17 مارچ 2018

ضمنی چناؤ کا سندیش:متحد اپوزیشن بھاجپا کو ہٹا سکتی ہے

لوک سبھا کی تین سیٹوں کے نتیجے بھاجپا اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ یہ چناؤ نتیجہ بھاجپا کے لئے پیغام تو ہے ہی صرف ادھنائک وادی پرچار سے چناؤ نہیں جیتے جاسکتے۔ ذات پات ،سماجی تجزیہ اور نرم گوئی اور ورکروں و عوام کی امیدوں پر کھرا اترنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ اترپردیش میں بھاجپا نے بھلے ہی دو سیٹیں ہاری ہیں لیکن یہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ و نائب وزیر اعلی کیشوپرساد موریہ کی ہار ہے۔ وزیر اعلی یوگی کے لئے تو گورکھپور شخصی ہار ہے۔ گورکھپور سیٹ پچھلے 27 برسوں سے گؤ رکھشک مٹھ کے پاس ہے۔ یہ کہا جاتا ہے یہاں سے یوگی ہار ہی نہیں سکتے۔ آدتیہ ناتھ خود پانچ بار گورکھپور پارلیمانی حلقہ سے چناؤ جیتتے آرہے تھے اور 1991 سے وہاں بھاجپا کا قبضہ رہا ہے۔ نتیجے بتا رہے ہیں کہ بھاجپا کے چناوی انتظامات نے سپا اور بسپا کے لئے اتحاد کو صحیح سے نہیں پرکھ سکے۔ بھاجپا یہ نہیں سمجھ پائی کے اترپردیش کی ان دو بڑی پارٹیوں کے ووٹروں کااکٹھا ہونا بھاجپا کیلئے بڑی چنوتی بن سکتا ہے۔ نتیجوں سے صاف ہے کہ سپا اپنے امیدواروں کے حق میں بسپا کے ووٹوں کو منتقل کروانے میں کامیاب رہی ہے۔ اترپردیش کی پھولپور لوک سبھا سیٹ بھاجپا کے پاس چار سال بھی نہیں رہی۔ دیش کو آزادی ملنے کے بعد 1952 میں پہلی بار ہوئے عام چناؤ کے 62 سال بعد بھاجپا کو 2014 میں پھولپور میں کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ سابق وزیر اعظم جواہرلعل نہرو کے حلقہ پھولپور سے کیشو پرساد موریہ نے 2014 میں ریکارڈ 3لاکھ8 ہزار ووٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ پہلا موقعہ تھا جبکہ بھاجپا کا کمل اس سیٹ پرکھلا تھا۔ ضمنی چناؤ کی ریلیوں میں موجودہ ایم پی کیشو پرساد موریہ اس بات کا ذکر نہیں کرنا بھولتے تھے کہ اتنے ووٹوں کے فرق سے نہرو کبھی نہیں جیتے۔ اس سے زیادہ فرق سے جنتا نے انہیں جتا کر دیش کی سب سے بڑی پنچایت میں بھیجا تھا۔ 19 فروری کو شیلندر سنگھ پٹیل کوامیدوار بنائے جانے کے بعد کیشو پرساد موریہ لگاتار الہ آبا دمیں ٹکے رہے اور پارلیمانی حلقہ کا شاید ہی کوئی علاقہ بچا ہوگا جہاں ان کا اقتدار نہ ہو۔ یہاں بھی سپا اور بسپا کی حمایت نے بھاجپا کے سبھی داؤ پیچ بگاڑ دئے۔ بھاجپا نیتا کمپین کے دوران بھلے ہی کھل کر اتحاد کو نہ مانتے رہے ہوں لیکن انہیں بھی اندراندر سپا۔ بسپا کے ساتھ آنے کاڈر ستا رہا تھا۔ بھاجپا کی ہار کے لئے کم پولنگ بھی بڑی وجہ رہی۔ شہری نارتھ اور ویسٹ میں 2014 کے عام چناؤ اور 2017 کے اسمبلی چناؤ کے مقابلہ کم ووٹنگ ہوئی ہے۔ پارٹی پالیسیوں سے ناراض بھاجپا ورکر ووٹ ڈالنے ہی نہیں نکلے۔ یہ ہار یوگی کی ہے یا مرکز کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ناراضگی کی ہے۔ آج سبھی طبقہ کے لوگ مرکز کی پالیسیوں سے پریشان ہیں۔ وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلی یوگی دونوں کے طریقہ کار سے بھاجپا ورکر ناراض ہیں۔ ناراضگی کا ہی نتیجہ ہے کہ گورکھپور اور پھولپور میں ووٹنگ فیصد کم ہوا۔ شہروں میں لوگ ووٹ ڈالنے ہی نہیں آئے۔ بھاجپا ورکر عام جنتا کے کام نہیں کرا پائے۔ سینٹرل اسکولوں میں داخلہ کا معاملہ ہو، گیس کنکشن کا ہو، یا نقل پر پابندی کا ہو یا کوئی دیگر پریشانی ہو، انہیں نہ تو وزیر اعلی سے ملنے کی اجازت ہے اور نہ ہی پی ایم سے۔ اس ہار سے بھاجپا کو اس بات کا اندازہ لگ گیا ہے کہ اترپردیش میں بسپا اور سپا کا اتحاد ہونے سے دونوں پارٹیوں کا ووٹ بینک متحد ہوسکتا ہے۔ بدھوار کو لوک سبھا کی تین سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ بھاجپا کو ملی ہار کے پیچھے ایک سیاسی ٹرینڈ بھی ہے جو پارٹی کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ 2014 میں بی جے پی نے 282 لوک سبھا سیٹیں جیتی تھیں لیکن بدھوار کو لوک سبھا چناؤ کے نتیجوں کے بعد اب تک پارٹی 6 سیٹیں گنوا چکی ہے۔
2014 لوک سبھا چناؤ کے بعد 11 ریاستوں میں 19 لوک سبھا سیٹوں پر چناؤ ہوئے ہیں۔ ان میں 8 سیٹیں بھاجپا کے پاس تھیں لیکن اب ان میں سے صرف2 سیٹیں ہیں برقرار رکھ سکی ہے 6 سیٹوں پر اسے ہار ملی ہے۔ بھاجپا صرف بروڈہ اور شہڈول سیٹ ہی جیت پائی ہے۔ 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو 282 سیٹیں ملی تھیں اب اس کے پاس 274 سیٹیں رہ گئی ہیں۔ کہنے کو تو محض دو ریاستوں کی پانچ سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہیں لیکن ان نتیجوں نے دیش کے مستقبل کی سیاست کی کہانی لکھنے کا کام بھی کیا ہے۔ نریندر مودی ۔ امت شاہ کی جیت کے تیز رفتار گھوڑے کوروکنے کی کوشش میں لگی اپوزیشن کے لئے اترپردیش اور بہار کے ان اہم ترین ضمنی چناؤ کے نتیجوں نے سنجیونی کا کام کیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے لئے یہ نتیجے بیحد اہم ہیں۔ اپوزیشن کو اب سمجھ میں آنے لگا ہے کہ اس کا بکھراؤ ہی بھاجپا کی جیت کی بڑی وجہ ہے۔ ضمنی چناؤ میں بھاجپا سے اپوزیشن نے سیدھی لڑائی لڑی اور نتیجے سامنے ہیں۔ پھولپور اور گورکھپور و ارریہ تینوں کی لوک سبھا سیٹوں پر اپوزیشن کا ایک ہی امیدوار تھا۔ تینوں جگہ بھاجپا کے ساتھ سیدھی لڑائی تھی اور تینوں میں بھاجپا ہار گئی۔ ان تینوں سیٹوں کے نتیجوں سے یہ صاف پیغام ملتا ہے کہ اگر اپوزیشن متحد ہوکر چناؤ لڑے تو 2019 میں بھاجپاکو روکا جاسکتا ہے۔ بھاجپا قیادت کے لئے ابھی بھی وقت ہے اپنے برتاؤ کو بدلنے کا۔ یہ غرور بھی ٹوٹنا ضروری ہے۔
(انل نریندر)

16 مارچ 2018

سونیا گاندھی کی ڈنر ڈپلومیسی

جمہوری نظام میں جہاں یہ ضروری ہوتا ہے کہ حکمراں فریق مضبوط ہو وہیں یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اپوزیشن بھی مضبوط ہو نہیں تو حکمراں فریق سمجھنے لگتا ہے کہ وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے۔موجودہ حالت یہی ہے کہ اپوزیشن انتہائی کمزور ہے۔ حکمراں فریق زیادہ مضبوط ہوتا جارہا ہے اس نقطہ نظر سے کانگریس پارٹی کی سینئر لیڈر اور یوپی اے کی چیئرمین سونیا گاندھی کی پہل لائق تحسین ہے۔ ویسے سونیا گاندھی کے ذریعے اپنی رہائش گاہ پر دی گئی ڈنر پارٹی نئی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی اتحاد کی مضبوط بنائے رکھنے کیلئے وہ اس طرح کے ڈنر کراتی رہی ہیں لیکن اس بار ڈنر پارٹی دیش میں مودی۔ شاہ کی جوڑی کے وجے رتھ کوروکنے کے لئے اپوزیشن اتحاد کی بنیاد رکھنے کیلئے دی گئی۔ سونیا گاندھی نے کانگریس صدر کا عہدہ بھلے ہی چھوڑدیا ہو لیکن وہ نہ صرف کانگریسی پارلیمانی پارٹی کی بلکہ یوپی اے کی چیئرمین بھی ہیں۔ راہل گاندھی کے کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب سونیا گاندھی کی طرف سے ایک بڑی سیاسی پہل کی گئی ہے۔ ڈنر ڈپلومیسی کے ذریعے سونیا نے یہ پیغام دینے کی بھی کوشش کی کہ بھاجپا کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرنے کو کانگریس تیار ہے۔ یکساں آئیڈیا لوجی والی سیاسی پارٹیوں کو اپنی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر دعوت دے کر سونیا نے اس قیاس آرائیوں کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی جس میں کہا جارہا تھا کہ راہل گاندھی کی لیڈر شپ کو دیگر پارٹیوں کے نیتا آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔ مطلب صاف ہے بھاجپا کے خلاف بننے والی اپوزیشن کے کسی بھی اتحاد کے سینٹر میں کانگریس ہی ہوگی اور خود سونیا گاندھی اپوزیشن اتحاد کی مضبوط کے لئے کام کرتی رہیں گی۔ ڈنر کے بہانے سونیا گاندھی نے اگلے لوک سبھا چناؤ کے لئے اپوزیشن کے مہا گٹھ بندھن کو لیکر ان 17 نیتاؤں کی نبض ٹٹولنے کی بھی کوشش کی جنہوں نے اس ڈنر میں حصہ لیا۔ ویسے یہ ڈنر پارٹی 2019 کے لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے ، ان میں تعاون اور تال میل کی راہ مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔ سونیا کی نظر جہاں اتحاد کا سائز بڑھانے پر ہے وہیں زیادہ سے زیادہ عاقائی پارٹیوں کو ساتھ لیکر وہ یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ بھاجپا کو روکنے کے لئے ان کے پاس حکمت عملی بھی ہے اور سیاسی متبادل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جیتن رام مانجھی اور بابو لال مرانڈی جیسے لیڈروں کو بھی بلایا گیا۔ ایک کے بعد ایک مسلسل ہار اور بھاجپا کے بڑھتے ابھار کے درمیان یکساں آئیڈیالوجی والی پارٹیوں میں کانگریس کی یہ پہل کتنی کارگر ثابت ہوگی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)

سرو شکتی مان شی جن پنگ

چین میں پارلیمانی سیاست میں سب سے بڑی تبدیلی کے تحت ربڑ اسٹمپ پارلیمنٹ نے بھی دوررس و کئی معنوں میں تاریخی آئین ترمیم کو منظور کرکے صدر شی جن پنگ کے دو بار کی میعاد کی ضروریت کو ختم کرکے شی جن پنگ کو تاحیات اقتدار میں بنے رہنے پر مہر لگادی ہے۔ 64 سالہ شی جس مہینے ہی دوسری مرتبہ اپنے پانچ برس کی میعاد کی شروعات کرنے والے ہیں اور حال کی دہائیوں میں سب سے زیادہ طاقتور نیتا ہیں جو حکمراں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور فوج کے چیف ہیں۔ وہ بانی صدر ماؤتسے تنگ کے بعد پہلے چینی لیڈر ہے جو تاحیات اقتدار میں بنے رہیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے اس ترمیم کے پیچھے دیش کو سب سے طاقتور بنانے کی دلیل دی ہے۔ پارٹی کے مطابق شی کے پاس دیش کو اقتصادی، فوجی بڑی طاقت بنانے کا پلان ہے۔ اس عہدے پر رہ کر یوجناؤں کو عملی جامہ پہنا پائیں گے شی جن پنگ سال 2012 میں صدر بنے۔ سال2017 میں وہ دوسری میعاد کے لئے منتخب ہوئے جس کے تحت وہ 2023 تک صدر کے عہدے پر بنے رہ سکتے ہیں۔ کمیونسٹ چین کے بانی ماؤتسے تنگ سے جن پنگ کا موازنہ کیا جارہا ہے۔ اس کے پیچھے پختہ بنیاد ہے ماؤ کی طرح جن پنگ بھی ایک ساتھ صدر ، سی پی سی کے سکریٹری جنرل اور فوجی کمیشن کے چیئرمین کے عہدے پر فائض ہیں۔ جن پنگ کے نظریات کو بھی ماؤ کے نظریات کی طرح پارٹی آئین میں شامل کیا گیا ہے۔ تاحیات صدر بنے رہنے کی آزادی سے جن پنگ کو لا محدود طاقت مل جائے گی۔ حال ہی میں چینی خارجہ پالیسی انڈو پیسفک یا بحر ہند خطہ میںیا لائن آف کنٹرول پر وہ بھارت کو اپنی طاقت دکھا سکتا ہے۔ یہ بھارت کی سلامتی کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے۔ جن پنگ کے صدر بنے رہنے سے چین ۔ پاکستان اکنامک کوریڈور کو بڑھاوا ملے گا جس کی بھارت شروع سے مخالفت کرتا آرہا ہے۔ اس کے علاوہ بی آر آئی پروجیکٹ پرپہلے سے ہی بھارت کی پریشان ہے۔جس میں ون بیلٹ ون روٹ کے ذریعے چین دنیا بھر کے ملکوں کو آپس میں جوڑنے میں لگا ہے۔ جن پنگ کے صدر بنے رہنے سے اس کو اور بڑھاوا ملے گا اور جن پنگ اب دنیا کے سب سے طاقتور نیتا بن سکتے ہیں۔ جن پنگ حقیقت میں ماؤسے بھی زیادہ طاقتور ہوگئے ہیں۔ اپنی اہم ترین کرپشن انسداد مہم چلا کر اپنے سیاسی مخالفین کو پہلے ہی صاف کرچکے جن پنگ صدر کے فیصلہ لینے کی کارروائی کو اپنے ہاتھ تک محدود کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
(انل نریندر)

15 مارچ 2018

پی ایم سے لیکر دیوتاؤں پر تبصرہ کرنے والا نریش اگروال

بہت دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں بنے رہنے کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہے کسی کو بھی پارٹی میں شامل کرسکتی ہے۔ ہم نے اٹل جی ، اڈوانی جی کا دور بھی دیکھا ہے جہاں ایک ووٹ کم رہنے پر اٹل جی نے اقتدار چھوڑدیا تھا۔ اب پارٹی کو اقتدار کی اتنی بھوک ہوگئی ہے کہ وہ یہ بھی نہیں دیکھتی کونسے نیتا پارٹی میں شامل ہورہے ہیں اس کی تاریخ اور برتاؤ کیا رہا ہے؟ میں بات کررہا ہوں اپنے بے تکے، بکواس بیان دینے والے نیتا نریش اگروال کی۔ ہوا کا رخ بھانپ کر سیاسی ڈگر تیارکرنے والے نریش اگروال نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے۔کانگریس سے سیاسی سفر شروع کرکے لوک تانترک کانگریس، سپا و بسپا میں اقتدار کا مزہ چکھنے کے بعد اب وہ بھاجپا کی پناہ میں آگئے ہیں۔ متنازعہ بیانات سے سرخیوں میں رہنے والے نریش اگروال چند دن پہلے تک پانی پی پی کر بھاجپا و اس کے سینئر لیڈروں کو کوس رہے تھے۔ پی ایم مودی سے لیکر ہندو دیوی دیوتاؤں کو گالی دینے والے کو آخر بھاجپا نے کیوں شامل کیا؟ وزیر اعظم نریندر مودی کے شادی نہ کرنے پر چٹکی لیتے ہوئے نریش اگروال نے کہا تھا انہوں نے شادی تو نہیں کی ، وہ پریوار کا مطلب کیا جانیں گے۔ وہیں لکھنؤ میں وشیہ سماج کے جلسہ میں مودی کے لئے نیچ لفظ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں وشیہ سماج کا حصہ ماننے سے انکا کردیا تھا۔ نیتاؤں کوتو چھوڑیئے نریش اگروال نے تو ہندو دیوی دیوتاؤں کو بھی نہیں بخشا، انہوں نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ وسکی میں وشنو بسے رم میں شری رام، جن میں ماتا جانکی اورٹھرے میں ہنومان۔ ’سیاور رام چندر کی جے‘۔ بھگوان کا موازنہ وسکی و رم سے کرنے والے اور بھاجپا آئی ٹی سیل کے ذریعے چند دن پہلے ہی پاکستانی ترجمان قرار دئے گئے سابق ایم پی نریش اگروال کو بھاجپا میں شامل کرنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ سپا سے اپنا ٹکٹ کٹنے سے ناراض نریش اگروال نے بھاجپا میں شامل ہوتے ہی اپنی عادت کے مطابق متنازع بیان دے ڈالا۔ نریش نے کہا فلم میں کام کرنے والوں سے ان کا موازنہ کیا جارہا ہے۔ فلم میں ڈانس کرنے والوں کے نام پر ان کا ٹکٹ کاٹا گیا ہے۔ حالانکہ اس بیان پر سشما سوراج نے نکتہ چینی کی ہے۔ ظاہر ہے نریش اگروال جیہ بچن کی بات کررہے تھے۔ اس سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ انہیں بھاجپا کی پالیسی اور رواج سے کوئی مطلب نہیں۔ یہ وہی نریش اگروال ہیں جنہوں نے سابق بحریہ کے افسر کلبھوشن جھادو کے معاملہ میں کہا تھا کہ اگرپاکستان نے کلبھوشن جھادو کو اپنے دیش میں آتنک وادی مانا ہے تو وہ اسی حساب سے جھادو برتاؤ کریں گے۔ ہمارے دیش میں بھی آتنک وادیوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرنا چاہئے۔ یہ وہی نریش اگروال ہیں جنہوں نے یوپی کے بدایوں میں ہوئے اجتماعی آبروریزی معاملہ پر کہا تھا کہ آپ ایک بگھیا کو بھی زبردستی گھسیٹ کر نہیں لے جاسکتے۔ پتہ نہیں کہ اترپردیش جوبھاجپا کا گڑھ بن چکا ہے وہاں کے اس بددماغ ،بدزبان لیڈرکو کیوں لیا گیا؟ ایسے لوگوں سے پارٹی کی ساکھ بگڑتی ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو آپ کے دیوی دیوتاؤں کو گالی دے، وزیراعظم کو گالی دے وہ بھی پارٹی میں اقتدار کی خاطر قابل قبول ہے۔
(انل نریندر)

دیش کا ان داتا خودکشی کرنے پر مجبور

یہ تشفی کی بات ہے کہ دیش کی توجہ ان 40 ہزار کسانوں کی طرف جارہی ہے جو مہاراشٹر کے ناسک شہر سے 160 کلو میٹر پیدل مارچ کرکے ممبئی پہنچتے ہیں اور مہاراشٹر سرکار کو ان کی مانگوں کو ماننے پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ مہاراشٹر کی دیویندر فڑنویس سرکار کو شاید امید نہیں تھی کہ جس کسان طبقہ کی مانگوں کو وہ ہلکے سے لیتے رہے ہیں آج اسی کسان طبقہ نے سرکار کی نیند حرام کرتے ہوئے ممبئی کوچ کیا۔ ناسک ذرعی مصنوعات کی بہت بڑی منڈی ہے۔ ممبئی دیش کی اقتصادی راجدھانی ہے اگر اس کے درمیان کسان دکھی اور ناراض ہے توہمارے سسٹم میں کہیں گڑبڑ ضرور ہے۔ پچھلے سال مدھیہ پردیش کے مندسور، رتلام اور اندور سے لیکر بھوپال تک کسانوں نے مشتعل مظاہرہ کیا تھا۔ اتفاق سے اس تحریک کی قیادت آر ایس ایس کے ہی ایک کسان لیڈر کررہے تھے۔ اس تحریک کی قیادت اس وقت اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے ہاتھ میں ہے اور وہ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی والی شاخ ہے اس کے باوجود اسے کانگریس مہاراشٹر نو نرمان سینا اور شیو سینا کی حمایت حاصل ہے۔ مارچ 2017 میں کسانوں نے سرکار سے موٹے طور پر قرض معافی ، فصلوں کے مناسب دام، بجلی کے دام کم کرنے اور سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش لاگو کرنے کی مانگ کی تھی۔ تب ان مانگوں کے لئے وزیر اعلی فڑنویس ناسک گئے تھے۔ جون 2017 میں مہاراشٹر حکومت نے 34 ہزار کروڑ روپے کی قرض معافی کا اعلان کر تودیا لیکن یہ محض دکھاوا بنا رہا۔ اس اعلان کے بعد بھی مہاراشٹر میں ہزاروں کسانوں سے خودکشی کی تھی ایسا ہونا لازمی تھا کیونکہ مہاراشٹر میںیہ قرض معافی کا فیصلہ انٹرنیٹ پر ہے جس کے بارے میں کسانوں کو پتہ نہیں ۔ اب وہ کھیتی کریں یا انٹر نیٹ چلانا سیکھ کر اپنے قرض معاف کرائیں؟ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی طرح یہ سب کر بھی لیں لیکن ان کی فصل تو بازارمیں صرف لٹنے کے لئے جاتی ہے۔ یہ شکایت اکیلے مہاراشٹر کی نہیں ہے گجرات، راجستھان، اترپردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ ، کرناٹک اور تاملناڈو تک میں کسان خاتمے اور مایوسی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ کسانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ دیش کا ان داتا ہونے کے باوجود اپنا پیٹ بھی نہیں بھرپاتا۔ اگر اس کا پیٹ بھر بھی جاتا ہے تو تعلیم ، صحت اور دوسری ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔ یہ وجہ ہے کہ خودکشی کرنے کو مجبور ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی جن سبھاؤں میں بول چکے ہیں کہ سال2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کردیں گے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب کسانوں کی جائز مانگیں اور مسئلہ حل ہوں گے۔
(انل نریندر)

14 مارچ 2018

دہلی میں جاری سیلنگ نے عوام کو سڑک پر لا کھڑا کیا

دہلی میں جاری سیلنگ سے تاجروں کو اپنی روزی روٹی کی پریشانی ستا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے چھوٹے تاجروں کی پریشانیاں بڑھنے لگی ہیں۔ ان کے سامنے سب سے بڑی چنوتی اب خود کا روزگار بن گیا ہے جبکہ کچھ وقت پہلے تک یہ لوگ دوسروں کو روزگار دے رہے تھے۔ سیلنگ کی وجہ سے بہت سے لوگ سڑک پر آگئے ہیں۔ سیلنگ کے خلاف دوکانداروں کا احتجاج بھی تیز ہوگیا ہے۔ اب تو مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔ تاجر اور عام شہری پریشان ہیں تو سیاسی پارٹیاں اسے لیکر سیاست میں مصروف ہیں۔ دہلی میں بسی ہوئی ناجائز مارکیٹ اور کالونیاں و دیگر ناجائز تعمیرات کے لئے بھی کافی حدتک یہی سیاسی پارٹیاں ذمہ دار ہیں۔ اقتدار میں جو پارٹی رہتی ہے وہ اپنے ووٹ کی خاطر ناجائزتعمیرات کو روکنے کی جگہ بڑھاوا دیتی ہے۔ اس کے پیچھے کرپشن اور ووٹ بینک کی سیاست وابستہ ہے۔ نیتاؤں اور افسران کی ملی بھگت سے تعمیرات کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف سیل بندی کی کارروائی چل رہی ہے تو دوسری طرف آج بھی کئی علاقوں میں بے روک ٹوک ناجائز تعمیرات جاری ہے۔تشویشناک بات یہ ہے کئی نیتاؤں پر ناجائز تعمیرات کے کاروبار سے جڑے ہونے یا اسے تحفظ دینے کے الزامات وقتاً فوقتاً لگتے رہے ہیں۔ اس طرح کی تعمیرات میں نہ توسیکورٹی پیمانو ں کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی شہری سہولیات کا۔ دہلی کی اکثر کالونیوں میں پولیس لاٹھی چارج کے بعد سے تینوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کو گھیرنے میں لگی ہیں۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ناجائز تعمیرات کرنے والوں پر کوئی کارروائی نہ ہونے پر سوال اٹھنا فطری ہی ہے۔ یہ عام رائے ہے کہ راجدھانی میں ناجائز تعمیرات کا ایک بڑا اشو ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کئی برسوں سے سرکار کو ناجائز تعمیرات بند کرانے کے احکامات دے چکی ہے۔ اس کے باوجود ناجائز تعمیرات جاری ہیں۔ دونوں بڑی عدالتیں واضح کرچکی ہیں جو علاقہ میں ناجائز تعمیرات ہوئی ہیں وہاں کے حکام یعنی پولیس ، ڈی ڈی اے، ایم سی ڈی حکام کے خلاف بھی مقدمہ درج کر کارروائی کی جائے۔ ہائی کورٹ نے تو سینک فارم ہاؤس کالونی میں ناجائز تعمیرات کو لیکر پچھلے 10 برسوں میں علاقوں میں تعینات ایم سی ڈی، دہلی پولیس اور متعلقہ محکمہ کے انجینئر سے لیکر سینئر افسران کے نام کی فہرست بھی طلب کی تھی تاکہ ان کے خلاف مقدمہ درج کر کارروائی کی جا سکے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اگر وقت رہتے یہ سرکاری ایجنسیاں اپنی ذمہ داریوں کے تئیں پابند رہتیں تو آج دہلی کے شہریوں کو سیلنگ کی یہ مار نہیں جھیلنی پڑتی۔ وزیر اعلی بھی اس مسئلہ کو لیکر بھوک ہڑتال کرنے، وزیر اعظم اور راہل گاندھی کو خط لکھ کر سیاسی داؤں آزمانے کی کوشش کررہے ہیں۔ نیتاؤں کے اسی سیاسی داؤ پیچ کی وجہ سے عدالت کو سخت رخ اپنانا پڑا ہے اور جنتا میں ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ دہلی میں جاری سیلنگ سے تاجروں کو اپنی روزی روٹی کی چنتا ستا رہی ہے تو ان کی ناراضگی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ وہیں دہلی سرکار، عام آدمی پارٹی اور کانگریس سیلنگ کو لیکر بھاجپا حکمراں ایم سی ڈی اور مرکزی سرکار کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرا کرمسلسل ہلا بول رہی ہیں۔ اس سے بھاجپا نیتاؤں کو بھی نقصان کی پریشانی ستا رہی ہے۔ ممکنہ نقصان کو دیکھتے ہوئے سیلنگ کے مسئلہ سے تاجروں کو راحت دلانے کے لئے دہلی پردیش بھاجپا کے نیتا، پارٹی ہائی کمان و وزیر شہری ترقی کے پاس جاکر اپیل کررہے ہیں ۔ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ماسٹر پلان میں ترمیم کو منظوری بھی دی گئی اس سے تاجروں کو کچھ راحت ملنے کی امید تھی لیکن سپریم کورٹ نے اس پر روک لگادی۔ پتہ نہیں یہ تباہی کب اور کیسے روکے گی؟
(انل نریندر)

سیتا ہی محفوظ نہیں : مندر بنانے کا کیا مطلب

بچیوں سے آبروریزی روکنے کے لئے جمعرات کو دہلی کے سینٹرل پارک میں بین الاقوامی عالمی مہلا دیوس پر بچوں ، بڑوں اور سرکردہ ہستیوں نے ہاتھ سے ہاتھ ملائے۔ دہلی مہلا کمیشن کی اپیل پر پورے دیش میں بڑھتے آبروریزی کے معاملوں میں سینٹرل پارک میں انسانی چین بنائی گئی۔ مہلا کمیشن نے’ریپ روکو‘ مہم کے تحت بنائی گئی انسانی چین میں شامل ہونے والے لوگ نے بچوں سے آبروریزی کرنے والوں کو چھ ماہ کے اندر پھانسی کی سزا دینے کی مانگ کی۔ ’ریپ روکو‘ تحریک کی حمایت میں دہلی مہلا کمیشن نے ایک دستخطی خط وزیر اعظم کو بھیجنے کی اپیل کی تھی اس پر 35 دن میں تقریباً پانچ لاکھ55 ہزار خط آئے۔ ا س میں لوگوں نے وزیر اعظم سے اپنا درد بتاتے ہوئے سخت قانون بنانے کی اپیل کی تھی تاکہ یہ خواتین اور بچوں کے تئیں لوگوں کا نظریہ بدلے۔ ایک خط میں ایک خاتون نے لکھا ہے کہ دہلی میں عورتوں کے خلاف جرائم مسلسل بڑھ رہے ہیں اور جرائم پیشہ کو کوئی احساس نہیں ہے۔ ہمارے کلچر میں عورتوں کو دیوی کی جگہ دی گئی ہے۔ اس کے باوجود عورتیں جسمانی ،ذہنی جرائم سے مسلسل متاثر ہورہی ہیں۔ ان میں سے کئی معاملوں میں تو کوئی شکایت تک کرنے نہیں جاتی اس کی وجہ ہے قانون و نظم پختہ نہ ہونا۔کچھ وقت پہلے میں نے آپ کو رام مندر تعمیر کے حق میں بولتے ہوئے سنا۔ میری درخواست ہے کہ اگر سیتا ہی محفوظ نہیں رہے گی تو پھر مندر بنانے کا کیا مطلب ہے؟ میں اتم نگر میں رہتی ہوں یہاں آئے دن عورتوں کے ساتھ وارداتیں ہوتی ہیں۔ میری آپ سے درخواست ہے چھوٹی بچیوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کو روکنے اور سخت قانون بنانے کے لئے جلد سے جلد کارروائی کریں۔ پردھان منتری جی ۔ (ایک دوسرا خط) میں آپ کو آس پاس کے ماحول کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں۔ میری دو بیٹیاں ہیں وہ گھر سے نکلتی ہیں اور شام کو جب تک لوٹ نہیں آتیں تو ذہن میں خوب بنا رہتا ہے۔ بس پرارتھنا کرتی رہتی ہوں کہ وہ صحیح سلامت لوٹ آئیں۔ میری بیٹی کئی بات بتاتی ہے کہ بس میں کئی بار کیسے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے ، سڑکوں پر اس کے قریب سے بائک پر نکلتے ہوئے لڑکے گند ی باتیں بولتے ہیں۔ میں جب رات گھر سے باہر اکیلی ہوتی ہوں تو آٹھ بجنے کے بعد سے ڈر لگا رہتا ہے۔ ہر آدمی ایسے گھورتا ہے جیسے کسی عورت کو کبھی دیکھا نہ ہو۔ آج ہم بیٹی کو پڑھانے، بچانے یا ان کے جہیز یا ان کی پرورش سے نہیں ڈرتے، آج ہم ان کی عزت جانے سے ڈرتے ہیں۔ ہم مہلا کمیشن کو آبروریزی کے خلاف موثر ڈھنگ سے آواز اٹھانے کے لئے سراہنا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ سرکار مزید ٹھوس قدم اٹھائے گی۔
(انل نریندر)

11 مارچ 2018

نہیں تھمے گی دہلی میں سیلنگ

دہلی کے تاجروں کو سیلنگ سے راحت ملنے کا امکان تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے منگلوار کو راجدھانی کے ماسٹر پلان 2021 میں ترمیم کرنے پر روک لگای ہے۔ ان ترامیم کے ذریعے مرکزی سرکار دہلی کے تاجروں کو سیلنگ سے راحت دینے کی تیاری کررہی تھی۔ اب تمام بازاروں کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں میں چلنے والی کاروباری دوکانوں پر بھی سیلنگ کی تلوار لٹک گئی ہے۔ دہلی میں پچھلے 22 دسمبر سے بازاروں میں سیلنگ کی کارروائی شروع ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر مانیٹرنگ کمیٹی کی رہنمائی میں ڈھائی مہینہ کے اندر 2500 سے زیادہ املاک سیل کی گئی ہیں۔ اس کے احتجاج میں تاجروں کی تحریک، دھرنا ،مظاہرے جاری ہیں۔ راحت کے لئے مرکزی شہری محکمہ کی پہل پر ڈی ڈی اے نے کارروائی شروع کی تھی۔ اسی بنیاد پر ڈی ڈی کے ذریعے راحت کا ایک ڈرافت تیار کیا گیا تھا لیکن منگل کو سپریم کورٹ نے اس ڈرافٹ کے خلاف منفی رویہ ظاہر کیا۔ اس نے ماسٹر پلان 2021 کو لاگو کرنے کی ہدایت دے دی۔ سپریم کورٹ کے رخ کے بعد راجدھانی کے سبھی بڑے بازار سیلنگ کی زد میں آگئے ہیں۔ دراصل دہلی کے تقریباً سبھی بازاروں میں ایسی دوکانیں کم ہی ہیں جہاں پر تعمیراتی قواعد اور اراضی اثاثہ ایکٹ کی کسی نہ کسی شکل میں خلاف ورزی نہ کی گئی ہو۔ دراصل سپریم کورٹ نے جو سوال کئے ہیں وہ کافی تلخ ہیں اس وجہ سے ڈی ڈی اے فیڈ اوور دینے میں دیری کررہی ہے۔ ڈی ڈی اے نے ان ترامیم کے ذریعے کسی طرح کا ہوم ورک نہیں کیا۔ عدالت ہذا نے صاف الفاظ میں پوچھا کہ ان ترامیم کا دہلی کی آب و ہوا پر کیا اور کتنا اثر پڑے گا؟ کیا پارکنگ سہولت دستیاب کرانے کیلئے پہلو پر غور ہوا ہے؟ کیا لوگوں کو شہری سہولیات خاص کر پانی دستیاب کرایا جائے گا؟ سیور و کچرہ نپٹان و بجلی سپلائی کے پہلو پر غور ہوا ہے؟ کیا عمارت کی حفاظت کے پہلو پر بھی غور ہوا ہے؟ کیا سبھی عمارتوں کی حفاظت کو لیکر کوئی اسٹڈی ہوئی ہے؟ کیا دہلی کی بڑھتی آبادی کے پہلو پر غور کیا گیا ہے؟ کیا آلودگی کنٹرول بورڈ کے پاس 2006 سے اب تک کا دہلی کی آلودگی پر ریکارڈ ہے؟ کیا آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لئے قدم اٹھائے گئے؟ دہلی کے تاجروں کو سپریم کورٹ کے فیصلہ سے دھکا لگا ہے اب وہ احتجاج کی شکل میں بازار بند کرنے جارہے ہیں۔ حکام کی غلطیوں کے سبب تاجر تباہ ہورہے ہیں۔
(انل نریندر)

کیا گورکھپور ۔پھولپور میں پھر کھلے گا کمل

نارتھ ایسٹ میں جیت کا ڈنکا بجا کرکانگریس و لیفٹ پارٹیوں و اپوزیشن کی لٹیا ڈوبانے کے بعد اب بھاجپا کی نظریں اترپردیش و بہار ضمنی چناؤ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ راجستھان و مدھیہ پردیش ضمنی چناؤ میں بھاجپاکو ملی ہار نے ایک بڑا سوال یہ ضرور کھڑا کردیا ہے کہ کیا بھاجپا حکمراں دونوں ریاستوں میں کانگریس کو اینٹی کمبینسی کا فائدہ ملے گا؟ اترپردیش میں گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا ضمنی چناؤ ہورہے ہیں۔ دیش کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی سیاسی زمین پھولپور پارلیمانی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں بھاجپا۔ کانگریس اور سپا نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ سبھی جیت کا دعوی بھی کررہی ہیں لیکن کئی وجوہات سے مقابلہ اتنا پیچیدہ ہوگیا ہے کہ اونٹ کس کرونٹ بیٹھے گا اندازہ لگانا مشکل ہورہا ہے۔ اس سیٹ پر آزادی کے بعد پہلی بار 2014 میں بھاجپا کا پرچم لہرایاتھا۔ اترپردیش کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریا نے اس سیٹ سے سپا کے دھرم راج سنگھ پٹیل کو تین لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہرایا تھا۔ کیشو کے ودھان پریشد ممبر بننے کے بعد یہاں ضمنی چناؤ ہورہے ہیں۔ بھاجپا نے اس سیٹ پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پورا زور لگادیا ہے۔ بھاجپا کو روکنے کیلئے سپا و اس کی کٹر دشمن رہی مایاوتی کی پارٹی بسپا کے ذریعے اتحاد کے دنگل میں ابال آگیا ہے۔ گورکھپور لوک سبھا سیٹ وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے استعفیٰ دینے کے بعد خالی ہوئی سیٹ پر ضمنی چناؤ ہورہے ہیں۔ 1998 سے مسلسل گورکھپور کے ایم پی رہے یوگی چناؤ کمپین کے دوران کئی بار کہہ چکے ہیں بھاجپا امیدوار اوپیندر شکل انہی کے نمائندہ ہیں۔ کانگریس نے یہاں سے سلہتا کو امیدوار بنایا ہے۔ گورکھپور لوک سبھا حلقہ کے ذات پات کے تجزیئے پر نظرڈالیں تو یہاں قریب ساڑھے تین لاکھ مسلمان اور ساڑھے چار لاکھ نشاد اور دو لاکھ دلت ،دو لاکھ یادو اور ڈیڑھ لاکھ پاسوان ووٹر ہیں لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ سپا اور بسپا کا تال میل ووٹروں کو لبھانے میں کتنا کامیاب ہوتا ہے؟ یوپی ضمنی چناؤ میں بھاجپا کی نگاہ اس لئے بھی ٹکی ہوئی ہے کیونکہ ضمنی چناؤ موضوع بحث بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پارلیمانی ریاست جن دو سیٹوں پر لوک سبھا کے چناؤ ہونے ہیں اس میں ایک سیٹ سی ایم یوگی کی ہے جہاں کی جیت یوگی کے لئے اہم ہے جبکہ پھولپور سیٹ پر بھی بھاجپا کی اگنی پریکشا ہونی ہے۔ سپا کے لئے دونوں سیٹیں ناک کا سوال بن چکی ہیں۔ اس درمیان اہمیت یوپی بہار کی یہ بھی ہے کہ راجیہ سبھا کی چھ سیٹوں پر امکانی گھمسان سے پہلے عوامی مورچہ چیف جیت رام مانجھی کو این ڈی اے سے توڑ کر اپنے پالے میں لانے میں کامیاب رہے بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے لئے بھی ضمنی چناؤ ایک امتحان ہے۔ ضمنی چناؤ کی تین میں سے دو سیٹیں لالو یادو کی پارٹی آر جے ڈی کے کھاتہ کی ہیں جہاں بھاجپا کو اپنی سیٹ بچانی ہے اور آر جے ڈی کے لئے دونوں سیٹوں پر جیت کے بعد نیا صدر تیجسوی یادو کو بنانا ہوگا۔ الہ آباد کی پھولپور اور گورکھپور لوک سبھا حلقوں میں 11 مارچ کو ہونے والے ضمنی چناؤ کے دن عام چھٹی رہے گی۔ دیکھیں ان ضمنی انتخابات میں کون بازی مارتا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ اترپردیش اور بہار میں کس کی ہوا بہہ رہی ہے۔
(انل نریندر)