Translater

03 اگست 2024

سواسو سال بعد انوکھا کارنامہ !

منو بھاکر اور شربجیت سنگھ کی جوڑی نے منگل کے روز پیرس اولمپک میں شوٹنگ کی 10 میٹر ایئر پسٹل ملی جلی ٹیم ایونٹ میں کانسہ کا میڈل جیتا اس کے ساتھ ہی منو آزادی کے بعد ایک اولمپک میں دو میڈل جیتنے والی پہلی ایتھلیٹ بن گئی ہیں ۔یہ میڈل اولمپک تاریخ میں بھارت کا پہلا شوٹنگ ٹیم میڈل ہے ۔جو بھارتیہ جوڑی نے کوریا کی اویو جنگ اور لی ویونہو کو 16-10 سے ہرا کر یہ کارنامہ اپنے نام کیا تھا ۔اس اولمپک میں اس آرٹیکل کو لکھتے وقت صرف یہ دو میڈل ہی آئے تھے ۔مجھے یقین ہے کہ ابھی بھارت کئی اور میڈل جیتے گا ۔1900 میں بھارت کی جانب سے نارمن پریکڈ نے دو سلور میڈل جیتے تھے ۔منو بھاکر کے کوچ جسپال رانا نے بتایا کہ منو کے لئے شوٹنگ پہلے ہے ۔ٹوکیو اولمپک میں نکتہ چینیوں باوجود کبھی کسی سے اپنا دکھ شیئر نہیں کیا ۔اس کے بعد مختلف مقابلوں میں پرفارمنس میڈل والی نہیں رہی لیکن بھروسہ نہیں ڈگمگانے دیا ۔اور دگنی قوت ارادی کے ساتھ شوٹنگ رینج میں لوٹیں یہ خوبیاں انہیں ایک ہیرو بناتی ہیں ۔شوٹنگ منو کا شوق ہے وہ اس کے لئے اتنی وقف ہیں کہ سوتی بھی یا ٹی وی بھی دیکھتی ہیں تب بھی پشٹل اپنے ساتھ رکھتی ہیں ۔منو کے کھیل میں عزم ہے اور جیت کے لئے ضد ہے ۔ہار انہیں پریشان کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ شوٹنگ رینج میں دیر تک رک سکتی تھیں تاکہ پرفیکٹ شاٹ ملے ایسے میں جب وہ پولیم میں دور ہونے لگیں تو وہ مایوس تھیں میں نے بتایا کہ خراب پرفارمنس کو ہار کے بجائے سیکھنے کے نظریہ سے یاد رکھو اس کا اثر اس بار اولمپک میں نظر آیا ۔انہیں بہت کم موقعوں پر مایوس دیکھا (جیسا پیرس سے ہندی اخبار دینک بھاسکر کے رپورٹر انل بنسل نے بتایا)فرانس کے راتوں میں نیشنل شوٹنگ سنٹر میں دس میٹر ایئر پسٹل مکسڈ ایونٹ میں سرویا نے قریبی مقابلے میں جکیا کو مات دے کر گولڈ جیتا جس وقت سرویا کی مشہور خوشیوں سے لوٹ پوٹ رہے ٹھیک اسی وقت ان کے بگل سے 22 سال کی تحمل اور خاموش طبیعت ہندوستانی شوٹر ایک بڑے سے پلاسٹک بکس میں سے اپنی پسٹل اور دیگر ساز وسامان لے کر رینج سے باہر آرہی تھیں چہرے پر معمولی سی مسکان کے لئے اس ہندوستانی شوٹر کے ہاو¿ بھاو¿ سے ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ اس نے بھی ایک تاریخ مکمل کرلی ہے ااس نے وہ کر دیا جس کا تصور کچھ وقت پہلے تک کم سے کم ایک ہندوستانی تو نہیں کر سکتا تھا ۔اس نے اپنے دیش واسیوں کے اولمپک خواب کو ایک نیا باب دیا ہے ۔اس نے اولمپک میں تاریخی شروعات کر دی ہے او ر بھروسہ دیا ہے وہ ہے منو تو میڈکل کی تو گارنٹی ہے میں کامیاب منو بھاکر کو ڈھیر ساری بدھائیاں د یتا ہوں آپ پورے دیش کے لئے ایک مثال بن گئیں ہیں اور خواہش اور لگن سے لگے رہو تو کچھ بھی پایا جاسکتا ہے ہمیں آپ پر فکر ہے ۔ (انل نریندر)

538 سیٹوں پر ٹوٹل ووٹوں اور گنتی تعداد میں فرق!

اس سال 2024 میں ہوئے لوک سبھا کی 538 سیٹوں میں ڈالے گئے کل ووٹ اور ان کی گنتی ووٹ کی تعداد میں فرق دکھائی دیا ہے ۔یہ دعویٰ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس میں نے کیا تھا ۔اے ڈی آر کے مطابق 362 سیٹوں پر کل ووٹ اور گنے گئے ووٹوں میں 554598 کا فرق پایا گیا ۔یعنی ان سیٹوں پر اتنے ووٹ کم گنے گئے ہیں ۔وہیں 176 سیٹوں پر ٹوٹل پڑے ووٹ سے 35,093 زیادہ ووٹ گنے گئے ۔رپورٹ کے مطابق لکشدیپ دادر نگر حویلی و دمن دیپ کو چھوڑ کر 538 سیٹوں پر ڈالے گئے کل ووٹوں اور گنے گئے ووٹوں کی گنتیوں میں خامی ہے ۔ان 538 سیٹوں پر یہ فرق 589691 ووٹ کا ہے ۔سورت سیٹ پر پولنگ نہیں ہوئی تھی اے ڈی آر کے بانی جگدیپ دھوکر نے کہا کہ چناو¿ میں ووٹن فیصد دیر سے جاری کرنے اور الیکشن کمیشن سے حلقہ وار اور پولنگ بوتھ وار اعداد شمار دستیاب نہ ہونے کو لیکر سوال ہے اور یہ بھی ہے کہ نتیجہ آخری ملان اعداد شمار کی بنیاد پر ڈکلیئر کئے گئے تھے یا نہیں ؟ چناو¿ کمیشن کی جانب سے ان سوالوں کے جوابات ملنے چاہیے اگر جواب نہیں آئے چناو¿ نتیجوں کو لیکر تشویش اور شبہہ پیدا ہوگا ۔حالانکہ اے ڈی آر نے یہ صاف کیا ہے کہ ووٹوں میں فرق کی وجہ سے کتنی سیٹ پر الگ نتیجے سامنے آئے ۔جگدیپ دھوکر کا کہنا تھا کہ نتیجوں کو لے کر جواب نا ملنا اپنے آپ میں شبہہ پیدا کرے گا ۔اے ڈی آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چناو¿ کمیشن کاو¿نٹنگ کے آخری اور اتھرائزڈ ڈیٹا اب تک نہیں جاری کر پایا ہے ۔ای وی ایم میں ڈالے گئے اور گنے گئے ووٹ میں فرق پر جواب نہیں دے پایا ۔ووٹ فیصد اضافہ کیسے ہوگیا ۔اس کے بارے میں بھی ابھی تک نہیں بتایا گیا کتنے ووٹ پڑے اور ووٹنگ فیصد جاری کرنے میں اتنی دیری کیسے ہوئی ویب سائٹ سے کچھ ڈیٹا انہوں نے کیوں ہٹایا ان سارے سوالوں کے جواب چناو¿ کمیشن کو دینے چاہیے جو اب تک نہیں دئیے گئے ۔حالانکہ چناو¿ کمیشن نے کہا 2024 چناو¿میں 6579 فیصد ووٹ چناو¿ کمیشن نے 7 جون کو لوک سبھا چناو¿ میں ہوئی کل ووٹنگ کے اعداد شمار جاری کئے ۔اس بار کل ملا کر 65.79 پولنگ درج کی گئی ۔یہ 2019 چناو¿ کے مقابلے 1.61 فیصد کم ہے ۔پچھلی بار کل آئے اعداد شمار 67.40 فیصد تھا ۔آسام میں سب سے زیادہ 81.56 فیصدی ووٹ پڑے ۔جبکہ بہار میں سب سے کم 56.19 فیصدی پولنگ ہوئی ۔اس چناو¿ میں مرد ووٹوں نے 65.80 فیصدی خاتون ووٹوں نے 65.78 فیصدی ووٹ کیا ۔وہیں دیگر نے 27.08 فیصد ووٹنگ کی ۔2019 چناو¿ میں 61.5 کروڑ لوگوں نے ووٹ ڈالے تھے اس بار ووٹوں کی تعداد بڑھ کر 64.2 کروڑ ہو گئی ۔اس پر چیف الیکشن کمشنر راجیو نے کہا کہ یہ اپنے آپ میں ورلڈ ریکارڈ ہے ۔یہ سبھی چھ سات ملکوں کے ووٹروں کا 1.5 گنا ہے ۔اور یوروپی یونین کے 27 ملکوں کا2.5 زیادہ ہے ۔اے ڈی آر نے کہا کہ چناو¿ کمیشن کے ذریعے اب تک ووٹوں کی گنتی اور ای وی ایم میں ڈالے گئے ووٹوں میں فرق ہے ۔اور پولنگ میں اضافی پولنگ دکھائے گئے ووٹوں کی تعداد کا خلاصہ نہ کرنا ۔ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد کو جاری کرنے میں نامناسب تاخیر اور اپنی ویب سائٹ سے کچھ ڈیٹا کو ہٹانے کے آخری اور ثبوتی ڈیٹا جاری کرنے سے پہلے نتیجے ڈکلیئر کرنے میں کوئی مناسب صفائی دینے میں ناکام رہا ہے ۔ (انل نریندر)

01 اگست 2024

نتیش ندارد ،ممتا ناراض !!

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سنیچر کو نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہوئی نیتی آیوگ کی میٹنگ چھوڑ کر باہر نکل آئیں اور الزام لگایا کہ اپوزیشن کی ایک واحدنمائندہ ہونے کے باوجود انہیں تقریر کے دوران میں بیچ میں ہی روک دیا گیا ۔حالانکہ سرکار نے ان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی کو بولنے کیلئے دیا گیا وقت ختم ہو گیا تھا اور دوسری طرف بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار بھی میٹنگ میں نہیں آئے ان کی جگہ نمائندگی وہاں کے نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری اور وجے سنہا نے کی تھی ،کانگریس اور دوسری اپوزیشن پارٹی والی ریاستوں نے بھی اس میٹنگ کا وائیکاٹ کرنے کا فیصلہ لیا تھا ۔لیکن بدھوار کو ممتا نے کہا تھا میٹنگ کا وائیکاٹ کرنے کے سوال پر انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں میں کوئی تال میل نہیں ہے اس لئے وہ میٹنگ میں اپوزیشن کی آواز کے طور پر شامل ہوں گی اس لئے ان کے بیچ میں ہی میٹنگ چھوڑ کر چلے جانے کے بعد اس پورے معاملے پر نئی بحث شروع ہو گئی کہ انہیں میٹنگ میں بولنے نہیں دیا گیا ۔اور میٹنگ میں انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو اپوزیشن حکمراں حکومتوں کے ساتھ امتیاز نہیں کرنا چاہیے ۔میں بولنا چاہتی تھی لیکن مجھے صرف پانچ منٹ بولنے دیا گیا ۔میرا مائک بند کر دیا مجھ سے پہلے کے لوگ 10-10-20-20 منٹ بولے میں اپوزیشن سے اکیلی تھی مجھے بولنے تک نہیں دیا گیا ۔یہ توہین آمیز ہے ممتا بنرجی نے نیتی آیوگ کو ختم کرکے یوجنا آیوگ کو پھر سے بحال کرنے کی بھی وکالت کی ۔انہوں نے کہا میں تھنگ ٹینک پوری طرح سے کھوکھلا ہو چکا ہے اس کے کچھ دیر بعد وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ممتا بنرجی کے الزامات کا جواب دیا اور کہا کہ ممتا جی جھوٹ بول رہی ہیں انہوں نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے کہا ممتا بنرجی پی ایم کی سربراہی میں ہو رہی نیتی آیوگ کی میٹنگ میں حصہ لینے پہنچی تھیں انہوں نے مغربی بنگال کی طرف سے مغربی بنگال اور اپوزیشن کی طرف سے اپنی بات رکھی ہم سبھی نے ان کی بات سنی ۔ان کا یہ کہنا تھا کہ مائک بند کر دیا گیا یہ پوری طرح جھوٹ ہے اگر وہ اور بولنا چاہتی تھیں تو اور وقت دیا جاسکتا تھا ۔کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے پورے معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے یوجنا آیوگ کو پی ایم کے لئے ڈھول پیٹنے والی مشینر ی اور جانبداری بتایا انہوں نے بتایا کہ ممتا کے ساتھ ہوا برتاو¿ ناقابل قبول ہے ۔یہ نان بائیولوجیکل پردھان منتری کے لئے ڈھول پیٹنے کی مشینری کی شکل میں کام کرتا ہے ۔کسی بھی شکل میں ہم نے نیتی آیوگ کو مضبوط نہیں کیا اس کا کام کرنے کا طریقہ صاف طور سے جانبداری سے بھرا ہے ۔اور ناتو یہ پروفیشنل ہے اور ناہی آزاد ہے یہ الگ طرح سے عدم اتفاقی اور سبھی طرح کے نکتہ نظر کو دبا دیتا ہے ، جو ایک کھلی جمہوریت کے اصول کی بنیاد ہے ۔اس کی میٹنگیں محض دکھاوا ہوتی ہیں ۔مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ کے تئیں ان کابرتاو¿ جو نیتی آیوگ کا حقیقی چہرہ ہے بالکل ناقابل قبول ہے ۔ (انل نریندر)

شردپوار کا امت شاہ کو کراراجواب!

کبھی کبھی ہماری سمجھ سے باہر ہو جاتا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ ایسا بیان کیوں دے دیتے ہیں جس سے نا صرف وہ اپنے اوپر کیچڑ اچھلواتے ہیں بلکہ اپنی پارٹی یعنی بھاجپا کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں ۔مجھے یاد ہے کہ جب کرناٹک اسمبلی چناو¿ہورہے تھے تو امت شاہ جی نے ایک ریلی میں کہہ دیاتھا کہ نندنی دودھ و ڈیری پروڈکٹس کی جگہ امول دودھ اور پروڈکٹس کرناٹک لائیں گے ۔نندنی دودھ کرناٹک میں بہت مقبول برانڈ ہے کرناٹک کے لوگوں نے اس کا بہت برا مانا اور یہ پروپیگنڈہ شروع ہو گیا کہ امت شاہ کرناٹک کے دودھ کو گجراتی دودھ سے بدلنا چاہتے ہیں اور یہ ایک وجہ بنی کہ کرناٹک میں بھاجپا ہار گئی ۔اب مہاراشٹر میں امت شاہ نے شردپوار پر ایسا طنز کس دیا جس سے مراٹھا مانش کو بری طرح ٹھینس پہنچی ۔شردپوار نا صرف 82-83 سال کے سرکردہ بزرگ لیڈر ہیں بلکہ دیش کے بصد احترام لیڈروں میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔21 جولائی کو مہاراشٹر کے پونے میں بھاجپا کے ایک سمیلن میں امت شاہ نے سابق مرکزی وزیر شردپوار پر کرپشن کو انسٹی ٹیوشنل بنانے کا الزام جڑ دیا ۔امت شاہ نے 21 جولائی کو کہا تھا کہ وہ اپوزیشن کرپشن کے بارے میں بول رہے ہیں ۔ہندوستانی سیاست میں کرپشن کے سب سے بڑے سرغہ شردپوار ہیں اور اس سے مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہے ۔اب وہ ہم پر کیا الزام لگائیں گے؟ اگر کسی نے کرپشن کو انسٹی ٹیوشنل بنانے کا کام کیا ہے تو وہ شردپوار ،آپ ہی ہیں ۔امت شاہ کے اس تبصرے پر شردپوار نے امت شاہ کو یاد دلایا کہ جیسے انہیں (امت شاہ )کو عدالت نے ان کی آبادئی ریاست گجرات سے تڑی پار (علاقہ سے باہر ) بھیجنا کیا گیا تھا جسے گجرات سے بھگایا گیا وہ آج دیش کا وزیر داخلہ ہے ۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کہاں جارہے ہیں ۔شردپوار نے کہا کہ کچھ دن پہلے وزیر داخلہ امت شاہ نے مجھ پر نکتہ چینی کی اور مجھے دیش کا سب سے کرپٹ لوگوں کا کمانڈر کہہ دیا ۔عجیب بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ ایسے شخص ہیں جنہوں نے گجرات کے قانون کا بیجا استعمال کیا اس کے لئے سپریم کورٹ نے انہیں گجرات سے تڑی پار کر دیا تھا ۔پوار نے کہا اس لئے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم کہا ں جا رہے ہیں جن کے ہاتھ میں یہ دیش ہے وہ لوگ کس طرح غلط راستے پر چل رہے ہیں ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے ورنہ مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ وہ دیش کو غلط راستے پر لے جائیں گے ۔ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے ۔امت شاہ کے تبصرے پر ان پر اتحادی جماعت این سی پی (اجیت پوار ) کے تمام لیڈروں و ممبران اسمبلی نے ان کے بیان پر اعتراض جتایا ۔انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں شردپوار سب سے بزرگ لیڈروں میں سے ہیں ۔پارٹی ان کی عزت کرتی ہے جنتا انہیں پیار کرتی ہے اس لئے امت شاہ کا تبصرہ مناسب نہیں ہے ۔مہاراشٹر کے اسمبلی چناو¿ میں ہمدردی پانے کے لئے این ڈی اے سے ایم وی اے یا انڈیا اتحاد کا سیدھا مقابلہ ہے ۔حالیہ لوک سبھا چناو¿ میں این ڈی اے کی پرفارمنس بہت خراب رہی اور ریاست میں 17 سیٹوں میں سمٹ گئی ۔جبکہ انڈیا اتحاد کو 30 سیٹیں ملیں ۔بھاجپا کو کل 9 سیٹیں ہاتھ لگی ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کی پرفارمنس کیسی رہتی ہے اور امت شاہ کے بیان کا کتنا اثر ہوتا ہے ؟

30 جولائی 2024

اگنی ویروں کو تحفہ کا سواگت !

وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو دراس (کارگل ) میں کہا کہ اگنی پتھ اسکیم فوج کے ذریعے کی گئی ضروری اصلاحات کی ایک مثال ہیں اور اپوزیشن پر مسلح افواج میں اوسط عمر طبقہ کو نوجوان رکھنے کے مقصد سے شروع کی گئی اس بڑھتی کاروائی پر سیاست کرنے کا الزام لگایا ۔اگنی پتھ کا مقصد فوج کو نوجوان بناناہے ۔اگنی پتھ کا مقصد فوج کو جنگ کے لئے مسلسل عہل بنائے رکھنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قومی سلامتی سے جڑے اس طرح کے حساس ترین اشوز کو کچھ لوگوں نے سیاست کا موضوع بنا لیا ہے ۔اپوزیشن کا سب سے بڑا اعتراض اس بات پر ہے کہ یہ اگنی پتھ اسکیم اگنی ویروں کے لئے صرف 4 سال کے لئے ہے ۔ان میں سے کچھ تو ریگولر فوج میں شامل کر لیا جائے گا ۔باقی کو ریٹائر کر دیا جائے گا وہ ریٹائر ہونے کے بعد باقی زندگی کیا کریں گے ؟ اب اچھی خبر آئی ہے کہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا دیش کی سیوا کرکے لوٹنے والے اگنی ویروں کو اترپردیش پولیس اور پی ایس ای میں ترجیح دی جائے گی۔اسی کے ساتھ چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش ،اڈیشہ ،اتراکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومتیں پولیس سیکورٹی ،جنگلاتی سیکورٹی محافظ اور دیگر عہدوں پر بھرتی میں ریاست کے اگنی ویروں کو ریزرویشن دیں گی ۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اگنی ویروں کی شکل میں دیش کو ٹریننگ یافتیہ اور ڈسپلن نوجوان فوجی ملیں گے ۔اگنی ویر یوجنا جیسے جیسے آگے بڑھے گی نوجوان اپنی سیوا کے بعد واپس آئیں گے تو ہم اترپردیش پولیس اور پی ایس ای میں ان کو کھپائیں گے ۔وہیں اڈیشہ سرکار نے جمعہ کو ریاست کی سیواو¿ں میں اگنی ویروں کے لئے دس فیصد ریزرویشن اور عمر میں پانچ سال کی چھوٹ کا اعلان کیا ہے ۔وزیراعلیٰ موہن چرن مانجھی نے سنیچر کو یہ اعلان کیا کہ ہمارے سیکورٹی فورسز کے ذریعے ٹریننگ یافتہ اگنی ویر مختلف سیکورٹی سے متعلق میدانوں میں دیش کی سیوا کرنے کے لئے اہل ہیں ۔اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر دھامی نے بتایا کہ ان کی سرکار اپنا معیاد پورا کر لوٹنے والے اگنی ویروں کے لئے سرکاری خدمات میں ریزرویشن کا انتظام کرنے کی سہولت سوچ رہی ہے اس سلسلے میں ضروری ہونے پر قانون بھی لایا جائے گا جس سے ڈسپلن اور ہنر مندی سے بھرپور فوجیوں کی خدمات سرکار کو مل سکیں گی ۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یاد ونے بھی اعلان کیا کہ ان کی سرکار پولیس اورمسلح فورسز میں بھرتی میں اگنی ویروں کو ریزرویشن فراہم کرے گی ۔یادو نے کہا وزیراعظم مودی کی خواہش کے مطابق مدھیہ پردیش سرکار نے پولیس اور مسلح فورسز میں اگنی ویروں کو ریزویشن دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔اسی طرح چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ وشنو دیوو سہائے نے بھی اعلان کیا کہ ان کی سرکار پولیس محافظ اور جنگی محافظ اور دیگر اسامیوں کی بھرتی میں ریاست کے اگنی ویروں کو ریزرویشن ملے گا ۔اسمبلی کمپلیکس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا چھتیس گڑھ ریاست کے اگنی ویر جب ہندوستانی فوج میں اپنی سیوا کے بعد واپس آئیں گے تب چھتیس گڑھ سرکار اگنی ویرنوجوانوں کو پولیس سروس میں ریزرو جنگلاتی سیوا میں لگائے گی ۔اور جل پریہری وغیرہ عہدوں میں ترجیح کی بنیاد پر ان کو رکھنے کی سہولت دے گی ۔ہم ان سبھی اسکیموں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں انہیں آگے بڑھایاجائے ا ور تمام اگنی ویروں کو ایڈجسٹ کیا جائے گا ۔ (انل نریندر)

معدنیات پر ٹیکس لگانے کا بل آئین سازیہ کا حق!

سپریم کورٹ نے معدنیاتی اختیارات سے وابسطہ 45 سالہ تنازعہ کو ختم کرتے ہوئے تاریخی فیصلے میں کہا کہ معدنیات پر واجب رائلٹی کوئی ٹیکس نہیں ہے ۔آئین کے تحت ریاستوں کے پاس معدنیات اور معدنی زمین پر ٹیکس لگانے کا آئین سازی اختیار ہے ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی 9 نفری آئینی بنچ نے 8-1 کی اکثریت سے یہ فیصلہ سنا دیا ۔اس سے جھارکھنڈ اور اڈیشہ جیسے معدنی پیدا ریاستوں کو راحت ملے گی ۔ان ریاستوں کو مرکز کی جانب سے معدنیات اور معدنی وسائل پر اب تک لگائے گئے ہزاروں کروڑ روپے کے ٹیکسوں کی وصولی پر کورٹ سے فیصلہ کرنے کی درخواست کی تھی ۔مرکز کی جانب سے پیش ہوئے سولی سیٹر جنرل تشار مہتا نے حالانکہ دلیلوں کی مخالفت کی ۔آئینی بنچ نے مانا کہ ریاستوں کو معدنیاتی حقوق پر ٹیکس لگانے کا اختیار ہے اور خان اور معدنیاتی ڈولپمنٹ و ریگولیشن ایکٹ 1957 ریاست کو ایسے اختیارات کو محدود نہیں کرتا ۔سی جے آئی کے علاوہ جسٹس ہری کیش رائے ، جسٹس ابھے ایس اوکا جے وی پاردیوالہ ،جسٹس منسوج ،جسٹس اجول ،جسٹس اجول ہوئیاں ،جسٹس ستیش چندر شرما ،جسٹس آسٹن جارج مسیح نے اکثریت کا فیصلہ دیا وہیں جسٹس ناگ رتنا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ رائلٹی ٹیکس یا وصولی نیچرل سامان پر عائد ٹیکس کی ہوتی ہے اور مرکز کے پاس اسے لگانے کا اختیار ہے ۔مرکز اور ریاستوں کے بیچ گھروں کے بٹوارے کو لیکر کئی بار تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے ۔مرکز پر ٹیکس سسٹم جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد بھی کچھ چیزوں پر ٹیکسوں اور ضمنی ٹیکسوں کے بٹوارے کو لیکر سوال اٹھتے رہتے ہیں ۔معدنیات پر بالادستی کا سوال ان میں سے ایک ہے ۔مرکزی سرکار نے معدنیات پر ٹیکس اور سب ٹیکس لگانا شروع کیا تو کچھ کمپنیوں اور ریاستی حکومتوں نے اس پر سوال اٹھائے آخر کار سپریم کورٹ نے اب صاف کر دیا ہے کہ معدنیات پر اسٹیٹ گورنمنٹ کا حق ہوتا ہے وہ ان کا پٹہ دینے کے لئے آزاد ہیں ۔اس لئے کئے گئے معاہدے کے عوض میں جو ٹیکس وصول کرتی ہیں اسے ٹیکس نہیں کہا جاسکتا وہ رائلٹی کے زمرے میں آتا ہے ۔رائلٹی کو ٹیکس نہیں کہا جاسکتا ۔اس فیصلے سے خاص کر اڈیشہ اور جھارکھنڈ کو بڑی راحت ملی ہے ۔دراصل یہ معاملہ اس لئے الجھا ہوا تھا کہ آئین میں مرکز کو کانوں کے الاٹمنٹ سے متعلق حدیں طے کرنے کا حق مرکزی سرکار کو دیاگیا ہے مگر زمین ،عمارت وغیرہ پر ٹیکس لگانے کا حق ریاستی سرکاروں کو ہے ۔اس لئے مرکزی سرکار معدنیات پر ٹیکس لگانے لگی تھی ۔اب سپریم کورٹ نے صاف کر دیا ہے کہ معدنیات ریاستی سرکار کی پراپرٹی اس لئے وہ اس کے پٹے کی قیمت طے کر سکتی ہے اگر معدنیات پر بھی مرکزی سرکار ٹیکس وصولنے لگے گی تو ریاستوں کو اپنی ترقیاتی اسکیموں کے لئے پیسہ اکٹھا کرنا مشکل ہو جائے گا ۔سرکاریں سبھی اخراجات و تعین کی ذمہ داری نبھا سکتی ہیں ۔ریاستیں اور مرکزی سرکار کے درمیان کئی بار کھینچ تان کے حالات پیدا ہوتے ہیں خاص کر جن ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیوں کی سرکار ہوتی ہے انہیں مرکز کی پالیسیوں یا اقتصادی مدد کو لے کر تعاون سے بھرپور رویہ اپنانا چاہے جیسی شکایتیں عام ہیں ۔اڈیشہ اور جھارکھنڈ معدنی پراپرٹی ریاست کی ہے ۔جن کی مالی حالت اچھی نہیں رہی ہے اس لئے عدالت کا یہ فیصلہ ان کی ترقی میں اہم ترین ثابت ہو سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...