13 اکتوبر 2018

رافیل پر سپریم کورٹ فیصلے سے بڑھی سیاسی ہلچل

چناوی برس میں سیاسی اشو بن رہا رافیل سودا مستقبل میں یا تو مودی سرکار کی مشکلیں بڑھائے گا یا پھر اپوزیشن کے ارادوں پر پانی پھیرے گا۔ سپریم کورٹ نے بدھوار کو مرکزی حکومت سے پوچھا کہ اس سودے کا فیصلہ کیسے لیا گیا تھا، اس سودے سے وابستہ خانہ پوری کی مفصل جانکاری مانگنے کے بعد سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔ اگر اپوزیشن کے الزامات کے مطابق سودے پر مہر لگنے سے پہلے ڈیفنس معاملوں کی وزارتی کمیٹی سمیت دیگر کمیٹیوں کو کنارے کرنے کا دعوی صحیح پایا گیا تو مودی سرکار کٹہرے میں کھڑی ہوجائے گی۔ وہیں اگر اس کے الٹ اس میں کسی طرح کی خامی نہیں پائی گئی تو لوک سبھا چناؤ میں اسے اشو بنانے کی تاک میں لگی اپوزیشن کو جھٹکا لگے گا۔ دراصل رافیل سودے میں اپوزیشن انل امبانی کی کمپنی کو آفسیٹ پارٹنر بنانے اور زیادہ قیمت چکانے کے علاوہ ضروری خانہ پوریوں کی تعمیل نہیں کرنے کا الزام لگا رہی ہے۔ اپوزیشن خاص طور پر کانگریس صدر راہل گاندھی، سینئر وکیل و لیڈر پرشانت بھوشن اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کے ساتھ ساتھ سابق وزیر ارون شوری کا الزام ہے کہ سودے پر آخری فیصلہ لیتے وقت سرکار نے ٹنڈر طلبی کمیٹی، قیمت متعین کمیٹی ڈیفنس معاملوں کی وزارتی کمیٹی سمیت کئی ضروری خانہ پوریوں کو درکانار کیا، جبکہ کارروائی کو قطعی شکل دینے کیلئے ان کی رضامندی ضروری ہے۔ ایسے میں مرکز سے حاصل جانکاری میں سپریم کورٹ نے خانہ پوریوں کی خلاف ورزی کے الزامات کو صحیح پایا تو مودی سرکار کی مشکلیں بڑھ جائیں گی۔ اس کے الٹ اگر جانکاری میں سبھی خانہ پوریوں کی تعمیل کرنے کی حقیقت سامنے آئی تو اپوزیشن کو سرکار کو گھیرنے کے منصوبے پر پانی پھر جائے گا۔ اس درمیان وزیر دفاع نرملا سیتا رمن تین روزہ دورہ فرانس کے لئے بدھوار کو یہاں سے روانہ ہوئیں ان کا یہ دورہ چھتیس رافیل جہازوں کی خرید کو لیکر بھارت ۔ فرانس میں پیدا ہوئے تنازعوں کے درمیان ہورہا ہے۔ اپوزیشن نے وزیر دفاع کے اس دورہ پر سوال اٹھایا ہے کہ کیا وہ اس تنازع میں سرکاری موقف کو مضبوط کرنے کیلئے گئی ہیں؟ پورے معاملے کا ایک اور نیا پہلو یہ بھی ہے کہ رافیل جہاز بنانے والی کمپنی دی سالٹ ایوی ایشن کے اندرونی دستاویزوں کے حوالے سے ایک فرانسیسی تفتیشی میگزین اور ویب سائٹ نے بھارت کے ساتھ ڈیل کے لئے انل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس کو شامل کیا جانا ضروری بتانے کا دعوی کیا ہے۔ میگزین نے سودے سے متعلق دستاویز کے حقائق سے دعوی کیا ہے کہ اس سودے میں ریلائنس کو فریق بنانے کی ضروری شرط رکھی گئی تھی۔ اس دعوی سے بھارت میں پہلے سے ہی جاری تنازعہ اور تیز ہونے کا امکان ہے۔ میگزین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے دی سالٹ کمپنی کے دستاویزات کو دیکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رافیل سودے کے لئے ریلائنس کے ساتھ جوائنٹ وینچر ضروری تھا۔ حال ہی میں اسی میگزین’’ میڈیائی پارٹ‘‘ نے سابق فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا انٹرویو بھی لیا تھا اس میں انہوں نے کہا تھا کہ دی سالٹ کے لئے بھارت میں ریلائنس کو آفسیٹ پارٹنر چننے کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا۔ اس معاملے میں فرانس سرکار کا کوئی رول نہیں تھا اور ریلائنس کے نام کی تجویز ہندوستان کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ رافیل پر جاری تنازع کے درمیان سرکار کو ہدایت دی ہے کہ وہ سیل بند لفافے میں کورٹ کو فرانس سے ہوئے سودے خریدنے کی تفصیلات بتائے۔ حالانکہ یہ بھی کہا کہ ایسا عرضیوں میں اٹھائے گئے اشو کی بنیاد پر نہیں کررہا ہے کیونکہ اس کے لئے عرضیوں میں دی گئی بنیاد کافی نہیں ہے۔ سیل بند لفافے میں دی جانے والے سودے کے فیصلے کی کارروائی سپریم کورٹ رجسٹری میں نہیں داخل کی جائے گی۔ اسے تین سیل بند لفافوں میں 29 اکتوبر تک سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل کو دی جائے گی۔ معاملے پر 31 اکتوبر کو پھر سماعت ہوگی۔
(انل نریندر)

کیا قومی سطح پر مہا گٹھ بندھن بنے گا

پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج اگلے سال ہونے والے لوک سبھا چناؤ کی سمت اور حالت طے کریں گے۔ خاص کر جب ان ریاستوں کے چناؤ کے تین ساڑھے تین مہینے بعد لوک سبھا چناؤ کا بگل بجنے والا ہے ایسے میں نتیجے کم سے کم اتحاد کی شکل ضرور طے کریں گے۔ لوک سبھا چناؤ کو لیکر فی الحال سب سے بڑا سوال یہ ہی ہے کیا این ڈی اے سے مقابلہ کرنے کیلئے کوئی اتحاد بنے گا؟ کیا ون ٹو ون فائٹ کی صورت بنے گی؟ یہ سوال اس لئے بھی لازمی ہے کیونکہ کچھ ہی دن پہلے بسپا چیف مایاوتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ مدھیہ پردیش میں کانگریس کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کرے گی۔ کانگریس کو مغرور بتاتے ہوئے ان ریاستوں میں اتحاد کے بارے میں غور و خوض کو خارج کردیا تھا۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے ساتھی پارٹیوں کی جانب سے رضامندی نہ ہونے پر وزیر اعظم کی ذمہ داری سنبھالنے کی بھی خواہش ظاہرکردی ہے۔ ہندوستانی سیاست کے بدلے تجزیوں کے درمیان بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل سیتا رام یچوری نے اگلے سال ہونے والے لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے مہا گٹھ بندھن بنانے کی کوششوں کو زمینی حقیقت سے دور بتاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی سطح پرمہا گٹھ بندھن ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہماری پارٹی نے الگ الگ ریاستوں میں سیکولر پارٹیوں کے ساتھ آپسی اتفاق رائے کی بنیاد پر چناوی تال میل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چناوی تعاون دینے والی پارٹیوں میں کانگریس کو بھی شامل کرنے کے سوال پر یچوری نے کہا کہ مارکسی پارٹی بھاجپا کو ہرانے اور بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کو مضبوط کرنا اور چناؤ کے بعد متبادل سیکولر سرکار کی تشکیل کا مقصد لیکر چلے گی۔ ابھی مہا گٹھ بندھن کی تصویر دھندلی ہے لیکن ابھی سے پی ایم کے عہدے کی دعویداری پیش کرنا شروع ہوگیا ہے۔ انڈین لوک دل کے سنمان سماروہ ریلی میں بسپا چیف مایاوتی کی پی ایم کے عہدے کی دعویداری کی حمایت کی ہے۔ بھلے ہی اس ریلی میں مایاوتی موجود نہیں تھیں لیکن تب بھی انڈین نیشنل لوک دل چیف اوم پرکاش چوٹالہ نے مایاوتی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار اعلان کردیا ہے۔ مایاوتی کو اس لئے چنا گیا ہے کیونکہ وہ کسانوں ، کمزور اور پسماندہ طبقوں کی حمایت کرتی ہیں اور ان کے پی ایم بننے سے ہر طبقے کو فائدہ ہوگا۔ ادھر این سی پی چیف شرد پوار آخری بار وزیر اعظم بننے پر اپنا داؤ کھیلنے کی تیاری میں ہیں۔ اپنی سیاسی زندگی کے تقریباً آخری دور میں پہنچ چکے 77 سالہ شرد پوار اسی وجہ سے آنے والے لوک سبھا چناؤ میں کسی سیٹ سے چناؤ میں نہیں اتریں گے۔ اس کے بجائے وہ علاقائی پارٹیوں کو ایک ساتھ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔ پوار کے قریبی نیتاؤں کا کہنا ہے کہ اگر بھاجپا اکثریت سے دور رہی تو علاقائی پارٹیوں کے ساتھ کانگریس کی حمایت سے پی ایم کا عہدہ حاصل کرنے میں پوار اہم رول نبھائیں گے۔ دوست ابھی پکچر باقی ہے، دیکھتے رہو سیاست کا رنگ لیتی ہے۔
(انل نریندر)

12 اکتوبر 2018

اب تک آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرتے ملک دشمن گرفتار

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بھارت میں اپنے جاسوسوں کااتنا بڑا جال پھیلا لیا ہے کہ اب تو خفیہ سے خفیہ فوجی و ڈیفنس اداروں کی جانکاری بھی پاکستان تک پہنچ رہی ہے۔ تازہ مثال ہے برہموس میزائل سے وابستہ خفیہ راز لیک کرنے کے الزام میں پکڑے گئے ڈیفنس انجینئر نشانت کی گرفتاری۔ حال ہی میں اترپردیش اور مہاراشٹر کے دہشت گردی انسداد دستے (اے ٹی ایس ) نے ڈیفنس ریسرچ اور ڈی آر ڈی او کے انجینئر کو جاسوسی معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ میزائل پروجیکٹ سے جڑے ملزم نشانت اگروال اہم ترین معلومات پاکستان اور امریکہ کو مہیا کروا رہا تھا۔ دعوی کیا جارہا ہے کہ اسے آئی ایس آئی نے ہنی ٹریپ میں پھنسا کر ڈیفنس سے متعلق اہم معلومات حاصل کیں۔ اس معاملہ میں کچھ اور سائنسدانوں کے شامل ہونے کا شبہ ہے۔ اسے لیکر پیر کو کانپور و آگرہ میں چھاپے ماری کی گئی۔ یوپی اے ٹی ایس کے آئی جی اسین ارون نے بتایا کہ نشانت کو پچھلے مہینے گرفتار بی ایس ایف کے ایک جوان سے ملی اطلاع کی بنیادپر دبوچا گیا۔ دیش میں آئی ایس آئی کے لئے کام کرنے والے دیش دشمنوں کی جانب سے دی جانے والی چھوٹی سے چھوٹی جانکاری کا استعمال پاکستان کافی خطرناک طریقے سے کرتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس ، لال قلعہ سے لیکر فوج کے کیمپوں میں دہشت گردوں کے ہوئے اب تک کے سب سے بڑے حملوں میں بلڈنگ اور راستے سے متعلق انہی چھوٹی معلومات کا استعمال ہوا۔2016 میں اری میں فوج کے کیمپ پر حملہ تازہ مثال ہے۔ ناگپور میں برہموس میزائل سسٹم انجینئر نشانت اگروال کی گرفتاری کے سلسلے میں خفیہ محکمہ کے سینئر افسروں کا کہنا ہے کہ سوال چھوٹی یا بڑی جانکاری کا نہیں ہونا چاہئے۔ دشمن کے لئے چھوٹی سے چھوٹی جانکاری بھی ہمارے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ اری سے فوجی ریجمنٹ کیمپ پر حملہ کرنے والے جیش محمد کے چار دہشت گردوں کو وہاں کے گاڈ بدلنے جانے سے لیکر ڈیزل کے ٹینکر آنے تک کے بارے میں سب کچھ اچھی طرح معلوم تھا اس لئے وہ بہار ریجمنٹ کے 19 جوانوں کی جان لینے میں کامیاب رہے۔ خفیہ محکمے کے سینئرافسروں کے مطابق دیش میں اب تک 2000 سے بھی زیادہ لوگ آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرنے کے معاملے میں گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ ان میں فوج ، نیم فوجی فورس، خفیہ محکمے سمیت عام لوگ بھی شامل ہیں۔ قریب اتنے ہی ابھی یہ کام کررہے ہوں گے جو ایجنسیوں کے راڈار پر نہیں آئے۔ اسی سال 6 لوگ ایسے معاملوں میں پکڑے جاچکے ہیں۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔ نشانت اگروال کو پکڑنے میں دو سال لگ گئے کہیں نہ کہیں یہ ہماری خفیہ مشینری کی کمزور اور ناکامی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ہر ایک پر نگرانی رکھ پانا بڑی چنوتی ہے۔ ایسے میں راستہ بس یہی بچا ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیاں اپنے نیٹ ورک کو زیادہ طاقتور بنائیں۔
(انل نریندر)

کیدارناتھ مندر اگلے 100 سال تک محفوظ ہوگا

ہندوستانی آثار قدیمہ سروے (اے ایس آئی ) کے ذریعے کرائے جارہے کیدارناتھ مندر کے تحفظ کے کام سے محکمے نے دعوی کیا ہے کہ مندر کو نئی زندگی مل گئی ہے اور مندر کو اگلے100سال تک کسی بھی صورت میں نقصان نہیں پہنچ سکے گا۔ اس کے لئے وہاں کے مقامی پتھر کا صحیح استعمال کیا گیا ہے۔ مندر کے گربھ گرہ سے سفید پتھر کو نکال دیا گیا ہے۔ اس وقت مندر کے باہر فرش کا کام چل رہا ہے۔ مندر کے تحفظ کے کام میں اب تک ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ جون 2013 میں آئے خوفناک سیلاب کے صدر مندر کو کافی نقصان پہنچا تھا، صرف مندر ہی بچا تھا اور آس پاس کی ساری عمارتیں ، دکانیں، سڑکیں بہہ گئی تھیں۔ پانی نیچے جہاں جہاں بھی گیا تباہی لیکر گیا۔ بستیاں، چھوٹے چھوٹے راستے سب ہمیشہ کے لئے غائب ہوگئے کیونکہ میں اس تباہی سے کچھ پہلے ہی کیدار بابا کے درشن کرنے گیا تھا اس لئے مجھے سارا منظر یاد ہے۔ درجنوں لوگوں ایسے غائب ہوئے جن کا آج تک پتہ نہیں چلاوہ کہاں گئے ہیں؟ابھی تک مندر میں مرمت وغیرہ کے کچھ کام ہوئے ہیں۔ مندر کے پیچھے کی طرف سے لیکر چاروں طرف چھت اور سات فٹ اونچائی تک جمع پتھر کا ملبہ ہٹایا گیا ہے۔ مندر کے مین گیٹ کو بدلا گیا ہے۔ مندر کے باہر کی پوزیشن ندی کے چبوترے کو بدلا گیا ہے۔ مندر کے گربھ گرہ میں لگائے گئے سفید پتھر کو ہٹا کر مقامی ہارڈ اسٹون لگایا گیا ہے۔ 60 سے 70 سال پہلے زلزلے کے سبب مندر میں آئی دراڑ کو دور کیا گیا ہے۔ چھت اور پتھر کی دیواروں کو ٹھیک کرایاگیا ہے۔ سپرینڈنٹ آثار قدیمہ محکمہ (دہرہ دون) اے ایس آئی للی گھمسانا کا کہنا ہے کہ مندر کی مرمت کا کام اب آخری مرحلے میں ہے اسے اگلے ماہ تک پورا کرلیا جائے گا۔ وہاں پر کام کرنا اور اس کے بچاؤ کے لئے سامان پہنچانا مشکل کام ہے۔ ہماری ٹیم نے مشکل حالات میں بڑی محنت سے اس کے رکھ رکھاؤ کا کام پورا کیا ہے۔ شردھالو اب بابا کیدار ناتھ کے درشن نئے راستے سے کر سکیں گے۔ راستے کو اسی سال 31 اکتوبر تک پورا کرلیا جائے گا۔ موجودہ راستے کا استعمال شردھالوؤں کے لوٹنے کے لئے کیا جائے گا۔ ریاست کی ترویندر راوت سرکار نے تیرتھ یاتریوں کی حفاظت کے پیش نظر فیصلہ کیا ہے کہ کیدارناتھ میں واقع سینٹرل پلازہ سے یہ راستہ منداکنی کی سکیورٹی دیوار سے ملا کر بنایا جارہا ہے۔ 400 میٹر لمبا یہ راستہ شیڈ سے دھکا ہوگا تاکہ شردھالو بارش سے بچ سکیں۔ اس راستے کا اگلے سال استعمال شروع ہوجائے گا۔ان دنوں کیدار دھام کے درشن کو سینکڑوں تیرتھ یاتری پہنچ رہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کیرل سیلاب مانسون سیزن لمبا کھنچنے سے یاتری کم پہنچ رہے ہیں۔ نئے سکیورٹی اقدامات کا ہر شیو بھگت سواگت کرتا ہے اور اب ماضی گزشتہ میں ہوئے جیسے حادثے پھر نہ ہوں گے ،اوم نماشوائے، ہر ہر مہا دیو۔
(انل نریندر)

11 اکتوبر 2018

رافیل سودے میں کچھ الجھے سوال

سپریم کورٹ اس مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے لئے تیار ہوگئی ہے جس میں رافیل ڈیل کی تفصیلات عدالت میں رکھنے اور این ڈی اے حکومت اور یوپی اے حکومت کے دوران جنگی جہاز کا موازنہ اور تجزیہ پیش کرنے کی حمایت دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگئی کی رہنمائی والی بنچ نے کہا کہ اس معاملہ میں پہلے ہی سے التوا عرضیوں پر 10 اکتوبر کو سماعت ہونی ہے لہٰذا اس مفاد عامہ کی عرضی کو بھی اسی دن سنا جائے گا۔ فرانس سے 30 ہزار کروڑ کے رافیل سودے پر سیاسی تنازع کے درمیان داخل ایڈوکیٹ ونت ڈھانڈا نے مفاد عامہ کی عرضی میں کہا ہے کہ ہندوستانی کمپنی کو ٹھیکہ دئے جانے کے بارے میں بتایا جائے۔ اس سے پہلے ایچ ایل شرما نے عرضی داخل کرکے رافیل سودے میں تمام گڑبڑیوں کا الزام لگایا تھا۔ ایک لفظ ہے ’’جوابدہی‘‘ اسی کا ایک متبادل لفظ ’’جوابدہ‘‘ بھی ہے۔ آسان زبان میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے جواب دینے کا کام کس کا ہے؟ رافیل سودے اور اس میں انل امبانی کی نئی نویلی کمپنی کے رول کو لیکر بہت سارے سوال اٹھ رہے ہیں جس کے لئے سیدھے جوابدہ وزیر اعظم ہیں کیونکہ وہ پی ایم ہیں اور اس سودے پر انہوں نے دستخط کئے ہیں۔ اس سودے کو انجام تک پہنچانے میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر یا کیبنٹ کے کسی رول کا کوئی سراغ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ سوال پی ایم مودی سے پوچھے جا رہے ہیں لیکن جواب ان کی ٹیم کے ممبر دے رہے ہیں۔ سوالوں کی شکل میں یا پھرفقرے کس کر۔ پی ایم نے مدھیہ پردیش میں راہل گاندھی کے الزامات کو غیر ملکی قرار دیا لیکن جواب تو دور رافیل لفظ پران کے منہ سے ایک جملہ تک نہیں نکلا۔ جتنا کیچڑ اچھلے گا اتنا ہی کمل کھلے گا یہ کہنے کی کوئی بنیاد یا ثبوت نہیں ہے کہ کوئی گھوٹالہ ہوا ہے یا کسی نے رشوت لی ہے لیکن یہ پورا معاملہ راجیو گاندھی کے عہد کے بوفورس کی طرح پرت در پرت کھل رہا ہے۔ بوفورس معاملہ میں بھی یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ وہ گھوٹالہ تھا یا راہل گاندھی کے پتا نے رشوت لی تھی۔چور اور خاندانی چور کے ہو ہلے کے بیچ نہ تو صحیح سوال سنائی دے رہے ہیں اور نہ ہی کوئی جواب مل رہا ہے۔ سوال بھارت کے قومی مفادات سلامتی وزیر اعظم کے دفتر کی ساکھ اور شفافیت سے جڑے ہیں۔ معاملہ کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی کی کیبنٹ کے دو وزرا اور ایک نامی وکیل نے اسے زبردست مجرمانہ بے ضابطگی بتاتے ہوئے کئی سوال پوچھے ہیں۔ ہوا میں یہ پانچ سوال تیر رہے ہیں انڈین ایئرفورس کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے فرانسیسی کمپنی داسو ایوی ایشن سے 126 جنگی جہاز خریدے جانے تھے۔ 2012 میں منموہن سنگھ سرکار سے فرانسیسی کمپنی کی بات چل رہی تھی۔ 2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا۔2015 میں داسو کے چیف ایٹک ٹوپیئے نے کہا تھا کہ 95 فیصد باتیں طے ہوگئی ہیں اور جلد ہی کام شروع ہوگا۔ سوال نمبر1 : وزیر اعظم نریندر مودی نے 10 اپریل 2015 کو اپنے فرانس دورہ کے دوران 17 معاہدوں پر دستخط کئے جن میں ایک معاہدہ رافیل جنگی جہاز کی خرید کا بھی تھا۔ جنگی جہازوں کی تعداد 126 سے گھٹا کر اچانک 36 ہوگئی ، حکومت نے ابھی تک دیش یا پارلیمنٹ و میڈیا کو یہ نہیں بتایا کہ اتنی بڑی تبدیلی کب اور کیسے ہوئی؟ نمبر2 : 126 جنگی جیٹ خریدے جانے تھے بلکہ ان میں سے108 جہاز بھارت میں ٹکنالوجی ٹرانسفر معاہدہ کے تحت بنگلورو میں سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ میں بنائے جانے والے تھے لیکن یہ ارادہ ترک کردیا گیا۔ سرکاری سیکٹر کی کمپنی ایم اے ایل کے پاس جنگی جہاز بنانے کا اچھا خاصہ تجربہ ہے۔ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے تحت وہاں پہلے بھی سینکڑوں جگوار اور سخوئی جہاز بنائے گئے ہیں۔ میک ان انڈیا میں ڈیفنس سیکٹر میں زور دینے کی بات کہی گئی تھی اور یہ اس سمت میں بہت بڑا قدم ہو سکتا تھا۔ لمبی خانہ پوری کرکے ایئرفورس کی ضرورتوں کا تجزیہ کرنے کے بعد طے کیا گیا تھا کہ 126 جنگی جہازوں کی ضرورت ہوگی۔ کیا بھارت کی عوام کو یہ نہیں بتایا جانا چاہئے کہ ایئرفورس کے جنگی جہازوں کی ضرورت کم کیسے ہوگئی اور ایم اے ایل کو یہ موقعہ کیوں نہیں دیا گیا؟ نمبر3: یہ ایک نیا سودا تھا کیونکہ جہازوں کی قیمت اور تعداد طے کی گئی تھی۔ ارون شوری، یشونت سنہا اور پرشانت بھوشن کا الزام ہے کہ وزیر اعظم نے قواعد کی تعمیل نہیں کی، سوال یہ ہے کہ اگر یہ نیا آرڈر تھا تو قواعد کے مطابق ٹنڈر کیوں نہیں جاری کئے گئے؟ یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ فیصلے میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر اور کیبنٹ آن سکیورٹی کا کیا روڈ تھا؟ اگر پتہ نہیں تھا تو کیوں نہیں تھا؟ سوال نمبر4 : جنگی جہاز کی قیمت کو لیکر سرکار پارلیمنٹ میں جانکاری دینے سے کتراتی رہی ہے۔ سرکار نے جنگی جہاز کی قیمت بتانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ یہ سکیورٹی اور راز کا معاملہ ہے۔ الزام لگانے والے بی جے پی سے جڑے دونوں سابق وزرا کا کہنا ہے قواعد کے مطابق راز جنگی جہاز کی تکنیکی جانکاری کے بارے میں رکھا جاتا ہے قیمت کے بارے میں نہیں، کیا سرکار کی ذمہ داری دیش کو یہ بتانا نہیں ہے کہ خزانے سے تقریباً 36 ہزار کروڑ روپے زیادہ کیوں خرچ ہورہے ہیں؟ سرکار کے وزرا نے بیشک یہ کہا ہے کہ جہاز میں بہت سارے سازو سامان اور ہتھیار الگ سے لگائے گئے ہیں اس لئے قیمت بڑھی ہے۔ پارلیمنٹ میں دی جانکاری کی بنیاد پر لوگ الزام لگا رہے ہیں جو پچھلا سودا ہوا تھا اس میں سبھی فاضل سازو سامان اور ہتھیاروں کی قیمت بھی شامل تھی۔ سرکار کو یہ بتانا چاہئے آخر سچ کیا ہے؟ جس دن نریندر مودی نے پیرس میں جنگی جہاز خرید کے معاہدہ پر دستخط کئے تھے وہ تاریخ تھی 10 اپریل 2015۔ 25 مارچ 2015 کو ریلائنس نے ڈیفنس سیکٹر میں ایک کمپنی بنائی جسے صرف 15 دن بعد تقریباً 30 ہزار کروڑ کا ٹھیکہ مل گیا۔ ایک ایسی کمپنی جس نے ڈیفنس سازو سامان بنانے کے سیکٹر میں کبھی کوئی کام نہیں کیا ہے ایس اے بی فرانسیسی کمپنی اپنی مرضی سے ایسا پارٹنر کیوں چنے گی یہ ایک پہلی ہے۔ سودے کے وقت فرانس کے صدر رہے فرانسوا اولاند نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ریلائنس کے نام کی پیشکش ہندوستان کی طرف سے ہوئی تھی۔ ان کے سامنے کوئی متبادل نہیں تھا۔ صفائی میں سرکار کے وزیر کہہ رہے ہیں یہ راہل ۔اولاند کی جگل بندی ہے ، ایک سازش ہے۔ بھارت میں شاید ہی کوئی بڑا ڈیفنس سودا ہوا ہو اور اس میں گھوٹالہ ، دلالی اور رشوت خوری کے الزام نہ لگے ہوں لیکن کسی بھی معاملے میں الزام ثابت نہیں ہوتے۔ سوالوں کے جواب نہیں ملتے۔ رافیل معاملہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوگا؟ دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت کے بیدار شہریوں کو ٹی وی پر تو چور تیرا باپ چور والا ڈرامہ دیکھ کر تسلی کرنی ہوگی یا پرسپشن کی لڑائی میں کچھ حقائق اور دلائل بھی سامنے آئیں گے؟ کیا پتہ؟ دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں کیا ہوتا ہے؟ 
(انل نریندر)

10 اکتوبر 2018

رافیل سودے میں کچھ الجھے سوال

سپریم کورٹ اس مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے لئے تیار ہوگئی ہے جس میں رافیل ڈیل کی تفصیلات عدالت میں رکھنے اور این ڈی اے حکومت اور یوپی اے حکومت کے دوران جنگی جہاز کا موازنہ اور تجزیہ پیش کرنے کی حمایت دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگئی کی رہنمائی والی بنچ نے کہا کہ اس معاملہ میں پہلے ہی سے التوا عرضیوں پر 10 اکتوبر کو سماعت ہونی ہے لہٰذا اس مفاد عامہ کی عرضی کو بھی اسی دن سنا جائے گا۔ فرانس سے 30 ہزار کروڑ کے رافیل سودے پر سیاسی تنازع کے درمیان داخل ایڈوکیٹ ونت ڈھانڈا نے مفاد عامہ کی عرضی میں کہا ہے کہ ہندوستانی کمپنی کو ٹھیکہ دئے جانے کے بارے میں بتایا جائے۔ اس سے پہلے ایچ ایل شرما نے عرضی داخل کرکے رافیل سودے میں تمام گڑبڑیوں کا الزام لگایا تھا۔ ایک لفظ ہے ’’جوابدہی‘‘ اسی کا ایک متبادل لفظ ’’جوابدہ‘‘ بھی ہے۔ آسان زبان میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے جواب دینے کا کام کس کا ہے؟ رافیل سودے اور اس میں انل امبانی کی نئی نویلی کمپنی کے رول کو لیکر بہت سارے سوال اٹھ رہے ہیں جس کے لئے سیدھے جوابدہ وزیر اعظم ہیں کیونکہ وہ پی ایم ہیں اور اس سودے پر انہوں نے دستخط کئے ہیں۔ اس سودے کو انجام تک پہنچانے میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر یا کیبنٹ کے کسی رول کا کوئی سراغ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ سوال پی ایم مودی سے پوچھے جا رہے ہیں لیکن جواب ان کی ٹیم کے ممبر دے رہے ہیں۔ سوالوں کی شکل میں یا پھرفقرے کس کر۔ پی ایم نے مدھیہ پردیش میں راہل گاندھی کے الزامات کو غیر ملکی قرار دیا لیکن جواب تو دور رافیل لفظ پران کے منہ سے ایک جملہ تک نہیں نکلا۔ جتنا کیچڑ اچھلے گا اتنا ہی کمل کھلے گا یہ کہنے کی کوئی بنیاد یا ثبوت نہیں ہے کہ کوئی گھوٹالہ ہوا ہے یا کسی نے رشوت لی ہے لیکن یہ پورا معاملہ راجیو گاندھی کے عہد کے بوفورس کی طرح پرت در پرت کھل رہا ہے۔ بوفورس معاملہ میں بھی یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ وہ گھوٹالہ تھا یا راہل گاندھی کے پتا نے رشوت لی تھی۔چور اور خاندانی چور کے ہو ہلے کے بیچ نہ تو صحیح سوال سنائی دے رہے ہیں اور نہ ہی کوئی جواب مل رہا ہے۔ سوال بھارت کے قومی مفادات سلامتی وزیر اعظم کے دفتر کی ساکھ اور شفافیت سے جڑے ہیں۔ معاملہ کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی کی کیبنٹ کے دو وزرا اور ایک نامی وکیل نے اسے زبردست مجرمانہ بے ضابطگی بتاتے ہوئے کئی سوال پوچھے ہیں۔ ہوا میں یہ پانچ سوال تیر رہے ہیں انڈین ایئرفورس کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے فرانسیسی کمپنی داسو ایوی ایشن سے 126 جنگی جہاز خریدے جانے تھے۔ 2012 میں منموہن سنگھ سرکار سے فرانسیسی کمپنی کی بات چل رہی تھی۔ 2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا۔2015 میں داسو کے چیف ایٹک ٹوپیئے نے کہا تھا کہ 95 فیصد باتیں طے ہوگئی ہیں اور جلد ہی کام شروع ہوگا۔ سوال نمبر1 : وزیر اعظم نریندر مودی نے 10 اپریل 2015 کو اپنے فرانس دورہ کے دوران 17 معاہدوں پر دستخط کئے جن میں ایک معاہدہ رافیل جنگی جہاز کی خرید کا بھی تھا۔ جنگی جہازوں کی تعداد 126 سے گھٹا کر اچانک 36 ہوگئی ، حکومت نے ابھی تک دیش یا پارلیمنٹ و میڈیا کو یہ نہیں بتایا کہ اتنی بڑی تبدیلی کب اور کیسے ہوئی؟ نمبر2 : 126 جنگی جیٹ خریدے جانے تھے بلکہ ان میں سے108 جہاز بھارت میں ٹکنالوجی ٹرانسفر معاہدہ کے تحت بنگلورو میں سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ میں بنائے جانے والے تھے لیکن یہ ارادہ ترک کردیا گیا۔ سرکاری سیکٹر کی کمپنی ایم اے ایل کے پاس جنگی جہاز بنانے کا اچھا خاصہ تجربہ ہے۔ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے تحت وہاں پہلے بھی سینکڑوں جگوار اور سخوئی جہاز بنائے گئے ہیں۔ میک ان انڈیا میں ڈیفنس سیکٹر میں زور دینے کی بات کہی گئی تھی اور یہ اس سمت میں بہت بڑا قدم ہو سکتا تھا۔ لمبی خانہ پوری کرکے ایئرفورس کی ضرورتوں کا تجزیہ کرنے کے بعد طے کیا گیا تھا کہ 126 جنگی جہازوں کی ضرورت ہوگی۔ کیا بھارت کی عوام کو یہ نہیں بتایا جانا چاہئے کہ ایئرفورس کے جنگی جہازوں کی ضرورت کم کیسے ہوگئی اور ایم اے ایل کو یہ موقعہ کیوں نہیں دیا گیا؟ نمبر3: یہ ایک نیا سودا تھا کیونکہ جہازوں کی قیمت اور تعداد طے کی گئی تھی۔ ارون شوری، یشونت سنہا اور پرشانت بھوشن کا الزام ہے کہ وزیر اعظم نے قواعد کی تعمیل نہیں کی، سوال یہ ہے کہ اگر یہ نیا آرڈر تھا تو قواعد کے مطابق ٹنڈر کیوں نہیں جاری کئے گئے؟ یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ فیصلے میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر اور کیبنٹ آن سکیورٹی کا کیا روڈ تھا؟ اگر پتہ نہیں تھا تو کیوں نہیں تھا؟ سوال نمبر4 : جنگی جہاز کی قیمت کو لیکر سرکار پارلیمنٹ میں جانکاری دینے سے کتراتی رہی ہے۔ سرکار نے جنگی جہاز کی قیمت بتانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ یہ سکیورٹی اور راز کا معاملہ ہے۔ الزام لگانے والے بی جے پی سے جڑے دونوں سابق وزرا کا کہنا ہے قواعد کے مطابق راز جنگی جہاز کی تکنیکی جانکاری کے بارے میں رکھا جاتا ہے قیمت کے بارے میں نہیں، کیا سرکار کی ذمہ داری دیش کو یہ بتانا نہیں ہے کہ خزانے سے تقریباً 36 ہزار کروڑ روپے زیادہ کیوں خرچ ہورہے ہیں؟ سرکار کے وزرا نے بیشک یہ کہا ہے کہ جہاز میں بہت سارے سازو سامان اور ہتھیار الگ سے لگائے گئے ہیں اس لئے قیمت بڑھی ہے۔ پارلیمنٹ میں دی جانکاری کی بنیاد پر لوگ الزام لگا رہے ہیں جو پچھلا سودا ہوا تھا اس میں سبھی فاضل سازو سامان اور ہتھیاروں کی قیمت بھی شامل تھی۔ سرکار کو یہ بتانا چاہئے آخر سچ کیا ہے؟ جس دن نریندر مودی نے پیرس میں جنگی جہاز خرید کے معاہدہ پر دستخط کئے تھے وہ تاریخ تھی 10 اپریل 2015۔ 25 مارچ 2015 کو ریلائنس نے ڈیفنس سیکٹر میں ایک کمپنی بنائی جسے صرف 15 دن بعد تقریباً 30 ہزار کروڑ کا ٹھیکہ مل گیا۔ ایک ایسی کمپنی جس نے ڈیفنس سازو سامان بنانے کے سیکٹر میں کبھی کوئی کام نہیں کیا ہے ایس اے بی فرانسیسی کمپنی اپنی مرضی سے ایسا پارٹنر کیوں چنے گی یہ ایک پہلی ہے۔ سودے کے وقت فرانس کے صدر رہے فرانسوا اولاند نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ریلائنس کے نام کی پیشکش ہندوستان کی طرف سے ہوئی تھی۔ ان کے سامنے کوئی متبادل نہیں تھا۔ صفائی میں سرکار کے وزیر کہہ رہے ہیں یہ راہل ۔اولاند کی جگل بندی ہے ، ایک سازش ہے۔ بھارت میں شاید ہی کوئی بڑا ڈیفنس سودا ہوا ہو اور اس میں گھوٹالہ ، دلالی اور رشوت خوری کے الزام نہ لگے ہوں لیکن کسی بھی معاملے میں الزام ثابت نہیں ہوتے۔ سوالوں کے جواب نہیں ملتے۔ رافیل معاملہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوگا؟ دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت کے بیدار شہریوں کو ٹی وی پر تو چور تیرا باپ چور والا ڈرامہ دیکھ کر تسلی کرنی ہوگی یا پرسپشن کی لڑائی میں کچھ حقائق اور دلائل بھی سامنے آئیں گے؟ کیا پتہ؟ دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں کیا ہوتا ہے؟ 
(انل نریندر)

09 اکتوبر 2018

مدھیہ پردیش ۔راجستھان میں بھاجپا کی حالت پتلی

نومبر۔ دسمبر میں پانچ ریاستوں میں ہونے جارہے اسمبلی انتخابات کے نتیجے 2019 لوک سبھا چناؤ کی سمت اور پوزیشن طے کریں گے۔ اس لئے اگر انہیں سیمی فائنل کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان اسمبلی چناؤ کے بعد عام چناؤ کی بساط بھی بچھ جائے گی۔ ان ریاستوں میں جو پارٹی بہتر پرفارمینس پیش کرے گی وہ اپنے حق میں ماحول بناتے ہوئے عام چناؤ کے دنگل میں اترے گی۔ کانگریس ۔بھاجپا حکمراں ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اقتدار مخالف رجحان کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے۔ وجود کی لڑائی لڑ رہی کانگریس اگر ان تین ریاستوں میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ بھاجپا کی کامیاب کی ساکھ پر گہرا حملہ ہوگا۔ ان تینوں ریاستوں میں بھاجپا کو کانگریس سے زبردست چنوتی ملنے کے آثار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات کو 2019 کے چناوی مہا سمر کی کسٹوتی مانا جارہا ہے۔ ان اسمبلی انتخابات کے نتیجے کے بعد ہی اپوزیشن مہا گٹھ بندھن کی سمت طے ہوتی ہے۔ اگر بی جے پی کا ان چناؤ میں نتیجہ بہتر رہا تو پھر علاقائی پارٹیاں دفاع کی پوزیشن میں آسکتی ہیں ساتھ ہی وہ اتحادی پارٹیاں جو چناؤ سے پہلے بھاجپا پر دباؤ بنانے کی کوشش کررہی ہیں ان کے تیور بھی نرم پڑ سکتے ہیں لیکن اگر اس کے برعکس نتیجہ ہوا تو پھر نہ صر ف اپوزیشن کو 2019 میں امید کی کرن دکھائی دے گی بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ساکھ کو بھی زبردست دھکا لگے گا۔ بھاجپا اپنی کامیاب ساکھ کو بنائے رکھنے کیلئے پوری کمپین وزیر اعظم نریندر مودی کے ارد گرد ہی مرکوز رکھنے کی اسکیم بنا رہی ہے۔ اقتدار مخالف لہر سے نمٹنے کے لئے ان ریاستوں میں وزراء اعلی کو کنارے ہی رکھا جائے گا۔ اپوزیشن کے اتحاد میں کانگریس کی حصہ داری اور رول کتنا ہوگا ، کیسا ہوگا اس کا بھی ان پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج سے اندازہ ہوجائے گا۔ چناؤ سے پہلے بی ایس پی اور سپا جیسی پارٹیوں نے کانگریس سے اتحاد کرنے سے انکار کردیا تھا۔اگر چناؤ میں کانگریس بہتر نتیجہ دکھائے تو پھر اپوزیشن اتحاد میں کانگریس کی جانب سے راہل گاندھی کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ سال 2014 کے عام چناؤ کے بعد صحیح معنوں میں بی جے پی کے لئے پہلی بار اصل امتحان ہوگا۔ 2014 میں بی جے پی کی جانب سے عام چناؤ میں بڑی جیت کے بعد دو ایسی ریاستوں میں چناؤ ہوئے ہیں جہاں بی جے پی کی سرکار پہلے سے تھی۔ اس بار مدھیہ پردیش ،راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی سرکاریں ہیں۔ پارٹی اینٹی کمبینسی فیکٹر سے کس طرح نپٹے گی اس کا بھی پتہ چلے گا۔ حالانکہ میں ان سرووں پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتا پھر بھی مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ ، راجستھان کے چناؤ میں تاریخ کے اعلان کے بعد آئے اوپینین پول میں بی جے پی کے لئے بری خبر ہے۔ اے بی پی نیوز سی ووٹر سروے کے مطابق تینوں ریاستوں میں بی جے پی کی ہاتھ سے اقتدار نکل سکتا ہے۔ اس میں یہ صاف اشارے ہیں کہ پچھلی ڈیڑھ دھائی سے چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں جنتا کا حکمراں بھاجپا سے دل بھر گیا ہے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ مدھیہ پردیش میں کانگریسی نیتا جوتر آدتیہ سندھیا اور راجستھان میں سچن پائلٹ کانگریس کی پہلی پسند ہیں۔ تینوں ہی ریاستوں میں کانگریس کے حق میں سروے آئے ہیں۔ 
(انل نریندر)

دیش میں پہلی بار روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجا گیا

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگئی نے عہدہ سنبھالتے ہی دھماکہ کردیا۔ انہوں نے بھارت سے واپس میانمار بھیجے جارہے 7 روہنگیا مسلمانوں کو روکنے کی عرضی خارج کردی۔ چیف جسٹس گوگئی ، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایف جوزف کی بنچ نے آسام کے سلیر ضلع کے حراستی سینٹر میں 2012 سے رہ رہے روہنگیا مسلمانوں کو جمعرات کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے ان کے واپس بھیجنے کے مرکزی سرکار کے فیصلے پر روک لگانے والی عرضی خارج کردی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ہی منی پور کے مورہے بارڈر پر 7 روہنگیاؤں کو میانمار کے حکام کو سونپ دیا گیا۔ انہیں کورٹ کی سماعت سے پہلے ہی آسام سے منی پور میں میانمار سرحد پر لایا گیا تھا۔ دیش میں پہلی با روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجا گیا۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت میں مرکز کی دلیلوں پر اعتراض جتایا۔وکیل بھوشن نے کہا کہ میانمار میں ساتوں روہنگیا کو اپنا شہری نہیں مانا۔ اس پر چیف جسٹس گوگئی نے کہا سرکار کے پاس درکار دستاویز ہیں۔ دونوں سرکاریں متفق ہیں۔ بھوشن نے کہا کہ اگر انہیں بھیجا گیا تو ان کا قتل ہوجائے گا۔ کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے جینے کے حق کی حفاظت کرے۔ تب چیف جسٹس نے ناراضگی جتائی۔ جینے کا حق کو لیکر ہمیں ذمہ داری پتہ ہے، ہم کسی کے ذریعے یہ یاد دلانے کو ضروری نہیں سمجھتے کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر دیش میں رہ رہے قریب40 ہزار روہنگیا مسلمانوں پر پڑنے کے آثار ہیں۔ 16 ہزار روہنگیا اقوام متحدہ کی پناہ گزین فہرست میں شامل ہیں۔ 2017 میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سرکار نے کورٹ کو بتایا تھا کہ بھارت میں موجود کچھ روہنگیا نیتا پاکستان کی آتنکی گروپوں کے رابطے میں ہیں۔ ان کی دراندازی سے دیش کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ان دراندازوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ جب میانمار کی حکومت نے ان ساتوں روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری مان لیا ہے تب انہیں واپس بھیجنے کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ وہاں کی سرکار نے ان کو واپس بھیجنے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے ان کا شناختی کارڈ اور ایک مہینے کا ویزا بھی دیا تھا۔ بھارت سرکار روہنگیا مسلمان اور بنگلہ دیشی دراندازوں دونوں کو ان کے اصل ملکوں میں واپس بھیجنا چاہتی ہے جبکہ کانگریس اور نیشنل کانگریس اور کچھ دیگر پارٹیاں ووٹ بینک کے لئے ان روہنگیا مسلمانوں کی حمایت کررہی ہیں۔ بھارت آبادی کے خطرناک موڑ سے گزر رہا ہے اور سرکار اپنے شہریوں کو بنیادی ضرورتیں مہیا کرانے میں لاچار ہورہی ہے۔ ایسے میں دوسرے دیشوں کے غیرقانونی طور پر رہ رہے شہریوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا ملک کے مفاد میں ووٹ بینک سے اٹھ کر اس بارے میں سوچنا ہوگا۔ روہنگیاؤں کی واپسی قانون اور قومی مفاد میں ہے اور اس معاملہ میں بھدی سیاست کرنا تو ان پارٹیوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے مفاد میں۔ انہیں واپس جانا ہی ہوگا۔
(انل نریندر)

07 اکتوبر 2018

جلتے کوڑے ، بدبواور دھوئیں سے دم گھٹ رہا ہے

جمنا پار علاقہ میں صفائی ملازمین کی ہڑتال کو 24 دن ہوچکے ہیں۔ کوڑے کی وجہ سے ہر علاقہ میں گندگی پھیلی ہوئی ہے۔ جمنا پار میں جہاں خالی جگہ ہے وہیں کوڑے کے ڈھیر نظر آرہے ہیں۔ گندگی اور بدبو کی وجہ سے کالونیوں سے لیکر بازاروں تک لوگ ناک پر کپڑا رکھ کر گزر رہے ہیں۔ کوڑے سے پریشان ہوکر گلی، سڑک، چوراہے پر کوڑے کے ڈھیر میں آگ لگائی جارہی ہے جس سے ہوا میں آلودگی پیدا ہورہی ہے۔ کوڑے کا دھواں اور بدبو لوگوں میں بیماری پھیلا رہا ہے۔ برہمپوری روڈ پر شاید ہی ایسی کوئی گلی کا نکڑ ہو جہاں پر کوڑے کے ڈھیر میں آگ نہ لگی ہو۔ جلتے کوڑے کی لپٹیں اور دھواں لوگوں کے لئے نئی مصیبت بن گیا ہے۔ جہاں لوگوں کو چلنے کے لئے کافی کم جگہ بچی ہے ۔سڑک پر گاڑیوں کے درمیان پیدل چلنے کو لوگ مجبور ہیں۔ پرانی سیما پوری میں ایک کوڑے کا ڈھیر ایسا بھی ہے جہاں مقامی لوگوں نے کوڑے میں ایک بینر لگایا ہے جس پر لکھا ہے ’یہ ہے سوچھ بھارت ابھیان‘ آخر کار دہلی سرکار مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن 350 کروڑ روپے دینے کو تیار ہوگئی ہے۔ یہ پیسہ ایسٹ ایم سی ڈی کو دینا قریب قریب طے ہوگیا ہے جس سے تین مہینے سے تنخواہ کا انتظار کررہے گروپ اے ،بی اور سی کے ملازمین کو دو مہینے کی تنخواہ، ریٹائرڈ ملازمین کی لٹکی پڑی پنشن دی جائے گی۔ ای ڈی ایم سی کو ہر مہینے 170 کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے تنخواہ اور پنشن دی جاتی ہے یہ رقم سیلری اور پنشن میں ہی ختم ہوجاتی ہے۔ صفائی کرمچاریوں کی ساری مانگوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا لیکن سیلری اور پنشن دینا تو ضروری ہے۔باقی مانگوں پر غور ہوسکتا ہے۔ جمعرات کو 24 دن سے ہڑتا ل پر چل رہے صفائی کرمچاری بڑی امید لے کر ای ڈی ایم سی ہیڈ کوارٹر پہنچے تھے۔ میئر سمیت ای ڈی ایم سی پر قابض بی جے پی نیتا اور انچارج کمشنر سمیت اعلی افسروں کے درمیان قریب دو گھنٹے تک زبردست میٹنگ جاری رہی۔ صبح سے شام تک چلے فل ڈرامے کا نتیجہ ہڑتالی یونینوں کے درمیان پھوٹ کی شکل میں سامنے آیا۔ شاہدرہ نارتھ زون کی یونین نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا تو ساؤتھ زون کے چیئرمین نے بغیر نوٹیفکیشن کے ہڑتال ختم کرنے سے انکار کردیا۔ ایک یونین کے نیتا بھگوان چرن نے کہا کہ ہمیں یقین دہانی ملی ہے کہ 31 مارچ 1998 سے 2017 تک کام کررہے سبھی ملازمین کو پکا کردیا جائے گا۔ ساتھ ہی ہڑتال پر رہنے کے بعدبھی 24 دنوں کی سیلری نہیں کٹے گی۔ لہٰذا ہم نے ہڑتال ختم کرکے سنیچر سے کام پر لوٹنے کا اعلان کیا ہے۔ وہیں دوسری یونین کے پردھان سنجے گہلوت کا کہنا ہے کہ جب تک ہماری مانگیں تحریری طور پر نہیں مانی جاتیں کام بند ،ہڑتال جاری رہے گی۔ اس پورے معاملے میں سیاسی داؤ بھی چلے جارہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ایک یونین ایک نیتا کے اشاروں پر کام کررہی ہے۔ انہیں جان بوجھ کر اکسایا جارہا ہے۔ ایسے میں ہڑتال جاری رکھنے کا کیا جواز ہے جب کرمچاریوں کی مانگوں کو تقریباً مان لیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

بسوں میں لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کا مسئلہ

بسوں میں دہلی کی طالبہ و طالبات کتنی محفوظ ہیں یہ سوال بار بار اٹھتا ہے۔ بسوں میں لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ عام بات ہوگئی ہے۔ روٹ نمبر 544 کی خوفناک کہانی سوشل میڈیا کے ذریعے سب کے سامنے آئی تو پولیس بھی حرکت میں آگئی۔ ایک طالبعلم کی بہن نے ٹوئٹرپر اس کی داستان سب کے سامنے رکھی ہے۔ کیسے کالج کے روٹ والی اس بس پر روز منچلے غنڈے کالج کے ٹائم پر سوار ہوجاتے ہیں اور لڑکیوں سے بدتمیزی کرتے ہیں۔ ایک بار تو طالبہ اتنی گھبرا گئی کہ وہ چلتی بس سے کود پڑی۔ نو بھارت ٹائمس نے جب اس بارے میں دہلی کے باقی علاقوں میں لڑکیوں سے بات کی تو روٹ نمبر 544 تو کیا ہر روٹ پر یہی کہانی ہے۔ طالبات نے بتایا کہ کیسے یہ غنڈے ان کا کالج تک جانا مشکل کردیتے ہیں۔ ایک ایم۔اے کی طالبہ نے بتایا کہ بس بالکل محفوظ نہیں ہے۔ پہلے تو بسیں بہت کم ہیں جس میں لڑکیوں کو بھیڑ میں پھنس پھنس کر جانا پڑتا ہے۔ جیسے پرانی دہلی سے بوانا بس نمبر 116 میں ہر وقت بھیڑ ہوتی ہے اور چھیڑ چھاڑ عام ہے۔ میں خودایک بار ڈی ٹی سی بس میں کھڑکی کی طرف اپنی بہن کے ساتھ بیٹھی تھی اور پیچھے کی سیٹ پربیٹھا ایک شخص اس کے بریسٹ کو چھونے کی کوشش کرنے لگا۔ اس وقت میں سوچ بھی نہیں پا رہی تھی کہ ایسا بھی کوئی کرسکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر سیفٹی نہیں دے پا رہے ہیں تو گرلز اسپیشل بسیں بہت ضروری ہیں کیونکہ بسوں میں اگر مارشل بیٹھا ہو تو وہ یہ ہی کہتا ہے کہ میڈم آپ آگے ہوجائیے۔ اب کیا کرسکتے ہیں؟ سیکنڈ ایئر دہلی یونیورسٹی کی طالبہ سواتی جیسوال بتاتی ہیں کہ آنند وہار سے میں اور میری دوست پریتی ہمیشہ 33 نمبر روٹ کی بس سے کالج جاتے تھے ایک بار بھیڑ زیادہ تھی اور کسی نے میری فرینڈ کے پیروں میں بہت عجیب طریقے سے ٹچ کیا ۔ وہ بس میں ہی زور سے چلائی ، میں نے فوراً اس آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اسے ڈانٹنے لگی لیکن بھیڑ میں کسی نے آگے آکر ہم لوگوں کی مدد نہیں کی۔ کئی بار کسی کو دور کھڑے ہونے کے لئے کہتے ہیں تو وہ ہدایت دیتے ہیں میڈم زیادہ اکیلے چلنے کا شوق ہے تو اپنی کار سے آیا کرو۔ بھجن پورا سے میور وہار فیز 3 کے لئے بس نمبر 206 میں ایک اور لڑکی گل پناگ نے اخبار کی ٹیم کو بتایا کہ وہ جس بس میں جارہی تھی اس میں ایک 70 سال کے انکل میری پاس والی سیٹ پر بیٹھے تھے، کچھ دیر بعد وہ عجیب طریقے سے میری ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنے لگے ،میرے مخالفت کرنے پر اس نے ہاتھ تو ہٹا لیا لیکن کچھ دیر بعد اس نے اپنے فون سے فحاشی فلم دکھانے کی کوشش کی، جب میں نے بس میں اس پر چلانا شروع کیا تو وہ ایسے برتاؤ کرنے لگا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بس میں موجود کسی بھی شخص نے اس کی حرکت کے لئے احتجاج نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ چھیڑ چھاڑ روکی کیسے جائے؟ پولیس ہر بس میں ہو نہیں سکتی۔ ساتھی بس مسافر روکنے ٹوکنے سے اس لئے ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ آدمی الٹا ان پر حملہ نہ کردے؟ گرلز اسپیشل بسیں ہی چلانی ہوں گی۔
(انل نریندر)