Translater

Congress لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Congress لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

26 جولائی 2012

کانگریس کس حد تک اتحادی دھرم نبھانے کو تیار ہے؟

یوپی اے سرکار کی مشکلیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ایک طرف تو سرکار کے اتحادی ساتھیوں نے حکومت اور کانگریس پارٹی کا ناک میں دم کررکھا ہے وہیں دوسری طرف کانگریس کے اندر بھی اب گھمسان مچ گیا ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی پہلے سے ناراض چل رہی ہے اور اب تو اس کے لیڈروں نے کانگریس لیڈر شپ کو وارننگ دینا شروع کردی ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی نے کانگریس کو وارننگ دی ہے کہ اگر یوپی اے اتحاد کیلئے تال میل کمیٹی اور ساتھیوں کے ساتھ مناسب برتاؤ جیسی ان کی مانگوں کا بدھوار تک کوئی حل نہیں نکلا تو وہ حکومت سے الگ ہوسکتی ہے۔ شرد پوار کی پارٹی نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر وہ مرکزی سرکار سے الگ ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر میں اتحادی حکومت پر بھی پڑے گا کیونکہ ریاست کے لیڈر کانگریس یوپی اے کیبنٹ سے الگ ہونے کے حق میں ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر میں کانگریس سرکار کے ساتھ پچھلے 13 سال سے اتحادی محاذ میں ہے۔ ابھی اتحادی این سی پی کے ساتھ کانگریس کی تکرار رکی نہیں تھی کہ پارٹی کے اندربھی بغاوت شروع ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے خلاف انہی کے ممبران اسمبلی نے ان کی شکایت پارٹی ہائی کمان سے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہان اپنی منمانی کررہے ہیں۔ ولاس راؤ دیشمکھ کے حمایتی 42 ممبران اسمبلی نے ایک شکایتی خط ہائی کمان کو لکھا ہے۔ اس میں پارٹی ہائی کمان سے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو فوراً عہدے سے ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ادھر شردپوار اینڈ کمپنی بغاوتی تیور دکھا رہی ہے تو ادھر کانگریس پارٹی ممبر اسمبلی بھی اپنے وزیر اعلی کے خلاف چارج شیٹ پیش کررہے ہیں؟شرد پواردباؤ بنانے میں ماہر ہیں اور کانگریس لیڈر شپ میں وہی یہ کام آج کل کررہے ہیں۔ کانگریس کی مشکل یہ ہوتی جارہی ہے کہ پارٹی کو مرکزی اورریاستی سطح پر مسلسل تضادی سیاست سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مرکز کی سیاست کہتی ہے کہ اسے اتحادی اور حمایتی پارٹیوں سے اچھے رشتے رکھنے چاہئیں تاکہ منموہن سنگھ سرکار بنی رہے جبکہ اس کی ریاستی یونٹ اس کی خلاف ہے کیونکہ انہیں وہاں اسی سیاسی پارٹیوں سے دو دو ہاتھ کرنے پڑ رہے ہیں جس کو مرکز میں آج کل بیحد دلار مل رہا ہے۔اس میں پہلا نمبر ترنمول کانگریس کے ساتھ ہے۔ دہلی میں کانگریس کو جتنا زیادہ ترنمول کی ضرورت ہے مغربی بنگال کی کانگریس یونٹ کو اتنی ہی نفرت ترنمول سے ہے۔ اسے گذشتہ دنوں ترنمول سے بے عزت ہونا پڑا ہے۔ پردیش کانگریس صدر پردیپ بھٹاچاریہ تو کئی بار کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ آخرمرکز میں اقتدار کی خاطر ہم کب تک ترنمول کانگریس ورکروں سے پٹتے رہے ہیں؟ اوپر سے ممتا آئے دن یہ کہتے نہیں تھکتییں کہ کانگریس اس کا ساتھ کل چھوڑتی ہے تو آج چھوڑ دے۔ اب تو ممتا نے کھلے عام یہ اعلان کردیا ہے کہ مغربی بنگال کے آنے والے اسمبلی چناؤ بغیر کانگریس کے ہی لڑے گی۔ پچھلی بار بھی ٹکٹ بٹوارے میں کانگریس کے ترنمول سے بیحد بے عزتی کا سمجھوتہ کرنا پڑا تھا۔ مہاراشٹر میں بھی کانگریس این سی پی کو لیکر یہ ہی دکھڑا رو رہی ہے۔ کہاں تو وہ اقتدار میں برابر کی سانجھے دار ہے اور ملائی دار وزارت این سی پی نے اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر کی کانگریس یونٹ کو یہ لگ رہا ہے کہ گھوٹالے پر گھوٹالے تو این سی پی کررہی ہے اور خمیازہ اسے نہ بھگتنا پڑ جائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ریاستی یونٹ ایک وائٹ پیپر لانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ شرد پوار اینڈ کمپنی کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر کسی قسم کا وائٹ پیپر مہاراشٹر حکومت لیکر آتی ہے تو ان کے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہوجائے گا جس کا خمیازہ اسے اسمبلی چناؤ میں بھگتنا پڑے گا۔ پرتھوی راج چوہان ایک ایماندار لیڈر کی ساکھ رکھتے ہیں اور وہ پوار اینڈ کمپنی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آنے والے ہیں اس لئے اب پوار کی کوشش ہے کہ چوہان کو ہٹوا ہی دیا جائے۔ اسی طرح اترپردیش کانگریس یونٹ بھی دکھی ہے۔ پردیش کے ایم پی کہہ رہے ہیں کہ مرکزی سرکار دونوں ہاتھوں سے سپا کو پیسہ لٹا رہی ہے۔ اس کا استعمال اس کے ہی خلاف ہونا ہے۔ اگر سپا سے اسی طرح کے رشتے کانگریس نبھاتی رہی تو اگلے چناؤ میں کانگریس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ 22 کی جگہ وہ دو سیٹوں تک محدود ہوجائے گی۔ کل ملاکر کانگریس ہائی کمان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مرکز میں اقتدار کی خاطر وہ ریاستوں میں اپنی یونٹوں کو کتنا نقصان پہنچانے کے لئے تیار ہے۔ ویسے ابھی تک تو کانگریس ہائی کمان کی یہ پالیسی رہی ہے کہ ریاست جائے بھاڑ میں مرکز میں اقتدار بنا رہنا چاہئے۔

24 جولائی 2012

شرد پوار کی لڑائی نمبردو کی حیثیت کیلئے نہیں ہے

تمام کوششوں کے باوجوداین سی پی اور کانگریس لیڈر شپ کے درمیان پیدا ہوئی سیاسی خلیج دور نہیں ہو پارہی ہے کیونکہ اس مرتبہ این سی پی چیف شرد پوار نے کافی اڑیل رویہ اپنالیا ہے۔ لگتا ہے اب یہ ہے کہ اب شرد پوار اینڈ کمپنی اپنی راہ طے کرچکے ہیں۔ این سی پی کے ترجمان ڈی پی ترپاٹھی کے مطابق این سی پی چیف نے ابھی تک اتنا کھل کر سرکار کے کام کاج کی مخالفت نہیں کی تھی اس لئے مہاراشٹر سرکار کو لیکر دہلی تک تال میل کی سطح پر سب کچھ بہتر نہیں تو این سی پی سرکار سے کنارہ کرنے کا من بنا چکی ہے۔ کیا پوار اس لئے کیبنٹ چھوڑنا چاہتے ہیں کانگریس لیڈر شپ انہیں منموہن سرکار میں نمبر دو کی پوزیشن دینے کو تیار نہیں ہے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تو بہانا ہے اصل میں پوار کا زیادہ جھگڑا مہاراشٹر میں وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے طور طریقوں کو لیکر ہے۔ کافی دنوں سے پوار اور پرتھوی راج کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے پوار اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کے مفادات کے خلاف ریاستی حکومت نے جو مہم چھیڑ رکھی ہے اس سے این سی پی خفا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کیبنٹ میں سینیرٹی میں دوسرے نمبر کی آڑ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی این سی پی نے یوپی اے سرکار پر دباؤ بنا کر سرکار سے باہر نکل جانے کی بات تک کہہ ڈالی ہے۔ شرد پوار کی اصل ناراضگی کی وجہ مہاراشٹر میں ہے۔ مہاراشٹر پوار کا اصل گڑھ ہے۔ جب سے پرتھوری راج چوہان وزیر اعلی بنے ہیں تبھی سے کانگریس اور این سی پی میں ٹکراؤ چل رہا ہے۔ پوار اینڈ کمپنی کا الزام ہے کہ کانگریس نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھ واڑا میں این سی پی کا اثر کم کرنے کے لئے وہاں کی ساری دیہی اسکیموں کوداؤ پر رکھا ہوا ہے۔ مہاراشٹر سرکار خور شری پوار اور ان کی لڑکی سپریا سلے اور پرفل پٹیل کے چناؤ حلقے میں مختلف اسکیموں کو لٹکانے کی سیاست پر چل رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کی ملی جلی حکومت ہے۔ شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار وزیر مالیات ہونے کے باوجود لاچار مانے جاتے ہیں۔ پرتھوی راج چوہان کی ساری فائلیں دبائے بیٹھے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شرد پوار کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے وزیر اعلی کے عہد میں ایک سینچائی اسکیم میں الاٹ بجٹ سے 26 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کی جانچ بھی ہے۔ اس پروجیکٹ میں پوار کے رشتے داروں کو ٹھیکے ملے تھے۔ اب اس پروجیکٹ پر ہوئے خرچ کی جانچ کی رفتار کو جہاں پوار سست کرنا چاہتے ہیں وہیں ایک معاملہ مہاراشٹر ہاؤسنگ گھوٹالے سے وابستہ ہے۔ دہلی میں بنے دوسرے مہاراشٹر سدن کی تعمیر کے وقت اس کی اسکیم رقم 52 کروڑ روپے تھی ،آخر میں یہ سدن تیار ہوتے ہوتے اس کی رقم 152 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ مہاراشٹر سدن گھوٹالے کی جانچ کی مانگ کو لیکر بھاجپا نیتا کرت سمیا نے حال ہی میں صدرسے بھی شکایت کی تھی اس معاملے میں بھی مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی چھگن بھجبل کے قریبی رشتے داروں کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ مہاراشٹر سدن میں گھوٹالے کی بات سامنے آنے پر خود صدر نے اپنے کو اس کے افتتاحی پروگرام سے الگ کرلیا۔ شرد پوار کو اندیشہ ہے کہ جس طرح بھاجپا اس مسئلے کو اٹھا رہی ہے اس سے بھی معاملے کی جانچ ہوئی تو ان کی پارٹی کیلئے پریشانی کھڑی ہوسکتی ہے۔پرفل پٹیل پر بھی طرح طرح کے الزام ہیں۔ خود شرد پوار کے وزیر ذراعت کی حیثیت سے غذائی درآمد برآمد کے معاملے بھی تنازعوں میں ہیں اس لئے لڑائی کی جڑ نمبر دو کی حیثیت کی نہیں۔ یہ معاملہ زیادہ سنگین ہے جو اتنی آسانی سے شاید ہی سلجھ پائے۔ دراصل شرد پوار کو اس بات کی فکر ہے کہ کہیں کانگریس لیڈر شپ اس سال کے آخر تک لوک سبھا کے وسط مدتی چناؤ نہ کروالے۔ پھر مہاراشٹر اسمبلی کے چناؤ بھی 2014ء میں ہونے ہیں۔ ویسے لوک سبھا چناؤ اگر اپنے مقررہ وقت اپریل2014ء میں ہوتے ہیں تو مہاراشٹر اسمبلی چناؤ اکتوبر 2014ء میں ہوں گے۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں این سی پی کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر اسمبلی چناؤ پر بھی سیدھا پڑ سکتا ہے۔ سوال تو اب مہاراشٹر میں کانگریس ۔این سی پی اتحاد سرکار کے مستقبل کو لیکر بھی کھڑا ہورہا ہے۔ دوسری طرف شیو سینا میں آئی دراڑ ختم ہوچکی ہے۔ راج ٹھاکرے اور اوددھو ٹھاکرے کے درمیان بھی دوریاں کم ہورہی ہیں۔ اگر شیو سینا ایک ہوجاتی ہے تو شیو سینا ، ایم این ایس اور بھاجپا مہاراشٹر میں کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کی چھٹی کر سکتی ہے۔اس لئے معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ یہ لڑائی صرف نمبر دو کی حیثیت کی نہیں اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

18 جولائی 2012

سرکار میں نمبر2-کی لڑائی کھل کر سامنے آئی

میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ مسٹر پرنب مکھرجی کے یوپی اے سرکار سے رخصت ہونے کے بعد سے اس منموہن سنگھ سرکار کو چلانا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ پرنب دا اس حکومت کے سنکٹ موچک تھے وہ ہر سیاسی مسئلے کا حل نکال لیا کرتے تھے۔ اب منموہن سرکار کو پرنب بابو کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ سلسلہ شروع ہوبھی گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبر دو کا معاملہ الجھ گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبردو کی حیثیت رکھنے والے پرنب مکھرجی کے صدر کے عہدے کے امیدوار بننے کے بعد ان کی کرسی کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔ پرنب کے سرکار سے باہر جانے کے بعد راشٹروادی کانگریس پارٹی کے چیف شرد پوار کی جگہ وزیر دفاع اے کے انٹونی کو وزیر اعظم کے بعد نمبردو کی جگہ دینے کا اشو یوپی اے اتحاد میں رسہ کشی کا سبب بن گیا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد منہ کھولنے والے مراٹھا سردار شرد پوار نے نائب صدر چناؤ کے لئے بلائی گئی میٹنگ سے دور رہ کر اپوزیشن کو یوپی اے کے اتحاد پرسوال اٹھانے کا ایک اور موقعہ دے دیا ہے۔ این سی پی کا کہنا ہے کہ وزیر ذراعت شرد پوار یوپی اے I اورII میں کیبنٹ کی سینیرٹی میں پرنب مکھرجی کے بعد وہ آتے تھے۔ مکھرجی کے سرکار سے استعفیٰ دینے کے بعد نمبردو کی حیثیت انہیں ملنی چاہئے۔ مکھرجی کے استعفے کے بعد ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں شردپوار کو وزیر اعظم کی بغل میں بٹھایاگیا۔ پی ایم او کی وزرا کی سیریز والی ویب سائٹ سے بھی ان کا نام دوسرے نمبر پر تھا مگر بعد میں ویب سائٹ سے فہرست ہٹا دی گئی۔ ادھر میٹنگ کے دو دن بعد کیبنٹ میں وزرا کی سینیرٹی کے زمرے میں تبدیلی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو سرکار میں نمبردو بنا دیا گیا ہے۔ اس کے احتجاج میں این سی پی نے سنیچر کو نائب صدر کا امیدوار طے کرنے کیلئے بلائی گئی یوپی اے کی میٹنگ میں حصہ لینے سے منع کردیا۔ این سی پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق آزادی کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب کیبنٹ میں سینیرٹی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس نیتا نے کہا کہ این سی پی ایسی پارٹی نہیں ہے جو چھوٹے چھوٹے اشوز پر ہنگامہ کرتی آئی ہے لیکن ایسا رویہ ہماری بے عزتی ہے اور ہم یہ بے عزتی برداشت کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں۔ این سی پی نے کبھی بھی اس سے پہلے کیبنٹ میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے یہ پہلا موقعہ ہے اور وجہ ہے شرد پوار کی بے عزتی۔ اپوزیشن نے اسے یوپی اے میں بکھراؤ کا ایک اور اشارہ دے دیا ہے۔ بھاجپا سکریٹری جنرل مختار عباس نقوی نے کہا کہ کانگریس اتحادی دھرم کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ صدارتی چناؤ کے بعد یوپی اے ٹوٹ جائے گا اور دیش کو وسط مدتی چناؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوار کا تجربہ اور سینیرٹی پرنب مکھرجی کے برابر ہے۔این سی پی کے ایک نیتا نے کہا کہ اس مسئلے پر رسمی خانہ پوری سے پارٹی اپنی طرف سے کانگریس سے کوئی بات نہیں کرے گی لیکن جو ہوا وہ بیحد اعتراض آمیز ہے۔

01 جون 2012

ریزرویشن کے نام پر اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش


مرکزی سرکار کو یہ معلوم تھا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے اس نے جو کانگریس پارٹی کو اقلیتی ووٹ دلانے کی امید سے اقلیتوں کے لئے جو ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دیا ہے اسے عدالت منسوخ کرسکتی ہے ۔ لیکن پھر بھی مرکز نے ایسا کیا جیسا کے امید تھی اور ویسا ہی ہوا۔ آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے مرکزی سرکار کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے سے انکار کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ کے دوران مرکز نے او بی سی کے 27 فیصد کوٹے سے ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ریزرویشن سبھی اقلیتی طبقوں کے لئے تھا۔ حالانکہ مانا جارہا تھا کہ اس اعلان کے پیچھے مسلم ووٹ بینک کو لبھانا تھا۔ عین وقت پر کئے گئے اعلان پر چناؤ کمیشن نے اسمبلی چناؤ تک عمل کرنے پر روک لگا دی تھی۔ سرکار نے نتیجہ اعلان ہونے کے ساتھ ہی اس کو نافذ کردیا۔ مرکزی حکومت نے ایک شگوفہ چھوڑا تھا جو اب عدالت نے منسوخ کردیا ہے۔ سبھی جانتے ہیں بھارت کے آئین میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مرکزی سرکار کا یوپی اسمبلی سے ٹھیک پہلے اٹھایا گیا یہ قدم مفادی سیاست پر مبنی تھا اور اقلیتوں کو خاص طور سے یوپی کے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی ایک کوشش تھی۔ ہائی کورٹ نے صاف کہا ہے کہ مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ محض مذہبی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہائی کورٹ نے اس اشو پر لاپروائی سے کام کرنے کیلئے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مرکز کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ یہ فیصلہ سچر کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر لیا گیا اور ایسا کرکے اس نے 2009ء کے چناؤ منشور میں درج اپنے وعدے کو پورا کیا ہے۔ باوجود اس سب کے یہ نہیں بتا سکی کہ جو وعدہ 2009 ء میں کیا گیا تھا اسے پورا کرنے میں 2012 ء تک اتنا عرصہ کیوں لگا۔ جب پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے پروگرام کا اعلان ہونے والا تھا تب یہ کیوں اعلان کیا گیا؟ شاید یہ ہی وجہ رہی ہو کہ چناؤ کمیشن نے چناؤ ہونے تک اس فیصلے پر عمل کیلئے روک لگادی۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے اس پر روک لگانے سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہ چناوی فائدے کے لئے لیا گیا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔اب سرکار اور کانگریس دونوں اقلیتی ریزرویشن پر ہائی کورٹ کی اس چابک کی مار سے نکلنے کا راستہ تلاشنے میں لگ گئے ہیں۔ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ سرکار آندھرا ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ دلیل یہ دی جائے گی کہ یہ فیصلہ مذہبی نہیں زبان کی بنیاد پر لیا گیا تھا۔ سرکار اپنی پارٹی کانگریس کو دلاسہ دے رہی ہے کہ سپریم کورٹ میں صحیح سے اپنا موقف رکھنے سے اقلیتی ریزرویشن کا معاملہ سلجھ جائے گا۔ سرکار اپنی ہار کو وکیلوں کے ذریعے ٹھیک طرح سے پیش نہ کرپانے کی وجہ مان رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں پچھڑوں کے لئے کوٹے کے اندر مسلمانوں کے لئے ایک یقینی کوٹے ہی بات رکھنے کی مضبوط دلیل دینی ہوگی۔ ہائی کورٹ چاہے گی کہ سرکار بتائے کہ اقلیتوں کو جو پسماندہ ہیں حقیقت میں کتنے پچھڑے ہوئے ہیں؟ وزیر قانون سلمان خورشید سے جب یہ ہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اٹارنی جنرل کے لئے عدالت کو سمجھانے کی مشکل نہیں ہوگی کیونکہ سرکار اقلیتی پسماندوں کے لئے الگ سے فہرست نہیں بنانے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا پسماندوں کے لئے ریزرویشن طے کرنے والے منڈل کمیشن نے جو خاکہ دیا سرکار اس کے دائرے کے اندر ہی کورٹ میں بات رکھے گی۔ وزیر قانون نے تسلیم کیاکہ سرکار آئین سے باہر نہیں جارہی ہے۔ سپریم کورٹ اس مسئلے پر کیا رخ اختیار کرتی ہے وقت ہی بتائے گا۔ اس سے انکار نہیں کہ اقلیتوں اور خاص طور پر مسلم سماج کی سماجی، اقتصادی سلامتی کے لئے مزید قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ایسا صرف چناوی فائدے یا ووٹ حاصل کرنے کے لئے کیا جائے۔ مسلم سماج اب سیاسی چال بازیوں میں پھنسنے والا نہیں۔ اس نے دیکھ لیا ہے کہ پچھلی چھ دہائیوں سے ان سیاسی پارٹیوں نے انہیں کیسے گمراہ کر محض ووٹ بینک کی خاطر استعمال کیا ہے۔
(انل نریندر)

31 مئی 2012

کانگریس کے ہاتھ سے پھسلتا آندھرا پردیش: گرفتاری کی سیاست


مدھیہ پردیش کے سابق مقبول وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی کے ممبر پارلیمنٹ بیٹے جگموہن ریڈی کی کرپشن کے الزامات میں گرفتاری پر ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا یہ ہونا ہی تھا۔ جگموہن ریڈی بہت دنوں سے کانگریس لیڈر شپ کی آنکھ کی کرکری بنے ہوئے تھے۔ تین دن کی گہری پوچھ تاچھ کے بعد سی بی آئی نے آمدنی سے زائد اثاثہ کمانے کے الزام میں انہیں گرفتار کرلیا۔ ا س سیپہلے آندھرا ہائی کورٹ نے بھی جگن کو پیشگی ضمانت دینے سے انکارکردیا تھا۔ جگن سے وابستہ کرپشن کے معاملوں میں ریاست کے بہت سے لیڈر، افسر، صنعتکار اور بچولئے پہلے ہی سی بی آئی کے شکنجے میں آچکے تھے اس لئے جگن کی پوچھ تاچھ اور گرفتاری کی پیشگوئی پہلے سے ہی چل رہی تھی۔ بحث تو یہ تھی کہ والد کی کرسی کی طاقت پر راتوں رات ارب پتی بنے اس نوجوان لیڈر کو سی بی آئی پہلے ہی دن سلاخوں کے پیچھے ڈال دے گی لیکن سی بی آئی نے یہ کام تیسرے دن کیا۔ اس تاخیر کے پیچھے کہیں اس نظریئے کو دور کرنا تو نہیں تھا کہ جگن کو سلاخوں میں ڈالنے کے سبب کے پیچھے کرپشن سے زیادہ سیاست چھپی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ راج شیکھر ریڈی کی حادثے میں موت کے بعد بیٹے جگن نے کانگریس کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر حادثے سے موت کے باعد راج شیکھر ریڈی کا انتم سنسکار بھی نہیں ہوا تھا کہ وہاں غم ظاہر کرنے گئے کانگریس کے اعلی نیتاؤں کے آگے جگن نے خود کو والد کی کرسی کا وارث بننے کی خواہش ظاہر کردی۔ پارٹی اعلی کمان کو یہ گوارہ نہیں تھا کیونکہ والد کی طاقت پر وسیع دولت کے مالک بن بیٹھے جگن کے کرپشن کے قصوں سے زیادہ اسے جگن کی آسمانی توقعات کا ڈر تھا۔ یہ جب ہے کہ گرفتاری سے جگن کو ہمدردی کا فائدہ ملنے اور کانگریس کو سیاسی نقصان ہونے کے آثار ظاہر کئے جارہے ہیں۔ اس تضاد کے لئے کسی حد تک خود کانگریس ذمہ دار ہے۔ اس نے کبھی یہ نہیں ظاہر ہونے دیا کہ جگن موہن ریڈی کو ناجائز کمائی اس کیلئے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ اسے پریشانی تب محسوس ہوئی جب جگن بڑی توقعات کے خواب دیکھنے لگے۔ وہ اپنے والد کے سیاسی جانشین ہونے کا دعوی کر بیٹھے یہ محض اتفاق نہیں کہا جاسکتا۔ جگن موہن ریڈی کے خلاف سی بی آئی جانچ اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے کانگریس سے الگ ہوکر وائی ایس آر کانگریس کے نام سے الگ پارٹی بنا لی۔ آندھرا پردیش کانگریس کا گڑھ رہا ہے۔ 2004ء اور پچھلے انتخابات میں بھی اسے سب سے زیادہ سیٹیں اسی ریاست سے ملی تھیں لیکن راج شیکھر ریڈی کے مرنے کے بعد ریاست میں جتنے بھی ضمنی چناؤ ہوئے ان سب میں کانگریس کو بری طرح منہ کی کھانی پڑی۔ تلنگانہ میں ٹی ایس آر کی بڑی طاقت اس کے لئے الگ درد سر بنی ہوئی ہے۔ 12 جون کو ریاست میں لوک سبھا کی 1 اور اسمبلی کی 18 سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہونے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ضمنی چناؤ میں بھی کانگریس کی جھولی خالی رہ سکتی ہے۔ اگلے لوک سبھا چناؤ میں بھی اب کانگریس وہ امید نہیں کرسکتی۔ اسے پچھلے چناؤ میں کامیابی ملی تھی۔ کل ملاکر کانگریس کے آندھرا پردیش ایک چنوتی بنتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

30 مئی 2012

ڈنر ڈپلومیسی سے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش


جوڑ توڑ کی سیاست میں ماہر کانگریس نے ایک بار پھر ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ یوپی اے II- کے تین برس پورے ہونے کے موقعہ پر منعقدہ تقریب میں ملائم سنگھ یادو کو دئے احترام کی فوراًاہمیت بھلے ہی نہ ہو لیکن اس سے کانگریس کی حکمت عملی صاف جھلکتی ملی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ نوجوان راہل گاندھی نے جس سماجوادی پارٹی کا حال میں ہوئے یوپی چناؤ میں چناؤ منشور پھاڑا تھا ،اسی ملائم سنگھ یادو نے صرف یوپی اے سرکار کی کارناموں کی رپورٹ کارڈ ہی جاری کی بلکہ ڈنر ٹیبل پر انہیں سونیا گاندھی نے اپنی ٹیبل پر جگہ دی۔ یوپی اے خاص طور سے کانگریس اور سپا کے رشتوں کو 1999 ء کی نظر سے دیکھنا چاہئے جب ملائم سنگھ یادو نے این ڈی اے سرکار کے ایک ووٹ سے گرنے کے بعد عین موقعہ پر سونیا گاندھی کو حمایت دینے کا خط دینے سے انکار کردیا تھا۔ اگر اس وقت سونیا گاندھی وزیر اعظم نہیں بن سکیں تو اس کی ایک وجہ ملائم کی مخالفت تھی ۔ اس کے بعد2004ء کو دوسرا موڑ آیا۔ جب ملائم اور اترپردیش میں تاریخی جیت حاصل کرنے کے بعد بھی یوپی اے سرکار کے بلاوے کا انتظار کرتے رہ گئے۔ اب یہ تیسرا دور شروع ہوا ہے۔ سیاست میں نہ تو کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی دوست۔اس لئے ہمیں تعجب نہیں ہوا جس سماجوادی پارٹی کا چناؤ منشور راہل گاندھی نے پھاڑا تھا آج اسی کے چیف کو عزت وہی پارٹی دے رہی ہے۔ کانگریس نے ملائم سنگھ کا اعزاز کرکے سیدھا سندیش ممتا بنرجی کو دینے کی کوشش کی ہے۔ بات بات پر یوپی اے سرکار کو آنکھیں دکھانے والی ممتا کے لئے یہ اشارہ ہے کہ اگر وہ کسی بات پر سرکار سے حمایت واپس لیتی ہے تو سپا کی ٹھنڈی چھاؤں میں سرکار کو سہارا مل سکتا ہے۔ ملائم کے سہارے سے کانگریس نے اتحادی پارٹی ترنمول کانگریس کو یہ احساس کرادیا ہے کہ اس نے بات بات پر مرکزی سرکار پر زیادہ دباؤ بنایا تو سپا سرکار کا حصہ بن سکتی ہے۔ مگر اسکے باوجود آج ملائم کا پلڑا بھاری دکھائی پڑتا ہے۔ یوپی اسمبلی چناؤ میں 225 سیٹیں جیتنے کے بعد اگر ان کی پارٹی انہیں پردھان منتری کے عہدے کے دعویدار کے طور پر دیکھ رہی ہے تو اس میں آنے والی سیاست کی کنجی بھی چھپی ہے۔ اس لئے ہمیں نہیں لگتا کہ ملائم سنگھ جیسا سیاست کا ماہر کھلاڑی کانگریسیوں کی چال بازی میں اتنی آسانی سے پھنس جائے گا۔ اترپردیش میں مرکز کی مدد کے لئے یوپی اے کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا ہمیشہ کی مجبوری ہے لیکن اگر وہ یوپی اے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ ان کے لئے ایک طرح سے خودکشی کے مترادف ہوسکتا ہے۔ یہ ہی بات ممتا بہن جی پر لاگو ہوتی ہے جن کی قیمت پر ملائم کے ساتھ آنے کی قیاس آرائیاں ہیں۔ ممتا بھی جانتی ہیں کہ آج یوپی میں بنے رہنا ہی ان کے لئے فائدے مند ہے کیونکہ سرکار میں رہ کر مغربی بنگال کے لئے وہ جوابدہ بن سکتی ہیں اور وہ سرکار سے باہر نکلنے پر نہیں بن سکیں گی۔ کانگریس کا ملائم کو اعزاز دینے کے پیچھے ایک اور وجہ یہ ہی ہوسکتی ہے کہ صدارتی چناؤ سر پر ہیں بغیرسپا کی حمایت سے کانگریس اپنا امیدوار چنوانے میں دقت محسوس کرسکتی ہے۔
(انل نریندر)

26 مئی 2012

پیٹرول کی قیمتیں:سمجھیں اس سرکار کے بہانے،چھلاوے اور چالاکی... (1)


میں نے کئی بار اسی کالم میں لکھا ہے کہ دیش اس سرکار اور مٹھی بھر تیل کمپنیوں کی دھاندلی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ سرکار ہر مرتبہ پیٹرول کے دام بڑھا کر اپنا پلہ یہ کہہ کر نہیں جھاڑ سکتی کہ ہم کیا کریں یہ فیصلہ تو تیل کمپنیوں کا ہے۔ دیش چاہتا ہے کہ ان تیل کمپنیوں کی جھوٹی دلیلوں اور سرکار کی بدنیتی کا پردہ فاش ہو لیکن اس سے پہلے کہ میں تیل کمپنیوں کی بے بنیاد دلیلوں کی بات کروں میں چاہتا ہوں ہم اس حکومت کے سوچنے کے ڈھنگ کو سمجھیں۔ ماہر اقتصادیات اور وکیلوں سے بھری پڑی کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکار پیٹرول کو امیروں کا ایندھن مان بیٹھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دیش کے60 فیصدی سے زائد اسکوٹر، آٹو رکشہ کی بکری چھوٹے شہروں اور دیہاتی علاقوں میں ہوتی ہے۔ میٹرو شہروں میں مختلف درمیانے طبقے ہی پیٹرول کا سب سے بڑا گراہک ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا اثر ہر اس طبقے پر پڑتا ہے۔ ان کی آمدنی تو اتنی بڑھی نہیں اور خرچ بے شمار بڑھتے جارہے ہیں۔ یہ اپنا گھر بار کیسے چلائیں، کیا کام پر جانا چھوڑدیں؟ کیا کریں۔ جہاں تک ان تیل کمپنیوں کی بات ہے تو بھارت کی یہ بدقسمتی ہے کہ 90 فیصدی تیل تجارت پر سرکاری کمپنیوں کا کنٹرول ہے اور سرکار کی مانیں تو یہ کمپنیاں عوام کو سستا تیل بیچنے کے سبب بھاری خسارے میں ہیں۔ دوسری طرف نامور میگزین فارچون کے مطابق دنیاکی بڑی500 کمپنیوں میں بھارت کی تینوں سرکاری کمپنیاں انڈین آئل(98)، بھارت پیٹرولیم (271) اور ہندوستان پیٹرولیم (355) شامل ہیں۔ تیل اور گیس کی تلاش سے وابستہ دوسری سرکاری کمپنی او این جی سی بھی فارچون کی 500 کی فہرست میں 360 ویں درجے پر ہے۔ پھر ہر سال یہ وزیر اعظم کو موٹے موٹے حقیقی منافع کے چیک بھی دیتی ہیں۔ آخر یہ کیا اتفاق ہے کہ سرکار خسارے کا دعوی کررہی ہے لیکن تیل کمپنیوں کی بیلنس شیٹ ٹھیک ٹھاک ہے؟ 2011ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن کی 7445 ایچ پی سی ایل کو 1539 اور بی پی سی ایل کو 1547 کروڑ کا فائدہ ہوا، وہ بھی ٹیکس چکانے کے بعد۔ اس حقیقت کے بعد بھی سرکار مسلسل ان کمپنیوں کے خسارے کی جھوٹی دلیلوں سے باز نہیں آرہی ہے۔ ہمیں اس سرکار کے بہانوں ،چھلاوے اور چالاکی کو سمجھنا ہوگا۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ کی دلیل دی جارہی ہے۔ تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ 80 فیصد تیل بیرون ملک سے منگانا پڑتا ہے اور اس کی ادائیگی ڈالر میں کرنا پڑتی ہے۔ کیونکہ ڈالر اس وقت56 روپے کا ہوچکا ہے اس لئے زیادہ قیمت دینی پڑ رہی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ15 مئی 2011ء کو جب پیٹرول پانچ روپے مہنگا ہوا تب بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت 114 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت 46 روپے ۔ اس حساب سے ہمیں کچے تیل کے لئے 5244 روپے چکانے پڑتے تھے۔ آج کچا تیل 91.47 روپے بیرل ہے اور ایک ڈالر 56 روپے کا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کے بھاؤ سے ایک بیرل تیل 5056 روپے کا ہے یعنی کچا تیل148 روپے بیرل تب سے سستا ہے۔اب بات کرتے ہیں کچے تیل کے نام پر چھلاوے کی۔ کیونکہ تیل کمپنیوں نے 26 جون2010ء (جب پیٹرول کنٹرول سے آزاد ہوا تھا) تو کہا تھا کہ کچے تیل کی بین الاقوامی بازار میں قیمتوں کو ذہن میں رکھ کر دیش میں پیٹرول کے دام طے ہوں گے۔ سرکار اور کمپنیوں نے مل کر پچھلے دو سال میں14 مرتبہ کچے تیل کے نام پر پیٹرول کے دام بڑھائے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ پہلے جب عالمی منڈی میں کچے تیل کا دام 114 ڈالر فی بیرل تھا تب بھی تیل کمپنیاں خسارہ بتا رہی تھیں آج کچے تیل کا بھاؤ91.47 ڈالر ہے تو ابھی بھی گھاٹا ہورہا ہے۔ روپے کی قیمتیں گرنا بھی ایک طرح سے چھلاوا ہے کیونکہ15 مئی 2011ء سے اب تک ڈالر10 روپے مہنگا ہوا ہے اور کچا تیل 22 ڈالر سستا ہوچکا ہے لیکن اس دوران پیٹرول کی قیمتوں میں صرف تین بار معمولی کمی آئی ہے۔ خسارے کے نام پر چالاکی۔ کیونکہ سرکاری تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کے علاوہ سرکار کے کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے ڈیزل ، رسوئی گیس اور مٹی کے تیل کی قیمتیں نہیں بڑھنے سے بھی ان کا خسارہ بڑھا ہے۔ ڈیزل کی قیمت آخری بار 26 جون2011ء کو بڑھی تھی۔ تینوں کمپنیوں کا دعوی ہے انہیں اس سال 1.86 لاکھ کروڑ روپے کا خسارہ ہوگا۔ سچ کیا ہے؟ سچ یہ ہے کہ تیل کمپنیاں بھاری منافع کما رہی ہیں۔2011ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق او این جی سی کو 7445 کروڑ روپے ، ایچ پی سی ایل کو 1539 کروڑ روپے، بی پی سی ایل کو1547 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے۔ ویسے بھی ٹیکس دینے کے بعدڈیزل گیس اور مٹی کے تیل پر خسارے کی بات بھی جھوٹی ہے کیونکہ سرکار اس پر سبسڈی دے رہی ہے۔(جاری)
(انل نریندر)

13 مئی 2012

ایسے لیپا پوتی جائزے سے کانگریس کا کوئی بھلا نہیں ہوگا



Published On 13 May 2012
انل نریندر
اترپردیش میں کانگریس چناؤ ہاری اس کا جائزہ لینے کے لئے پچھلے کئی دنوں سے کانگریس میں غور و خوض چل رہا ہے۔ کئی میٹنگیں ہوئیں ، کئی کمیٹیاں بنیں لیکن آخر میں نتیجہ وہی صفر نکلا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے لیپا پوتی کرتے ہوئے پارٹی میں گروپ بندی اور ڈسپلن شکنی کو برداشت نہ کرنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہم نے سوچا تھا کہ سونیا جی پارٹی کے لئے ہار کے ذمہ دار لوگوں پر سخت کارروائی کریں گی لیکن انہوں نے ایسا نہ کرنا بہتر سمجھا اور ڈرا دھمکاکر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ ایسی وارنگ سونیا پہلے بھی دے چکی ہیں۔ براڑی میں دو سال پہلے ہوئے کانگریس اجلاس میں سونیا گاندھی نے ورکروں سے گروپ بندی چھوڑ کر کمر کسنے کو کہا تھا۔ پچھلے سال دہلی میں بھی پارٹی کے ایک اجلاس میں سونیا نے عہدے کا لالچ رکھنے والوں پر چٹکی لیتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس میں سب کا نمبر آتا ہے۔ سونیا کے قول کا کانگریسیوں پر کوئی اثر نہیں ہوا، نہ ہی انہوں نے سونیا کی بات کو سنجیدگی سے لیا۔ نتیجہ سامنے ہے ۔ کانگریس پچھلے دو سال سے بہار، یوپی، پنجاب ،گووا ہار چکی ہے۔ آندھرا پردیش میں بھی اس کی حالت خستہ ہے۔ راجستھان میں گہلوت سرکار کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن رہی ہو یا پچھلا دہلی میونسپل چناؤ ، سب جگہ کانگریس کو جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے ہیں۔ بہار یوپی میں تو چناوی کمان راہل گاندھی کے ہاتھوں میں تھی لیکن سونیا نے خود پر اور راہل پر ذمہ داری لے کر ایک نئے تنازعے کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کردیا اور اس سے پہلے کے کوئی راہل گاندھی پر انگلی اٹھائے معاملے کو ہی ختم کردیا گیا۔ یہ ٹھیک ہے جمہوری نظام کا پہیہ چناؤ ہے لیکن جس بنیاد پر چناوی کمیابی ملتی ہے اور اس کی سوچ طریقہ کار بھی معنی رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے ہی اقتدار ملتا ہے جو عوامی کام کو کرا پاتے ہیں۔ کانگریس کو یہ نظریہ وراثت میں ملا ہے پھر بھی وہ حالیہ دہائی میں اگر اس سے ڈگماتی ہوئی لگتی ہے تو اس پر اس کو سنجیدگی سے غورکرنا چاہئے لیکن خود جائزہ ایسا نہیں ہونا چاہئے جس کا کوئی مطلب نہ نکلے۔موجودہ حالات میں یہ کہنا تکلیف دہ ہے کہ کانگریس بھی اپنی کمزوری اور ہار کے اسباب پر منتھن کہنے بھر کے لئے کرتی ہے۔ حقیقی معنی میں وہ ایسا کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ اگر کانگریس سنجیدہ ہوتی تو مختلف ریاستوں میں وقتاً فوقتاً ہوئی شکستوں اور اس کے جائزے کے لئے تشکیل کمیٹیوں کی طرف سے گنائے جانے والے اسباب ابھی تک دور نہیں کئے گئے۔یقینی طور سے کانگریس کسی سینئر لیڈر شپ کو یہ معاملوں ہے کہ پردیش میں علاقائی سطح کے اپنے اپنے گروپ ہیں اور عام ورکروں کی جگہ ان کے چاپلوس ہیں ،جس سے وہ گھرے رہتے ہیں ۔وہ عام ورکروں کے بھی نیتا ہیں ایسا نہیں مانتے۔ ممکنہ طور پر اس کی ایک وجہ نیتاؤں کے ورکروں میں جوش بھرنے کی جگہ اپنے مفادات حاوی ہوئے ہیں۔ وہ یہ مان کر چلتے ہیں کہ ووٹ ڈلوانے کے لئے گاندھی خاندان کافی ہے۔ اس کے آگے نہ تو انہیں مہنگائی کا نہ کرپشن کا اور نہ ہی بڑھی بے روزگاری کا اشو ہوتا ہے۔ ان کے سامنے بنیادی پریشانیاں جیسے بجلی پانی کے مسئلوں پر حل کے لئے لوکپال ، لوک آیکت کی تقرری ضروری ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کانگریسی چھٹ بھیا یہ بھی نہیں سمجھنا چاہتے کہ اب گاندھی خاندان کا وہ کرشمہ نہیں رہا۔ پہلے بہار اور اترپردیش میں یہ جتادیا ہے کہ گاندھی خاندان ووٹ کھینچو یا چناؤ جیتنے کی گارنٹی اب نہیں ہے۔ سارا زور لگاکر بھی گاندھی خاندان کی تین پیڑھیوں کے وارث اترپردیش کے چہیتے نہیں ہوسکے۔ بہار بے تو سرے سے راہل گاندھی کو ٹھکرا ہی دیا ہے۔ اس لئے ان کی ٹیم کے باقی لیڈروں نے کچھ ٹھوس کام ہی نہیں کئے۔ عوام میں وہ یہ بھروسہ پیدا نہیں کر سکے کہ کانگریس کو ووٹ دینے میں ہی ان کی بھلائی ہے۔ غورتو اس بات پر ہونا چاہئے کہ ٹیم راہل زمین پر کم ہوائی زیادہ کیوں ہورہی ہے؟ لیکن پارٹی صدر نے راہل گاندھی کو مرکز میں رکھ کر چناوی جائزہ نہیں لیا ۔اگر کانگریس واقعی ہی پارٹی میں اصلاح چاہتی ہے تو ہار کے صحیح اسباب پر بحث کرنے کی ہمت دکھائے اور قصوروار لیڈروں پر سخت کارروائی کرے تاکہ پارٹی کے باقی لیڈروں میں ایک خوف پیدا ہوسکے۔ کانگریس کو اگر اس سال ہونے والے گجرات، ہماچل سمیت کئی ریاستوں میں چناؤ میں فتح حاصل کرنی ہے تو اسے مرکز میں اپنی لنج پنج منموہن سرکار کی کمیوں پر غور کرنا چاہئے۔ ڈسپلن شکنی اور گروپ بندی سے پرہیز کی نصیحت کے لائق بنانے کے لئے مثالوں کو ایسی بنیاد دی جانی چاہئے تاکہ اس پر پارٹی ایمانداری سے عمل پیرا ہوسکے۔ اس لیپا پوتی جائزے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, State Elections, Vir Arjun

02 مئی 2012

اس مرتبہ صدارتی چناؤ بہت پیچیدہ بن گیا



Published On 2 May 2012
انل نریندر

دیش کا اگلا صدر کون ہوگا یہ بحث آج کل سیاسی گلیاروں میں تیز ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ فیصلہ کرنے کا وقت آچکا ہے۔ صدارتی چناؤ اگلے مہینے جون میں ہونا ہے اور ابھی تک نہ تو یوپی اے نے اور نہ ہی این ڈی اے نے اور نہ ہی علاقائی پارٹیوں نے اپنا کوئی امیدوار سامنے پیش کیا ہے۔ فیصلہ خاص کر کانگریس پارٹی کو کرنا ہے لیکن مشکل یہ ہوگئی ہے کہ اکیلے اپنے دم خم پر اس مرتبہ کانگریس اپنا امیدوار جتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پچھلی مرتبہ جیسے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اچانک محترمہ پرتیبھا پاٹل کا نام اعلان کرکے سب کو چونکا دیا تھا اس بار ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایک بہت بڑا فرق تب اور اب میں علاقائی پارٹیوں کی بڑھتی طاقت ہے۔ ہونے والے صدارتی چناؤ میں علاقائی پارٹیوں کی دبنگئی صاف نظر آنے لگی ہے۔ ان کی پوری کوشش اس بات پر ہورہی ہے کہ اس مرتبہ راشٹرپتی بھون میں علاقائی پارٹیوں کا امیدوار پہنچے، اس کے لئے جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے۔ صدارتی چناؤ کو لیکر علاقائی پارٹیوں ک ی سرگرمی آنے والے دنوں میں دونوں کانگریس اور بھاجپا کے لئے ایک نئی تشویش کا سبب بن سکتی ہے۔علاقائی پارٹیاں اپنی طاقت کو پہچان رہی ہیں اس مرتبہ ان کی حمایت کے بغیر نہ تو کانگریس اور نہ ہی بھاجپا اپنی منمانی کرسکتی ہے۔ ان کے تعاون کے بغیر رائے سینا ہلس پر کون گدی نشین ہوگا اس کا فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ دراصل صدارتی چناؤ کے بہانے علاقائی پارٹیاں آنے والے لوک سبھا چناؤ کے سیاسی جائزوں کی عبارت بھی لکھنے کو تیار ہیں۔ سب سے زیادہ سرگرمی سماجوادی پارٹی میں نظر آرہی ہے۔ اس کے پیچھے ان کے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔ اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کے بعد سپا دیش کی قومی سیاست میں تبدیلی دیکھ رہی ہے۔ دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کی پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے اور علاقائی پارٹیوں کی طاقت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سپا کی کوشش ہے کہ اگلا وزیر اعظم غیر کانگریس غیر بھاجپا کا بنے۔ اس کے لئے وہ ابھی سے تیاری میں لگ گئی ہیں۔ علاقائی پارٹیوں کو اکٹھا کرکے پہلے صدارتی چناؤ میں اپنی متحدہ طاقت کو آزمانا چاہتی ہیں۔ اگر وہ اس میں کامیاب رہتی ہیں تو یقینی طور سے لوک سبھا چناؤ میں نئی نئی تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ صدارتی چناؤ میں اس مرتبہ سپا کے علاوہ ترنمول کانگریس ، این سی پی ، انا ڈی ایم کے، بسپا اور بیجو جنتا دل بھی اہم کردار نبھائیں گی۔ کسی غیر جانبدار امیدوار کے اترنے پر این ڈی اے میں شامل جنتا دل (یو) اور شرومنی اکالی دل کی حمایت بھی ان پارٹیوں کو مل سکتی ہے۔ علاقائی پارٹیوں کے اتحاد اگر کسی نام پر عام رائے بنا لیتا ہے تو دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کو اسے یکدم مستردکرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ نمبروں کی طاقت دیکھیں تو یوپی اے کے سبھی اتحادی اگر ایک ساتھ رہیں تو ان کے پاس 40فیصدی ووٹ ہیں جبکہ اکیلے کانگریس کے پاس71 فیصدی ووٹ ہیں۔ یہ ہی حال این ڈی اے کا ہے اس کے پاس کل ملا کر31 فیصدی ووٹ ہیں جبکہ اکیلے بھاجپا کے پاس 24 فیصدی ووٹ ہیں۔ ہاں کانگریس اور بھاجپا مل کر کوئی امیدوار طے کرے تو وہ امیدوار جیت سکتا ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, President of India, Samajwadi Party, Trinamool congress, Vir Arjun

29 اپریل 2012

سچن اورریکھا کے تیر سے کانگریس کے کئی نشانے

جمعرات کو صدر پرتیبھا پاٹل نے نامزد راجیہ سبھا ممبران کی فہرست پر دستخط کر سچن تندولکر ، فلم اداکار ریکھا اور کاروباری انو آغا کو راجیہ سبھا کا ممبر بنا دیا۔ کرکٹ کے میدان سے شروع ہوئی سچن تندولکر کی پاری اب پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ کسی کھیلتے کھلاڑی کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کرنے کا یہ پہلا موقعہ ہے۔ سنچریوں پر سنچری لگانے کے بعد کانگریس صدر سونین گاندھی سے ان کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر ملاقات کی اور تب سے اس بات کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں کہ وہ راجیہ سبھا کے نامزد ممبر کے طور پر آسکتے ہیں۔ سونیا گاندھی نے جمعرات کو رسمی طور سے سچن کو اس بات کی پیشکش کی تھی جسے وہ مان گئے۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سچن نے جب اپنی سوویں انٹرنیشنل سنچری بنائی تھی تبھی سے کانگریس صدر انہیں مبارکباد دینا چاہتی تھیں اور مبارکباد دینے کے بہانے انہوں نے سچن کے سامنے راجیہ سبھا میں آنے کی پیشکش کو باقاعدہ طور پر رکھ دیا۔ سونیا گاندھی کے ساتھ سچن نے آدھا گھنٹہ گزارا۔ راجیہ سبھا میں نامزد کر کانگریس نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب کانگریس نے اس تنازعے کو بھی ختم کردیا ہے کہ دھیان چند اور سچن کو بھارت رتن دیا جائے، شیو سینا کے ترجمان سنجے راوت نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس بغیر مفاد کے کسی کو کوئی عہدہ نہیں دیتی۔ ایسے میں سچن کو کانگریسی جھانسے سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ ان کا خیال ہے کانگریس لیڈر مہاراشٹر میں اپنی سیاست کے لئے سچن کی مقبولیت کو بھنانا چاہتے ہیں۔ ٹیم انا کی سپہ سالار کرن بیدی نے بھی کہا کہ سچن کو کانگریس کے سیاسی جال سے بچ کر رہنا چاہئے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ مرکزی سرکار اور کانگریس تمام بحرانوں سے گھری ہوئی ہے ایسے میں وہ سچن کا استعمال کرنا چاہتی ہے جبکہ سچن تو پورے دیش کے ہیروہیں۔ کانگریس کی سیاست کی بات پر ریکھا کو نامزد کرنے پر بھی ہمیں کم تعجب نہیں ہوا۔ میرے پاس طرح طرح کے ایس ایم ایس آرہے ہیں۔ ایک ایس ایم ایس آیا جو کام امیتابھ تمام زندگی نہیں کرسکے وہ کانگریس نے کردکھایا۔ جیہ اور ریکھا کو ایک ہاؤس میں لاکر بٹھا دیا۔ ایک دیگر ایس ایم ایس آیا ہیما، ریکھا، جیہ بچن اور سشما سب کی پسند نرما۔ راجیہ سبھا اب نرما کا اگلا اشتہار راجیہ سبھا میں بنے گا۔ سماجوادی پارٹی نے جیہ بچن کو اپنی تعداد کی بنیاد پر یوپی کے کوٹے سے راجیہ سبھا میں پہنچایا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کبھی کانگریس سے وابستہ رہے اور پھر سپا چیف ملائم سنگھ یادو کے ہمسفر امیتابھ بچن کو کاؤنٹر کرنے کے لئے کانگریس نے جو داؤ چلا ہے اسے ریکھا کے ذریعے سے ایک تیر سے کئی شکار کئے گئے ہیں۔ فلمی دنیا سے راجیہ سبھا ممبران کو لانے کی بھلے روایت اور آئینی تقاضہ رہا ہو لیکن اس کڑی میں سنیل دت ایک ایسی شخصیت تھے کے ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور طریقہ کار کی آج بھی مثال دی جاتی ہے۔ اس نقطہ نظر سے ریکھا اب57 برس کی عمر میں سیاسی زمین پر کیا دیش کے لئے ایک مثال قائم کر پائیں گی؟ بہرحال سچن تندولکر اور ریکھا کو مبارکباد۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rekha, Sachin, Samajwadi Party, Vir Arjun

28 اپریل 2012

اگلے صدر کیلئے ریس شروع ہوچکی ہے



Published On 28 April 2012
انل نریندر
بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی صدارتی چناؤ کے بارے میں غور و خوض او ر بحث میں تیزی آنے لگی ہے۔ دیش کے اعلی عہدے پر اس بار کون بیٹھے گا؟ سیاسی پارٹیوں نے ابھی سے ایک دوسرے کو ٹٹولنا شروع کردیا ہے۔ پارٹیاں صدارتی چناؤ کو اپنی طاقت کے مظاہرے کی ایک سخت آزمائش مان رہی ہیں۔ موجودہ صدر محترمہ پرتیبھا پاٹل کے عہدے کی میعاد جولائی کے آخری ہفتے میں پوری ہورہی ہے۔ فروری مارچ کے مہینے میں اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت پانچ ریاستو ں کے اسمبلی چناؤ کے نتائج اور پھر اس کے ٹھیک بعد58 راجیہ سبھا سیٹوں کے لئے ایک ساتھ چناؤ ہونے کے بعدسیاسی تجزیئے بدلنے لگے ہیں۔ سیاسی نتیجہ غیر کانگریس غیر بی جے پی پارٹیوں کے حق میں زیادہ رہے اور اس سے تھرڈ فرنٹ کی سمت میں کام شروع کر ملائم سنگھ یادو اور ممتا بنرجی جیسے لیڈر سرگرم ہوگئے ہیں۔ وہیں این سی پی لیڈر شرد پوار نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی بات مضبوطی سے رکھیں گے۔ خود ساختہ تھرڈ فرنٹ کے لیڈروں کو سرگرم ہوتے دیکھ دونوں کانگریس اور بھاجپا بھی اب اپنی اپنی پسند کے امیدوار آگے بڑھانے میں لگ گئے ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے یوپی اے امیدوار کو ہی رائے سنہا ہلس (راشٹر پتی بھون) پہنچانے کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ یہ آغاز سونیا گاندھی نے این سی پی لیڈر شرد پوار سے شروع کیا ہے۔ بھلے ہی کانگریس کے امیدوار کے نام پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے مگر قیاس آرائی یہ ہے کہ نمبروں کے کھیل کو دیکھتے ہوئے پرنب مکھرجی کانگریس کا چہرہ ہوسکتے ہیں۔ کانگریس جانتی ہے کہ ان کے نام پر غیرا ین ڈی اے پارٹیوں کو بھی راضی کیا جاسکتا ہے۔ اگر سپا ،بسپا ،ترنمول کا ساتھ کانگریس مل جاتا ہے تو کانگریس اپنا امیدوار جتا سکتی ہے۔ کسی کانگریسی امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں موجودہ نائب صدر حامد انصاری کو ہی یوپی اے کا صدارتی امیدوار بنانے کے لئے پلان تیار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پہلی پسند سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہوسکتے ہیں۔ اس معاملے پر بھاجپا نے اپنی اتحادی پارٹیوں کے ساتھ غیر یوپی اے اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا دل ٹٹولنے کی کارروائی آہستہ آہستہ شروع کردی ہے۔ بھاجپا کلام کے علاوہ کسی دوسرے نام پر اسی صورت میں غور کرے گی جب اسے جیتنے کے لئے ضروری حمایت ان کے نام پر ملتی نظر نہ آئے۔ صدارتی چناؤ کی گھڑی بھلے ہی سماج وادی پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو بہت دور مان رہے ہیں لیکن پارٹی اپنا ہوم ورک پورا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ 2014ء میں لوک سبھا چناؤ کی چناوی جنگ کو سامنے رکھتے ہوئے سپا پوری شدت کے ساتھ مسلم امیدوار کی تلاش میں لگی ہے۔ اسی سلسلے میں ملائم کی ہدایت پر سپا کے دو بڑے لیڈروں نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ دوسری طرف سپا کی پسندیدہ فہرست سے عبدالکلام کا نام بھی تقریباً باہر ہوچکا ہے۔ قریشی کے ساتھ حامد انصاری کے نام پر بھی سپا میں سنجیدگی سے غور و خوض جاری ہے۔ کانگریس میں اور بھی کئی نام چل رہے ہیں لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار کو ذات پات کی حیثیت سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھایا جارہا ہے اور ڈاکٹر کرن سنگھ ، سشیل کمار شنڈے، فاروق عبداللہ اور سیم پترودہ جیسے نام بھی اچھالے جارہے ہیں۔ ریس شروع ہوچکی ہے فی الحال یہ پیشگوئی نہیں کی جاسکتی کہ ہندوستان کا اگلا صدر کون ہوگا۔
Anil Narendra, APJ Abdulkalam, BJP, Congress, Daily Pratap, Hamid Ansari, Mulayam Singh Yadav, Pranab Mukherjee, President of India, Samajwadi Party, Vir Arjun

26 اپریل 2012

برے پھنسے سنگھوی:ادھر کنواں تو اُدھر کھائی



Published On 26 March 2012
انل نریندر

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ہی کانگریس پارٹی نے اپنے تیز طرار اپارٹی ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی سے پیر کو پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور ترجمانی کے عہدے سے استعفیٰ لے لیا۔ پارٹی نے اپنی اور سرکار کی فضیحت بچانے کی کوشش کی ہے۔ فحاشی ویڈیو دیکھنے کے معاملے میں پہلے سے بدنام بھارتیہ جنتا پارٹی کو اب کانگریس سے بدلہ لینے کا موقعہ مل گیا ہے۔ ابھیشیک منو سنگھوی سی ڈی کے معاملے میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ سنگھوی سے متعلق ایک سی ڈی 10 دن پہلے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تھی اس میں وہ مبینہ طور پر کسی خاتون کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھائے گئے ہیں۔سی ڈی میں دکھائی گئی خاتون وکیل بتائی گئی ہے۔ اس کے مطابق سنگھوی نے اسے جج بنوانے کا لالچ دے کر اس کے ساتھ رشتے بنائے۔ سی ڈی معاملے پر دہلی ہائی کورٹ نے روک لگادی ہے لیکن انٹر نیٹ پر یہ سی ڈی کھل کر چل رہی ہے۔ کہا جارہا ہے سنگھوی کے ڈرائیور نے یہ سی ڈی بنائی۔ بعد میں اس نے سی ڈی سے چھیڑ چھاڑ کئے جانے کی بات بھی مانی ہے۔ سنگھوی نے اس معاملے میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہا میں نے استعفے کا فیصلہ اپنے بارے میں تقسیم کی جارہی سی ڈی کو لیکر پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ہونے کے خدشات کو دور کرنے کے لئے کیا ہے۔ مجھ پر لگے سبھی الزام پوری طرح سے بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔ سی ڈی پر قیاس آرائیاں کرنے کے بجائے لوگوں کو عزت کا خیال رکھنا چاہئے۔ بیشک سنگھوی نے استعفیٰ تو دے دیا ہے لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ کانگریس کی فضیحت اتنی آسانی سے ختم ہوجائے گی۔ سنگھوی نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں ایسا کرنے کے لئے مجبورکیا گیا۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں سرکار پہلے ہی سے دباؤ میں ہے اور وہ اب کوئی نیا درد سر نہیں لینا چاہتی لیکن بھاجپا پہلے سے جھیل رہی سی ڈی معاملے (کرناٹک اسمبلی) ایسا موقعہ اپنے ہاتھ سے کیسے جانے دیتی؟ بھاجپا کے نیتا و راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی اس معاملے میں چیئرمین حامد انصاری سے بھی ملے اور انہوں نے چیئرمین کو کہا کہ ایسا شخص کسی بھی پارلیمانی کمیٹی کا چیئر مین نہیں ہوسکتا جس پر بیحد قابل اعتراض الزامات لگ رہے ہوں۔ یہ پیغام کانگریس کے فلور منیجروں تک بھی پہنچایا جائے۔ بھاجپا نے دو طرفہ طریقے سے سرکار اور کانگریس کو پارلیمنٹ میں گھیرنے کی حکمت عملی بنائی ہوئی ہے۔ بھاجپا نیتاؤں کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس نے پارلیمنٹ کی اس دلیل کو مان لیا کہ سی ڈی صحیح نہیں ہے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور ان کا ڈرائیور بلیک میل کررہا ہے تو یہ معاملہ پارلیمانی استحقاق قواعد کے تحت جانچ کے دائرے میں آجاتا ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ اس کی توہین کے دائرے میں آتا ہے۔ دوسری طرف سی ڈی مبینہ طور سے کسی کو جج بنوانے کے وعدے کا الزام صحیح ہے تو یہ معاملہ پارلیمنٹ کی ایتھکس کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ سنگھوی کے استعفے کے بعد بھی بھاجپا اس معاملے کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔ جیٹلی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں یہ معاملہ ضرور اٹھائیں گے۔ ممبر پارلیمنٹ ہونے کی حیثیت سے مسٹر سنگھوی کو یہ بتانا پڑ سکتا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ کس وجہ سے دیا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے سنگھوی کی یہ ذاتی زندگی پر آنچ اس لئے آسکتی ہے کیونکہ وہ پبلک میں ہیں اور اس کے چلتے ایسا معاملہ ذاتی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ جنتا کے چنے ہوئے نمائندے ہیں اسی وجہ سے پارلیمنٹ کی آئینی معاملوں کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے تھے۔اسی لئے پارلیمنٹ کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ ایسی کونسی ذاتی وجہ ہے جو ان کی عام زندگی کو متاثر کررہی ہے؟ دوسری طرف اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ سی ڈی انہیں بدنام کرنے یا ان کی ساکھ کو ملیا میٹ کرنے کے لئے کسی نے غلط طریقے سے بنوائی ہے تو یہ کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے مخصوص اختیارات کی خلاف ورزی کا سیدھا معاملہ ہے اور اگر سی ڈی سچی ہے تو یہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کا معاملہ بنتا ہے جس میں کسی بھی ایم پی کی ذاتی زندگی میں آنے پر سماجی برتاؤ کا نوٹس لیا جاتا ہے۔ ویسے اگر سنگھوی کو اس سے تشفی ہوتی ہے کہ ان کی سیکسی سی ڈی، یو ٹیوب میں ڈالنے والے شخص نے دعوی کیا ہے کہ اس کے پاس وزیر داخلہ پی چدمبرم کی روسی طوائف کے ساتھ سیکس سی ڈی ہے جسے وہ تبھی جاری کرے گا جب سنگھوی کو کانگریس سے نکالا نہیں جائے گا۔ بہرحال برے پھنسے سنگھوی ان کے لئے ادھر کنواں تو ادھر کھائی ہے۔
Abhishek Singhvi, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Sex, Sex Scandal, Sexy Photo, Vir Arjun

25 اپریل 2012

یوپی اے سرکار کی تین سالہ رپورٹ کارڈ


Published On 25 March 2012
انل نریندر
اترپردیش ، پنجاب، گوا اسمبلی انتخابات میں ہار کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی 
مسلسل پانچویں ہار ہے۔ کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت 22 مئی کو اپنے تین سال پورے کرنے جارہی ہے۔ روایت کے مطابق سرکار اسی دن ''رپورٹ ٹو دی پیوپل'' جاری کرے گی۔ پتہ نہیں منموہن سنگھ سرکار اور کانگریس پارٹی اس دوران اپنے کیا کیا کارنامے گنائے گی۔ وقت آگیا ہے کانگریس پارٹی جائزہ لے کے آخر وہ کس طرف جارہی ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اب لوک سبھا چناؤ زیادہ دور نہیں ہیں اور اس سے پہلے پارٹی کو گجرات، ہماچل ،مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور دہلی میں اسمبلی چناؤ کا سامنا کرنا ہے۔ یوپی اے حکومت کی دوسری پاری مسلسل تنازعات میں گھری رہی۔ کامن ویلتھ گیمز ، ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ اور آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی جیسے تمام گھوٹالے مہا گھوٹالے سرخیوں میں رہے۔ ان کے چلتے کانگریس کو مسلسل فضیحت جھیلنی پڑ رہی ہے۔ کہیں سے بھی سیاسی راحت نہیں ملتی دکھائی پڑتی۔ پارلیمنٹ میں پچھلے کئی مہینوں سے غیر کانگریسی لیڈر یوپی اے سرکار کے خلاف مورچہ بندی تیز کررہے ہیں۔ خود بھی یوپی اے کے اندر کئی پارٹیاں حکومت کا درد سر بڑھا رہی ہیں۔ سب سے زیادہ دقت ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی کی طرف سے ہے۔مسلسل ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ ٹی ایم سی کب تک سرکار میں بنی رہے گی؟ کیونکہ وہ ہر مہینے یوپی اے سرکار کے خلاف کوئی نہ کوئی سیاسی واویلا کھڑا کردیتی ہے۔بگڑتے ٹریک ریکارڈ کے چلتے یوپی اے ۔II سرکار اور پارٹی عدم اعتماد کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کانگریس کے تمام لیڈر اب ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگے ہوئے ہیں۔سرکار اور پارٹی میں تال میل کی باتیں ضرور ہورہی ہیں لیکن تصویر کچھ اور ہی ہے۔ بڑے نیتاؤں کی نوراکشتی اس وقت پورے شباب پر ہے۔10 جن پتھ میں بڑی بڑی میٹنگیں ہورہی ہیں لیکن پارٹی کی سپریم پالیسی متعین کرنے والی یونٹ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں حال میں ایک بھی بڑے اشو پر بحث نہیں ہوپائی۔اگر مل رہی خبروں پر یقین کیا جائے تو مہاراشٹر کے وزیر اعلی اشوک چوہان کو گزشتہ ملاقات میں پارٹی صدر سونیا گاندھی نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ وہ یا توا لتوا میں پڑے معاملوں پر فیصلہ لے کر کام شروع کریں ورنہ پارٹی لیڈر شپ ان سے آگے کے بارے میں غور وخوص کرے گا۔ اسی طرح راجستھان میں لیڈر شپ تبدیلی کی مانگ زور پکڑ رہی ہے۔

آندھرا پردیش ، ہریانہ، اتراکھنڈ میں بھی لیڈر شپ کے لئے پریشانیاں کھڑی ہیں۔ ان حالات میں پارٹی کے حکمت عملی سازوں کو ایک مضبوط اور کارگر حکمت عملی بنانی ہوگی جس سے کے منصوبہ بند طریقے سے آگے آنے والی چنوتیوں سے موثر ڈھنگ سے نپٹا جاسکے۔ کانگریس کے ایک بڑے نیتا کا کہنا ہے یوپی اے کے دوبارہ مرکز میں برسر اقتدار ہونے کے بعد اس کی ساکھ ایک کرپٹ اور مہنگائی بڑھانے والی حکومت کی بنتی چلی گئی ہے اور آج تک یہ ہی ساکھ دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے جس کے سبب کانگریس کو پچھلے تین سالوں میں دیش بھر میں ہوئے چناؤ اور ضمنی انتخابات میں تقریباً ہر جگہ ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے لہٰذا پارٹی کے حکمت عملی ساز چاہتے ہیں تنظیم کے سبھی بڑے لیڈر اس بات کے لئے مل بیٹھ کر آتم چنتن کریں اور غور خوض کریں کے مرکزی سرکار کون کون سے ایسے قدم اٹھائے جس سے اس کی ساکھ بہتر ہو۔ انہیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اتحادی پارٹیوں کے دباؤ سے کیسے آزاد ہواجائے۔ تال میل پر مبنی سیاست کو کتنی اہمیت دی جائے۔ عام لوگوں کے قریب آنے اور پرانی مقبولیت کو حاصل کرنے کے لئے کیا کیا جائے جس سے کے پارٹی ورکر پھر سے نئے جوش کے ساتھ میدان میں اتر سکیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Scams, UPA, Vir Arjun

21 اپریل 2012

اکیلی شیلا دیکشت ہی ہار کی ذمہ دار نہیں ہیں



Published On 21 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی ہار کا ذمہ دار کون ہے؟ ویسے کانگریس میں پوسٹ مارٹم کرنے کا کوئی چلن نہیں ہے اور ہار کے بعد شاید ہی کسی کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے اترپردیش، پنجاب کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے ہیں۔ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی ہار کی ذمہ داری طے نہیں ہو پارہی ہے۔ دہلی میں اکیلے وزیراعلی محترمہ شیلا دیکشت کو ذمہ دار ماننا صحیح نہیں ہے۔ بیشک دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں بانٹنا شیلا جی کا نظریہ تھا اور اس حدتک ہار کیلئے وہ ذمہ دار ہوسکتی ہیں لیکن دہلی سے تمام کانگریسی ایم پی دہلی سرکار کے وزیر و ممبران اسمبلی بھی اس کے لئے کم ذمہ دار نہیں ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں ممبران پارلیمنٹ کی ۔ سب سے زیادہ خراب حالت نئی دہلی پارلیمانی حلقے کی رہی ہے جہاں سے مرکزی وزیر اجے ماکن کی پسند کے لوگوں کو ٹکٹ دئے گئے۔ اس حلقے میں 32 وارڈ نہیں اور کانگریس کو صرف 7 وارڈوں پر جیت حاصل ہوسکی ہے یہاں سے کانگریس کے تین باغی جیتنے میں بھی کامیا ب رہے۔ بھاجپا نے یہاں سب سے زیادہ32 سیٹوں پر اپنا پرچم لہرایا۔ مغربی دہلی کے ایم پی مہابل مشرا کے علاقے میں کانگریس کی ٹکٹوں کے لئے گھماسان ہوااور نتیجہ یہ نکلا کے 10 سیٹیں ہی کانگریس کومل سکیں۔ بی جے پی 19 پر کامیاب رہی ایس پی1،آر ایل ڈی 2 سیٹوں پر قابض ہوئی۔ کئی داغی بھی جیت گئے۔مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ کو ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران اپنے ممبران اسمبلی کی مخالفت جھیلنی پڑی اور کانگریس نے ان کے علاقے میں بھی خراب مظاہرہ کیا ہے۔ یہاں کانگریس 11 سیٹیں جیت پائی ، بی ایس پی کو سب سے زیادہ6 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ پردیش پردھان اور نارتھ دہلی سے ممبر پارلیمنٹ جے پرکاش اگروال کو فری ہینڈ ملا لیکن ان کی پوزیشن بھی کافی مشکل بھری رہی۔وہ12 امیدواروں کو ہی جتا سکے۔ کانگریس کے بھاری بھرکم وزیر کپل سبل چاندنی چوک سے ہلکے ثابت ہوئے۔ کانگریس کو14 سیٹیں ملیں بھاجپا کو21 سیٹیں ملیں جبکہ شعیب اقبال کی آر ایل ڈی کو3 سیٹیں مل سکیں۔ بی ایس پی کو1 اور 1 آزاد امیدوار کے کھاتے میں گئی۔ حالانکہ وزیر اعلی کے بیٹے سندیپ دیکشت بھی آدھے نمبروں سے بھی پاس نہیں ہوسکے15 سیٹیں ہی جتا سکے لیکن باقی ممبر پارلیمنٹ سے ان کی کارکردگی بہتر رہی۔ بی جے پی نے ایسٹ دہلی سے18 سیٹیں جیتیں۔ کانگریس سے صرف3 زیادہ لیکن3 باغیوں نے کھیل بگاڑ دیا۔ اب بات کرتے ہیں دہلی سرکار میں کانگریس وزراء کی ۔ سبھی 6 وزرا کی کارکردگی خراب رہی۔ سب سے برا حشر کانگریس کے سینئر وزیر ڈاکٹر اے کے والیہ کا رہا۔ ان کے اسمبلی حلقے لکشمی نگر کے چاروں وارڈ کشن گنج ، لکشمی نگر، شکر پور، پانڈو نگر میں کانگریس ہار گئی۔ سرکار کے دوسرے وزیر ہارون یوسف بھی اپنے اسمبلی حلقے بلیماران کے تین وارڈوں میں پارٹی کو جتا نہیں پائے۔ ان کے وارڈ بلیماران، رام نگر، قصاب پورہ میں پارٹی امیدوار ہار گئے جبکہ واحد وارڈ عید گاہ روڈ میں پارٹی لاج بچا سکی۔ رماکانت گوسوامی کی راجندر اسمبلی حلقے میں تین وارڈ راجندر نگر، اندرپوری، نرینا میں پارٹی امیدوار ہار گئے جبکہ پوسا وارڈ میں ہی کانگریس جیتی۔ یہ ہی حال وزیر بہبود پروفیسر محترمہ کرن والیہ کا رہا۔ ان کے اسمبلی حلقے مالویہ نگر کے تین وارڈ مالویہ نگر، صفدر جنگ انکلیو، حوض خاص میں کانگریس امیدوار ہار گئے جبکہ ایک سیٹ حوض رانی میں پارٹی جیت پائی۔ راجکمار چوہان کا بہرحال ریکارڈ برابری پر چھوٹا۔ ان کے اسمبلی حلقے منگولپوری کے چار وارڈ میں سے دو منگولپوری ایسٹ اور منگولپوری میں پارٹی امیدوار جیتے ہیں جبکہ روہنی ساؤتھ، منگولپوری ویسٹ میں ہار گئے۔ ہار جیت کے ریکارڈ میں وزیر اروندر سنگھ لولی کا ریکارڈ بہتر مانا جاسکتا ہے۔ ان کے اسمبلی حلقے گاندھی نگر کے چار میں سے تین وارڈ دھرم پورہ، گاندھی نگر، رگھوبر پورہ میں پارٹی امیدوار جیتے جبکہ آزاد نگر میں پارٹی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح جمنا پار وکاس بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نریندر ناتھ اپنے چاروں وارڈ ہار گئے ہیں تو دہلی اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر یوگانند شاستری چار میں سے دو اور سینئر ممبر اسمبلی مکیش شرما کے تین وارڈوں میں کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف بی جے پی کے سینئر ممبران اسمبلی کی کارکردگی ٹھیک مانی جاسکتی ہے۔ اپوزیشن کے لیڈر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ تین ، جگدیش مکھی دو، ڈاکٹر ہرش وردن کے دو وارڈوں میں بی جے پی کے امیدواروں نے فتح حاصل کی ہے۔ اس لئے اکیلے شیلا دیکشت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے۔ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں۔ اسمبلی چناؤ ڈیڑھ سال بعد ہونے ہیں اگر کانگریسی ممبران پارلیمنٹ، وزراء اور ممبر اسمبلی کا یہی حال رہا تو انجام بھگتنے کے لئے کانگریس اعلی کمان کو تیار رہنا ہوگا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Sheila Dikshit, Vir Arjun

19 اپریل 2012

بھاجپا کی جیت نہیں ووٹ تو مہنگائی اور کرپشن و گھوٹالوں کے خلاف ہے



Published On 19 March 2012
انل نریندر
دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت نے ایم سی ڈی کو تین ٹکڑوں میں بانٹنے کی جو چال چلی تھی وہ الٹی پڑ گئی ہے۔ بھاجپا نے تینوں کارپوریشنوں میں کانگریس کوہرادیا ہے۔ نارتھ ایسٹ میں بھاجپا اکثریت میں آگئی ہے جبکہ جنوبی دہلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں یہ ہی کہوں گا کہ یہ کانگریس کے خلاف ایک منفی ووٹ ہے۔ اس میں بھاجپا کے کارناموں کے سبب ووٹ نہیں پڑا یہ تو لوگوں کا کانگریس سے غصے کی علامت کا ووٹ ہے۔ جنتا مہنگائی، کرپشن، گھوٹالوں سے تنگ آچکی ہے اور چونکہ دہلی میں سرکار بھی کانگریس کی ہی ہے اور مرکز میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہے اس لئے جنتا نے کانگریس کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے پارٹی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ یہ ووٹ شیلا دیکشت کی حکومت کے خلاف بھی ہے اور ساتھ ہی منموہن سنگھ حکومت کے بھی ہے۔ شیلا جی نے تو سوچا تھا کہ ایم سی ڈی کو تین حصوں میں بانٹ کر بی جے پی کو ہمیشہ کے لئے کمزور کردیں گی لیکن ان کا داؤ الٹا پڑ گیا اور ان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔ کچھ لوگ اسے شیلا دیکشت کے خلاف ریفرنڈم بھی مان رہے ہیں۔کانگریس کہہ سکتی ہے کہ ہمارے اندر بہت پھوٹ تھی اور باغیوں نے ہمیں ہروادیا لیکن پھوٹ تو بھاجپا میں بھی آپ سے زیادہ تھی ، باغی تو وہاں بھی کھڑے تھے آپ کے تو کئی سرکردہ لیڈروں کو دھول چٹا دی گئی۔ لیڈر اپوزیشن جے کشن شرما نجف گڑھ سے ہار گئے۔ پچھلے تین بار سے کونسلر رہے کانگریس کے سینئر لیڈر چودھری اجیت دلشاد کالونی سے ہار گئے۔ تین بار کونسلر رہیں کانگریس کی انیتا ببر تلک نگر سے بی جے پی کی امیدوار ریتو ووہرا سے ہار گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ دونوں کانگریس اور بی جے پی کے باغی زیادہ تر ہارے لیکن انہوں نے ووٹ کاٹنے کا کام کیا ہے۔ مشرقی دہلی کا چناؤ کانگریس کے لئے خاص اہمیت اور وقار کا سوال تھا اس لئے شیلا دیکشت، سندیپ دیکشت ، جے پرکاش اگروال، ڈاکٹر اشوک والیہ، اروندر سنگھ لولی سبھی کا وقار داؤ پر تھا۔ محترمہ شیلا دیکشت نے خود تو ہار پر کچھ رائے زنی نہیں کی لیکن ان کے صاحبزادے اور مشرقی دہلی سے ممبر پارلیمنٹ رہے سندیپ دیکشت نے مہنگائی اور ٹو جی جیسے گھوٹالوں کو ہار کا سبب مانا ہے۔ انہوں نے کہا سی اے جی کی رپورٹ اور انا ہزارے کی تحریک سے ایسا ماحول بنا کے لوگوں کو لگا کہ کانگریس ہی ساری غلطیوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے لوکل اشوز کو سامنے رکھا جبکہ پورے دیش اور دہلی میں ایسا ماحول تھاکہ بی جے پی نے مہنگائی اور ٹوجی گھوٹالے پر توجہ دی۔ کانگریس کے وزیر راجکمار چوہان بیان دیتے ہیں کہ اگر مہنگائی بڑھی ہے تو تنخواہیں بھی بڑھی ہیں۔ یہ بیان جنتا کو پسند نہیں آیا۔ پوری چناؤ مہم میں بھاجپا نے کہیں بھی ایم سی ڈی میں پچھلے پانچ سال کے اپنے ریکارڈ پر ووٹ نہیں مانگا۔ اس نے مرکزی سرکار اور شیلا سرکلار کو نشانے پر رکھا۔ اس سے بھی یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر بھاجپا جیتی ہے تو اپنے کارناموں سے نہیں بلکہ مرکز اور دہلی میں کانگریس کی سرکاروں کے خلاف منفی ووٹ پڑنے سے جیتی ہے۔ کیونکہ ان انتخابات میں مقامی سرکردہ لیڈر بھی اثر رکھتے ہیں اس لئے جنتا نے کئی مقامات پر دونوں بڑی پارٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امیدوار کی شخصیت کو ووٹ دئے۔ تبھی تو 37 آزاد امیدوار جیت کر آئے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں بھاجپا کی جیت کا سہرہ نوجوان پردیش صدر وجیندر گپتا کے سر بندھتا ہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی ہے۔ اس کامیابی سے کافی خوش پارٹی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ یہ نتیجے کانگریس کی عوام مخالف جذبے کا نتیجہ ہیں۔ پکا ثبوت اور ان کی پارٹی آنے والے دہلی اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں بھی کامیاب ہوگی۔ دہلی اسمبلی کا چناؤ تقریباً18 ماہ بعد ہونا ہے اور لوک سبھا کے انتخابات 2014ء میں ہونے ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مرکزی حکومت اب بھی جاگے گی؟ یہ چناؤ ایک طرح سے مرکز کی پالیسیوں ، کارگزاریوں اور گھوٹالوں پر تھا۔
اس حکومت کو جنتا کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اپنی عوام مخالف پالیسوں پر گامزن رہی ہے۔ جنتا کے پاس اپنا احتجاج کرنے کا ایک واحد ہتھیار اپنا ووٹ ہے اور اس نے کانگریس کے خلاف ووٹ دے کر اپنی ناراضگی اور تبدیلی کے جذبے کو صاف طور سے ظاہر کردیا ہے۔ باقی ان چناؤ نتائج کا تجزیہ تو کئی دنوں تک چلتا رہے گا۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

08 اپریل 2012

راہل لگے یوپی چناؤ کے پوسٹ مارٹم میں



Published On 8 March 2012
انل نریندر
اترپردیش ودھان سبھا چناؤمیں کراری ہار سے کانگریس ہائی کمان ابھی تک ابھر نہیں سکا۔ راہل گاندھی تو ایسے کوپ بھون میں گئے ہیں کہ اب وہ یوپی کے کسی دلت کے گھر کھانا کھاتے نظر نہیں آرہے۔ ہار کے ایک مہینے بعد اب راہل نے چناؤ کا پوسٹ مارٹم کرنے کی ہمت جٹائی ہے۔ پہلے دو دنوں سے راہل ہارے ہوئے سپاہیوں کو بلا کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہم کیوں ہارے؟ ہار کی وجوہات کی تلاش میں جٹے راہل نے ہارے ہوئے امیدواروں سے یہ پوچھا کہ آخر کار کیا وجہ رہی کے پوری محنت کے بعد بھی پارٹی کا شرمناک مظاہرہ رہا۔ ہارے ہوئے امیدوروں نے کئی وجوہات گنائیں۔ تقریباً سبھی نے کچھ مدعوں پر بہت زوردیا۔ پہلا تو تھا کہ کمزور سنگٹھن بہت بھاری پڑا۔ غلط امیدواروں کا چناؤہار کی ایک وجہ بنی اس کے ساتھ پرچار میں سیاسی چوک کا مدعا اٹھا کر ہارے ہوئے سپاہیوں نے کچھ مرکزی وزیروں پر جم کر بھڑاس نکالی۔ ہارے ہوئے امیدواروں نے قانون منتری کومسلم ریزرویشن کا وعدہ کرنا پارٹی پر بہت بھاری پڑا۔ اسی طرح شری پرکاش جیسوال کا یہ بیان کے اگر کسی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی تو راجیہ میں صدر راج لگایا جائے گا۔ ووٹروں کو بہت لبھایا ہے انہوں نے ردعمل کے طور پر سماجوادی پارٹی کو واضح اکثریت دے دی۔
بینی پرساد ورما کا مسلم کوٹے میں سب کوٹا بھی ووٹروں خاص کر مسلموں کو بیوقوف بنانے کی ایک ناکام کوشش مانی گئی۔ کمزور سنگٹھن کے مدعوں پر امیدوار رہے سریندر گوئل نے کہا کہ دوسری قطار کے بڑے نیتاؤں نے بیکاربیان بازی کی۔اس میں کافی نقصان ہوا۔کچھ سینئروں نیتاؤں نے بھی یہی الزام دوہرایا۔ اشارہ دگوجے سنگھ، بینی پرساد ورما ،سلمان خورشید، شری پرکاش جیسوال جیسے نیتاؤں کے متنازعہ بیانوں کی طرف تھا۔ باہری لوگوں کو ٹکٹ دینے کا مسئلہ میٹنگ میں آیا تو آپس میں ہی بحث ہوگئی۔ کیونکہ زیادہ ترفوج چناؤ میں باہر سے ہی اکٹھا ہوئی تھی۔ تبصرہ میٹنگ میں آئے لوگوں میں بھی زیادہ ایسے ہی تھے جو چناؤ کے دوران کانگریسی ہوئے تھے۔ جمعرات کو راہل نے ان ہارے ہوئے امیدواروں سے بات چیت کی جنہوں نے اس چناؤ میں 20 ہزار یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ ہارے ہوئے امیدواروں کو ایک سوال نامہ بھی دیا گیا جس میں 13 سوال پوچھے گئے۔جیسے انہیں چناؤ میں مرکزی رہنمائی پردیش کانگریس سمیتی ،پردیش ادھیکش، مہلا کانگریس اور سیوا دل سے کیا تعاون ملا؟حالانکہ پورے صوبے میں گھومنے والے اور کڑی محنت کرنے والے راہل گاندھی کو کسی نے سیدھا نشانہ تو نہیں بنایا پر ان کے انتظامیوں پر سوال ضرور اٹھائے گئے۔
پردیش ودھان سبھا کے چناؤ میں اپنے اوٹ پٹانگ بیانوں کے لئے چرچا میں رہے کانگریس کے نیتاؤں کی واٹ لگنے طے ہے۔ سونیا اور راہل دونوں نے صاف کردیا ہے کہ ان بیانوں سے چناؤ میں پارٹی کو نقصان ہوا اور اب نئے اور محنتی چہروں کو آگے لایا جائے گا۔ راہل کو اس بات کے لئے سخت تنقید سہنی پڑی کے وہ صرف نیتاؤں سے ہی گھرے رہتے تھے جس سے پورا معاملہ ان کے سامنے نہیں آپاتا تھا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Rahul Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

07 اپریل 2012

اشوک گہلوت سرکار سنکٹ میں پھنسی


Published On 7 March 2012
انل نریندر
کانگریس کے ستارے ان دنوں گردش میں چل رہے ہیں۔ آئے دن کوئی نیا انکشاف ہوجاتا ہے اور کانگریس اعلی کمان اس سے مقابلے میں لگ جاتی ہے۔ اچھی چل رہی ریاستی حکومت اس کے لئے نیا درد سر پیدا کردیتی ہے۔ اب آپ راجستھان میں اشوک گہلوت سرکار کا ہی قصہ لے لیجئے۔ اچھی چل رہی سرکار میں اپنی ہی پارٹی والوں نے اشوک گہلوت حکومت کے لئے نئی پریشانی کھڑی کردی ہے۔ دیش بھر سے مل رہی سیاسی شکست کے بعد اب راجستھان میں بھی اس کے ممبران اسمبلی نے اپنی ہی گہلوت حکومت کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے راجستھان کے قریب دو درجن ممبران اسمبلی نے دہلی میں ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔ ان کی مانگ ہے کہ پارٹی ہائی کمان فوراً وزیر اعلی اشوک گہلوت کو کرسی سے ہٹاکر مرکزی وزیر سی پی جوشی کو ریاست کی باگ ڈور سونپے۔ ان ممبران اسمبلی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل سے مل کر حکومت کے خلاف شکایت کی ہے۔ انہوں نے کا کہ ریاستی حکومت میں ان کی کوئی سن نہیں رہا ہے اس سے ممبران اسمبلی اور ورکروں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ممبران اعلی کمان کو آگاہ کیا ہے کہ اگر وقت رہتے حالات نہیں ٹھیک کئے گئے تو پارٹی کو اگلے چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اتنا ہی نہیں اپنے چہیتے لوگوں کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں جس سے ایک طرف کرپشن کو شہ مل رہی ہے تو دوسری طرف کانگریس پارٹی کی ساکھ ملیامیٹ ہورہی ہے۔ ناراض ممبران اسمبلی نے راہل گاندھی سے بھی ملاقات کی اور انہیں صاف طور سے بتادیا ہے کہ اگر اشوک گہلوت وزیر اعلی کے عہدے پر بنے رہے اور انہیں فوراً ہٹایا نہیں گیا تو قریب ڈیڑھ سال بعد ہونے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کے ساتھ ساتھ اس کا بھی بھٹا بیٹھ جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ ناراض ممبران کی تعداد بڑھ رہی ہے اب یہ60 کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ 200 نفری راجستھان اسمبلی میں کانگریس کے پاس106 ممبران ہیں۔ یہاں یہ بھی غور طلب ہے کہ راہل اپنے گھر تغلق روڈ کے بجائے سونیا گاندھی کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر ملے لیکن سونیا ان سے نہیں ملیں۔ ان ناراض ممبران اسمبلی کی ناراضگی تو پہلے وزرا کے تئیں تھیں لیکن اب وزیر اعلی بھی ان کے نشانے پر آگئے ہیں۔
بجٹ اجلاس سے پہلے جے پور میں ہوئی کانگریس اسمبلی پارٹی کی میٹنگ میں بھی ناراضگی سامنے آئی تھی۔ میٹنگ میں ممبران اسمبلی نے وزرا کے طریقہ کار پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس میٹنگ میں وزیر اعلی گہلوت نے ممبران سے کہا تھا کہ وزرا کی شکایت ان سے کی جائے اوروزیر اعلی نے ہی کوئی شکایت نہیں سنی ہے تو پھر کانگریس صدر کو بتائیں۔ ہمارا خیال ہے اشوک گہلوت ایک اچھے لیڈر ہیں جن پر شخصی کوئی الزام نہیں لگا۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنا عوامی رابطہ اور ممبران سے تال میل بہتر بنانا ہوگا۔ انہیں اس مسئلے کو خود ہی سلجھانا چاہئے۔ یہ کانگریس ہائی کمان کا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے لیکن جب ممبران کی بات کوئی سنے گا ہی نہیں تو ان کے پاس دہلی آنے کے علاوہ کوئی متبادل ہی رہ جاتا ہے۔ کانگریس کی آپسی لڑائی کہیں پارٹی کو راجستھان میں بھی نہ ڈوبا دے۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Congress, Daily Pratap, Rajassthan, Vir Arjun

29 مارچ 2012

ایم سی ڈی چناؤ: کہیں یہ وبھیشن کانگریس۔ بھاجپا کو ڈوبا نہ دیں



Published On 29 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر ایک بار پھر سیاست میں گرمی آگئی ہے۔ ٹکٹوں کی مارا ماری سے جہاں کانگریس بری طرح الجھی ہوئی ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتنی مارا ماری شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔ توقع کے مطابق دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نامزدگی کے آخری دن مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر ریکارڈ1785 لوگوں نے دہلی کے مختلف حصوں میں بنائے گئے68 مراکز پر اپنی نامزدگی داخل کی۔ ایک دن میں اتنے زیادہ امیدواروں کے ذریعے نامزدگی کا یہ ریکارڈ ہے۔ ایم سی ڈی کے امیدواروں کے انتخاب میں بھاجپا کے سبھی قاعدے قانون تار تار ہوگئے۔ پارٹی نے جہاں کئی سرکردہ لوگوں کو باہر کردیا وہیں پردیش صدر نے باغیوں سے نمٹنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑا۔ خاص بات یہ رہی کہ قریب 55 کونسلروں کو پارٹی نے دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اتارا ہے۔ پارٹی نے اس بار17کونسلروں کو دوسرے وارڈوں سے چناؤمیدان میں اتارا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری امیدواروں کی فہرست میں قریب آدھا درجن اہم کمیٹیوں کے صدور کے نام غائب ہیں۔ ایم سی ڈی چناؤ میں امیدواروں کے انتخاب میں کانگریس کی ماہرین کی کمیٹی نے نہ صرف44 کونسلروں کو جیتنے کے اہل مانا اور ان پر بھروسہ کر چناؤ میدان میں اتارا ہے۔2007ء میں ایم سی ڈی چناؤ میں کانگریس کے67 کونسلروں جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس سلیکشن کمیٹی نے ان 67 میں سے43 کونسلروں کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ ان میں کئی ایسے وارڈ ہیں جہاں تبدیلی ہوئی ہے وہ ریزرو ہوگئے ہیں۔248 نئے چہرے میدان میں اترے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پردیش پردھان کا دعوی تھا کہ کسی ایسے شخص کے رشتے دار کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا جس کا وارڈ ریزرو نہ ہو۔ وہیں ایسا بھی شخص ٹک پانے کا حقدار نہیں ہوگا جو2007ء کے ایم سی ڈی چناؤ میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارا ہو۔ امیدواروں کے انتخاب میں جو پیمانے پردیش کانگریس کمیٹی نے بنائے تھے وہ بھی پھُس ثابت ہوئے۔ کانگریس کی اسی پالیسی کے چلتے بڑے پیمانے پر لوگوں نے کانگریس سے بغاوت کر دل بل کے ساتھ پرچے داخل کئے ہیں۔ بھاجپا اور کانگریس میں پرانے نیتا اور ورکروں کی وفاداری پر بڑے نیتاؤں کے چہیتوں کے ساتھ رشتے دار بھاری پڑے۔ بڑے برے نیتاؤں نے زمین کے دھندے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہی اپنے رشتے داروں میں ٹکٹ بانٹ دی۔ بھاجپا میں ٹکٹ بانٹنے والوں نے اپنی چلانے کیلئے موجودہ117 کونسلروں کے ٹکٹ کاٹ دئے۔ ان میں سے 22 کونسلر اپنی بیوی یا بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ بھاجپا کے کل ملاکر عہدوں پر جمے 62 لیڈر اپنی اپنی بیوی اور بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ یہ سب ان خاتون ورکروں پر بھاری پڑی ہیں جو طویل عرصے سے پارٹی کا جھنڈا اٹھا رہی تھیں۔ دہلی کی دونوں بڑی پارٹیوں کانگریس اور بھاجپا نے اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وبھیشن کردئے ہیں جو امیدواروں کی لنکا اجاڑنے کا کام کریں گے۔ کانگریس میں امیدواروں کی فہرست ہمیشہ آخری وقت پر ہی جاری ہوتی تھی لیکن بغاوت کے چلتے ایک امیدوار کو ٹکٹ دے کر پھر دوسرا امیدوار بدلنا پارٹی کے لئے نئی مصیبت کھڑی کررہا ہے۔ ادھر بھاجپا پارٹی ود دی فیملی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں پارٹی کے ورکروں کو درکنار کر اپنے خاندان کو اہمیت دی گئی ہے۔ بغاوت دونوں ہی پارٹیوں کے لئے ایک نیا درد سر بن گیا ہے۔ کہیں یہ تجزیئے دونوں پارٹیوں کی لنکا نہ جلادیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

27 مارچ 2012

اترپردیش کی فتح کے بعد اب ملائم سنگھ کی نظریں دہلی پر لگیں



Published On 27 March 2012
انل نریندر
اترپردیش کا اقتدار حاصل کرنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو کی نظر اب دہلی کے تخت پر لگ گئی ہے۔ اب ملائم نے وسط مدتی چناؤ کبھی بھی ممکن کی بات کہہ ڈالی۔ اس سے پہلے ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی نے بھی وسط مدتی چناؤ کے لئے تیار رہنے کی بات کہی تھی۔ ممتا۔ ملائم کے سر میں سر ملاتے ہوئے بھاجپا کی سشما سوراج نے بھی دیش میں وسط مدتی چناؤ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ دیواس (مدھیہ پردیش) ضلع میں ویجی لینس و نگرانی کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کرنے آئی سشما نے میڈیا سے کہا کہ دیش کی سیاست ہر دن بدل رہی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وسط مدتی چناؤ کا امکان ہے۔ سشما نے کہا کہ مرکز کے لئے 272 کا جادوئی نمبر نہیں رہ گیا ہے اور وہ محض 227 ممبران پر ٹکی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہامرکز میں سرکار اقلیت میں آنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے بھاجپا وسط مدتی چناؤ کیلئے پوری تیار ہے۔ ملائم کا نشانہ وزیر اعظم بننے کا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو سماجوادی نظریئے کے بانی ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی 102 ویں جینتی پر لکھنؤ میں اپنے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب لوک سبھا میں وسط مدتی چناؤ کیلئے کمر کس لی ہے کیونکہ لوک سبھا چناؤ کبھی بھی ہوسکتے ہیں اس سال یا پھر اگلے سال ، اس لئے سارے ورکر پوری طاقت ابھی سے لگادیں۔ یوپی میں شاندار کامیابی کے بعد اب ریاستی ورکر سبھی 80 لوک سبھا سیٹیں جیتنے کیلئے نشانہ مقرر کرلیں۔ دراصل شری ملائم سنگھ یادو نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے وقت جب سماجوادی پارٹی کا موقف کانگریس کے تئیں نرم ہوتا نظر آرہا تھا اور ممتا بنرجی کی بھرپائی کے لئے سپا کو مرکز میں جگہ ملنے کی قیاس آرائیاں تیز ہورہی تھیں تبھی ملائم نے وسط مدتی چناؤ کی بات کہہ کر کانگریس کی ہوا نکال دی۔ ایک طرف انہوں نے کانگریس کے تئیں نرم ہونے کا اپنے نظریئے کی درپردہ طور سے تردید کردی ہے۔ وہیں دوسری طرف اپنے ورکروں کو کانگریس کے خلاف سرگرم ہونے کا پیغام دے دیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے اپنے بیٹے اور وزیر اعلی اکھلیش سنگھ کو یہ بتادیا ہے کہ ان کی سرکار کے کام کاج پر ہی لوک سبھا چناؤ لڑے جائیں گی۔ بھلے ہی وزیر اعلی کے عہد کی میعاد پانچ سال کی ہو لیکن ان کی کسوٹی پر ہونے والے کام کاج کی اگنی پریکشا ایک سال کے اندر ہی ہوجائے گی۔ ملائم سنگھ کو وسط مدتی چناؤ اس لئے بھی سوٹ کرتے ہیں کیونکہ ابھی انہوں نے نہ صرف اپنے بھائی (مسلم یادو) تجزیئے کو ٹھیک سے باندھ رکھا ہے بلکہ سماج وادی حکمت عملی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے سبھی ذاتوں کے ووٹ بینک ہتھیانے کا کرشمہ دکھایا ہے ۔ جس طرح اکھلیش نے اپنی پہلی ہی میٹنگ میں لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور بے روزگاری بھتہ جیسے وعدے چناؤ منشور میں خاص طور پرشامل تھے، کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ اس سے یہ قیاس آرائیاں بھی مسترد ہوگئیں کہ آخر سپا کی ان اہم اسکیموں کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ وسط مدتی چناؤ کی صورت میں ملائم سنگھ کو یہ فائدہ ہونے کی امید ہونی چاہئے کہ سال بھر تک لوگ کم سے کم مایاوتی راج کی یادیں تازہ ہی رکھیں گے۔ مایاوتی کے تئیں ناراضگی کا فائدہ بھی سپا کو لوک سبھا میں ضرور ملے گا۔
اترپردیش کے نظریئے سے دیکھا جائے تو وسط مدتی چناؤ بسپا چیف کے لئے بھی کم مفید نہیں کہا جاسکتا۔ چناؤ میں ہار کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بہن جی نے امید ظاہر کی تھی کہ سپا کے لوگوں کو بد امنی انہیں پھر سے اگلے چناؤ جیتنے کا موقعہ دے گی۔ حالانکہ مایاوتی کے لئے سپا کے عہد میں جتنے دنوں بعد چناؤ ہوں وہ مفید ہی رہیں گے کیونکہ انہوں نے امید پال رکھی ہے کہ سپا کی غلطیوں سے ان کی پارٹی کو فائدہ ملے گا۔ ویسے ان کی یہ امید بے معنی نہیں ہے کیونکہ پہلی بار اگر ملائم سنگھ یادو بسپا کے ساتھ مل کر چناؤ نہیں لڑتے تو اترپردیش میں پاؤں پھیلانے کا موقعہ بسپا کو اتنی جلدی نہیں ملتا۔ یہ ہی نہیں گیسٹ ہاؤس کانڈ نہیں ہوتا تو بھی بھاجپا مایاوتی کو وزیر اعلی نہ بنانے کی غلطی کرتی۔ ملائم سرکار کے تیسرے عہد میں سپا ورکروں کی غنڈہ گردی نے ہی مایاوتی کو 2007ء میں مکمل اکثریت سے سرکار بنانے کا موقعہ دیا۔ ایسے میں مایاوتی کی خوش فہمی واجب ہے لیکن جس طرح سپا سرکار چل رہی ہے اس کے پیش نظر ضرور اسے بے معنی کہا جائے گا۔ بسپا کے بانی کانشی رام اپنی تقریروں میں صاف طور پر کہا کرتے تھے کہ کمزور سرکار اور بار بار چناؤ ان کی پارٹی کے لئے فائدے مند ہیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Delhi, MCD, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

25 مارچ 2012

ضمنی چناؤ نتائج کانگریس اور بھاجپا کیلئے تشویش پیدا کرتے ہیں



Published On 25 March 2012
انل نریندر
تازہ ضمنی چناؤ نتائج اگر کانگریس کے لئے تشویش کا باعث ہیں تو آندھرا پردیش کی 7 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ میں اس کا صفایا ہونے کی خبر تو پارٹی کے لئے اچھااشارہ نہیں ہے۔ یہ ضمنی چناؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بھی اچھے اشارے نہیں دے رہے ہیں۔ گجرات کو بھاجپا اپنا گڑھ مانتی ہے اور کرناٹک میں بھی وہ قریب چار سال سے اقتدار میں ہے لیکن ان ریاستوں میں اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس اور بھاجپا ہی خاص حریف ہیں۔ اس لئے بھی یہ ہار بھاجپا کیلئے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ کرناٹک کی اڈوپی ۔چکمگلور سیٹ وزیر اعلی سدانند گوڑا کی تھی، وزیر اعلی چنے جانے کے بعد انہوں نے ہی اس سیٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ظاہر ہے اس سیٹ کو برقراررکھنا بھاجپا کے لئے وقار کا سوال تھا۔ مگر یہاں اسے کانگریس کے ہاتھوں 45 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے مات کھانی پڑی۔ صاف ہے کہ اقتدار کے خاطر پارٹی کے اندر جاری جوڑ توڑ اور رسہ کشی اور کرپشن کے الزامات اور اسمبلی میں فحاشی ویڈیو دیکھے جانے کے واقعہ سے ساکھ خراب ہوئی اس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑا ہے۔ ڈسپلن کا دم بھرنے والی بھاجپا کے لئے آج ڈسپلن شکنی ہی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
گجرات میں منسا اسمبلی سیٹ بھاجپا کے ہاتھ سے نکل کر کانگریس کی جھولی میں آنا وزیر اعلی نریندر مودی کے لئے بھی جھٹکا ہے۔ غورطلب یہ بھی ہے کہ منسا اسمبلی سیٹ گاندھی نگر لوک سبھا حلقے میں آتی ہے۔ جس کی نمائندگی لال کرشن اڈوانی کرتے ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ نہیں جب بھاجپا کے اس گڑھ میں سیند لگانے میں کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔ پچھلے سال نومبر میں میونسپل انتخابات میں بھی بھاجپا کی درگتی ہوئی تھی اس سال کے آخر میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لئے منسا کی ہار جہاں نریندر مودی کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے وہیں کانگریس ضرور اس سے خوش ہوگی۔ آندھرا پردیش کانگریس کے لئے سب سے بڑا گڑھ رہا ہے۔ 2009ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس یہاں 95 فیصدی سیٹیں جیت کر سیاست کے پنڈتوں کو چکمہ دے گئی تھی لیکن اس کے کرشمائی لیڈر سورگیہ راج شیکھر ریڈی سے اچانک موت اور ان کے صاحبزادے جگنموہن ریڈی کے کانگریس سے الگ ہونے کے بعد اس کا اثر شروع ہوگیا۔ اس کے بعد ریاست میں 17 اسمبلی اور 2 لوک سبھا سیٹوں پرضمنی چناؤ ہوچکا ہے، جس میں حکمراں کانگریس کا پوری طرح صفایا ہوگیا ہے۔ جہاں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی وہیں بھاجپا جیسی پارٹی جس کا صوبے میں زیادہ اثر نہیں ہے ، وہ بھی تین سیٹیں جیت چکی ہے۔ مرکزی سرکار میں بڑے گھوٹالوں کے انکشاف کے بعد کانگریس کو مہاراشٹر، راجستھان اور دہلی میں ہوئے ضمنی چناؤ میں بھی زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں اس کی حکومتیں ہیں یہاں بھی ممبئی میونسپل چناؤ میں بھی اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ یعنی ہر اس جگہ سے کانگریس کو بری خبر مل رہی ہے جہاں اس کے پاس اچھی طاقت ہے۔ کیرل میں ہوئے ضمنی چناؤ میں کانگریس کی ساتھی پارٹی کانگریس(جیکب) نے اپنی سیٹ برقرار رکھی ہے۔ یہ نتیجہ کانگریس کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ریاست میں اس کی قیادت والی یوپی اے سرکار معمولی اکثریت پر ٹکی ہے۔ تملناڈو اور اڑیسہ میں بھی ایک ایک اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ حکمراں پارٹی کے حق میں گئے ہیں۔ ویسے ضمنی چناؤ نتائج کو ہر حال میں عوامی رجحان کا اشارہ تو نہیں مانا جاسکتا لیکن کئی ریاستوں سے وہاں کے ووٹروں کے مزاج کا ضرور اشارہ ملتا ہے اور یہ اشارے نہ تو کانگریس کے لئے اچھے ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, By Poll, Karnataka, Andhra Pradesh, Gujarat, Modi, BJP, Congress,

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...