Translater
07 نومبر 2020
یوروپ پھر اسلامی دہشت گردوں کے نشانے پر آیا !
فرانس میں بربریت آمیز دہشت گرانہ حملوں کی طرف سے دنیا کی توجہ ابھی ہٹی نہیں تھی کہ آسٹریا کی راجدھانی ویانہ میں دہشت گردوں نے حملہ کرکے یوروپ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو ایک بار پھر دہشت گردی کے خطرے سے واقف کرادیا ہے ۔ پیرس اور نیس کے بعد ویانہ میں ایک بار پھر زبردشت حملہ ہوا ہے حملہ آوروں نے ایک یہودی عبادت گاہ کے پا س جا کر 6جگہ فائرنگ کی اس میں 2عورتوں سمیت چار افراد کی موت ہوئی ہے حالانکہ دو حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایک مارا گیا ہے ۔بتا یا جاتا ہے 20سال کا نوجوان حملہ آور پچھلے سال دسمبر میں پریول پر چھوٹا تھا ۔ اور وہ آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کے لئے شام جاتے ہوئے پکڑا گیا تھا ۔ آشٹریا کے چانسلر کروز نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کاروائی ہوگی ۔ ہم دہشت گردوں کے ڈرامے میں نہیں آئیں گے ادھر فرانس نے دہشت گردوں کے خلاف بڑی کاروائی کرتے ہوئے مالی میں ہوائی حملہ کرکے القاعدہ کے 50سے زیادہ حملہ آوروں کو مار گرایا ہے ۔ اور چار دہشت گرد زندہ پکڑے گئے فرانس کے صدر ایمنول مائیکرو نے کہا فرانس کے بعد ایک ہمارے دوست ملک آشٹریا پر حملہ ہواہے یہ ہمارا یوروپ ہے ہمارے دشمنوں کا پتہ ہونا چاہئے وہ کس سے لڑ رہے ہیں ۔ ہم نہیں جھکیں گے یوروپ نے اپنے یہاں چپ چاپ پھیر پھسانے کو موقع دیا اقوام متحدہ میں تین مرتبہ ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خبر دار کیا تھا کہ ہم جس دہشت گردی کا سامنہ کر رہے ہیں وہ ایک دن پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لے گا ۔ اس وقت ہم سے کہا جانے لگا آپ کے لئے جو دہشت گردی ہے وہ دوسرے فریق کے لئے انصاف کی لڑائی بھی ہوسکتی ہے ۔ یوروپ کی لیبرل سوسائیٹی نے ہماری دکیہ ننسی کو سمجھتے ہوئے نظر انداز کیا دہشت گرد عناصر نے اس کا فائدہ اٹھایا اور 25سال میں یوروپی ملک حیرانی سے دیکھ رہے ہیں کہ دہشت گرد عناصر لوگوں کے سر قلم کرنے پر آمادہ ہیں ۔ جنہیں اظہار رائے کی آزادی کا رہنما سمجھا جاتا تھا اب ان دیشوں کو دہشت کا درد سمجھ میں آئے گا انہیں لگتا تھا مسئلہ بھارت اور اس کے آس پاس کے ملکوں کا ہی ہے ۔ اب انہیں مسئلے کو نظر انداز کرنے کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے ۔
(انل نریندر)
پرانے کیس میں ارنب گوسوامی کی گرفتاری پر سیاست !
جس ڈھنگ سے ممبئی پولس نے ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر انچیف اور مشہور صحافی ارنب گو سوامی کو ان کے گھر سے زبردستی گرفتار کیا گیا ۔ اس کی کوئی بھی حمایت نہیں کرسکتا 2018میں ماں بیٹے کو خودکشی کے الزام میں یہ گرفتاری ہوئی پولس بدھ کو ارنب کے گھر پہونچی تو رشتہ داروں نے گرفتاری پر احتجاج کیا جب کی ارنب کے ساتھیوں نے لائیو کوریج شروع کردیا بعد میں انہیں رائے گڑھ ضلع عدالت میں پیش کیا جہاں ارنب نے الزام لگا یا پولس نے میرے ساتھ مار پیٹ کی اور میرے بیٹے کو بھی پیٹا اور داماد کو بھی دھکا دیا ۔ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے مذمت کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ گوسوامی کے ساتھ مناسب برتاو¿ کریں ۔ اس کے علاوہ نیوز بروڈ کاسٹرس اشوشیشن نے بھی کاروائی کو غلط بتایا اس معاملے میں ارنب کے خلاف گرفتاری کا احتجاج کرنے کی وجہ سے دفعہ 353کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ واضح ہو کہ 2018میں 53سالہ اینٹیریئر ڈیزائینر امن وے اور اس کی ماں کہ لاس علی باغ میں ان کے گھر پر پڑی ملی تھی پولس کو موقع واردات سے ایک سوسائیڈ نوٹ ملا تھا جس میں لکھا تھا ارنب گوسوامی،آئی کاسٹ ایکسو/ایس پی میڈیا کے فیروز شیخ اور ایمارٹ ورکس کے نتیش ساردہ کے ذریعے ان کے بقایہ پیسوں کے ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے خودکشی جیسا بڑا قدم اٹھانے جارہے ہیں خودکشی نامے کے مطابق ان تینون کمپنیوں نے نائیک کو 82لاکھ ،4کروڑ روپیے اور 55لاکھ روپئے دینے تھے لیکن یہ نہیں دیئے گئے جس کے بعد انہوں نے خودکشی کا قدم اٹھالیا پولس نے جانچ شروع کی تھی لیکن پچھلے سال 2019میں فائل بند کردی گئی جو اب کھل گئی ہے ارنب کی گرفتاری کے ساتھ سیاسی الزام تراشیوں کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا ہے ۔ بھاجپا کانگریس شیو سینا کے درمیان ایک دوسرے پر الزام لگانے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے بھاجپا نے ارنب کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا موازنہ ایمرجنسی سے کیا ہے ۔ بھاجپا صدر جے پی نڈا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی سرکار کے سینئر وزراءنے گرفتاری کی تنقید کی ہے ۔ امت شاہ نے تو اسے اقتدار کا کھلا بیجا استعمال کردیا ہے اپنے ٹویٹ میں الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے ساتھیوں نے پھر جمہوریت کو داغ دار کیا ہے ۔ وہیں کانگریس نے بھی الزام لگایا بی جے پی نیتاو¿ں کے ذریعے طرف داری کو سرمناک حرکت قرار دیا ہے پارٹی کے ترجمان سپریو سرینتے کہا کہ ارنب معاملے میں قانون اپنا کام کرے گا شیوسینا نیتا سنجے راوت نے بھی کہا اب صاف ہوچکا ہے ارنب گو سوامی کی گرفتاری صحافت کے لئے نہیں بلکہ ان کا اسٹوڈیو بنانے والے انٹیریئر ڈیزائنر کو پیسہ نہیں دینے بلکہ خودکشی کے لئے مضبور کرنے کے معاملے میں ہوئی ہے ۔ یہ بھی صاف ہوچکا ہے کہ مرکزی سرکار کے جو وزیر ارنب کے ساتھے مبینہ زیادتی کا رونا رو رہے ہیں وہ صحافت کے کئی معاملوں میں چپ رہے ہیں اور ایسے نیتاو¿ ں میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی ہیں جن کو ان کا اپنا ریکارڈ صحافت کے معاملے میںبہت براہے ؟ سوال اٹھتا ہے کہ دیش میں جب جرائم کے معاملے میں صحافی گرفتار ہوتے ہیں تو اس معاملے میں مرکزی وزراءکو اتنی تکلیف کیوں ہورہی ہے ؟ ارنب کی گرفتاری دراصل مرکز میں اقتدار اعلیٰ کو چنوتی ہے ارنب جس قسم کی صحافت کرتا ہے اور کن شرطوں پر کر رہا تھا یا بنا شرط مالک کے حکم پر چونکانے والی صحافت کر رہا تھا ۔ یہ یقینی طور پر پالتو کتے کی طرح آدیش پا کر بھونکتا لگ رہا تھا۔
(انل نریندر)
06 نومبر 2020
کیا روزگا ر ۔ترقی ذات کے جنجال پر بھاری پڑے گا ؟
ذات بہار کی سیاست کی سچائی ہے پچھلے اسمبلی چناو¿ کی طرح اس مرتبہ بھی پارٹیوں کے درمیا ن ذات پات کے تجزیہ کو بھانپنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ دو مرحلوں کے ہوئے پولنگ سے تو یہی لگتا ہے کہ ذات برادری ریاست میں اب بھی بڑا شو ہے ،حالانکہ ذات برادری تجزیہ اچھا انتظامیہ بنام جنگل راج جیسے اشو ز کے درمیان ریاست کی سیاست میں عرسے بعد روز گار کا اشو کافی اچھل رہاہے ۔ سبھی پارٹیاں زور شور سے روز گار کے اشو کو اٹھا رہی ہیں اور روزگار دینے واعدہ کررہی ہیں ۔ اپریل میں جب لاکھوں کی تعداد میں پرواسی مزدوروں کی میٹروں شہروں سے ہجرت ہوئی تب پہلی مرتبہ مقامی سطح پر روز گار کی کمی اور صنعت اور دھندوں کی کمی کا سوال اٹھا جو نوجوانوں میں زیادہ اثر کر رہا ہے۔ ریاست میں تقریبا نوجوان ووٹر 3.66کروڑ ہیں بہار میں ڈیڑھ دھائی بعد سبھی اسمبلی اور لوک سبھا چناو¿ میں اچھا انتظامیہ بنام جنگل راج اہم اشو رہا ۔ اس مرتبہ این ڈی اے روزگار اورترقی کی بات کرتے ہوئے اچھا انتظامیہ کی یا د دلا رہا ہے یہ پیڑی ترقی یافتہ ریاستوں کے ساتھ بہار کا معازنہ کرتی ہے آسان سوال ہے جب سیاسی پارٹیوں کا کام ذات کی جگل بندی سے ہی چل سکتا ہے تو ترقی اور روزگار جیسے اشو کو جگہ کیوں ؟پارٹیوں نے اپنے اپنے حساب سے ذات پات کے تجزیوں کی گوٹی بچھائی ہے این ڈی کے نگاہیں انتہائی پسماندہ ،برہمن اور مہا دلت پر ہے ۔ تو اپوزیشن مہا اتحاد کی یادو مسلم ،دلت اور کم تعداد میں ورما جیسی چوٹی چوٹی بردریوں پر لگی ہوئی ہے ریاست میں ویسے تو یہ برداریاں الگ الگ پارٹی کے ساتھ دکھائی پڑتی ہے ،مگر اس مرتبہ ان کے پاس روزگار سے متعلق سوال ہے ۔ ریاست میں ساڑھے چار لاکھ اسامیاں خالی ہے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بہار میں کونسی پارٹی کامیابی حاصل کرے گی این ڈی اے۔کانگریس اتحاد یا جے ڈی یو بھاجپا اتحاد سچائی یہ ہے کہ ریاست میں بڑے وسیع پیمانے پر بے روز گاری اور فاقہ کشی کے سبب بہار کے باشندے غریب ہی بنے رہیں گے، طبی سہولیات کی زبردست کمی اور جنتا کے لئے اچھی تعلیم یہاں ناداردہے۔
(انل نریندر)
کورونا.پورے دیش سے الٹی دہلی کی چال !
دہلی میں سردی اور آلودگی میں اضافہ ہونے کے ساتھ تشویش کا موضوع یہ بھی ہے کہ کورونا وائرس کی شرح بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ دہلی میں پچھلے ایک ہفتے سے کورونا وائرس کے مریض کافی تیزی سے بڑھے ہیں اور یومیہ 5ہزار سے نئے مریض سامنے آرہے ہیں ۔ اب یہ رکارڈ تعداد 6ہزار سات سو سے اوپر چلی گئی ہے اب حالت نازک ہے اور کورونا کے نئے مریضوں کے معاملے میں دہلی مہاراشٹر سے بھی آگے نکل چکی ہے دہلی کے بازاروں میں بڑھتی بھیڑ اور کورونا سے بچاو¿ کے قاعدے قانون کی تعمیل نہ کرنے کی وجہ سے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے پچھلے تین دنوں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو دہلی میں مہاراشٹر سے زیادہ نئے مریض سامنے آئیں ہیں ۔ واضح ہو کہ کورونا وائر س کے معاملے میں مہاراشٹر دیش میں پہلے مقام پر ہے اور یہاں کل مریض 17لاکھ کے قریب ہیںپہلے یہاں روز آنہ دس سے پندرہ ہزار نئے مریض سامنے آرہے تھے لیکن اب پچھلے کئی دنوں سے یہ تعداد گھٹ گئی ہے لیکن پچھلے ہفتے دہلی آفات انتظام محکمہ کی میٹنگ میں اسپیشل کی اس رپورٹ پر بحث ہوئی تھی جس میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس مہینے کے آخیر تک 12سے 14ہزار نئے مریض سامنے آسکتے ہیں یہ سچائی ہے کہ دہلی کی آبو ہوا میں آلودگی کی پوزیشن بہت خراب ہوچکی ہے اس کے لئے صرف پڑوسی ریاستوں پنجاب ،ہریانہ ، راجستھان ، اور اتر پردیش کے کچھ حصوں میں ہوائی آلودگی کے لئے موٹر گاڑیوں کی بھاری تعداد بھی بہت حد تک ذمہ دار ہے ۔ اور سردی کے موسم اور ہوائی آلودگی ان دونوں کے سبب کورونا وباءمیں اور زیادہ اچھا ل آسکتا ہے ساتھ ہی تیوہاروں کے موسم میں دہلی اور دیش کے بڑے حصوں میں شادی بیاہ کے سیزن کی شروعات ہورہی ہے۔ ان تمام تقریبات میں سماجی دوری کے قاعدے وماسک پہننے کی شرط کی تعمیل کرنے میں ٹال مٹولی اور لاپرواہی برتنے کا اندیشہ بنا ہوا ہے۔ دہلی سرکار نے شادی بیاہ اور دیگر فیملی تقریب میںکوروناکے روک تھام کے لئے بنائے گئے قواعد میں تھوڑی ڈھیل دی ہے جس وجہ سے تقریبات میں 50کے بجائے 200لوگ شامل ہوسکتے ہیں ۔ بھارت جیسے دیش لاکھوں لوگ کورونا گائیڈ لائینس کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ دہلی کے بازاروں میں ہی آپ دیکھ سکتے ہیں وہاں جمع لوگ نا تو ماسک پہنتے نا آپس میں دوری بنانے کے قواعد کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ آخر سرکار کتنا کر سکتی ہے اگر جنتا سرکار سے تعاون نہیں کرے گی تو معاملے کیسے اس کورونا سے لڑا جائے گا حالانکہ دہلی سرکار وباءکے انفیکشن کو روک نے کے لئے اور زیادہ قدم اٹھا رہی ہے ۔ تجربات کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے ان کی سرکار اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتی ۔ وباءکو روکنے میں سرکار کے ساتھ ساتھ شہریوں کی ساجھیداری سب سے ضروری ہے ۔
(انل نریندر)
مرکزی حکومت زرعی بلوں کے ذریعے کسانو ںکی موت کا سامان لائی !
مرکزی زرعی قوانین کو در کنار کرنے کے لئے راجستھا ن کی اشوک گہلوت سرکار نے پیر کے روز اسمبلی میں تین ترمیمی بل پاس کئے ۔ اب یہ گورنر کلراج مشرا کے پاس بھیجے جائیں گے اس سے پہلے پنجاب حکومت نے مرکزی قوانین کے خلاف ترمیمی بل پاس کئے تھے۔ ترمیمی بلوں پر قریب 6گھنٹے بحث چلی جس میں حکمراں سرکارکے چار سینئر وزراءنے سرکار کا موقوف رکھا ۔ راجستھا ن کے وزیر پرسنل شانتی دھاری وال نے ایوان میں زرعی پیداوارو تجارت (پروسیسنگ اور آسانی)راجستھان ترمیم بل 2020،زراعت (مضبوطی اور تحفظ)قیمت یقینی اورزراعت سرویس ٹیکس پر معاہدہ بل 2020اور ضروری چیزیں و بل 2020ایوان میں رکھا ان بلوں کا مقصد مرکزی سرکار کے زریعے حال ہی میں پاس کردہ زراعت سے متعلق تینوں قوانین کا ریاست کے کسانوں پر مضر اثر کرے گا ۔ سرکار نے کہا ہے کہ وہ ریاست کے کسانوں و کھیتی مزدوروں اور زراعت اور اس سے متعلق کاموں میں لگے دیگر بہت سے افراد کے بھی مفادات اور گذر بسر اور سرپرستی کے لئے راجستھان زرعی اجناس منڈی کمیٹی ایکٹ 1961کے ریگولیٹری ڈھانچے کے زریعے سے راجستھان کے کھیتی مزدوروں کے مفاد کے حفاظت کے لئے یہ بل لائی ہے اس بل میں کھیتی کسانوں کو پریشان کرنے کے خلاف صدا کی سہولت ہے ۔ اس میں لکھا گیا ہے اگر کوئی تاجر کھیتی کسانوں کو پریشان کرتا ہے تو اسے تین سے سات سال کی قید یا جرمانہ کیا جا سکتا ہے ۔ جو پانچ لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگا پارلیمنٹ میں پاس زرعی پیداوار کاروبار و کمرشیل تقسیم و سہولت ایکٹ 2020کا حوالہ دیتے ہوئے بل میںکہا گیا ہے چونکہ اس مرکزی ایکٹ کا سیدھا نتیجہ کم سے کم مارجنل پرائز میکینزم کو بے اثر کرنا ہوگا ۔ اور اس سے زراعت اور متعلقہ فرقوں کے مفادات کی حفاظت میں مشکلیں آئیںگی ۔ اور اس میں کسان کو مختلف طرح کے استحصال سے بچانے کا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ راجستھا ن کے وزیر شانتی دھاریوال کا کہنا ہے مرکزی حکومت زراعت بلوں کے زریعے کسانوں کی موت کا سامن لے کر آئی ہے وہ کسانوں کو دوسروں کے دروازے پر باندھنا چاہتی ہے ریاستی حکومتوں نے کسانوں کو خود اپنی پیداوار اجناس کو دوسری جگہ بیچنے پر کب روک لگائی ہے ؟مرکزر شانتہ کمار کی رپورٹ لاگو کرنا چاہتی ہے جس میں ایم ایس پی ختم کرنے کی بات ہے ۔ اور اس نے اس مسئلے پر کوئی ذکر نہیں کیاہے مرکز کا ریلائینس سمیت کچھ سرمایہ داروں کی زراعت میں انٹری کرانے کا مقصد ہے منڈیوں کے سامنے کارپوریٹ کے لوگ دکان لگا کر بیٹھیں گیں تو منڈیوں میں کیا حال ہوگا کانگریس کے پردیش صدر گوند سر نے کہا کہ انتخابات میں کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی بات کرنے والے وزیر اعظم کارپوریٹ کمپنیوں کے مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔
(انل نریندر)
05 نومبر 2020
الوداع جیمس بانڈ !
جیمس بانڈ کے کرداروں سے ساری دنیا بھر کے لوگ مقبولیت حاصل کرنے والے ہالی ووڈ کے اداکار شان کان ری کا 90سال کی عمر میں انتقال ہوگیا وہ انگلینڈ میں رہ رہے تھے ۔ ان کی موت کی خبر میڈیا کو ان کے خاندان نے دی تھی وہ رات میں سوئے تھے اور سوتے سوتے دنیا سے چلے گئے شان کانری نے فلموں میں پہلی بار جیمس بانڈ کا کردار نبھایا تھا جس کو کوئی بھول نہیں سکتا اور یہ ہمیشہ فلمی شائقین کے دلوں دماغ پر بسا رہے گا بڑے پردے پر شان کان ری نے کئی دھائیوں تک کام کیا اور شاندار ادا کاری کے لئے انہیں آسکر سمیت کئی ایوارڈ بھی ملے میں نے یہ فلم کئی بار دیکھی ہے ایک پولس مین کے رول میں انہوں نے یہ ثابت کردیا تھا کہ وہ جیمس بانڈ کے رول کے علاوہ سنجیدہ رول بھی اتنی ہی خوبصورتی سے کر سکتے ہیں ۔1999میں انہیں ایک انگریزی میگزین پیپل کے ذریعے اسمارٹ ٹیس مین آف سنچری چنا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ 1989میں سیکسی مین الائیو کا خطاب دیا گیا تھا شان کان ری کی پیدائش 25اگست 1930کو ایڈن برگ اسکارٹ لینڈ میں ہوئی تھی ۔ 16سال کی عمر میں وہ فلم میں شامل ہوئے 3سال بعد انہیں چھٹی دے دی گئی وہاں سے لوٹ کر انہوں نے کو آپریٹو سوسائیٹی میں دودھ بیچنے کی نوکری کی ۔ اس کے بعد 1956میں بی بی سی پروڈیکشن کی فلم میں کام ملا اس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کان ری نے اداکارہ ڈی این کلائینٹی کے ساتھ شادی کی اور 1976میں طلا ق ہوگئی تھی ۔ پانچ سال بعد انہوں نے ایک فلم میں جیمس بانڈ کا رول کرنے کا موقع ملا انہوں نے ہالی ووڈ کی جیمس بانڈ فلموں میں گہری چھاپ چھوڑی 1962میں پہلی فلم ڈاکٹر نوک کے ساتھ وہ پہلی بار بانڈ کے کردار میں نظر آئے تھے اس کے بعد فروم ایشیا ءوتھ لو (1963)گولڈ فنگر تھنڈر بال اور وغیرہ وغیرہ فلموں میں کام کا سلسلہ چلتا رہا حالانکہ شان کان ری کے بعد جیمس بانڈ پر بنی فلموں میں دوسرے لوگوں نے بنی لیکن جو انہوں نے رول نبھایا اس سے وہ امر ہوگئے الوداع جیمس بانڈ ۔
(انل نریندر)
سیکولرزم کا تانا بانا توڑنے والے کو سخت سز ا ملے !
ہائی کورٹ نے پیر کے روز کہا ہے کہ دیش کے سیکولر کا تانے بانے کو توڑ نے مجرم اور ان کی اس حرکت سے تکلیف ہوتی ہے ۔ عدالت نے کہا اس طرح کے جرم میں شامل فیصل فاروق کو نچلی عدالت سے ملی ضمانت کو منسوخ کرتے ہوئے یہ رائے زنی کی تھی جسٹس سریش کمار نے 21صفحات پر مبنی اپنے فیصلے میں کہا ہے کسی بھی شخص کی ذاتی آزادی قیمتی ہے ۔ لیکن دیش اور عام لوگوں کا بڑا مفاد داو¿ں پر تو اس کی بہت قیمت ہوتی ہے ۔ سیشن عدالت نے کہا ملزم کو ضمانت دیتے وقت حقائق اور اس بات کو در کنا ر کردیا گیا کہ سماعت کے مفادات کی حفاظت کرنی چاہئے ۔ اور ایسے افراد جو اس طرح کے جرم میں شامل لوگوں کے کی حرکتوں سے جو سماج کے بنیادی ڈھانچے کو داغدار کرتے ہیں نچلی عدالت نے بی20جون کے ملزم اور پرائیویٹ اسکول مینیجر فیصل فاروق کو ضمانت دے دی تھی ۔ لیکن ہائی کورٹ نے 22جون کو دہلی پولس کی عرضی پر غورکرتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی تھی ۔ لیکن 2جولائی کو ہائی کورٹ نے اپنی روک کے حکم کو واپس لے لیا تھا ۔ لیکن سپریم کورٹ نے ملزم کی رہائی پر روک لگا دی تھی ملزم فاروق نارتھ ایسٹ دہلی کے شیو وہا ر میں راجدھانی پبلک اسکول کے مینیجر ہیں ۔ اسے ان 18لوگوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اس پر ایک پرائیویٹ اسکول کی پراپرٹی کو جلانے اور نقصان پہونچانے کا الزام ہے ۔ دہلی پولس نے گرفتا ر ملزمان کے خلاف نچلی عدالت میں چارج سیٹ دائر کی تھی ۔ شہری ترمیم قانون اور این آرسی کے احتجاج میں ہوئے تشدد معاملے میں فاروق کو گرفتا رکیا گیا تھا ۔
(انل نریندر)
جموں کشمیر میں ترقی کے کھلتے دروازے !
مرکزی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35Aکے منسوخ ہونے کے ایک سال بعد کے قوانین میں ترمیم کرکے جموں کشمیر کے باہر کے لوگوں کے لئے مرکزی حکمراں ریاست میں زمین خریدنے کا راستہ ہموار کردیا ہے اب ہر دیش واسی کسی بھی حصے کا ہو وہ جموں کشمیر میں اپنا گھر بنا سکتا ہے ۔ مکان اور دوکان کے لئے زمین خرید سکتا ہے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی وزارت نے اس سلسلے میں ہندی اور انگریزی میں ایک فرمان نوٹیفیکیشن میں زمینی قوانین میں مختلف تبدیلیوں کی جانکا ری دی ہے۔ جن میں پبلک دفتر یا عمارتیں بنانے کے لئے زرعی زمین کا استعمال کی منظوری دینا شامل ہے سب سے اہم ترین تبدیلی جموں کشمیر ڈیولپمینٹ ایکٹ میں تبدیلی کر دی گئی اور جس کی دفعہ 17سے ریاست کے مستقل باشندے لفظ کو ہٹا دیا گیا ہے غور طلب ہے کہ 08اگست 2019سے پہلے تک ریاست کا الگ آئینی سسٹم تھا ۔ اس میں مستقل شہری جن کے پاس ریاست کی مستقل شہریت سناختی کارڈ جسے ریاست کا مسئلہ کہا جاتا ہے ہی زمین خرید سکتا تھا ۔ دیش کے باقی شہری کچھ ضروری خانہ پوری پر ہی پٹے پر زمین حاصل کر سکتے تھے یا کرائے پر لے سکتے تھے ۔ سوال تو یہ ہے کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اس لئے وہاں کے قاعدے قانون دیش کی سبھی ریاستوں سے کیوں الگ ہونی چاہئے ؟ دیش کے ہر شہری کو وہاں رہنے اور کام کرنے کا قانونی حق ملنا چاہئے ۔ آنے والے دنوں میں سرکار کی کوششیں رنگ لا سکتی ہیں ۔ اور ریاست کی ترقی کے لئے یہ قدم سنجیونی ثابت ہونگے کیونکہ یہاں کی صنتعی ترقی میں زمین سے متعلق مسئلہ سب سے بڑی اڑچن تھی ۔ اب دیش کے صنعت کار ریاست میں پیسہ لگا سکیں گے اقتصادی کوششوں کو تقویت ملے گی ۔ اور روز گار بھی ملے گا پچھلے کئی دھائیوں سے جموں کشمیر جن بہرانی دور سے گزرا ہے اس سے نکلنے کے لئے وہاں کی اقتصادی ترقی کے راستے کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوںکو کام ملے اور وہ کسی کے بہکواے میں نہ آئیں مقامی لوگوں کے روز گار کا ذریعہ سیاحت کھیتی اور جانور پالنا ہے اس لئے اس بات کا خیال رکھا گیا ہے ۔ کہ کھیتی کی زمین صرف کسان کو ہی بیچی جائے گی ۔ ریاست میں ذراعت اور اس پر مبنی صنعتوں کو بڑھاوا ملتا ہے تو اس سے لوگوں کی طرز زندگی بدل جائے گی ۔ اراضی قوانین میں ترمیم کہ وجہ سے کشمیریوں میں ڈر پیدا ہونا فطری ہے اگر دوسرے ریاستوں سے لوگ وہاں بسنے لگیں گے تو مقامی کشمیریوں کا روزگار ٹپ ہوگا ۔ کشمیر میں اگر باہر کے لوگ صنعتیں یا فیکٹریاں لگاتے ہیں تو اس مالی ترقی کو بڑھاوا ملے گا۔ سرکار کے اس فیصلے کا ایک دور رس اثر ہوگا کہ اس سے کشمیر میں سماجی اور تہذیبی سطح پر ایک وراثت قائم ہوگی ۔ اس سے پاکستان پرست عناصر کے حوصلے کا دمن ہوگا جموں کشمیر کو لیکر سرکار کے پختہ عظم نے یہ پیغام دیا ہے کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کی ترقی کے لئے قوانین کو لچر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
(انل نریندر )
04 نومبر 2020
شادی صرف تبدیلی مذہب کے لئے قبول نہیں !
ان دنوں الہٰ آباد ہائی کورٹ سے کئی فیصلہ آرہے ہیں پہلے گﺅ ہتھیا قانو ن کے بیجا استعمال پر آیا اب تبدیلی مذہب معاملے میں اسی کورٹ نے کہا صرف شادی کے لئے مذہب تبدیل کیا گیا تبدیلی مذہب قبول نہیں ہے ۔ عدالت نے شادی شدہ میاں بیوی کی پولس حفاظت کی مانگ سے متعلق عرضی کو خارج کردیا اس معاملے میں مسلم لڑکی نے مذہب بدل کر ہندو لڑکے سے شادی کی تھی ۔ جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی کے سامنے پیش عرضی میں پرینکا عرف سبرین اور ان کے شوہر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے مگر لڑکی کے والد اس سے خوش نہیں ہیں میاں بیوی نے پولس سیکورٹی اور ان کے ازدواجی زندگی میں دخل نہ دینے کی درخواست دی تھی جج نے آئین کی دفع 226کے تحت معاملے کے مداخلت سے انکار کر دیا ۔ جسٹس ترپاٹھی نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے کہ 2014کے نو جہاں بیگم معاملے نے کورٹ نے سوال اٹھایا تھا کیا صرف شادی کے لئے تبدیل کیا گیا مذہب تسلیم ہے ۔ تب مذہب بدلنے والوں کو اگلے مذہب کی نا تو کوئی جانکا ری ہے اور نہ ہی اس میں عقیدت اور یقین ۔ سماعت کے دوران ترپاٹھی نے کہا اس معاملے کو پڑھنے صاف ہے کہ لڑکی پیدائش سے مسلم ہے اور اس نے 29جون 2020کو ہندو مذہب اختیار کیا اور 31جولائی کو ہندو رسم و رواج سے شادی کی اس صاف ہے مذہب شادی کے مقصد سے بدلہ گیا ۔ عدالت نے اس تبدیلی مذہب کو نہ منظور کرتے ہوئے عرضی گزار کو مجسٹریٹ کے سامنے اپنی دلیل دینے کی طول دے دی ہے۔
(انل نریندر)
مذہبی کٹر پسندی سے جنگ کو تیار فرانس !
پچھلے ہفتے میں دو دہشت گردانہ حملوں کا سامنہ کرنے والے فرانس نے مذہبی کٹر پسندی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے ۔ فرانس کی ایک میگزین میں شائع پیغبر حضرت کے کارٹون سے کھڑ اہوا جھگڑا بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں کٹر پسندی کو ہوا دینے کے لئے فرانس کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں ۔ وہیں کئی ملکوں نے فرانس کی کھل کر حمایت کی ہے دنیا بھر کے اسلامی ملکوں میں احتجاج جھیل رہے فرانس کے صدر ایمنویل میکرو نے نیس میں ہوئے دہشت گردی آتنکی حملے جس میں ایک مشتبہ حملہ آور نے کئی لوگوں کو چاقو سے نشانہ بنا یا ۔ اب تک کے اب فرانس کے صدر نے دیش کے ساحلی شہر میں سرحدی شہر نوترا کے چرچ کے سامنے کھڑے ہوکر اسلامی دنیا کو جتا دیا ہے کہ وہ شر پسندوں کے آگے جھکے گا نہیں ۔ کچھ ہی دن پہلے ایک ٹیچر کا سر کاٹا گیا تھا نیس شہر خطرناک حملوں کا شکار ہے فرانس کے صدر میکرو نے حملہ آور کی حرکتے جرم کو اسلامی دہشت گردی کا نتیجہ بتا یا تھا۔ ان کے اس بیان پر ترکی کے صدر طیب اردوعان نے یہاں تک کہہ دیا میکرو کا دماغ خراب ہوگیا ہے اس کے علاوہ عرب ملکوں میں فرانسیسی سامان کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔ اور اس کے بعد دکانوں میں فرانس کی بنی چیزیں ہٹا دی گئی ہیں ۔ اسی نظریہ پر فرانسیسی مزاحیہ میگزین شارلی ایبدو نے اردوعان کا مزاق اڑاتے ہوئے ایک کارٹون شائع کیا ہے اس میں وہ ایک ٹی سرٹ اور ہاف پینٹ میں کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ان کے دائیں ہاتھ میں شراب ہے جبکہ دوسرے ہاتھ میں حجاب پہنے ایک عورت کی اسکر ٹ کو پیچھے دے اٹھاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں صدر میکرو نے کہا بلکل صاف ہے فرانس حملے کے نشانہ پر ہے ۔ سارا دیش فرانس سرکار کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ وہ ہمارے دیش میں ہر مذہب کی تعمیل کی عزت کرسکیں پاکستان سعودی عرب اور ترکی جیسے اسلامی دیشوں کے نشانہ پرآئے فرانسیسی صدر میکرو کی حمایت میں کھل کر آگیا ہے۔ ہندوستانی وزارات خارجہ نے کہا کہ صرف میکرو پر کئے جا رہے شخصی حملوں کی ہم سخت الفاظ میں ہم مذمت کرتے ہیں ۔ بلکہ کچھ دیش جس طرح سے فرانس کے ٹیچر کے قتل کو جائز ٹھہرا رہے ہیں اسے بھی بھات مسترد کرتا ہے۔ ہم فرانس کے لوگوں کے طئیں ہمدردی کرتے ہیں اور دہشت گردی کی حمایت کو جواز نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
اپنی اپنی جیت کے دعویٰ کر رہے ہیں ٹرمپ اور بائیڈن !
بیشک ہماری ساری توجہ اس وقت بہار اسمبلی چناو¿ پر لگی ہوئی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم ترین چناو¿ امریکہ میں اصدر کے عہدے کے لئے ہورہا ہے۔ بہار نتائج سے تو دیش کی سیاست پر اثر پڑے گا مگر امریکہ میں صدارتی چناو¿ نتیجہ کا پوری دنیا پر ہونے والا ہے۔ 3نومبر یعنی آج امریکی ووٹروں نے صدارتی یعنی صدر چننے کے لئے ووٹ ڈال کر اپنے ووٹ سے دنیا کی بہت ساری پالیسیاں بھی طے کردیں ہیں ۔ چناو¿ میں کھڑی ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکل پارٹی اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ لیکن فیصلہ تو جنتا نے کرہی دیا ہے۔ ریبلکین پارٹی کیطرف سے دوسری مرتبہ اکثریت ملنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چناو¿ میں بڑی جیت کی پیش گوئی کر دی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ پچھلے چناو¿ کے مقابلے اس چناو¿ میں زیادہ بڑی کامیابی ملے گی ۔ ادھر ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے امیدوار جیو بائیڈن نے ٹرمپ کو صدر کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکیوں سے زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے 4برسوں میں اپنے عہد کے دوران ٹرمپ نے دیش کو باٹ دیا ہے ۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بڑ بولے پن اور ان کی ڈینگو کی جتنی پول چناو¿ کمپین کے دوران کھلی ہے پہلے کبھی نہیں کھلی تھی ۔ اس سچ کو تو امریکی قبول کررہے ہیں کہ ٹرمپ کورونا سے دیش کو بچانے میں بلکل ناکام رہے ۔ وہ دیش کو تو کیا خود کو بھی کورونا انفیکشن سے نہ بچا سکے ۔ ٹرمپ نے چناو¿ مہم کے دوران لوگوں کو بتایا کہ ہماری حکومت نے گزشتہ 4برسوں میں زبردشت کارنامے حاصل کئے ہیں ۔ ٹرمپ نے اپنے حریف بائیڈن پر کرپشن کا الزام لگانے کے ساتھ ہی کہا اگر وہ چناو¿ میں کامیاب ہوتے ہیں تو دیش کو سامراج واد کی طرف لے جائیں گے ۔ پینپ سلوینیا سمیت دیگر صوبوں میں ہر حال میں جیت درج کریں گے ۔ وہیو میں بائیڈن سے آگے چل رہے ٹرمپ ویسے تو پچھڑ رہے ہیں لیکن ان کے لئے اچھی خبر آئی ہے ۔ ایک سروے میں ٹرمپ اپنے حریف بائیڈن سے آگے تھے ارلی ووٹنگ کاروائی کے تحت 9کروڑ لوگ ووٹ ڈال چکے تھے یہ 2016میں کل ووٹ کا تقریبا 65فیصدی ہے مختلف اوپونین پول میں قومی سطح پر ٹرمپ اپنے حریف بائیڈن سے پیچھے چل رہے تھے ۔ ان چناوی نتیجوں کا بھارت کے ساتھ امریکہ کے رشتوں پر کوئی بڑا فرق پڑے گا ابھی تک ایسا نہیں لگتا یہ ضرور ہے اگر بائیڈن کامیاب ہوتے ہیں تو کملا ہیرس نائب صدر ہونگی تو ہندوستانیوں کے لئے فخر کا لمحہ ہوگا۔ امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں کے لئے یہ بڑی بات ہوگی دیکھیں بائیڈن ٹرمپ کو ہر اسکتے ہیں یا نہیں ۔
(انل نریندر )
03 نومبر 2020
گﺅ ہتھیا انسداد قانون کا بیجا استعمال !
الہٰ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ یوپی میں گﺅ ہتھیا تحفظ قانون کا بے قصور لوگوں کے خلاف بیجا استعمال ہورہا ہے۔ جب کبھی کوئی ماس برآمد ہوتا ہے بغیر جانچ کے اس کو گﺅ ماس کہہ دیا جاتا ہے اور بے قصور شخص کو اس جرم کے لئے جیل بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ جوشاید اس نے نہیں کیا ہے ۔جسٹس سدھار ت نے یہ رائے زنی گﺅ ہتھیا قانون کے تحت جیل میں بند رحیم عرف رحیم الدین ضمانت عرضی پر سماعت کرتے ہوئی کی ہے عدالت کا کہنا تھا جب کوئی گﺅ ونس برآمد کیا جاتا ہے تو ریکوری میمو تیار نہیں کیا جاتا ہے کسی کو برآمدگی کو گﺅ ونس کو کہاں لے جایا جائے گا عدالت نے کہا گﺅ تحفظ ہوم اور گﺅ شالہ بوڑھے اور دودھ نا دینے والے جانوروں کو نہیں لیتے ان کے مالک بھی ان کو چارہ کھلاپانے میں حیتثیت نہیں رکھتے وہ پولس اور مقامی لوگوں کے ذریعے پکڑے جانے کے ڈر سے ان کو کسی دوسری ریاست میں لے نہیں جاسکتے عدالتے نے جانوروں کی دیکھ بھال پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں گﺅ ہتھیا ایکٹ کو ایمانداری سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے زیادہ تر معاملوں میں برآمد ماس کو فورنسک جانچ کے لئے نہیں بھیجا جاتا اور ملزم کو اس جرم میں جیل بھیج دیا جاتا ہے جس میں 7سال تک کی سزا ہے اس کے ساتھ ہی ایسے معاملوں کی سماعت فرسٹ کلاس کے مجسٹریٹ کے ذریعے کی جاتی ہے ۔ سرکار وں کو چاہئے کسی قصور وار ٹھہرانے سے پہلے معاملے کی تہ تک جانا چاہئے ثابت ہونے پر اس کو سزا دی جائے۔
(انل نریندر)
بھاجپا کو ستارہی ہے آسام اور بنگا ل کی چنتا !
پورے دیش کی نظریں اس وقت بہار اسمبلی چناو¿پر لگی ہو ئی ہیں کورونا وباءکے درمیان ہورہے اس پہلے اسمبلی چناو¿ کے نتیجے تو 10نومبر تک آجائیں گے ایک نتیجہ اب تک سامنے آچکا ہے ۔ وہ یہ کہ وبا ءکے باوجود چناو¿ میں جنتا اور سیاسی پارٹیوں کی حصہ داری کم نہیں دکھائی پڑتی شروعات میں یہ چناو¿ ایک طرفہ مانا جارہا پہلا ووٹ پڑنے سے پہلے ہی ایک دلچسپ مقابلہ بن چکا ہے ۔ ویسے تو چار پانچ گٹھ بندھن میدان میں ہیں ۔ اصل ٹکر نتیش کمار کی قیادت والے این ڈی اے اور آر جے ڈی کے مہا گٹھ بندھن کے درمیا ن ہے بہاراسمبلی چناو¿ نتیجہ صرف بہار کے لئے اہم نہیں بلکہ ان سے دیش کی کئی ریاستوں میں ہونے والے چناو¿ پر پڑ سکتا ہے ۔ دونوں ہی محاذ کسی بھی قیمت پر ایک دوسرے کو ہرانا چاہتے ہیں کیونکہ ہار جیت بہار کے ساتھ دوسری ریاستوں کے چناو¿ کا بھی مذاج طے کریں گے۔ مغربی بنگال کیرل، آسام ، اور تامل ناڈو میںاگلے سال اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں مغربی بنگال اور آسام چناو¿ کا رخ بہار کے نتیجے طے کریں گے یہی وجہ کہ بھاجپا بہار چناو¿ میں جیت کے لئے پوری طاقت جھونک رہی ہے وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی نظر آر جے ڈی کانگریس و لیفٹ محاذ پر ہے ۔وہیں آسام میں کانگریس اور بھاجپا میں سیدھا مقابلہ ہونا ہے ۔ پچھلے لوک سبھا چناو¿ میں شاندار جیت کے بعد بھاجپا صرف ہریانہ میں جوڑ توڑ کے سہارے اقتدار میں واپسی میں کامیا ب رہی ۔ اگر بہا ر میں بھاجپا کامیاب ہوتی ہے تو مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے لئے چنوتی بڑھ جائے گی ۔ مغربی بنگا ل میں ہندی بولنے والے لوگوں کی تعداد 13فیصدی ہے اس ریاست میں یوپی بہار کے لوگوں کی تعداد 18فیصد ہے ۔ جب تک بنگال میں کانگریس کے ساتھ ہندی بولنے والے لوگ تھے تو پارٹی مضبوط تھی کانگریس کی کمزور ہونے اور بھاجپا کی پکڑ مضبوط کرنے سے یہ ووٹ اس کے ساتھ جڑ گیا ہے ۔ ممتا نے بہاری ووٹروں کو لبہا نے کی کوشش کی ہے اور پارٹی میں ہندی سیل بنانے اور چھٹ پوجا کا اہتمام کرنا شامل ہے۔ ترنمول کانگریس کو امید ہے کہ وہ ہندی زبان بولنے والے ووٹروں میں سیندھ لگانے میں کامیاب رہے گی ۔ لیکن بہار میں بھاجپاکی جیت ممتا کے لئے پریشانی بڑھا سکتی ہے ۔ بہار چناو¿ نتیجے کا اثر آسام چناو¿ پر بھی پڑے گا ۔ چناو¿ میں جے ڈی یو بھاجپا کامیاب ہوتی ہے تو آسام میں پارٹی کے لئے آسانی ہوجائے گی وہیں بہار میں کانگریس جے ڈی محاذکامیاب ہوتا ہے تو کانگریس کے لئے بھاجپا سرکارکو گھیرنا آسان ہوگا کیونکہ بہار کی طرح آسام میں بھی کانگریس کمیونسٹوںکے ساتھ مل کر چناو¿ لڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کل ملا کر بہار چناو¿ کے نتائج دور رس اثر چھوڑ سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)
پاک کا اعتراف ، پلوامہ حملہ ہماری کرتوت!
پچھلے سال 14فروری کو پلوامہ میں ہوئے آتنکی حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔ اگر کسی کوبھی اس پر شبہہ تھا تو پاکستان کا ناپاک چہرہ اسی کے لیڈر نے اجاگر کر پاکستان کو بے نقاب کر دیا ہے وزیر اعظم عمران خان کی کیبینٹ میں سائنس و ٹیکنالوجی وزیر فواد چودھری نے پاک پارلیمنٹ میں بحث کے دوران پلوامہ میں ہوئے فدائی حملے کو اپنی سرکار کی بڑی کامیابی بتایا ہے ۔ بھارت شروع سے ہی یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پلوامہ حملہ پوری طرح سے پاکستان اسپونسر تھا خیال رہے اس حملے کے جواب نے بھارت میں بالاکوٹ میں دہشت گردوں کے اڈے پر ایئر اسٹرائیک کیا تھا ۔ اہم ترین بات تو یہ ہے کہ چودھری نے یہ بات کہیں چلتے پھرتے یا ہلکے پھلکے انداز میں نہیں کہی بلکہ پاک پارلیمنٹ میں بحث کے دوران اپوزیشن کو بتایا کہ پلوامہ میں فدائی حملہ میں عمران سرکار کی سب سے بڑی کامیابی رہی ہے۔ ہم نے ہندوستان میں گھس کر مارا اوریہ پوری قوم کی کامیابی ہے ۔ پاکستان سرکار کے اس وزیر کی حق گوئی کو تسلیم کرنے کے بعد بھارت کو اب اس بات کو ثبوت دینے کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی ۔ پاکستان میں اپوزیشن سرکار کے خلاف تحریک چلا رہی ہے اسی کے تحت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایم پی سردار عیاض صادق نے کہا تھا کہ ونگ کمانڈر ابھینندن کو قید کرنے کے بعد وزیر خارجہ اورپاک فوج کے چیف بھارت کے ذریعے امکانی حملے سے کانپ رہے تھے ۔ اس پر عمران کے قریبی مانے جانے والے وزیر نے جواب دیا کہ ہم نے ہندوستان کے اندر مارا ۔ پاکستان کے وزیر کا بیان ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت میں شورش اور گڑ بڑ پھیلانے کے پیچھے پاکستان کا ہمیشہ سے ہاتھ رہا ہے حالانکہ اب پاکستا ن بری طرح سے بے نقاب ہوچکا ہے ۔ بھارت نے ہر حملے کے مفصل ثبوت پاکستان کو دیئے ہیں ۔ اور گناہ گاروں کو بھارت کو سونپنے کی مانگ کی ہے لیکن پاکستان ہمشہ بھارت کے الزامات اور ثبوتوں کو جھٹلاتا رہا ہے۔ لیکن اب تو عمران کے وزیر خود ہی بتا رہے ہیں کہ ان کے سرکار کے کارنامے کیا ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کی آنے والے دنوں میں پاکستان کی حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے اندر سے ہی ایسی آوازیں سننے کو ملیں اور سرکار کے نمائندے ہی اپنی فوج اور خفیہ ایجنسی اور سرکار کو بے نقا ب کرتے رہے ہیں ۔ اس اعتراف کو پلوامہ کا سچ مان کر بیٹھ جانے کام نہیں چلے گا بلکہ ہماری سرکار کو چاہئے عمران سرکار کے وزیر کے اعتراف نامے کا استعمال کرکے دنیا کو بتائے تاکہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈالا جاسکے ۔ یہی نہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف کاروائی کا بھی یہ ثبوت بنیا د ہوسکتا ہے ۔
(انل نریندر)
01 نومبر 2020
98برس میں پہلی بار ایسی کاروائی !
دہلی یونیورسٹی کی 98سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی وائس چانسلر کو ان کے عہدے سے معتل کیا گیا ہے ۔ پروفیسر یوگیش کمار تیاگی کی معطلی کے بعد یونیورسٹی کے رجسٹرار وکاس گپتا نے ایمرجنسی میٹنگ بلائی جس میں کئی اہم ترین فیصلے لئے گئے ۔ دہلی یونیورسٹی کے ٹیچر ملازمین اس فیصلے کو وزارت کے بڑے قدم کی شکل میں دیکھ رہے ہیں ۔ دہلی یونیورسٹی نے ایگزیکوٹک کونسل ممبر جے ایل گپتا کا کہنا ہے کہ دہلی یونیورسٹی مئی 2022میں سو سال پورا کرے گی ۔ ان کو وزارت سے ٹکراو¿ اور ٹیچر انجمن سے ٹکراو¿ اور فیصلوں کے تئیں ٹال مٹولی کے سبب وہ کبھی مقبول وائس چانسلر نہیں رہے ۔ آج ان کے حق میں کھڑے ہونے والوں کی تعداد نہ کے برابر ہے۔ وائس چانسلر کی معطلی کی کاروائی کو مناسب ٹھہرایا ہے ۔ انجمن کے صدر اے کے مارگی نے بتایا کہ پروفیسر یوگیش کمار تیاگی نے تقریبا ًپانچ سال کی یاد میں ٹیچروں اور ملازمین کی پروموشن اور پینشن جیسے اہم کاموں کو یوجی سی اور مرکزی سرکار کے ہدایت کے باجود لمبے عرصے تک لٹکائے رکھا این ڈی ٹی ایف شروع سے ہی اس کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے جنرل سیکریٹری بی بی ایس نیگی کے مطابق وائس چانسلر کا اہم انتظامی آسامیوں کو عارضی طور پر رکھنے کا کام چلاو¿ں طریقہ رہاجس سے تعلیمی کام کاج متاثر ہوا لمبے عرصے تک اہم عہدے خالی پڑے ہیں ۔ اب سرکار کو نئے وائس چانسلر کا انتخاب ان کے ٹیلنٹ اور ان کی انتظامی صلاحیت کی بنیا د پر کرنا چاہئے نہ کی کسی اور بنیاد پر اس یونیورسٹی کا نام دنیا بھر میں مشہور ہے اس کا خیال رکھا جانا چاہئے ۔ وائس چانسلر نے ٹیچروں کی خالی آسامیوں کو تقرری سمیت دیگر پریشانیوں کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اس کا اثر سیدھا طالب علموں پر پڑا عارضی ٹیچروںکے مسئلے کو بھی سلجھانے میں وائس چانسلر ناکام رہے ۔
ؒ(انل نریندر)
شیو راج سرکار بچے گی یاکمل ناتھ کی واپسی ہوگی؟
مدھیہ پردیش میں 28اسمبلی سیٹوں پر ہونے والی ضمنی چناو¿ آخری دور میں ہے دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا خوب زور لگا رہی ہیں ۔ 3نومبر کو یہ چناو¿ ہوگا یہ چناو¿ ریاست میں حکمراں بھاجپا کے لئے بے حد اہم مانا جارہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ کی سرکار بچے گی یا کانگریس واپسی کرے گی اس کا فیصلہ ضمنی چناو¿ نتائج سے طے ہوجائے گا۔ آخر کس کی سرکار بچے گی اور کس کی بن سکتی ہے اس کی صحیح تصویر 10نومبر کو ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آپائے گی ۔ اور کانگریس کے نیتا شیوراج کو نگا چھوکھا کہا تھا بھوپال کے قریب ایک چناو¿ ریلی میں وزیر اعلیٰ چوہان نے کہا میں اسی دیش کے کسان پریوار میں پیدا ہوا میر اگھر بھی کچا ہے ان کے نشانہ پر تھے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ بہرحال دونوں نیتاو¿ں میں ایک دوسرے پر چھیٹا کشی جاری ہے ۔ وہیں سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے فتح پور کے ملہڑہ کی چناو¿ ریلی میں شیوراج سنگھ چوہان پر کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیا چوہان کو جب جنتا نے گھر بیٹھا دیا تھا تو لگا تھا کہ وہ جھوٹ بولنا بند کردیں گے بہر حال سیاسی مبصرین کا کہنا ہے جس سطح کی چناو¿ مہم دیکھنے کو مل رہی ہے اس کی وجہ دونوں پارٹیوں کے لئے ہی کرو یا مرو کی حالت ہے۔ لیکن یہ چناو¿ بہت دلچسپ ہو گیا ہے اب تک کے جو ٹرینڈ کا پتہ لگا ہے اس میں بھاجپا کانگریس سے آگے لگتی ہے ۔ اور کانگریس کے لئے اقتدار میں واپسی کرنا اتنا آسان نہیں ریاست کی جنتا کام کو دیکھ کر اور امیدوار کی ساخ کو دیکھ کر ہی ووٹ دے گی ۔ مدھیہ پردیش میں کورونادو ر میں ان ضمنی چناو¿ کی ضرورت اس لئے پڑی کیونکہ کانگریس کے سینئر لیڈر جوتیر آدتیہ سندھیا نے پارٹی سے الگ ہوکر بھاجپا کا دامن تھام لیا تھا ۔ ان کے وفادار 22ممبران اسمبلی نے استعفیٰ دیکر بھاجپاکی ممبر شپ حاصل کرلی تھی اسمبلی میں کل 230ممبر ہیں اور اکثریت کے لئے116ممبران کی ضرور ت ہے ۔ اس وقت بھاجپا کے پاس 107ممبران ہیں جبکہ کانگریس کے ایک ممبر اسمبلی میں حال ہی میں استعفی دیا ہے اس طرح سے کل 29سیٹیں خالی ہیں ۔ اگر کانگریس 25سیٹیوں پر کامیاب ہوتی ہے تو وہ پھر اقتدار میں آسکتی ہے اور سرکار بنانے میں بسپا سپا و آزاد ممبرا ن کی حمایت سے سرکار بن سکتی ہے ۔ اگر بھاجپا 9سیٹیں جیت لیتی ہے تو اپنے بل پر سرکار برقرار رکھ سکتی ہے موجودہ اسمبلی میںبھاجپا کے 107کانگریس 87بسپا 2سپا 1اور آزاد 4ہیں دیکھیں چناو¿ میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟
(انل نریندر)
پاکستان میں زلزلہ .نواز بنام باجوا!
انڈیا ایئر فورس کے ون کمانڈر ابھینندرن کو چھوڑنے کی حالات کو لیکر نواز شریف کے قریبی سردار اعجاز صادق کے یہاں دھامکہ خیز انکشاف سے زلزلہ آگیا ہے ۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پی ایم ایل این کے لیڈر کے بیان کو تاریخ کو داغ دار کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے ۔ وہیں اس پورے انکشاف کو نواز شریف بنام فوج کے چیف جنرل قمر باجوا کی جنگ سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ سرداد صادق کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل بابر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کو صحیح کرنے کے مقصد سے یہ صاف کردینا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اپنی پوری طارقت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ اور 27فروری کو اپنی صلاحیت کے حساب سے کاروائی کی اس کے ساتھ ہی پاکستان سرکار نے یہ بھی دعوہ کیا ہے کہ ابھینندن وردمان کی رہائی کے لئے دیش پر کوئی دباو¿ نہیں تھا ادھر عمران کی پارٹی تحریک انصاف نے کہا کہ نواز شریف کے قریبی لیڈر صادق بھار ت کی زبان بول رہے ہیں ۔ اور بھارت کو خوش کرنے کے لئے یہ بیان دیا ہے ۔ اس سے پہلے صادق نے کہا تھا کہ فوج کے چیف قمر باجوا سمیت دیش کے سینئر لیڈروں کی موجودگی میں ایک میٹنگ کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ اگر ابھینندن کو نہیں چھوڑا گیا تو بھارت آج رات ہی 9بجے حملہ کردے گا ۔ صادق نے یہ بھی کہا کہ اس وقت قریشی کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے اور ماتھے پر پسینہ تھا ۔ صادق کے اس انکشاف سے نواز شریف بنام فوج کے چیف جنرل قمر باجوا کی جنگ اور تیز ہو گئی ہے ۔ مبصرین کا خیال ہے فوج کے چیف پر پچھلے کئی دنوں سے ایس نقطہ چینیاں ہورہی ہیں ۔ نواز شریف کے قریبی نے ابھینندن کی رہائی کی پول کھول کر جنرل باجوا کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے ۔ اس سے پہلے باجوا ابھینندن کی گرفتاری کو لیکر شیخی بھگارتے تھے ۔ وہیں ہندوستانی ایئر فور س کے سابق چیف بی ایس دھنوا نے پاکستانی ایم پی کے اعتراف پر کہا جس طرح وہ کہہ رہے ہیں۔ باجوا کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے ان کی بات صحیح ہے اس وقت ہمار ارخ موقوف بے حد جارحانہ تھا ۔ اگر 27فرور ی 2019کو فوجی ہمت ہوتی اور ہمارے کچھ فوجی ٹھکانوں پر حملے ہوتے تو ہم ان کے فارورڈبرگریڈ کا صفایہ کرنے کی پوزیشن میں تھے ۔ پاکستان یہ بات جانتا تھا ابھینندن کے والد اور میں نے ایک ساتھ دیش کی سیو اکی ہے ۔ جب ابھینندن پکڑا گیا تو میں نے ان کے والد سے وعدہ کیا تھا ابھینندن کو واپس ضرور لائیں گے اور ابھینندن کو آخر کار پاکستان کو چھوڑنا ہی پڑا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...