Translater

14 اپریل 2018

یوگی کی کٹھن پریکشا

اترپردیش میں ایک لڑکی کے ذریعے بھاجپا ممبر اسمبلی پر آبروریزی کا الزام اور اس کے بعد ہوئے واقعات نے یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کے قانون و انتظام پر سوال کھڑا کردیا ہے۔ اناؤ کے اس واقعہ نے ہمارے سسٹم کے تئیں جنتا کے بھروسہ کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ اس سے رائج تصور کو اور تقویت ملتی ہے کہ طاقتور شخص یا فرقہ آج بھی پوری مشینری کو انگلی پر نچا رہا ہے اور ایک معمولی شخص کا محفوظ رہنا صرف ایک اتفاق ہی ہے۔ حالانکہ پردیش میں اس طرح کا الزام یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ سابق سپا ۔بسپا سرکاروں کے دوران بھی بہت سے ممبران اسمبلی و کچھ وزراء پر اس طرح کے الزام لگے لیکن بھاجپا کی سرکار کے لئے چونکانے والی واردات ہے۔ اناؤ میں ایک لڑکی کا الزام ہے کہ ممبر اسمبلی کلدیپ سینگر اور اس کے ساتھیوں نے اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی ہے۔ لڑکی تھانے میں شکایت کرنے گئی تو رپورٹ درج نہیں کرائی گئی۔ عدالت کے حکم پر کئی دنوں بعد معاملہ درج ہوا تو کیس واپس لینے کا دباؤ شروع ہوگیا۔ متاثرہ کے رشتہ داروں کو اتنا پریشان کیا گیا کہ انہوں نے وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے سامنے خود سوزی کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد لڑکی کے بدقسمت والد کو کچھ الزامات میں گرفتار کرلیا گیا اور حراست میں ان کی طبیعت خراب ہوگئی اور موت ہوگئی۔ اذیت کی شکار لڑکی اب بھی مطمئن نہیں ہے کہ اسے انصاف مل پائے گا؟ اس نے ممبر اسمبلی پر بدفعلی کا الزام کے ساتھ ان کے رشتے داروں و والد کے قتل کا الزام لگایا ہے۔ پچھلے ایک برس سے لڑکی کی فریاد تھانہ پولیس سے لیکر حکمراں لیڈروں تک دم توڑتی رہی۔ سچ یہ ہے کہ اگر مشتبہ حالات میں اس کا والد جیل میں نہیں مرتا تو یہ کارروائی نہ ہوپاتی۔ یہ سوال اٹھنے کی واجب وجہ بھی ہے، لڑکی اور اس کے خاندان کو 8 اپریل کو لکھنؤمیں مظاہرہ اور خود سوزی کی کوشش کرکے واپس اناؤ لوٹ چکے تھے۔ لڑکی کے اتنے بڑے الزام کے بعد بھی پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ کارروائی کے نام پر محض کاغذی گھوڑے دوڑائے جاتے رہے۔ پیر کی صبح قریب ساڑھے تین بجے لڑکی کے والد کی موت ہوئی تو پولیس اور جیل انتظامیہ سنگین سوالوں کے گھیرے میں آگئے اور تب کوئی ایکشن ہونا پولیس کی مجبوری ہوگیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حال ہی کے راجیہ سبھا چناؤ میں بسپا ممبر اسمبلی کو بھاجپا میں لانے کے لئے کلدیپ سینگر کا ہی رول رہا۔ لڑکی تو پچھلے برس سے ہی ممبر اسمبلی پر الزام لگا رہی تھی لیکن ممبر اسمبلی کے رسوخ کے آگے پولیس بے بس تھی۔ ممبر اسمبلی سینگر سارے الزامات سے انکار کررہا ہے۔ جن حالات میں ملزم کے والد کی پولیس حراست میں موت ہوئی اس سے معاملہ اور زیادہ سنگین ہوگیا۔ پولیس نے ملزم کے والد پر کیوں مقدمہ درج کیا، انہیں کیوں حراست میں لیا؟ اس کی جانچ شروع ہوچکی ہے۔ متعلقہ پولیس والوں کو معطل بھی کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلی نے کہا ہے کہ کسی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ ممبر اسمبلی کے بھائی کا ملزمہ کے والد سے مار پیٹ کے الزام میں گرفتار کیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ جانچ و کارروائی ٹھیک سمت میں چلے گی۔ ملزمہ کے والد مرحوم کے جسم پر مار پیٹ کے نشان صاف دکھائی دے رہے تھے یعنی ان کی بری طرح سے پٹائی کی گئی۔ جو بھی ہو معاملہ کی ٹھیک طرح سے جانچ ہونی چاہئے۔ اس کا ہر پہلو سامنے آنا چاہئے ۔ بھلے ہی یہ یوپی کا معاملہ ہے لیکن پورے دیش کی نظریں اس پر اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر لگی ہیں۔ کیونکہ ہمارے سسٹم کے لئے یہ ایک ایسا آزمائشی کیس ہے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اگر یوپی کو جرائم سے نجات دلانا چاہتے ہیں تو اس معاملہ کی جلد سے جلد جانچ کروائیں اور قصوواروں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچائیں ۔ یہ ان کے لئے بھی ساکھ کا کیس بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

شام میں کیمیائی حملہ

دہشت گردی کو تو چھوڑیئے اس کے ازالے کی مہم کتنی خوفناک ہوسکتی ہے اس کی ایک جھلک دنیا کو ایک بار پھر تب دیکھنے کو ملی جب کچھ دنوں پہلے شام میں باغیوں کے قبضے والے آخری شہر ڈوما پر کیمیائی حملہ کی خبر آئی۔ نگرانی گروپ کا دعوی ہے کہ اس میں 70 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور درجنوں کی تعداد میں لوگوں کو سانس لینے میں دقت آئی۔ اس طرح کا یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ سال2013 میں پہلی بار کمیاوی ہتھیار کا استعمال خان الاصل پر کیا گیا تھا۔ تب سے لیکر اب تک اس پورے علاقہ میں درجنوں ایسے حملے ہوچکے ہیں۔ جان بوجھ کر عام لوگوں کو نشانہ بنانے والے یہ حملے بتاتے ہیں کہ حملہ آور انسانیت سے کتنی دور اور جنگ کے بین الاقوامی قواعد کونہیں مان رہے ہیں۔ حالانکہ شام نے اس حملہ کی مذمت کی ہے اور اپنے اوپر لگے الزامات کو مسترد کیا ہے پھر بھی یہ سمجھنا آسان ہے بشرالاسد نے کئی اسباب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ پہلی بار انہوں نے ایسا کیا ہے کیونکہ ان کے پاس اس کی وجہ بھی ہے اور وہ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دوسرا وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوں گے۔ حالانکہ شام حکومت ہی نہیں روس جیسے دوست ملکوں نے بھی ان خبروں کی تردید کی ہے مگر جہاں تہاں پڑی لاشیں اور اسپتالوں میں سانس کی تکلیف سے لڑ رہے بچے حملہ کے خوفناک اثرات کا ثبوت ہیں۔ ایسے حملوں سے جان اور مال کے نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اچھا ہے کہ اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی ہنگامی میٹنگ اس معاملہ پر ہورہی ہے۔ حالانکہ ایمرجنسی میٹنگ کو لیکر بھی بڑی طاقتوں میں ایک رائے نہیں ہے۔ امریکہ کی درخواست پر ہورہی میٹنگ میں کیمیکل حملہ کے لئے ذمہ داری طے کرنے کی کوشش ہوگی تو روس کی پہل پر ہو رہی میٹنگ میں اس واردات سے بین الاقوامی امن اور سلامتی پیدا ہورہے خطرے پر غور ضروری ہوگا۔ یقینی طور پر روس کو اس کے لئے بڑا ذمہ دار مانا جائے گا۔ شام ایئرفورس اس لئے بھی ڈوما پر بم برسا سکی کیونکہ روس کا مغربی ایشیائی ہوائی زون پر کنٹرول ہے۔ یہ ممکن ہے کہ روس ایسے فیصلوں میں شامل نہیں رہا ہوگا لیکن اسد حکومت کو فوجی و ڈپلومیٹک بچاؤ تو کرنا ہی ہے۔ شام کی فوج نے ہیلی کاپٹروں سے زہریلی و ایٹنٹ سرین مکت بیٹل بم گرایا تھا۔
(انل نریندر)

12 اپریل 2018

اپوزیشن کا موازنہ جانوروں سے کرنا توہین آمیز ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے 38 ویں یوم تاسیس فنکشن میں پارٹی کے صدر امت شاہ کے اپوزیشن کے اتحاد کے بیان پر ہنگامہ تو مچنا ہی تھا کیونکہ انہوں نے بات ایسی کہہ دی ۔ پنچ تنتر کی کہانی کی مثال دیتے ہوئے امت شاہ کا کہنا تھا جب باڑھ آتی ہے اور سارے پیڑ پودے بہہ جاتے ہیں تو صرف ایک پیڑبچ جاتا ہے۔ ایسے میں سانپ ،نیولا، کتا، بلی، چیتا سب ایک ہوجاتے ہیں اور پیڑ پر چڑھ کر اپنی جان بچاتے ہیں۔ کٹردشمنی کا ان جانوروں کا کردار مصیبت کے وقت بدل جاتا ہے۔ ہماری رائے میں امت شاہ کو اپنے سیاسی حریفوں کے لئے ایسے الفاظ کا استعمال کرنا زیب نہیں دیتا۔ اگر آج اپوزیشن کی اس مثال پر تمام اپوزیشن بھاجپا پر حملہ آور ہوگئی ہے تو اس میں کوئی تعجب نہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے اپوزیشن کا موازنہ جانوروں کے ساتھ کرنے پر امت شاہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس توہین آمیز بیان سے ان کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے جس میں دلت، قبائلیوں ، اقلیتوں اور یہاں تک کہ ان کی پارٹی کے نیتاؤں کو بیکار سمجھا گیا ہے۔ راہل نے کہا امت شاہ پوری اپوزیشن کو جانور کہہ رہے ہیں اور بھاجپا آر ایس ایس کا بنیادی نقطہ نظر ہے۔ اس دیش میں صرف دو غیر جانور ہیں ایک شری نریندر مودی اور دوسرے شری امت شاہ۔آئین کے تحت ہر کسی کو بولنے کی آزادی کا حق ہے لیکن کسے کب کیا اور کیسے بولنا ہے یہ سمجھداری آج تک زیادہ تر نیتاؤں میں نہیں نظر نہیں آئی۔ پبلک اسٹیج پر دیش پر حکمراں پارٹی کے قومی صدر کا ایسا بیان سن کر یقین نہیں ہوتا۔ دوبارہ تبارہ سن کر بھی یقین نہیں ہوتا لیکن امت شاہ کا کانفیڈنس ایسا ہے کہ اس کے بعد پریس کانفرنس میں جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے ایسا کن لوگوں کے لئے کہاں تب وہ کہتے ہیں میں نے سانپ اور نیولے کی مثال اس لئے دی کیونکہ وہ عام طور پر اکٹھا نظر نہیں آتے۔ نظریات سے پرے پارٹی مودی جی کی لہر کے سبب اکٹھا ہورہے ہیں انہیں برا لگا ہو تو میں نام بتادیتا ہوں۔ سپا۔ بسپا، کانگریس ۔ترنمول کانگریس، نائیڈو اور کانگریس۔ ویسے یہ ٹھیک بات ہے کہ سپا۔ بسپا ایک دوسرے کی مخالفت کے لئے جانی جاتی رہی ہیں لیکن سیاست میں ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والوں کا کوئی بھی گٹھ بندھن پہلی بار تو بھارت میں نہیں بن رہا ہے۔ نریندر مودی کی مرکزی سرکار اور 20 ریاستوں میں بی جے پی کی سرکاروں کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا قریب44 پارٹیوں سے اتحاد چل رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ سبھی ساتھیوں کا بھاجپا کی پالیسوں کی حمایت ہو۔ امت شاہ کو شاید یہ یاد نہیں رہا کہ دیش میں اندرا گاندھی کے خلاف 1977 میں پوری اپوزیشن متحد ہوئی تھی۔ اس اتحاد میں جن سنگھ کے اٹل بہاری واجپئی بھی ہوا کرتے تھے۔ لیفٹ پارٹیاں بھی تھیں۔ سیاسی نیتاؤں میں اس کی گنجائش ہمیشہ رہی ہے کہ لوگ چناؤ جیتنے کے لائق اتحاد بناتے رہے ہیں۔ امت شاہ کا سیاسی تجربہ دو دہائی سے بھی زیادہ کا ہو چکا ہے لہٰذا یہ تو نہیں مانا جاسکتا کہ یہاں ان کی زبان پھسل گئی ہو۔ ویسے بھی جو بھی تقریر پڑ رہے تھے وہ تحریری تھی۔ حالانکہ پچھلے ایک مہینے میں ایک بار ان کی زبان پھسلی ہے جب کرناٹک میں انہوں نے اپنے ہی سابق وزیر اعلی کو ریاست کا سب سے کرپٹ وزیر اعلی بتا دیا تھا اس کے بعد کرناٹک کی ہی ایک چناوی ریلی میں ان کی تقریر کا ترجمہ ایسا ہو گیا کہ مودی جی دیش کو برباد کردیں گے ، تو ایسا لگ رہا ہے کہ2019 کے عام چناؤ کی آنچ امت شاہ پر پڑنے لگی ہے اس آنچ کی تاپ کو اپوزیشن اتحاد کی خبروں میں بڑا بنا دیا ہے۔اپوزیشن کے اتحاد کوایک دوسرے طریقے سے بھی سمجھا یا جاسکتا تھا لیکن شاہ نے جو مثال دیکرسمجھانے کی کوشش کی ہے وہ افسوسناک ہے۔
(انل نریندر)

کیا آدھار بینکوں کی دھوکہ دھڑی روک سکتا ہے

خاص پہچان نمبر یعنی آدھار کی ضروریت کا دائرہ سرکار مسلسل بڑھاتی جارہی ہے جس کے پیچھے سرکار کئی طرح کی دلیلیں دے رہی ہے۔ مثال کے طور پر انتظامی کام کاج اسکیموں، مالی لین دین میں شفافیت یقینی کرنے سے لیکر آتنک واد سے کارگر ڈھنگ سے نمٹنے جیسے تمام دلائل دئے جارہے ہیں لیکن آدھار کے مس یوز ہونے پر سرکار کوئی تبصرہ نہیں کررہی ہے اور نہ ہی بتا رہی ہے سرکار کے پاس آدھار کا بیجا استعمال ہونے سے روکنے کے لئے کیا اسکیم ہے؟ سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکزی سرکار کی اس دلیل کو مسترد کردیا کہ خاص پہچان نمبر آدھار ہر کرپشن کو روکنے کا ایک یقینی ہتھیار ہے۔ کورٹ نے کہا کہ آدھار ہر دھوکہ دھڑی کو نہیں پکڑ سکتا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے یہ تبصرہ آدھارقانون کی قانونی جوازیت کا ٹیسٹ کرنے کے دوران کیا۔ اٹارنی جنرل کے۔ کے وینو گوپال نے جب یہ کہا کہ آدھار کے ذریعے ہزاروں کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی ، بے نامی لین دین پکڑے گئے ہیں اور تمام فرضی کمپنیوں کا انکشاف ہوا ہے اس پر جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ آدھار ہرایک دھوکہ دھڑی کا علاج نہیں ہے۔ خاص کر بینکوں میں دھوکہ دھڑی روکنے میں یہ کامیاب نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص الگ کمپنیاں شروع کررہا ہے تو یہ اپنے آپ میں دھوکہ دھڑی نہیں ہے۔ مسئل تب سمجھ میں آتا ہے جب بینک ملٹی اینٹری کے ذریعے لون دیتا ہے۔ آدھار میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے شخص کو کاروباری سرگرمیوں کی سیریز میں لین دین کرنے سے روکا جاسکے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ آدھار ایسے بینک دھوکہ دھڑی کو روک سکتا ہے۔ فلاحی اسکیموں میں دھوکہ دھڑی روکنے کی بات سمجھی جاسکتی ہے۔ پرائیویسی کو شہری کا بنیادی حق ماننے کے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ سے سرکار کے رخ کو زبردست جھٹکا لگا لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے ہر چیز کو آدھار سے جوڑنے کے نئے نئے فرمان جاری کرتی رہی ہے۔ ایک بار پھر عدالت نے سرکار کی شکل میں پہلی نظر میں نا اتفاقی جتائی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا سرکار کے رخ میں کوئی تبدیلی آتی ہے اور عدالت میں چل رہے معاملہ کا اب کیا نتیجہ ہوتا ہے؟ سپریم کورٹ نے صرف کچھ آتنک وادیوں کوپکڑنے کے لئے پوری جنتا سے اپنے موبائل فون آدھار سے جوڑنے پر بھی مرکز پرسوال کھڑے کئے ہیں۔ اگر کل کو افسر انتظامی احکامات کے ذریعے شہریوں کے آدھار کے تحت ڈی این اے جوڑے تو کیا ہوگا؟ 
(انل نریندر)

11 اپریل 2018

پانچ باباؤں کو وزیر مملکت کا درجہ دینے کا معاملہ

مدھیہ پردیش اسمبلی کے چناؤ اس سال کے آخر میں ہونے ہیں۔ ضمنی چناؤ میں ہار سے مدھیہ پردیش میں شری شیوراج سنگھ چوہان فکرمند ہیں۔ اب وزیر اعلی طرح طرح کے ہتھکنڈے و قدم اٹھا رہے ہیں تاکہ آنے والا چناؤ ایک بار پھر سے وہ جیت سکیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ انہیں اپنے 14 سالوں کے کاموں پر پورا بھروسہ نہیں۔ شاید بھاجپا سرکار کے 14 سال کے کام سے جنتا مطمئن نہ ہوپائی۔ کسان، دلت، تاجر اور درمیانہ طبقہ اور ملازم بھاجپا سرکار کے انتظام سے مطمئن نہیں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شیو راج سنگھ چوہان نے پانچ باباؤں کو منتری کا درجہ دیا ہے۔ بتادیں کہ کمپیوٹر بابا کے ساتھ اندور کے متیو مہاراج ، امر کرنک( نرمدا ادگرام ) کے ہیرا نند جی، ڈنڈوری کے نربدانند جی اور پنڈت یوگیندر مہنت کو وزیر مملکت کا درجہ دینے والا حکم جاری کردیا گیا۔ فیصلہ کے بعد سے اس پر سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ رام بہادر شرما نام کے ایک شخص کی طرف سے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے وزیر مملکت کے آئینی جواز کو لیکر عرضی لگائی گئی ہے۔ فیصلہ کے سبب باباؤں کے رویئے میں بھی اچانک تبدلی آئی ہے۔ کل تک جن سنتوں نے شیو راج کے ذریعے وکاس کے کاموں کی پول کھولنے کے لئے نرمدا گھوٹالہ یاترا شروع کرنے کا اعلان کیا تھا وزیر کے عہدے کی حیثیت ملنے کے بعد بابا جن جاگرن کرنے کی بات کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ 28 مارچ کو اندور کے گومت گری میں واقع کالیا آشرم میں سنتوں کی ایک میٹنگ 1 اپریل سے15 مئی تک نرمدا گھوٹالہ مہا یاترا نکالنے کا فیصلہ لیا گیا تھا اور یہ بھی طے ہوا تھا کہ اس یاترا کے دوران ان 6 کروڑ 67 لاکھ پودوں کی گنتی کا کام ہوگا جو وزیر اعلی چوہان کی نرمدا سیوا یاترا پروگرام کے تحت گزشتہ 2 جولائی سے لگائے گئے تھے۔ ان باباؤں نے اس سرکاری میگھا شو کو مہاگھوٹالہ قراردیا تھا۔ کانگریس نیتا راج ببر نے پانچ باباؤں کو وزیر مملکت کا درجہ دیئے جانے کے فیصلہ کو لیکر شیوراج سنگھ چوہان سرکار پر جم کر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا شیو راج سنگھ چوہان کو اسمبلی چناؤ میں جیت کے لئے اب باباؤں پر بھروسہ کرنا پڑ رہا ہے۔ سابق وزیر اور کانگریس ایم پی کانتی لال بھوریا نے کہا کہ سنتوں نے جب کہا کہ وہ سرکار کے ساڑھے چھ سات کروڑ کے کرپشن کی پول کھولنے والے ہیں تو سرکار نے ان کا منہ بند کرنے کے لئے انہیں وزیر مملکت کا درجہ دے دیا ہے۔ دیکھناہوگا باباؤں کے سہارے شیو راج سنگھ چوہان کی نیا پار لگتی ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

بھارتیہ ریلوے کا بھگوان ہی مالک ہے

انڈین ریلوے کا بھگوان ہی مالک ہے۔ یہاں تو بغیر انجن کے ٹرین چلتی ہے۔ اڈیشہ میں لاپرواہی کی انتہاہوگئی بولن گیر ضلع کے کٹلا گڑھ میں احمد آباد پوری ایکسپریس بغیر انجن کے پٹری پر دوڑ پری۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب بولن گیر ضلع کے ٹیلا گڑھ سے کالا ہانڈی ضلع کی کراسنگ کی طرف جا رہی 22 ڈبوں والی اس ایکسپریس ٹرین کے انجن کو دوسری طرف لگانے کے لئے الگ کیا گیاتھا۔ سبھی مسافر محفوظ ہیں اور چوکس ریلوے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سنیچر رات بغیر انجن کے پٹری پر دوڑنے کے فوراً بعد ہی دو ملازمین کو برخاست کردیا گیا تھا باقی پانچ کو آج صبح برخاست کیا گیا۔قریب 15 کلو میٹر پٹری پر بغیر انجن کے دوڑی تھی ۔پوری ایکسپریس انجن کے بغیر ڈبے اس لئے چل پڑے کیونکہ وہاں تعینات ریل ملازمین نے ٹرین کے پہیوں پر شاید اسکلڈ بریک نہیں لگائے تھے۔ قاعدے کے مطابق ٹرین کے پہیوں پر اسکلڈ بریک لگائے جانے چاہئیں۔ ہوشیار اگر آپ ٹرین میں سفر کررہے ہیں اور دہلی سے گزرنے والے ہیں تو چوکس رہیں کیونکہ یہاں ٹرینوں میں لوٹ مار چوری ،جھپٹ ماری کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ چور کچھ چنندہ مقامات پر ٹرین کے مسافروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
دہلی میں پچھلے 15 دنوں میں دو ایسی وارداتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک میں کچھ بدمعاشوں نے دہلی ۔انبالہ کے درمیان چلنے والی پسنچر ٹرین میں چاقو کی نوک پر لوٹ مار کی تھی جبکہ دوسری کالندی ایکسپریس میں مسافروں کے ساتھ لوٹ مار کے دوران چاقو بازی کی گئی۔دونوں ہی وارداتوں میں ملزم واردات کو انجام دے کر موقعہ سے فرار ہوگئے۔ ٹرینوں میں کرائم کا گراف مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ 2013 میں 760 وارداتیں ہوئیں جو 2014 میں بڑھ کر 1879 ہوگئیں،2015 میں یہ نمبر 3389 ہوگیا اور 2016 میں یہ بڑھ کر 4368 ہوگیا سال 2017 کے شمار ابھی تیار کئے جارہے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو اس بار تعداد 5 ہزار کو پار کرسکتی ہے۔ دہلی زون میں لگاتار وارداتیں بڑھ رہی ہیں اس کے چلتے اب کئی اسٹیشنوں کے درمیان جوانوں کو ٹرین میں تعینات کیا جارہا ہے۔ ریلوے ٹکٹوں کی قیمت میں لگاتار اضافہ ہوتا جارہا ہے اورسیکورٹی کے لئے مناسب قدم نہیں اٹھا رہی ریلوے کی اس لاپروائی کا چور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ریل یاترا کرنا اب خطرے بھرا ہوگیا ہے۔ امید ہے کہ ریل منتری و افسران مسافروں کی سلامتی پر زیادہ دھیان دیں گی اور مناسب قدم اٹھائیں گے۔
(انل نریندر)

08 اپریل 2018

پنجرے میں ٹائیگر سلمان خان

ہندی فلموں میں جیسے ڈرمائیت ہوتی ہے اکثر ایسا اصل زندگی میں نہیں ہوتا۔ اس کا احساس بالی ووڈ ستارے سلمان خان کو ہورہا ہوں گا جنہیں 20 سال پہلے کالے ہرن کے شکار سے متعلق مقدمہ میں جودھپور کی ایک عدالت نے پانچ سال کی سزا سنا ئی ہے۔ سلمان کو سنائی گئی سزا سے فطری طور پر یہ ہی پیغام گیا ہے کہ دیش کے قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے۔ سلمان خان کو ہوئی پانچ سال کی سزا جتنا حیران نہیں کرتی اس سے زیادہ کہیں ہندوستانی عدلیہ نظام کے بارے میں سوچنے کو مجبور کرتی ہے۔ یہ سزا اس20 سال پرانے معاملہ میں ہوئی ہے جب ایک فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان اپنے ساتھیوں سیف علی خان، نیلم، سونالی بیندرے اور تبو کے ساتھ شکار پر نکلے تھے۔ الزام ہے کہ اس شکار کے دوران انہوں نے ایک چنکارا اور دو کالے ہرنوں کا شکار کیا تھا۔ چنکارا اور کالے ہرن دونوں ہی نایاب جنگلی جانوروں کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کا شکار کرنا غیر قانونی ہے۔ سلمان خان کو سزا سنانے کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا البتہ عدالت نے اس معاملہ میں دیگر چار ملزمان سیف، تبو، سونالی اور نیلم کو بری کردیا۔ سلمان کو سزا ان کے چاہنے والوں کے لئے اور تمام فلم صنعت کے لئے بہت بڑا دھکا ہے۔ بالی ووڈ کی تشویش کی وجہ ہے کہ سلمان کی تین فلمیں پوری نہیں ہوئی ہیں جن میں 400 کروڑ روپے داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ سلمان خان پر جودھپور میں مقدمے دائر ہوئے تھے۔ ایک معاملہ میں انہیں نچلی عدالت سے پانچ برس کی سزا سنائی گئی ہے مگر ہائی کورٹ سے وہ بری ہوگئے۔ ایک دوسرے معاملہ میں ایک سال کی سزا ہوئی جسے ہائی کورٹ نے منسوخ کردیا۔ یہ دونوں معاملہ سپریم کورٹ میں التوا میں ہیں۔ دس سال پہلے بھی سلمان خان اسی معاملہ میں تین بار 6-6 دنوں کے لئے جیل جا چکے ہیں۔ 1998اور پھر اپریل 2006 اور جنوری2017 اب اپریل 2018۔ یہ چوتھی بار ہے جب پچھلے 20 برسوں میں 19 دنوں کے لئے جیل گئے۔ سلمان خان کا عدالتوں سے پرانا رشتہ رہا ہے۔ 2002 میں ہٹ اینڈ رن (مارکے بھانگنا) سے متعلق انہیں ہائی کورٹ نے انہیں بھلے ہی بری کردیا ہے لیکن اسے سپریم کورٹ میں چنوتی دی جاچکی ہے۔ عام طور پر کامیاب اور مشہور لوگ یہ مان کر چلتے ہیں کہ لوگ ان کی جھلک پانے کے لئے پاگل دکھائی پڑتے ہیں لہٰذا وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ سماج اور انتظامی مشینری ان کی غلطی کو اپنے آپ نظرا نداز کردے گی۔ ایسے لوگ اپنے لئے ہر سطح پر خاص چھوٹ کی توقع رکھتے ہیں جو اکثر انہیں مل جاتی ہے لیکن انہیں سمجھنا چاہئے کہ سماج ان کا غلام نہیں ہے۔ لوگ انہیں اپنا ماڈل ضرور مانتے ہیں اور ان کے ہر رویئے کی نقل کرتے ہیں ا س لئے ان کی یہ جوابدہی بنتی ہے کہ وہ ایسا کچھ نہ کریں جسے لوگ غلط مثال کی طرح اپنانے لگیں۔ انہیں قاعدے قانون کی تعمیل کرنی چاہئے۔ اپنے ساتھیوں سے اچھے رشتے بنانے چاہئیں۔ عام طور سے ایسا کوئی بیان نہیں دینا چاہئے جس سے سماج میں شورش پھیلے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ سلمان معاملہ سے دیش کے دوسرے ستارے بھی سبق لیں گے۔ مگر نیست و نابود ہورہے جانوروں کے زمرے میں رکھے گئے دو جانوروں کا شکار کرنے کے معاملہ کو دلائل کی حکمت عملی تک لے جانے کے لئے کوئی کثر باقی نہیں رکھی گئی۔ بشنوئی سماج کے لئے کالے ہرنوں کی بڑی اہمیت ہے۔ وہ مانتے ہیں کالے ہرن کی شکل میں ہی ان کے دھارمک گورو بھگوان جگنیشور کا پنر جنم ہوا جنہیں جانبازی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ پتہ نہیں آخر سلمان ان چار معاملوں میں بری ہوتے ہیں یا ان کو سزا ملتی ہے لیکن اس کا پیغام ہے ہم کسی بھی سبب جنگلی جانوروں کا شکار نہ کریں۔ صرف قانون کے ڈر سے ہی نہیں جانوروں کا درکار تعداد میں زندہ رہنا حالات کے توازن کے لئے ضروری ہے۔سلمان خان کو شکار کرتے وقت اسے سخت قانین کا پتہ تھا یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے مگر اتنے برسوں میں انہیں مقدمے کا جس طرح سامنا کرنا پڑا اور کچھ وقت جیل میں بھی گزارنا پڑا اس کے بعد دیش کے ایک ایک شخص کو یہ پتہ ضرور چل گیا ہوگا کہ جنگلی جانوروں کا شکار کرنا ایک بڑا جرم ہے۔
(انل نریندر)

ہندوستانی فلمیں چین کی دیوار پھلانگنے میں کامیاب

اگر ہم راج کپور کی فلموں کو چھوڑیں تو چین ہندوستانی فلموں کا کبھی بڑا بازار نہیں رہا ہے لیکن پچھلے کچھ عرصے سے لگتا ہے کہ چین کے فلم شائقین کو ہندوستانی فلمیں پسند آنے لگی ہیں۔راج کپور کی فلمیں روس میں بھی بہت مقبول تھیں لیکن چین میں پہلے کسی ہندوستانی فلم کا اتنا تذکرہ نہیں سنا تھا۔ جب جیکی مین بھارت آئے تھے تب انہوں نے کہا تھا میں بھارت کے بارے میں تین ہی چیزوں کو جانتا ہوں ایک عامر خان، دوسرا تھری ایڈیڈس اور تیسرا بالی ووڈ کا ڈان۔ جیکی مین ہی کیوں نیا کے کونے کونے میں لوگ بھارت کو اس کی فلموں سے جانتے پہچانتے آئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب راج کپور ، متھن چکرورتی کی فلمیں سوویت روس میں بہت مقبول تھیں۔ امیتابھ بچن کی فلموں نے بھی وسط ایشیا میں بہت مقبولیت پائی۔ شاہ رخ خان کو یوروپ میں کافی مقبولیت ملی لیکن چین ہماری فلموں کا کبھی بڑا بازار نہیں رہا لیکن لگتا ہے کہ وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی ہورہی ہے اور اب ہماری کئی فلمیں چین کے باکس آفس پر کروڑوں کی کمائی کررہی ہیں۔ اس برس ریلیز ہوئی سلمان خان کی فلم بجرنگی بھائی جان، تین ہفتوں میں چین کے باکس آفس پر 250 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کرچکی ہے اور یہ پہلی فلم نہیں ہے جس نے پڑوسی دیش میں ریکارڈ کمائی کی ہو۔ اس سے پہلے عامرخان کی ’تھری ایڈیڈس‘ ،دنگل، سیگریٹ سپر اسٹار بھی کروڑوں کی کمائی کرچکی ہے۔ عرفان خاں کی ’ہندی میڈیم‘ تیسری ہندوستانی فلم ہوگی جو اس سال چین میں ریلیز ہونے والی ہے۔ ہندی میڈیم کو 4 اپریل کو ریلیز ہوئی جب وزیراعظم نریندر مودی چین کے دورہ پر گئے تھے تب وہاں کے صدر شی جنگ پنگ نے ان سے دنگل فلم کا ذکر کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ آخرچین کے لوگوں کو ہماری فلمیں اتنی پسند کیوں آتی ہیں؟ جبکہ یہ جگ ظاہر ہے کہ بھارت اور چین ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور وقتاً فوقتاً دونوں کا معاملہ لڑائی کے سطح تک پہنچ جاتا ہے۔ دنگل کو وہاں 9 ہزار تھیٹروں میں ریلیز کیا گیا تھا۔ ’دنگل‘ چین میں ہندی کی سب سے زیادہ دیکھے جانے والی فلم ہے۔ اس فلم میں چینی ناظرین کو اپنی زندگی کی جھلک دکھائی پڑتی ہے۔ وہیں سلمان خان کی ’بجرنگی بھائی جان‘ کی کامیابی سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے ناظرین خاص طرح کی فلموں کو دیکھنے کے لئے بے چین رہتے ہیں جو سماج کو ایک خاص پیغام دے۔ چنندہ ہندوستانی فلموں کو چین میں کامیابی ملنے سے لگتا ہے کہ ہندوستانی فلمیں چین کی دیوار پھلانگنے میں کچھ حد تک کامیاب ہوگئیں۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...