Translater

26 فروری 2022

دیش کے اونچے مجسمے چینی تیار کر دہ کیوں ہیں؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد میں کچھ دن پہلے گیارہویں اور بارہویں صدی کے مہان ہندو سنت راما نوج اچاریہ کی مجسمہ اسٹیچو آف اکولیٹی کی نقاب کشائی کی ۔ بارہ سے سولہ فٹ اونچی مورتی کا ڈیزائن بھلے ہی بھارت میں تیار کیا گیا ۔وہیں قریب سوا تین سال گجرات کے کیوڑیا میں لگی دنیا کی سب سے اونچے مجسمے اسٹیچو آف یونیٹی کو بنانے میں بھی چینی کمپنیوں کا اشتراک رہا ۔ دیش کے پہلے وزیر داخلہ سردار بھلبھ بھائی پٹیل کا یہ مجسمہ 797فٹ اونچاہے ۔سال 2017میں تلنگانہ حکومت نے ہندوستانی آئین کے اہم معمار ڈاکٹر بی آ ر امبیڈکر کے 125فوٹ اونچے تانبے کا مجسمہ لگانے کے ارادے سے تب کے نائب وزیر اعلیٰ شری ہریہر کی قیادت میں ایک ٹیم چین بھیجی تھی ۔ ایسے میں سوا ل اٹھتا ہے کہ بھار ت کے بڑے مجسمے قائم کرنے میں آخر چین کی مدد کیوں لینے پڑتی ہے؟ کیا انہیں بھارت میں ہی نہیں بنا یا جاسکتا؟تلنگا نہ میں لگنے والے امبیڈکر کے یہ مجسمہ آخر چین سے کیوں منگوایا گیا؟ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی کمپنیوں کو بڑے مجسمے بنانے میں مہارت حاصل ہے۔ انہیں تانبے کے مجسموں کو بنانے کیلئے دنیا میں ماہر مانا جاتاہے۔ چین میں ڈھلائی کے بڑے بڑے کارخانے ہیں جس کے چلتے مجسموں کے ٹکڑوں کو بہت کم وقت میں ڈھال کر انکی ڈیلیوری کر پا نا ممکن ہے۔ چین میں اسپرنگ ٹیمپل بدھا جیسے کئی بڑے مجسمے اس کی مثالیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے مجسموں کیلئے ہر کوئی چین کی کمپنیوں کی طرف رخ کرتاہے ۔ ڈیزائن بھارت میں اور بنا وٹ چین میں ۔ بھارت میں مختلف دھاتوں سے مورتیا ں بنانے کا فن کافی پرانا ہے ۔یہاں سندھو وادی کی تہذیب کے دوران بنے تانبے کے مجسمے بھی ملے ہیں۔ بھارت دھات سے بنے دیوی دیوتاو¿ں کی مورتیاں بنائی جاتیں ہیں۔ بیرونی ممالک تک ان کو اکسپورٹ کیا جا تاہے حالاںکہ ان کا سائز زیادہ بڑا نہیں ہوتا اس لیے زیا دہ تر گھروں میں دیکھا جاتاہے ۔وہیں سیکڑوں فٹ اونچے مجسموں کو بنانے کیلئے خاص تکنیک اور ضرور ی سہولت کی ضرورت ہوتی ہے ۔راجکمار جیسے مورتی سازوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں بنیادی اسٹرکچر کی کمی ہے اور اگر یہ پوری ہو جائے تو بڑے بڑے مجسمے بنائے جا سکتے ہیں۔مورتی کار ووڈیار نے بتایا کہ آرڈر دینے والے یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بھارت کے مورتی کاروں کے پاس کروڑوں روپے کے بڑے پروجیکٹ شروع کرنے لائق ضروری مالی حیثیت ہے یا نہیں؟ ا س کے چلتے چھوٹی فرموں کیلئے آگے بڑھنا مشکل ہو جاتاہے ۔اس لئے ہمیں چین سے مجسمے بنوانے پڑ رہے ہیں۔ (انل نریندر)

مہاراشٹر سرکار کے دوسرے وزیر گرفتار!

منی لانڈرنگ کیس میں پکڑے گئے نواب ملک مہارشٹر سرکار کے دوسرے وزیر ہیں جنہیں ای ڈی نے گرفتار کیا ہے اس سے پہلے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کی گرفتاری ہو چکی ہے ۔دونوں ہی وزیر این سی پی کوٹے کے ہیں۔ انڈر ورلڈ ڈون داو¿د ابراہیم اور ان کے گرگوں کی سرگرمیوں سے جوڑے منی لانڈرنگ معاملے میں ای ڈی نے بدھ کو نواب ملک کو صبح چھ بجے ان کے گھر سے اٹھایا اور صبح آٹھ بجے سے چھ گھنٹے چلی پوچھ گچھ کے بعد دو پہر قریب 3بجے انہیں گرفتار کیا گیا ۔ اسپیشل عدالت نے ملک کو 3مارچ تک جوڈیشل حراست میں لے لیا ہے۔ واضح ہو کہ ای ڈی کی ایک ٹیم نواب ملک کے گھر پہونچی اورانہیں ساتھ لے گئی ۔ای ڈی حکام نے کچھ دستاویز بھی ضبط کئے اس دوران ای ڈی کی گاڑی میں جاتے ہوئے نواب ملک نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ ہم آخری دم تک لڑیں گے اور جیتیں گے ۔اور سب کو بے نقاب کریں گے ۔ وہیں ای ڈی حکام نے بتایا کہ منی لانڈرنگ قانون کے تحت ملک کا بیان درج کیا گیا اور وہ پوچھ تاچھ میں تعاون نہیں دے رہے تھے ۔ اس لئے گرفتار کیا گیا نواب ملک این سی بی ممبئی زون کے ڈائریکٹر ثمیر وانکھڑے کے خلاف الزامات کے بعد پچھلے کچھ مہینوں سے سرخیوں میں تھے ۔ سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے بعد ملک ایم سی بی کے دوسرے بڑے نیتا ہیں جن پر شکنجہ کسا گیا ہے۔ یہ گرفتا ری مخلوط حکومت کیلئے بڑا جھٹکا ہے ۔ای ڈی نے اسی مہینے یو اے پی اے کے تحت ڈی کمپنی کے خلاف نیا مقدمہ درج کیاہے ۔ ای ڈی 15فروری کو ممبئی کے جگہ چھاپہ ماری کر داو¿د کے کچھ گرگوں کے پوچھ تاچھ کر رہی تھی ۔پانچ دن پہلے داو¿د کے بھائی اقبال کاسکر کے ٹھانے جیل سے گرفتاری اسی کڑی کا حصہ ہے جس کے تحت اب نواب ملک کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان پر داو¿و کے قریبی لوگوں سے بازار سے کم دام پر زمین خریدنے کا الزام ہے ۔حالاںکہ این سی پی نے بغیر پہلے کسی نوٹس کے وزیر کی گرفتاری پر سوال اٹھائے ہیں۔کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ کچھ بڑے لوگوں سے جوڑے سنسنی خیز انکشاف کرنے ،مرکزی سرکار پر سینٹرل ایجنسیوں کے بے جااستعمال کا الزام لگانے اور این سی پی کے زونل ڈائریکٹر ثمیر وانکھڑے جس میں شاہ رخ خان کے بیٹے کو گرفتار کیا تھا کے خلاف ٹویٹ کرنے کی قیمت نواب ملک کو چکانی پڑی ہے۔ بے شک ان کے سامنے عدالت میں خود کو بے قصور ثابت کرنے کاراستہ کھلا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ملک پر لگے الزاما ت بے حد سنگین ہیں ۔اور اب وہ لمبی قانونی لڑائی میں الجھ گئے ہیںان پر وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا بھی اخلاقی دباو¿ ہے ۔ ظاہر ہے اس واقعے سے ادھو ٹھاکرے کی قیا دت والی سرکار 2019میں اقتدار میں آئی تھی ،کیلئے مشکلیں بڑھ گئیں ہیں ۔ این سی پی نے کہا کہ نواب ملک وزیر کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے ۔ پارٹی نیتا چھگن بھجبل نے کہا کہ صر ف الزام سے استعفی ٰ کا سوال نہیں اٹھتا ۔ (انل نریندر)

25 فروری 2022

لالو کو اب تک 32سال کے اوپر کی سزا سنائی گئی!

چارہ گھٹالے میں آرجے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے جھارکھنڈ سے جوڑے سھبی معاملوں میں سزا سنا دی گئی ہے ۔قریب 950کروڑ روپے کے اس گھوٹالے میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو اب تک 32سال کی سزا سنائی جا چکی ہے ۔ ان پر 1.65کروڑ روپے کا جرمانہ بھی لگ چکا ہے۔ اس کے علاوہ جھارکھنڈ میں چل رہے کوئلہ معاملے کے متعلق آخری معاملے لالو کو پانچ سال کی سزا اور ساٹھ لاکھ کا جرمانہ لگا یا گیاہے ۔لا لو پر خزانے سے جوڑے معاملے میں پانچ سال کی سزا اور تین لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا تھا۔ یہاں سے37.30کروڑ روپے نکالے گئے تھے ۔وہیں دیو گھر خزانے سے 89.27لاکھ کروڑ ناجائز نکاسی کے معاملے میں ساڑے تین سال کی سزا ور 60لاکھ کا جرمانہ لگایا تھا ۔ اسی طرح چائی باسا خزانے سے 33.13کروڑ کی ناجائز نکاسی میں لالو پر ساد یادو کو پانچ کی سزا دی گئی تھی ۔سی بی آئی کورٹ نے متعدد معاملات قصور وار قرار دیتے ہوئے آئی پی سی اور پی سی ایکٹ کے تحت سات ساتھ سال کی سزا سنائی تھی۔ دونوں مقدموں میں لالو پرساد پر 60لاکھ کا جرمانہ لگ چکاہے ۔ حالاں کہ لالو کی طرف سے ان معاملوں میں دونوں سزائی الگ الگ سنائے جانے کو ہائی کورٹ میں چنوتی دی ہوئی ہے۔لالو پرساد نے رمس کمپلیکس سے ہی ویڈیوں کانفرینسنگ کے ذریعے سزا سنی اور پھر وہ بیڈ پر لیٹ گئی ۔ سزا کے بعد لالو کو دیکھنے ڈاکٹر اسپتال گئے تھے ۔ حالاں کہ رمس میں بھرتی ہونے کے بعد لالو پرساد اسی ہسپتال میں تھے اور رات میں صحیح سے نیند نہیں لے پا رہے تھے اتوار کی رات بھی وہ بے چین تھے ۔ ثبوتوں کی کمی کے چلتے 15فروی کی سماعت کے دوران 24ملزم بری ہوئے تھے ۔ لالو جی کی بگڑی صحت تشویش کا باعث ضرور ہے۔ (انل نریندر)

یوکرین میں گھسی روسی فوج!

مہینے بھر سے جنگ کی تیاری کر رہی روسی افواج امرکہ -یورو پ کی دھمکیوں کو درکنار کرتے ہوئے یوکرین کے دو صوبوں میں داخل ہو گئی ۔ روسی صدر ولادمیر پوتن نے یوکرین دو صوبوں ڈونٹسک اور لوہانسک کو آزاد ڈکلئر کرنے کے بعد جس سرکاری فرمان پر دستخط کئے اس کے تحت ان دو نو ں صوبوں میں اب روسی فوجیں ہمیشہ کیلئے تعینات رہیں گی ۔ ان صوبوں کے بڑے حصے میں لوگ روس حمایتی ہیں ۔ یہاں کئی گروپ پچھلے کئی دنوں سے یوکرین کی فوج پر حملے کر رہے ہیں۔ اب انہیں روسی فوج کا ساتھ مل گیا ہے ۔یوکرین سمیت سبھی یوروپی ملکوں نے اسے یوکرین کی سرداری پر حملہ قرار دیتے ہوئے روس پر اقتصادی پابندیاں لگادیں ہیں ۔ حالاںکہ یوکرین کی فوج نے ابھی تک کوئی بڑا رد عمل نہیں ظاہر کیا ہے۔ روسی قبضے کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی ہے ۔ اس نے روسی کاروائی کو دراندازی بتایا ۔ امریکہ اور یوروپ کے سبھی ملکوں نے روس پر کئی پابندیاں لگانے کی بات رکھی تھی ۔ وہیں بھارت اور چین نے غیر جانبدار رہتے ہوئے مسئلے کابات چیت سے حل نکالنے کی نصیحت دی ۔ اس پورے واقعے پر یوکرین کے صدر جلنسکی نے کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں اور سرحدیں پہلے جیسی ہی رہیں گی ۔ جواب میں روس نے کہا کہ یوکرین کا نقشہ بدل چکا ہے ۔ اور روسی صدر پوتن تو یہاں تک کہہ دیا کہ جدید یوکرین کا تو آزاد وجود کبھی رہا ہی نہیں ۔ وہ کمیونسٹ نیتا لینن کی رہنمائی میں ہوئی بولشوک انقلاب کی دین ہے۔ موجودہ بحران امریکہ کیلئے بھی ایک چنوتی ہے جسے ابھی بھی افغانستان میں زبردست ناکامی کے بعد اپنے قدم واپس کھینچنے پڑے ہیں ۔ امریکہ اور برطانیہ نے روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا جسے کئی ملکوں نے حمایت دی ہے۔ اس سے روس کیلئے اقتصاد چیلنج دیش میںکھڑا ہو سکتاہے ۔ مگر حالا ت سے ایسا لگتا ہے کہ روس کو اپنے اشارے پر نچانے والے پوتن گھڑی کی سوئی کو الٹی سمت میں گھمانا چاہتے ہیں ۔ جہاں تک بھارت کی بات ہے تو اقوام متحدہ میں اس کا نظریہ ایک دم صحیح ہے کہ وہاں کشید گی گھٹانا پہلی ترجیح ہونی چاہئے ۔ بھار ت کی تشویش فطری ہے کیوں کہ یوکرین میں 20ہزار سے زیادہ ہندوستانی شہری اور طالب علم ہےں ۔یوکرین اور روس کی سرحد پر بڑھتی کشید گی کو جلد ختم نہیں کیا گیا تو یہ سرد جنگ کی شکل اختیا ر کرنے کے بعد اب تک کے سب سے بڑے ٹکراو¿ میں بدل سکتی ۔ حقیقت یہ بتا رہی ہے کہ جنگ بڑے ملکوں کے طاقت کے مظاہرے کی ہے ۔لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ایسی کشیدگی اور جنگ تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیںہوگا۔تازہ اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملہ کردیا ہے جس سے دنیا میں مزید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ (انل نریندر)

24 فروری 2022

بمپر ووٹنگ نے بڑھائی سرکردہ ہستیوں کی بے چینی !

بھلے ہی پنجاب میں 2017کے مقابلے کم پولنگ ہوئی ہو لیکن ریاست کی کچھ سیٹیں ایسی ہیں جہاں ووٹروں نے جم کر بمپر ووٹنگ کی ہے ۔ جس نے پنجاب کی سیاست کے سرکردہ لیڈروں پرکاش سنگھ ،سکھبیر سنگھ ،چرنجیت سنگھ وبھگونتمان کی سیٹیں شامل ہیں ۔ انکی سیٹوں پر 70فیصد سے زیادہ ووٹ پڑے ہیں ۔اس بمپر ووٹنگ کو لیکر سیاسی سرکردہ ہستیوں میں بے چینی بڑھنا فطری ہے۔حالاںکہ امرتسر ایسٹ پر نوجوت سنگھ سدھو ،مجیٹھیا کے معنی ہیں وہاں صر ف 65.05فیصد ی پولنگ ہوئی ہے چمکور صاحب میں 74.57اور بدھوڑ میں 78.90فیصدی ووٹ پڑے ۔ یہاں سے صوبے وزیر اعلیٰ چنا و¿ لڑ رہے ہیں ۔ جبکہ جلال آباد سیٹ سے شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل میدان میں ہیں ۔ اس سیٹ پر 80فیصدی ووٹ پڑے ہیں اور کوری سے عام آدمی پارٹی سے وزیر اعلیٰ کے دعویدار بھگونت سنگھ میدان میں ہیں یہاں 77.34فیصدی لوگو نے اپنا ووٹ ڈالا ۔ لمبی اسمبلی حلقے سے 94سال کے پرکاش سنگھ بادل چنا و¿ لڑ رہے ہیں اس حلقے سے 85.35فیصدی لوگوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ سیاسی شخصیتوں کی سیٹوں میں سب سے زیادہ ووٹ فیصد ہے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ پٹیالہ شہر سے چنا و¿ لڑ رہے ہیں ۔ اس شہر کے 63.50فیصدی لوگوں نے اپنے ووٹ کو استعمال کیا ہے ۔ بمپر ووٹنگ کیا گل کھلاتی ہے اس کا پتہ تو صر ف 10مارچ کو ہی چلے گا۔ فی الحال سرگردہ ہستیوں کی تب تک دھڑکنیں تیز رہیں گی۔ (انل نریندر)

مسلسل سازش رچتے سرحد پر بیٹھے آتنکی!

دیش میں ماحول خراب کرنے کیلئے سرحد پار بیٹھی دہشت گرد تنظیمیں مسلسل سازش رچ رہی ہیں۔ پچھلے ماہ 14جنوری کو غازی پور کے علاوہ جموں و کشمیر اور پنجاب میں بھی اس طرح کے آئی ڈی بم بر آمد ہوئے تھے ۔ خفیہ ایجنسیوںکو دہشت گرد حملوں کے انپٹ دے رہی تھیں۔ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یوپی چنا و¿ میں گڑبڑی پھیلا نے کیلئے شرارتی عناصر سازش رچ رہی ہیں ۔ راجدھانی دہلی کو نشانہ بنانے کیلئے یہ عناصر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔ ایک بار پھر راجدھانی دہلی کو بم دھماکوں سے دہلانے کی سازش ناکام ہوئی ہے۔ اس سے پہلے اسی برس جنوری کے مہینے میں غازی پور منڈی میں بارود برآمد ہوئے تھے ۔ایک مہینہ کے وقفے میں دو جگہوں پر جدید تریں الیکٹرونک ڈیوائس کا ملنا واقعی تشویش ناک ہے۔راحت کی بات یہ رہی کہ دونوں ہی جگہوں پر دہشت گرد اس میں دھماکہ نہیں کرسکے ۔آئی ای ڈی ایسا دھماکوں شے ہوتی ہے جو آر ڈی ایکس ،مونیا وغیرہ کے میل سے تیار کیا جاتا ہے۔اور اس کے ذریعے خوفناک تباہی مچائی جا سکتی ہے ۔ مشرقی دہلی کے اولڈ سیما پوری میں جس بند گھر سے تین کلو گرام آئی ای ڈی برآمد کیا گیا ہے اگر وہ پھٹتا تو 500میٹر کے دائرے میں تباہی مچ جاتی ۔پتہ چلا ہے کہ اس گھر میں تین چار لڑکے رہتے تھی جو فرار ہیں ان کی گرفتاری کے بعد ہی پوری سازش سے پردہ اٹھ سکے گا۔ سیما پوری سے ملے آئی ای ڈی بالکل غازی پور میں ملے آئی ای ڈی کے طرز پر تیار کیا گیا تھا۔ذرائع نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر اور پنجاب میں بھی اسی طرح کے آئی ای ڈی ملے تھے ۔ پریشانی کی سب سے زیادہ بات دہلی پولیس کمشنر راکیس استھانہ کا یہ بیان ہے کہ بغیر مقامی حمایت کے اتنی بڑی سازش کو تیا رکرنا نا ممکن ہے ۔ یعنی کہیں سے کہیں مقامی سطح پر دیش کو کمزور کرنے والوں کو یہاں کے کچھ لوگوں کی حمایت حاصل ہے ۔لازمی ہے کہ مقامی سطح پر خفیہ نظام کو چست دروست اور ساز وسامان سے آراستہ رکھنا چاہیے ۔دہشت گردی سے مقابلہ کرپانے کے راستے میں سب سے بڑی چنوتی دیش کے مختلف حصوں میں پھیلے انہیں سخت قانون یعنی سلیپر سیلس اور ان ذرائع کی پہچان کرنا ہے جن کے ذریعے دھماکے کا سامان اور ہتھیار پہونچائے جاتے ہیں،حالاںکہ اس کیلئے سیکورٹی فورس انفورمیشن تکنیک کا استعمال کرتیں ہیں لیکن آتنکی تنظیمیں انہیں ٹھینگا دکھانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف وادی میں سیکورٹی فورس کو ہر سرگرمی پر نظر بنائے رکھ پاتی ہیںبلکہ دوسر ے شہروں میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانے تلاشتی رہتی ہیں ۔ مسلسل خفیہ ایجنسیوں کو گڑبڑی پھیلانے کے بارے الرٹ جاری کرنا یہی دکھاتا ہے کہ خطرہ پل پل ہے ۔ اس لئے ذرائع کے درمیان تال میل قائم کرنے کی سمت میں سبھی کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔حالاںکہ سرحد پر جاری دہشت گردی کی کیمپوں کو تباہ کرنے میں فوج نے کافی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے ۔انہیں مالی مدد پہونچانے والوں کی پہچان کرکے انہیں جیل بھیجنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ مگر اب بھی سرحد پار سے بھیجے گئے دھماکوسامان دہلی تک پہونچ ہی جاتے ہیں ۔ اس لئے سیکورٹ ایجنسیوںکو اور چست بنانے کی ضرورت ہے۔ (انل نریندر)

23 فروری 2022

زبردستی گلے لگانے ، جھولا جھولنے سے رشتے نہیں بہتر ہوتے !

پنجاب کے چناو¿ کمپین ختم ہونے سے ایک دن پہلے کانگریس نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی انٹری کروا دی ۔منموہن سنگھ کا نام پارٹی کے اسٹار کمپینروں کی فہرست میں شامل تھا ۔لیکن خراب صحت کی وجہ سے وہ چناو¿ کمپین میں نہیں آسکے ۔اس کے چلتے جمعرات کو چنڈی گڑھ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران منموہن سنگھ کا پنجابی زبان میں ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا بھارتیہ جنتا پارٹی پچھلے سات برسوں سے زیادہ وقت سے اقتدار میں ہے لیکن لوگوں کے مسائل کے لئے وہ اب بھی دیش کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں انہوں نے کسان آندولن خارجہ پالیسی ،مہنگائی ،بے روزگاری سمیت کئی معاملوں کو لے کرجہاںکانگریس نے سیاسی فائدے کے لئے کبھی دیش کو نہیں بانٹا او ر نا ہی سچ چھپایا ،20فروری کو ہوئے پنجاب چنا و¿ کی پولنگ سے پہلے منموہن سنگھ نے اپنی پنجابی زبان کے پیغام میں کہا ایک طرف مہنگائی اور بے روزگاری سے لوگ پریشان ہیں تو دوسری طرف پچھلے ساڑے سات سال سے اقتدار پر قابض موجودہ سرکار اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے لوگوں کے مسائل کے لئے اب بھی دیش کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو قصوروار ٹھہرا رہی ہے ۔منموہن سنگھ نے کہا کچھ دن پہلے وزیراعظم کی سیکورٹی کے نام پر پنجاب کے وزیراعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی اور ریاست کے لوگوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔کسان آندولن کے دوران بھی پنجاب اور پنجابیت کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا دنیا پنجاب کے لوگوں کی بہادری اور دیش بھگتی اور قربانی کو سلام کرتی ہے ۔لیکن این ڈی اے سرکار اس بارے میں کچھ بات نہیں کرتی ۔انہوں نے الزام لگایا چینی فوج پچھلے ایک سال سے ہماری سرزمین پر قبضہ جمائے ہوئے ہے لیکن سرکار معاملہ کو دبانے کی کوشش کررہی ہے ۔مجھے امید ہے کہ اب سرکار کو یہ مان لینا ہوگا کہ نیتاو¿ں کو زبردستی گلے لگانے سے ان کے ساتھ جھولا جھولنے سے بن بلائے بریانی کھانے سے دیشوں کے ساتھ رشتے نہیں بہتر ہو سکتے ۔ (انل نریندر)

ایک ساتھ پہلی مرتبہ 38 دہشت گردوں کو سزائے موت!

کئی بار فیصلہ جب آتا ہے بہت سی یادیں دھندلی پڑ جاتی ہیں ۔جمعہ کو سپیشل عدالت نے جب احمد آباد میں 2008 کے بم دھماکوں کے قصورواروں کو سزا سنائی تو لوگوں کو یہ یاد دلانا پڑا کہ اس دن کتنی بڑی ت باہی گجرات کے اس شہر میں دیکھی گئی تھی ۔26 جولائی کی شام ایک کے بعد ایک 70 منٹ کے اندر شہر کے الگ الگ حصوں میں 21 بم دھماکے ہوئے تھے ۔جن میں 56 لوگوں کی جان چلی گئی تھی اور200 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے ۔سازش کا پردہ فاش کرنے میں حالانکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے زیادہ وقت نہیں لگایا اور ایک سال کے اندر ہی معاملے میں مقدمہ درج ہو گیا ۔کل 76 لوگوں کو ملزم بنایا گیا ۔اور اب جب 13 سال کی عدالتی کاروائی کے بعد فیصلہ آیا تو ان میں 38 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور 11 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے اسپیشل کورٹ کے جج اے آر پریل نے 8 فروری کو 49 لوگوں کو قصوروار قرار دیا تھا ۔اور 28 لوگوں کو بری کر دیا تھا ۔آزاد بھارت میں پہلی بار ایک ساتھ اتنے قصورواروں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے ۔اس سے پہلے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے 1991 ویں میں ہوئے قتل کے معاملے میں تمل ناڈو کی ٹاڈا عدالت نے 1998 میں سبھی 26 قصورواروں کو موت کی سزا سنائی تھی ۔سرکار وکیل سدھیر برھم بھٹ نے کہا کہ دھماکوں میں نریندر مو دی کے قتل کی سازش تھی ۔جو تب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے ۔اور بچاو¿ وکیل امت پٹیل نے بتایا جج نے معاملے کو بہت ہی اہم بتایا سبھی قصوروار 8 جیلوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے زریعے عدالت کے سامنے موجود رہے احمد آباد جیل دہلی کی تہاڑ جیل اور بھوپال ،گیا بینگلورو ، کیرل ،ممبئی جیل میں رکھا گیا ہے ۔غور طلب ہے کہ احمد آباد بم دھماکے میں کچھ اور ملزمان کی بعد میں گرفتاری ہوئی ۔جن کے معاملوں کی ابھی سماعت شروع نہیں ہو پائی ۔26 جولائی 2008 کو 70منٹ کے اندر بم دھماکوں نے احمد آباد کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔دہشت گردوں نے بھیڑ بھاڑ اور بازار والے علاقے میں ٹفن میں بم نسب کئے تھے ۔اور سائیکل پر رکھ دیا گیا تھا اور دھماکے سے کچھ منٹ پہلے چینلوں اور میڈیاکو دھماکوں کی وارننگ دیتے ہوئے ای میل بھی کرایا گیا ۔سلسلے وار بم دھماکوں میں 56 لوگ مارے گئے تھے اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے اور زبردست بربادی ہوئی تھی ۔بتایا گیا ہے کہ یہ انڈین مجاہدین اور سینی نے دھماکے گودرا کانڈ کا بدلا لینے کے لئے کئے تھے ۔یہ الگ بات ہے کہ ان دھماکوں میں اقلیتی فرقہ کے کچھ لوگ بھی مارے گئے تھے ۔اس واردات سے پتہ چلتا ہے کہ وارانسی اور جے پور میں ایسے دھماکے کئے گئے تھے اور احمد آباد کے بعد سورت میں بھی 29 جگہوں پر بم پائے گئے تھے ۔خوش قسمتی سے یہ پھٹ نہیں پائے ۔ان قصورواروں کے سامنے اوپری عدالت جانے کا دروازہ بے شک کھلا ہے لیکن اسپیشل عدالت کے اس فیصلے کی اہمیت یہ ہے کہ دیش کو دہلانے والے معاملے میں سخت سے سخت سزا دے کر اس نے تباہ کن طاقتوں کو سخت سندیش دینے کی کوشش کی ہے ۔ (انل نریندر )

22 فروری 2022

دہلی پولیس کی قربانی و وقف کا کوئی مول نہیں!

دیش کی آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت دہلی پولیس کے یوم تاسیس کے 75ویں برس پر منائی گئی تقریب میں مہمان خصوصی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی پولیس پریڈ کی سلامی لی اور پریڈ کا معائنہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہر پولیس ملازم کے سامنے پہلی چنوتی اپنی خوشیا ں لٹاکر ہماری اور آپ کی خوشیا ں بنائے رکھنے کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس ملازم ہمیشہ سماج میں اپنے نظام بنائے رکھنے میں اپنی پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں ۔ پولیس ملازم کی قربانی ،خود کو وقف کرنے اور اس کی فرض ایمانداری کی کوئی مول سے نہیں پرکھا جاسکتا۔اس موقع پر امت شاہ نے کووڈ 19-وبا کے دوران دہلی پولیس کے جوانوں نے فرنٹ لائن پر کھڑے ہوکر لوگوں کی خدمت کی ہے۔ لوگوں کو اسپتال میں بھرتی کرایا ہو یا ان کے گھر آکسیجن سلینڈر پہونچا یا ہو وہ کبھی پیچھے نہیں رہے ۔یہاں تک کہ دہلی پولیس کے جوانوں نے لاشوں کا انتم سنسکار بھی کیا ۔ اس دوران 79جوانوں نے نا گذیں حالات میں اپنی جان تک کہ قربانی دے دی۔مر کزی وزیر داخلہ نے شہید جوانوں کو شردھانجلی پیش کی اور کہا کہ دہلی پولیس نے ناتھ ایسٹ دہلی میں دنگو کے دوران قابل تحسین کاروائی کی ہے ۔ خاص طور سے فساد کی منصفانہ اور سختی سے جانچ کیلئے میں دہلی پولیس کو بدھائی دیتا ہوں ۔ انہوں نے دہلی پولیس کو اگلے پانچ سال 25سال کے اچھے مقاصد کے اصول کیلئے باقاعدہ روڈ میپ تیا ر کرنے کی نصیحت دی ۔بتادیں کہ 16فرروی کو دہلی پولیس کے یوم تاسیس کے 75ویں برس میں انٹر ہو گئی ہے ۔دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے اس موقع پر کہا کہ 1948میںدہلی پولیس آزاد پولیس فور س کی شکل میں وجود میں آئی تھی ۔75برسوں کے ساتھ دہلی پولیس نے پولیسنگ کے مختلف سیکٹر میں اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ۔ اس موقع پر امت شاہ نے سات پولیس بلڈنگ پروجیکٹ کا افتتاح کیا ۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کمشنر راکیش استھا نہ نے ای-نیوز لیٹر قصہ خاکی کا لانچ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس میں اس برس پانچ ہزار جوانوں کو پروموشن ملا ہے۔اور اس کے علاوہ 48جوانوں کو آو¿ٹ آف ٹرم پروموشن ملاہے ۔ اور 45جوانوں کو غیر معمولی کام کیلئے نوازا گیاہے۔ دہلی پولیس نے بلا شبہ دہلی کے شہریوں کو محفوظ رکھنے میں لائق تحسین کام کیاہے۔راجدھانی دہلی ہونے کے سبب آئے دن کوئی نہ کوئی خطرہ بنا رہتا ہے۔حال ہی میں دہشت گردوں پلان کو دہلی پولیس نے ناکام کیا ہے۔ ان کی خدمت کا کوئی مول نہیں ہے۔ (انل نریندر)

کیجریوال پر لگے الزامات کی جانچ ہوگی!

پنجاب میں پولنگ سے محض دو دن پہلے علیٰحدگی پسندی پر سیاسی درجہ حرارت انتہا کو پہنچ گیا عام آدمی پارٹی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال پر ان کے پرانے ساتھی کمار وشواس کے الزامات پر جمعہ کو اپوزیشن نے جارحانہ رخ اپنا لیا ۔خالصطانی علیحدگی پسندوں سے رشتوں کو لیکر کیجریوال کے خلاف کمار وشواس کے دعوو¿ں کی وزارت داخلہ جانچ کروائے گا ۔ جمعہ کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پبجاب کے وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی کو خط لکھ کر یہ جانکاری دی اور معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی یقین دہائی کرائی۔اس سے پہلے وزیر اعلیٰ وزیر اعظم کو خط لکھکر معاملے کی جانچ کی مانگ کی تھی ۔امیت شاہ نے چنی کو خط لکھا کہ عام آدمی پارٹی اور ممنوعہ سکھ فار جسٹس کے درمیان مبینہ رشتوں کی جانچ کرائی جائے گی۔ امیت شاہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت سرکار نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے ۔اور وہ شخصی طور سے یہ یقینی کریں گے معاملے کو تفصیل سے دیکھا جائے ۔کمار وشواس کی طرف سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروندکیجریوال پر خالصتانی حمایتیوں کا ساتھ دینے کا الزام لگائے جانے کے بعد پنجاب کی سیاست گرما گئی ہے۔ کمار وشواس نے ایک انٹر ویو میں کیجریوال پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ یا خالصتان کا وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔اس الزام کو لیکر وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ کسی کو بھی دیش کے اتحا داور سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے نہیں دیا جائے گا۔ شاہ نے کہا کہ یہ بے حد قابل مذمت ہے کہ اقتدار میں آنے کیلئے کچھ لوگ علیحدگی پسندوں سے ہاتھ ملانے و پنجاب اور دیش کو توڑ نے کی حد تک چلے جاتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ چنی نے وزیر اعظم کو لکھے خط کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں سکھ فار جسٹس (ایس ایف جے )کا ایک خط ملا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ گروپ مسلسل عام آدمی پارٹی رابطے میں ہے ۔ایس ایف جے کے خط میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے 2017کے پنجاب اسمبلی چناو¿ میں عآپ کو حمایت دی تھی اور اسی طرح اس چناو¿ میں بھی حمایت کرے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا ایس ایف جے ووٹوں کو عآپ پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے ۔چنی نے اپنے خط میں کہا کہ سیاست کے علاوہ پنجاب کے لوگوں نے علیحدگی پسندی سے لڑتے ہوئے بھار ی قیمت چکائی ہے۔بصد احترام وزیر اعظم کو ہر پنجابی کی پریشانی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔الزام بہت سنگین ہے معاملے کی گہر ی جانچ ہونے چاہیے ،ثبوتوں کی بنیا دپر قصور ثابت ہونا چاہئے ۔ ہوائی الزمات سے کام نہیں چلے گا۔ (انل نریندر)

20 فروری 2022

ہر شہر ی کے بنیادی حقوق کی حفاظت کریں گے !

سپریم کورٹ نے کرناٹک کے حجاب تنازعہ میں دخل دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسے قومی سطح پر طول نہ دینا چاہئے ۔ بڑی عدالت نے ہر شہری کے بنیاد اختیارات کی حفاظت کا بھروسہ دیتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضی پر یہ نصیحت دی کہ تنازعہ کو قومی سطح پر پھیلا نا نہیں چاہیے ۔اگر کسی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو عدالت مناسب وقت پر دخل دے گی ۔ چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی والی بنچ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے انترم حکم کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کررہی تھی ۔ جس میں حکم پر روک لگانے کی درخواست کی گئی تھی ۔عرضی گزار کے وکیل سے بنچ نے اس مسئلے کو قومی سطح پر لانا نا منا سب ہے؟ کسی کے آئینی حقوق کی خلا ف ورزی ہوتی ہے تو اس میں مداخلت کریںگے ۔ اس پر وکیل دیو دت نے کہا کہ عدالت نے طلبہ کو مذہبی پہچان دکھانے سے روک دیا اس مطلب آئین دفعہ 25کو معطل کرنا ہے ۔اس کے دور رس اثرات ہوںگے مساجد ،مدارس کے ڈاکٹر جے ہلی فیڈریشن ووقف ادارے نے اپنے رول کے بارے میں دلیل دی اور قطعی حکم نے مسلم اورغیر مسلم طالبات میں فرق کرکے سیدھے سیکولرزم پر حملہ کیا ہے ۔یہ آئین کی بنیادی ڈھا چے کا حصہ ہے۔چیف جسٹس نے بچا و¿ اور دفاع کے وکیل سے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔سبھی شہریوں کے آئینی حقوق کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ (انل نریندر)

کیا فلم منا بھائی ایم بی بی ایس دیکھی ہے!

پرائیویٹ میڈیکل کالج میں سیٹیں بڑھانے کیلئے فرضی مریض بھر تی کئے جانے کی حقیقت جان کر سپریم کورٹ بھی حیرا ن ہو گئی ہے۔بڑی عدالت نے مریضوں کی طرف سے پیش ایک وکیل سے پوچھا کہ کیا آپ نے فلم منا بھائی ایم بی بی ایس دیکھی ہے؟جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ و جسٹس سور یہ کانت کی بنچ نے پیر کو پھولے میں اناصاحب بڑھائک پاٹل میڈیکل کالج کے معاملے میں سماعت کررہی تھی ۔ بنچ نے کالج کے وکیل سے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جہاں اطفال میڈیکل وارڈ میں سبھی بچوں کو بغیر کسی بیماری کے بھر تی کیا گیا تھا ۔اسپتال میں فرضی مریض کیسے تھے؟ مکر سنکرانتی پر بیماری ختم نہیں ہوتی ہے ۔یہ معاملہ فرضی ریکارد کا ہے۔ این ایم سی نے جنوری میں ایک اچانک معائنہ کے بعد کالج میں ایم بی بی ایس کورس کیلئے طلبہ کی تعداد سو سے بڑھا کر 150کرنے کی اجازت واپس لے لی تھی ۔ اتنا ہی نہیں پہلے سے 100طلبہ کے داخلے کی کاروائی بھی معطل کردی ۔اس فیصلے کو کالج نے بمبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں پہونچ گیا ہے۔ (انل نریندر)

گھونگھٹ،پگڑی ،کراس پر روک نہیں تو حجاب پر کیوں؟

کرناٹک ہائی کورٹ میں بدھ کو چوتھے روز حجاب پہننے سے روکنے کے خلاف مسلم طالبات کی لڑکیوں پر سماعت ہوئی چیف جسٹس ریتو رتر اوستھی ،جسٹس کرشنا ایس دکشت اور جسٹس جے ایم کھوجی کی بنچ نے عرضی گزاروں کی طرف سے پیش وکیل نے کہا کہ گھونگھٹ ،دوپٹہ ،پگڑی اور بندی جیسے دھارمک علامتیں لوگ پہن اوڑھ رہے ہیں۔صر ف حجا ب کیوں نشانہ بنا یا جا رہا ہے؟ایک عرضی گزار کی طرف سے پیس ہوئے وکیل روی ورما کمار نے کہا کہ سماج کے سبھی طبقوں میں بہت سے مذہبی نشان ہیں،چوڑی پہنی جاتی ہے،کیا یہ مذہبی نشان نہیں ہے؟چوڑی پہننے اور ماتھے پر بندی لگانے والی لڑکی کو باہر نہیں کیا جا رہا کراس پہننے پر روک نہیںہے؟صرف غریب مسلم طالبات ہی پابندی کے دائرے میںکیوں؟ان کے مذہب کی بنیا د پرانہیں کلا س باہر کیا جا رہاہے۔یہ آئین کی دفعہ 15کی خلاف ورزی ہے۔بدھ کے روز بھی حجا ب پہنی مسلم طالبات کو کلا س میں جانے نہیں دیا گیا یہ امتیاز پر مبنی ہے۔ کوئی نوٹس تک نہیں دیا گیا ۔ہمارا موقف نہیں سنا جا رہا ہے سیدھے سزا دی جارہی ہے۔اس سے زیا دہ اور کیا ہو سکتاہے؟دراصل ریاست میں تعلیمی اداروں میں حجا ب پر روک لگانے کے بعد معاملہ ہائی کورٹ پہونچا ہے ۔ انترم حکم میں عدالت نے جمع کو حجاب اور بھگوا گمچھے جیسی چیزیں پہن کر آنے پر روک لگا دی تھی اور اسکول کھولنے کو کہا تھا۔ اس سے پہلے طالبات کی طرف سے وکیل دیو دت کایت نے اپنا موقف رکھا تھا اور دلیل دی تھی کہ حجاب اسلام کا ضروری حصہ ہے مگر ریاست آئین کے تحت ملے حقوق میں دخل اندازی نہیں کر سکتی ہے۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...