیکن اصلی دشمن چین کو سندیش دینا تھا تو وہ طائبان چلے جاتے ہیں خارجہ پالیسی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بار بار ٹرمپ کے اس دعوے کو لے کر سوال پوچھے جاتے ہیں کہ انہوں نے بھارت پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروائی ۔ترنمول کانگریس نیتا کلیان بنرجی نے کہا کہ آپریشن سندور کا کریڈٹ فوج کو ہے وہ اس میں کوئی ٹال مٹول نہیں ہونا چاہیے ۔ہم نے خارجہ پالیسی کے معاملے میں پوری طرح سے سرکار کی حمایت کی بھارت کو پاکستان کو ایسی چوٹ دینی چاہیے تھی جسے پوری دنیا دیکھتی ۔انہوں نے پی ایم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ میں کبھی سنچوری کے قریب 90 رن پر پہنچنے پر ایننگ ودرا کرنے کی بات سنی ہے ؟ لیکن یہ کام مودی جی ہی کرسکتے ہیں اور کوئی نہیں ۔ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں 140 کروڑ دیش واسی کہہ رہے تھے کہ لڑائی جاری رکھیں ،جیتی ہوئی بازی نہ ہارو لیکن امریکہ کے صدر کے سامنے آپ کا قد اور چھاتی 56 انچ سے گھٹ کر 36 انچ رہ گئی ہے ۔وہیں اسد الدین اویسی نے کہا پاکستان کا مقصد ہمیشہ بھار ت کو کمزور کرنے کا ہی ہے ۔سرکار کا کہنا ہے خون پانی اور دہشت گردی بات چیت نہیں ہوسکتی ۔پھر کس صورت میں آپ پاکستان سے کرکٹ میچ کھیلیں گے ۔جموں وکشمیر میں 7.5 لاکھ سی آر پی ایف پولیس فورس ہے ۔پہلگام آتنکی حملے کے لئے اس کی جوابدہی طے ہوگی ؟ ایل جی ،آئی بی ،پولیس جو بھی ذمہ دارہے اس پر ایکشن ہونا چاہیے ۔جموں وکشمیر سے 370 آرٹیکل ہٹا دیا لیکن دہشت گرد پھر بھی وہاں پہنچ گئے ۔انہوں نے کہا اگر پانچ جنگی جہاز نہیں گرے تو بولیے ۔اویسی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کے اعلان کرنے پر بھی جواب مانگا ۔سیو سینا (یو بی ٹی ) ایم پی اروند ساونت نے سوال کیا کہ بھارت نے بغیر شرط جنگ بندی کیوں کی جبکہ پاکستان گڑ گڑارہا تھا کیا ایسے میں سخت شرطیں نہیں رکھنی چاہیے تھیں؟ پہلگام میں کوئی جوان تعینات کیون ہیں تھا ۔پہلے دن کی بحث میں ان نظریات سے اپوزیشن بہت بھاری پڑی اور سرکار جواب ٹالتی رہی۔لیکن کتنی دیر تک ؟
(انل نریندر)
29 جولائی 2025
چناو کمیشن کی ساکھ کا سوال!
بہار میں ووٹر لسٹوں کا ایس آئی آر یعنی اسپیشل انٹینسو رویژن کاروائی کو لے کر ہنگامہ مچا ہوا ہے ۔پارلیمنٹ سے لے کر بہار کی سڑکوں پر جم کر احتجاج ہو رہا ہے ۔مانا ایک مہینے کی میعاد میں تقریباً آٹھ کروڑ ووٹروں کی گہری جانچ کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔یہی ایک سوال ہے جو اپوزیشن پارٹیوں و دیگر سماجی انجمنوں کو مرکزی چناو¿کمیشن کے ارادے پر شبہ پیدا کررہا ہے ۔اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ لاکھوں ووٹروں کے نام کاٹے جارہے ہیں ۔ادھر چناو¿ کمیشن کا کہنا ہے کہ صرف متوفی اور مائیگریٹ ووٹروں کے نام ہٹائے جارہے ہیں ۔کانگریس اور آر جے ڈی اسے چناوی حکمت عملی مانتی ہے ۔جبکہ بھاجپا نے احتجاج کو ایک سیاسی انسٹنٹ بتایا ہے ۔وہیں بی جے پی کے نیتا یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ چناو¿ میں اپنی ہار کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن بوکھلا گئی ہے اور وہ طرح طرح کے بہانے پیش کررہی ہے ۔قومی جنتا دل نیتا تیجسوی یادو نے کہا ہے کہ اگر اسپیشل ووٹر رویژن پروگرام یعنی ایس آئی آر پر ان کی باتیں نہیں سنی گئیں تو وہ چناو¿ کا بائیکاٹ کرنے پر غور کرسکتے ہیں ۔اگر مہا گٹھ بندھن سچ میں چناو¿ بائیکاٹ کرتا ہے تو حالات بے حد سنگین ہوں گے اس سے چناو¿ کمیشن کی ساکھ کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کی ساکھ پر بھی آنچ آئے گی ۔حالانکہ ووٹر فہرستوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہا ہے ۔ایسا الگ الگ ریاستوں میں ضرورت پڑنے پر الگ الگ میعاد میں جانچ پڑتال ہوئی ہے ۔لیکن بہار میں اسپیشل رویژن فہرست کو لے کر چناو¿ کمیشن کی کاروائی سوالوں کے گھیرے میں آگئی ہے ۔حقیقت میں بہار جیسے پسماندہ اکثریتی دیہاتی اور مزدور آبادی والی ریاست کے شہریوں کی مجاز ووٹروں کی جانچ اتنے کم وقت میں ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ چناو¿ کمیشن نے پہچان کے لئے ووٹروں کے پاس دستیاب دستاویز آئی کارڈ ،آدھار کارڈ،ووٹر آئی ڈی راشن کارڈ کو ثبوت ماننے سے انکار کردیا ہے ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے چناو¿ کمیشن کو صلاح دی تھی کہ وہ ان تینوں کو بھی پہچان کے ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔گہری جانچ پڑتال کاروائی کی بنیادی رپورٹ کے لئے کئی یوٹیوب چینل اور دیگر شوشل میڈیا کے صحافیوں نے رد عمل پر سوال کھڑے کئے ہیں ۔بہار کے بیگو سرائے ضلع میں یوٹیوبر اور سینئر صحافی اجیت انجم نے ثبوتوں کے ساتھ اس کاروائی میں ہو رہی دھاندلیوں کو اجاگر کیا ۔الٹے ان پر ایف آئی آر درج ہو گئی اور ان پر سرکاری کام میں خلل ڈالنے اور بنا اجازت سرکاری دفتر میں گھسنے کا الزام ہے ۔یہ معاملہ بلیا تھانے میںدرج ہے ۔بہار میںا نتہائی قلیل وقت میں ووٹروں کو اسپیشل جانچ کے کمیشن کے آرڈر کو لے کر اپنے اعتراضات درج کرانے جب اپوزیشن لیڈروں کی نمائندگی چناو¿ کمیشن سے ملنے گیا تو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان سے ملنے کے لئے آئے بلکہ ملاقات پر نامناسب کاروائی اپنائی گئی جس سے مایوس اور ناراض ہو کر اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ں نے کہا کہ چناو¿ کمیشن اقتدار اعلیٰ کے اشارے پر کام کررہا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 325 کے مطابق کسی بھی شخص کو صرف مذہب ،نسل ،ذات یا برادری کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے باہر نہیں کیاجاسکتا ۔قانون دیش کے ہر ایک شہری کا ہے جو اٹھارہ سال سے پچیس سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہے وہ ووٹر کے طور پر اپنا رجسٹریشن کرسکتا ہے اس میں صرف شہری یا غیر شہری کے نام درج کرنے کے نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں صاف کر چکا ہے کہ ووٹ کا حق صرف آئینی حق ہے بنیادی اخلاقی حق نہیں ہے مگر ہندوستانی شہری ہونے کے باوجود اسے شرطیں پوری کرنی ہوتی ہیں اور ضروری دستاویز دینے ہوتے ہیں ۔چناو¿ کمیشن کی منشاءپر انگلی اٹھانے والوں کا الزام ہے کہ مردم شماری فارم میں مانگے گئے دستاویز میں آدھار ووٹر آئی ڈی و راشن کارڈ کا ناشامل ہونا یقینی طور سے چناو¿ کمیشن کے ارادے پر شبہ پیدا کرتا ہے چونکہ سرکار آدھار کو ہی صرف شناختی کارڈ مان رہی ہے ۔بینک کھاتے سے جوڑرہی ہے ۔چناو¿ ووٹر الیکشن کارڈ سے جوڑرہی ہے ۔جس کا مطلب ہے سرکار اسے شہریت کے ثبوت مان رہی ہے اس لئے چناو¿ کمیشن کے ذریعے انہیں ناقبول کرنا شبہ پیدا کرتا ہے ۔اگر جلد ہی کمیشن اس میں اصلاح کر لے تو شاید ان الزامات اور کرپشن سے بچا جاسکتا ہے ۔چناو¿ کمیشن نے اب یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ ایسی گہری جانچ اب پورے دیش میں ہوگی ۔سو معاملے اب صرف بہار تک محدود نہیں امید ہے کہ جلد اس پر اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا اور ایک آئینی بحران کو ٹالاجائے گا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...