30 ستمبر 2017

سنہا نے پانی میں کنکڑ پھینکے۔ اپوزیشن کے سرسے ملایا سر

بی جے پی کے رہنما یشونت سنہا نے اپنی پارٹی اور حکومت کو معیشت پر ایک مضمون بم پھینکنے کی طرف سے دفاعی پوزیشن میں لایا ہے. نہ صرف اس نے، انہوں نے حزب اختلاف کو مودی حکومت پر حملے کو تیز کرنے کا موقع دیا ہے. حزب اختلاف کی جماعتوں اور وزیر اعظم کے مخالفین نے ان کی بدعنوانی کا اظہار کیا ہے. وہ بہت سارے سوشل میڈیا پر بھی رعایت کی جا رہی ہیں. سنہا کا آرٹیکل ایک ایسے وقت میں شائع کیا گیا ہے جب ملک کی معیشت اسلحہ پر ہے اور حزب اختلاف خاص طور پر مرکزی حکومت کی اہمیت رکھتا ہے. سنہا کا خیال ہے کہ ہندوستانی معیشت نے فتنہ کیا ہے اور مالی بدانتظامی، رساو اور جی ایس ایس کے غریب اعدام میں حقیقی اقتصادی ترقی کی شرح 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے. انہوں نے کہا ہے کہ اب تک مالیاتی وزیر کے لبرلائزیشن کو سب سے زیادہ خوش قسمت فنانس کے وزیر سے، خام تیل کی قیمت اس وقت میں گر گئی. اس کا فائدہ اٹھانا، غیر اعدام دار اثاثوں (این پی اے) منصوبوں کو کنٹرول اور روک دیا جا سکتا ہے منصوبوں کو مکمل کیا جا سکتا ہے. سرکاری اعداد و شمار میں جی ڈی پی کی موجودہ شرح 5.7 فیصد ہے، لیکن حقیقت میں یہ 3.7 فیصد ہے. مودی حکومت نے 2015 میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح کو ماپنے کے طریقوں میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے اعداد و شمار 5.7 فیصد ہے. یشونت سنہا کے تبصرے کو کورس حکومت کے وزیر اور تنظیم ان مایوسی اور جھنجھلاہٹ بتا کر ٹال دیں پر آج جو ماحول ہے اس کو کس طرح منسوخ کر سکتے ہیں. اگر یشونت سنہا ذاتی وجوہات حکومت پر حملہ بول رہے ہیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحادی تنظیم بھارتی مزدور یونین کیا کہہ رہا ہے کچھ پر تو نوٹ. بھارتی مزدور یونین (بییمایس) نے معیشت میں کساد بازاری کے لئے حکومت کی غلط پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے دو دن پہلے کہا کہ موجودہ اقتصادی حالات پر غور کرنے کے لئے تمام سماجی و اقتصادی اطراف گول میز کانفرنس بلایا جائے. یونین کے لیبر آرگنائزیشن بی ایم ایس اور سوڈیشی جاگان مانچ کھلی طور پر حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا مقابلہ کرتے ہیں. حال ہی میں ریاضی میں یونین ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں، دونوں تنظیموں نے حکومت پر تنقید کی. آج، لیبر یونین، یشونت سنہا کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مشیروں اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے، معیشت سست ہو گئی ہے. سنگھ کے جنرل سیکریٹری برجش اپدیہی نے کہا کہ حکومت کی اصلاحات گمراہ ہوگئیں. کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے بدھ کو گجرات کے خوبصورت شہر ضلع میں چوٹلا کے قریب ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر عام لوگوں کی حالت زار کو نظر انداز کرنے اور کچھ لوگوں کے مفاد کا خیال رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یشونت سنہا کے اب مجھے اس آرٹیکل کی حمایت کیلئے عنوان مضمون پر بات کرنی ہوگی. راہل نے کہا کہ میں بی جے پی کے سینئر یشونت سنہا سے ایک مضمون پڑھتا ہوں. انہوں نے لکھا ہے کہ مودی جی اور جیٹلی نے ہندستانی معیشت کو تباہ کر دیا ہے. یہ میری رائے نہیں ہے، یہ بی جے پی رہنما کی رائے ہے. مودی کی گھر کی ریاست اس سال منعقد ہوگی. کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ: بی جے پی کے رہنماؤں کو معلوم ہے کہ ملک سخت بحران کے دوران جا رہی ہے، لیکن کوئی بھی بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ وہ مودی سے ڈرتے ہیں. گاندھی نے دعوی کیا کہ ملک کی معیشت مشکل میں ہے کیونکہ بی جے پی کی حکومت عام لوگوں کو نہیں سنتی ہے. وزیر اعظم کے من کی بات پروگرام پر چٹکی لیتے ہوئے گاندھی نے کہا ? یہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ بی جے پی حکومت نے کسانوں، نوجوانوں، کارکنوں، تاجروں اور عورتوں کی کبھی سنی ہی نہیں، جو اس ملک کو چلاتے ہیں. بی جے پی کے لوگ صرف کاروباری لوگوں کو (بڑا) سنتے ہیں اور اس کے بعد ان لوگوں کے دماغ کے بارے میں بات کرتے ہیں. سینئر کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی حکومت کو مارا اور کہا کہ حکومت اقتصادی خرابی سے واقف نہیں تھی. پارلیمنٹ سے صنعت کاروں سے، معیشت غریب صحت کے بارے میں فکر مند ہے. لیکن اس حکومت کا خوف کھلا نہیں ہوا ہے. انہوں نے ان تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ انہیں اپنے دماغ کو حالت میں رکھنا چاہیے، انہیں خوف سے چھوڑ دینا چاہیے. یشونت سنہا بھی پانی میں کتے کو پھینک دیا ہے. ملاحظہ کریں کہ پانی میں کتنے پتھر لگتے ہیں، دیکھیں. انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ خوف ہے کہ اگر حکومت اپنی مکمل طاقت کو پورا کرتی ہے تو، معیشت 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں واپس نہیں آسکتی ہے. بی جے پی نیشنل ایگزیکٹو کے فورا بعد، پارٹی کے اعلی کمانڈر پارٹی کے اندر دو دن کے اندر مودی حکومت پر حملے کے بعد بھی ترجیح نہیں دے رہی ہے. لیکن پارٹی میں تکلیف ضرور ہوگی. پارٹی میں خوف ہے کہ آنے والے دنوں میں، کچھ اور ناراض رہنماؤں کو اپنی آوازیں اٹھا سکتی ہیں. اگر ایسا ہوتا ہے تو غلط پیغام عوام میں ہوسکتا ہے. تاہم، یہ پارٹی کی قیادت کی قیادت کی طرف سے اشارہ کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ ابھی تک حکومت کے کام میں انگلی لے رہے ہیں مایوس ہیں کیونکہ انہیں کوئی دفتر نہیں مل سکا. بی جے پی کے ذرائع کے مطابق، پارٹی میں کسی بھی شخص کو اس مسئلے کو کھولنے کے لئے تیار نہیں ہے. لیکن پارٹی میں رہنماؤں کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جس کا خیال ہے کہ پہلے ورون گاندھی کا روہنگیا کے معاملے میں پارٹی سے علیحدہ لائن لینا اور پھر یشونت سنہا کی کھل کر مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر حملہ کرنے سے پارٹی میں ناراض رہنماؤں کو طاقت ملے گی. لہذا اب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں، ایک بار پھر حکومت کی مالی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے اور زیادہ کھل کر بولنے لگیں گے۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق، یشونت سنہا کے مضمون سے کوئی بڑا فرق نہیں ہے لیکن یہ عوام اور دیگر اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس کو یہ مومقعہ نہیں چھوڑے گی۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ گجرات اسمبلی چناؤ ہونے جا رہے ہیں پارٹی کو فکر یہی ہے کہ یشونت سنہا کے اس باغی رخ کی دیکھا دیکھی دوسرے نیتا بھی اپنے رنگ نہ دکھنانے لگیں اگر ایسا ہوا تو یہ سلسلہ لمبا ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک مودی سرکار کے کا م کاج اور اپنی بے رخی سے نا راض رہنے والے نیتا موقعہ دیکھ کر اپنی خاموشی توڑ سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

29 ستمبر 2017

چھوٹی لڑکی سے دنیا کی سب سے طاقتور خاتون انجیلا مرکل

انجیلا مرکل چوتھی مرتبہ جرمنی کی کمان سنبھالنے کوتیار ہیں۔ برلن کے پاس چھوٹے سے گاؤں میں پلی بڑھی مرکل آج دنیا کی سب سے طاقتور خواتین میں سے ایک ہیں۔ سیاسی کیریئر میں اتھل پتھل کے درمیان ان کا قد بڑھتا ہی گیا۔ کبھی جس خاتون کو چھوٹی لڑکی کہہ کر نظرانداز کیاگیا۔ آج وہی دنیا کی سب سے طاقتور خاتون مانی جاتی ہیں۔ بیشک جرمنی کے عام چناؤ کے نتیجے ایک معنی میں اندازے کے مطابق ہی آئے ہیں، تو ایک حدتک چونکانے والے بھی کہے جاسکتے ہیں۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کی پارٹی سی ڈی یو (کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی) اور ان کی اتحادی پارٹی سی ایس یو (کرسچن سوشل یونین) کے اتحاد کی جیت یا بڑھت طے مانی جارہی تھی، نتیجہ بھی ویسا ہی آگیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ مرکل کی مقبولیت برقرار ہے لیکن غور طلب ہے کہ سی ڈی یو اور سی ایس یو اتحادکو 33 فیصد ہی ووٹ مل پائے جو کہ دہائیوں میں اس کا سب سے کم ووٹ فیصد ہے۔ مرکل کی پارٹی اور ان کی اتحادی جماعت کو 32.8 فیصد ووٹ ملے اور جرمنی کی بڑی پارٹی (اپوزیشن) یعنی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کو محض 20.7 ووٹ ملے ہیں۔ یہ اس لئے اہم ہے کہ دونوں کے ووٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ حکمراں اتحاد کو 8.7 فیصد کا نقصان ہوا ہے تو ایس پی ڈی کو بھی 5 فیصد ووٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جرمنی کی سیاست میں ان دونوں کیندر کے علاوہ بھی کئی دھرو کھڑے ہورہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جرمنی میں جتنے بھی چناؤ ہوئے ان میں سی ڈی یو اور ایس پی ڈی یہی دونوں پارٹیاں چھائی رہیں لیکن تازہ چناؤ نتیجے دیکھیں تو قریب 46 فیصد ووٹروں نے دیگر پارٹیوں کو ووٹ دینا پسند کیا اور یہ بھی قابل غور بات ہے کہ کٹر دکشن پنتھی اے ایف ڈی کو 13 فیصدی ووٹ ملے ہیں اور اسی کے ساتھ وہ جرمنی کی تیسری سب سے بڑی سیاسی طاقت کی شکل میں ابھری ہے۔ مرکل کے اتحاد کو اکثریت نہیں ملی ہے۔ اس مینڈیٹ کی ایک تشریح یہ ہے کہ مرکل کے مخالف گروپ دکشن پنتھی اور جارحانہ پسند راشٹروادیوں نے جو کمپین کی اس کا جنتا کے ایک طبقے پر اثر ہوا ہے ورنہ ووٹوں میں اتنی کمی کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ دراصل مرکل نے شام کے پناہ گزینوں کے تئیں جو مثبت رخ اپنایا اس سے اس کی مخالفت بڑھی ہے۔ اگر ان کی پارٹی چناؤہار جاتی تو اس کی بڑی وجہ یہی مانی جاتی کہ مرکل کے لئے ایک بڑی چنوتی یہ بھی ہوگی کہ اسلام مخالف گروپ دکشن پنتھی پارٹی آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) پہلی بار پارلیمنٹ میں پہنچ گئی ہے۔ 13 فیصدی ووٹ لیکر اے ایف ڈی تیسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ 2015 میں 10 لاکھ پناہ گزینوں کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دینے کے سبب ایف ڈی کے نیتا چانسلر میرکل کو دیش دروہی کہتے رہے ہیں۔ پارٹی نے مرکل کی امگریشن و پناہ گزیں پالیسی کو لیکر ان سے بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اب آگے اقتدار چلانے کیلئے مرکل اتحاد کو دوسری پارٹیوں سے تال میل کرنا پڑے گا۔ بریگزٹ کے نتیجے اور امریکہ کی کمان ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں آنے سے یوروپی یونین کے تمام لیڈر دقت محسوس کرتے رہے ہیں اس لئے بھی مرکل کو لیکر جرمنی ہی نہیں سارے یوروپ میں ایک امید کا احساس پیدا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جرمنی کے پارلیمانی انتخابات پر بڑی دلچسپی سے لی جارہی تھی۔ مرکل کو پھر ایک عہد ملنے سے یوروپی یونین نے راحت کی سانس ضرور لی ہوگی لیکن جبکہ یوروپ میں بے یقینی ماحول ہے اس سے جرمنی کمزور ہوگا۔ کیا نتیجہ لائے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ یوروپی یونین کو بنائے رکھنے کے لئے مضبوط اور طاقتور ہونا انتہائی ضروری ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ تازہ سیاسی مجبوریوں کے چلتے چانسلر انجیلا مرکل دیش کو کتنی مضبوطی فراہم کر پاتی ہیں؟
(انل نریندر)

آتنکوادیوں کو زمین کے ڈھائی فٹ نیچے گاڑھ دیں گے

جموں و کشمیر میں جموں سمانگ کے چناب ویلی خطے میں دہشت گردوں کے قدم ایک بار پھر تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ بانیہال کے ایس ایس بی کیمپ پر ہوا آتنکی حملہ اسی کڑی کا حملہ بتایا جارہا ہے۔ ادھر فوج نے جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے اوری میں پچھلے سال ہوئے حملہ کو دوہرانے کی سازش کو ناکام کرتے ہوئے ایتوار کو تین دہشت گردوں کو مار گرایا۔ مڈ بھیڑ کے دوران ایک فوجی اور تین شہری زخمی ہوگئے۔ ادھر بارہمولہ کے سوپور علاقہ میں ہوئے دستی بم حملہ میں تین سیکورٹی فورس کے جوان زخمی ہوگئے۔ دہشت گردوں نے پچھلے برس کی طرح اری میں ایک فوجی کیمپ پر حملہ کو انجام دینے کی سازش رچی تھی۔ ایک بڑی سازش کو ناکام کردیا گیا۔ پچھلے برس ایک فوجی اڈے پر فدائی حملے کی طرح دہشت گردوں نے اس بار بھی سازش رچی تھی، لیکن پولیس اور فوج کے ہاتھ یہ خبر پہلے ہی لگ گئی تھی۔ فوج نے دہشت گردوں کے خلاف جارحانہ رخ اپنا رکھا ہے۔ اس سختی سے ہی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال اب تک جموں و کشمیر میں 144 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔یہ تعداد اس دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے پہلے 2016 میں 150 آتنکی مارے گئے تھے لیکن یہ تعداد پورے سال کی تھی اس کے علاوہ سیکورٹی فورس نے کئی نامی دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں کامیابی پائی ہے۔ فوج کے سربراہ میجر جنرل وپن راوت نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک کا مقصد پاکستان کو پیغام بھیجنا تھا۔ ان کا کہنا ہے اگریہ پھر بھی نہیں سمجھتے تو ہم پھرسے کنٹرول لائن کے پار جاکر سرجیکل اسٹرائیک کرنے کے لئے تیارہیں۔ اس کے ساتھ ہی فوج نے سرحد پار کے دہشت گردوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ سرحد کے اس پار جو آتنکی ہیں وہ تیار بیٹھے ہیں، ہم بھی ان کے لئے اس طرف سے تیاربیٹھے ہیں۔ اس کے پہلے بھی فوجی چیف نے فوجی دوس کے موقعہ پر (15 جنوری) کو کہا تھا کہ بھارت شانتی چاہتا ہے، لیکن شانتی کو بھنگ کیا جاتا ہے تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دہلی چھاؤنی میں منعقدہ پروگرام میں جنرل راوت نے کہا کہ نئی دہلی کے خلاف پراکسی جنگ کو دئے جارہے تعاون کے باوجود بھارت امن چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بیان پاکستان کا نام لئے بغیردیا ہے۔ میجرجنرل راوت نے دو ٹوک کہا کہ ہم دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں لیکن ہم امن بحالی میں خلل ڈالنے والوں کو وارننگ دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی طاقت کا اچھی طرح سے مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا آتنک وادی سمجھ لیں کہ اگر وہ سرحد پار سے ہمارے خطے میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم ان کا انتظار کررہے ہیں اور ان آتنک وادیوں کو بھی زمین کے ڈھائی فٹ نیچے گاڑھ دیا جائے گا۔
(انل نریندر)

28 ستمبر 2017

ایک اور قلم کا سپاہی شہید ہوا

ایک اور صحافی قتل کردیا گیا ہے۔ سینئر صحافی کے جے سنگھ (69) و ان کی ماں گورچرن کور (92) کا ان کے موہالی میں واقع مکان میں قتل کردیا گیا۔ کے جے سنگھ کے پیٹ و گلے پر چاقوں سے حملہ کیا گیا جبکہ ان کی ماں کو گلا دبا کر مارا گیا۔ دونوں کی لاشیں الگ الگ کمروں میں پڑی ملیں۔ قاتل کے جے سنگھ کی 20 سال پرانی ہرے رنگ کی فورڈ آئیکان کار اور ایل ای ڈی بھی لے گئے۔ چنڈی گڑھ میں انڈین ایکسپریس، دی ٹریبون اور ٹائمس آف انڈیا کے سابق نیوز ایڈیٹر کا قتل پروفیشنل قاتلوں نے کیا ہوسکتا ہے۔ جناب سنگھ کے جسم پر 14-16 چاقو مارے جانے کے نشان تھے۔ ایک نشان تو ان کے دل کے قریب تھا۔ ان کے داہنے ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹی ہوئی تھیں۔ گذشتہ کچھ دنوں سے کئی صحافیوں کے قتل کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق جانچ کو بھٹکانے کے لئے لٹیرے گھر سے ٹی وی اور کار لے گئے ہیں کیونکہ گھر کا قیمتی سامان گھر میں ہی پڑا ہے۔ یہاں تک کہ کے جے سنگھ کے گلے میں سونے کی چین اور ماں گورچرن کور کا سارا سونا بھی ویسے ہی پڑا تھا۔ کے جے سنگھ نے گھر میں ہی اسٹوڈیو بنا رکھا تھا۔ ان کا لیپ ٹاپ اور کیمرہ بھی لٹیرے نہیں لے کر گئے۔ یہ حادثہ گذشتہ شنی وار کو ہوا۔ پنجاب، ہریانہ اور مرکز کے زیر انتظام علاقے چنڈی گڑھ میں میڈیابرادری نے ان مبینہ قتلوں کی سخت مذمت کی ہے اور مجرموں کی فوری گرفتاری کی مانگ کی ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ کے حکم پر پنجاب پولیس نے اس قتل کی جانچ کے لئے آئی جی (جرم) کی رہنمائی میں خصوصی جانچ ٹیم بنائی ہے۔ پولیس کو شک ہے کہ کسی نا معلوم مقصد کیلئے ان کا قتل کیا گیا ہے۔ گوری لنکیش اور آسام میں ٹی وی صحافی کے قتل کے بعد اب کے جے سنگھ کا قتل؟ صحافیوں پر ہورہے لگاتار حملوں کو دیکھتے ہوئے 2 اکتوبر کو نئی دہلی میں صحافی پرامن دھرنا دیں گے۔ پریس کلب آف انڈیا، انڈین وومن پریس کارپس، پریس ایسوسی ایشن اور فیڈریشن آف پریس کلب نے مل کر یہ ریزولوشن پاس کیا۔ بیٹھک میں مانگ کی گئی کہ صحافیوں کے قتل اور انہیں دھمکانے جیسے معاملوں میں تمام ریاستی سرکاریں قانون کے تحت پابندی وقت کے ساتھ ایکشن لیں۔ اس دوران صحافیوں پر لگاتار حملے کو لیکر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جمہوریت پر حملہ قرار دیا گیا ہے پھر چاہے وہ سوشل میڈیا پر دھمکی ہو یا پٹائی ہو یا پھر قتل ہو۔ صحافیوں نے بیٹھک کے دوران آواز اٹھائی کے زیادہ تر صحافی بنا کسی سوشل تحفظ کے جی رہے ہیں۔ پنشن ، ہیلتھ بیمہ جیسی سہولیات بھی انہیں نہیں ملتیں۔ زیادہ تر صحافی اپنے خاندان میں اکیلے کمانے والے ہیں۔ صحافیوں پر حملہ پریس کی آزادی پر سیدھا حملہ ہے جسے روکنے کی سخت ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

وہ لڑائی جب چین پر بھارت بھاری پڑا!

جب ڈوکلام میں چین اور بھارت کی فوجیں آمنے سامنے تھیں تو چینی میڈیا بار بار بھارت کو یاد دلاتا تھا کہ 1962 میں چین کے سامنے بھارتیہ فوجیوں کی کیا گت ہوئی تھی۔ چین کے سرکاری میڈیا نے کبھی بھی پانچ سال بعد 1967 میں ناتھولا میں ہوئے اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا جس میں اسے بھارت نے دھول چٹائی تھی۔ 1962 کی لڑائی کے بعد بھارت اور چین نے ایک دوسرے کے یہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لئے تھے۔ دونوں راجدھانیوں میں ایک چھوٹا مشن ہی کام کررہا تھا۔ اچانک اپنی عادت سے مجبور چین نے الزام لگایا کہ بھارتیہ مشن میں کام کررہے دو ملازم بھارت کے لئے جاسوسی کررہے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں کو فوراً اپنے یہاں سے نکال دیا۔ چین یہیں پر نہیں رکا۔ وہاں کی پولیس اور سیکورٹی فورس نے بھارت کے سفارتخانے کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اس کے اندر اور باہر جانے والے لوگوں پر روک لگادی۔ بھارت نے بھی چین کے ساتھ وہی سلوک کیا۔ یہ کارروائی 3 جولائی 1967 کو شروع ہوئی اور اگست میں جاکر دونوں ملک ایک دوسرے کے سفارتخانوں کی گھیرابندی توڑنے کے لئے راضی ہوئے۔انہی دنوں چین نے شکایت کی کہ بھارتیہ فوجی ان کی بھیڑوں کے ریوڑ کو ہانک کر بھارت میں لے گئے ہیں۔ اس وقت حزب اختلاف کی ایک پارٹی بھارتیہ جن سنگھ نے اس کی عجیب و غریب ڈھنگ سے مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اٹل بہاری واجپئی جو بعد میں بھارت کے وزیر اعظم بنے ، چین کے نئی دہلی میں شانتی پتھ سفارتخانے میں بھیڑوں کے ایک جھنڈ کو لیکر گھس گئے۔ اس سے پہلے 1965 میں بھارت۔ پاکستان جنگ میں جب بھارت پاکستان پر بھاری پڑنے لگا تو پاکستان کے صدر ایوب خان خفیہ طریقے سے چین گئے اور انہوں نے چین سے گزارش کی ہے پاکستان پر دباؤ ہٹانے کیلئے وہ بھارت پر فوجی دباؤ بنائے۔ لیڈر شپ ان دی انڈین آرمی کے مصنف میجر جنرل وی کے سنگھ بتاتے ہیں : اتفاق سے میں ان دنوں سکم میں ہی تعینات تھا۔ چین نے پاکستان کی مدد کرنے کے لئے بھارت کو ایک طرح سے الٹی میٹم دیا کہ وہ سکم کی سرحد ناتھولہ اور جیلے پلا کی سرحدی چوکیاں خالی کردے۔ اس وقت ہماری اہم سیکورٹی لائن وہیں پر تھی اور ہیڈ کوارٹر کے چیف جنرل نے جنرل سنگت سنگھ کوحکم بھی دے دیا کہ ان چوکیوں کو خالی کردیجئے لیکن جنرل سنگت نے کہا کہ انہیں خالی کرنا بہت بڑی بیوقوفی ہوگی۔ ناتھولہ اونچائی پر ہے اور وہاں سے چینی علاقے میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر نظر رکھی جاسکتی ہے ۔ اگر ہم اسے خالی کردیں گے تو چینی آگے بڑھ جائیں گے اور وہاں سے سکم میں ہورہی ہر سرگرمی کو صاف صاف دیکھ پائیں گے۔ ناتھولہ کو خالی کرنے کے بارے میں فیصلہ لینے کا اختیار میرا ہوگا۔ میں ایسا نہیں کرنے جا رہا۔ دوسری طرف 27 ماؤنٹین ڈویژن نے جس کے دائرہ اختیار جیلپ آتا تھا وہ چوکی خالی کردی۔ چین کے فوجیوں نے فوراً آگے بڑھ کر اس پر قبضہ کرلیا۔ یہ چوکی آج تک چین کے قبضے میں ہے۔ اس کے بعد چینیوں نے 17 آسام رائفل کی ایک بٹالین پر گھات لگا کر حملہ کردیا جس میں اس کے دو فوجی مارے گئے۔ سنگت سنگھ اس پر بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے اسی وقت طے کرلیا کہ موقعہ آنے پر اس کا بدلہ لیں گے۔ اس وقت ناتھولہ میں تعینات میجر جنرل تھیرو تھپلیال لکھتے ہیں : ناتھولہ میں دونوں فوجوں کے درمیان سرحد پر گشت کے ساتھ دھکا مکی و دونوں ملکوں کے فوجیوں کے بیچ تو تو میں میں ہونے لگی۔ 6 دسمبر 1967 کو بھارتیہ فوجیوں نے چین کے پولیٹیکل کمشنر کو دھکا دے کر 1962 کا خوف نکال دیا۔ بھارت کی سخت مخالفت کا اتنا اثر ہوا کہ چین نے بھارت کو یہاں تک دھمکی دی کہ وہ اس کے خلاف اپنی ہوائی فوج کا استعمال کرے گا لیکن بھارت پر اس دھمکی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اتنا ہی نہیں 15 دنوں بعد اکتوبر 1967 کو سکم میں ہی ایک اور جگہ بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان ایک اور بھڑنت ہوئی اس میں بھی بھارتیہ فوجیوں نے چین کا زبردست مقابلہ کیا اور ان کے فوجیوں کو تین کلو میٹراندر بیرکس تک دھکیل دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب15 ستمبر 1967 کو لڑائی رکی تو مارے گئے بھارتیہ فوجیوں کی لاشوں کو حاصل کرنے کیلئے سرحد پر اس وقت پوربی کمان کے چیف فوجی افسر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا اور جنرل سنگت سنگھ موجود تھے۔ انڈین ایکسپریس کے ایسوسی ایٹیڈ ایڈیٹر سوشانت سنگھ بتاتے ہیں کہ 1962 کی لڑائی میں چین کے 740 فوجی مارے گئے تھے۔ یہ لڑائی قریب ایک مہینے چلی تھی اور اس کا علاقہ لداخ سے لیکر اروناچل پردیش تک پھیلا ہوا تھا اگر ہم مانیں کہ 1967 میں بھارت۔ چین جنگ میں چینیوں کو300 فوجیوں سے ہاتھ دھونا پڑا یہ بہت بڑی تعداد تھی۔ اس لڑائی کے بعد کافی حد تک 1962 کا خوف نکل گیا۔ بھارتیہ فوجیوں کو پہلی بار لگا کہ چینی بھی ہماری طرح ہیں اور وہ پٹ سکتے ہیں اور ہار سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

27 ستمبر 2017

آخر بی ایچ یو طالبات کا قصور کیا تھا

بنارس ہندو یونیورسٹی میں سنیچر کی رات طالبعلم و طالبات پر جو پولیس کا لاٹھی چارج ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر ٹھیک وقت پر اس سے نمٹ لیا جاتا تو یہ حالات نہیں بنتے۔ واردات کی شروعات اس وقت ہوئی جب یونیورسٹی کمپلیکس میں طالبات سے بڑھتے چھیڑ خانی کے واقعات کے خلاف یونیورسٹی کے طلبا جمعرات سے ہی احتجاجی مظاہرے کررہے تھے۔ اس احتجاجی مظاہرے کی شروعات اس وقت ہوئی جب آرٹ فیکلٹی کی ایک طالبہ اپنے ہوسٹل لوٹ رہی تھی۔ موٹر سائیکل پر سوار تین لوگوں نے مبینہ طور پر اس سے چھیڑ چھاڑ کی۔ شکایت کنندہ کے مطابق جب اس نے ان کی کوششوں کی مذاحمت کی تو تینوں لوگوں نے اس کے ساتھ گالی گلوچ شروع کردی اور بھاگ گئے۔ طالبہ نے الزام لگایا کہ موقعہ واردات سے تقریباً 100 میٹر دور موجود سیکورٹی گارڈوں نے ان لوگوں کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس نے اپنے سینئر طلبا ساتھیوں کو اس بارے میں بتانے کی جگہ وارڈن کو واقعہ کی جانکاری دی۔ وارڈن نے اس پر اس سے الٹا پوچھا کہ وہ اتنی دیر سے ہوسٹل کیوں لوٹ رہی تھی۔ وارڈن کے جواب نے طالبہ کے ساتھیوں کو ناراض کردیا۔ وہ جمعرات کو کمپلیکس کے مین گیٹ پر دھرنے پر بیٹھ گئی۔ احتجاجی مظاہرے نے سنیچر کی رات تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ رات میں پولیس نے لڑکیوں پر لاٹھی چارج کیا جس میں کچھ طالبات لڑکیوں سمیت کئی طلبہ اور دو صحافی زخمی ہوگئے۔ اس دوران آگ زنی بھی ہوئی۔ یونیورسٹی کمپلیکس میں طالبات کے ساتھ سرے رائے چھیڑ خانی، بھدے اور قابل اعتراض فقرے اور کپڑے اتارنے جیسی گھناؤنی حرکت روزانہ کی بات بن گئی ہے۔طلبا کی مانگ رہی کہ سب حرکتوں پر یونیورسٹی انتظامیہ (پراکٹر) اور وائس چانسلر جی سی ترپاٹھی سے روک لگانے کی مانگ کی تھی جسے ہر کسی نے ان سنا کردیا ۔ نہ تو یونیورسٹی کی سیکورٹی کے لئے معمور سیکورٹی جوانوں نے طالبات کو محفوظ ہونے کا بھروسہ دلایا نہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے معاملہ کو سنجیدگی سے لیا۔ آندولن کررہی طالبات سے ملنا تک مناسب نہیں سمجھا۔ مجبوراً طالبات کو سڑکوں پر اترنا پڑا۔ اگر طالبات کی تکلیف کو منصفانہ نظریئے سے دیکھیں تو ان کی مانگیں بدامنی اور سیاسی اغراض پر مبنی کیسی ہوسکتی ہیں؟ بچیوں کی بس تین چار ہی مانگیں تھیں ہوسٹل میں آنے جانے والا راستہ محفوظ ہو، سیکورٹی افسر کی تعیناتی ہو، چھیڑ چھاڑ کے واقعات کو روکنے کیلئے سنجیدگی سے کوششیں ہوں اور آنے جانے والے راستوں خاص کر ہوسٹل والے راستوں پر سی سی ٹی وی سے نگرانی ہو وغیرہ وغیرہ۔ ان مانگوں میں بدامنی اور قابل اعتراض کیا ہے؟ بجائے اس کے طالبات کی جائز مانگیں ماننے سے الٹا ان پر ہی سیاسی اغراض پر مبنی ہونے کا الزام لگادیا گیا۔ جس یونیورسٹی کوباوقار تاریخ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے وہاں اپنی سیکورٹی کے لئے میمورنڈم سونپنا اور دھرنا دینا ڈسپلن شکنی ہے تو پھر ہمیں کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں بچتا۔یہ واردات کا سلسلہ اس لئے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ یہ وزیر اعظم کے پارلیمانی حلقہ بنارس میں ہوا ۔ جب وہ خود اور وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی وہاں موجود تھے۔ سیدھے طور پر کوتاہی اور انتظامیہ کی ناکامی اور لاچاری ، اکھڑ پن، افسران کے ذریعے بے توجہی سے نمٹنا و ذمہ داری سے بچنے کا معاملہ ہے۔ ہم تو وائس چانسلر ، پراکٹر کو سیدھے ذمہ دار مانتے ہیں۔ بیشک یوگی آدتیہ ناتھ نے تین ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ اور دو پولیس ملازمین کو ہٹا دیا ہو لیکن اصل قصوروار تو وائس چانسلر، پراکٹر اور یونیورسٹی انتظامیہ ہے، ان پر کیا کارروائی ہورہی ہے؟ ’بیٹیوں کے ہاتھوں مستقبل ‘اور’ بیٹی پڑھاؤ ۔بیٹی بچاؤ‘ جیسے کیا صرف نعرے ہیں؟
(انل نریند)

کروڑوں لوگوں کی لائف لائن ان ندیوں کو بچاؤ

کروڑوں لوگوں کی لائف لائن و روزی روٹی و سیاحتی کشش کی جگہ رہیں بھارت کی ندیاں آج اپنے سنہرے ماضی کی چھایہ بن کر رہ گئی ہیں۔ لگاتار سوکھتے جانے سے اس کے پاٹ سکڑنے لگے ہیں۔ آلودگی نے انہیں میلا کردیا ہے اور کہیں کہیں ندیوں کا پانی پینے تو کیا نہانے کے لائق بھی نہیں رہ گیا ہے۔ ایسے میں یہ خوشی اور تشفی کی بات ہے کہ آخر کسی نے تو ندیوں میں نئی روح ڈالنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ دنیا کی مشہور ایشا فاؤنڈیشن کی بانی ،یوگ راج، جانے مانے مصنف اور مقرر ست گورو جگی واسودیو نے یہ ملک گیر مہم چھیڑی ہے، پدم وبھوشن سے نوازے ست گورو جگی واسو دیو گاندھی جینتی (2 اکتوبر) کو دہلی میں ندی ریلی سے ختم ہونے والے 30 دنوں کی اس مہم کے دوران کنیا کماری سے ہمالیہ تک دیش کی 16 ریاستوں کا سفر خود گاڑی چلا کر طے کرتے ہوئے دیش کی جنتا کو اس بات کے لئے بیدار کررہے ہیں کہ اگر وقت رہتے ہم نے قدم نہیں اٹھایا تو اگلی پیڑھی پینے کے پانی تک کو ترس جائے گی۔ دراصل ہم اپنی ندیوں کو پہلے ہی اتنا نقصان پہنچا چکے ہیں کہ اگلی پیڑھی کو نقصان پہنچانے کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ یہ کام کسی ایک کے بس میں نہیں ہے، اس لئے مرکزی سرکار سے ہم چاہتے ہیں کہ وہ ندیوں کو نئی زندگی دینے کے لئے دور رس نتائج والی قابل عمل پالیسی بنائے جسے لاگو کیا جاسکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہر انسان جو پانی پیتا ہے ندی مہم میں اپنا تعاون دے۔ ست گورو بتاتے ہیں کہ حالات کتنے خراب ہیں۔ بہت ہی خراب۔ اپنا بچپن میں نے کرناٹک میں کاویری کے ساحل پر گزارا ہے۔ یاترا کے دوران میں نے دیکھا کہ جس کاویری کو جس جگہ میں روزانہ تیر کر پار کرتا تھا وہاں اب اسے چل کر پار کیا جاسکتا ہے۔ دراصل یہ اتنی سمٹ گئی ہے اور نابود ہونے کے لئے سمندر کا سفر طے کرنے سے 870 کلو میٹر پہلے ہی تھم جاتی ہے۔ آندھرا کی کرشنا ندی تو تقریباً پوری طرح سوکھ گئی ہے۔ نرمدا 60 فیصدی سکڑ گئی ہے اور شپرا کا پانی اس کا اپنا نہیں باندھ کیا ہوا پانی ہے۔ گنگا تو دنیا کی ان ندیوں میں ہے جس کا وجود سب سے زیادہ سنکٹ میں ہے۔ ندیوں کی اس دردشا کے لئے ہم سبھی ذمہ دار ہیں۔ دیش کی 25 فیصد زمین ریگستان بننے لگی ہے۔ 55 فیصدی بنیادی طور پر تیزی سے کم ہورہی ہے۔10 سال میں ہمارے ریزرو وائر میں پانی کی سطح 30 فیصد گھٹ گئی ہے خاص کر پچھلے 7 برسوں سے تو بھارت کی تقریباً سبھی ندیاں اتنی تیزی سے سوکھ رہی ہیں کہ لگتا ہے 12 مہینے بہنے والی یہ ندیاں اگلے 15-20 برس میں موسمی ہوجائیں گی۔ حالات ایسے ہیں کہ 2030 تک ہمیں اپنی ضرورت کا محض50 فیصد پانی ہی مل پائے گا۔ اس لئے وقت رہتے اگر ہر سطح پر مناسب کارروائی نہیں کی تو ہماری ندیاں سوکھ جائیں گی اور لوگ پانی کے لئے ترسنے لگیں گے۔
(انل نریندر)

26 ستمبر 2017

کھسکتی معیشت : تین برس میں کم از کم سطح پر پہنچی

مسلسل پانچ سہ ماہیوں سے ترقی شرح میں جاری گراوٹ سے سرکار کا فکر مند ہونا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ خود وزیر اعظم نریندر مودی کاخاص زور اقتدار میں آنے کے بعد سے ترقی پر رہا ہے۔ معیشت کے محاذ سے آرہی مایوس کن خبروں و معیشت کی سستی کو لیکر اپوزیشن ہی نہیں بلکہ سرکار کے حمایتی اسے گھیرنے میں لگے ہیں۔ بھاجپا ایم پی ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر فوری طور پر کچھ نہیں کیا گیا تو بینک برباد ہوسکتے ہیں، فیکٹریاں بند ہوسکتی ہیں اور معیشت مندی کا شکار ہوسکتی ہے۔ میک ان انڈیا اور اسکل انڈیا جیسی اہم اسکیموں کو اسی تصور سے شروع کیا گیاتھا کہ ان سے ترقی کو رفتار ملے گی اور روزگار پیدا ہوں گے۔ دو سہ ماہی پہلے تک بھارت نے نہ صرف چین کو پچھاڑ رکھا تھا بلکہ دنیا کی سب سے تیز رفتار والی معیشت بھی بن گیا تھا۔ مگر اس برس کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی میں نہ صرف گراوٹ آئی ہے بلکہ یہ مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد 5.7 فیصدی کے ساتھ سب سے نچلے سطح پر بھی ہے۔ مثلاً وزیر اعظم کوشل وکاس پروگرام کو ہی لے لیں تو اس کے تحت 30 لاکھ لوگوں کو یا تو رجسٹرڈ کیا گیا یا انہیں ٹریننگ دی گئی مگر اس میں سے 10 فیصدی کو ہی روزگار مل سکا۔ مالی سال 2017-18 کی پہلی سہ ماہی میں اقتصادی ترقی محض 5.7 فیصد رہی جو تین سال میں کم از کم سطح ہے۔ ہمارے ایکسپورٹ کے سامنے چنوتیاں بنی ہوئی ہیں اور صنعتی اضافی شرح پانچ سال میں کم از کم سطح پر آگئی ہے۔ دوسری طرف مہنگائی آسمان چھورہی ہے۔ سرکار اب بھی ماننے کو تیار نہیں ہے کہ دیش اقتصادی ترقی میں سست روی پچھلے سال کی گئی نوٹ بندی ایک بڑی وجہ تھی۔اس کی وجہ سے صنعتی ترقی کے ساتھ ہی دیہی معیشت پر گہرا اثر پڑا ہے۔ ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے حال ہی میں کہا کہ نوٹ بندی سے مستقبل میں ہونے والے دور رس فائدوں پر اس کے اسباب یہ نکلے کے فوری نقصان بھاری پڑا ہے اور اسکے علاوہ جی ایس ٹی کے سبب ہورہی ابتدائی اڑچنوں کے سبب بھی کاروباری طبقہ اور دیگر طبقوں میں کچھ الجھن کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ دکھ تو اس بار کا ہے کہ نوٹ بندی کی طرح جی ایس ٹی کو بھی بغیر ٹھیک سے ہوم ورک کئے لاگو کردیا گیا۔ آج پورے دیش میں جی ایس ٹی کو لیکر اتنی ناراضگی ہے کہ ہر طبقہ پریشان ہے۔ وزارت مالیات کا نظریہ یہ ہے کہ جی ایس ٹی سے بھرپور ٹیکس وصولی ہوجائے گی جس کو وہ کچھ پروجیکٹوں میں لگا دے گی۔ اس طرح فوری طور پر کچھ مانگ پیداہوگی اور معیشت حرکت میں آجائے گی۔ جی ایس ٹی سے جولائی تک تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے کے غیر بالواسطہ ٹیکس کی وصولی ہوچکی ہے۔ لاکھوں کمپنیاں جی ایس ٹی سسٹم پر ڈھنگ سے عمل نہیں کررہی ہیں۔ کچھ کو تو ریٹرن فائل کرنے میں مشکلیں آرہی ہیں تو کچھ کو سلیب سسٹم سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ اس بات کی بھی فکر ہے کہ دیش کے دیگر حصوں میں سیلاب کے باوجود دیش کے ایک تہائی ضلع خوشک سالی کی زد میں ہیں جس کا اثر آنے والے وقت میں مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔دیش کے آدھے حصے میں ژالہ باری اور باقی حصے میں خوشک سالی درج کی گئی اس لئے غذائیت کی پیداوار کو لیکر مطمئن نہیں ہوا جاسکتا ہے۔ دنیا کی معیشت میں ہندوستانی برآمدات بڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں نکل رہی ہے۔ کل ملا کر چاروں طرف سے راستہ بند دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت میں سرکار کو صنعتی ترقی کے ساتھ دیہی علاقے کی مایوسی دور کرنے کی دوہری چنوتی سے نمٹنا ہے، تاکہ وکاس کا انجن تیزی سے آگے بڑھ سکے۔
(انل نریندر)

اور اب شنکر آچاریوں کی لڑائی عدالت میں

آدی شنکر آچاریہ کے ذریعے قائم چار پیٹھوں میں سے ایک اتراکھنڈ کی جیوتش پیٹھ کے شنکر آچاریہ کے عہدے کا معاملہ قریب پچھلے 28 سال سے عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ شنکر آچاریہ بشنو دیو آنند کی موت کے بعد 1989 میں تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ 8 اپریل 1989 کو جیوتش پیٹھ کے سینئر سنت کرشنا بود آشرم کی وسعت کی بنیاد سوامی سروپانند سرسوتی نے خود کو شنکر آچاریہ اعلان کردیا۔ وہیں شات آنند نے 15 اپریل کو سوامی باسو دیو آنند کو شنکر آچاریہ کا عہدہ دے دیا۔ واسو دیو عدالت میں چلے گئے۔ ضلع عدالت میں تین سال پہلے سماعت شروع ہوئی۔ عدالت نے 5 مئی 2015ء کو سوامی سروپ آنند کے حق میں فیصلہ سنایا۔ واسو دیو آنند ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ چلے گئے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو جلدتنازعہ نپٹانے کو کہا۔ اسی درمیان سروپ آنند نے بھی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر معاملے کا نپٹارہ جلد کرنے کی مانگ کی۔ جمعہ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ان دونوں کو ہی شنکرآچاریہ ماننے سے انکار کردیا اور حکم دے دیا کہ تین مہینے میں جیوتش پیٹھ کا نیا شنکر آچاریہ چنیں۔ سروپ آنند اب اس فیصلے کے بعد صرف دوارکا پیٹھ کے شنکرآچاریہ رہیں گے۔ جسٹس سدھیر اگروال اور کے جے ٹھاکر کی بنچ نے اپنے آپ اعلان کردہ شنکر آچاریہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سوامی سروپ آنند اور سوامی واسو دیو آنند کو جائز شنکر آچاریہ نہیں مانا جاسکتا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ آدی شنکر آچاریہ کے ذریعے اعلان کردہ چار پیٹھ ہی وید ہے ۔ جیوتش پیٹھ کے لئے اکھل بھارت دھرم ، مہا منڈل اور کاشی ودھوت پریشد تینوں پیٹھوں کے شنکر آچاریوں کی مدد سے اہل سنیاسی کو شنکرآچاریہ بنائے۔ یہ سارا کام 1941 کی کارروائی کے تحت کیا جائے۔ نیا شنکر آچاریہ چننے تک سروپ آنند ہی کام دیکھتے رہیں گے۔ وہیں سوامی واسو دیو آنند سرسوتی کے چھتربھنور سنگھاسن پر بیٹھنے پر روک جاری رہے گی۔ پیٹھ نے کہا کہ سرکار ایسے خود ساختہ اور ناجائز طور سے مٹھوں کے پردھان ، مہنت یا دھارمک سنستھا کے پردھان بنے لوگوں کے خلاف قدم اٹھائے۔ آدی شنکر آچاریہ نے صرف چار پیٹھوں کی استھاپنا کی ہے۔ ان میں نارتھ میں جیوتر مٹھ، برد کاشن اور ویسٹ میں شاردا پیٹھ ،ساؤتھ میں منگیشوری مٹھ، محصول اور مشرق میں گوردھن مٹھ پوری ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے شخص کو شنکر آچاریہ کی پدوی ، عہدہ لینے کا حق نہیں ہے۔ ایسا کرنا سناتن دھرم کے ماننے والوں کے ساتھ محض دھوکہ ہے اور ان مٹھوں کے قیام کے ساتھ ان کی حفاظت کے لئے اکھاڑے بھی بنائے ان میں الگ الگ مٹھوں کے لئے دشنامی سنیاسی بھی تیار کئے گئے۔ اس وقت کئی دیگر پیٹھ قائم ہوگئے ہیں اور بہت سو ں نے اپنے کو شنکر آچاریہ اعلان کرلیا ہے۔ جھگڑے عدالت میں پہنچنے لگے اور کورٹ کو بھی اس میں مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)