Translater

16 جون 2012

کانگریس کے پلٹ وار سے ممتا اپنے ہی جال میں پھنسیں

صدارتی چناؤ میں ممتا بینرجی اور ملائم سنگھ یادو کی جگل بندی نے ایسا پینچ پھنسایا تھا کہ کانگریس چاروں خانے چت ہوجائے لیکن کانگریس کو شاید کبھی یہ امید نہ ہوگی مگر کانگریس نے اپنا امیدوار پرنب مکھرجی کو اعلان کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور اس کے اس پاسے سے ممتا بینرجی الگ تھلگ پڑ گئی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سماجوادی پارٹی نے بھی بطور صدر امیدوار پرنب مکھرجی کے نام کی حمایت کا اعلان کردیا ہے اور بسپا چیف محترمہ مایاوتی نے بھی یوپی اے کے ذریعے امیدوار اعلان کئے جانے کے بعد پریس کانفرنس کرکے یوپی اے کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل بسپا چیف مایاوتی کی محترمہ سونیا گاندھی کی ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد پارٹی نے یہ فیصلہ لیا ہے۔یوپی اے کے صدارتی امیدوار پرنب مکھرجی کا نام سامنے آنے کے بعد سارے تجزیئے بدل گئے ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو ممتا بینرجی نے ڈاکٹر کلام کا نام پیش کرکے ایک تیر سے کئی نشانے سادھنے کی کوشش کی تھی۔ وہیں سپا چیف ملائم سنگھ یادو ہیں جنہیں کچھ دن پہلے ہی یوپی اے II- کی سالانہ رپورٹ کارڈ پیش کرنے کے لئے سرکار کے اہم وزرا کے ساتھ ایک اسٹیج پر کھڑا کیا گیا تھا اور رپورٹ جاری کی گئی تھی۔ ممتا نے کانگریس سے بدلہ لینے کیلئے کلام کا کارڈ کھیلا تھا۔ کانگریس نے یہ وارننگ دینے کی کوشش کی تھی کہ ممتا آپ کے پاس لوک سبھا کے 19 ایم پی ہیں تو ہم سماجوادی پارٹی کو گلے لگا کر ان کے 22 ممبران کی حمایت پا سکتے ہیںآپ اپنی اوقات میں رہو۔ ممتا نے ایک جھٹکے میں کانگریس کو اس کی اوقات دکھانے کی کوشش کی تھی۔ اپنے پینل میں سومناتھ چٹرجی کا نام شامل کرکے ممتا نے یہ بھی جتایا تھا کہ وہ بنگالیوں کے خلاف نہیں ہیں۔ پرنب مکھرجی کی حمایت اس لئے بھی کرنے کو ممتا کو مجبور کیا جارہا تھا کیونکہ پرنب دادا بھی بنگالی ہیں اور بنگالی ہونے کے ناطے ممتا ان کی حمایت کرنے کیلئے آخر میں مجبور ہوجائیں گی لیکن ممتا نے یہاں بھی کانگریس کو مات دے دی اور سومناتھ چٹرجی کا نام لیکر اس تنقید سے بھی اپنے آپ کو بچالیا۔ یوپی اے سرکار سونیا گاندھی کی پسند کو مسترد کرکے ممتا۔ ملائم نے جو پانسا پھینکا ہے وہ آنے والے دنوں میں نئے پولارائزیشن کو جنم دے گا۔ آخری وقت میں جس ڈھنگ سے ممتا اور کانگریس صدرسونیا گاندھی نے جو گگلی چلی ہے اس سے سیاست میں ایک طرح سے بھونچال آگیا ہے۔ اس سے کانگریس کی نہ صرف مشکل میں کمی آئی ہے بلکہ صدارتی چناؤ کو اب پیچیدہ بنادیا ہے۔ دراصل صدارتی عہدے کے چناؤ کے لئے وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام لینا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کی علامت ہے۔ کانگریس کے اندر بھی ایک ایسا گروپ ہے جو منموہن سنگھ کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ منموہن سنگھ کا نام تجویز کرنا ایک طرح سے یوپی اے سرکار کی ان دونوں حمایتی پارٹیوں کے ذریعے وزیر اعظم میں عدم اعتماد کا اظہار کرنے کے مانند ہے۔ منموہن سنگھ کانگریس پارٹی کے لئے ایک بوجھ بن چکے ہیں وہ ایسٹڈ کم لائبلیٹی زیادہ ہیں۔سبھی جانتے ہیں منموہن سنگھ کو ہٹانا اس وقت کانگریس کے لئے ممکن نہیں ہیں لیکن ممتا ۔ ملائم نے پنگا ضرور پھنسادیا ہے۔دونوں نے سونیا گاندھی کو یہ بھی واضح پیغام دیا ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی فیصلے تک پہنچنے میں ترنمول اور سپا کے رول کو درکنار نہیں کیا جاسکتا۔ ممتا اور کانگریس میں تلخی اب یقینی طور پر بڑھے گی۔ ایک کانگریسی ایم پی ادھیر چودھری نے تو ممتا کا موازنہ میر جعفر سے ہی کرڈالا کیونکہ انہوں نے ایک بنگالی(پرنب مکھرجی) کی مخالفت کی ہے۔ ممتا کے اس برتاؤ کو سونیا گاندھی شاید نہ بھول پائیں اس لئے دونوں خواتین میں ایک ایسی دراڑ پڑ گئی ہے جس کو پر کرنا آسان نہ ہوگا۔ ممتا دیدی بہت غصے میں ہیں۔ ملائم اور ممتا نے مل کر کانگریس کو یوں ہی نہیں چت کرنے کی کوشش کی تھی۔ دونوں ہی کانگریس اور اس کی سرکار سے بظاہری طور پر عاجز لگتے ہیں۔ اب کانگریس پر یہ منحصر رہے گا کہ صدارتی عہدے کا چناؤ کروانے کیلئے کس حد تک جاناچاہے گی؟ ذرائع کے مطابق بہانا بھلے ہی صدارتی چناؤ ہو لیکن لگتا یہ ہے ملائم اور ممتا نے یوپی اے سرکار کو حمایت کے باوجود کانگریس سے نمٹنے کیلئے موٹے طور پر ایک بلیوپرنٹ تیار کرلیا ہے۔ دونوں ہی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مرکز میں سرکار بنانے کے باوجود ضرورت کسی موقعے پر کانگریس نے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا۔ سپا تو وہ بات شاید اب تک بھولی نہیں ہوگی جب 2008 میں امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے لئے اس نے منموہن سنگھ حکومت کو بچانے کے لئے اپنے لیفٹ ساتھیوں سے رشتے تک خراب کرلئے تھے جبکہ ممتا بینرجی تو محض تین سال میں ہیں اس کانگریس اور اس کی سرکار کے’ استعمال کرو اور پھینک دو‘ کے رویئے سے اب بیزار ہوچکی ہیں۔ دونوں میں یہ تاثر بنا ہے کہ کانگریس انہیں ایک دوسرے کی قیمت پر استعمال کرتی ہے لہٰذا اب اسے سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ ملائم اور ممتا نے صدارتی عہدے کے لئے اے پی جے عبدالکلام، منموہن سنگھ اور سومناتھ چٹرجی میں سے کسی ایک اور امیدوار بنانے کا اعلان کر کانگریس کے خلاف ایک لمبی لڑائی لڑنے کا سندیش دیا ہے۔اگر سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام چناؤ لڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں تو یقینی طور پر صدارتی چناؤ ہوگا۔ مگر ممتا بینرجی کے ان کے نام پر اٹل رہنے سے معاملہ اب یقینی طور پر طول پکڑ سکتا ہے اور کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ منموہن سرکار بھی جا سکتی ہے۔ ماننا پڑے گا ممتا نے ایسی شطرنج کی چال چلی کہ کانگریس بیک فٹ پر آگئی ہے۔ ابھی چناؤ میں وقت ہے دیکھیں آنے والے دنوں میں یہ دھند ہٹتی ہے یا نہیں؟ (انل نریندر)

ہماچل میں8 مشتبہ چینیوں کی سنسنی خیز گرفتاری

ہماچل پردیش کے منڈی علاقے سے8مشتبہ چینیوں کی گرفتاری کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔یہ آٹھوں غیر ملکی منڈی کے چوتڑا گاؤں میں واقع ایک شخص کی زیر تعمیر بلڈنگ میں بڑھئی اور پینٹر کا کام کررہے تھے۔ اس شخص کا نام چمپئی ہے جو سکم کا باشندہ ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کو چمپئی پر اس وقت شک ہوا جب پتہ چلا کہ اس نے یہاں اپنے نام پر اچھی خاصی زمین خرید رکھی ہے۔ غور طلب ہے کہ اس علاقے میں ہماچل کے شہری ہی زمین خرید سکتے ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو کی شناخت پر ہماچل پولیس نے جب عمارت کی تلاشی لی تو ان غیر ملکیوں کا پتہ چلا۔ عمارت سے30 لاکھ روپے ، 3 ہزار امریکی ڈالر، کچھ چینی کرنسی اور 10 موبائل سم کارڈ بھی ملے ہیں، یہ کرنسی کس کی یہ پتہ نہیں چلا۔ چھاپے ماری کے وقت چمپئی اپنے گھر میں موجود نہیں تھا۔ یہ آٹھوں غیر ملکی ویزا ختم ہونے کے بعد بھی رہ رہے تھے اور انہوں نے مقامی انتظامیہ کو اس کی اطلاع نہیں دی تھی۔ ذرائع کے مطابق آٹھوں غیر ملی بودھ دھرم کے ’’بلیک ہیٹ‘‘ مذہب کے ماننے والے ہیں جس کے پیشوا سترویں کرماپا اورگین ترنلے ڈورجی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے گرفتار ان غیر ملکیوں کے پاس سے تائیوانی پاسپورٹ برآمد ہوئے ہیں۔ پاسپورٹ کی بنیاد پر ہی انہیں تائیوانی شہری مانا جارہا ہے حالانکہ ان کی اصلی شہریت کی پہچان ابھی نہیں ہو پائی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق سبھی کے پاسپورٹ پر ٹوریسٹ ویزا کی مہر لگی ہے جس کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ پاسپورٹ اصلی ہے یا نقلی اس کی جانچ بھی کی جارہی ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق گرفتار غیر ملکیوں کے پاسپورٹ نقلی پائے جانے پر ہی ان پر جاسوسی کا الزام لگایا جاسکتا ہے۔ معاملیکی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس ہر پہلو کی تفتیش کررہی ہے۔ تبتی دھرم گورو دلائی لامہ نے پچھلے دنوں یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ چین ان کے قتل کا پلان بنا رہا ہے۔ کیا یہ مشتبہ غیر ملکی چین کے اس پلان کا حصہ ہیں؟ یہ مشتبہ تو ہیں ہی اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ تقریباً پانچ کرور روپے کی لاگت سے بنائی جارہی عمارت جس میں یہ آٹھوں لوگ کام کررہے تھے کا کوئی وارث یا متعلقہ دستاویز ابھی تک پولیس کو ہاتھ نہیں لگا ہے۔ عمارت سے برآمد ہوئے 30 لاکھ روپے اور چینی کرنسی کو لیکر بھی یہ معمہ برقرار ہے۔ ہماچل کے اس علاقے میں محض ہماچلی ہی زمین کرید سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین کا مالک کوئی ہماچلی ہی ہو۔ جس کی جگہ پر یہ گورکھ دھندہ چل رہا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے احمد آباد میں کہا کہ آٹھوں غیر ملکیوں کو غیر قانونی طریقے سے رکنے کے سبب کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ اس بارے میں رپورٹ جلد ملے گی۔ معاملے میں بہت جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچنا ٹھیک نہ ہوگا۔ کہیں یہ جھوٹا الارم نہ ہو۔ ہمیں معاملے کی مزید تفصیل کا انتظار کرنا چاہئے کیونکہ یہ آٹھوں غیر ملکی چینی نژاد ہیں اس لئے یہ معاملہ مشتبہ اور سنسنی خیز بن سکتا ہے۔ دیکھیں آگے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ (انل نریندر)

15 جون 2012

ساڑھے چار فیصد اقلیتی کوٹے پر سپریم کورٹ نے لگائی پھٹکار

مرکزی سرکار نے اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے جس ہڑبڑی سے بغیر سوچے سمجھے ووٹ بینک کے چکر میں پسماندہ طبقے یعنی اوبی سی کے 27فیصدی ریزرویشن کے اندر پسماندہ اقلیتوں کو ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا حشر وہی ہونا تھا جو ہوا۔ اب سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسٹے دینے سے انکارکردیا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک کہا ہے کہ ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دینے کی پختہ بنیاد نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ آندھرا پردیش کی کانگریس سرکار نے مسلمانوں کو ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دیا تھا۔ مرکزی حکومت نے کافی ادھیڑ بن کے بعد ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسٹے لینے کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ منموہن سرکار نے جب یہ فیصلہ لیا تھا تبھی یہ ظاہر ہوگیا تھا کہ ریزرویشن کا اشو عدالتی ضمیر سے بھٹک کر خالی سیاسی نفع نقصان پر مرکوز تھا۔ جنتا بے وقوف نہیں ہے وہ تب ہی سمجھ گئی تھی کہ منموہن سرکار لوک پال بل سے چوطرفہ دباؤ میں ہے اور وہ جنتا کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ ریزرویشن کا شوشہ لائی ہے۔ بدقسمتی سے مرکزی سرکار کی یہ چال کامیاب نہیں ہوئی اور اقلیتیں سرکار کے اس لالی پاپ کے چکر میں نہیں آئیں اور کانگریس کی یوپی اے سرکار کو منہ کی کھانی پڑی۔ کانگریس کا عالم یہ رہا کہ مسلم ووٹوں کے پولارائزیشن کے لئے تب مرکزی سرکار کے وزیر آئینی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر بے تکی بیان بازی پر اتر آئے۔ اچھی بات یہ رہی جو جھٹکا پہلے کانگریس کو پہلے آندھرا پردیش نے دیا تھا تقریباً اسی طرح کا جھٹکا پارٹی کو اترپردیش کے چناوی نتیجے سے ملا۔ اس کے باوجود دونوں جھٹکوں کے کانگریس کی رہنمائی والی یوپی اے سرکار مسلمانوں کی حمایتی دکھائی دینے کیلئے سپریم کورٹ پہنچی۔ یہاں بھی اسے مایوسی ہاتھ لگی۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریزرویشن آئینی سسٹم اور اس کی آڑ میں ہونے والی سیاست دونوں مختلف چیزیں ہیں۔ ریزرویشن کے ذریعے سماج کے نظرانداز طبقے کو قومی دھارا سے جوڑنے میں یقینی طور پر مدد ملی ہے لیکن شطرنج کی چال میں سیاسی پارٹیوں اور سرکاروں نے ریزرویشن کو اپنے سیاسی فائدے کے حصول کا ذریعہ بنا لیا جبکہ کسی پسماندہ طبقے کی بھلائی کے لئے ریزرویشن ایک ذریعہ ہے اور وہ بھی مناسب موقعے دستیاب کرائے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سرکار عدالت کو یہ بھی نہیں بتا سکی کہ کس بنیاد پر اقلیتوں کو ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ابھی تک سرکار کے پاس عدالت میں اپنی دلیل دینے کیلئے اس کے پاس کوئی پختہ بنیاد نہیں ہے کہ ریزرویشن دینے کا فیصلہ اس نے ایک مفصل سروے کے بعد لیا۔ اس اشو پر مرکزی سرکار اور کانگریس پارٹی کی ایک طرح کی کرکری ہوئی اور وہیں دوسری طرف ایک اچھی بات یہ رہی کہ ریزرویشن کی سیاست کے خلاف سب سے تلخ احتجاج اس بار مسلم طبقے کی طرف سے کیا گیا ہے۔ مرکز ی سرکار اب بھی اقلیتوں کو بیوقوف بنانے سے باز نہیں آرہی ہے۔ سلمان خورشید آئینی ترمیم کی بات کررہے ہیں۔ کانگریس مسلمانوں میں بری طرح سے بے نقاب ہوچکی ہے۔ اب وہ سرکار کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ بدھوار کو عدالت نے بھی ریزرویشن دینے کے معاملے پر اسٹے دینے سے انکار کردیا ۔ جسٹس ایس ۔کے رادھا کرشن، جسٹس جے ۔ایس کھلڑ کی ڈویژن بنچ نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل گورو بینر جی کی دلیلیں سننے کے بعد دو ٹوک لفظوں میں کہا ہم ہائی کورٹ کے حکم پر روک نہیں لگائیں گے۔ جج صاحبان نے بھی سرکار سے وہی سوال کیا کہ دیگر پسماندہ طبقوں کے لئے ریزرویشن میں سے کیا مذہب کی بنیاد پر اس طرح کی کلاسی فکیشن کی جاسکتی ہے۔ (انل نریندر)

ہم نے قتیل کو اس لئے مارا کیونکہ اس نے گنپتی مندر میں بم رکھا تھا

پنے کی یرودا جیل میں گذشتہ جمعہ کو جیل کے اندر ہی انڈین مجاہدین کے ایک مشتبہ آتنک وادی محمد قتیل صدیقی کو قتل کردیا گیا۔ صدیقی جرمن بیکری کانڈ، چننا سوامی اسٹیڈیم سمیت کئی آتنکی دھماکوں کا ملزم تھا۔ قتیل کو جمعہ کو ہی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ پولیس کے مطابق قتیل کا قتل دو قیدیوں شرد موہل اور آلوک مالے راؤ نے کیا۔ مالے راؤ نے اسے مانا بھی ہے۔ قتیل صدیقی کے قتل میں انڈر ورلڈ کا ہاتھ مانا جارہا ہے۔ اے ٹی ایس کے ایک افسر نے اس طرف اشارہ کیا ہے۔ پولیس اب انڈرورلڈ کے نقطہ کی چھان بین کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ممکن ہے قتیل صدیقی کا قتل داؤد ابراہیم اور چھوٹا راجن کے درمیان چھڑی جنگ کا حصہ رہا ہو۔ صدیقی کے قتل میں کہا جارہا ہے کہ ممکن ہے چھوٹا راجن کا ہاتھ ہو۔ خیال رہے 1993ء ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد داؤد اور چھوٹا راجن الگ الگ ہوگئے اور دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے۔ داؤد ابراہیم اب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے پوری طرح مل چکے ہیں اور دونوں مل کر بھارت پر حملے کروا رہے ہیں۔ چھوٹا راجن کے چیلے بھرت نیپالی ،وجے شیٹی اور روی پجاری جنہوں نے اپنے گروہ بنا لے ہیں اب داؤد کے گرگوں کاو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے شرد موہل اور آلوک مالے راؤ نے پوچھ تاچھ کے دوران پولیس کو بتایا کہ انہوں نے صدیقی کا قتل اس لئے کیا کیونکہ اس نے بھگوان گنپتی کے مندر کو اڑانے کی سازش کی تھی اور وہ دیش دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ حالانکہ ابھی تک دعوے سے تو نہیں کہا جاسکتا کہ قتل کس بنیاد پر کیا گیا لیکن اتنا لگتا ہے کہ یہ انڈورورلڈ میں جنگ کا ایک حصہ ضرور ہے۔ ممکن ہے صدیقی کو جیل میں مارنے کی کسی نے سپاری دی ہو کیونکہ دونوں قیدی پہلے ہی سے یرودا جیل میں تھے۔ اس لئے انہیں جیل کی سرگرمیوں کے بارے میں سب کچھ معلوم تھا۔ قتیل کا خاندان اس قتل کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کررہا ہے۔ خاندان کے ذرائع نے بتایا کہ وہ اس کو لیکر سپریم کورٹ میں جاسکتے ہیں۔ مارا گیا قتیل صدیقی آتنک وادی سرگرمیوں میں شامل ہونے سے پہلے ایک پلمبر یعنی نل ٹھیک کرنے والا تھا۔ اس نے دہلی پولیس کے ذریعے گرفتار ہونے پر بتایا تھا کہ لال گنج دربھنگہ کا رہنے والا ہے۔2008ء میں دہلی میں عمران عرف شاہ رخ حبیب عرف اقبال ،شاہد عرف ریاض بھٹکل سے اس کا تعلق قائم ہوا۔ یہ لوگ بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ اور مسلمانوں پر ہورہے ظلم کی باتیں کرتے تھے۔ اسی وجہ سے میں نے انڈین مجاہدین میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اکتوبر2009ء کو میں کولکتہ آیا ،وہاں سے پاکستان جانے کا پروگرام تھا اس نے جرمن بیکری کا فروری2010ء میں جا کر اپنا جرم قبول کیا۔اس کے علاوہ اس نے گنیش مندر میں جاکر ایک بیگ رکھا تھا جس میں بم تھا لیکن مجھے بیگ رکھتے کچھ بھکتوں نے دیکھ لیا تھا اس لئے ہم اس میں دھماکہ نہیں کرپائے۔ اس نے چننا سوامی اسٹیڈیم میں بم رکھنے کی بات بھی قبول کی تھی۔ بم رکھنے کے بعد وہ دربھنگہ بھاگ گیا تھا۔ (انل نریندر)

14 جون 2012

دیش کی معیشت چوپٹ کرنے کیلئے سونیا ۔منموہن ذمہ دار

جو بات اکثر کہا کرتے ہیں اس کی تصدیق اب بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پورس (ایس اینڈ پی) نے کردی ہے۔ ہم اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمارے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی غلط پالیسیوں ،غلط فیصلے کرنے کی عادت نے دیش کو کنگالی کے دہانی پر پہنچادیا ہے۔ بھارت کی گرتی معیشت ساکھ کے لئے سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ ذمہ دار ہیں۔ یہ الزام اپوزیشن پارٹیوں کا نہیں بلکہ ایس اینڈ پی کا ہے۔ ایجنسی بھارت کی کریڈیٹ ریٹنگ کو اور کم کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے سیدھے الفاظ میں کانگریس کو ہی اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بقول ایجنسی پارٹی جہاں اندرونی اختلافات سے گھری ہوئی ہے وہیں یوپی اے سرکار پر الزام تراشیوں کی کی بوچھار ہے۔ ایس اینڈ پی نے یوپی اے سرکار کے سیاسی ڈھانچے پر سنگین سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کانگریس صدر سونیا گاندھی کے پاس اعلی اختیارات ہیں لیکن وہ کیبنٹ میں نہیں ہیں جبکہ بغیر چنے ہوئے معمور وزیر اعظم کے پاس سیاسی فیصلے کیلئے بنیاد نہیں ہے۔ وزیر اعظم کا اپنی کیبنٹ پر ہی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ اپنے وزرا سے بھی اپنی بات نہیں منوا سکتے۔ سخت فیصلے لینے تو دور رہے ،اقتصادی اصلاحات پر بھی بریک لگ گیا۔ اس کا ذمہ اتحادی پارٹیوں کے تیور اور اپوزیشن کے تلخ رویئے پر تھونپ رہی سرکار کے لئے ایجنسی کا یہ تبصرہ بڑا جھٹکا ہے۔ ایجنسی نے اتنا ہی نہیں کہا بلکہ ایک قدم اور بڑھتے ہوئے پیر کو محض کریڈٹ پر ہی نہیں بلکہ بھارت کی سیاسی حالت پر بھی ریٹنگ نیچے گرادی۔ ڈالر کے مقابلے مسلسل گر رہے روپے اور اقتصادی اصلاحات پر شش و پنج کی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے ایجنسی نے خبر دار کیا کہ اب بھارت کی ریٹنگ خطرناک پوزیشن پر جا سکتی ہے۔ سوال سیاسی منشا پر اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ اصلاحات کو روکنے کے لئے اپوزیشن یا اتحادی پارٹی نہیں خود کانگریس اور سرکار ذمہ دار ہے۔ پارٹی کے اندر ہی اسے روکا جارہا ہے۔ پارٹی صدر سیاسی طور سے مضبوط ہیں لیکن وہ سرکار میں نہیں ہیں۔ جس کے ہاتھ میں سرکار کی لگام ہے ان کے پاس سیاسی بنیاد اور حمایتی نہیں ہیں۔ فیصلہ لیڈرشپ کی کمی اور پالیسی ساز فیصلے لینے میں بے فیصلے کی ساکھ کے سبب سرمایہ کاروں کا اعتماد ڈگمگاگیا ہے۔ ایجنسی نے بھارت کی ساکھ گھٹانے کی تنبیہ کی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بھارت ’برکس‘ (برازیل۔ روس۔ بھارت ۔ چین اور افریقہ) دیشوں میں ساکھ گنوانے والا پہلا ملک ہوگا۔ ایجنسی کی وارننگ کی کئی وجوہات ہیں جن کا اس نے تذکرہ کیا ہے۔ دیش میں معیشت بگڑ رہی ہے۔ صنعتی ترقی کے تازہ اعدادو شمار سے یہ بات ثابت بھی ہوتی ہے۔ سرمایہ کاری اور پروڈکٹس اور پیداوار میں گراوٹ کے سبب صنعتی پیداوار کی اضافی شرح اس سال اپریل مہینے میں بھاری گراوٹ کے ساتھ 0.1 فیصدی پر آگئی ہے۔ یہ پچھلے سال اپریل میں 5.3 فیصدی تھی۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پچھلے کئی برسوں کے مقابلے بھارت کی معیشت کی تصویر اچھی نہیں ہے۔ اپریل میں جی ڈی پی میں پچھلے 9 برسوں میں سب سے بڑی گراوٹ درج ہوئی ہے۔ سرکاری خسارہ بڑھا ہے اور تجارتی گھاٹا بھی۔ سب سے تکلیف دہ پہلو تو یہ بھی ہے کہ اس سرکار نے دیش کو اس اقتصادی دلدل سے نکالنے کیلئے نہ تو کوئی پلان ہے نہ ہی کوئی قوت ارادی۔ (انل نریندر)

پینیٹا کی وارننگ سے بوکھلایا پاکستان

پاکستان کو دی گئی اب تک کی سب سے سخت وارننگ میں امریکہ نے گذشتہ جمعرات کو کہا کہ پاکستان کی جانب سے آتنک وادیوں اور خاص کر خطرناک حقانی نیٹورک کو محفوظ پناہ گاہ مہیا کرائے جانے کی وجہ سے اس کا صبر جواب دے گیا ہے۔ یہ وارننگ امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینیٹا نے دی ہے جو افغانستان میں اچانک دورہ پر پہنچے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں جب تک امن کا قیام مشکل ہے جب تک پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں رہیں گی۔ حقانی نیٹورک کو نشانہ بناتے ہوئے پینیٹا نے کہا یہ بڑی تشویش کا موضوع ہے کہ سرحد کے اس پار حقانی نیٹورک سرگرم ہے۔ پاکستان کو سرحد کے اس پار ہماری سکیورٹی فورس پر حملہ کرنے والے آتنک وادیوں پر کارروائی کرنی ہے۔ پینیٹا نے اپنے ایشیا کے دورے کے آخری مرحلے میں افغانستان کا دورہ کیا۔ اس کے تحت پینیٹا نے ویتنام سے لیکر بھارت تک دورہ کیا لیکن انہوں نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھی کشیدگی اور تلخی کا واضح اشارہ ہے۔ پینیٹا نے یہ بھی کہا پاکستان میں آتنک وادیوں کے خلاف ڈرون حملے جاری رہیں گے۔ پینیٹا کے اس وارننگ کا پاکستان میں سخت رد عمل ہوا ہے۔ وارشنگٹن میں پاکستانی سفیر شیری رحمان نے کہا کہ پینیٹا کے تبصرے سے باہمی اختلافات کو دور کرنے کا امکان کم ہوگا۔ شیری کا کہنا ہے کہ امریکی انتظام کی جانب سے اس طرح کے پبلک بیان کو پاکستان نے بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس سے رشتوں کو بہتر بنانے کے عمل میں رکاوٹ پڑے گی۔ جس سے تعطل ختم کرنے میں لگے لوگوں کے پاس کوئی چارہ نہ بچے گا۔ پاکستان کی بوکھلاہٹ کا اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اخبار ڈان نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے امریکہ پاکستان رشتوں میں پیوند لگانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا کے ان بھڑکیلے بیانات کو صحیح ٹھہرایا جائے جوانہوں نے حال ہی میں پاکستان کے معاملے میں دوسرے ممالک کی راجدھانیوں میں دئے ہیں۔ انہوں نے کابل میں کہا کہ امریکہ کا اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ وہیں نئی دہلیوہ معقول جگہ نہیں تھی جہاں امریکہ پاکستان کشیدگی پر کھل کر بحث ہو یا آپریشن اسامہ کی جانکاری پاکستان سے چھپانے پر کوئی مذاق کیا جائے۔ وہ بھی تب جب ہندوستان کو ایشیا میں نئی امریکی فوجی ڈپلومیسی کا اہم سانجھے دار بتایا جارہا ہے۔ پینیٹا نے جس طرح کے الفاظ استعمال کئے اور اس کے لئے جن ٹھکانوں کو چنا ان سے ہماری فوج میں امریکیوں کے تئیں تلخی بڑھے گی۔ غلط جگہ پر پینیٹا کے غلط بیانوں نے کٹر پسند جماعتوں کو ہندوستانی امریکی مخالفت کے لئے بھڑکانے کا کام کیا ہے۔ امریکہ اب پاکستان کے اندر چھپے آتنک وادیوں اور ان کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے کرنے لگا ہے۔ ماہ جون میں امریکہ نے تین ڈرون حملے کئے ہیں ان میں ایک القاعدہ کا دوسرے نمبر کا سرغنہ الیبی مارا گیا ہے۔ پینیٹا کی واضح وارننگ کے بعد پاکستان کے اندر ڈرون حملے اور تیز ہوں گے اور امریکہ کی بوکھلاہٹ بڑھے گی۔صدر براک اوبامہ اس وقت دوہرے دباؤ میں ہیں۔ ایک طرف تو انہیں افغانستان سے 2014ء تک امریکی فوجیوں کو نکالنا ہے اور دوسری طرف اوبامہ کو دوبارہ صدارتی چناؤ جیتا ہے۔ ان وجوہات سے آنے والے مہینوں میں امریکی کارروائی تیز ہوگی۔ پاکستان کے لئے یہ چنوتی سے بھرا دور ہوگا۔ وہ اس بڑھتی کشیدگی کو کیسے ہینڈل کرتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ (انل نریندر)

12 جون 2012

کیا پرنب مکھرجی اگلے صدر ہوں گے؟


رائے سنا ہلز پر واقع راشٹرپتی بھون میں پرتیبھا پاٹل کے بعد کون بیٹھے گا ؟ یہ آج کل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے طرح طرح کی قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے یوپی اے اپنا امیدوار اعلان کرے۔صدارتی عہدے کیلئے ووٹوں کے نمبروں کا کچھ اس طرح سے حساب کتاب ہے کہ سونیا گاندھی کی پسند بھی اس مرتبہ چلے گی موصولہ اشاروں سے لگ رہا کہ مسٹرپرنب مکھرجی سونیا گاندھی کے پسندیدہ امیدوار ہوسکتے ہیں ۔خود پرنب دادا کو بھی لگتا ہے کہ وہ صدر بننا چاہتے ہیں انہیں لگ رہا ہے کہ یوپی اے سرکار کا مستقبل زیادہ روشن نہیں ہے اگلے چناؤ تک ان کی عمر 80سال ہوجائے گی اور اس بات کا امکان زیادہ نہیں ہے کہ کانگریس پھر اقتدار میں لوٹے گی اس لئے انہیں بہتر لگ رہا کہ وہ راشٹرپتی بھون ہی چلے جائیں ۔ اگر پرنب دادا راشٹرپتی امیدوار بنتے ہیں تو کانگریس کی ساتھی پارٹیوں کو بھی اعتراض نہیں ہوگا اپوزیشن پارٹی بھی ان کے نام پر رضامندی دے سکتی ہے وزیراعظم بھی اپنا وزیر خزانہ بدلنا چاہتے ہیں اگلے انتخابات میں اگر جوڑ توڑ کی سرکار بنتی ہے تو بھی کانگریس کے نقطہ نظر سے پرنب دا پارٹی کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں چناؤ کمیشن کی جانب سے بدھوار تک صدارتی چناؤ کیلئے نوٹیفکیشن جاری ہوسکتا ہے۔
کانگریس کے ذرائع کی مانیں تو نوٹیفکیشن کے فوراً بعد پارٹی امیدوار کا اعلان سونیا گاندھی کرسکتی ہیں مسٹر ڈی ایم کے نیتا اسٹالن نے جمعرات کو کہا صدارتی عہدہ کیلئے یوپی اے امیدوار کے بارے میں ڈی ایم کے نے اے کے انٹونی کو بتادیا ہے اس کے بعد شرد پوار اجیت سنگھ وغیرہ نے بھی دادا کے نام پر اپنی رضامندی دے دی ہے۔ ممتا بنرجی کی پہلی پسند لوک سبھا اسپیکر میرا کمار ہیں لیکن بنگالی ہونے کے ناطے ممتا بھی آخر کار پرنب دا کا سمرتھن کردیں گی۔ کیوں کہ اگر ایک بنگالی راشٹرپتی بھون آئے گا تو بنگال کی شان بڑھے گی دوسری طرف اس سرکار کے دوسال کی میعاد بچی ہے ۔پرنب دا سرکار کے سنکٹ موچن ثابت ہوئے ہیں انہوں نے کئی موقعوں پر سرکار کی کرکری ہونے سے بچایا ایسے نازک وقت میں جب بھارت کی معیشت دباؤ میں ہے اور بحران کی گھڑی میں ہے پرنب کے کیبنٹ سے ہٹنے سے کام کاج پر اثر پڑے گا۔ نئی وزیر مالیات کو کام سمجھنے میں وقت لگ سکتا ہے ساتھ ہی سرکار کے پاس اس عہدہ کیلئے فی الحال کوئی مضبوط متبادل بھی تو نہیں ہے۔ وزیراعظم خود یہ عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔
چدمبرم کو وزارت داخلہ سے ہٹاکر مالیات دے سکتے ہیں یارنگاراجن کو وزیر خزانہ بناسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ کام آسان نہیں ہوگا۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سونیا گاندھی اور پرنب مکھرجی کے آپسی رشتے اچھے نہیں ہیں پرنب کبھی بھی سونیا کے قریبی نہیں رہے راجیو گاندھی کا ساتھ چھوڑنے کا دکھ اب تک کہیں نہ کہیں سونیا گاندھی کو ضرور ہے ایسے میں پرنب سونیا کے دبدبے میں فائدہ مندثابت نہیں ہوں گے ۔ موجودہ صدر پرتیبھا پاٹل کی میعاد 24جولائی کو پوری ہورہی ہے پرنب کے علاوہ کچھ اور نام بھی دوڑمیں ہیں نائب صدر حامد انصاری ،موتی لال ووہرا ،ڈاکٹر کرن سنگھ کانگریس سے ہیں اور این سی پی لیڈر پی اے سنگما بھی اپنے دعویداری پیش کرنے کیلئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں اس کے علاوہ غیر سیاسی ہستیوں کے بھی دعویداری پیش کرنے کی بات سامنے آئی ہے ۔دیکھیں سونیا گاندھی کی پسند کون ہوتا ہے۔ (انل نریندر)

ڈمپل نے نہ صرف تاریخ بنائی بلکہ کروڑوں کا خرچ بچایا


اترپردیش کے سب سے نوجوان وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو (35سال) نے سنیچرکو نئی سیاسی تاریخ رقم کرڈالی ۔قنوج پارلیمانی سیٹ سے سنیچرکو ضلع مجسٹریٹ سلوا کماری نے ڈمپل کو بلا مقابلہ ممبر پارلیمنٹ اعلان کردیا 23سال بعد لوک سبھا میں بلا مقابلہ کوئی ایم پی چنا گیا قنوج کو تاریخ کے اوراق میں جگہ بنانے کو بس سرکاری اعلان کا انتظار تھا جو پورا ہوگیا۔ سماج وادی تحریک کے مہانائک ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کو لوک سبھا میں بھیجنے کے ساتھ ملائم سنگھ کو جتانے واکھلیش یادوکو ایم پی قنوج نے ہی بنایا تھا ۔اب قنوج نے یہ بھی جتادیا ہے کہ مایاوتی کی پچھلی سرکار کی بدانتظامی کے خلاف جو عوامی ناراضگی قنوج میں پہلے تھی وہ آج بھی برقرار ہے ڈمپل یادو ریاست کی پہلی ایسی خاتون ہیں جن کے خلاف کوئی چناؤ لڑنے کیلئے تیار نہیں ہوا۔ڈمپل یادو 2009میں ہوئے لوک سبھا چناؤ میں فیروز آباد سیٹ سے چناؤ لڑیں تھیں اس وقت انہیں بالی ووڈ اداکار اور کانگریس امیدوار راج ببر نے شکست دی تھی ۔
کانگریس بی جے پی اور بی ایس پی پہلے ہی اس چناؤمیں امیدوار نہ اتارنے کا فیصلہ کرچکی تھیں باقی بچے آزاد امیدوار سنجیو کٹیار اور دشرتھ سنکھوار نے جمعہ کو اپنے اپنے نام واپس لے لئے آزادی کے بعد سے اب تک 44ایم پی بلامقابلہ لوک سبھا کیلئے چنے جاچکے ہیں لیکن 1989کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ممبر پارلیمنٹ بلا مقابلہ چن کر لوک سبھا پہنچے گا۔ ڈمپل کے خلاف کسی امیدوار کے نہ ہونے سے چناؤ کی تیاریوں سے چھٹکارہ ملا بلکہ حکومت کے 30کروڑ روپے بھی بچ گئے ملازمین کو ڈیوٹی کرانے کیلئے نہ تو افسران کے آگے گڑگڑانا پڑا اور نہ ہی ووٹروں کو دھوپ میں کھڑا ہونا پڑا۔پارٹی کے ورکربھی بھاگ دوڑ سے بچ گئے زیادہ فائدہ سرکاری خزانے کو ہوا افسران کے مطابق 5اسمبلیوں میں 10سے 15ہزار پولیس ، پی اے سی اور دیگر فورسز منگانے کی تیاری تھی ساتھ ہی پوری لوک سبھا سیٹ پر 12500سے زیادہ ملازمین کو لگانا پڑتا 200ایسے بوتھ تھے جن کی حالت بہت خطرناک تھی اسے ٹھیک کرنے میں لاکھوں روپے خرچ آتا یہ سب بچ گیا ۔ڈمپل یادو ملائم سنگھ خاندان کی پانچویں ایسی فرد ہیں جو اس وقت ایم پی ہیں اس نقطہ نظر سے ملائم سنگھ یادو خاندان دیش کا سب سے ہائی پاور خاندان بن گیا ہے کچھ معنوں میں تو نہرو گاندھی خاندان سے بھی طاقتو ربن گیا ۔ ملائم سنگھ خود لوک سبھا ایم پی ہیں بیٹا اکھلیش اترپردیش کا وزیراعلیٰ ہے ،بھائی رام گوپال یادو راجیہ سبھا کے ایم پی ہیں ،بھائی شیو پال یادو یوپی سرکار میں وزیر ہیں۔ بہو ڈمپل یادو لوک سبھا ایم پی بن گئی ہیں اس کے علاوہ تنظیم ، پنچایتوں میں بھی یادو خاندان کے کئی افراد مختلف عہدوں پر بیٹھے ہیں کہنے کو نیتا لوگ کنبہ پرستی کو بڑھاوا نہ دینے کی بات کرتے ہیں لیکن کنبہ پرستی کو بڑھاوے کی ایک مثال ہے ۔
(انل نریندر)

10 جون 2012

آر ایس ایس کی خواہش ہے نریندر مودی کی لیڈر شپ میں پارٹی چناؤ لڑے


بھاجپا میں بڑھتی اندرونی رسہ کشی کا ایک ثبوت سنجے جوشی کا پارٹی چھوڑنا پہلے بے عزت کرکے سنجے جوشی کو قومی ورکنگ کمیٹی سے نکالا گیا اور اب پارٹی سے ہی نکلنے پر مجبور کردیا گیا۔ یہ سب آر ایس ایس اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے اشاروں پر صدر نتن گڈکری نے کیا۔ اب یہ صاف ہوچکا ہے کہ گڈکری تو ایک مکھوٹا ہے اصل طاقت تو آر ایس ایس ہے اور سنگھ نے اندرخانے یہ فیصلہ کرلیا ہے۔ ایک طرف سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کو نیچا دکھانا ہے تو دوسری طرف نریندر مودی کو ہونے والے وزیر اعظم کے طور پر پروجیکٹ کرنا ہے۔ تبھی تو سنگھ کے اخبار ’’آرگنائزر‘‘ کے تازہ شمارے میں کہا گیا ہے کہ کانگریس پارٹی کا تیزی سے گراف گر رہا ہے لیکن بھاجپا لیڈر شپ والے این ڈی اے کا کانگریس کی اس تنزلی کا فائدہ اٹھا پانا مشکل نظر آرہا ہے۔ صرف مودی ہی ایک ایسا چہرہ ہیں جن میں پارٹی کو نئی توانائی اور دیش بھر میں اس کے ووٹ کو فروغ دینے کی صلاحیت ہے۔ جیسے اٹل بہاری واجپئی نے 90 کی دہائی میں کرکے دکھایا تھا۔ اگر آر ایس ایس اس نتیجے پر واقعی پہنچ چکی ہے تو کیوں نہیں کھلے طور پر اعلان ہوتا کہ سنگھ اور بھاجپا 2014ء کا لوک سبھا چناؤ نریندر مودی کی لیڈر شپ میں لڑیں گی؟ شری نریندر مودی کی ساکھ کٹر ہندوتو کی ہے۔ اٹل جی کی ساکھ اور مودی کی ساکھ میں بہت بڑا فرق ہے۔ اٹل جی سب کو ایک ساتھ لیکر چلتے تھے۔ مودی کے کام کرنے کا اپنا ہی ڈھنگ ہے یہ نہ تو ورکر کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ لیڈر کی اور نہ ہی آر ایس ایس کی۔ ان کی توقعات اب آر ایس ایس اور بھاجپا سے بالاتر ہوچکی ہیں وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے۔کل تک انہی گڈکری صاحب کی مودی سے ان بن تھی لیکن اب سنگھ کے اشارے پر گڈکری کو مودی سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔ اس سودے کی گڈکری کو کیا قیمت دینی پڑی ہے ،سنجے جوشی کے معاملے سے پتہ چلتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ آر ایس ایس مودی کو اڈوانی کے خلاف اتار رہی ہے۔ اڈوانی کو کنارے لگانے کے لئے سنگھ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ جب سنگھ کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ اب اٹل جی سیاست میں سرگرم رول نہیں نبھا سکتے تو اس نے اڈوانی کی کاٹ کرنا شروع کردی۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ خود شری اڈوانی نے انہیں بہانا بھی غلطی سے فراہم کردیا۔ میں جناح سے متعلق بیان کی بات کررہا ہوں۔ کبھی راجناتھ سنگھ کو آگے کرکے تو کبھی دوسری لائن کے لیڈروں کو اکسا کر اڈوانی کو ڈاؤن کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ آج بھی اڈوانی کے سامنے دیگر بھاجپا نیتا بونے لگتے ہیں۔ نریندر مودی بیشک ایک قابل اور دھاکڑ ساکھ والے لیڈر ہیں لیکن انہیں بھاجپا کے اندر اور باہر کتنا قبول کیا جائے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ اگر نریندر مودی کو ہونے والے وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو بھاجپا میں ہی گھماسان ہوجائے گا۔ سشما سوراج، ارون جیٹلی، راجناتھ سنگھ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی سبھی اپنے دعوے پیش کرسکتے ہیں۔ پھر این ڈی اے کی دوسری اتحادی پارٹیاں جن میں نتیش کمار کی جنتا دل (یو) بال ٹھاکرے اور پرکاش نسگھ بادل جیسے سرکردہ لیڈر ہیں، کیا وہ مود ی کو قبول کرلیں گے؟ اڈوانی جی ایسے لیڈر ہیں جن کی چھتری کے نیچے شاید این ڈی اے اتحادی پارٹیاں متحد ہوسکیں۔ کانگریس کے خلاف ماحول اتنا خراب ہے کہ کیا کہہ سکتے ہیں لیکن شاید مسلمان بھی مودی کی جگہ اڈوانی کی حمایت کردیں؟ لیکن اڈوانی اونچے قد کے باوجود آر ایس ایس انہیں ڈاؤن کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ پہلے راجناتھ سنگھ کو کھڑا کیا گیا وہ ناکام رہے، اب نریندر مودی کو کھڑا کیا جارہا ہے یعنی آر ایس ایس ایسا کرنے کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ لیکن آر ایس ایس اپنے ہی بنے جال میں پھنستی نظر آرہی ہے اور اڈوانی کے خلاف مودی کو متبادل کے طور پر آگے لانے کی حکمت عملی آر ایس ایس کے خلاف ہی ثابت ہورہی ہے۔ اب آر ایس ایس کو یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ مودی کی شرطوں کو کیسے مسترد کرے؟ مجبور ہوکر آر ایس ایس مودی سے بلیک میل ہورہی ہے۔ اصل میں سنگھ کو یہ اندازہ شاید نہیں تھا کہ نریندر مودی اپنے رویئے کے مطابق ہی سیاست کریں گے۔ انہوں نے اپنی سیاسی دبنگئی سے جس طرح سے پروین توگڑیا جیسے سنگھ کے لیڈروں کو بے اثر بنادیا اسی طرح اپنے مخالفین کی سازش اور سیاسی سودے بازی کے تحت نپٹانے میں کوئی قباحت نہیں کی۔ نریندر مودی کی اس دبنگئی کی وجہ سے آج پوری دنیا میں بھاجپا کی ساکھ مسلم مخالفت اور دبنگئی بنی ہوئی ہے۔ ہندوتو کے جھنڈا برداروں کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ دیش میں اصلاح پسند ہندوتو تو ٹھیک ہے لیکن پرتشدد اور کٹر ہندوتو کی حمایت اکثریتی ہندو بھی نہیں کرتے اس لئے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ مرکزی سیاست میں مودی قابل قبول ہوں؟ بھارت گجرات نہیں راجیہ میں جو چلے یہ ضروری نہیں پورے دیش میں بھی وہی شخص چلے۔ ابھی تو سنگھ کی غلط حکمت عملی کے مضر اثرات کی شروعات ہے۔ انہوں نے بھاجپا کی روایت اور سسٹم کے خلاف جو تجربہ شروع کیا اس کے منفی نتیجے بھی سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔ آسان زبان میں کہیں تو آر ایس ایس نے مودی کو بھسما سور کی شکل میں تیار کردیا ہے لیکن جیسا سنگھ سے وابستہ اخبار جریدوں و لیڈروں کے ذریعے نریندر مودی کو مسلسل نصیحتیں دے رہے ہیں اسے تھوڑے اوربڑا کریں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے بھاجپا میں اب تنظیم پہلے نیتا بعد میں کا اصول ختم ہوگیا ہے۔ بھاجپا اب سنگھ کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بن چکی ہے جس کے منیجنگ ڈائریکٹر نتن گڈکری ہیں اور یہ پارٹی کو اپنی نجی کمپنی کی طرح چلا رہے ہیں۔محض دو سیٹوں سے لوک سبھا میں بھاجپا کو 175 سیٹوں تک پہنچانے والے لال کرشن اڈوانی کا موازنہ نریندر مودی سے کتنا کامیاب ثابت ہوگا یہ تو مستقبل ہی بتائے گا لیکن اتنا طے ہے کہ مودی کو بھاجپا کے اندر ہی کئی مورچوں پر لڑنا پڑے گا۔ ابھی لوک سبھا چناؤ میں دو برس باقی ہیں ایسی حالت میں سنگھ کی اڈوانی مخالف مہم بھی پٹ سکتی ہے۔ اڈوانی جی کو سنگھ اور بھاجپا مل کر جتنا پیچھے دھکیلنے کی کوشش کریں لیکن حقیقت تو یہ ہی ہے کہ ان کے سامنے گڈکری اور نریندر مودی قومی اور بین الاقوامی سطح پر دونوں میں ان کی شخصیت بونی لگتی ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں اڈوانی نے بھاجپا سے کنارہ کرلیا تو پارٹی میں تقسیم تک ہوسکتی ہے کیونکہ سنگھ کی گھٹیا سیاست کی وجہ سے بھاجپا کا کوئی بھی لیڈر دوسرے پر بھروسہ نہیں کررہا ہے۔ اس لئے پارٹی میں کئی گروپ سرگرم ہیں۔ ظاہر ہے ان گروپوں میں لگاتار لڑائی پارٹی کو کمزور کرے گی۔ اگر اندرونی رسہ کشی کے سبب 2014ء میں بھاجپا کو مات ملتی ہے تو اس کے لئے پوری طرح آر ایس ایس ذمہ دار ہوگی۔ اگر آر ایس ایس کو بھاجپا کی فکر ہوتی تو وہ پارٹی میں اتھل پتھل کرانے کیلئے اڈوانی کے خلاف دوسری لائن کے لیڈرں کو اکسانے اور متحد کرنے کا کام نہیں کرتے۔ اگر ان کو ذرا بھی سیاسی سمجھ ہوتی تو وہ سب سے پہلے یعنی اٹل جی کے بعد اڈوانی جی اور ان کے بعد ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی سے چھیڑ چھاڑ نہ کرتے۔ سچ تو یہ ہے کہ اب سنگھ خود بھی گمراہی اور عدم اعتماد کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ مانتے تھے کہ اگر بھاجپا اتنی ڈسپلن ہے تو سنگھ کتنا ڈسپلن ہوگا لیکن اب لوگ بھاجپا اور سنگھ میں کوئی رق نہیں کرتے۔ لوگ اب دونوں کو ایک ہی سکے کے دو پہلو مان رہے ہیں۔ اب فیصلہ آر ایس ایس کو کرنا ہے کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں اڈوانی کی لیڈر شپ میں بھاجپا چناؤ لڑے گی یا نریندر مودی کے؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...