Translater
20 جنوری 2024
ٹھنڈ ، کہرے اور آلودگی کی ٹرپل مار !
ان دنوں پورا شمالی بھارت ٹھنڈ اور کہرے اور آلودگی کی ٹرپل مار سے دوچار ہے ۔پورے شمالی ہندوستان میں سرد لہر کا قہر ہے ۔سرد برفیلی ٹھنڈ کے درمیان کہرے کی گھنی چادر نے شمالی بھارت کے بڑے علاقہ کو اپنی آگوش میں لے لیا ہے ۔صبح کے وقت پنجاب سے لیکر آسام تک کا علاقہ گھنے کہرے میں ڈوبا ہوا رہتا ہے ۔دہلی سمیت کئی شہروں کا درجہ حرارت صفر تک نیچے آگیا ہے ۔ریل ،ہوائی جہاز ٹریفک پر بھی اس کا خاص اثر دیکھنے کو ملا ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق امرتسر ،گنگا نگر ،پٹیالہ ،امبالہ ، چنڈی گڑھ ،بریلی ،لکھنو¿ ، بہرائچ ،وارانسی ،پریاگ راج ،تیز پور سمیت کئی شہروں میں صبح کے وقت درجہ حرارت کی سطح صفر سیلسیس تک رہی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق کہرے کی چادر سندھو ،گنگا کے میدان اور برہم پور ندی کے علاقہ میں بھی پھیل رہی ہے ۔کہرے کی یہ چادر تقریباً 2300 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے اور 10.71 لاکھ مربع کلو میٹر تک حصہ کہرے اور کپکپاتی ٹھنڈ سے متاثر ہے ۔ایک دن کے مقابلے میں کہرے کی چادر 24 فیصداضافہ ہوا ہے ۔ادھر کھجراو¿ کے آس پاس کے واقعات کے لحاظ سے 2024 بے حد دلچسپ سال ہونے جا رہا ہے ۔اس سال تین بڑے ایونٹ ہونے جا رہے ہیں ۔زمین کی طرف بڑھ رہے 24 بڑے ایسٹورائڈ کے سندر نظارے دیکھنے کو ملیں گے ۔اس کے علاوہ چار گرہن بھی لگیں گے ۔اگر آپ ان دلچسپ واقعات کے گواہ بننا چاہتے ہیں تواس کے لئے پہلے سے تیار رہنا ہوگا ۔نینی تال میں واقع محکمہ ارتھ لبوٹری سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر وریندر یادو کے مطابق اس سال چار بار گرہن دیکھنے کو ملیں گے جس میں دو سورج اور دو چاند گرہن ہوں گے ۔سال کا پہلا چاند گرہن 24 مارچ کو لگے گا ۔اس کے بعد 18ستمبر کو دوسرا چاند گرہن ہوگا ۔وہیں پہلا سورج گرہن 8 اپریل کو ہوگا اور دوسرا 2 اکتوبر کو لگے گا ۔صدور خلا سے اس سال 24 بڑی چٹانیں زمین کی طرف آرہی ہیں ۔اس میں سے 12 اسٹورائڈ کو تو سال کے پہلے ماہ یعنی جنوری میں ہی دیکھ سکتے ہیں ۔بتا دیں اگلے کچھ دنوں کے اندر چار اسٹورائڈ زمین اور چاند کے بیچ سے گزریں گے ۔موسم کے مزاج میں تبدیلی کی بڑی وجہ آب و ہوا میں تبدیلی ہے اور شمالی بھارت میں سردی کا قہر لوگوں کیلئے مشکلیں پیدا کرہا ہے اور پھر تھوڑے دن بعد ہی گرمی بڑھنی شروع ہوگی تو اسے جھیلنا مشکل ہو جائے گا ۔پچھلے کچھ برسوں سے نا صرف گرمی کی میعاد بڑھی ہے بلکہ اس کی تیزی بھی ناقابل برداشت ہو تی جارہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر سال گرمی میں تیز لو چل رہی ہے ۔جس کی وجہ سے لوگوں کی موتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔پچھلی گرمی میں اتر پردیش کے کچھ علاقوں کو لو کی زد میں آکر 100 سے زیادہ لوگوں کے مرنے کی تفصیل شائع ہوئی ہیں یہی حال برسات کا بھی ہے ۔برسات کی میعاد بھی بڑھ گئی ہے ۔اور برسنے والی بوندوں کا سائز بھی بڑھ گیا ہے ۔اس سے کم وقت میں ہوئی بار ش میں بھی جگہ سیلاب کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں مگر کئی علاقوں میں برسات کی رفتار گھٹ رہی ہے ۔جس سے انہیں خشک سالی کی مار جھیلنی پڑ رہی ہے جو غذائی سیکورٹی کے نکتہ نظر سے باعث تشویش صورتحال مانا جا رہا ہے ۔پہاڑوں پر کم برف گرنے سے روایتی آبی وسائل مثلاً جھیلوں ،تالابوں میں پانی کی سطح گھٹ رہی ہے ۔کل ملا کر لگتا نہیں کہ اگلے چار پانچ دنوں میں سردی سے کوئی راحت ملنے والی ہے ۔
(انل نریندر)
پاک کا آتنکی چہرہ بے نقاب!
پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ اس کی فوج نے ایران کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے ۔فی الحال پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا پاکستانی فوج نے جمعرات کو بلوچستان کے راستے بار سمیار نیائے کا ابھیان چلا کر ایران نے پناہ لے کر رہ رہے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کی صبح پاکستان نے ایران کے رینسلاً او بلوچستان صوبہ میں دہشت گردوں کے نشان زدہ ٹھکانوں پر منظم حملے کئے ہیں ۔خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چلائے جا رہے مارگ بار سمیار نام کے ابھیان میں کئی آتنکی مارے گئے ہیں ۔پاکستان نے کئی دہشت گردوں کے مرنے کی بات کہی ہے ، حالانکہ اس نے اس سے متلعق کوئی تفصیل نہیں بتائی ۔پاکستان کے سابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس ابھیان کیلئے اپنی فوج کو مبارکباد دی ہے ۔روشن انٹرنیشنل نیوز کے مطابق رستان اور بلوچستان صوبہ کے ایک مقامی افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے ۔سروان شہر کے پاس کئی دھماکہ ہوئے ہیں ۔اس صوبہ کے ڈپٹی گورنر جنرل نے ایران کی سرکار کے ٹی وی چینل سے کہا کہ پاکستان نے سرحد کے ایک گاو¿ں پر حملہ کیا ہے اس حملے میں تین خاتون اور چار بچوں کی موت ہوئی ہے ۔مرنے والا کوئی بھی ایرانی شہری نہیں ہے ۔ایران سماچار ایجنسی رائٹرس نے ایرانی میڈیا میں آرہی رپورٹوں کے حوالے سے کہا کہ سستان ،بلوچستان صوبہ کے ایک گاو¿ں میں کئی میزائلیں گری ہیں ۔اے ایف پی نے پاکستانی خفیہ محکمہ کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس بات کی تصدیق کر سکتاہوں کہ ہم نے ایران کے اندر پاکستان مخالف خفیہ اڈے کو نشانہ بنایا ہے ۔مغربی ایشیا میں لڑائی کے بیچ ایران کے ذریعے عراق کے قردستان و سیریار حملے کے بعد پاکستان پر حملے کئے گئے اور میزائل و ڈرون حملے سے جنگ کا ایک دم مورچہ کھلنے کا اندیشہ تو ہے ہی لیکن بہتر یہ ہے باہمی رشتوں کے درمیان تہران کی جارحیت پاکستان کے آتنکی کردار کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے ۔ایران کا الزام ہے اس کے مغربی مشرقی صوبوں اور سستان بلوچستان میں پچھلے دنوں ہوئے آتنکی حملے کے پیچھے جس میں کئی فوجی افسر مارے گئے تھے پاکستان کے سنی گروپ جیش العدل کا ہاتھ تھا ۔جس کا بدلہ لینے کیلئے اس نے یہ کاروائی کی ہے ۔بلدستان کے سرحدی شہر میں کئے گئے اس حملے میں دو لڑکیاں ماری گئی ہیں جبکہ کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں ۔بلوچستان میں چھپے دہشت گرد تنظیم جیش العدل پر میزائل سے حملہ کر ایران نے پاکستان کے آتنکی چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے ۔دیکھا جائے تو بین الاقومی اسٹیج پر پاکستان پر دہشت گردوں کے سب سے بڑی محفوظ پناہ گاہ ہونے کا جو الزام بھارت برسوں سے لگا رہا ہے اس پر اسلامی ملکوں کی مہر بھی لگنے لگی ہے ۔جانکار مان رہے ہیں کہ بین الاقومی اسٹیجز پر پاکستان کو لیکر بھارت کا دعویٰ پہلے کے مقابلے اور ٹھوس ہو گیا ہے ۔اس درمیان وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ یہ ایران اور پاکستان کے درمیان کا آپسی معاملہ ہے ۔جہاں تک بھارت کا سوال ہے دہشت گردی کے تئیں ۔زیرو ٹارلنس کی پالیسی ہے ۔ہم ان پر کاروائیوں کو سمجھتے ہیں ۔جو دیش اپنی حفاظت کیلئے کرتے ہیں بھارت ایران کے علاوہ افغانستان کی موجودہ طالبانی حکومت بھی پاکستان میں دہشت گردوں کے چھپے رہنے کا اشو اٹھا رہی ہے ۔پاکستان پر ہوا ایرانی حملہ اس کی آتنکی کرتوت کا ہی جواب ہے ۔جو بھارت لمبے عرصہ سے کہتا آرہا ہے اور جس کا سامنا بھارت کررہا ہے ۔لہذا ایران کا یہ حملہ اسلام آباد کیلئے شرمشار ہونے کی وجہ ضرورہے ۔
(انل نریندر)
19 جنوری 2024
ڈونلڈ ٹرمپ کی دھماکہ دار جیت !
اوہیو کاکس کی تاریخ میں شاید پہلی بار سب سے چوکانے والی جیت رہی ہے ۔رپبلکن پارٹی کے صدارتی عہدے کے امیدوار کیلئے ہوئے پہلے چناو¿ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ جیت درج کی ہے ۔مہینوں سے اس پولنگ کے نتیجوں کا اندازہ لگایا جا رہا تھا اور آخیر میں ایسا ہی ہوا ۔کاو¿نٹنگ کے دورا ن سابق صدر نے یکطرفہ بڑھت بنائے رکھی اور منگلوار کی رات ان کی جیت کے بعد کڑاکے کی ٹھنڈ میں ان کے حمایتی اس جیت کا جشن منارہے تھے ۔ٹرمپ کے اہم حریف نکی ہیلی ، راو¿ن ڈیسٹسٹ اور ان کی آئیڈیا لوجی سے ملتے جلتے (ہندوستانی نژاد) وویک کہیں بھی انہیں چنوتی دیتے نہیں دکھائی دئیے ۔ان کے ووٹ تقسیم بھی نہیں دکھائی دئیے ۔دوسری طرف ان کے حریف وویک راما سوامی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ چناو¿ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور نیو ہیمپ شارمیں منگلوار کو ٹرمپ کی حمایت کریں گے ۔یہاںاوہیو کے نتیجوں کو قریب سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے کیوں کہ وائٹ ہاو¿س کی دوڑ میں یہ بے حد اہم ہے ۔اوہیو میں کوئی بھی 12 پوائنٹ سے زیادہ بڑھت نہیں بنا پایا تھا جبکہ ٹرمپ نے 30 فیصدی کے فرق سے بڑھت بنائی اور مکمل اکثریت سے جیت درج کی ۔سبھی ووٹوں کی گنتی کی گئی اور ٹرمپ کو 51 فیصدی ڈیسٹسٹ کو 21 فیصدی اور ہیلی کو 19 فیصدی ووٹ ملے ۔اوہیو میں جس طرح پولنگ ہوئی وہ اس بات کی مثال ہے کہ کم کیوں اب تک پارٹی کی حکمت عملی میں بازی ماررہے ہیں ۔پارٹی کے زیادہ تر لوگوں کا بھروسہ ہے کہ ابھی بھی ٹرمپ کے میک امریکہ گریٹ اگین والے جملے پر بنا ہوا ہے ۔ٹرمپ کی جیت میں سماج کے سبھی طبقوں کا اشتراک تقریباً برابررہا ہے انہیں چناو¿ میں نوجوانوں ،بزرگوں ،مردوں اور عورتوں کی سبھی کی پرزور حمایت ملی ہے ۔ویفور ساو¿تھ پنتھی ووٹروں کا ووٹ لینے میں بھی کامیاب رہے ہیں جو 2016 میں ان سے دور تھے ۔امریکہ میں عام طور صدارتی چناو¿ میں ہارنے والے امیدواروں کو لوگ بھول جاتے ہیں ہارے ہوئے امیدوار کبھی بھی دوبارہ واپسی نہیں کر پاتے ہیں ۔لیکن اوہیو میں جیت نے دکھا دیا ہے کہ رپبلکن پارٹی میں اب بھی ٹرمپ کی خاصی دھاک ہے ۔رپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ کی طاقتور موجودگی پر کبھی کسی کو کوئی شبہ نہیں رہا ہے ۔لیکن اوہیو میں ملی کامیابی امریکی سیاست کے حساب سے غیر معمولی ہے ۔تین برس پہلے ٹرمپ نے صدر کا پہلا دورہ حکومت تنازعوں کے بیچ ختم کیا تھا ۔9 جنوری کو کیپٹل ہل پر ان کے حمایتیوں کی ہڑدنگ بازی ہوئی تھی ۔ہڑدنگ امریکی تاریخ کا سب سے تکلیف دہ حصہ نوجوانوں کا ہے ۔اس دنگے کیلئے ٹرمپ پر دو بار کرائم کے مقدمہ بھی چل رہے ہیں ۔اب اوہیو میں ملی جیت کے بعد انہوں نے نومبر میں ہونے والے صدارتی چناو¿ میں رپبلکن پارٹی کا امیدوار بننے کی سمیت میں قدم بڑھایا ہے ۔لیکن اب بھی ٹرمپ کو پارٹی کا امیدوار بننے کیلئے سخت جدوجہد کرنی ہے ۔آگے کی پرائمری میں بھی یہی ٹرینڈ رہا تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ نے صدارتی عہدے کیلئے پارٹی کی امیدواری جیتی تو نائب صدر کی امیدواری کیلئے ڈی سینٹنس یا نکی ہیلی میں سے کوئی ایک چناجائے گا ۔حالانکہ یہ صرف ایک ریاست کے پرائمری کا نتیجہ ہے ۔ابھی تمام ریاستوں میں ایسا ہی ہوگا جس میں تمام دعویداروں کو اپنا پرفارمنس بڑھیا کرنے کیلئے بہتر موقع ملے گابہرحال اگلا پرائمری 23 جنوری کو نیو ہیمشائر میں ہے ۔ہر پرائمری کے ساتھ تصویر صاف ہوگی ۔اوہیو میں ملی جیت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کو یقینی طور پر ایک رفتار ملے گی ۔جب تک ووٹ ڈالنے کی باری آئے گی تب تک ٹرمپ کو امید ہے کہ وہ ایک طاقتور امیدوار کے طور پر ابھر چکے ہیں ۔
(انل نریندر)
تاکہ آزاد انہ اور منصفانہ چناو ہوں!
چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے جمعرات کو ریاست کے چیف الیکٹرورل حکام (سی ای او) سے مارچ ،اپریل میں ہونے والا آئندہ لوک سبھا چناو بے داغ ،مکمل کرانے کو کہا ہے ۔راجیو کمار نے لوک سبھا چناو سے پہلے یہاں چیف الیکٹرورل حکام کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چناو کی راہ فرض اور عزم کا سفر ہے انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے مطابق سبھی فیض یافتگان کو بہتر چناوی تجربہ فراہم کرنے کیلئے کی گئی تیاریوں پر بھروسہ جتایا ۔دو روزہ کانفرنس کا انعقاد چناو پلاننگ و اخراج نگرانی ، ووٹر لسٹ ، آئی ٹی تجربات اور ڈیٹا مینجمنٹ اور الیکٹرک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) پر خاص طور پر غور خوض کے ساتھ ساتھ حال ہی میں مکمل ہوئے اسمبلی انتخابات کے تجربے اور نصیحت شیئر کرنے کیلئے کی جا رہی ہے ۔چناو کرانے کے طریقے کو لیکر سب سے بڑا تنازعہ ای وی ایم کو لیکر ہے ۔اپوزیشن انڈیا اتحاد نے چناو کمیشن کو کچھ تجاویز بھیجی ہیں ۔اتحاد نے ریزولیشن پاس کر چناو¿ کمیشن سے مانگ کی ہے کہ بیلٹ پیپر کے ذریعے چناو¿ کرائے جائیں اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو ووٹر ویری فکیشن پرچیوں (وی وی اے ٹی) کی 100 فیصدی گنتی کی جائے ۔اپوزیشن کی تجویز ہے کہ پولنگ کے دوران پرچی باکس میں ڈالنے کی جگہ اسے ووٹر کو سونپی جائے اور وہ اپنی پسند و شناخت کے بعد اسے ووٹر باکس میں ڈال دے گا ۔اپوزیشن لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن نے میمورندم کا جواب نہیں دیا ہے ۔دراصل حال ہی میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے کے بعد مدھیہ پردیش کے نتیجوں کو لیکر سوال اٹھے ۔کہا گیا ہے کہ نتیجہ پہلے ہی سے طے سروے کے وہاں کے نتیجے کے بارے میں پہلے ہی ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی گئی ۔اور اس میں لوکل بوتھ ضروری ایک عنصر ہے کہ چناو¿ میں سبھی اتحادی فریقوں کا یقین بنا رہے تبھی سیاسی پارٹی اپنی ہار کو آسانی سے قبول کر پائیں گے ۔ای وی ایم کی بناوٹ اور اسے چلانے کو لیکر عرصہ سے سوال اٹھ رہے ہیں حال ہی میں سپریم کورٹ کے کچھ وکیلوں نے دہلی کے جنتر منتر پر ای وی ایم سے چھٹی دلانے کیلئے مظاہرے بھی کئے مظاہرے کے دوران یہ بھی دکھایا گیا کہ ای وی ایم کیسے ہیک ہو سکتی ہے ۔سیاسی پارٹی ہی نہیں کئی سطح پر ماہرین اور پیشہ ور بھی ای وی ایم پر شبہہ جتاتے رہے ہیں ۔چناو¿ کمیشن ایسے دعووں کی تردید کرتا رہا ہے ۔بیرون ممالک کی بات کریں تو دنیا کے 31 ملکوں میں ای وی ایم کا استعمال ہوالیکن زیادہ تر ملکوں نے اس میں گڑ بڑی کی شکایت کے بعد ووٹر باکس طریقہ اپنانے لگے ہیں ۔امریکہ ،انگلینڈ ،جرمنی جیسے ترقی یافتہ ملکوں نے ای وی ایم کو مسترد کردیا ہے ۔وہاں چناو¿ بیلٹ پیپر کے ذریعے ہی کرائے جاتے ہیں ان حقائق کے برعکس یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کیا بھارت میں ویلٹ پیپر کی واپسی ممکن ہے ۔چناو¿ کمیشن کئی بار کہہ چکا ہے کہ تکنیک کے موجودہ دور میں ماضی گزشتہ کی طرف لوٹنا مناسب نہیں ہوگا ۔چناو¿ جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں کسی دیش کا مستقبل چناو¿ میں جیتنے والی پارٹی کے ہاتھ میں ہوتا ہے چاہے اسے کل ووٹروں میں سے ایک تہائی ووٹ کیوں نہ ملے ہوں لیکن اس کی پالیسیوں کا اثر 100 فیصدی ووٹر اور ان کے پریواروں پر پڑتا ہے اس لئے چناو¿ کمیشن کا ہر کام منصفانہ اور آزادنہ اور شفاف ہونا چاہیے ۔ایک آزاد جمہوریت میں ہونے والی سب سے بڑا مقابلہ چناو¿ ہیں اور اس کے انعقاد یعنی چناو¿ کمیشن سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ دیش میں آزادانہ اور منصفانہ اور شفاف چناو¿ کروائیں ۔
(انل نریندر)
18 جنوری 2024
واپس جائیں ہندوستانی فوجی !
وزیراعظم نریندر مودی پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے والے اپنے کیبنیٹ کے ساتھیوں کو تو مالدیپ کے صدر محمد معزو نے معطل کر دیا تھا لیکن چین کا پانچ روزہ دورہ ختم کرنے کے بعد ان کے بھارت مخالف تیور مزید تلخ ہو گئے ہیں سنیچر کو چین سے مالے لوٹے معزو نے اتوار کو ہندوستانی فوجیوں کو 15 مارچ تک مالدیپ چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے ۔یہ 88 ہندوستانی فوجی مالدیپ کی جنتا کی خدمت کیلئے حکومت ہند کی طرف سے بھیجے گئے ہیلی کاپٹروں کو چلانے کیلئے تعینات کئے گئے ہیں ۔مالدیپ میں معزو سرکار کی طرف سے بھارت کو یہ ڈیڈ لائن ایسے وقت میں دی گئی ہے دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں دیکھنے کو ملی ہیں ۔سماچار ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق حکومت کے تازہ شماریات کے حساب سے مالدیپ میں فی الحال 88 ہندوستانی فوجی ہیں جو محمد معزو نے چناو¿ میں انڈیا آو¿ٹ کا نعرہ دیا تھا اور صدر بننے کے بعد اب پہلی شروعاتی ترجیحات میں ہندوستانی فوجیوں کی واپسی کو بتایا تھا ۔مالدیپ کے میڈیا اداروں کی رپورٹ کے مطابق سرکار نے مالدیپ میں موجودہ ہندوستانی فوجیوں کی واپسی پر بھارت سے بات چیت شروع کر دی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات چیت میں بھارت کی مالدیپ میں تعینات ہائی کمشنر منو مہاور ، وزارت خارجہ کے حکام سمیت کئی جوائنٹ سیکریٹری شامل تھے ۔مالدیپ کی سرکار میں پبلک پالیسی کے چیف سیکریٹری نے کہا کہ بھارت کے فوجی مالدیپ میں نہیں رہ سکے اور دیش کے لوگ بھی یہی چاہتے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق جب محمد معزواور پی ایم نریندر مودی کی ملاقات ہوئی تھی تب بھی یہ اشو اٹھایا گیا تھا ۔ہندوستانی فوجیوں کا مالدیپ سے ہٹنا برا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے ۔ہند مہا ساگر کے دیش مالدیپ میں مشکل سے 5.5 لاکھ لوگ رہتے ہیں ۔اس کے نئے اسلامی جھکاو¿ والے چین حمایتی صدر بیجنگ کی اپنی تیرتھ یاترا سے اتنی ہمدردی حاصل کررہے ہیں کہ بھارت کو ڈیڈ لائن دے رہے ہیں ۔اور بھارت کو لیکر جارحانہ بیان بھی دے رہے ہیں تاکہ مالدیپ کو تحفہ میں جو ہیلی کاپٹر دئیے تھے ان کے پاس رکھ رکھاو¿ کیلئے موجود کچھ درجن فوجیوں کو بھارت بھیجا جا سکے ۔ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد معزو نے جیسا کہا تھا وہ ویسے ہی ہندوستانی فوجیوں کو ہٹا سکتے ہیں لیکن ایسا کرکے مالدیپ سفارتی سطح پر نقصان کی پوزیشن میں رہے گا ۔بھارت کے تئیں ناراضگی ظاہر کرکے وہ امریکہ ،فرانس جیسے ملکوں سے بھی دور ہو سکتا ہے ۔امریکہ نے بھلے ہی د وری بنائی ہوئی ہے لیکن چین کا اگر ہند مہا ساغر خطہ میں دخل بڑھا تو یہ امریکی سرکار کیلئے تشویش کا موضوع ہو سکتاہے ۔معزو نے ایسا ماحول بنایا جیسے کہ بھارت نے اپنا کوئی فوجی اڈہ مالدیپ میں بنا رکھا ہے جبکہ وہاں مشکل سے 88 فوجی ہیں اور وہ بھی ایک سمندر ٹوحی جہاز اور ہیلی کاپٹروں کو چلانے اور راحت رسانی کاموں کیلئے ہیں اب جب پوری طرح سے صاف ہو گیا ہے کہ مالدیپ کے صدر چین کے اشارے پر بھارت مخالف پالیسی پر چلنے پ امادہ ہیں تب بھارت کو نہ صرف چوکس رہنا ہوگا بلکہ ساتھ سام دام ڈنڈ بھید کے تحت مالدیپ میں اپنے فوجیوں کی حفاظت بھی کرنی ہوگی ۔صاف ہے کہ آنے والے وقت میں چین کا مالدیپ میں دخل بڑھے گا اور بھارت کے مفادات کے خلاف مالدیپ کا استعمال ہوگا ۔ہمیں اس لئے بھی ہوشیار رہنا ہوگا ۔معزو چین پرستی پر امادہ ہیں بلکہ اس لئے بھی رہنا ہوگا کیوں کہ وہاں بھارت مخالف جہادی طاقتیں بھی سر اٹھا رہی ہیں۔
(انل نریندر)
ای ڈی کے سمن پر دہلی سے جھارکھنڈ تک سیاست!
دو ریاستوں دہلی اور جھارکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے سمن کو لے کر سیاسی ماحول گرمایا ہواہے ۔دہلی و جھارکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ نے سمن کو غیر قانونی بتاتے ہوئے ای ڈی کے سامنے پیش ہونے سے اب تک انکار کیا ہے ۔دونوں ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیاں ای ڈی کی کاروائی کو سیاسی ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی حاصل کی جا سکے ۔اس معاملے میں جس طرح دہلی اور جھارکھنڈ کی حکومتیں و حکمراں پارٹیوں کے نیتاو¿ں کی طرف سے رد عمل سامنے آرہے ہیں اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ ای ڈی کی امکانی کاروائی کے سیاسی نفع نقصان اور اس کی بھرپائی کی تیاریوں میں لگ گئی ہیں ۔اس لئے ای ڈی کے اگلے قدم سے پہلے ان دونوں ریاستوں میں کچھ ایک سیاسی واقعات دیکھنے کو مل سکتے ہیں ۔دونوں وزرائے اعلیٰ کی پارٹیوں کا الزام ہے کہ مرکزی ایجنسی کا بیجا استعمال کیا جا رہا ہے ۔وہ مرکزی سرکار پر لوک سبھا چناو¿ سے پہلے ای ڈی کو ہتھیار کی طرح استعمال کرنے کا الزام لگا رہی ہیں ۔ہیمنت سورین اور اروند کیجریوال انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے سمن کے جواب میں الٹے سوال کررہے ہیں ۔ای ڈی کے ذرائع کا کہنا ہے جسے سوالوں کا جواب دینے کیلئے بلایا جاتا ہے وہی جانچ ایجنسی سے الٹے سوال کرنے لگیں تو اس کے سوالوں کا جواب دینے کا کوئی تقاضہ و قانون میں نہیں ہے ۔دونوں ہی معاملوں کی اسٹڈی کی جا رہی ہے کہ اگلی کاروائی کیا کی جائے ؟ ای ڈی نے دہلی شراب پالیسی سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے میں پوچھ تاچھ کیلئے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو چوتھی بارسمن جاری کیا ہے ۔کیجریوال کو 18 جنوری یعنی آج ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کیلئے کہا گیا ہے ۔وہیں ای ڈی نے ایک بار پھر جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کو خط لکھا ہے ۔ایجنسی نے ان سے پوچھا ہے کہ وہ بیان درج کرانے کیلئے کیوں پیش نہیں ہو رہے ہیں اس سے انصاف میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے ۔ای ڈی نے جواب دینے کیلئے 16 سے 20 جنوری تک کا وقت دیا ہے ۔اس سے پہلے ای ڈی کی طرف سے ہیمنت سورین کو 7 مرتبہ سمن بھیجے جا چکے ہیں ۔اس خط کو 8 واں سمن بتایا جا رہا ہے ۔رانچی کے بڑگئی انچل میں ہوئے زمین گھوٹالے کے معاملے میں ای ڈی ہیمنت سورین کا بیان درج کرنا چاہتی ہے ۔اس کےلئے انہیں گزشتہ 29 دسمبر کو ساتواں سمن بھیجا گیا تھا جسے ایجنسی نے آخری بتاتے ہوئے سات دنوں کے اندر بیان درج کرانے کو کہا تھا ۔سورین اس سمن پر حاضر نہ ہوئے ۔ادھر ایجنسی کا کہنا ہے کہ کیجریوال کو بھیجے گئے سمن پی ایم ایل اے کی کاروائیوں اور قانون کے دائرے میں تھے ۔معاملے میں ای ڈی کے ذریعے دائر چارج شیٹ میں کیجریوال کا نام کئی بار آیا ہے ۔سورین اور کیجریوال دونوں کا خیال ہے کہ ای ڈی کی کاروائی غیر قانونی ہے اور ان کی سیاسی ساکھ خراب کرنے کے مقصد سے بھیجا گیا ہے ۔ان کی پارٹی کے بڑے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ریاستی سرکار کو کمزور کرنے کے ارادے سے مرکز کے اشاروں پر یہ سب جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے ۔کیجریوال کی پارٹی کے دوسرے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان نوٹسوں کے ذریعے انہیں لوک سبھا چناو¿ کمپین سے روکنے کی منشاءہے ۔عآپ کا کہنا ہے کہ یہ سب کیجریوال کو گرفتار کرنے کی سازش ہے ۔حالانکہ ای ڈی کو اختیار ہے کہ تین بار نوٹس بھیجنے کے بعد وہ پرونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفع 19 کے تحت گرفتار کر سکتی ہے ۔مرکزی سرکار کی منشاءاگر حقیقت میں ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیوں کو کمزور کرنے کی ہے تو اپنی پوزیشن صاف کرنے کا موقع سب کے پاس ہے ۔آخر کار جنتا ہی طے کرے گی کہ کون کتنے پانی میں ہے ۔برعکس سیاسی نظریات کا مسلسل احترام کرنا ایک صحتمند جمہوریت کیلئے ضروری ہے ۔
(انل نریندر)
16 جنوری 2024
اور اب کھلا تیسرا مورچہ!
روس - یوکرین کی جنگ پہلے ہی سے چل رہی ہے ۔اسرائیل - حماس کی جنگ بھی پچھلے کئی مہینوں سے چل رہی ہے ۔رہی سہی قصر اب تیسرے مورچہ سے کھل گئی ہے ۔امریکہ اور برطانیہ کی فوج نے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دئیے ہیں ۔امریکہ اپنے ساتھی دیشوں کے ساتھ حملہ تب شروع کیا ہے جب ا س اہم ساتھی دیش اسرائیل غزا میں جنگ لڑ رہا ہے ۔غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے خلاف مشرقی وسطیٰ کے اسلامی ملک متحد ہوتے نظر آرہے ہیں ۔لیکن یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے ۔حوثی باغیوں کو ایران حمایتی کہا جاتا ہے اور سعودی عرب یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سالوں سے لڑتا رہا ہے ۔امریکہ کی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ایران میں موجود حوثی باغی پچھلے سال نومبر سے لال ساغر سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔یہ حملے اسی کی جوابی کاروائی ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں انہیں نیدر لینڈ،آسٹریلیا ، کنیڈا ، بحرین سمیت دیگر کئی ملکوں سے مدد مل رہی ہے ۔وہیں برطانوی وزیراعظم رشی سنک نے کہا کہ رائل ایئرفورس کے جنگی جہازوں کی مدد سے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر نشانہ لگا کر حملے کئے گئے ہیں انہوں نے ان حملوں کو محدود ، ضروری اور اپنی حفاظت کے لئے اٹھایا گیا قدم کہا ہے ۔اب تک ملی اطلاع کے مطابق ،یمن کی راجدھانی ثناء،لال ساغر پر بنے اوبیدہ بندرگاہ ،چھایار اور شمال مغرب میں موجود حوثی باغیوں کا گڑھ مانے جانے والے سبا پر حملے کئے گئے ہیں ۔حوثی باغیوں کے ایک افسر نے امریکہ اور برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ اس جارحیت کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔یمن کے بڑے حصے پر حوثی باغیوں کا قبضہ ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ لڑ رہے فلسطینی شدت پسند گروپ حماس کی حمایت کرتے ہیں ۔وہیں سعودی عرب نے اس معاملے میں تحمل برتنے کی صلاح دی ہے ۔امریکی سینٹرل کمان نے جانکاری دی ہے کہ ثناءوقت کے مطابق 11 جنوری کی رات 2.30بج کر اتحادی ملکوں کی مدد سے فوج نے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں ۔حملوں میں ان کے راڈار سسٹم ، ایئر ڈیفنس سسٹم ہتھیاروں کے ذخیروں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ساتھ ہی ان جہگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔جہاں سے ہوائی ڈرون حملے ،کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل حملے لانچ کئے جاتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ایران حمایتی حوثی باغیوں نے گزشتہ سال 17 اکتوبر سے لیکر اب تک لال ساغر میں بین الاقوامی سمندری راستوں پر 27 جہازوں پر حملے کئے ہیں اس میں لال ساغر اور خلیج ادن میں جہازوں پر غیر قانونی اینٹی شپ بیلسٹ میزائل ، ڈرون حملے اور کروز میزائل شامل ہیں ۔ان حملوں کے سبب قریب 55 ملک متاثر ہوئے ہیں ہم اس کے لئے حوثی اور عدم استحکام پھیلانے والے ان کے ایرانی حمایتیوں کو جواب دہ مانتے ہیں ۔حوثی باغیوں کے ترجمان محمد عبدا لسلام نے ان حملوں کی مزمت کی ہے اور کہا ہے کہ یمن کے خلاف اس جارحیت رویہ کو صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ترجمان نے کہا لال ساغر میں یا عرب ساغر میں بین الاقومی سمندری راستوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔انہوںنے شاشل میڈیا پر لکھا کہ اسرائیلی جہازوں اور قبضہ والے فلسطین کی طرف سے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانا ہم جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہا امریکہ اور برطانیہ کا یہ سوچنا غلط ہے کہ ان کے حملوں سے ڈر کر یمن فلسطین اور غزہ کی حمایت چھوڑ دے گا ۔سعودی عرب کا رد عمل تھا کہ امریکہ اور اتحاد کے اس کے دوسرے ساتھی تحمل برتیں ۔اور معاملے کو بڑھانے سے بچیں ۔سعودی بے حد فکر مندر ہیں ، لال ساغر علاقہ کی حفاظت اور استحکام بنائے رکھنے کی اہمیت کو سمجھتا ہے ۔ہماری اپیل ہے کہ اس معاملے میں تحمل برتا جائے ۔اور معاملوں کو بڑھانے سے بچا جائے ۔
(انل نریندر)
شنکر اچاریہ کیوں نہیں جا رہے ہیں پران پرتیشٹھا پر !
ایودھیا میں رام مندر کے پران پرتیسٹھا کی تاریخ 22 جنوری جیسے ہی سامنے آئی تو یہ بحث شروع ہو گئی کہ کون اس انعقاد میں شامل ہوگا ۔کانگریس نے بدھوار کو کئی دنوں سے پوچھے جا رہے سوال کا جواب دیا ۔کانگریس نے بی جے پی کو رام مندر کو سیاسی پروجیکٹ بنائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے اس پروگرام میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ۔کانگریس نے بیان جاری کر کہا بھگوان رام کی پوجا کروڑوں ہندوستانی کرتے ہیں ،دھرم انسان کا شخصی موضوع ہوتا ہے لیکن بھاجپا اور آر ایس ایس نے سالوں ایودھیا میں رام مندر کو ایک سیاسی پروجیکٹ بنا دیا ہے ۔صاف ہے کہ اس نیم تیار مندر کے افتتاح صرف چناوی فائدہ اٹھانے کیلئے کیا جا رہا ہے وہیں بشو ہندو پریسد نے تصدیق کی ہے کہ رام مندر پران پرتیشٹھا کی تقریب میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی بھی شامل ہوں گے ۔پہلے ایسی خبریں آئیں تھیں کہ اڈوانی تقریب میں شامل نہیں ہوں گے ۔کانگریس کے علاوہ شنکر اچاریہ نے بھی رام مندر پران پرتیشٹھا پروگرام میں جانے سے انکار کر دیاہے ۔حالانکہ دو شنکر اچاریوں نے بچاو¿ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سب اس تقریب میں شامل ہوں ۔اور مانیتاو¿ں کے مطابق شنکر اچاریہ ہندو دھرم میں شپریم دھرم گورو کا عہدہ ہے ۔ہندو دھرم میں شنکر اچاریوں کو سمان اور آستھا کی نظر سے دیکھا جا تا ہے ۔زیادہ تر شنکر اچاریہ کو ہندو دھرم کے دارشنک تشریح کیلئے جانا جاتا ہے ۔اگر شنکر اچاریہ نے ہندتو کے پرچار پرسار کیلئے چار مٹھوں کی استھاپنا کی تھی ۔یہ چار مٹھ ہیں ۔شرنگیری مٹھ ،کرناٹک - شنکر اچاریہ مٹھ ،دوارکہ ،گجرات ،شنکر اچاریہ سدانند مہاراج اور جوتی مٹھ واٹیکا ،اتراکھنڈ - شنکر اچاریہ ابھی مکتیشر آنند مہاراج ۔ ان مٹھوں کا ہندو دھرم میں کافی اہمیت ہے ۔ایسے میں جب رام مندر پران پرتیشٹھا پروگرام کی تاریخ طے ہوئی تو شنکر اچاریوں سے بھی رخ جاننے کی کوششیں ہوئیں ۔جوتر مٹھ شنکر اچاریہ ابھی مکتیشور آنند سرسوتی نے کہا کہ دیش کے چاروں شنکر اچاریہ 22 جنوری کو پران پرتیشٹھا پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے ان کے مطابق یہ انعقاد شاستروں کے مطابق نہیں ہو رہا ہے ۔ادھورے مندر میں پران پرتیشٹھا نہیں ہو سکتی ہے ۔حالانکہ شرنگیری مٹھ کی طرف سے بیان جاری کر بتایا گیا ہے کہ شنکر اچاریہ بھارتی تیرتھ کی تصویر کے ساتھ سندیش ڈالا جارہا ہے جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ شرنگیری شنکر اچاریہ پران پرتیسٹھا کی مخالفت کررہے ہیں لیکن ایسا کوئی پیغام شنکر اچاریہ کی طرف سے نہیں دیا گیا ۔یہ غلط پرچار ہے ۔شنکر ا چاریہ کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ پران پرتیشٹھا پروگرام میں شامل ہوں ۔حالانکہ شنکر اچاریہ خود ایودھیا جاکر شامل ہوں گے یا نہیں اس بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے وہیں شنکر اچاریہ ابھی مکتیشور آنند کا ایک ویڈیو شوشل میڈیا پروائرل ہو رہا ہے جس میں وہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ رام آنند سمپردائے کا اگر یہ ایک مندر ہے تو چمپت رائے وہاں کیا کررہے ہیں ۔یہ لوگ وہاں سے ہٹیں ،ہٹ کر رام آنند سمپردائے کو پرتیشٹھا سے پہلے سونپیں ۔ہم اینٹی مودی نہیں ہیں لیکن ہم اینٹی دھرم شاشتر نہیں ہونا چاہتے ۔شری رام مندر بھومی ٹرشٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے حال ہی میں کہا تھا کہ رام مندر ام آنند سمپردائے کا ہے ۔وہ کہتے ہیں ، چاروں شنکر اچاریہ کسی راگ یا دیش و بے وجہ نہیں ہے۔بلکہ شنکر اچاریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شاستر ودھی کا پالن کریں ۔اور کروائیں ۔اب وہاں شاستر ودھی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔پھر مندر ابھی پورا بنا نہیں ہے اور پرتیشٹھا کی جا رہی ہے ۔کوئی ایسی حالت نہیں ہے کہ اچانک کرنا پڑے جس شاستر سے ہم نے رام کو جانا اسی شاستر سے ہم پران پرتیشٹھا کریں یہ ضروری ہے ۔ابھی پرتیشٹھا شاستروں کے حساب سے نہیں ہو رہی ہے اس لئے میرا جانا مناسب نہیں ہے ۔شنکر اچاریہ سدانند مہاراج کی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے ۔رام مندر کیلئے ہمارے گورودیو نے کئی کوششیں بھی کیں ۔500 سال بعد تنازعہ ختم ہوا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم چاہتے ہیں پران پرتیشٹھا تقریب وید شاستر ، دھرم کی مریادا کا پالن کرتے ہوئے ہی مکمل ہو ۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...