اشاعتیں

جنوری 11, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جنگ کی چوکھٹ پر ایران -امریکہ!

ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہرون نے ایران اور امریکہ کو جنگ کی چوکھٹ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔احتجاجی مظاہروں کےبعد حالات اور خراب ہونے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اے اےزئی نے کہا ہے کہ گرفتار مظاہرین پر تیزی سے مقدمہ چل سکتاہے اور انہیں پھانسی کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود آیا ہے ، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پھانسی دیتا ہےتو امریکہ سخت کاروائی کرے گا۔تقریباً 130 گھنٹوں سے ایران میں انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورک ٹھپ ہے ۔امریکہ میں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اب تک کم سے کم 2571 لوگوں کی موت ہو چکی ہے ، جس میں 2403 مظاہرین ،147 سرکار حمایتی ،12 بچے اور عام شہری شامل ہیں ۔قریب 18100لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ۔ایران کی راجدھانی تہران میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے لئے اجتماعی آخری رسوم بھی کی گئیں جہاںڈیتھ ٹو امریکہ جیسے نعرے لگے ۔بھارت کے سفارتخانہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے اور بے حد چوکس رہنے کی صلاح دی ہے۔ٹرمپ نے دی کڑی ایکشن کی وارننگ ۔ٹرمپ نے ایک پیغام میں کہا کہ ایرانی حب الوطنوں احتجاج جاری رکھ...

آر پار کی لڑائی!

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور مرکزی سرکار کے بیچ اکثر ٹکراؤ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس بار مغربی بنگال اسمبلی کا چناؤ ہے اور یہ لڑائی اب آر پار کی بنتی نظر آرہی ہے ۔وائس چانسلروں کی تقرری سے لے کر گورنر کے کردار اور ایس آئی آر تک دونوں کے بھید کئی بار آمنے سامنے آچکے ہیں لیکن اب جو لڑائی ہے وہ آر پار کی لگتی دکھائی دے رہی ہے ۔اس بار فلیش پوائنٹ پر پہنچتی نظر آرہی ہے ۔ممتا بنرجی لمبے عرصہ سے مرکزی ایجنسیوں - ای ڈی ، سی بی آئی اور دیگر کو سیاسی ہتھیار کی شکل میں استعمال کرنے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ٹی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایجنسیاں بھاجپا سرکار کے اشاروں پر کام کررہی ہیں ۔خاص کر چناؤ سے پہلے ۔مثال کے لئے حال ہی میں ای ڈی کی چھاپہ ماری کےد وران ممتا بنرجی کی سرگرمی کو لیا جاسکتا ہے لیکن پالیٹیکل کنسلٹنگ فرم آئی -پیک اور اس کے چیف پرتیک جین کے ٹھکانوں پر ای ڈی کے چھاپوں کی وجہ سے جو ٹکراؤ چل رہا ہے اس نے مرکز اور ریاستی ایجنسیوں کو بھی آمنے سامنے لادیا ہے ۔ای ڈی کا الزام ہے کہ ممتا نے اس کی کاروائی میں رکاوٹ ڈالی اور بنگال پولیس ان کی سرکار کی ہدایت پر منی لانڈرن...

ہزاروںایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں ٹرمپ کے ہاتھ!

ایران میں مہنگائی کےخلاف 13 دنوں سے چل رہے مظاہرے کے درمیان جمعرات کی رات حالات اور بے قابو ہو گئے ۔ایک نیوز رپورٹ کے مطابق دیش بھر میں 100 سے زیادہ شہروں میں مظاہرہ پھیل چکا ہے ۔مظاہرین نے سڑکیں بلاک کیں ،آگ لگائی ۔لوگوں نے خمینی کی موت اور اسلامی رپبلک کا خاتمہ ہوا۔جیسے نعرے لگا رہے تھے ۔کچھ جگہوں پر مظاہرین کراؤن پرنس رضا پہلوی کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے، وہ نعرہ لگا رہے تھے یہ آخری لڑائی ہے ۔شاہ پہلوی لوٹیں گے ۔امریکن ہیومن رائٹ ایجنسی کے مطابق ،مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد میں اب تک 200 لوگ مارے گئے ہیں جن میں 8 بچے شامل ہیں۔ایک پولیس افسر کو بھی چاقو مار کر موت کی نیند سلادیا گیا ۔جبکہ 2270 سے زیادہ لوگوں حراست میں لیا گیا ہے ۔ایران میں مہنگائی کے خلاف عام لوگوں کے احتجاجی مظاہرے آہستہ آہستہ تہران بنام واشنگٹن ہوتے جارہے ہیں ۔ایرانی میڈیا کھلے عام کہہ رہا ہے کہ مظاہرین کو سی آئی اے اور موساد ہوا و مدد دے رہا ہے۔مظاہرے کی آڑ میں واشنگٹن اور تل ابیب دراصل تبدیلی اقتدار کروانا چاہتا ہے۔وہ خامنہ ای کو بھگانا چاہتا ہے اور ایران کی ملا شاہی اقتدار کو اکھاڑ پھینک شاہ پہلوی کو اق...