Translater

17 جنوری 2026

جنگ کی چوکھٹ پر ایران -امریکہ!

ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہرون نے ایران اور امریکہ کو جنگ کی چوکھٹ پر لاکر کھڑا کر دیا ہے ۔احتجاجی مظاہروں کےبعد حالات اور خراب ہونے کے اشارے مل رہے ہیں ۔ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اے اےزئی نے کہا ہے کہ گرفتار مظاہرین پر تیزی سے مقدمہ چل سکتاہے اور انہیں پھانسی کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ کے باوجود آیا ہے ، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران پھانسی دیتا ہےتو امریکہ سخت کاروائی کرے گا۔تقریباً 130 گھنٹوں سے ایران میں انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورک ٹھپ ہے ۔امریکہ میں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اب تک کم سے کم 2571 لوگوں کی موت ہو چکی ہے ، جس میں 2403 مظاہرین ،147 سرکار حمایتی ،12 بچے اور عام شہری شامل ہیں ۔قریب 18100لوگ گرفتار کئے گئے ہیں ۔ایران کی راجدھانی تہران میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے لئے اجتماعی آخری رسوم بھی کی گئیں جہاںڈیتھ ٹو امریکہ جیسے نعرے لگے ۔بھارت کے سفارتخانہ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے اور بے حد چوکس رہنے کی صلاح دی ہے۔ٹرمپ نے دی کڑی ایکشن کی وارننگ ۔ٹرمپ نے ایک پیغام میں کہا کہ ایرانی حب الوطنوں احتجاج جاری رکھو ،اپنے اداروں پر قبضہ کرو ،نہ سزائے موت دئے جانے کی صورت میں بہت بڑی کاروائی کریں گے اگر وہ ایسا کچھ کرتے ہیں تو ہم سخت کاروائی کریں گے ۔ جاری احتجاج کے درمیان امریکی فوجی کاروائی کی بات کہی جارہی ہے۔صدر ٹرمپ بھی ایسا کئی بار کر چکے ہیں ۔امریکہ کے اندر ایران میں اقتدار تبدیلی کی بات لمبے عرصہ سے اٹھتی رہی ہے ۔امریکہ نے ایران میں 1953 میں اقتدار تبدیلی بھی کی تھی لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب نے امریکہ حمایتی سرکار کو معزول کر دیا تھا اور آیت اللہ خمینی کا راج قائم ہو گیا تھا تبھی سے امریکہ -ایران کے اس ملا راج کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔اور تختہ پلٹ کر اپنی حمایتی سرکار بنانا چاہتا ہے ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے جس کا بہت وقت سے امکان ہے توایران کے ساتھ کون کھڑا رہے گا؟ روس اور چین ایران کے اہم ساجھیدار ہیں اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ یہ امریکی فوجی کاروائی کی کھل کر مخالفت کریں گے اور کر بھی رہے ہیں ، لیکن کیا یہ حمایت زبانی جمع خرچ ہوگی یا پھر کھل کر لڑائی کے میدان میں  اتریں گے؟لیکن سوال اہم ہے جہاں تک عرب ممالک کا سوال ہے یہ کھل کر نہ تو حمایت کررہے ہیں اور نہ ہی مخالفت ۔یہ بات صحیح ہے کہ عوام کے غصہ کو زبردست ایکشن سے دبانا مناسب نہیں ، لیکن کسی ملک کی سرداری کی خلاف ورزی کا بہانا بھی نہیں بنایاجا نا چاہیے ۔اگر ٹرمپ حقیقت میں مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تہران کے ساتھ تجارت پر لگائے گئے 25 فیصد فاضل ٹیرف سمیت ان تمام پابندیوں کو ہٹانے پر غور کرنا چاہیے ، جن کا اثر خاص کر عام لوگوں پر پڑرہا ہے ۔ایران میں اس وقت ضرورت ہے ٹکراؤ ٹال کر بات چیت کا راستہ اپنانے کی ۔اس کی شروعات سرکار کی طرف سے ہونی چاہیے ۔وہاں کی جنتا لمبے عرصے سے مشکل حالات کا سامنا کررہی ہے ۔اس کا وقتاً فوقتاً اس کی ناراضگی لوگوں کے ذریعے باہر آتی رہی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں ٹکراؤ ٹلتا ہے اور جنگ کی حالت نہیں بنتی ۔ (انل نریندر)

15 جنوری 2026

آر پار کی لڑائی!

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور مرکزی سرکار کے بیچ اکثر ٹکراؤ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس بار مغربی بنگال اسمبلی کا چناؤ ہے اور یہ لڑائی اب آر پار کی بنتی نظر آرہی ہے ۔وائس چانسلروں کی تقرری سے لے کر گورنر کے کردار اور ایس آئی آر تک دونوں کے بھید کئی بار آمنے سامنے آچکے ہیں لیکن اب جو لڑائی ہے وہ آر پار کی لگتی دکھائی دے رہی ہے ۔اس بار فلیش پوائنٹ پر پہنچتی نظر آرہی ہے ۔ممتا بنرجی لمبے عرصہ سے مرکزی ایجنسیوں - ای ڈی ، سی بی آئی اور دیگر کو سیاسی ہتھیار کی شکل میں استعمال کرنے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ٹی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایجنسیاں بھاجپا سرکار کے اشاروں پر کام کررہی ہیں ۔خاص کر چناؤ سے پہلے ۔مثال کے لئے حال ہی میں ای ڈی کی چھاپہ ماری کےد وران ممتا بنرجی کی سرگرمی کو لیا جاسکتا ہے لیکن پالیٹیکل کنسلٹنگ فرم آئی -پیک اور اس کے چیف پرتیک جین کے ٹھکانوں پر ای ڈی کے چھاپوں کی وجہ سے جو ٹکراؤ چل رہا ہے اس نے مرکز اور ریاستی ایجنسیوں کو بھی آمنے سامنے لادیا ہے ۔ای ڈی کا الزام ہے کہ ممتا نے اس کی کاروائی میں رکاوٹ ڈالی اور بنگال پولیس ان کی سرکار کی ہدایت پر منی لانڈرنگ جانچ کو ناکام کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔وہیں ممتا کا الزام ہے کہ مرکزی سرکار اور اس کی ایجنسیاں سیاسی دباؤ بنانے کی کوشش کرنے میں لگی ہوئی ہیں ۔ممتا کا دعویٰ ہے کہ ای ڈی نے چھاپہ مار کر ثبوت نہیں بلکہ ان کی پارٹی کی چناوی سیاست سے متعلق دستاویز اٹھانے کی کوشش کی ۔ممتا کا چھاپہ کے دوران پہنچ کر کچھ فائلوں کو زبردستی ای ڈی افسران کے ہاتھ سے چھیننے کا بھی الزام لگا ہے ۔ای ڈی نے اس معاملہ میں وزیراعلیٰ ، پولیس چیف و دیگر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیاہے جہاں ابتدائی سنوائی بھی ہو گئی ہے ۔اس میں پہلے ای ڈی کولکاتہ ہائی کورٹ بھی گئی تھی جہاں 14 جنوری کو سماعت ہونی ہے وہیں ممتا کا کہنا ہے کہ وہ سی ایم کی حیثیت سے نہیں ،بلکہ ترنمول کانگریس کے چیف کے طور پر موقع پر پہنچی تھیں ۔حالانکہ یہ بھید کرنا مشکل ہے کہ وہ کب پارٹی چیف ہیں اور کب سرکار کی چیف ۔ممتا نے ای ڈی کی چھاپہ ماری کو سیاسی رنجش بتاتے ہوئے نہ صرف سڑک پر اتر کر احتجاج کیا ،بلکہ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ پر بھی سنگین الزام لگائے ممتا کے بھتیجے اور ٹی ایم سی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے بھی کہا کہ ایجنسیاں ہتھیار بند ہیں اور ان کے سہارے بھاجپا چناؤ میں ہیر پھیر کی کوشش کررہی ہیں ۔مغربی بنگال میں اسمبلی چناؤ کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا ہے ،سیاسی اتھل پتھل کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے ۔اب تو یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ کیا ریاست صدر راج کی سمت میں بڑھ رہی ہے ؟ یہ سوال اس لئے بھی باجواز ہے کہ حالیہ برسوں میں ممتا اور مرکزی ایجنسیاں ،گورنر اور فیڈرل ڈھانچہ سے جڑے اشوز پر بار بار چنوتیاں کھڑی کی ہیں ۔مرکز اور اپوزیشن پارٹیوں والے راجیوں کے بیچ ان بن کی پرانی تاریخ ہے لیکن بنگال میں مگر یہ زیادہ مشتعل نظر آتا ہے تو وجہ ہے کہ دونوں طرف سے طاقت بڑھانے اور کنٹرول کی کوشش ہے ۔یہ کسی سے چھپا نہیں ہے بی جے پی مغربی بنگال میں اپنی حکومت چاہتی ہے اور اس کے لئے سام ،دا م، ڈنڈ ،بھید سبھی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے ۔مشکل یہ بھی ہے کہ مغربی بنگال میں ڈبل انجن کی سرکار نہیں ہے وہیں وہاں کی افسر شاہی پر ممتا کا کنٹرول ہے اس لئے صرف اپنی ایجنسیوں کا استعمال کررہی ہے ۔آئینی اداروں کے بیچ اس طرح کی لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ ممتا آر پار کی لڑائی کے موڈ میں ہے ۔ (انل نریندر)

13 جنوری 2026

ہزاروںایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں ٹرمپ کے ہاتھ!

ایران میں مہنگائی کےخلاف 13 دنوں سے چل رہے مظاہرے کے درمیان جمعرات کی رات حالات اور بے قابو ہو گئے ۔ایک نیوز رپورٹ کے مطابق دیش بھر میں 100 سے زیادہ شہروں میں مظاہرہ پھیل چکا ہے ۔مظاہرین نے سڑکیں بلاک کیں ،آگ لگائی ۔لوگوں نے خمینی کی موت اور اسلامی رپبلک کا خاتمہ ہوا۔جیسے نعرے لگا رہے تھے ۔کچھ جگہوں پر مظاہرین کراؤن پرنس رضا پہلوی کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے، وہ نعرہ لگا رہے تھے یہ آخری لڑائی ہے ۔شاہ پہلوی لوٹیں گے ۔امریکن ہیومن رائٹ ایجنسی کے مطابق ،مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد میں اب تک 200 لوگ مارے گئے ہیں جن میں 8 بچے شامل ہیں۔ایک پولیس افسر کو بھی چاقو مار کر موت کی نیند سلادیا گیا ۔جبکہ 2270 سے زیادہ لوگوں حراست میں لیا گیا ہے ۔ایران میں مہنگائی کے خلاف عام لوگوں کے احتجاجی مظاہرے آہستہ آہستہ تہران بنام واشنگٹن ہوتے جارہے ہیں ۔ایرانی میڈیا کھلے عام کہہ رہا ہے کہ مظاہرین کو سی آئی اے اور موساد ہوا و مدد دے رہا ہے۔مظاہرے کی آڑ میں واشنگٹن اور تل ابیب دراصل تبدیلی اقتدار کروانا چاہتا ہے۔وہ خامنہ ای کو بھگانا چاہتا ہے اور ایران کی ملا شاہی اقتدار کو اکھاڑ پھینک شاہ پہلوی کو اقتدار پربٹھانا چاہتا ہے ۔اس کے پیچھے ایران کا تیل اور دیگر قیمتی معدنی چیزیں ٹرمپ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانی عوام مہنگائی،بے روزگار ی سے پریشان ہے اور اس لئے سڑکوں پر اتر رہی ہے ۔لیکن اس ناراضگی کا فائدہ ٹرمپ اٹھانا چاہتا ہے اور اس بہانے تبدیلی اقتدار کرنا چاہتا ہے۔لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا ۔ایرانی ایک بہت بہادر اور لڑاکو قوم ہے وہ اپنی سرکار سے ناراض تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ اپنے دیش کی کمان ٹرمپ کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہیں گے ۔مظاہروں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کو صاف اور سخت پیغام دیا کہ اسلامی جمہوریہ کسی بھی حالت میں پیچھے نہیں ہٹے گا ۔سرکاری ٹی وی پر نشر تقریر میں 86 سالہ خامنہ ای نے مظاہرین کو غیر ملکی حمایتی عناصر قرار دیا اور کہا کہ ان کا مقصد ایران کو کمزور کرنا ہے ۔خامنہ ای نے خاص طور سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی حملہ بولا۔انہوں نے کہا امریکہ کے صدر کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں ۔دراصل ایران کا مسئلہ بہت حد تک امریکہ اور مغربی ملکوں نے پیدا کیا ہوا ہے ۔برسوں سے ایران کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس وقت نیوکلیائی ہتھیاروں کے پروگرام پر روک نہ لگانے کے الزام میں امریکہ اور یوروپ نے ایران پر کئی طرح کی پابندیاں لاد رکھی ہیں ۔کچھ ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت آج ڈوبنے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔دہائیوں کی ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کو کبھی سنبھلنے کا موقع نہیں ملا ۔تازہ احتجاجی مظاہرہ دیش کے زیادہ تر حصوں میں پھیل چکا ہے۔انٹرنیٹ بند ہے اور دیگر شہریوں کی حفاظت کو لے کر پوری دنیا میں تشویش ہے لیکن یہ ایران کا اندرونی معاملہ ہے اور ایک مختار دیش کے معاملے میں امریکہ یا اور کسی دیش کو کودنے کا بھی اختیار نہیں ہے ۔امریکہ اور اسرائیل آئے دن ایران پر فوجی کاروائی کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ایران کی عوام کو ہی آخری فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ (انل نریندر)

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...