Translater

15 اکتوبر 2022

یہ ڈرگ کارٹیل سرکاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہے!

او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر مشہور نیٹ فلکس پر ایک سیرئل چل رہا ہے جو نارکوز یہ سیرئل ساو¿تھ امریکہ کے ڈرگ اڈوں جنہیں ڈرگ کارٹیل کہا جاتا ہے کے بارے میں ہے ۔میں نے یہ سارے سیرئل دیکھے ہیں سیرئل دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں یہ ڈرگس کا کاروبار کتنا بڑا یہاں کے ڈرگ کارٹیل سرکاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔حال ہی میں میکسیکو سیٹی میں جمعرات کو گینگوار میں میئر منڈوسہ سمیت 18لوگوں کی موت سے ڈرگ کارٹیل کا خونی چہرہ پھر سامنے آگیا ہے ۔13کروڑ کی آبادی پر مشتمل میکسیکو 40سال سے ڈرگ کارٹیل کی چنگل میں ہے ۔ یہاں افیم ،ہیروئن ،ماری جوانا کی اسمگلنگ میں ملوث کارٹیل یکساں سرکار کی شکل میں کام کرتے ہیں۔یہاں 150سے زیا دہ کارٹیل سالانہ تقریباً 2.5لاکھ کروڑ کی اسمگلنگ امریکہ کو کرتے ہیں۔کارٹیل یعنی ان تنظیموں کے پاس تقریباً 75ہزار پرائیویٹ گرگوں کی آرمی ہے اور کارٹیل کے درمیان خونی مار دھارہوتی رہتی ہے میکسیکو سرکار کی رپورٹ کے مطابق گینگوار کے سبب دیش میں اوسطاً 120روزانہ قتل ہوتے ہیں۔کورونا دور میں یہ تعداد کم تھی یعنی 118اس کے باوجود کورونا دور میں لاک ڈاو¿ن کے سبب میکسیکو میں ڈرگس کے دھندھے میں کوئی لگام نہیں تھی ۔سب سے بڑے سینا لوا کارٹیل کے پاس 600جہاز ہیں اور درجنو ں ہیلی کاپٹر ہیں یہ تعدا دمیکسیکو کی سب سے بڑی ایئر لائن ایرو میکسیکو سے 5گنا زیادہ ہے یہ سبھی جہاز کارٹیل نے امریکہ سے خریدے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2022کارٹیل کے پاس اے کے 47اور ایم - 80جیسی خطرناک رائفلوں کا ذخیرہ ہے ۔ہر سال سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعے ڈرگ کارٹیل کے قبضے سے 20ہزار سے زیادہ اسالٹ رائفلوں کی بر آمدگی ہوتی ہے اور سرکار ان ہتھیاروں کو تباہ کرتی ہے تاکہ ان کا پھر سے استعمال نہ ہو سکے ۔کارٹیل ان ہتھیاروں کو امریکہ مافیا سے ڈرگ سپلائی کے بدلے میں حاصل کرتے ہیں اور اس نے راکٹ لانچرس بھی حاصل کر لئے ہیں جن کا استعمال وہ سرکار ی ٹوہ لینے والے جہازوں پر حملے کیلئے کرتے ہیں ۔سیرئز میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح دیش کا پورا سسٹم ہی تہس نہس ہو کر رہ گیا ہے۔پولیس سے لیکر فوج تک اور ممبر اسمبلی سے لیکر سرکار تک ،سرکار ی ملازم سبھی کو یہ کارٹیل ہر مہینہ پیسے دیتے ہیں اور وہاں کے صدارتی چناو¿ میں بھی ان کارٹیلس کا چندہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ امریکہ اس سے پریشان ہے اور اس نے اپنا ایک پولیس ڈپارٹمنٹ کھول رہا ہے۔ڈی ای اے (ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی ) کے ایجنٹ میکسیکو،کولمبیا وغیر ملکوںمیں تعینات ہیں اور ان کارٹیلوںپر نظر بنائے ہوئے ہیں۔لیکن پھر بھی ان کارٹیلوںکے دھندھے پھل پھول رہے ہیںاور امریکہ کا نوجوان طبقہ تباہ ہو رہا ہے۔ (انل نریندر)

وہ جج جنہوں نے اپنے پتا کے فیصلے کو ہی پلٹ دیا !

یہ انتہائی خوشی کا موضوع ہم سب کے لئے ہے کہ ہمارے کالج کے ہونہار طالب علم شری دھننجے یشونت چندر چوڑ سپریم کورٹ کے اگلے چیف جسٹس بننے جارہے ہیں میں دہلی کے نامور سینٹ اسٹیفن کالج کی بات کر رہا ہوں ۔جسٹس چندرچوڑ بھی اسی کالج کے طالب علم رہے ہیں میں بھی وہیں کا ہوں ۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ دیش کے اگلے چیف جسٹس ہوں گے موجودہ چیف جسٹس یویوللت نے سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج چندر چوڑ کا نام مرکزی سرکار کو بھیجا ہے ۔ سرکار سفارش منظور کرتی ہے تو دیش کے 50ویں سی جے آئی جسٹس چندرچوڑ 9نومبر کو حلف لیںگے ۔موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا یو یو للت کی 74روزہ میعاد 8نومبر کو ختم ہوجائے گی۔ جسٹس چندر چوڑ کہتے ہیں کہ عدالتوں کا کام قانونی جواب دہی کے ساتھ مظالم کو دور کرنا ہے ۔ ان کے فیصلے جتنے مضبوط دلائل پر مبنی ہوتے ہیں اتنی ہی بیباکی کے ساتھ فیصلوں میںعدم رضامندی بھی جتاتے ہیں ۔ کئی فیصلوں میں پوری بنچ سے الگ رائے رکھتے ہوئے وہ نا اتفاقی کو جمہوریت کا سیفٹی کوچھ قرار دیتے ہیں ۔ منصفانہ اور شفافیت کو عدلیہ نظام کیلئے اہم مانتے ہوئے وہ اپنے والد سابق چیف جسٹس وائی وی چندرچوڑ کے نظریات و پرائیویسی پر دیئے گئے فیصلوں تک کو پلٹ چکے ہیں۔وہیںحال ہی میں عدالتی کاروائی کے بارے میں جاننے کو شہریوں کا حق بتاتے ہوئے عدالت کی کاروائی کا سیدھا ٹیلی کاسٹ شروع کیا ۔ سپریم کورٹ نے پرائیویسی کے حق پر تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اسے بنیادی حق بتایا ۔9ججوں کی سپریم کورٹ کی بنچ نے اتفاق رائے سے فیصلہ سنایا اس فیصلے کو لیکر جس ایک جج کی بات بہت سرخیوں میں چھائی ان کا نام ہے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اس فیصلے کے ساتھ ہی انہوں نے 41سال پہلے جسٹس وائی وائی چندر چوڑ کے فیصلے سے الگ دیا تھا ۔انہوں نے لکھا:پرائیویسی کا حق کی آئین میں تشریح ہے اور یہ آرٹیکل 21کے تحت زندگی اور شخصی آزادی کی گارنٹی سے نکل کر آتا ہے ۔41سال کے وقفہ میں آیا یہ فیصلہ بدلتے وقت آئین کی بدلتی تشریح کی ایک پختہ مثال ہے ۔ جسٹس چندر چوڑ پچھلے برسوں میں کئی اہم فیصلوں کو لیکر سرخیوں میں چھائے رہے ہیں ان کے تبصرے اور تشریحات نہ صرف قانونی گلیاروںمیں بلکہ اخباروں اور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنتی رہی ہیں۔ کئی بار ان کا نام سوشل میں میڈیا میں ٹرینڈ ہو چکا ہے ۔ سیملنگ رشتوں کو جرم بتانے والی آئی پی سی کی دفعہ 377میں انہوں نے میگھالیہ کی وراثت بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی کے ناانصافی کو ٹھیک نہیں کیا جا سکا لیکن مستقبل کی سمت تو طے کی جا سکتی ہے۔ وہیںہادیہ معاملے میں برتاو¿ کو غیر مجرمانہ قرار دیتے ہوئے جنسی من مرضی کو شادی کے تحت خاتون کی خود مختاری کا مو ضوع بتایا تھا۔سبری مالا معاملے میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ رواجوں کی سرپرستی اور ان کے استعمال میں آئین کی خود مختاریت چھین لی ۔جسٹس چندر چوڑ کی اسکولی تعلیم ممبئی اور دہلی میں ہوئی اور انہوں نے دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج سے گریجوایشن کیا اور 1982میں دہلی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور یہاں وہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی گئے جہاں انہوں نے پہلے ایل ایل ایم کیا اور 1986میں جوڈیشل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ (انل نریندر)

13 اکتوبر 2022

اس مرتبہ دہلی میں سردی جلدی آئے گی!

راجدھانی دہلی میں پانچ دن میں ہلکی بارش کی وجہ سے دہلی کے ساتھ این سی آر میں بھی موسم نے کروٹ لے لی ہے ۔گلابی ٹھنڈ کا احسا س ہونے لگا ہے صبح میں گھروں میںپنکھے تک بند ہونے لگے ہیں رات میں ہلکی چادر اوڑھی جانے لگی ہے ۔محکمہ موسمیات کا اندازہ ہے کہ ایک بار پھر دہلی میں بارش ہو سکتی ہے این سی آر میں ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں ۔اور موسم بدل رہا ہے دہلی میںٹھنڈ کی امید اب زیادہ دور نہیں ہے ہر سال دہلی این سی آر میں سردی کروٹ لے رہی ہے ۔اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ڈیڑھ مہینے تک سردی ہلکی پڑ جاتی ہے لیکن اس مرتبہ دہلی میں اکتوبر کے شروعات کے دنوں میں موسم تو یہی اشارہ کر رہا ہے کہ اب جلد ہی گرم کپڑوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ صفدر جنگ محکمہ موسمیات کے مطابق صبح میں درجہ حرارت 21.1ڈگری سیلسیئس درج کیا گیا ۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ خلیج بنگال میں موسم کا دباو¿ بڑھنے سے تیز ہوا کا رخ بدل گیا ہے ۔اور آئندہ پانچ چھ دنوں میں بارش ہو سکتی ہے۔اسکائی میٹ کے مطابق 15نومبر کے آس پاس سردیوں کی آہٹ ہوتی ہے ۔ دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں دسمبر سے باقاعدہ سردی کی شروعات ہوتی ہے اور پھر جنوری میں انتہا کو پہنچنے کے بعد سردی کم ہونے لگتی ہے اس دوران کچھ جگہوں پر درجہ حرارت صفر سے نیچے چلا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میںسردی والے دن بڑھے ہیں پچھلے سال تو دسمبر میں اتنی سردی پڑی تھی کہ بیس سال میں سب سے زیادہ ٹھنڈ پڑی تھی۔2021میں سب سے زیادہ ٹھنڈ ریکارڈ ہوئی تھی جبکہ دہلی کا درجہ حرارت لنڈن سے بھی کم ہو گیا تھا۔دہلی میں بارش سے ٹھنڈی ہوا کی رفتار اور سمت 65کی رفتار طے کرتی ہے ۔ اس دوران ہوائی آلودگی بھی بڑھی جاتی ہے او ر کئی کئی دن آسمان پر دھن کی چادر چھائی رہتی ہے ۔جہازوں کے پرواز کرنے اور اترنے میں دقتیں آتیں ہیں ۔ ہائیوے پر حادثے بڑھ جاتے ہیں۔سرکار نے پہلے ہی آلودگی سے نمٹنے کیلئے ونٹر ایکشن پلان تیار کیا ہے ۔موسم کے بدلنے سے کھانسی ،زکام اور سرمیں درد وائرل کے مریضوں کی تعداد 20سے25فیصد بڑھی جاتی ہے موسم ٹھنڈ ا ہونے سے بلڈ پریشر بھی کم ہوجاتا ہے ۔اس کے علاوہ یہ شوگر اور بی پی کے مریضو ں کو اپنا خیال رکھنا چاہئے اور سردی سے بچنے کیلئے پہلے سے انتظام کرنا چاہئے۔ (انل نریندر)

سی بی آئی کے گھیرے میں آئے ستیہ پال ملک!

سابق گورنر ستیہ پال ملک پچھلے کئی دنوں سے مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں کیوں کہ وہ ایک آئینی عہدے پر تھے اس شاید ان سے اس معاملے میں پوچھ تاچھ نہیں ہوئی ۔حالاں کہ ستیہ پال ملک کئی بار دہرا چکے ہیں کہ انہیں اپنے عہدے کی پرواہ نہیں اور نہ ہی وہ سرکار کے کسی دباو¿ میں آنے والے ہیں۔ ملک کا میکھا لیہ کے گورنر کی شکل میں میعاد 4اکتوبر کو ختم ہونے کے ساتھ ہی سی بی آئی ایکشن میں آ گئی ۔بتادیں کہ معاملہ کیاہے17اکتوبر 2021کو راجستھان کے جھنجھنو میں ایک پروگرام میں انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر جانے کے بعد میرے پاس 23اگست 2018سے 30اکتوبر 2019کے درمیان دو فائیلیں منظوری کیلئے آئیں مجھے سیکریٹریوں نے بتایا کہ اس میں گھوٹالہ ہے پھر میں نے دونوں سودے منسوخ کردئے تھے ۔سیکریٹریوں نے مجھ سے کہا کہ دونوں فائلوں کیلئے 150،150کروڑ روپے دئے جائیں گے۔لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں پانچ کرتے پجامے کے ساتھ کشمیر آیا ہوں اور اسی کے ساتھ چلا جاو¿ں گا۔ اس سال اپریل مہینے میں سی بی آئی نے ستیہ پال ملک کے ذریعے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی اس میں سرکاری ملازمین کیلئے ایک اجتماعی میڈیکل بیمہ اسکیم اور شمال مشرقی ریاست میں بھاپ بجلی گھر پروجیکٹ سے متعلق 2200کروڑ روپے سول ورک کیلئے ٹھیکے دینے سے متعلق تھی ۔ سی بی آئی نے اب بہار ،جموں کشمیر اور میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک سے سی بی آئی نے پوچھ تاچھ کی ہے ۔ دہلی میں سی بی آئی ہیڈ کوارٹر میں ان سے سوال جواب کئے گئے ۔ اس پوچھ تاچھ میں کیا کچھ نکلا اس کی سرکار ی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک سے پوچھ تاچھ ایک ملزم کی شکل میں نہیں بلکہ ایک طرح سے ان کے الزامات پر بیان دیا گیا ۔ملک کے الزامات کے بعد جموں کشمیر حکومت نے سی بی آئی جانچ کی سفارش کی تھی ۔اس معاملے میں سی بی آئی نے اپریل میں چھ راجیوں میں چھاپے ماری کی تھی۔ اس دوران ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر اور چناو¿ ویلی پاور پروجیکٹ کے تین سابق افسران کے گھروں کی تلاشی لی گئی تھی۔ ملک کو سال2017میں بہار کا گورنر بنا یا گیا تھا ۔ اس کے بعد 2008میں جموں کشمیر بھیج دیا گیا2019میں ملک کے گورنر رہتے جموں کشمیر میں آرٹیکل 370کی زیادہ تر نکات کو منسوخ کردیا گیا تھا ۔ ستیہ پال ملک کسان آندولن کے دوران بھی گورنر کے عہدے پر رہتے ہوئے بھی مرکزی سرکار کے خلا ف کافی تلخ بیان دیتے رہے۔اور اس کے بعد ملک کو میگھالیہ بھیج دیا گیا ۔لگتاہے سرکار انتظار کر رہی تھی کہ ملک اپنی گورنری کی میعاد پوری کریں تو ان پر ہم ہاتھ ڈالیں ۔ فی الحال تو ملک کے الزامات کی جانچ ہو رہی ہے ۔ ان کے ساتھ نشانہ کہیں اور بھی ہے؟ (انل نریندر)

11 اکتوبر 2022

کیا سیاسی ہوا بھی بدل رہی ہے؟

موسم بھی بدل رہا ہے اور سیاسی موسم بھی جہاں جلد سردی آنے کی دستک ہے وہیں نئی سیاسی ہوا کے بھی اشارے ملنے لگے ہیں۔ چاہے وہ آر ایس ایس کے بدلے نظریے کی ہو چاہے وہ صنعت کارو ں کی بدلتی نظروں کی ہو میں بات کر رہا ہوں نریندر مودی کے سب سے قریبی صنعت کار گوتم اڈانی کی جو آج دنیا کے سب سے امیر ترین افراد کی فہرست میں نمبر دو پر ہیں ۔ ان کو یہاں تک پہنچانے میں سیاسی لیڈروں کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔ کچھ وقت تک یہ تصور بھی کرنا مشکل تھا کہ اڈانی کانگریس کی سرکار سے ہاتھ ملائیں گے ۔لیکن گوتم اڈانی نے راجستھان میں کانگریس کی اشوک گہلوت سرکار سے ہاتھ ملا ہے ۔اڈانی گروپ اگلے پانچ سات برسوں میں رینوایبل اینر جی سمیت مختلف سیکٹروں میں 65000کروڑ روپے کا سرمایہ لگائے گا۔ گروپ کے چیئر مین گوتم اڈانی نے جمعہ کو راجستھا ن انویسٹمنٹ سمٹ کے افتتاحی سیشن میں کہا کہ ہم ریاست میں سبھی موجودہ اور مستقبل کی اسکیموں میں سات برسوں میں 65000کروڑ روپے کی سرمایہ لگانے کی امید کرتے ہیں۔ اس سے سیدھے طور سے ریاست میں 40ہزار نوکریوں کے موقع نکلیں گے ۔ راجستھا کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اڈانی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ چاہے اڈانی ہوں یا امبانی ہوں ہم سبھی صنعت کاروں کا راجستھا میں خیر مقدم کرتے ہیں۔ راجستھا ن سرکا ر کی طرف سے منعقدہ اس سرمایہ کاری سمٹ میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور صنعت کار گوتم اڈانی کی تصویر سے سیا سی واویلا کھڑا ہونا فطری تھا ۔ اسے اشوک گہلوت مرکزی لیڈرشپ سے بغاوت سے لیکر کانگریس کی دوہرے رویہ کی شکل میں پیش کیا گیا ۔ اندر خانے چہ می گوئیاں جاری ہے کیا اشوک گہلوت نے کانگریس کی مرکزی لیڈر شپ کو بھروسے میں لیکر ایسا کیا ؟ مگر راہل گاندھی نے کھلے طور بیا ن دیکر گہلوت کی حمایت کی اور اسے صحیح مانا اس سے ایک سیاسی پیغام بھی مانا گیا ۔ راہل گاندھی نے گہلوت کا ساتھ دیکر ایک ساتھ دو پیغام دئے کہ وہ صنعتی دنیا کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اڈانی کے خلاف ہیں ۔ مگر قواعد اور سب کو یکسان موقع کے تحت انہیں موقع ملا ہے ۔ پچھلے کچھ برسوں سے نہ صرف راہل گاندھی بلکہ زیا دہ تر اپوزیشن پارٹیوں نے گوتم اڈانی پر سیدھا حملہ کیا ہے ۔ پچھلے کچھ مہینوں سے اڈانی کی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ پہلی ملاقات نہیں ہوئی بلکہ چھتیس گڑھ میں وزیر اعلیٰ بگھیل کی قیاد ت والی کانگریس سرکا کے دوران بھی اڈانی نے کوئلے اور بجلی سیکٹر میں سرمایہ لگایا تھا اس طرح چناو¿ سے پہلے ممتا بینر جی گوتم اڈانی پر تلخ حملے کر رہی تھیں لیکن چناو¿ کے بعد انہوں نے فورا انویسٹمنٹ سمٹ بلائی ابھی پچھلے دنوں شیو سینا نیتا اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ملاقات کی۔ پچھلے دنوں ہی بہار سرکار کی انویسٹمنٹ سمٹ میں بھی اڈانی گروپ شامل ہوا تھا ۔کیا یہ کہا جائے کہ صنعت کار صرف اپنے حساب سے پالیسیوں پر توجہ دیتا ہے نہ کہ کسی خاص سیاسی پارٹی پر یا اس کے لیڈ پر ۔ (انل نریندر)

بھارت جوڑو یاترا کو اور طاقت دینے پہنچی سونیا !

کانگریس صدر سونیا گاندھی جمعرات کو جب بھارت جوڑو یاترا میں صاحبزادے راہل گاندھی کے ساتھ ایک کلو میٹر تک پیدل چلیں تو والدہ کے جوتے کا فیتا کھل گیا تو راہل گاندھی نے جھک کر ان کے فیتے کو باندھا ۔ سونیا گاندھی کے ایک کلو میٹر چلنے پر ان کی ہمت کی داد دینی ہوگی۔ اتنی علیل ہونے کے با وجود وہ اپنے لڑکے کی بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہونا بہت بڑی بات ہے ۔پد یاترا کے دوران ماں بیٹے میں پیار اور دلار سے جڑی تصویروں کو کانگریس کے کئی لیڈروں سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ یاترا میں موجود مہلا لیڈروں نے سونیا گاندھی کا ہاتھ پکڑا اور قریب 30منٹ تک پیدل چلنے کے بعد راہل نے والدہ کو واپس کار میں بھیج دیا کچھ آرام کرنے کے بعد سونیا پھر سے پد یاترا میں شامل ہو گئیں ۔ سونیا گاندھی ایک مہینہ پہلے ہی کورونا بیماری سے ٹھیک ہوئیں ہیں لیکن ابھی ان کی صحت پوری طرح سے ٹھیک بھی نہیں ہوئی لیکن کرناٹک سے سونیا گاندھی کا گہرا تعلق ہے ۔ جب کبھی گاندھی خاندان پر سیاسی بحران آیا تب ساو¿تھ انڈیا نے اسے مشکل سے نکالا ہے ۔ بھارت کی سورگیہ وزیر اعظم اندراگاندھی نے بھی ساو¿تھ انڈیا کی سیٹوں سے لوک سبھی چناو¿ لڑا تھا ۔ ایمرجنسی کے بعد جب اندرا گاندھی کی سرکار چلی گئی تو 1980میں انہیں ایک ریزرو سیٹ لوک سبھا کی ضرورت تھی ایسے میں انہوں نے کرناٹک کی چک منگلور لوک سبھا سیٹ سے چناو¿ لڑا تھا ۔ اندرا گاندھی نے آندھرا پر دیش کے میدک اور اتر پردیش کے رائے بریلی سے چناو¿ لڑنے کیلئے کاغذات داخل کئے تھے بعد میں انہوں نے رائے بریلی سیٹ چھوڑ دی تھی۔ ادھر کانگریس صدر کا چناو¿ لڑ رہے ملکاارجن کھڑگے جمعہ سے ان ریاستوں میں اپنی چنا و¿ کمپین کی شروعات گجرات سے کر چکے ہیں دوسری طرف ان کے چناوی حریف ششی تھرور کے خیمے نے کئی شکایتوں کو لیکر پارٹی کے چناو¿ اتھارٹی سے رابطہ قائم کیا ہے ۔کھڑگے کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اگلے پانچ دنوں میں کم سے کم دس ریاستوں کی راجدھانیوں کا دورہ کریں گے اور پردیش کانگریس کمیٹیوں کے ممبران کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کو ابھی تک بھاری حمایت مل رہی ہے اس میں بچے عورتیں کافی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں ۔ابھی تک تو جن جن ریاستوں سے پد یاترا نکلیں ہے وہاں کانگریس کو بھاری حمایت مل رہی ہے ۔ اصل امتحان تو تب ہوگا جب یاترا ان ریاستوں سے نکلے گی جہاں کانگریس کی حمایت تھوڑی کم ہے ۔ اتنا ضرور ہے کہ راہل گاندھی کی شخصی مقبولیت بڑھی ہے ۔انہیں عوام کی پریشانیا ں سمجھنے کا موقع ملا ہے اور جنتا کو اپنی بات رکھنے کا بھی موقع ملا ہے ۔ اس پیدل یاترا سے عوامی حمایت بڑھی ہے وہیں کانگریسیوں کا بھی حوصلہ بڑھا ہے وہ تو چاہتے ہیں کہ ان کے نیتا ان کے درمیان آئے ان کی بات سنیں اور راہل گاندھی نے انہیں یہ موقع دے دیا ہے یاترا کو میڈیا کوریج بھی اچھا مل رہا ہے پرنٹ میڈیا کے پچھلے صفحا ت میں شائع خبروں میں اب بھارت جوڑ و یاترا کی نیوز اہمیت سے چھپنے لگی ہے ۔ کل ملاکر یہ یاترا کانگریس کے نظریے سے فائدے مند رہی ہے ۔ ہاں یہ ووٹروں کتنی تبدیل ہوتی ہے یہ ایک الگ اشو ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...