Translater

08 نومبر 2025

ممدانی کی تاریخی جیت !

امریکہ میں اس سال یعنی 2025 میں دو ایسے اہم چناو¿ ہوئے ہیں جس کا اثرپوری دنیا پر پڑا ہے اور پڑے گا ۔پہلا 20 جنوری کو ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے پھر صدر بنے اس کا پوری دنیا پر اثر پڑارہا ۔دوسرا چناو¿ 4 نومبر کو ہوا جب ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر کا چناو¿ جیتے ۔یہ کوئی معمولی چناو¿ نہیں تھا کئی معنوں میں یہ تاریخی چناو¿ تھا ۔پہلی بار 1892 کے بعد سے نیویار ک کے سب سے نوجوان میئر ظہران ممدانی کی جیت رہی ہے وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر بھی ہوں گے ۔انہوں نے پچھلے سال ہی سیاست میں قدم رکھا تھا اس وقت ان کے پاس نہ تو کوئی بڑی پہچان تھی اور نہ ہی بہت سارے پیسے اور نہ ہی پارٹی کی حمایت تھی ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی اینڈریو کوسومو اور رپبلکن امیدوار کیٹرس سلپا پر ملی جیت نے صرف غیر معمولی تھی۔لیکن کئی معنوں میں تاریخی بھی ہے ۔ممدانی نوجوان اور کرشمائی ہیں ۔فری مائلڈ کیئر پبلک ٹرانسپورٹ کے پھیلاو¿ اور فری مارکیٹ سسٹم نے سرکاری دخل جیسے لیفٹ اشوز کی حمایت کی۔ نیویار ک شہر میں تقریباً 48 فیصدی عیسائی 11 فیصدی یہودی ہیں ۔یہاں مسلم 9 فیصدی ہیں۔جو امریکہ میں سب سے بڑی مسلم آبادی ہے ۔کہا جاتا ہے 9/11 کے بعد کے اسلامی فوبیا کی وراثت سے یہ شہر اب تک نکل نہیں سکا ۔یہاں آج تک کوئی مسلم میئر رہا بھی نہیں۔اس کے باوجود اگر ممدانی کو جیت ملی ہے تو یہ صرف ان کی شخصی جیت نہیں بلکہ ان کی فلاحی مہم کی جیت زیادہ لگتی ہے ۔34 سال کے جس نوجوان کو کم تجربہ کی وجہ سے پہلے چناوی لڑائی میں کمزور ماناجارہا تھا بعد میں وہی سنورنے اور اہم سیکٹر ثابت ہوا ان کی خاصیت رہی جنتا سے وابستگی انہوں نے اشتہاروں پر خرچ کرنے کے بجائے سیدھے لوگوں سے مل کر بات چیت کی۔ عام شہروں کے مسائل کو سمجھا اور کئی ایسے وعدے کئے جو نیویارک کے باشندوں کو سمجھ میں آگئے۔ممدانی نے اپنے چناوی مہم کے دوران مین ہیٹن اور نیویارک سٹی میں آباد بڑے کارپوریٹ اور کاروباریوں کی سخت نکتہ چینی کی تھی اس لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلن مسک اور تمام صنعتکاروں نے ممدانی کی جم کر مخالفت بھی کی۔ٹرمپ نے تو دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر ممدانی جیتے تو وہ ان کی فنڈنگ بند کر دیں گے ۔ان پر مسلم ہونے پر بھی نکتہ چینی کی گئی لیکن ممدانی نے کھل کر چیلنج کو قبول کیا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اس پر انہیں فخر ہے اس لئے تمام اسلامی دنیا میں ان کی جیت کو ایک نئے دور کے آغاز سے تشبیہ دی جارہی ہے۔وہ نہ صرف ٹرمپ کے لئے درد سر بن سکتے ہیں بلکہ نیتن یاہو کو تو اگر وہ نیویارک آئے تو انہیں گرفتار کرنے کی بھی دھمکی دے چکے ہیں ۔وہ ہمارے پردھان منتری کی بھی نکتہ چینی کی کرچکے ہیں اور 2002 میں ہوئے گجرات دنگوں کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔حالانکہ جیتنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ممدانی نے بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو یاد کیا ۔اپنی وکٹری تقریر میں ممدانی نے پنڈت نہرو کو یادکرتے ہوئے کہا میں جواہر لال نہرو کے الفاظ کے بارے میں سوچتا ہوں اور تاریٰخ میں ایسا لمحہ بہت کم آتا ہے جب ہم پرانے سے نئی جانب قدم بڑھاتے ہیں ۔جب ایک دور کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایک ملک کی روح کو اظہا ررائے کی آزادی ملتی ہے آج رات ہم پرانے سے نئے دور کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

06 نومبر 2025

باہوبل، بدلہ ، سیاسی سنگرام کی علامت مکوما!

بہار اسمبلی چناو¿ میں موکاما اسمبلی سیٹ سرخیوں میں ہے ۔30 اکتوبر کو جن سوراج پارٹی کی حمایتی باہوبلی دلار چند یادو کا سر عام قتل نے سیاسی پارا بڑھا دیا ہے ۔یہ سیٹ صرف دو باہوبلی خاندانوں کی سیاسی وراثت کی علامت بن چکی ہے ۔بلکہ بہار کی سیاست میں باہوبلی و اقتدار کے گٹھ جوڑ کی سب سے بڑی مثال بن چکی ہے ۔پچھلے ہفتے جمعرات دلار چندیادو کا قتل ہو گیا۔دلارچند کے قتل کا الزام باہوبلی آننت سنگھ پر لگا ہے ۔آننت سنگھ کو سیاسی دباو¿ کے سبب گرفتار کر لیا گیا ۔سنیچر کی دیر رات پٹنہ پولیس نے بڈ شہر کے بیٹھنہ گاو¿ں سے آننت سنگھ کو انہیں کی کارگل مارکیٹ سے گرفتار کرلیا تھا ۔آننت سنگھ اسی کارگل مارکیٹ کی عمارت میں ہی رہتے ہیں ۔جب ان کی گرفتاری ہوئی تھی ان کے ایک حمایتی سندیپ کمار نے بتایا کہ رات ساڑھے بارہ بجے پٹنہ پولیس آئی تھی اور ودھائک جی کو اپنے ساتھ لے گئی ۔آننت سنگھ موکاما میں ہر برادری کے ہیرو ہیں ۔سورج مان سنگھ چاہے جتنی کوشش کر لیں اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔وینہ سنگھ علاقہ کے دبنگ لیڈر سورج بھان سنگھ کی بیوی ہیں اور انہیں ہی راشٹریہ جنتا دل نے موکاما سیٹ سے امیدوار بنایا ۔موکاما سے آننت سنگھ کی بیوی نیلم دیوی ممبر اسمبلی ہیں ۔لیکن اس بار خود آننت سنگھ چناو¿ میدان میں ہیں ۔بتا دیں موکاما بھومیاروں کے دبدبے والا علاقہ ہے ۔سورج بھان اور آننت دونوں اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ۔جن سوراج سے پیوش پریہ درشی میدان میں ہیں ۔جو کنک برادری سے ہیں ۔ایسے میں لڑائی صرف بھومیاروں کے ووٹ کو اپنے حق میں کرنے کی نہیں ہے ۔بلکہ غیر یادو او بی سی اور دلت ووٹوں کو حاصل کرنے کی بھی ہے ۔دلار چند کے قتل کے پریہ درشی پیوش پریہ درشی کے مطابق کھوسری زون کے تارا پور گاو¿ں میںآننت سنگھ آئے تھے ۔اسی گاو¿ں میں ان کاقافلہ نکلا۔پیوش پریہ درشی نے بتایا کہ باسوا نائک گاو¿ں کے میرا قافلہ جارہا تھا میرے ساتھ دلارچند یادو بھی تھے یہ موکاما اسمبلی حلقہ والا علاقہ ہے ۔دونوں کا قافلہ تارپور اور واسو نائک گاو¿ں کے بیچ میں ٹکرایا ۔آننت سنگھ کی گرفتاری کے بعد پٹنہ میں اے ایس پی کیرتی کرم شرما نے سنیچر کو پریس کانفرنس میں بتایا دلار چند کا جہاں قتل ہوا وہاں آننت سنگھ موجود تھے ۔اور وہ معاملہ میں مین ملزم ہیں ۔اتوار کو آننت سنگھ کو گرفتار کر پٹنہ کی سی جے ایم عدالت میں پیش کیا گیا ۔اور عدالت نے آننت سنگھ و ان کے دو دیگر ساتھیوں کو 14 دن کی جوڈیشیل ریمانڈ میں بھیج دیا ۔بعد میں ان تینوں کو بیعور جیل بھیجا گیا ۔موکاما کے جے ڈی یو امیدوار آننت سنگھ کے ساتھ ہی مینا کانت ٹھاکر اور رجنیت کمار کو دیر رات گرفتار کیا گیا ۔دلار چند کا گاو¿ں ہے وہ باہوبلیوں کے بیچ پیوش کا چناو¿ لڑنا بتاتا ہے کہ وہ کسی سے ڈرتے نہیں ۔بھومیاروں کے بعد دیگر فرقوں کی تعداد اچھی خاصی ہے ۔کانک کے لوگ ان کے ساتھ ہیں ۔دلار چند کے پوتے نیرج یادو نے الزام لگایا ہے کہ آننت سنگھ کے ساتھ رنجیت رائے اور مینا کانت ٹھاکر کی گرفتاری معاملے میں نیا برادری واد رنگ دینے کے لئے کی گئی ہے ۔یہ اس کو سمجھانے کے لئے کیا گیا ہے کہ اس میں دلت بھی شامل ہیں آننت سنگھ کے ساتھ جن دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ نادوا گاو¿ں کے ہیں ۔نوادہ آننت سنگھ کا آبائی گاو¿ں ہے ۔گیتا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اتوار کی صبح پتہ چلا ہے کہ ان کے شوہر کر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔گیتا کہتی ہیں کہ میرے پتی آننت سنگھ کے لئے کھانا بنا تے تھے ان کا یہی گنا ہ ہے۔آننت سنگھ کو جیل میں کوئی سیوا کرنے کے لئے چاہیے اس لئے دونوں کو پولیس ساتھ لے گئی ۔اٹھاون سالہ آننت سنگھ اور ان کے پریوار کا موکاما اسمبلی میں آئے جب ان پر کئی سنگین الزام لگے تھے ان کے خلاف قتل،جرائم کے درجنوں معاملے ہیں جن میں اے کے 47- کی برآمدگی بھی شامل ہے ۔سورج بھان سنگھ نے سال 2000 سے موکاما کے آننت سنگھ کے بھائی کوہرا کر اپنی سیاسی پاری شروع کی تھی ۔سورج بھان سنگھ بھی رنگداری کے معاملے میں گھر رہے ہیں ۔دلارچند یادو نے 1990 میں اسمبلی چناو¿ لڑا تھا لیکن معمولی فرق سے آننت سنگھ کے بھائی دلیپ سنگھ ہار گئے تھے ۔1991سے 2010 کے درمیان ان پر قتل ،اغوا، رنگداری سے جڑے معاملے درج ہوئے تھے ۔1990 سے اب تک موکاما سیٹ کی تاریخ دبنگ اثر اور بدلے کی سیاست سے بھری ہوئی ہے ۔اس لئے ان دبنگیوں کو گینگس آف موکاما کہا جاتا ہے۔ (انل نریندر)

04 نومبر 2025

وزیراعظم کا گٹھ بندھن پر تلخ حملہ!

وزیراعظم نریندر مودی نے بہار کے لئے جاری این ڈی اے کے سنکلپ پتر کی تعریف کرتے ہوئے شوشل میڈیا پر لکھا کہ این ڈی اے کا سنکلپ پتر آتم نربھراور وکست بہار کے ہمارے ویژن صاف طور سے سامنے لاتا ہے ۔اس میں کسانوں بھائی بہنوں ،نوجوانوں اور ماتاو¿ں کے ساتھ ریاست کے میرے سبھی پریوار جنوں کی زندگی کو اور آسان بنانے کے لئے ہمارا عزم دکھائی دے گا ۔پی ایم نے کہا ، بہار کے چوطرفہ وکاس کے لئے ریاست کی ڈبل انجن سرکار نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ریاست بڑی تبدیلیوں کا گواہ بنا ہے ۔اس میں اور تیزی لاکر گڈ گورننس کو جن جن کی خوشحالی کی بنیاد بنانے کے لئے عہد بند ہیں امید ہے کہ ان کوششوں کو عوام کی حمایت ملے گی ۔وہیں وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ جمعرات کو مظفرپور ضلع کے موتیہاری چینی مل میدان اور چھپرہ ہوائی اڈے کے میدان میں ریلیوں سے خطاب کیا ۔وزیراعظم نریندر مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس ،آر جے ڈی اتحاد پانچ کے کٹہ،کرورتا ،کٹھوتا ،کشاشن اور کرپشن کی علامت ہے ۔انہوں نے کہا یہ پانچ کے “ آر جے ڈی کے جنگل راج کی پہچان ہے ۔آر جے ڈی ،کانگریس کا چناو¿ منشور حقیقت میں ایک رینٹ چارٹ ہے ان کے وعدے رنگداری ، پھروتی ،کرپشن ،لوٹ کے ہیں ۔انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کی ریلیوں میں کس طرح کے گانے بجائے جارہے ہیں ۔ان میں کٹہ ،پھوٹا ،دونالی اور بہن بیٹیوں کے اغوا کی بات ہے ۔مودی نے مظفر پور اور چھپرہ میں اپنی ریلیوں میں دعویٰ کیا کہ ریاست میں آر جے ڈی کے اقتدار کے دوران پینتیش سے چالیس ہزار اغوا کی وارداتیں ہوئیں اور غنڈے گاڑی شوروم لوٹتے تھے ۔ان کا اشارہ سابق وزیراعلیٰ راوڑی دیوی کی سب سے بڑی بیٹی میسا بھارتی کی شادی کی جانب تھا ۔میسا حال ہی میں پاٹلی پتر سے ایم پی ہیں ۔مودی نے کہا دوسری طرف این ڈی اے کلچرل وراثت کو محفوظ کرنے اور عزت دینے و بہار سمیت دیگر ریاستوں کا سنہرہ وکاس یقینی کرنے کا حامی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ سبھی سروے بتا رہے ہیں کہ آر جے ڈی کانگریس کو سب سے اب تک کی سب سے کم سیٹیں ملیں گی۔این ڈی اے کو سب سے بڑی جیت ملے گی ۔مودی نے کہا این ڈی اے سرکار چھٹھ پوجا کو یونیسکو کی ورلڈ وراثت فہرست میں شامل کروانے کے لئے کوشش کرے گی ۔دوسری طرف آر جے ڈی کی بھکتی ،شمتا ،ممتا ،سمرتا کے مہا پروو کو ڈرامہ ،نوٹنکی بتا رہے ہیں ۔انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے کبھی آر جے ڈی اور کانگریس والوں کو رام مندر جاتے دیکھا کیا؟ انہیں ڈر ہے کہ ایودھیا میں پربھو شری رام کے درشن کر لیں گے تو ان کے ووٹ بینک ناراض ہو جائیں گے ۔اور خوشامدی کا حساب کتاب بگڑ جائے گا۔ آپ کی آستھا پر جو لوگ احترام نہیں کر سکتے وہ کبھی بھی یہاں آستھا کے استھلوں کا وکاس نہیں کر سکتے ۔پی ایم نے کہا کہ این ڈی اے کا عزم ہے کہ بہار میں پڑھائی ،کمائی ،دوائی اور سینچائی کے بھرپور مواقع بنیں ۔یہاں کے بیٹا بیٹی اب ہجرت نہیں کریں گے ۔بلکہ یہیں کام کر بہار کا نام روشن کریں گے ۔پی ایم نے جی ایس ٹی چھوٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بہار کے نوجوانوں نے اس سال ستمبر اکتوبر میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکلیں خریدیں۔جنگل راج میں نئی گاڑی خریدتے ہی آر جے ڈی کے غنڈے پیچھے لگ جاتے تھے۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...