Translater

04 اپریل 2020

یوپی کی مساجد میں ٹھہرے ملے غیر ملکی شہری !

دہلی میں تبلیغی جماعت میں شامل ہونے آئے کئی غیرملکی جماعتی شہری یوپی کی مختلف مساجد میں ٹھہرے ہوئے تھے جنہیں منگلوار کو پکڑاگیا ۔لکھنو ¿ پولیس کمشنر اور دیگر سینئر افسر لکھنو ¿ راجدھانی کے علاقے کیسر باغ کی مرکزی مسجد میں پہونچے جہاں کرغستان او رقزاکستان کے چھ شہری ٹھہرے ہوئے تھے ۔خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے دی گئی اطلاع پر افسر مسجد میں پہونچے ۔تبلیغی جماعت کا اجلاس 13سے15مارچ کے درمیان ہوا تھا ۔ان شہریوں کو میڈیکل جانچ کے لیے بھیجا گیا اس کے بعد انہیں دیگر لوگوں سے الگ رکھا گیا ۔یہ جن جن لوگوں سے ملے تھے ان کو بھی علیحدگی میں بھیج دیاگیا ہے ۔غیر ملکی ایکٹ اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت 4لوگوں پر مقدمہ درج کیاگیا ایس پی (دیہات)ابھیناتھ پانڈے نے بتایا کہ خفیہ یونٹ نے 19لوگوں کے ٹھکانے کے بارے میں بتایا ۔ان کا قصور یہ تھا کہ یہ مقامی افسران کو بتائے مسجدوں میںگئے اور وہاں کی انتظامیہ نے پولیس کو جانکاری نہیں دی ۔وہیں ایک دوسرے ایس پی (سٹی)بریجیش کمار سریواستو نے بتایاشیخ عبداللہ مسجد میں واقع مسافر کھانہ میں یہ لوگ بائیس مارچ سے رکے ہوئے تھے اور یہ نظام الدین تبلیغی اجتماع کے بعد یہاں آئے تھے۔مسجد کے متولی وسیم کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ادھر پہلی موت مکہ سے لوٹے دو لوگوں میں کورونا وائرس پائے جانے کے بعد ہوئی ہے ۔اور یہاں 35لوگوں کے خلاف الگ تھلگ رہنے کے قوائد کی خلاف ورزی کامقدمہ درج کر لیا ہے ۔ضلع مجسٹریٹ ویبھو شریواستو نے بتایا کہ 35لوگ 25فروری کو عمرہ کرنے کے لیے سعودی عرب گئے تھے اور ان سبھی کی 20مارچ کو واپسی ہوئی تھی ۔
(انل نریندر)

نظام الدین مرکز کے بعد گرودوارا مجنو ں ٹیلہ کانڈ ہونے سے بچا!

نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز کے بعد دوسرا کانڈ نارتھ ضلع میں واقع مجنوں کاٹیلہ میں بنے گرودوار ے میں دوسرا کانڈ ہوتے ہوتے بچا ۔دہلی سکھ گرودوارا پربندھک کمیٹی کی لاپرواہی کے چلتے تاریخی گوردوارا مجنوں ٹیلہ صاحب میں پچھلے تین دنوں سے300سے زیادہ لوگ پنجاب میں اپنے گھروں کو جانے کی امید میں پھنسے ہوئے تھے ان میں سے کچھ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی ۔لیکن جماعت کے مرکز میں کاروائی کے بعد اب اس گوردوارے میں لوگوں کو نکالنا انتہائی ضروری ہو گیا تھا ۔آخر کا ر نکال لیا گیا ۔اور ان کو نہرو ویہار میں واقع ایک سرکاری اسکول میں رکھا گیا ہے ۔یہاں کوارنٹین کیاجائےگا ۔ایس ڈی ایم کی نگرانی میں پولیس بسوں میں بھر کر سبھی کو لے گئی اور اس نے گوردوارے کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا اب اس گوردوارے کمپلیس کو پوری طرح دوا سے صاف کیا جائےگا ۔لاک ڈاو ¿ن کے درمیان دہلی این سی آر میں رہنے والے پنجابی لوگ اپنے آبائی وطن جانے کے لیے بڑی تعداد میں پیدل چل کر 28مارچ کو مجنوں کا ٹیلہ صاحب پر آئے تھے ۔اتوارکو دہلی سکھ گوردوارا کمیٹی اور شری منی گوردوارا پروندھک کمیٹی نے 2-2بسیں پنجاب کے لیے یہاں سے بھیجیں تھیں ۔لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں کافی تعداد میں لوگ پھنس گئے تھے ۔کمیٹی نے یہ اطلاع شوشل میڈیا کے ذریعے دہلی اور پنجاب سرکار کو دی تھی ۔انتظامیہ نے کاروائی کرتے ہوئے گوردوارا میں پھنسے 205لوگوں کو ڈی ٹی سی کی بسوں میں وہاں سے اسکول میں شفٹ کیا ۔امید کی جانی چاہیے کہ اس درمیان وہاں کوئی کورونا وائرس کا انفکشن نہیںہوا ۔خیر نظام الدین کانڈ کے بعددہلی میں دوسرا کانڈ ہوتے ہوتے بچا۔
(انل نریندر)

بجلی،پانی و رسوئی گیس کی فکر چھوڑ گھر پر رہیں!

کورونا وبا کے سبب دہلی سمیت پورے دیش میں لاک ڈاو ¿ن جاری ہے لوگوں کو گھروں میں نہیں بیٹھنا ہے ایسے ماحول میں انتہائی ضروری بجلی پانی اور رسوئی گیس جیسی روز کام آنے والی چیزوں کی باقاعدہ سپلئی ہو رہی ہے ۔اگر یہ ضرروری چیزیں ان ملیں تو عام آدمی کے لیے زندگی بسر کرنا مزید مشکل ہوجائے گا ۔یہ تینوں چیزیں لاک ڈاو ¿ن کے دوران گھر پر ہی آرہی ہیں اس لیے گھر سے نکلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگرادائیگی میں تاخیر میں آپ کوجرمانہ دینے کنکشن کٹنے کی بھی نوبت نہیں آئےگی ۔گھر کے کرائے سے لیکر قرض چکانے کی پوزیشن میں آج لوگ نہیں ہیں تو اس سے راحت کے لیے سرکار نے کچھ قدم بتائے ہیں ۔کورونا کے خوف کے درمیان دہلی میں بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی بی ایس ای ایس نے اپنے گراہکوں کو بلا رکاوٹ بجلی سپلائی جاری رکھنے کا بھروسہ دیا ہے ۔کورونا کے چلتے پیدا ہوئی مشکل میں ڈاکٹر نرس میڈیکل اسٹاف کے علاوہ بجلی کمپنیاں بھی 24گھنٹے اپنی سیوائیںدے رہی ہیں ۔کوروناوائرس پھیلنے کی وجہ سے طبی خدمات جیسے اسپتالوںاور میڈیکل ساز وسامان پر دباو ¿ بڑھ گیا ہے ۔ادھر آئی او سی تیل کمپنیاں اور رسوئی گیس کمپنیاں بھارت کے 32کروڑ گھروںمیں سلنڈر پہونچانے کویقینی کر رہی ہیں ۔بی پی سی ایل کے چئیر مین سیل اکھلیش ور پرساد نے بتایا کہ ہم سارفین کو بھروسہ دلانا چاہتے ہیں کہ دیش میں رسوئی گیش کی کوئی کمی نہیں ہے اور ہمارے سبھی پلانٹ اور تقسیم نیٹ ورک سپلائی بنائے رکھنے کے لیے 24گھنٹے کام کر رہے ہیں اور سلینڈر گھروں تک پہونچائے تاکہ لوگ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں اورکھانا پکانے میںکوئی دکت ناآئے اس لیے آپ بے فکر رہیں نابجلی ،پانی اور رسوئی گیس کی کوئی کمی لاک ڈاو ¿ن کے درمیان نہیں ہوگی ۔بس آپ تو گھرپر بیٹھیے۔
(انل نریندر)

03 اپریل 2020

جب رشتے دار نہیں آئے تو پڑوسی مسلمانوں نے اٹھائی ہندو کی ارتھی !

فرقہ پرستوں کو شاید یہ خبر را س نا آئے لیکن انسانیت کے پجاریوں نے ایک مثا ل قائم کی کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے کے لیے ذات مذہب کی دیوار توڑ کر لوگ ایک دوسرے کے مددگار بن رہے ہیں اسی کڑی میں اتر پردیش کے بلند شہر میں بھائی چارہ اور ہندو مسلم ایکتا کی بڑی مثال دیکھی گئی بتایاجاتا ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کے درمیان ہندو خاندان میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔لاش گھر میں رکھی تھی لیکن ارتھی کو چار کندھا دینے والے نصیب نہیں ہو رہے تھے ۔انہوں نے رشتے داروں کو بھی فون کیا لیکن کورونا وائر س اور لاک ڈاو ¿ن کابہانہ بنا دیا ایسے میں پڑو س میں مقیم مسلم سماج کے لوگوں نے مرنے والے شخص کی ارتھی کو کاندھا دے کر سمشان پہونچایا اور راستے بھر رام رام ستیہ بی بولا اور انتم سنسکار کو تمام ہندو رواج سے کروایا۔اور اس کے پھول چومنے بھی پہونچے واقعہ یوں کے ہے کہ شہر کے آنند بہار ساٹھا نے روی شنکر اپنے کنبے کے ساتھ رہتے تھے او ر وہ کافی عرصے تھے اور وہ کافی عرصے سے کینسر سے متاثر تھے جمعرات کو ان کا دیہانت ہوگیا ۔اور رشتے دار لا ش کو لیکر گھر آگئے ۔شنکر کے گھر والوں نے اپنے رشتے داروں کو موت کی خبر دی لیکن کورنا کا ڈر اور لاک ڈاو ¿ن کے چلتے جمعہ کی دوپہر تک کوئی رشتے دار نا آسکا ۔اس مشکل گھڑی مین پڑوس میں رہنے مسلمان آگے آئے اور اپنے ہاتھ سے ارتھی تیار کی اور لڑکوں نے کاندھا دیکر سمشان تک پہونچایا ۔متوفی کے لڑکے وکاش کمار نے اگنی دی جس نے بھی یہ دیکھا بول پڑا کہ کون کہتا ہے دیش کے لوگوں میں ایکتا نہیں انتم یاتر امیںشامل رہے ایک شخٰص زاہد علی پردھا ن نے بتایا روی شنکر کے ساتھ ہی رہنے والا ہر ہندو ہمارا بھائی ہے اپنا ہے ہم ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ ہی رہے ہیں ۔خیر روی کے جانے سے ہم سب غم زدہ ہیں ۔
(انل نریندر)

یوگی نے ڈی ایم سے کہا بکواس بند کرو !

گوتم بدھ نگر میں خطرناک شکل اختیار کرتے جا رہے وائرس سے نمٹنے کے انتظام دیکھنے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ پیر کی دوپہر گریٹر نوئیڈاآئے تھے انہوں نے گوتم بدھ یونیوسٹی میں حکام کے ساتھ میٹنگ کی اور ضلع میں تیزی سے پھیلے وائرس کے بارے میں جب وزیر اعلیٰ نے سوال کیاتو ڈی ایم بی ایم سنگھ نے صفائی دینے کی کوشش کی میٹنگ کے دوران پڑی جھاڑ کے بعد ضلع افسر نے چیف سکریٹری آر کے تیواری کو خط لکھ کر تین مہینے کی چھٹی مانگی اس کاشوشل میڈیا پر ویڈیو وائر ل ہو گیا جس میں وزیراعلیٰ اس افسرکو بکواس بند کرنے کو کہہ رہے ہیں ۔ضلع مجسٹریٹ کے چھٹی مانگنے کا خط بھی میڈیا میں آگیا جس وجہ سے کھلبلی مچ گئی ۔اس کے بعد چیف سکریٹری نے بتایا کہ بی ایم سنگھ کو نوئیڈا کے ڈی ایم کے عہدے سے ہٹاکر ریونیو کونسل میں بھیج دیاگیا ہے۔ان کی جگہ جگت سبھاش گوتم بدھ کے نئے ڈی ایم بنا دیے گئے ہیں ۔ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پیر کو وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ گریٹر نوئیڈا پہونچے اور انہوں نے سب سے پہلے نوئیڈا کی سیز فائر کمپنی میں آئے غیر ملکی شہریوں او ر ان کے سبب ضلع میں پھیلے انفکشن پر سوا ل کیاوزیر اعلیٰ کی طرف سے الزمات پر ناراضگی ظاہر کرنے پر ڈی ایم بی ایم سنگھ نے کہا تھا کہ وہ روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کر رہے ہیں اس کے باوجود اگر وہ حالات سنبھا ل نہیں پارہے ہیں تو وہ گوتم بدھ نگرمیں نہیں رہنا چاہ رہے ہیں تو اس پر وزیر اعلیٰ نے جھاڑ پلا دی ۔ڈی ایم نے وزیر اعلیٰ کے لوٹتے ہی چیف سکریٹری کو خط لکھا اور انہوں نے یہ خط اور پھر اسے میڈیا میں لیک کر دیا ۔یہ سنگین ڈسپلن شکنی ہے اور اس کے لیے ان کے خلاف شعبہ ذاتی کاروائی کی جائے گی ۔
(انل نریندر)

تبلیغی جماعت اورآتنکی تنظیم !

اسلامی مشنریوں کی رعالمی انجمن تبلیغی جماعت کا پاکستان میں ممنوع تنطیم حرکت المجاہدین سے وابستگی کی لمبی تاریخ رہی ہے ہندوستانی تفتیش رسانوں اور پاکستانی تجزیہ نگاروں کے مطابق حرکت المجاہدین کے بنیادی بانی تبلیغی جماعت کے ممبر تھے حرکت المجاہد الاسلامی (ہوجی )سے ٹوٹ کر 1985میں بنی حرکت المجاہدین افغانستان سے اس وقت کی سو یت یونین اتحاد کے اقتدار کو اکھاڑ پھیکنے کے لیے پاکستان حمایتی جہاد میں بھی حصہ لیا تھا ۔خفیہ اندازوں کے مطابق 6ہزار سے زیادہ تبلیغیوں کو پاکستان میں واقع آتنکی کیمپوں سے ٹریننگ دی گئی تھی ۔افغانستان میںسو یت یونین کی ہار کے بعد حرکت المجاہدین او ہوجی کشمیر میں سرگرم ہوگئے تھے ۔انہوں نے سینکڑوں بے گناہ شہریوں کا قتل کیا حرکت المجاہدین کے ممبر بعد میں مسعود ازہر کی قیادت والی آتنکی تنظیم جیش محمد میں شامل ہو گئے گودرا میں کار سیوکوں کو زندہ جلانے میں تبلیغی جماعت پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا ۔ہندوستانی خفیہ افسر اور سکیورٹی ماہر بی رمن نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ تبلیغی جماعت اور پاکستا ن و بنگلہ دیش میں شاخوں کے حرکت المجاہدین ،حرکت الجہاد الاسلامی ،لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ساتھ وابستگی کو لیکر وقتاً فوقتاً توجہ دلائی جاتی رہی تھی ۔رمن نے اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔حرکت المجاہدین جیسی آتنکی تنظیموں کے ممبر خود کو تبلیغی جماعت کا مولوی بتا کر ویزا حاصل کرتے تھے اور بیرون ملک جاکر پاکستان میں آتنکی ٹریننگ کے لیے مسلم لڑکوں کی بھرتی کرتے تھے ۔جماعت نے روس کے ترکستان خطے اور سومالیا اور کچھ افریقی ملکوں سے بڑی تعداد میں رضاکار تیار کیے تھے ۔ان سبھی دیشوں کی خفیہ ایجنسیوں کو شبہ تھا کہ پاکستان میں الگ الگ ملکوں کے مسلم فرقوں کے سلیپر سیل تیار کرنے کے لیے تبلیغ کرنے والوں کا استعمال کر رہے تھے اور تبھی تبلیغی جماعت کے لوگ امریکی جانچ کے دائرے میں آگئے تھے ۔امریکہ میں آتنکی حملے کے بعد سرکاری جانچ ایجنسیوں نے تبلیغی جماعت میں دلچشپی دکھائی اور اس پر القاعدہ میں بھرتی کے لیے زمین تیار کرنے کا شبہ تھا ۔نیویارک ٹائمس میں 14جولائی 2003کو شائع رپورٹ میں ایف بی آئی کے آتنکی معاملوں کے انچارج مائیکل نے کہا کہ امریکہ میں تبلیغی جماعت کی وسیع موجودگی پائی گئی ہے ۔القاعدہ بھرتی کے لیے اس کا استعمال کرتا ہے ۔حالانکہ نا تو تبلیغی جماعت اور ناہی اس کا کوئی ممبر کسی جرم یا دہشت گردی کی حمایت کرنے کے معاملے میں ملزم پایاگیا ہے ۔اس کے باوجود امریکی افسر نے اس تنظیم کر لیکر چوکس رہنے کو کہا جبکہ جماعت نے امریکی سرکار کی دلیل کو پوری طرح غیر مناسب قرار دیا کہ یہ تنظیم آتنکیوں کی بھرتی کے لیے زمین تیار کرتی ہے ۔
(انل نریندر)

02 اپریل 2020

کسی کو بھوکے پیٹ نہیں سونے دیںگے !

کورونا کے چلتے لاکھوں مزدور دیہاڑی والے شہروں کو چھوڑ کر اپنے آبائی گھروں کے لیے شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں ان کے لیے ریاستی سرکاریں کھانے پینے کا انتظام کر رہی ہیں لیکن پورا دیش آج ان کی مدد کے لیے کھڑا ہوگیاہے ۔لاک ڈاو ¿ن ہوتے ہی لوگوں کو ڈر ستانے لگا تھا کہ اب ان کا گزربسر کیسے ہوگا کھانے پینے کے سامان کی قلت ہوجائےگی وغیرہ وغیرہ ۔شروعاتی دودنوں میں کافی ہائے توبہ مچی رہی لیکن اب آہستہ آہستہ پورادیش ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا لوگوں کو ان کی ضرورت کا سامان مہیہ کرایا جارہا ہے اکثر پولیس کو لیکر ہمارا نظریہ منفی رہتا ہے لیکن کورونا کے خلاف جنگ میں ہر پولیس والا تن من سے لگاہوا ہے ۔لکھنو ¿ کی سڑکوں پر ایسا ہی نظارہ دکھائی دیا ۔کیاسپاہی کیاافسر سب ضرورت مندوں کو اپنے ہاتھوں سے کھانادیتے نظر آئے اور لوگوں کو کورونا سے بچاو ¿ کے بارے میں سمجھاتے ہوئے نظرآئے ۔کانپور میں ہوم ڈیلیوری کی شروعات جمعرات سے ہوئی پولیس نے تاجروں کی مدد سے تمام اپارٹمنٹس میں ضروری سامان بھجوایا اور انڈیا گروپ سے وابسطہ رضاکاروں نے غریبوں کو کھانا پہونچایا ۔ہلدوانی اور رودر پور پولیس نے انسانیت کی مثال پیش کی سڑک پر بھوکے پیاسے لوگوں کاایک واحد سہارا ان متر پولیس والے ہی ہیں وہ غریبوں کوکھاناکھلا رہے ہیں ۔واگیسور میں تعینات ایس پی روچیتا جوا ل کی پہل پر متر پولیس حاملہ عورتوں کو اسپتال اور وہاں سے گھر پہونچانے میں مدد کررہی ہے ۔وارانسی میں پولیس کی پی سی آر وین گھر گھر راشن دودھ و ضروری سامان پہونچا رہی ہے اور اس کام میں شہر کے تھوک تاجر اور الہ آباد انتظامیہ نے غذائی سپلائی کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے کنٹرول روم قائم کیا ہے اور آن لائن خریدار ی کے ذریعے شہر سے سامان منگائے جا رہے ہیں اس لیے پانچ سو ٹرکوں سے سامان منگوایا گیا اور اب راچی میں انتظامیہ نے لوگوں کے گھروں تک دوادودھ اور بریڈ پہوچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک ٹیم بنائی گئی اس پر آرڈر کرتے ہی 24گھنٹے میں سامان پہونچادیے جائیںگے لایسے ہی دھنواد کے شہر کے ڈیلیوری سینٹروںپ ر سامان کی مانگ کے آرڈر اچکے تھے ۔آگرہ میں لاک ڈاو ¿ن ہے جگہ جگہ پولیس کی سختی ہے کوئی بھوکا پیٹ نا سوئے اس کے لیے لڑکوں نے بیڑا اٹھایا ہے یہ ہر اس شخص کو کھاناپہونچا رہے ہیں جو بھوکا ہے ان کاکہنا ہے کسی کو بھوکے پیٹ نہیںسونے دیںگے ۔
(انل نریندر)

امریکہ میں کورونا سے مرنے والوں کی ریکارڈ تعدادبڑھی!

پچھلے سال کے اخیر میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا کورونا وائرس کاانفکشن اب پوری دنیا میں پھیل چکاہے اور یہ ہر جگہ سے ترقی یافتہ امریکہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس نے چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔اور سب سے زیادہ مریض امریکہ میں ہیں اتوار کو اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ریکارڈ اونچائی تک پہونچ گئی ہے ۔جونس ہوپکنگ یونیورسٹی کی تحقیق کے اعداد شمار سامنے آئے ہیں جس میں 24گھنٹے میں کووڈ 19-بیماری کے سبب 450سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی ۔جمعہ کے دن امریکہ میں 263امواتوں کا پتہ چلا ہے اور اب تک 191000وائرس کے مریضوں کا اندراج کیا گیا اوراس میں محض ایک دن میں 21309معاملے بڑھنا شامل ہیں جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے ۔اور اٹلی میں 80589رہی ہے ۔حالانکہ یہ بھی اہم پہلو ہے کہ امریکہ کورونا وائرس کی وبا سے متاثر دیگر ملکوں کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کا معائنہ کررہا ہے ۔وبا کنٹرول کے کوڈینیٹر ڈاکٹر ویب را برکس نے بتایاکہ اب تک ہمارے یہاں 370000ٹیسٹ ہو چکے ہیںان میں زیادہ تر پچھلے دنوں میں 220000معاملے سے زیادہ ہیں ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پورے نیویارک میں لاک ڈاو ¿ن پر غور کر رہے ہیں ۔لیکن دیررات انہوں نے اپنا نظریہ بدل لیا اورکہا کہ لاک ڈاو ¿ن کی فی الحال ضرورت نہیں ہے ۔چین سے شروع ہوا کورونا وائرس کا انفکشن اب پوری دنیا کو ضد میں لے چکاہے لیکن اس کا قہر آہستہ آہستہ وہاں ختم ہورہا ہے اور فیکٹریاں کھلنے لگی ہیں اور مزدوروں کے لیے فیس ماسک بنائے جا رہے ہیں یا دوسرے ملکوںکو بھیجا جارہا ہے ۔پہلے کورونا پھیلایااور اب ماسک بیچ کر چین نوٹ چھاپ رہاہے ۔
(انل نریندر)

تلیغی جماعت کیا ہے؟

ان دنوں نظام الدین میں تبلیغی جماعت کا مرکز اخباروں کی سرخیوں میں ہے مرکز میں رہنے والے 9لوگوںکو کورونا وائرس سے دیش کے الگ الگ حصوں میں موت کا شکار ہونا پڑا جبکہ 24لوگوںمیں وائرس پایاگیا ۔یہاں سے نکالے لوگوں کو اسپتال میں بھرتی کرایاگیا ہے ۔جبکہ 700لوگوں کو الگ تھلگ جگہ میں رکھا گیا ہے ۔یہ مرکز جس لیے بنایاگیاہے یہ کیا ہے ؟اور کون ہے تلیغی جماعت؟ یہ ایک مذہبی ادارہ ہے جو 1920سے چلا آرہا ہے دہلی کے نظام الدین علاقے میں اس کا صدر مقام ہے جسے مرکز بھی کہتے ہیں مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر رہے جعفر سریش والا تلیغی جماعت سے برسوں سے جڑے ہیں ۔عوام کے مطابق یہ دنیا کی سب سے بڑی مسلمانوں کی تبلیغی جماعت ہے اور اس کے دنیا بھر کے 140ملکوں میں مرکز ہیں ۔بھارت کے سبھی بڑے شہروں میں ا س کا مرکز ہے ان مراکز میں سال بھراجتماع چلتا رہتا ہے اور جماعت کے ماننے والے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ۔کورونا وائرس کے انفکشن کے پوزیٹو معاملے پائے جانے کی خبر اس وقت پھیلی جب وہاں اجتماع چل رہا تھا اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہونے آتے ہیں ۔یہ اجتماع 3سے 5دن تک چلتا ہے ۔مارچ کے مہینے میں بھی یہاں کئی ریاستوں سے لوگ اجتماع کے لیے آئے تھے۔جن میں کئی غیر ملکی بھی تھے ۔بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اجتماع اسی وقت چل رہا تھا حالانکہ بیرون ممالک میں کورونا کے چلتے ان کے اجتماع پر روک لگا دی گئی تھی ۔لیکن دہلی میں ایسا نہیں ہوا تازہ واقعہ کو دیکھتے ہوئے پیر کی دیر رات تبلیغی جماعت نے پریس نوٹ جاری کیا اس کے مطابق ان کا پروگرام سال بھر پہلے طے ہوا تھا جب وزیراعظم نے جنتا کرفیو کا اعلان کیا تب تبلیغی جماعت نے اپنے یہاں چل رہے پروگرام پر روک لگا دی تھی ۔لیکن مکمل لاک ڈاو ¿ن کے پہلے بھی کچھ ریاستوں نے اپنے یہاں سے گزرنے والی ٹرینیں او ر بس سروس روک دی تھی اگر ایسا نا ہوتا تو یہ لوگ واپس جا سکتے تھے اور ان کو واپس بھیجنے کا پورا انتظام تبلیغی جماعت انتظامیہ نے کیا ہوا تھا لیکن اس کے فوراً ہی بعد وزیراعظم نے مکمل لاک ڈاو ¿ن کااعلان کر دیا جس کی وجہ سے کئی لوگ واپس نہیں جا سکے ۔اورر وہ وہیں مرکز میں رہے ۔پریس ریلیز میں ایسے ہی لوگوں کی تعداد ایک ہزار بتائی گئی ہے ۔یہ پورا معاملہ پولیس تک 24مارچ کو پہونچا اور اس وقت اس نے مرکز کو بند کرنے کا نوٹس بھیجا یہ وہی تبلیغی جماعت ہے جس کا ایک اجتماع ملیشیہ کے کولالم پور کی ایک مسجد میں 27فروری سے ایک مارچ تک ہوا تھا ایسی کئی میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس پروگرام میں شامل ہونے آئے لوگوں نے وسط مشرق وسطی کے کئی دیشوںمیں کورونا وائرس پھیلایا ہے ۔الجزیرا کی رپورٹ کے مطابق کورونا کے جتنے معاملے پائے گئے ہیں ان میں سے دو تہائی حصہ تبلیغی جماعت کے اجتماع کے حصے بنے تھے ۔برونئی میں کل چالیس میں سے 38لوگ اسی مسجد کے پروگرام میں شامل ہونے والے کورونا سے متاثر پائے گئے پاکستان کے ڈون اخبار کے مطابق تبلیغی جماعت کے پروگرام میں شامل کئی لوگوں سے ان کے دیش میں کورونا کا انفکشن پھیلا ۔دہلی میں تقریباً 1200لوگوں نے شرکت کی تھی جس میں 500لوگ بیرون ملک سے تھے ۔
(انل نریندر)

01 اپریل 2020

اولمپکس 2020کاٹلنا،نئی چنوتیاں!

ٹوکیومیں کورونا وبا کے درمیان ٹوکیومیں ہونے والے اولمپکس کے کھیلوںکو ایک سال کے لیے ٹالنے کے بعد اب ٹوکیو کے سامنے نئے سرے سے کھیلوں کی میزبانی کی تیاری کی چنوتی ہے اور اس کے لیے کئی پہاڑ سر کرنے ہوں گے دور امن میں پہلی بار ملتوی ہوئے ان کھیلوں سے جڑے ہر پہلو مثلاً انعقاد کی جگہوں سکیورٹی ٹکٹ اور رہنے کاانتظام اور نئے سرے سے کام کرنا ہوگا ابھی یہ بھی طے نہیں ہے کہ کھیلوں کی تاریخیں کیا ہوںگی؟ بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی کے چیف تھامس باک نے کہا ضروری نہیں ہے کھیل گرمیوںمیں ہی کرائے جائیں اور اس کے بارے میں ابھی سارے متبادل کھلے ہیں ۔بین الاقوامی پیرا لمپک کمیٹی کے ترجمان کریگ اسپینس نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے دنیا کی سب سے بڑی توقع پوری کرنے میں بس ااب ایک ٹکڑا لگانا تھا اوراب نئے سرے سے یہ کام شرو ع کرنا ہوگا وقت اب بہت کم رہ گیا ہے ۔جاپان نے ان کھیلوں کو ریکوری اولمپکس کے طور پر پیش کیا تھا وہ دنیا کودکھانا چاہتا ہے ۔زلزلہ ،سونامی اور وزیر اعظم شین جو اوے نے کہا اگلے سال ہونےوالے ٹوکیو اولمپکس 2020اس نئے وارث پر انسان کی جیت کی بحالگی دے گا ۔جاپان کے حکومت کے ترجمان نے کہا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی بات چیت میں یہی پیغام دہرایا ہے ۔دونوں لیڈروں میں اس بات پراتفاق ہو گیا یہ کھیل نئے کوروناوائرس پر انسان کی جیت کا ثبوت ہوں گے ۔لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اس پروگرام کو منعقد کرنے کے لیے جگہ دستیاب ہوں گی ؟ٹکٹ ہولڈروں اور سماجی رضاکاروں کا کیاہوگا ۔اگلے سال کے کھیل کلنڈر میں اولمپک کے لیے جگہ کیسے بنے گی ۔کھیل گاو ¿ں کا کیا ہوگا جہاں 4000سے زیادہ عالیشان فلیٹ بنے ہیں وہ بک چکے ہیں ۔ہوٹلوں کی بکنگ وغیرہ اہم مسئلہ ہے ٹوکیو 2020کے چیرمین موشیرو نے بتایاہمارے پاس امید بنائے رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔میں کینسر سے لڑ کر آج آپ کے سامنے زندہ ہوں مجھے ایک نئی دوا نے بچایا ہم سب کچھ ٹھیک ہونے کی امید کرتے ہیں ۔بھرحال اولمپکس کھیلوں کے 2021میں ہونے سے اب نیا پروگرام بنانا کافی چیلنج بھرا ہوگا۔
(انل نریندر)

دہلی میں نظام الدین بنا کورونا کا مرکز!

دہلی میں تیزی سے بڑھ رہے کوروناوائس کے چلتے اتوار کی دیر رات اسوقت بڑا موڑ آگیا جب ایک ساتھ دو سو لوگوں کورونا وبا کے نتیجے میں جانچ کے لیے اسپتال لایاگیا ۔نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں قریب سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ تھی ان کی جانچ شروع کی گئی تو کچھ لوگ کورونا سے متاثر پائے گئے جو بیرون ملک سے یہاں آئے تھے اب تک کے جانچ سے پتہ چلا ہے کہ ان لوگوں میں 24لوگ کورونا کے انفکشن میں مطلع ہیں ۔راجدھانی میں کئی دن سے کورونا متاثرین کی جو تفصیل آرہی ہے نظام الدین کے ان لوگوں میںکورونا میں مبتلاءمریضوں کی سب سے بری تعداد ہے ۔دہلی میںابتک مریضوں کی تعداد 97ہو گئی ہے۔نظام الدین میں کورونا سے متاثر ہوئے تبلیغی میں جماعت میں شامل ہوکر 6لوگوں کی تلنگانہ میں موت ہوگئی یہ اطلاع تلنگانہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے دیررات دی تھی ۔یہ دہلی کے ایک علاقے سے کورونا کے مثتباءسامنے آنے کے بعد کھلبلی مچنا فطری ہے ۔دہلی پولیس نے سختی سے علاقے میں لاک ڈاو ¿ن کرکے گھیرا بندی کر دی ہے اور وہاں موجود 1200لوگوں میں سے 300کے قریب لوگوں کو بسوں میں بھر کر اسپتال پہونچایا گیا جہاں ان کی جانچ جاری ہے وہیں دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق گزشتہ 18مارچ کو علاقے میں بغیر اجازت کے مذہبی اجتماع ہوا تھا اس میں دیش بھر سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے 70سے زائد ممالک کے جماعت کے لوگ شامل ہوئے تھے اور پروگرام میں 19سو لوگوں نے حصہ لیا تھا جن میں1300غیر ملکی تھے ۔مرکز میں موجود قریب 1200لوگ تو لاک ڈاو ¿ن کے اعلان سے پہلے ہی دیگر ریاستو ں کے لیے نکل گئے تھے جہاں انہوں نے تبلیغ کی اور وہاں کافی لوگوں سے ملے جن کے بارے میں تلاش جاری ہے ۔معاملہ گرمانے کے بعد دہلی سرکار نے اس معاملے کے لیے ذمہ دار لوگوں پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔بتایاگیا ہے کہ نظام الدین میں پچھلے دو دنوں میںاسطرح کے لوگوں کے معاملے سامنے آنے لگے تھے جن کے بارے میں کورونا کا شبہ تھا انہیں لے جانے کے ایمبو لینس بھی آئی تھی لیکن علاقے کے لوگوں کی مخالفت کے چلتے انہیں لے جانہیں پائی اور معاملہ زیادہ بگڑنے لگا تو لوگوں نے پولیس اور ڈاکٹروں کی ٹیم کو تعاون دینا شروع کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ مرکزمیں موجود 300غیر ملکیوں میں سوسے زیادہ لوگوں کو کورونا ہونے کے شبہ میں اسپتالوں میں داخل کرا دیاگیا ہے باقی لوگوں کو علیحدہ جگہ میں رکھا گیا ہے یا کہیں اور شفٹ کیا جائے گا۔ فی الحال ابھی پورا علاقہ سیل ہے ۔ڈرون سے نگرانی جاری ہے ۔معاملہ میں پولیس اس بات کی بھی جانچ کرے گی کہ کیا جان بوجھ کر اتنے لوگوں کو ایک ہی جگہ ہونے کی بات کیوں چھپائی گئی ؟
(انل نریندر)

نیوز پیپر سے نہیں پھیلتا کورونا وائرس ،یہ سچ ہے ؟

اخبارات ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ بن گئے ہیں ۔لاک ڈاو ¿ن میںاخبارات کی چھپائی متاثر ہوئی ہے ۔جو اخبارات چھپ رہے ہیں لیکن وہ لوگوں تک نہیں پہونچ پا رہے ہیں ۔اس کی سب سے بڑی وجہ ہاکروں کے ذریعے اخبارو ں کو نا اٹھانا ۔اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ گھر سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے دوسرا ہاکروں کو اخبار چھونے سے ڈر لگتا ہے کہ ان کے ذریعے سے انہیں کوئی نقصان ناہو جائے اب لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے چیزوں کی ڈھلائی پر لگی روک اب ہٹ گئی ہے اب تک صرف ضروری چیزوں کی ڈھلائی کو اجازت دی گئی تھی ۔سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کے لیے جاری ایک خط میں مرکزی ہوم سکریٹری اجے بھلا نے کہا کہ پرنٹ میڈیا تقسیم اور نشرواشاعت سے جڑے سبھی معاملوں میں آتے ہیں یعنی روشنائی پلیٹ نیوز پرنٹ سے لیکر ملازم تک اس زمرے میںآئیں گے ۔پچھلے دنوں یوں تو کئی ضروری چیزوں کی ڈھلائی کی ھدایت تھی ۔پرنٹ میڈیا بھی ضروری سروس میں شامل ہے لیکن اس سے منسلک کئی چیزوں کی ڈھلائی میں مشکلیں آرہی تھیں یہاںتک کہ پرنٹ میڈیا میں کام کرنے والے ملازمین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ہاکروں کو گھر سے اخباروں کی تقسیم کرنے میں مشکلیں آرہی تھیں جبکہ سرکار کے ساتھ ماہرین کی طرف سے بار بار کہا جارہا ہے کہ اخبارپوری طرح محفوظ ہیں اور اس سے انفکشن کاخطرہ نہیں ہے۔بہرحال اتوار کو چیف سکریٹریوں کو جاری خط میں ہوم سکریٹری نے صاف صاف کہا کہ پرنٹ میڈیا کی سپلائی چین سے وابسطہ سبھی چیزوں کی ڈھلائی پر کوئی پابندی نہیں ہے کوئی روک نہیں ہے ۔اس خط میں بتایا گیا صابن ،سنیٹر ی پیڈس ،باڈی واش،سیمپو ،ڈٹرجنٹ کے علاوہ ملک فوڈ جیسی چیزیں بھی شامل ہیں ۔ریڈ کراس سوسائٹی بھی اس میں شامل ہے ۔کورونا کو ہرانے کے لیے آپ کے پاس کئی جانکاری ضروری ہیں اخبار سے ہم یہ ہی کوشش کر رہے ہیں کہ ساتھ ہی ہم ان افواہوں کی تردید کرکے صحیح تصویر پیش کرنے کی کوشش کریں ۔تمام اخبار چھپ رہے ہیں آج ہی آپ اپنے ہاکر کو یہ سب جانکاری دیں اور اسے سمجھائیں کہ وہ اخبار ڈالناشروع کرے اس میں کسی طرح کاکوئی خطرہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)

31 مارچ 2020

کورونا لاک ڈاو ¿ن میں بھی بڑی عدالت سماعت کریگی!

سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ دیش میں کورونا وائر س وبا کے سبب لاک ڈاو ¿ن کی وبا کے باوجود وہ فوری اہمیت والے معاملوں پر اسکائپ ،فیس بک اور وائٹ سپ کے ذریعے ویڈیو کانفرنسنگ سے سماعت کریں گے۔عدالت نے اپنے پہلے کے احکامات میں ترمیم کرتے ہوئے بہت ضروری معاملوں میں سماعت کرنے کا فیصلہ دیا ہے اس سے پہلے اس عدالت نے سبھی مقدمہ ذاتی سماعت کو بند کردیاتھا لیکن اب وہ بہت ہی ضروری مقدموں میں کاروائی جاری رکھےگی ۔جسٹس ڈی وائی چندر چور اور جسٹس سوریہ کانت جسٹس ایل ناگیش ورر راو ¿اور جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس ارون مترا اور جسٹس دیپک گپتا کی تین بینچ ان ایپلیکشن کے ذریعے سماعت کریں گے ۔جسٹس چندر چور کی سربراہی والی بنچ صبح ۱۱بجے سماعت کرے گی وہیں دوسری بنچ دوپہر ایک بجے اور جسٹس مشرا کی بنچ تین بجے معاملوں کی سماعت کرے گی ۔مقدمہ دائر کرنے والوں کو پہلے عرضی یادرخواست دینی ہوگی اور اس میں ای فائلنگ کو ترجیح دیں اس کے بعد ہی انہیں فوری سماعت کے لیے درخواست داخل کرنے کو کہا ہے ۔عدالت نے 23مارچ کو کامیابی کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ سے مقدمات کی سماعت کا تجربہ کیا تھا اور تین مقدموں کی سماعت ہوئی جس میں جج عدالت کے کمرے میں ہی بیٹھے وکیلوں نے بڑی عدالت میں ایک دوسرے جگہ سے اپنی دلیلیں رکھیں ۔سپریم کورٹ کا یہ اچھا فیصلہ ہے اور کورونا وائرس کے دوران ہی سماعت کرکے جج صٓحبان نے دیش کے سامنے ایک اچھی مثال پیش کی ہے۔
(انل نریندر)

بیرون ملک سے آئے15لاکھ مسافروں پر گہری نظر!

گزشتہ 18جنوری سے 23مارچ2020کے درمیان بیرون ملک سے 15لاکھ آئے مسافر بھار ت میں اترچکے ہیں اب مرکزی حکومت نے ریاستوں سے کہا ہے جو بھی لوگ بدور این آر آئی بھارت آئے ہیں ان پر نگا ہ رکھی جائے۔کیونیٹ سکریٹری راجیو گاوا نے سبھی ریاستوں اور مرکزی انتظام ریاستوں سے کہا ہے کہ پچھلے دو مہینوں کے درمیان 15لاکھ سے زیادہ مسافر دوسرے ملکوں سے آئے ہیں لیکن کووڈ19-کی نگرانی کرنے والے ادارے اور مسافروں میں فرق ہے ایسے میں ریاستی سرکاروں کو کمرشل اڑانوں پر پابندی سے پہلے ایسے مسافروں پر گہری نگاہ رکھیں ۔بیورو آف ایمگریشن نے ریاستوں اور مرکزی حکمراں ریاستوں سے ان مسافروں کی تفصیل مانگی ہے ۔تاکہ کورونا وائرس کے پیش نظر ان پر نگرانی رکھی جانے کی ضرورت ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ریاست اور مرکزی حکمراں ریاستوں کو جتنے مسافروں پر نگرانی رکھنی چاہیے تھی ا س سے کم لوگوں پر نگرانی رکھی جارہی ہے ۔لہذا اس معاملے میںکسی طرح کی چوک نہیں ہونی چاہیے ۔مقامی شہریت کنٹرول بورڈ کو لوگوں نے بیرون ملک سے آئے لوگوں کے بارے میں کنٹرول روم کو مطلع کیا تھا ۔یہ تعداد 400کے قریب ہے ان میں سے 200شکایتیں صحیح پائی گئی ہیں اور بیرون ملک سے لوٹے 150لوگوں کو کوانٹرائن مراکز میں بھیجا گیا ہے ۔وادی میں پائے گئے کورونا وائر س سے متاثرمریض یا تو بیرون ملک سے لوٹے یا پھر وائر س سے متاثر لوگوں کے رابطے میں آگئے جس کی وجہ سے کورونا وائرس پھیلا ۔حال ہی میں ایک رپورٹ میں بتایاگیا کہ وہ اپنی بیماری چھپانے کے لیے پہلے سے ہی پیراسیٹا مول کی دوائیں لے رہے تھے ۔ڈاکٹروں کی مانیں تو انفکشن چھپانے کا یہ کافی خطرناک طریقہ ہے کیونکہ پیراسیٹا مول سے 4سے6گھنٹے بخار کنٹرول میں رہتا ہے اور پھر تیز ہوجاتا ہے ایسے لوگ سماج اور دیش سے دھوکا کرکر رہے ہیں کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ پنجاب میں ہندوستانی این آر آئی بھی ہیں وہ بھی دیش میں آنے کے بعد چھپے ہوئے ہیں ان کی تلاش ہو رہی ہے۔
(انل نریندر)

کورونا کو لیکر چین نے دنیا کو گمراہ کیا !

چین کے ووہان شہر سے پھیلا کورونا وائرس اب پوری دنیا کو اپنی ضدمیںلے چکا ہے آج قریب 196ملکوں میںکورونا کے مریض سامنے آئے ہیں دراصل چین نے اس پورے معاملے میں کئی اہم معلومات چھپائی ہیں جس سے یہ وبا کی شکل اختیار کرگئی ۔کورونا وائرس کے قہر سے تقریباً پوری دنیا میںزندگی ٹھر گئی ہے ۔چین کے ووہان سے شروع ہوئے اس کلر وائرس نے اب تک ہزاروں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا ہے یہ ہی نہیں قریب 150سے زیادہ ملکووں پر کورونا وائرس کا بہت برااثر پڑا ہے ۔چین نے اگر شروعات نے میں بہت زیادہ احتیاط برتی ہوتی تو کورونا کو شاید روکا جا سکتا تھا کم سے کم اتنے بڑے قہر سے بچا جا سکتا تھا ۔امریکہ کی میگزین نیشنل ریویو میں شائع آرٹیکل کے مطابق چین نے نمبروں کے حساب سے تمام معلومات دنیا سے چھپا کر رکھی جس سے یہ لڑائی اب بہت مشکل ہوگئی ہے ۔شروعات میں یہ بیمار ی ووہان کے جنگلی جانوروں کے بازار سے شروع ہوئی ۔دسمبر2019کو پہلے مریض میںکورونا وائرس کے اثرات سامنے آئے پانچ دن بعد مریض کی بیوی بھی کورونا سے متاثر ہوگئی اسی دوران یہ اشارہ بھی سامنے آیا یہ وائرس انسان سے انسان میں پھیل رہا ہے ۔31دسمبر کو ووہان کے ہیلتھ کمیشن نے اعلان کر دیا کہ یہ وائرس انسان سے انسان میں نہیں پھیلتا ۔چین میں اس طرح کے معاملے سامنے آنے کے تین ہفتہ بعد ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو اس کے بارے میں اطلاع دی آئیے جانتے ہیں کہ چین میں کس طرح سے اس پورے معاملے کو دنیا سے چھپا کر رکھا ۔دسمبر2019کے پہلے دن پہلے مریض میں کورونا کے اثرات سامنے آئے ۔پانچ دن بعد اس کی بیوی بھی وائرس سے متاثر ہوگئی او را س نے بھی الگ تھلگ اسپتال میں خود کو بھرتی کرایا ۔دوسرے ہفتہ میں ووہان کے ڈاکٹرا ن لوگوں کی تلاش کررہے تھے جن میں یہ وائرس پھیلا تھا اس دوران یہ صاف اشارہ سامنے آیا کہ یہ وائرس انسان سے انسان میں پھیل رہا ہے ۔25دسمبر دو چینی میڈیکل اسٹاف میں بھی کورونا کے اثرات پائے گئے اور انہیں بھی الگ تھلگ کیا گیا ۔اس پورے معاملے کو بتانے والے ڈاکٹر لی وین لیانگ نے ڈاکٹروں کے ایک گروپ کو خبر دار کیا تھا کہ یہ سارس ہو سکتا ہے ۔اس طرح کے معاملے سامنے آنے کے تین ہفتہ بعد whoکو اس بارے میںبتایا گیا اس کے بعد ڈاکٹر لی کو ووہان کے پبلک سکیورٹی میں بلایاگیا اور ان پر افواہ پھیلانے کا الزام لگایاگیا اور نیشنل ہیلتھ کمیشن نے حکم دیا کہ اس بیماری کے بارے میں کوئی اطلاع عام نا کی جائے ۔اسی دن ہووئی کے صوبائی ہیلتھ کمیشن نے ووہان کے سارے نمونوں کو ضائع کر دیا ۔نیویارک ٹائمس نے 6جنوری کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ 59لوگ ووہان میں نمونیا بیماری سے متاثر ہیں اس کے بعد جاکر چین الرٹ ہوا اور نگرانی صلاح جاری کی ۔چین نے کہا لوگ ووہان میں زندہ یامرے جانوروں کے بازار میں اور بیمار لوگوں سے دور رہیں ۔چین کی اس تاثیر کانتیجہ یہ ہوا کہ آج کوروناوائر س پوری دنیا میں پھیل گیا ۔
(انل نریندر)

29 مارچ 2020

کورونا اثر:بڑی تعداد میں قیدیوں کو ملا پیرول!

کورونا وائرس وبا کے پیش نظر سپریم کورٹ نے سبھی ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکمراں ریاستوںکی اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کی ھدایت دی ہے جو جیلوں میں بھیڑ کم کرنے کے لیے قیدیوں کے ایسے طبقے کا انتخاب کرے گی جنہیںچار سے چھ ہفتہ کے لیے پیرول پر چھوڑا جاسکے عدالت نے کہا جن قیدیوں کو سات سال کی قید ہوئی ہو یا جن کے خلاف ایسے جرائم میں قدمہ قائم ہو جس میں سات سال کی سزا کاتعین ہو ۔چیف جسٹس ایس اے بووڑے،جسٹس ایل ناگیشور راو ¿ اور جسٹس شوریہ کانت کی بنچ نے کہا یہ اعلی سطحی کمیٹی قیدیوں کی رہائی کے لیے ریاستی اتھارٹیوں سے صلح مشورہ کرے گی اور ہر ایک ریاست چار سے چھ ہفتہ کے پیرول یا انتم ضمانت پر قیدیوں کورہا کرنے کے لیے شفارش کرے ۔ہوم سکریٹری او رریاستی قانونی سروس اتھارٹی کے چیرمین کی سربراہی والی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل کرے گی ۔بڑی عدالت نے صاف کیا کوروناوائرس کی بیماری کی وجہ سے جیلوں میںزیادہ بھیڑ سے بچنے کے لیے ان قیدیوںکو رہا کیا جارہا ہے ۔عدالت نے16مارچ کو از خود نوٹس لیا تھا ۔عدالت نے کہا تھا کہ جیلوں میں درکار سہولت سے زیادہ قیدی ہونے کی وجہ سے کورونا وائرس بڑھ سکتا ہے اس لیے اس سے بچاو ¿ کے لیے ایک دوسرے سے دوری بنانابہت ضروری ہے اور دوری بنانا جیلوںمیں مشکل ہے اگرفوراً قدم نہیںاٹھائے گئے تو بھارت میں اس بیماری کے پھیلنے سے زیادہ حالات خراب ہو سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

100دن بعد خالی کرائی گئی شاہین باغ کی سڑک!

شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف 100دنوں سے جاری دھرنے کو پولیس نے منگل کے روز ہٹا دیا اور اس نے سڑک کو بحال کرنے کے لئے صبح 5بجے سے کاروائی شروع کی ا س دوران پولیس اور دھرنے پر بیٹھی عورتوں کے درمیان تھوڑی دیر تک نوک جھوک ہوئی لیکن پولیس نے جلد حالات پر قابو پا لیا ایک گھنٹے کے بعد مظاہرے کی جگہ سے بھار ت کا نقشہ اور انڈیا گیٹ اسٹیچو اور جے سی بی کی مدد سے ٹینٹ ہٹا دیے گئے ۔صبح پانچ بجے پولیس او ر سی ار پی ایف کے کافی جوان تعینات تھے ۔اور کاروئی سے پہلے پولیس نے شاہین باغ کی اور ابوالفضل کی تمام گلیوں کو بند کر دیاتھا اور جوان تعینات کردیے گئے تھے تاکہ کسی طرح کاہنگامہ ناہوپائے ۔کاروائی سے پہلے پولیس کے اعلیٰ افسران نے مظاہر ہ کی جگہ پر بیٹھی عورتوں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے کوروناوائرس کے خطرے سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ اس حالت میں عورتوںکا بیٹھنا خطرناک ہے لیکن عورتوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام کی ایک ناسنی اور ہٹنے سے انکار کر دیا پھر مجبور ہوکر پولیس مہیلا بٹالین کی ٹکڑی لگائی گئی اور اس نے آہستہ آہستہ عورتوں کو ہٹانے کی کاروائی شروع کی تواسوقت شاہین باغ کی گلیوںمیںکشیدگی بڑھ گئی ۔لو گ گھروں سے گلیوں کی طرف بھاگنے لگے ۔کچھ لوگوں نے پولیس کے قدم کے خلاف گلی کے اندر ہی دھرنا دینا شروع کر دیا لیکن پولیس نے سمجھایا اور کچھ مظاہرین کو حراست میںلے لیا پولیس کے اعلیٰ حکام بھی ملنے آئے تھے ان کا کہناتھا کہ ہم نے انہیں بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ دہلی میں دفعہ 144لگی ہوئی ہے اورکہیں بھی ایک وقت میں پانچ لوگ نہیںکھڑے ہو سکتے اور کورونا وائرس کو لیکر احتیاط برت رہے ہیں ۔مظاہرے میں بیٹھی عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام بھی لگایاگیا ۔ایسے ہی پولیس نے جعفرآباد پلیہ سے ٹھیک پہلے سیلم پورمیں سی اے اے پر این آر سی کےخلاف جاری دھرنے کو ختم کرایا اس کے بعد شاہین باغ میں یہ دھرنا ختم کرایا گیا۔پولیس نے کچھ لوگوں کو حراست میں لیا لیکن معاملہ ضمانتی ہونے کے سبب چھوڑ دیا گیا ۔
(انل نریندر)

میڈم انھیں چھوڑنا مت:نربھیا کی آخری خواہش!

میڈم انھیں چھوڑنا مت نربھا کی آخری خواہش میرے دل میں پوری طرح بس چکی تھی یہ کہنا ہے چھایا شرما کا جو اسوقت ڈی سی پی ساو ¿تھ تھیں اور انہیں کے دائرے اختیار میں نربھیا کانڈ ہوا تھا اگر نربھیا کے قاتلوں کو پھانسی ہوئی تو اس میں چھایاشرما کا بہت اہم ترین تعاون رہا انہوں نے بتایا ایک خاتون افسر ہونے کے ناطے میں ایک ماں اور بہن کی شکل میں نربھیا کے درد کوسمجھ سکتی تھی ۔واردات والے دن سے ہی میں نے اور میری ٹیم نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ وہ ملزمان کو کسی بھی صور ت میں قانون کے سکنجے سے بچنے نہیں دیںگے ۔پولیس کی ٹیم ورک اور عدالت میں پیش ثبوتوں کو پختہ طریقے سے رکھنے والے وکیلوں کی محنت سے اس مقدمہ میں کامیابی مل سکی اس وقت کے ڈی سی پی ساو ¿تھ چھایہ شرماجو اس وقت نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن میں بطور ڈی آئی جی معمور ہیں کہنا ہے کہ نربھیا معاملہ ابھی تک کا ایسا معاملہ ہے جس میں درندگی کی سبھی حدوں کو پار کر دیاتھا وہ بتاتی ہیں پی سی آر کال ملنے کے بعد 16دسمبر کی دیررات سیدھے سب درجن ہسپتال پہونچی تھی اور وہاں موجود ڈاکٹر اور پولیس ملازمین سے متاثرہ کے حالات جاننے اور کبھی اس کو انصاف دلانے اور ملزمان کو پکڑنے کا بیڑاا ٹھاتے ہوئے پورے ضلعے کی ٹیم کو الگ الگ ذمہ داری سونپی اس وقت ڈیفنس کالونی کے اسٹاف میر ی جیکر کو متاثرہ کو خاندان کے ساتھ لگایاتھا اور وہ نوجوان افسر تھیں چھایہ شرمانے بتایا کہ نربھیا سے 4-5بار ملنے کا موقع ملاتھا ۔لیکن نربھیا نے ایک بار جب نربھیا بولنے کی حالت میں تھی اس نے کہا تھا میڈم انھیں چھوڑنا مت یہ بات اس کی میرے دل و دماغ پر چھا چکی تھی ملزمان میں سے کسی ایک کو نربھیا نے کاٹا تھا اور کچھ کو ناخون بھی مارے تھے جس کی تصدیق بعد میں ہو گئی تھی ٹیم کی سخت محنت کے چلتے پورے ثبوت بھی اکٹھے کیے گئے اور ان کی کڑی سلسلہ وار جوڑتے ہوئے چارشیٹ تیار کی گئی ۔نچلی عدالت اور ہائی کورٹ میں وکیل راجیو موہن اور اے ٹی انصاری مادھو خرانہ اور دیگر نے پولیس کے موقف کو اتنی مضبوطی سے رکھا کہ ملزمان پر قصور ثابت ہو گیا اور نربھیا کی خواہش کو کامیابی ملی ہم چھایہ شرما اور ان کی پوری ٹیم کو سلام کرتے ہیں اور ہمیں ایسے پولیس افسران پرفخر ہے ۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...