Translater

16 دسمبر 2017

سائنسدانوں نے بھی مانا رام سیتو انسانی تیار کردہ ہے

بھارت میں گھٹیا سیاست کی وجہ سے بھلے ہی رام سیتو کو متنازع اشو با دیا گیا ہے اور اس کے جواز پر بھی سوال اٹھائے گئے لیکن نامور سائنسدانوں ،آرکیولوجسٹ کی ٹیم نے سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر اور سیتو کی جگہ کے پتھروں اور ریت کی ریسرچ کرنے کے بعد یہ پایا گیا ہے کہ بھارت اور سری لنکا کے درمیان ایک سیتو کی تعمیر کئے جانے کے اشارہ ملتے ہیں۔ دنیا بھر میں تحقیق رساں بھی اب یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ بھارت ۔سری لنکا کے درمیان واقع قدیم ایڈکس برج یعنی رام سیتو اصل میں انسان کے ذریعے ہی تیارکردہ ہے۔ بھارت کے رامیشورم کے قریب واقع جزیرہ پیبن اور سری لنکا کے جزیرہ چنار کے درمیان50 کلو میٹر لمبا نایاب پل کہیں سے لائے گئے پتھروں سے بنایا گیا ہے۔سائنسداں اس کو ایک سپر ہیومن کارنامہ مان رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت ۔سری لنکا کے درمیان 30 میل کے رقبہ میں ریت کی چٹانیں پوری طرح سے قدرتی ہیں، لیکن ان پر رکھے گئے پتھر کہیں سے لائے گئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ قریب 7 ہزار سال پرانے ہیں جبکہ ان پر موجود پتھر قریب 4سے5 ہزار برس پرانے ہیں۔ بتادیں کہ رام سیتو کو شری رام کی نگرانی میں چٹانوں اور ریت سے بنایا گیا تھا جس کا تفصیل سے تذکرہ بالمیکی رامائن میں ملتا ہے۔ رام سیتو کی عمر رامائن کے مطابق 3500 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ کچھ اسے آج سے 7 ہزار سال پرانا بتاتے ہیں۔ رام سیتو کا تذکرہ کالی داس کی رگھوونش میں سیتو کا ذکر ہے۔ ہندوستانی سیٹلائٹ اور امریکی خلائی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ناسا نے سیٹلائٹ سے کھینچی گئی تصاویر میں ہندوستان کے ساؤتھ میں دھنش کوٹی تک سری لنکا کے نارتھ ویسٹ پمبن کے درمیان سمندر میں 48 کلو میٹر چوڑی پٹری کی شکل میں ابھرے اے یو۔ حصہ کی لائن دکھائی دیتی ہے۔ اسے ہی آج رام سیتو یا رام کا پل مانا جاتا ہے۔ 
قدیم واستو کاروں نے اس اسٹرکچر کی پرت کا استعمال بڑے پیمانے پر پتھروں اور گولائی کی طرح کی وسیع چٹانوں کو کم کرنے میں کیا ہے ساتھ ہی کم سے کم دھنوتو و چھوٹے پتھروں اور چٹانوں کا استعمال کیا گیا جس سے آسانی سے ایک لمبا راستہ تو بنا ہی ساتھ ہی وقت کے ساتھ یہ اتنا مضبوط بھی بن گیا کہ انسانوں و سمندر کے دباؤ کو بھی سہہ سکے۔ پچھلی یوپی اے سرکار ے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائرکیا تھا کہ کوئی ثبوت نہیں ہے رام سیتو کوئی پوجنے کا مقام نہیں ہے۔ ساتھ ہی سیتو کو توڑنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ بعد میں سخت نکتہ چینی کے درمیان اس وقت کی حکومت نے یہ حلف نامہ واپس لے لیا تھا۔تحقیق رسانوں نے اسے سب سے بڑھیا اور انسانی آرٹ بتایا ہے۔ جے شری رام۔
(انل نریندر)

مدرسوں میں طلبا یا تو مولوی بن رہے ہیں یا آتنک وادی:پاک فوجی چیف

پاکستان میں تیزی سے پھیل رہے مدرسوں پر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے تلخ نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے کہا زیادہ تر اسلامی تعلیم دینے والے مدرسوں کی آئیڈیالوجی پر ایک بار پھر توجہ دینی ہوگی کیونکہ پاکستان کے مدرسوں میں زیرتعلیم بچے یا تو مولوی بن رہے ہیں یا دہشت گرد۔ پاکستانی اخبار ’ڈان‘ میں باجوا کے بیان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے بڑے شہر کوئٹہ میں ایک یوتھ کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مدرسوں کے خلاف نہیں ہوں، لیکن مدرسوں کا بنیادی جذبہ کہیں کھوگیا ہے۔ پاکستان میں مدرسوں کی تعلیم ناکافی ہے کیونکہ وہ طلبا کو جدید دنیا کے لئے تیار نہیں کرتی۔ جنرل باجوا نے کہا کہ مدرسوں میں قریب 25 لاکھ بچے پڑھتے ہیں لیکن وہ کیا بنیں گے: کیا وہ مولوی بنیں گے یا دہشت گرد بنیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ دیش میں اتنے فارغ طلباء کو نوکری کے لئے مقرر کرنے کے لئے نئی مسجدیں کھولنا ناممکن ہے۔ جنرل باجوا نے کہا پاک مدرسوں پر اکثر الزام لگتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو کٹر پسند بنا رہے ہیں۔ ادھر ہمارے اترپردیش نے قریب ڈھائی ہزار سے زیادہ مدرسوں نے اب مذہبی کتابوں کے ساتھ ساتھ این سی آر ٹی کی کتابیں بھی پڑھنے کو ملیں گی۔ وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی حکومت نے یہ فیصلہ مدرسوں کے نصاب کو بہتر بنانے کے لئے بنی 40 نفری کمیٹی کی رپورٹ پر غور کرنے کے بعد لیا ہے۔ عام طور پر مدارس کو لیکر عام لوگوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ یہاں صرف مذہبی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایسے میں مدارس سے نکلے بچے معمولی تعلیم حاصل کرتے ہیں جس سے آگے چل کر ان کے لئے روزگار کی سنگین پریشانی کھڑی ہوجاتی ہے۔ سرکار کی اصلی فکر اسی بات کو لیکر ہے کہ مدرسوں کی تعلیم دینے کے طریقے میں تبدیلی آئے وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ چلیں۔
آج جو حالات ہیں وہ باعث تشویش اس لئے ہیں کہ مدرسوں نے خود کو موجودہ تعلیمی ڈھانچہ سے باہر نکالنے کی نہیں سوچی۔ سرکار اس بات کی اہمیت سمجھتی ہے کہ مدرسوں کی تعلیم کو جدید اور شفاف بنانا بیحد ضروری ہے؟آج کے دور میں بچوں کی ترقی اور ان کے ٹیلنٹ کی ضرورت ہے۔ عالمی ماحول تیزی سے بدل رہا ہے اور اس میں بچوں کو زیادہ نئے طریقے سے تعلیم دیا جانا ضروری ہے۔اگر پاکستان کے فوج کے سربراہ مدرسوں میں تعلیم میں اصلاح کی بات کررہے ہیں تو کچھ مدرسوں میں کٹر پسندی تعلیم کو روکنا کتنا ضروری ہے ۔ روزگار کی پرکھ تعلیم سے ہی ملے گی تو بے روزگاری کا بحران بھی دور ہوگا۔ پاک میں فوج کا رول سب سے زیادہ اہم ہے ایسے میں جنرل باجوا کے بیان معنی رکھتا ہے۔
(انل نریندر)

14 دسمبر 2017

کانگریس میں راہل دور کی شروعات

آخر راہل گاندھی کے عہد کی شروعات ہوہی گئی ہے۔وہ کانگریس صدر عہدہ کے لئے اتفاق رائے سے بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں اور16 دسمبر کو باقاعدہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔اس اعلی ترین عہدہ کیلئے صرف راہل گاندھی نے ہی کاغذات داخل کئے تھے۔ اس چناؤ کے ساتھ ہی پارٹی میں پیڑھی کی تبدیلی ہوئی ہے۔ راہل گاندھی اب اپنی ماں سونیا گاندھی کی جگہ پارٹی کی کمان سنبھالیں گے۔ بتا دیں سونیا گاندھی 19 سال تک اس عہدہ پر رہیں۔ اپنے عہد کے اختتام کے بعد دیش کی اس سب سے پرانی پارٹی کی کمان سنبھالنا راہل گاندھی کیلئے کسی بڑی چنوتی سے کم نہیں ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر پچھلے کچھ برسوں سے انہیں شہزادہ اور کئی دیگر ناموں سے پکارکر ان کی اہمیت کو کم کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔راہل اپنی دادی اندرا گاندھی کے 1984ء میں قتل کے بعد ان کی آخری رسوم کے وقت قومی ٹیلی ویژن اور اخباروں میں چھپی تصویروں میں اپنے والد راجیو گاندھی کے ساتھ دکھائی دئے تھے۔ اس کے بعد ان کے والد راجیو گاندھی کو 1991 ء میں ہلاک کردئے جانے کے بعد ان کے انترم حکومت میں راہل تقریباً پورے دیش کی ہمدردی کے مرکز میں رہے۔ راہل کی پیدائش 19 جون 1970 ء کو ہوئی تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس کی سرکاری ویب سائٹ پر دی گئی جانکاری کے مطابق راہل نے دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج ، ہارورڈ کالج اور پلوریڈا کے رولس کالج سے آرٹ سائٹس سے گریجویشن کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرسٹی کالج سے ڈولپمنٹ اسٹڈیز میں ایم فل کیا۔ نہرو گاندھی خاندان کے وارث راہل گاندھی کا ابھی تک کی سیاسی زندگی سرخیوں کی محتاج نہیں رہی ہے لیکن کانگریس صدر کی حیثیت سے ان کا اصل امتحان چناوی منجھدار میں پچھلے کچھ عرصہ سے پارٹی کی دگمگاتی نیا کو ساحل تک صحیح سلامت پہنچانے کا ہوگا۔ راہل کو جب 2013ء میں پارٹی کا نائب صدر بنایا گیا تھا تو انہوں نے جے پور میں تقریر کے دوران اپنی والدہ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کی اس بات کو بڑے جذباتی انداز سے بتایا تھا کہ اقتدارزہر پینے کے برابر ہے۔ حالانکہ اس کے ٹھیک پانچ سال بعد اب انہیں یہ زہر پینا پڑے گا۔ چونکہ اب وہ کانگریس کے صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ کانگریس کی کمان سنبھالنے جارہے ہیں۔ راہل نہرو ۔گاندھی خاندان میں پانچویں پیڑھ کے لیڈر ہیں۔ یہ سلسلہ آزادی سے پہلے موتی لال نہرو سے شروع ہوا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق گجرات چناؤ راہل کے لئے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ اس چناؤ میں پارٹی کچھ بہتر کر پاتی ہے تو یقینی طور پر پارٹی کے اندر اور باہر ان کے بھروسہ میں اضافہ ہوگا۔ اترپردیش کے چناؤ کے بعد راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی جیسے منجھے ہوئے نیتا ایک اچھے مقرر سے مقابلہ کیلئے اپنی سیاست میں کافی تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے جہاں گبر سنگھ ٹیکس جیسے جملے بولنے شروع کردئے ہیں وہیں ٹوئٹرکے ذریعے سے انہوں نے بھاجپا سرکار پر جارحانہ حملہ تیز کردئے ہیں۔ گجرات چناؤ کمپین کے دوران راہل نے اپنی ساکھ بہتر کی ہے اب لوگ انہیں نہ صرف سنجیدگی سے سنتے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں ان کی ریلیوں میں بھی آتے ہیں۔ کانگریس میں اب راہل دور کی شروعات ہوچکی ہے۔
(انل نریندر)

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے جھٹکے سے نکلنے میں ابھی وقت لگے گا

8 نومبر 2016ء کو نوٹ بندی کا اعلان ہوا تھا۔ اس وقت رات آٹھ بجے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹی وی اسکرین پر آکر اس کا اعلان کرکے سب کو حیران پریشان کردیا تھا۔ اس فیصلہ کے کئی سیاسی ،اقتصاری اور سماجی اثرات اور پہلو رہے ہیں۔ اس دن پی ایم مودی نے نوٹ بندی کو ہندوستانی سیاست میں گیم چینجر کا لمحہ کہا تھا۔فوری طور پر عمل سے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ چلن سے باہر کرنے کا اعلان کیا اور اسے بدلنے کے لئے ایک خاص وقت میعاد دی۔ اس کے بعد شروع ہوااقتصادی اور سیاسی سطح پر اس بڑے فیصلہ کے نفع نقصان کے تجزیہ کا دور۔ جس وقت نوٹ بندی ہوئی تھی اس وقت شاید ہی کسی کو یہ اندازہ رہا ہو کہ اس کے اتنے دوررس نتائج ہوں گے۔ نوٹوں کو بدلنے کے لئے لمبی لمبی لائنیں لگیں۔100 سے زیادہ لوگوں نے ایسا کرتے ہوئے دم توڑ دیا۔ شاید ہی کسی کو یہ اندازہ ہوگا کہ اس کے دوررس اثرات ہوں گے۔ ایک سال بعد بھی لوگ اس فیصلہ کے اثر سے سنبھل نہیں پائے۔ رہی سہی کثر جی ایس ٹی نے پوری کرڈالی۔ دونوں ہی قدم ٹھیک طریقے سے ہوم ورک کئے بغیر لاگو کردئے گئے۔ بھارتیہ ریزرو بینک کے سابق گورنر وائی ۔وی۔ ریڈی نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے قدموں سے معیشت کو لگے جھٹکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ معیشت کو اس صورتحال سے پوری طرح سے نکلنے اور اونچی گروتھ کے راستے پر آگے بڑھنے کے لئے دو سال کا وقت اور درکار ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایک جھٹکا ہے جس کی منفی اثرات کے ساتھ شروعات ہوئی ہے۔ اس سے کچھ بہتری آسکتی ہے اور اس کے بعد ہی کچھ فائدہ مل سکتا ہے فی الحال اس وقت اس میں پریشانی ہے اور منافع بعد میں آئے گا۔ کتنا فائدہ ہوگا ، کتنے فرق کے بعد یہ ہوگا یہ دیکھنے کی بات ہے۔ ریڈی نے ممبئی میں حالات پر اخبار نویسوں کے ایک گروپ کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ اس وقت اقتصادی اضافہ کو لیکر کوئی اندازہ لگانا کافی مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ معیشت پھر سے 7سے 8 فیصد کے امکانی اضافہ کے راستہ پر کب لوٹے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب وہ ریزرو بینک کے گورنر ہوا کرتے تھے اس کے مقابلہ پچھلے تین سال میں کچے تیل کے دام ایک تہائی پر آگئے تھے۔ حالانکہ اس درمیان جی ایس ٹی لاگو ہونے، نوٹ بندی کا قدم اٹھانے اور بینکوں میں بھاری ایم پی اے (مالی خسارہ) کی وجہ سے اقتصادی اضافہ کے دوران پچھلے حکومت میں بغیر غور و خوض کئے قرض اور کرپشن کے الزامات کو لیکر ٹیلی کام اور کوئلہ سیکٹر میں رونما واقعات سے کمپنی سیکٹر پر کافی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس پورے واقعہ سے بینکنگ مشینری میں پھنسا قرض 15 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
(انل نریندر)

13 دسمبر 2017

یروشلم پر ٹرمپ کا متنازع فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام احتجاجوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پچھلے بدھوار کی دیررات یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی اعلان کرکے بھیڑو کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے اس مقدس شہر میں لے جائے گا۔ اس اعلان سے مشرقی وسطیٰ میں نئے سرے سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کو منتقل کرنے کے صدر ٹرمپ کے فیصلہ نے مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابھی تک کوئی بھی مسلم دیش امریکہ کے اس فیصلہ کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی مان سکتے ہیں ایسے کرنے والے وہ پہلے بڑے نیتا ہوں گے۔ مشرسی وسطیٰ کے عرب لیڈروں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا مسلمانوں کو اکسانا ہوگا اور اس سے مشرقی وسطیٰ کے حالات بگڑ جائیں گے۔ یروشلم اسرائیل ۔عرب کشیدگی میں سب سے متنازعہ اشو ہے۔ یہ شہر اسلام، یہودی اور عیسائی مذہب میں بیحد اہم مقام رکھتا ہے۔ پیغمبر ابراہیم ؑ کو اپنی تاریخ سے جوڑنے والے یہ تینوں ہی مذہب یروشلم کو اپنا مقدس مقام مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے مسلمانوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے دل میں اس شہر کا نام بستا رہا ہے۔ حبر زبان میں یروشلم اور عربی میں القدس کے نام سے جانا جانے والا یہ شہر دنیا کے سب سے قدیم شہروں میں سے ایک ہے۔ اس شہر پر کئی بار قبضہ کیا گیا اور تباہ کردیا گیا ہے اور پھر سے بسایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی مٹی کی ہر پرت میں تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ عرب ملک کے لئے یہ شہر اس لئے مقدس ہے کیونکہ یہاں الاقصیٰ مسجد قائم ہے۔ یہ ایک ڈھلان پر ہے جسے مسلم حرم الشریف یا مقدس مقام کہتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ اسلام کی تیسری سب سے مقدس جگہ ہے اور اسکا انتظام ایک اسلامی ٹرسٹ کرتی ہے جسے وقف کہتے ہیں۔ مسلمانوں کا یقین ہے کہ پیغمبر محمدؐ نے مکہ سے یہاں تک ایک رات میں سفر کیا تھا اور یہاں پیغمبروں کی روحوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کیا تھا۔ یہیں سے کچھ قدم دور ہی ڈوم آف دی راکس کا مقدس جگہ ہے۔ یہ مقدس پتھر بھی ہے۔مانا جاتا ہے پیغمبر محمدؐ نے یہیں سے جنت کا دورہ کیا تھا۔ یہودی علاقہ میں ہی کوٹیل یا مغربی دیوار ہے یہ وال آف دی ماؤنٹ کا بچا حصہ ہے۔ مانا جاتا ہے کہ کبھی یہودیوں کا مقصدٹمپل اسی مقام پر تھا۔اس مقدس مقام کے اندر ہی ہولی آف دی ہولیز یہ یہودیوں کا سب سے مقدس جگہ تھی۔ عیسائی علاقہ میں دی چرچ آف ہولی سیو لارڈ ہے یہ دنیا کے کئی علاقوں میں عقیدت کا مرکز ہے۔ یہ جس جگہ پر واقع ہے وہ عیسیٰ مسیح کی کہانی کا مرکزی سینٹر ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ کی وفات ہوئی تھی،انہیں سولی پر چڑھایا گیا تھا، یہیں سے وہ اٹھائے گئے تھے۔ ٹرمپ کے فیصلہ کو لیکر دنیا بھر سے جو رد عمل سامنے آرہے ہیں وہ کافی تلخ ہیں۔ کچھ دیر کے لئے اگر مغربی ایشیا کے دیشوں کو چھوڑ بھی دیں تو فرانس جیسے ناٹو میں اس کے ساتھی دیش نے بھی اس ارادے کی کھلی مخالفت کی ہے۔ باقی دنیا بھی اسے لیکر کافی بے چین سی لگ رہی ہے۔ یہ تقریباً طے مانا جارہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو مغربی ایشیا ایک بار پھر بڑی شورش کی طرف بڑھنے لگے گا۔ بیشک اسے اسرائیل اور یہودی دنیا کو کسی طرح کی ذہنی تشفی ملے لیکن اس سے اسرائیل کی مشکلیں بھی بڑھیں گی۔ فلسطین علیحدگی پسندوں کا تیور تلخ ہونا طے ہے۔ کئی علاقائی حالات بھی بدل جائیں گے۔ اس فیصلہ کی عرب لیگ میں شامل 57 دیشوں نے مخالفت کی ہے۔ وہ 12 دسمبر کو میٹنگ کریں گے۔ ان میں ترکی شام، مصر، سودی عرب، یردن، ایران سمیت10 سے زیادہ خلیجی ملکوں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں نئے سرے سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلان نامہ میں یہ وعدہ کیا تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے فیصلہ پر اٹل رہتا ہے اور عرب دیشوں کو خاموش کرسکتا ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

ای وی ایم پر پھر اٹھا تنازعہ

گجرات کے اسمبلی چناؤ میں پھر ای وی ایم کا اشو اٹھ گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ارجن مودوواڑیا نے سنیچر کو پوربند کے مسلم اکثریتی علاقہ میں منواڑہ کے تین پولنگ مرکزوں میں ای وی ایم سے ممکنہ چھیڑ چھاڑ کی شکایت کی اور کہا کہ کچھ مشینیں بلو توتھ کے ذریعے باہری سازو سامان سے جڑی پائی گئیں۔ اس سے پہلے اترپردیش کے بلدیاتی چناؤ میں میئر کی سیٹ پر کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی سماجوادی پارٹی نے ہار کے لئے ای وی ایم کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ سنیچر کو سپا کے قومی صدر اکھلیش یادو نے ٹوئٹ کیا جن جگہوں پر بیلٹ پیپر سے پولنگ ہوئی وہاں بی جے پی صرف15 سیٹیں جیت پائی جبکہ جن جگہوں پر ای وی ایم کا استعمال کیا گیا ان جگہوں پر بی جے پی46 سیٹیں جیتی۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور یوپی کے انچارج سنجے سنگھ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نگر نگم میں ہی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی ہے کیونکہ وہاں ای وی ایم سے چناؤ ہوئے تھے۔ عام آدمی پارٹی بار بار یہ کہتی آئی ہے کہ جب تک ای وی ایم سے چناؤ ہوں گے تب تک بی جے پی کامیاب ہوتی رہے گی۔ اس درمیان ارجن موڑواریا کی شکایت پر چناؤ کمیشن نے کہا کہ ان کی شکایت کی جانچ کرائی گئی ہے کسی بھی ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کی شکایت نہیں پائی گئی ہے۔ وہیں کانگریس کے نیتا شکتی سنگھ جوہل نے الزام لگایا ہے کہ دلت فرقہ کے علاقہ میں ای وی ایم میں گڑ بڑیوں کی شکایت زیادہ ہے۔ ای وی ایم کی گڑ بڑی کی وجہ سے وی پی پوربندر اور بلساڑ سمیت تمام ضلعوں میں پولنگ میں رکاوٹ آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گڑ بڑی کی شکایت کے بعد سورت میں 70 اور راجکوٹ میں 35 ای وی ایم بدلی گئیں۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ موڑ واڑیا کی جانب سے کی گئی شکایتیں دکھاتی ہیں کہ اپوزیشن کانگریس کوئی بہانہ تلاش رہی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ چناؤ میں اسے کراری شکست ملے والی ہے۔ ادھر بسپا کی مایاوتی نے یوپی نگر نگم چناؤ میں ملی کامیابی سے خوش بی جے پی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جمہوریت میں یقین رکھتی ہے تو چناؤ ای وی ایم کے بدلے بیلٹ پیپر سے کروائے۔ ای وی ایم کا اشو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب واپس بیلٹ پیپر پر جانا تو مشکل ہے لیکن ای وی ایم کوٹھیک چلانے کا کام چناؤ کمیشن کا ہے ،آزادانہ اور منصفانہ چناؤکرانا اس کی ذمہ داری ہے۔
(انل نریندر)

12 دسمبر 2017

اب جنتا کا پیسہ ہتھیانے میں لگی مرکزی سرکار: عاپ پارٹی

عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی سرکار بینکوں میں جمع دیش کے لوگوں کا پیسہ ہتھیانے کی تیاری میں ہے۔ پارٹی ترجمان راگھو چڈھا کا کہنا ہے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا گیا مرکزی حکومت کا دی فائننشل ریزولوشن اینڈ ڈیفالٹر اشورینس اسکیم 2017 بینکوں میں جمع عام لوگوں کے پیسے کے لئے نیوکلیائی بم کی طرح تباہ کن ثابت ہوگا۔ اگست میں پیش کردہ یہ بل اس کی وجہ سے لوگوں میں اس بات کا ڈر بیٹھ گیا ہے کہ بینکوں میں جمع کئے گئے فنڈ کا استعمال بینک اپنی ضرورت کے حساب سے کر سکتے ہیں۔ سیدھے لفظوں میں کہیں تو حکومت اب بینکوں کو بیل آؤٹ نہیں کرے گی۔ ابھی تک ہر بار ایسا ہوتا ہے کہ ایم پی اے بڑھنے کے بعد بینک حکومت کی پناہ میں آجاتے ہیں اور سرکار بانڈ خرید کر بیل آؤٹ (نقصان کو پورا کرنا) کر دیتی تھی لیکن اب حکومت کی توجہ بیل آؤٹ کی جگہ بیلنس پر ہوگی۔ اس میں زیادہ ایم پی اے والے بینکوں کو اپنے بیل آؤٹ کا انتظام خود کرنا ہوگا۔ اس صورت میں بینکوں نے اپنے بیل آؤٹ کا انتظام بینک میں جمع رقم سے کرنا ہوگا۔ یعنی بینکوں میں گراہکوں کا جو پیسہ ہوگا اس کا ایک حصہ بینک اپنے خسارہ میں استعمال کرے گی۔ ابھی تک سرکاری بینکوں میں جمع عاپ کا پیسہ کریڈٹ گارنٹی کے چلتے ایک حد تک محفوظ رہتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے نیتاؤں کا کہنا ہے مرکز کی مودی سرکار اس قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اس کے نافذ ہونے کے بعد بینکوں میں جمع جنتا کا پیسہ بینک ہڑپ جائیں گے اور لوگ کچھ نہیں کرپائیں گے۔ راگھو چڈھا و ممبر اسمبلی سورب بھاردواج نے کہا کہ اب پارلیمنٹ میں یہ بل پاس ہوجاتا ہے تو بینکوں میں جنتا کا جو بھی پیسہ جمع رہے گااس کی ادائیگی آپ کو اسی صورت میں کی جائے گی جب ادائیگی کے وقت بینک کی مالی حالت ٹھیک ہوگی اور ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ بینک آپ کے کھاتے میں کل جمع رقم کو ہی ہڑپ لیں۔ یہ سہولت اس قانون کے آرٹیکل 52 میں رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے بینک کھاتہ میں اپنے بڑھاپے یہ پھر کسی بیماری یا بچوں کی پڑھائی یا شادی کے لئے رقم رکھی ہوگی وہ پیسہ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد کبھی بھی ڈوب سکتا ہے۔ عاپ نیتا نے کہا کہ تین طرح سے بینک آپ کا پیسہ ہڑپ سکتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہوگی کہ اگر آپ کے بچت کھاتے میں 10 لاکھ روپے کی رقم موجودہے اور آپ کا بینک اگر کسی وجے مالیہ جیسے صنعتکار کے قرض واپس نہ لوٹانے کی وجہ سے نقصان میں چلا جاتا ہے تو بینک اپنی مرضی سے آپ کے کھاتے میں موجودہ 10 لاکھ روپے میں سے گھٹا کر 1 لاکھ روپے بھی کر سکتا ہے۔دوسرا طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بینک آپ کے کھاتہ میں موجود سارا پیسہ ہی ہڑپ لے۔ آپ کے کھاتے کا بیلنس صفر ہوجائے، تیسرا طریقہ یہ بھی کہ بغیر آپ کی مرضی کے بینک آپ کے پیسے کو اگلے 15-20 سالوں کے لئے فکسڈ ڈپازٹ میں بدل دے۔ چڈھا نے کہا اس قانون کے لاگو ہونے کے بعد اس معاملے میں کسی عدالت میں سماعت تک نہیں ہوگی۔ عاپ نیتاؤں نے کہا اس سے پہلے سائیپرس میں ایسا قانون نافذ ہوچکا ہے۔ اس قانون کے آنے کے بعد وہاں بھی بڑی تعداد میں عام لوگوں کا پیسہ ہڑپ لیا گیا تھا اور لوگ کنگال ہوگئے تھے۔ اس مجوزہ بل کے خلاف آن لائن عرضی پر درستخط کرنے والوں میں ہزاروں لوگ شامل ہوگئے ہیں۔ بل کے تقاضوں کو لیکر خدشات کو دور کرنے کے لئے وزارت مالیات نے کہا ہے کہ مالی حل و جمع بیمہ بل2017 جمع کنندگان کے حق میں ہے اور اس میں ان کے لئے موجودہ قانون کے مقابلہ میں اچھی سہولیات رکھی گئی ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس بل سے جمع کنندہ کے مفادات کے تحفظ سے متعلق موجودہ مفادات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ اس بل میں آپ کے مفادات کی شفافیت کے ساتھ بحفاظت رکھنے کے مزید انتظامات کئے گئے ہیں۔
(انل نریندر)

میکس اسپتال کا لائسنس منسوخ

غریبوں کو مفت علاج نہ کرنا میکس اسپتال کو بھاری پڑا۔ دہلی حکومت نے زندہ نوزائیدہ کو مردہ بتا کر رشتے داروں کو سونپنے کے معاملہ میں شارلیمار باغ میں واقع میکس اسپتال کا لائسنس جمعہ کے روز منسوخ کردیا۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے بتایا کہ میکس اسپتال میں کوئی نیا مریض بھرتی نہیں ہوگا، جو بھرتی ہیں ان کا علاج اسی اسپتال میں کیا جائے گا۔ اس طرح کی لاپروائی قطعی برداشت نہیں ہوگی۔ جین نے کہا کہ اس معاملہ کی فائنل رپورٹ آگئی ہے جس میں اسپتال کی لاپروائی پائی گئی ہے۔ وزیر صحت نے دو ٹوک کہا کہ اسپتالوں کی لاپرائیوں کو کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ راجدھانی میں پہلی بار پورے اسپتال کا لائسنس منسوخ کیا گیا ہے۔ پچھلے کچھ عرصو ں سے دیش کی راجدھانی دہلی اور اس کے آس پاس کے شہروں میں نجی اسپتال کے بارے میں جیسی سنگین اور میڈیکل پیشے کو شرمسار کرنے والی شکایتیں آرہی تھیں انہیں دیکھتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہوگئی تھی۔ یہ اچھا ہوا کہ جہاں ہریانہ سرکار کی ایک کمیٹی نے علاج میں ہوئے خرچ کو بے تکے طریقے سے بڑھا کر وصولنے والے فورٹیز اسپتال کا لائسنس اور لیز منسوخ کرنے کی سفارش کی وہیں دہلی حکومت نے زندہ نوزائیدہ کو مردہ بتانے والے میکس اسپتال کو بند کرنے کا ہی فیصلہ کرلیا۔ بلا شبہ یہ سخت فیصلہ ہے لیکن جب منمانی کی حدیں کچھ نجی اسپتال پار کرنے میں لگے ہیں تب پھر سخت قدم اٹھانا ضروری ہوجاتا ہے۔ دہلی کی تاریخ میں پہلی بار کسی سپر اسپیشیالٹی اسپتا ل کا لائسنس منسوخ کیا گیا ہے۔ میکس اسپتال کا لائسنس کینسل کرکے دہلی سرکار نے اپنی منشا صاف کردی ہے کہ وہ لوگوں کی صحت کے ساتھ کسی طرح کا کھلواڑ برداشت نہیں کرے گی۔دو دن پہلے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ اگر مریضوں کو علاج کے نام پر لوٹا جائے گا ان پر مجرمانہ لاپروائی مانی جائیگی تو کسی بھی ذمہ دار سرکار کی طرح سخت ایکشن لینا ہوگا لیکن دہلی سرکار کے اس فیصلے کو جہاں میکس اسپتال نے سخت بتایا وہیں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن اور دہلی میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی اپنی نااتفاقی جتائی ہے۔ علاج میں لاپروائی برتنے اور علاج کے نام پر لوٹ کرنے والے اسپتال کوبند کرنے جیسے سخت قدم مسئلہ کا ایک حد تک مناسب حل ہیں ۔ سرکاوں کا زور بے لگام اسپتالوں کو بند کرنے پر نہیں بلکہ یہ یقینی کرنا ہونا چاہئے کہ وہ منافع خوری کی دوکانیں نہ بنیں۔
(انل نریندر)

10 دسمبر 2017

روی چندرن اشون ٹیم انڈیا کی بیک بون ہیں

حال ہی میں کھیلے گئے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ریکارڈ بنے ایک بڑا سوال تھا کیا روی چندرن اشون اپنے 300 وکٹ پورے کر لیں گے یا نہیں؟ سری لنکا کے آخری وکٹ لیتے ہوئے انہوں نے اپنی منزل حاصل کرلی۔ اشون سب سے کم ٹیسٹ میں 300 وکٹ لینے والے بالر بن گئے ہیں۔ مہان ڈینس للی نے یہ پڑاؤ 50 ٹیسٹ میچ میں ہی پورا کرلیا تھا۔ روی چندرن اشون نے 54 ٹیسٹ میں ہی اسے حاصل کرلیا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے سری لنکائی گیند باز متھیا مرلی دھرن بھی اس اونچائی پر 58 ٹیسٹ میں ہی پہنچ سکے تھے۔ اس مقام پر پہنچنے کے بعد اشون نے کہا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 600 سے زیادہ وکٹ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ٹیم انڈیا کی جیت کے بعد کہا میں امید کرتا ہوں کہ 300 وکٹ سے دگنا وکٹ لے سکوں۔ ابھی میں نے تقریباً 50 ٹیسٹ میچ ہی کھیلے ہیں اسپن گیند بازی آسان نہیں ہے۔ ٹیم انڈیا سے ولے بریتا اور کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا مجھے فائدہ ملا۔ اب میں تروتازہ محسوس کررہا ہوں۔ اشون کا کہنا ہے کہ ان کی کیرم بال اب بھی کافی بہترین ہے اور انہوں نے اس پر کافی محنت کی ہے۔ وہ بولے میرا بریک تھوڑا لمبا رہا لیکن میں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کئی نئی چیزیں دیکھیں۔ اشون ٹیم انڈیا کا بیحد اہم حصہ ہیں۔ ہر میچ میں ان کا چلنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر وہ چلتے ہیں تو ٹیم انڈیا کی جیت آسان ہوجاتی ہے۔ ایک طرف بلے بازی میں وراٹ کوہلی تو دوسری طرف بالنگ میں اشون۔ جب اشون چلتے ہیں تو جم کر وکٹ لیتے ہیں۔ ایک دو نہیں وہ 8-9 کے نمبر تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ روی چندرن کی بالنگ میں غضب کی خوبی ہے ان سے اچھی آف اسپن دنیا میں شاید ہی کسی کی ہو۔ اشون بیحد سوجھ بوجھ والے کھلاڑی ہیں۔
وہ اپنی بالنگ میں لگاتار بہتری لاتے ہیں۔ دبا کر محنت کرتے ہیں۔وہ بیٹنگ بھی اچھی کرلیتے ہیں۔کئی بار انہوں نے اپنی بیٹنگ میں جوہر دکھایا ہے۔ وہ سنچری بھی بنا سکتے ہیں۔ بیشک اشون کا مظاہرہ گھر کی پچوں پر بہت شاندار رہا لیکن وہ باہر جاکر تھوڑے پھیکے پڑجاتے ہیں۔ باہر جاکر انہوں نے محض ویسٹ انڈیز میں ہی بہتر بالنگ کی ہے۔ ابھی انہیں آسٹریلیا، انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ میں بہتر پرفارمینس دینی ہے۔ وہاں کی پچ اسپنر کے لئے بنتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں اگلے سال بیرونی ممالک میں جب ٹیم انڈیا کھیلنے جائے گی تو روی چندرن اشون نئے ریکارڈ بنائیں گے۔ وہ ٹیم انڈیا کا بہت اہم حصہ ہیں۔
(انل نریندر)

چابہار: جہاں 12 مہینے بہار چھائی رہتی ہے

ایران کے چابہار بندرگاہ کے پہلے مرحلہ کے افتتاح سے آنے جانے کا ایک نیا راستہ تو کھلا ہی ہے یہ بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان نئی حکمت عملی رابطوں کی تاریخی شروعات بھی ہے۔ چابہار پہلی بندرگاہ ہے جسے بنانے میں بھارت کی سیدھی حصہ داری ہے۔ بھارت نے اس بندرگاہ کے پہلے مرحلہ کو چلانے اور سہولت سے آراستہ کرنے میں جو دلچسپی دکھائی اس سے چین کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کو بھی یہ پیغام گیا ہے کہ اقتصادی۔ کاروباری اہمیت کے منصوبوں کو بھارت ہی تیز رفتاری سے آگے بڑھانے میں اہل ہے۔ سال 1947 ء میں دیش تقسیم کے بعد پورے مشرقی و وسطی ایشیا اور یوروپ سے جغرافیائی طور پر الگ ہوئے بھارت نے اس دوری کو بھرنے کی سمت میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس بندرگاہ کے ذریعے بھارت اب بغیر پاکستان گئے ہی افغانستان اور پھر اس سے آگے روس اور یوروپ سے جڑ گیا ہے۔چابہار بندرگاہ بننے کے بعد سمندری راستے ہوتے ہوئے بھارت کے جہاز ایران میں داخل ہوجائیں گے۔ اس کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیاتک کے بازار ہندوستانی کمپنیوں اور کاروباریوں کے لئے کھل جائیں گے۔ اس لئے چا بہار بندرگاہ کاروبار اور فوجی لحاظ سے بھارت کے لئے کافی اہم ہے۔ بھارت کی نظر اس کے ذریعے اپنی مصنوعات کے لئے یوروپی ملکوں کے بازار میں جگہ بنانے پر بھی ہے۔ بھارت اس مقصد کے ساتھ ایک مخصوص اقتصادی زون بھی قائم کرنا چاہتا ہے۔ کچھ دن پہلے ہی سڑک قومی شاہراہ جہاز رانی وزیر نتن گڈکری نے کہا تھا بھارت کی اسکیم چابہا ر میں کچھ دولاکھ کروڑ روپئے سرمایہ کرنے کی ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو پاک۔ چین کو کرارا جواب ملے گے کیونکہ چابہار سے گوادر کی دوری صرف 72 کلو میٹر دور ہے۔ پاکستانی میڈیا پہلے سے ہی شور مچا رہا ہے کہ چابہار کے ذریعے بھارت ، افغانستان اور ایران سے مل کر اسے گھیرنے میں لگا ہوا ہے۔ بھارت نے اس بندرگاہ کو بنانے کے لئے 50 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد 2002ء میں بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور اس وقت ایرانی صدر سید محمد خاتمی نے رکھی تھی۔ یوں بھی چاربہار کا وہاں کی مقامی زبان میں مطلب ہوتا ہے ایسی جگہ جہاں 12 مہینے بہار چھائی رہتی ہو۔ امید کی جانی چاہئے کہ ایران اور افغانستان سے بھارت کے رشتوں میں چھائی یہ بہار یوں ہی قائم رہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...