Translater

06 دسمبر 2014

سابقہ چیف انجینئر یادوسنگھ کی ڈائری سے افسروں و بلڈروں کی نیند اڑی!

نوئیڈا گریٹر نوئیڈا و جمنا ڈولپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیف انجینئریادو سنگھ پر انکم ٹیکس محکمے کا شکنجہ کسنے کے بعداب شہر کے کچھ افسروں بلڈروں کی نیند اڑنا فطری ہے۔اونچے رسوخ کے چلتے طویل عرصے تک تعیناتی اور تقرری کے بعد پھر سے غازی آباد میں لوٹ آنا ، غلط فیصلے لینا اور سنگین بے ضابطگیوں کی وجہ سے کچھ افسر ہمیشہ تنازعے میں رہے ہیں۔ کچھ کو سی بی آئی جانچ کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو چیف انجینئر یادو سنگھ معاملے میں انکم ٹیکس محکمے کی کارروائی سے ضلع انتظامیہ ، جی ڈی اے ،نگرپالیکا، بجلی محکمہ،ہاؤسنگ کاؤنسل، پولیس وغیرہ محکمے کے کئی ملازم اور ریٹائرڈ افسرو ں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ادھر خبر ہے یادو سنگھ کے کالے کرتوت کی ڈائری بھی سامنے آئی ہے۔ پیر کے روز لاکر سے برآمد ہوئی اس ڈائری میں یادو سنگھ کی تعیناتی و بحالی فرش سے عرش تک پہنچنے کی پوری داستان درج ہے۔اس میں ان کے مددگار افسروں اور نیتاؤں کے نام بھی درج ہیں جو ملائی کھاکر اسے ملائی دار پوسٹنگ دلاتے رہے ہیں۔ انکم ٹیکس کے افسروں نے پیر کو پوری رات اس ڈائری کے سلسلے میں یادو سنگھ اور ان کی اہلیہ کسم لتا سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ اس سے پہلے یادو سنگھ کے گھر سے بھی ایک ڈائری برآمد ہوئی جس میں کالی کمائی میں کمیشن کہاں کہاں جاتا تھایہ سب کچھ درج ہے۔پیر کو انکم ٹیکس محکمے کے افسروں نے یادو سنگھ کے سامنے ہی دہلی میں ایک لاکر کھولا تھا۔ اس لاکر سے کاروباری دستاویز کے ساتھ ہی ڈائری برآمد ہوئی تھی۔ اس ڈائری کو پڑھ کر افسر حیرت میں پڑ گئے۔ ڈائری میں لکھنؤ سے لیکر دہلی تک کی سیاست کرنے والے کچھ بڑے لیڈروں اور افسروں کے بارے میں رام کتھا درج ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نیتا اور افسروں نے یادو سنگھ کی بحالی کرنے اور کمائی والے عہدوں پر تقرری کرنے ، کب اور کتنے سروس ٹیکس کی وصولی کی ہے یہ سب درج ہے۔ ہزار کروڑ کے بادشاہ یادو سنگھ نے کالی کمائی کے لئے اپنے بیٹے کا سر نیم تک بدل ڈالا تاکہ بیٹے کی گریٹر نوئیڈا اتھارٹی میں پوسٹنگ میں کسی طرح کی دقت نہ ہو۔ یادو سنگھ کا بیٹا گرینو اتھارٹی میں ایک ملائی دار عہدے پر مقرر ہے۔ اس کا نام یادو سنگھ کے سر نیم سے الگ ہے یعنی یادو سنگھ کے سر نیم میں الگ سنی یادو ہے۔ یادو سنگھ کی کالی کمائی بڑھانے میں شہر کے کئی بڑے بلڈر بھی شامل ہیں جنہوں نے موٹا پیسہ کھلا کر سستے داموں پر یادو سنگھ سے زمین الاٹ کرائی ۔اس سے جڑے کچھ دستاویز بھی ملے ہیں۔ ذرائع نے بتایا چھاپہ ماری کے دوران قریب12 بوروں میں فائلیں رکھی گئی تھیں جن میں زیادہ تر فائلیں بلڈروں کی زمین الاٹمنٹ سے متعلق ہیں۔ یادو سنگھ پرمنی لانڈرنگ کا بھی شکنجہ کس سکتا ہے۔ اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یادو سنگھ کے خلاف منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کی تیاری میں ہے۔ انکم ٹیکس محکمے کی ٹیم کا یادو سنگھ پر شکنجہ کسنے سے بہت سے افسروں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ دیکھیں آگے چل کر کیا کیا چونکانے والے انکشافات سامنے آتے ہیں۔
(انل نریندر)

باباؤں اور ان کے ڈیروں کا معاملہ!

پچھلے کچھ دنوں سے خود ساختہ باباؤں اور ان کے ڈیروں و ان کی سرگرمیاں میڈیامیں چھائی ہوئی ہیں۔ دیش کی مختلف عدالتوں میں ریاستوں میں ان کی سرگرمیوں کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ چلئے ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔نابالغ سے بدفعلی کے معاملے میں سوا سال سے جیل میں بندبابا باپو آسا رام کو سپریم کورٹ سے فی الحال کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ جسٹس ٹی ۔ایس ٹھاکر کی رہنمائی والی بنچ نے انتم ضمانت کیلئے عرضی کی سماعت ٹالتے ہوئے آسا رام کو میڈیکل بنیاد پر ضمانت دینے سے انکارکردیا ہے۔ انہیں خاص رعایت نہیں دی جاسکتی۔ راجستھان کی جیل میں بند آسا رام نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے صحت خراب ہونے کی بنیاد پر ضمانت مانگی تھی۔ پنجاب ۔ ہریانہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ایک مفاد عامہ کی عرضی کیشکل میں داخل کرنے پرکہا تھا کہ سرسہ کے ڈیرا سچا سودا میں ہتھیاروں کی ٹریننگ دی جارہی ہے۔حصار کے ستلوک آشرم میں ہتھیار ملنے کے بعد ہائی کورٹ کو ڈیرا سچا سودا میں ہتھیاروں کی ٹریننگ کی جانکاری دیتے ہوئے فوج کی انٹیلی جنس کی طرف سے ایک ایڈوائزری پیش کی تھی۔ اے سکس کیوٹی نے سبھی ڈیروں کی جانچ کی صلاح بھی دی تھی جسے ہائی کورٹ نے منظور کرلیا تھا۔ ڈیرا سچا سودا سے متعلق رپورٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پیر کے روز ہائی کورٹ نے کہا کہ ڈیروں اور آشرموں کو ہتھیاروں اور بارود کا ڈمپنگ گراؤنڈ نہ بنانے دیا جائے۔ایک دوسرے معاملے میں پنجاب۔ ہریانہ ہائی کورٹ نے پنجاب سرکار کو نور محل میں واقع دویہ جوتی جاگرتی سنستھان کے بانی آشوتوش مہاراج کا 15 دن میں انتم سنسکار کرنے کا حکم دیا ہے۔پیر کو مہاراج کی لاش سونپے جانے کی مانگ سے متعلق عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پنجاب کے ڈی جی پی کی نگرانی میں ایک کمیٹی بنائی جائے جو انتم سنسکار کا انتظام کرے گی۔ ڈاکٹروں کے ذریعے آشوتوش مہاراج کو مردہ قرار دئے جانے کے بعد سنستھان کے منتظم ان کی موت کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے مہاراج جی نے سمادھی لی ہے اور وہ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے اس لئے انہوں نے آشوتوش مہاراج کی لاش کو 10 مہینے سے فرج میں رکھا ہوا تھا۔ تب سے ان کی لاش فرج میں ہی ہے۔ آشوتوش مہاراج 26 جنوری منگلوار کی رات کو ساڑھے 12 بجے مراقبے میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے سانس لینے میں کچھ دقت ظاہر کی تو ڈیرہ منتظمین نے فوراً ڈاکٹروں کی ٹیم کو بلایا جنہوں نے رات کو قریب ڈھائی بجے تک ان کی جانچ کی۔ ان کی نبض اور دل کی دھڑکن بند تھی۔ آخر میں ڈاکٹروں نے مہاراج کو متوفی اعلان کردیا۔ 11 دنوں کی پولیس ریمانڈ پر چل رہے ستلوک آشرم کے رامپال سے پولیس آشرم سے جڑے سچ اور ثبوت اکٹھا کررہی ہے۔ کل ملاکر سارے باباؤں کے ستارے گردش میں چل رہے ہیں اور ان کی چونکانے والی سرگرمیاں اب ابھر کر سامنے آرہی ہیں۔ اگر سارے ڈیروں کی جانچ سختی سے ہوتی ہے تو پتہ نہیں کیا کیا سامنے آتا ہے۔
(انل نریندر)

05 دسمبر 2014

منتری ہو یا سنتری مریاداؤں کی تعمیل کرنی ہوگی!

اپنی ہی سرکار کی ایک وزیر کے متنازعہ الفاظ کی وجہ سے مودی حکومت کی چوطرفہ طور پر کرکری ہوئی۔ پچھلے دو دنوں سے حکمراں اور اپوزیشن میں غذا اور پروسسنگ وزیر مملکت سادھوی نرنجن جوتی کے متنازعہ بیان پرجم کر ہنگامہ چل رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں سادھوی نرنجن جوتی کے استعفے پر اڑی ہوئی ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں اپنی طرف سے سرکار کا موقف رکھتے ہوئے ممبران پارلیمنٹ اور وزرا کو سخت نصیحت دی ہے اور ان کا کہنا ہے اب یہ معاملہ ختم ہوجانا چاہئے۔ہوا یوں وزیرمملکت سادھوی نے پیر کے روز دہلی اسمبلی کیلئے چناؤ کمپین کرتے ہوئے ایک ریلی میں لوگوں سے رام زادوں اور حرام زادوں میں سے ایک کو چننے کا متنازعہ بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا دہلی اسمبلی چناؤ میں رائے دہندگان کو طے کرنا ہے کہ وہ رام زادوں کی سرکار بنائیں گے یا حرام زادوں کی؟ سادھوی نے اپنے اس بیان میں اپوزیشن کو بیٹھے بٹھائے ایک اشو دے دیا ہے جس سے سرکار کی کرکری ہوئی ہے۔خود وزیر اعظم بھی بھاجپا پارلیمانی پارٹی میں ان کے بیان کو مسترد کرکے سخت وارننگ دے چکے ہیں اور پارٹی کے بڑبولے لیڈروں کو نصیحت دی کہ وہ بے وجہ بیان دے کر مرکزی سرکار کی کرکری نہ کرائیں۔ مودی نے ایسے بیانات کو تکلیف دہ بتایا ،ساتھ ہی کہا کہ اب میڈیا کے سامنے وہ سرکاری طور پر بیان دیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے ہم دیکھ رہے ہیں سیاستداں تہذیب کے دائرے سے باہر نکل کر الٹے سیدھے بیان دے رہے ہیں۔ کسی بھی شخص خاص کر نیتا اور وزیر کو ایسی زبان زیب نہیں دیتی جیسا کہ سادھوی نرنجن جوتی نے اپنے سیاسی حریفوں کے لئے استعمال کی ہے۔ زیادہ پریشانی یہ بھی ہے کہ وہ ایک سادھوی ہیں اور ان سے غیر مہذب الفاظ کی امید نہیں کی جاتی۔ بیشک سادھوی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپنے بیان پر افسوس ظاہر کرنے کے ساتھ معافی بھی مانگ لی ہے لیکن اس سے بھاجپا اور سرکار کو جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہوہی گیا اس کی وجہ سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا قیمتی وقت بھی بلا وجہ کی بحث بازی میں ضائع ہوگیا اور ابھی بھی ڈیڈ لاگ برقرار ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ کچھ لیڈر تلخ تیوروں والے ہوتے ہیں اور وہ اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف سخت زبان کا استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں بھدی زبان کا استعمال کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ بھاجپا اور مودی سرکار کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی سطح پر یہ یقینی بنائیں کہ مستقبل میں اس طرح کے معاملے سامنے نہ آئیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو اپوزیشن کو بیٹھے بٹھائے مودی سرکار کی ٹانگ کھینچنے کا جہاں موقعہ ملے گا وہیں سرکار اور بھاجپا کی ساکھ بھی خراب ہوگی۔ اپوزیشن سادھوی کے استعفے پر اڑا ہوا ہے ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرانے کے مطالبے پر بھی اڑیل ہے اور کہا ہے کہ صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ تعطل کیسے ٹوٹے گا یہ منحصر کرتا ہے وزیر اعظم نریندر مودی پر۔ پارلیمنٹ ٹھیک ٹھاک چلے یہ مودی سرکار کا فرض ہے۔ بہتر ہو کہ معاملے کا قابل قبول حل نکال لیا جائے اور سرکار پھر سے پٹری پر آجائے۔
(انل نریندر)

اریب مجیدکی وطن واپسی کہیں کوئی سازش تو نہیں؟

خطرناک آتنکی تنظیم آئی ایس سے جڑنے کے قریب 6 مہینے بعد بھارتیہ شہری اریب مجید کی وطن واپسی کو ہماری سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں نے سنجیدگی سے لیا ہے تو اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مجید ان چار لڑکوں میں سے ایک ہے جو شام اور عراق میں جاکر آئی ایس سے جڑے تھے۔ حالانکہ اس دوران ان چاروں لڑکوں کے رشتے داروں نے سکیورٹی ایجنسیوں ،خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مسلسل تعاون کیا اور اس تال میل کے سبب ہی اریب مجید کی وطن واپسی ہو پائی ہے۔ لیکن این آئی اے کی حراست میں ابتدائی پوچھ تاچھ کے دوران مجید نے لوٹنے کی جووجہ بتائی ہے وہ بہت بھروسے مند نہیں لگتی۔ جو شخص مہینوں تک آئی ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر ہورہا ہو اور جس نے زیادہ سے زیادہ لڑکوں کو اس سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، کون مانے گا کہ اس نے کن حالات میں اور کس توقع کی وجہ سے لوٹنے کا فیصلہ کیا ہو؟ جب آئی ایس سے جڑنے کا اسے کوئی افسوس نہیں ہے تب کوئی مانیں بھی کیسے یہ ایک بھٹکے لڑکے کی گھر واپسی ہے۔ اپنے تین دیگر ساتھی انجینئرننگ طلبا کے ساتھ زیارت کے ارادے سے نکلے اریب مجید کی فراری سے لیکر واپسی تک کا واقعہ اتنا مشتبہ اور مضحکہ خیز ہے کہ اس کی جانچ پڑتال ضروری ہے ۔ خاص کر جب اس خطرناک آتنکی تنظیم کے ذریعے بھارت سمیت پورے ساؤتھ ایشیا کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں آرہی ہیں۔ پڑوسی پاکستان میں اس کی موجودگی کے پختہ ثبوت ہوں۔ اریب مجید نے پوچھ تاچھ میں انکشاف کیا ہے کہ آئی ایس کوئی مقدس جنگ نہیں لڑ رہی ہے بلکہ اس کی آڑ میں وہ گھناؤنے کام کررہی ہے۔ اس نے جانچ ایجنسیوں کو جانکاری دی ہے کہ وہاں کے لڑاکے جہاد نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ تو آبروریزی جیسے کام میں بھی ملوث ہیں۔ این آئی اے کے ایک افسر کے سوال کے جواب میں مجید نے کہا وہاں نہ تو کوئی جہاد ہورہا ہے اور نہ ہی مقدس کتابوں میں لکھی باتوں پر عمل ہورہا ہے۔ آئی ایس لڑاکوں نے وہاں کئی عورتوں سے آبروریزی بھی کی ہے۔ مجید نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایس نے اسے کس طرح نظرانداز کیا کہ لڑائی میں حصہ لینے کیلئے بھیجے جانے کے بجائے اس سے ٹوائلٹ کی صفائی کا کام لیا جاتا تھا یا جنگ لڑ رہے لڑکوں کو پانی پلانے کو کہا جاتا تھا۔ بدقسمتی تو یہ ہے دیش کے اندر بھی آئی ایس کے تئیں رغبت کے کچھ اثرات کشمیر وادی سے لیکر اترپردیش ،مغربی بنگال میں ملے ہیں۔ دنیا بھر سے انٹر نیٹ کے ذریعے لڑکوں کی بھرتی اور ٹریننگ کے بعد ان کی پھر اپنے دیش کو واپسی کے واقعات کی مثالیں ہمیں برطانیہ اور دیگر یوروپی ملکوں سے بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔ پوری دنیا شش و پنج میں ہے کہ کسی حکمت عملی اور منظم نشانوں کے ساتھ تو انہیں واپس نہیں بھیجا جارہا ہے؟ اریب کے بارے میں تو اس کے ساتھ فرار ساتھیوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ وہ شام میں لڑتے ہوئے مارا گیا ہے۔ اب اچانک اس کی واپسی کی گتھی اتنی آسانی سے حل ہوتی نہیں دکھائی پڑتی۔ ہمیں پوری چوکسی برتنی ہوگی۔
(انل نریندر)

04 دسمبر 2014

منک سرکارکی انوکھی پہل کا خیر مقدم ہے!

ہم نے پیر کو ایک ایسا سیاسی نظارہ دیکھا جس کی ہم تعریف کرنے سے گریز نہیں کرسکتے۔تریپورہ میں مارکسوادی قیادت والی منک سرکار نے ریاست کی ترقی میں سیاست سے اوپر اٹھنے کی ایک اچھی مثال پیش کی ہے۔جب انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ریاست آنے کی دعوت دی اور کہا وہ ان کی کیبنٹ کے ممبروں اور ممبران اسمبلی کو اگرتلہ میں خطاب کریں اور انہیں ’گوڈ گورننس‘ کا پاٹ پڑھائیں۔بتاتے چلیں کہ کمیونسٹوں کا آخری قلعہ بچا ہے تریپورہ میں۔ ساؤتھ میں واقع تریپورہ میں وزیر اعظم کو لیفٹ وزیر اعلی کے ذریعے دعوت دینے کی مثال بھارت کی سیاست میں نئی روایت ہے۔ نظریاتی طور سے بھاجپااور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی دو بالکل الگ بلکہ مسلسل حریف نظریات رکھنے والی پارٹی ہیں۔ مرکز کی بھاجپا حکومت کے کچھ قدموں کے خلاف تریپورہ کے وزیر اعلی منک سرکار نے خاص طور سے سرگرمی دکھائی ہے۔ مثلاً منریگا کو مبینہ طور سے محدود کرنے کی کوششوں کے خلاف وہ سڑکوں پر اترے۔ اس کے باوجود جب وزیر اعظم نریندر مودی بجلی گھر کا افتتاح کرنے تریپورہ گئے تو انہوں نے مناسب سمجھا کہ انہیں اپنے کیبنٹ سے بات چیت کیلئے بلایا جائے۔دیش میں مارکسوادی پارٹی کی سرکار اب صرف تریپورہ میں ہی رہ گئی ہے اور منک سرکار کی یہ پہل آج کے سیاسی ماحول میں الگ ہی معنی رکھتی ہے حالانکہ ایک لیفٹ نظریئے و پارٹی کا وزیر اعلی کا یہ فیصلہ سیاسی طبقے کو ہضم نہیں ہورہا ہے۔ بتایا جاتا ہے دیش بھر میں لیفٹ سیاست کمزور پڑ رہی ہے اور الگ تھلگ پڑنے سے پریشان منک حکومت نے اپنے لئے کوئی الگ سیاسی راستہ تلاش کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ غور طلب ہے مارکسوادی پارٹی اور بھاجپا کے درمیان سیاسی رشتے کبھی نہیں رہے ہیں۔ دونوں کی سیاست دو نکتوں پر چلتی ہے اور دونوں کے درمیان ہمیشہ چھتیس کا آنکڑا بنا رہتا ہے۔ اس کے باوجود منک سرکار کی یہ پہل بھاجپا کیلئے بھی انوکھی ہے۔وزیر اعلی نے گڈ گورنینس اور سوچھ بھارت مشن سے وابستہ وزیر اعظم کے نظریئے پر براہ راست بات چیت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس سے ایک نئی مثال قائم ہوئی ہے۔ ایسے موقعہ مسلسل ملیں تو سیاسی طور سے اپوزیشن پارٹیوں اور لیڈروں کو ایک دوسرے کے نظریات سمجھنے کا ایک اچھا موقعہ ملے گا۔ مثلاً تریپورہ کی لیفٹ حکومت کو منریگا یا دیگر سماجی فلاحی اسکیموں پر مرکز کے موقف سے شکایت ہے تو اس سے بہتر کیا ہوگا کہ وہ اپنے نقطہ نظر کو سیدھے وزیر اعظم کے سامنے رکھیں؟ اس لئے اپنی ایمانداری اور سادگی کے لئے مشہور منک سرکار کی اس پہل نے سارے ملک کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی ہے۔ دراصل یہ ایک ایسا قدم ہے جس سے مرکز اور ریاستی تعلقات کو ٹھیک ٹھاک بنانے کی سمت میں ایک اہم شروعات ہوسکتی ہے۔ سیاسی اختلافات کی وجہ سے مرکز اور ریاستی حکومت کا اکثر ٹکڑاؤ بنا رہتا ہے۔ خاص کر جب مرکز اور ریاستوں میں الگ الگ آئیڈیالوجی کی حکومتیں ہوں۔ منک سرکار نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سب سے زیادہ اہم ہے ریاست کی ترقی اور اس کے لئے وہ پارٹی کی روایت ،آئیڈیالوجی سے اوپر اٹھنے کو تیار ہے۔اس پہل کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

مسلسل کرکٹ شخصیات کی موت پر کرکٹ کی سلامتی پر بحث میں تیزی!

آسٹریلیا کے نوجوان بلے باز فلپ ہیوز کی ایک باؤنسر لگنے سے ہوئی موت کو ابھی کرکٹ دنیا بھلا نہیں پائی تھی کہ اسرائیلی کرکٹ ٹیم کے سابق نائب کپتان اور انٹرنیشنل امپائر ہلیل آسکر کی ایک میچ کے دوران سینے میں گیند لگنے سے موت ہوگئی جس سے ساری کرکٹ دنیا صدمے میں ہے۔ اس حادثے کے بعد کرکٹ کھلاڑیوں و امپائروں و کرکٹ شائقین میں ایک طرف ان کی سلامتی اور دوسری طرف باؤنسروں پرپابندی لگانے پر بحث چھڑ گئی ہے۔ ہندوستانی نژاد 55 سالہ آسکر اسرائیل کے ساحلی شہر ایشوداد میں منعقدہ ایک مقامی میچ میں امپائرننگ کررہے تھے اسی دوران بلے بازنے تیز گیند باز کی گیند پر ایک شارٹ لگایااور بال سیدھی نان اسٹرائیکر پر لگے اسٹم سے ٹکراکر امپائرننگ کررہے آسکر کے سینے میں جالگی، جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور انہیں دل کا دورہ پڑ گیا۔ آسکر کو فوراً ہسپتال لے جایاگیا وہاں ان کی موت ہوگئی۔اس سے کھلاڑیوں و امپائروں کی سلامتی پر نئے سرے سے بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں تک باؤنسر گیندوں پر پابندی لگانے کا سوال ہے زیادہ تر کھلاڑیوں کا خیال ہے ایسی کوئی پابندی نہیں لگنی چاہئے۔ اس سے کرکٹ بے جان ہوجائے گا۔ ساؤتھ افریقہ کے سینئر تیز گیند باز ایلن ڈونالڈ نے کرکٹ کے اعلی حکام سے باؤنسر پر پابندی نہ لگانے کی اپیل کی ہے۔ اب ساؤتھ افریقہ کے گیند بازکوچ کا کردار نبھا رہے ڈونلڈ نے ایک اخبار سے بات چیت میں کہا یہ واقعہ ایک اتفاقی تھا اور اسے کرکٹ حکام کو کوئی سخت فیصلہ نہیں لینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے فل ہیوز کی دل دہلانے والے واقعے سے کھیلوں کے اعلی افسر یہ نہیں سوچیں گے کھیل کو محفوظ بنانے کا ایک محض طریقہ باؤنسر پر پابندی قائم کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے اگر باؤنسر کو کھیل سے ہٹا دیا جاتا ہے تو گیند اور بلے کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں رہ جائیگا۔ تیز گیند باز اپنے باؤنسر کا استعمال بلے باز کو ڈرانے کیلئے کرتا ہے۔ اس سے بلے باز کو پیغام بھیجتا ہے اور اسے سوچنے کے لئے مجبور کرتا ہے اس سے اس کے ٹیلنٹ کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ آسٹریلیا کے سابق کرکٹر جیاف لاسن کا خیال ہے کہ کرکٹ میں پھر سے جارحیت لوٹ آئے گی۔ حالانکہ انہوں نے ہیوز کی موت کے بعد پاکستان اور نیوزی لینڈ کے گیند بازوں کی شارجہ ٹیسٹ کے دوسرے دن باؤنسر نہ پھینکنے والے فیصلے کی تعریف کی ہے۔ ادھر آسٹریلیائی کرکٹ کپتان مائیکل کلارک نے 22 سالہ گیند باز سین ایبٹ کی پوری حمایت کی ہے۔ ایبٹ کی باؤنسر بال پر فل ہیوز کی موت ہوئی تھی، تب سے ایبٹ صدمے میں ہے اور ان کی دماغی کاؤنسلنگ کی جارہی ہے۔ کلارک کے مطابق کوئی بھی ایبٹ کو قصوروار نہیں مانتا اور پوری آسٹریلیائی ٹیم اس کے ساتھ ہے اور میدان میں دوبارہ لوٹنے کے لئے ہم اس کی پوری حمایت کریں گے۔ اس ایک حادثے نے ایبٹ کی پوری زندگی کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بس یہ ایک حادثہ ہی تھا اور اس پورے حادثے کیلئے ایبٹ کو ذمہ دار نہیں مانا جاسکتا۔
(انل نریندر)

03 دسمبر 2014

رشتے داری سے لکھی جائے گی سیاسی کہانی!

سماجوادی چیف ملائم سنگھ یادو جب جمعہ کو پارلیمنٹ پہنچے تو اخبار نویسوں سے ان کے پوتے اور لالو پرساد یادو کی صاحبزادی کی شادی کی خبر پر سوال کر ڈالا۔ نیتا جی کچھ نہیں بولے، بس مسکرا کر رہ گئے۔ ان کی مسکراہٹ میں بنتے رشتے کی چمک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ان کے بغل میں کھڑے ایک سینئر لیڈر جنتا دل (یو) نے چٹکی لی، ’دو یادو مل رہے ہیں مگر چپکے چپکے‘ دراصل خبر آئی ہے کہ ملائم سنگھ یادو کے پوتے تیج پرتاپ اور لالو کی بیٹی راج لکشمی کی شادی ہوسکتی ہے۔ہندوستانی سیاست کے دو دھرندر یادو جلد ہی سمدھی بن جائیں گے۔ دونوں کی رشتے داری پر16 دسمبر کو مہر لگ جائے گی۔ دونوں خاندانوں کے درمیان رشتے داری کا پہلا خیال وزیر اعلی اکھلیش یادو کے دل میں آیا تھا۔ رشتے کی بنیاد غازی آباد کے ایک لیڈر و لالو پرساد یادو کے رشتے دار نے رکھی تھی۔ 27 سالہ تیج پرتاپ سنگھ سپا چیف کے سب سے چہیتے کنبہ جاتی افراد میں شمار کئے جاتے ہیں اس لئے مین پوری پارلیمانی سیٹ سے استعفیٰ دینے کے بعد ملائم سنگھ نے تیج کو ہی اپنے جانشین کے طور پر چناؤ میدان میں اتارا اور وہ ملائم کے بڑے بھائی سورگیہ رتن سنگھ کے پوتے اور سفئی کے سابق بلاک پرمکھ سورگیہ رنویر سنگھ کے صاحبزادے ہیں۔ کچھ وقت سے لالو کو لیکر ملائم کا لہجہ بھی کافی نرم دکھائی پڑ رہا ہے۔3 نومبر کو اپنے سیاسی گورو چودھری نتھو سنگھ کی جینتی پر سپا چیف نے چارہ گھوٹالے میں لالو کے جیل جانے پر بھی افسوس جتایا تھا۔ خاندان کے ذرائع کے مطابق1977 میں بھی لالو اپنے خاندان کا رشتہ ملائم خاندان سے جوڑنا چاہتے تھے لیکن تب کسی وجہ سے بات نہیں بن پائی تھی۔ پارلیمنٹ سیشن میں شامل ہونے آئے ایم پی تیج پرتاپ یادو نے دہلی میں اس رشتے کی تصدیق کی اور کہا ابھی سگائی کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے16 دسمبر کو یہ سگائی ہونے والی ہے اور فروری میں کسی وقت شادی ہونا طے ہے۔عدم استحکام کے سیاسی دور میں ملائم اور لالو دونوں کا ٹارگیٹ یادو برادری کا سب سے بڑا لیڈر بننے کیلئے قومی سطح پر خود کی موجودگی درج کرانا تھا۔1996ء میں جب دیو گوڑا کے ہٹنے کے بعد ملائم سنگھ یادو اور جوتی بسو پی ایم بننے کی دوڑ میں آئے تو صرف لالو پرساد کے ویٹو کی وجہ سے ملائم سنگھ پی ایم نہیں بن پائے۔ یہیں سے دونوں کی سیاسی راہیں الگ الگ ہوگئی تھیں۔ ملائم اور لالو کے درمیان رشتے داری ہوجانے سے دونوں کو کڑوی یادیں بھلانے کا موقعہ مل جائے گا۔ دونوں کنبوں کے بیچ رشتے کے فیصلے سے ہی سیاسی حلقوں میں اس بات کی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا سابق جنتا دل پریوار متحد ہوگا؟ لالو اور ملائم اگر ایک ساتھ آتے ہیں تو سیاست میں اس کے خاص اثرات ہوسکتے ہیں۔ دونوں خاندان بہار۔ اترپردیش میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں اور اس سے دیش کی سیاست بھی نئی کرونٹ لے سکتی ہے۔ حالانکہ لالو پرساد یادو اور ان کی پارٹی کی بہار میں اب وہ پوزیشن نہیں رہ گئی ہے جو ملائم کی پارٹی سپا کی اترپردیش میں ہے۔ اس کے باوجود ابھی بہار کی سیاست میں آر جے ڈی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

شاباش! پوجا ۔آرتی ہمیں فخر ہے

بھارت میں لڑکیوں کی حفاظت کا مسئلہ سب سے حساس پہلو ہے۔ بہت سے مطالع جات اور تجربات بتاتے ہیں کہ ہم جتنے ایڈوانس ہورہے ہیں لڑکیوں کی حفاظت اتنی ہی کمزور پڑ رہی ہے۔ گھر سے لیکر باہر تک ہماری عورتوں کو کئی طرح کے تشدد چھیڑ خانی سے روزانہ دوچار ہوناپڑتا ہے۔ کبھی کبھی کچھ بہادر لڑکیاں سامنے آہی جاتی ہیں جو اپنا بچاؤ خود کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیر کے روز ہریانہ روڈ ویز کی بس میں روہت شہر میں پیش آیا۔ شہر کے گورنمنٹ کالج سے رول نمبر لیکر گھر واپس لوٹ رہیں دو بہنیں پوجا اور آرتی کے ساتھ روہت ۔سونی پت روڈ پر ہریانہ روڈ ویز بس میں کچھ منچلوں نے ان سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی تو دونوں نے بہادری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور خود کو بے عزت ہوتا دیکھ لڑکوں نے بھی ہاتھ اٹھایا تو لڑکیوں نے جوابی حملہ کرتے ہوئے اپنی بیلٹ سے ان کی جم کر دھنائی کردی۔ لڑکیاں جہاں بہادری سے ان منچلوں کو سبق سکھا رہیں تھیں وہیں بس میں موجودہ 60 سواریاں تماشائی بنی رہیں۔ ان دونوں بہنوں کی حفاظت کرنے کیلئے ایک ہاتھ بھی ان کی طرف نہیں بڑھا۔ اس دوران بس رکنے پر تینوں لڑکوں نے لڑکیوں کو دھکا دے کر نیچے گرادیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس نے معاملہ اسی دن درج کرلیا تھا لیکن کوئی گرفتاری نہیں کی تھی لیکن جب الیکٹرانک میڈیا میں یہ معاملہ چھایا اور لڑکیوں کے ذریعے منچلوں کی پٹائی کا ویڈیو سوشل سائٹ پر اپ لوڈ ہوا تب ہنگامہ مچ گیا۔ تب جاکر ہریانہ پولیس جاگی۔ اس نے آناً فاناً میں آسن گاؤں کے باشندے ملزم دیپک ، کلدیپ اور موہت کو ایک کھیت سے گرفتار کرلیا۔ ملزمان میں سے دو لڑکوں کا فوج میں سلیکشن ہوچکا ہے۔ بیٹیوں کہ بہادری سے مقابلہ کرنے کی جہاں چوطرفہ واہ واہی ہورہی ہے وہیں وزیر ذراعت او پی دھنکڑ نے انہیں31-31 ہزار روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی جگدیش کھٹر نے بھی انہیں 26 جنوری کو اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں لڑکیاں پوجا اور آرتی نے پورے واقعے کے بارے میں بتایا کہ وہ کالج سے رول نمبر لیکر واپس گھر جا رہی تھیں۔ جب وہ بس اسٹینڈ پر پہنچی تو پہلے ہی وہاں کھڑے دو لڑکوں میں سے ایک نے موبائل نمبر لکھ کر پرچی ان کے پاس پھینکی۔ جب ہم نے پرچی نہیں اٹھائی تو ان لڑکوں نے گالی دی۔ اس پر ہم انہیں جواب دیکر بس میں بیٹھ گئے۔ پیچھے پیچھے وہ لڑکے بھی بس میں چڑھ گئے اور ہم سے سیٹ سے اٹھنے کو کہا بحث ہونے پر ایک حاملہ خاتون نے بولنے کی کوشش کی لیکن لڑکے اس سے بھی الٹا سیدھا بولنے لگے۔ جب وہ سیٹ سے نہیں اٹھی تو ایک لڑکے نے کسی دوست کو فون کیا کہ بس میں دو لڑکیوں کو سبق سکھانا ہے۔لوڑ گاؤں سے ایک اور لڑکا بس میں چڑھ گیا اور تینوں نے بد تمیزی شروع کردی۔ ایک لڑکے نے تو ہاتھ اٹھا دیا۔ کسی سواری نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس پر ایک لڑکی نے ہمت کرکے خود اپنی پینٹ کی بیلٹ نکالی اور اس کو سبق سکھانے کیلئے لڑکوں سے بھڑ گئی۔ ہریانہ میں لڑکیوں کے پہناوے پر فرمان جاری کرنے والی کھاپ پنچایتوں کو بھی پوجا اور آرتی نے کرارا جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے شلوار قمیص پہنی ہوتی وہ پھٹ جاتی۔ جینس پہنی تھی اس لئے منچلوں کو پیٹ پائے ،جو ہمیں سوٹ پہننے کی صلاح دیتے ہیں وہ لڑکوں بھی دھوتی کرتا پہنوائیں۔ سارے دیش کو ان بہادر بیٹوں پر ناز ہے۔ دیگر لڑکیوں کو بھی ان سے سبق لینا چاہئے۔
(انل نریندر)

02 دسمبر 2014

چیف انجینئر یا ہیروں کا سوداگر؟

چیف انجینئر ہے یا ہیروں کا سوداگر؟ میں بات کررہا ہوں نوئیڈا اتھارٹی کے چیف انجینئر یادو سنگھ کی۔ ان کے گھروں اور دفتروں پر انکم ٹیکس محکمے نے چھاپے مارے اور ان میں 10.52 کروڑ روپے نقد اور کروڑوں روپے مالیت کے ہیروں کے بنے زیورات ملے ہیں۔ یادو کی نوئیڈا میں کوٹھی سے ہیرے ،سونے اور مہنگے زیورات سے سجا شوروم بھی ملا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے ان زیورات کو ضبط کرلیا ہے۔ ان کا وزن2 کلو کے قریب ہے ان کی اصل قیمت کا جائزہ تو جوہری ہی لگائے گا ویسے غیر مصدقہ ذرائع بتاتے ہیں کہ چھاپے میں تین کلو زیورات برآمد ہوئے ہیں ان میں ایک کلو سونے اور دو کلو ہیرے کے زیورات ہیں۔ نوئیڈا ڈولپمنٹ اتھارٹی ، یمنا ایکسپریس وے اور گریٹر نوئیڈا کے چیف انجینئر یادو سنگھ کی بیوی کسم لتا اور ان کے سبھی سانجھے داری کے ٹھکانوں پر انکم ٹیکس ٹیموں نے جانچ شروع کردی ہے جو جمعہ کی رات تک چلتی رہی۔ کار کی ڈکی میں پولیس کو10 کروڑ روپے مالیت کے ہیرے ملے۔جانچ کی سوئی اس اتھارٹی کے تعمیراتی کاموں سے ملی کمیشن خوری کی طرف مڑ گئی ہے۔ یہ کمیشن پچھلے 3-4 برسوں سے کئی پروجیکٹوں کے ٹھیکہ وغیرہ حاصل کرنے کیلئے لی گئی بتائی جاتی ہے۔ تفتیش کے دوران صبح6 بجے کسم لتا کے پارٹنر راجندر منوچا کے نوئیڈا کے سیکٹر12 میں واقع رہائش گاہ پر ایک کار کی چابی ملی ہے۔ اس چابی سے جب کار کو کھول کر اس کی جانچ پڑتال کی گئی تو اس میں10 کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے۔ لگژری گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ نلی ۔لال بتی لگی ایک سرکاری کار اور مسلح بندوقچی پر مبنی کالے سفاری سوٹ میں سکیورٹی گارڈ ان کی قمیص کے نیچے لگی9 ایم ایم کی پستولیں اور تین چار موبائل فون اور گھڑیاں وغیرہ وغیرہ ملے ہیں۔واقف کار بتاتے ہیں یادو سنگھ کا طلسم کچھ ایسا ہی تھا کہ انہیں قریبی واقف کار وائی ایس کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپس میں ذکر ہوتا تھا تو وائی ایس کا۔ بڑے سے بڑے بلڈر کیا نیتا کیا آئی ایس افسر ہر کوئی یادو سنگھ کی ایک مہربانی کا محتاج رہتا تھا۔ وقت کے ساتھ ریاست میں سرکار بدلی اور موجودہ سرکار کے آنے کے بعد یادو سنگھ کی مشکلیں آگئیں۔ کبھی ایسا جلوہ نوئیڈا ، گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کا ہو یا پھر غازی آباد ڈولپمنٹ کے چیف وائی۔ ایس سے بات کرنے کیلئے ترس جاتے تھے۔ انہیں کئی کئی گھنٹوں یا کبھی کبھی تو کئی کئی دن ملنے میں لگ جاتے تھے۔ وائی ۔ایس کا جلوہ اتنا تھا کہ چیئرمین کی کوئی ان کے سامنے حیثیت نہیں تھی۔ ہم صنعتکاروں کو بیکار بدنام کرتے ہیں لیکن افسروں کے کتنے گھوٹالے ہیں یہ تبھی پتہ چلتا ہے جب ان کے یہاں چھاپے پڑتے ہیں۔ نوئیڈا ، گریٹر نوئیڈا و ایکسپریس وے کی تعمیر میں لگتا ہے حالانکہ رشوت خوری ہوئی ہے یہ تو ایک یادو سنگھ پکڑا گیا ہے ناجانے کتنے یادو سنگھ اترپردیش کے اس علاقے میں سرگرم ہیں؟
(انل نریندر)

کیا ہم پاکستان کی فطرت کو نہیں سمجھتے؟

پاکستان کی فطرت سے ہمیں حیرانی نہیں ہونی چاہئے، نہ ہی ہمیں پاکستان کی ناپاک حرکت سے الجھن میں پڑنا چاہئے۔ ایک طرف پاکستان دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے ٹھیک اسی وقت اس کے وفادار دہشت گرد ہندوستانی سرحد پر حملہ کردیتے ہیں۔ جب اٹل جی وزیر اعظم تھے اور جب وہ لاہور بس دورہ پر گئے تھے تب بھی مشرف ہاتھ ملا رہا تھا اور ٹھیک اسی وقت کارگل میں دراندازی ہورہی تھی۔ کاٹھمنڈو میں سارک چوٹی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں نریندر مودی اور نواز شریف جب گرمجوشی سے ہاتھ ملا رہے تھے ٹھیک اسی وقت ہتھیاروں سے مسلح فوج کی وردی میں آتنک وادی سرحد کے پاس واقع ارنیا سیکٹر میں گولیاں برساتے، دستی گولے پھینکتے ہوئے فوج کے دو بنکروں میں گھس گئے۔ خالی بنکروں کا استعمال صرف جنگ کے دوران کیا جاتا ہے۔ حملے میں بٹالہ (پنجاب) کے باشندے وجے کمار سمیت تین شہری مارے گئے۔ اس کے بعد شروع ہوئی مڈ بھیڑ میں فوج نے4 آتنک وادیوں کو بھی مارگرایا۔ آتنک وادیوں اور سکیورٹی فورس کے درمیان جمعرات کی صبح سے جاری مڈ بھیڑ جمعہ کو اس وقت ختم ہوئی جب ہمارے فوجیوں نے آخری آتنکی کو مار گرایا۔ کیا ہم پاکستان کی فطرت کو نہیں سمجھتے ہیں یا جان بوجھ کر دوستی کی پینگیں بڑھانے کا بھرم پالتے ہیں؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا جنم ہندوستان مخالف نظریئے سے ہوا ہے ۔ اس نے شروع سے ہی بھارت مخالف گھٹی پی رکھی ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ کے اس بیان سے متفق نہ ہونا مشکل ہے کہ پاکستانی آتنکیوں کی دراندازی کو اتفاقی نہیں مانا جاسکتا۔ اس لئے اور بھی نہیں کیونکہ جب بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی طرح کی بات چیت یا لڑائی ہونا ہوتی ہے تب جموں و کشمیر میں کسی نہ کسی واردات کو انجام دے دیا جاتا ہے اور کچھ نہیں تو جنگ بندی کی خلاف ورزی ہونے لگتی ہے۔ ویسے بھی میاں نواز شریف کی یہ بھی مشکل ہے کہ وہ نام کے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں لیکن اصل طاقت تو پاکستانی فوج کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ان جہادیوں کے پالے ہوئے ہیں۔ ہتھیار سمیت سبھی طرح کی وہ سہولیات دیتی ہے اور وقت وقت پر ان کا بھارت کے خلاف استعمال کرتی ہے اور پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی اپنا کھیل کھیلتی رہتی ہے۔ یہ ماننے کی ٹھوس بنیاد ہے اور مناسب وجوہات ہیں کہ پاکستانی فوج کے اشارے پر ہی یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آتنک وادی ہندوستانی سرحد میں گھس آئیں اور پاکستانی فوج کو اس بارے میں کچھ پتہ نہ ہو ایسا کیسے ممکن ہے؟ پاکستانی فوج کی مدد اور حمایت کے بغیر تو آتنکوادیوں کی دراندازی ہونہیں سکتی پھر ایسے وقت جب جموں وکشمیر میں اسمبلی چناؤ ہورہے ہیں پاکستان جموں وکشمیر میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہے گا۔ ابھی تو پہلا مرحلہ پورا ہوا ہے چار مرحلوں کی پولنگ باقی ہے اس لئے ہمیں سرحد پر پوری چوکسی برتنی ہوگی۔ مستقبل قریب میں پاکستان کے ذریعے دراندازی اور دہشت گردانہ حملوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ جو بھی ہو بھارت کو پاکستان کے تئیں سختی برتنے کے ساتھ ساتھ سرحد پر فل الرٹ رکھنا ہوگا۔
(انل نریندر)

30 نومبر 2014

کیا بھاجپا جموں و کشمیر میں اپنے مشن44 میں کامیاب ہوسکتی ہے؟

جموں و کشمیر اسمبلی چناؤ میں اپنے مشن44 کو پورا کرنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ اترپردیش لوک سبھا چناؤ کے دوران پارٹی کے قومی پردھان امت شاہ کے ساتھ کام کرچکے تقریباً50 لیڈروں کو جموں و کشمیر میں لگایا گیا ہے۔ جب امت شاہ کو اترپردیش کی کمان سونپی گئی تھی تو وہ پارٹی کے سکریٹری جنرل ہوا کرتے تھے اور نیتاؤں کی فوج کی اوسط عمر30-40 سال کے درمیان ہے اور سبھی کا تعلق آر ایس ایس سے ہے کیونکہ یہ نیتا پہلے ہی امت شاہ کی رہنمائی میں اترپردیش لوک سبھا چناؤ کیلئے کام کرچکے ہیں اس لئے پارٹی اب جموں و کشمیر اسمبلی چناؤ میں ان کے تجربے کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ جموں وکشمیراسمبلی چناؤ اس بار کئی برسوں کے بعد دلچسپ ہونے والے ہیں۔ کانگریس و نیشنل کانفرنس ،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے بعد لوک سبھا چناؤ میں ریاست کی 6 میں سے3 سیٹیں جیتنے کے سبب بھاجپا کو بھی مضبوط دعویدار مانا جارہا ہے۔ علیحدگی پسندوں کے گڑ مانے جانے والے علاقوں میں بھی اس بار پوسٹر بینر وغیرہ کافی دکھائی دے رہے ہیں۔ 87 سیٹوں والی ریاست میں بھاجپا اپنے مشن 44 کے ساتھ اتری ہے۔ پارٹی کی بڑھتی سرگرمی سے پڑوسی پاکستان بھی حیرت میں ہے۔ وہاں کے میڈیا میں جموں و کشمیر اسمبلی چناؤکثیر طور پر چھایا ہوا ہے۔ اس لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا نے جموں، لداخ اور اودھم پور سے سیٹیں جیتی تھیں۔ان علاقوں کے تحت اسمبلی سیٹیں آتی ہیں۔ اکیلے جموں علاقے میں37 سیٹوں میں سے 25 اسمبلی حلقوں میں لوک سبھا چناؤ کے دوران پارٹی کو بڑھت ملی تھی۔ پارٹی مودی لہر کے بھروسے اس بڑھت کو بنائے رکھنے اور ان پر کامیابی حاصل کرنے کے فراق میں ہے۔ وادی میں ہے کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور ان کی باز آبادکاری مسئلے کو اٹھاتے ہوئے وہاں کی چار پانچ سیٹوں پر اپنی موجودگی درج کرانے کا نشانہ ہے۔ علیحدگی پسندوں اور حریت لیڈروں کے ذریعے چناؤ کے بائیکاٹ پر عمل کرنے کی سمت میں کشمیری پنڈتوں کے ووٹ کچھ چناوی حلقوں میں پارٹی کو اکثریت دلائیں گے۔ اگر سٹہ بازار پر یقین کیا جائے تو جموں و کشمیر میں بھاجپا سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔ ممبئی ۔ دہلی کے سٹہ بازوں نے اس سال مئی میں لوک سبھا چناؤ کے بارے میں بالکل صحیح پیش گوئی کی تھی اور وہ اتنی ہی نہیں بلکہ اکتوبر میں مہاراشٹر اسمبلی چناؤ کے بارے میں بھی اس کا اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا۔ اب سٹہ بازوں نے جموں و کشمیر کے چناؤ کے بارے میں پیشگوئی کی ہے اس کے مطابق بھاجپا پہلی بار مسلم اکثریتی کشمیر وادی میں کچھ سیٹیں جیت سکتی ہے۔ بی جے پی اگر جموں و کشمیر میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آتی ہے اور کسی طرح سے اپنا وزیر اعلی بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ پارٹی کیلئے تاریخی کارنامہ ہوگا۔ بی جے پی ابھی تک جموں اور لداخ کے حلقوں میں حاوی رہی ہے۔ اس بار وادی میں بھی اس کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سٹے بازوں کا کہنا ہے پہلی بار وادی کے نوجوان بی جے پی کی طرف راغب ہورہے ہیں اور جموں و کشمیر کے لوگوں کیلئے آج سب سے بڑا ذریعہ ٹورازم ہے۔ وزیر اعظم اور بی جے پی کے ورکر ریاست کو ٹورسٹ ہب بنانے کی تھیم پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس سے یہاں کے لوگوں کا بھروسہ مضبوط ہوا ہے۔ اگر مودی اور زیادہ ریلی کرتے ہیں تو اس کا فائدہ بھاجپا کو ملے گا۔2009 کے اسمبلی چناؤ میں نیشنل کانفرنس کو28 سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس کی حمایت سے سرکار بنانے میں کامیاب رہی تھی۔ پچھلے سال اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو محض17 سیٹیں ملی تھیں۔ پولنگ23 دسمبر کو ہونی ہے۔ پہلے مرحلے میں بھاری پولنگ سے بھاجپا کا جوش اور اعتماد بڑھا ہے۔ دیکھیں جموں و کشمیر میں کیا بھاجپا اگلی سرکار بنا سکتی ہے؟
(انل نریندر)

صرف11 روپے کے کھانے پر ہی رامپال پیٹ بھرنے کو مجبور!

جس کی ایک پلک جھپکتے ہی پیسے کی برسات ہوجائے اور اشارہ ہو تو لاکھوں کی عیش و آرام کی سہولیات سرخم ہوکر پیروں میں پسر جائیں، منہ سے لفظ نکلنے سے پہلے تمام وسائل میسر ہوجائیں آج کل وہ رامپال محض11 روپے خرچ کرکے زندگی بسر کررہا ہے۔یہ کوئی اور نہیں کروڑوں روپے کی جائیداد اکھٹا کرنے والا ستلوک آشرم کا مالک رامپال ہے۔ حوالات میں بیٹھے رامپال پرجیل کے قواعد کے مطابق دن میں 11 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ایک وقت میں صرف ساڑھے پانچ روپے کی غذا اسے دستیاب کرائی جاتی ہے اس میں دال پانی کے گھول میں مرچ اور نمک ملا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ چار روٹیاں دی جاتی ہیں اس میں سے بھی رامپال صرف ایک روٹی ہی کھاتا ہے۔صبح ساڑھے گیارہ بجے حوالات میں سلاخوں کے نیچے سے تھالی رامپال کی طرف بڑھا دی جاتی ہے۔ یہی سلسلہ شام کے وقت دوہرایا جاتا ہے۔ ہریانہ پولیس نے 6 دن کے ریمانڈ کے بعد رامپال کو اس کے دیگر آشرموں کی جانکاری اور ماضی گذشتہ میں دئے گئے بیانوں پر اس سے پوچھ تاچھ شروع کی ہوئی ہے۔ پولیس رامپال کے مدھیہ پردیش کے علاقے بیت الآشرم کے علاوہ دیگر کئی مقامات پر لے جانے والی ہے۔ پولیس اس کے بیحد نزدیکی حمایتیوں کو آمنے سامنے بٹھا کر اہم معلومات لے رہی ہے۔ اسی دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پولیس اور نیم فوجی فورس پر گولیاں چلانے والے رامپال کے پرائیویٹ کمانڈو و رامپال کے بیٹوں اور اس کے داماد کے اشاروں پر کام کررہے تھے۔ یہ تینوں رامپال کی کور کمیٹی کے ممبروں کے ذریعے بنائے گئے پانچ ممبروں کے گروپ میں شامل تھے۔ یہ انکشاف ایس آئی ٹی کی جانچ سے سامنے آیا ہے۔ حالانکہ گروپ کے سبھی ممبر ابھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ اس کا خلاصہ ابھی رامپال کے نزدیکی رام کمار ڈھکا،بلجیت اور پرشوتم نے ریمانڈ کی میعاد بڑھانے کے دوران کیا۔ ایس آئی ٹی کے ممبر و سی آئی اے کے انچارج مکیش کمارنے بتایا کہ پولیس انتظامیہ کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنے والے رامپال کے نجی کمانڈوں رامپال کے بیٹے ویریندر ،منوج کمار اور داماد سنجے فوجی کے احکامات پر کام کررہے تھے۔ ان کی ہدایتوں کے بعد ہی پرائیویٹ کمانڈو نے پولیس فورس پر فائرننگ شروع کی تھی۔ کور کمیٹی کی جانب سے ہتھیاروں اور نجی کمانڈو کے انتظام کے لئے اس گروپ کو رقم مہیا کرائی جاتی تھی۔ پولیس کا خیال ہے کہ ان پانچوں ملزمان کی گرفتاری کے بعد معاملے کی تہہ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ بیشک تھانے میں رامپال پر روزانہ 11 روپے خرچ ہوں لیکن حوالات تک لے جانے میں اس پر 17 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یہ خرچ صرف رامپال کی گرفتاری کیلئے آشرم کے باہر ہریانہ پولیس کے ڈیرا ڈالنے کا ہے۔ پنجاب سرکار کو بھی قریب ساڑھے چار کروڑ روپے کا خرچ اٹھانا پڑا ہے۔ بہرحال رامپال کے عیش و آرام کی سزا جیل میں معمولی کھانا دے کردی جا رہی ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...