Translater
07 ستمبر 2023
امت شاہ بنام راہل گاندھی !
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی چھتیس گڑھ میں آمنے سامنے تھے۔اپوزیشن اتحاد انڈیا کی ممبئی میٹنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب دونوں لیڈروں نے ایک ہی دن چناوی ریاست چھتیس گڑھ میں ریلی کی ۔امت شاہ پچھلے 36دنوںمیں یہ ان کا چوتھا دورہ تھاجبکہ کانگریس کے سابق صدر اس سال فروری میں پارٹی اجلاس کے بعد پہلی بار ریاست کا دورہ کیا۔ یعنی راہل گاندھی کی کانگریس کا مقابلہ بنام بی جے پی کی مقامی قیادت سے زیادہ مودی -شاہ کی جوڑی سے ہے۔ امت شاہ نے گزشتہ سنیچر کو چھتیس گڑھ کے بگھیل سرکار کے خلاف بلیک پیپر نامی چارشیٹ جاری کی ۔ اس میں ریاست میں مبینہ شراب گھوٹالے کا ذکر کیا اور کہا کہ یہاں گھپلے گھوٹالے اور وعدہ خلافی کی حکومت چل رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جو لوگ جیل میں بند ہیں وہ لوگ حکمراں پارٹی کے لیڈروں اور ان کے نام اجاگر نہ کردیں اس لئے انہیں نیند نہیں آتی ۔ وہیں راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اور نریندر مودی ہندوستان کے دوتین ارب پتیوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ میں آپ کو صاف کردیتا ہوں کہ ہندوستان کے وزیر اعظم اڈانی کی کوئی جانچ نہیں کروا سکتے ۔ کیوں کہ جانچ کا نتیجہ نکلا تو اس کا نقصان اڈانی کو نہیں کسی اور کو ہوگا۔ چھتیس گڑ ھ میں اسمبلی انتخابات اس سال کے آخر تک ہو سکتے ہیں لہذا بی جے پی ،کانگریس کو ٹکر دینے کیلئے جاریحانہ رخ اختیار کئے ہوئے ۔ 2ستمبر کو رائے پور میں امت شاہ کا بھوپیش بگھیل سرکار کے خلاف چارچ شیٹ جاری کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ بی جے پی نے ریاست کی 21سیٹوں پر امیدواروں کا بھی اعلان کردیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں رمن سنگھ کی قیادت میں 15سال (2103-2018) تک اقتدار میں رہنے کے بعد بی جے پی کو 2018کے اسمبلی چناو¿ میں کانگریس کے ہاتھوں زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کانگریس کو اس چناو¿ میں 90میں سے 68سیٹیں ملی تھیں ۔ آخر بی جے پی کے بڑے نیتاو¿ں کی فوج کے طوفانی دورے چھتیس گڑھ میں کمزور دکھائی پڑ رہے ہیں۔ پارٹی کو کانگریس کے مقابلے کھڑا کر پائیںگے۔ رمن سنگھ سرگرم نہیں ہیںیا یوں پھر کہیں کہ انہیں الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔ پچھلے پانچ سال میں بی جے پی نئی لیڈر شپ کھڑی نہیں کر پائی اور لیڈر شپ کے معاملے میں کانگریس بی جے پی کے مقابلے کافی اچھی پوزیشن میں ہے ۔ بھوپیش بگھیل کو چنوتی دینے والے ٹی ایم سینگ دیو کو ڈپٹی سی ایم بنا دیا گیا ہے۔اس طرح پارٹی متحد ہوکر چناو¿ لڑنے جا رہی ہے ۔ بی جے پی ریاست میں کوئی مضبوط لیڈر کھڑا نہیں کر پائی ہے ۔ آرایس ایس کا خود خیال ہے کہ موجودہ بی جے پی صدر کے نام پر چناو¿ نہیں جیتا جا سکتا ہے ۔ قومی مسئلوں اور مودی امت شاہ کے چہرے اور ساکھ پر چناو¿ لڑنے والی پارٹی اب مقامی امیدواروں پر بھروسہ کر رہی ہے۔ بی جے پی کے ڈرنے کی کافی وجہیں ہیں۔ کیوں کہ پچھلے چناو¿ میں بی جے پی کو 90میں سے صرف15سیٹیں ہی مل پائیں تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امت شاہ منسکھ مانڈویہ جیسے بڑے لیڈر چھتیس گڑھ پہنچ کر پارٹی کی اس ڈر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ نریندر مودی کی ساکھ اب وہ نہیں رہی جو 2019میں تھی۔ ان کے دم خم پر بی جے پی کیا چھتیس گڑھ جیت پائے گی؟
(انل نریندر)
اور اب 538کروڑ کا بینک گھوٹالہ!
پچھلے جمعہ کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جیٹ ایئر ویز کے بانی نریش گوئل کو منی لانڈرنگ سے جڑئے ایک معاملے میں گرفتار کر لیا ۔ میڈیامیں آئی خبروں کے مطابق ای ڈی کے ممبئی دفتر میں نریش گوئل سے گھنٹوں پوچھ تاچھ کی گئی ۔ لیکن ای ڈی کا کہنا ہے کہ جانچ میں گوئل افسرا نے کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے ٹائمس آ انڈیا اخبار نے لکھا ہے کہ کینرا بینک سے وابستہ قرض گھوٹالے معاملے میں پوچھ تاچھ کیلئے گوئل کو دہلی سے ممبئی لے جا یا گیا تھا۔ جس کے بعد انہیں وہاں گرفتار کر لیا گیا۔ وہیں ایکونومکس ٹائمس میں شائع ایک خبر کے مطابق سنیچر کو ای ڈی نریش گوئل کو پی ایم ایل اے (پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ ) کے تحت گرفتار کر عدالت میں پیش کیا ۔ اخبار کا کہنا ہے کہ سی بی آئی نے گوئل کے خلاف مجرمانہ شازش رچنے اور بھروسہ توڑنے اور مجرمانہ کوتاہی کے الزام لگائے ہیں جن کے سبب کینرا بینک کو 538.62کروڑ روپے کا نقصان جھیلنا پڑا ۔ ٹائمس آف انڈیا کے مطابق 3مئی کو کینرا بینک کی شکایت پر سی بی آئی نے ایک کیس درج کیا تھا۔ بینک کے مطابق گوئل کی کمپنیوںنے انہیں بینکوں کے کنسورٹیم کے ذریعے جو قرض لیا تھااس کی قسط کمپنی نہیں دے رہی تھی۔ سی بی آئی معاملے میں نریش گوئل کی بیوی انیتا گورنگ شیٹھی اور کچھ نامعلوم لوگوں پر الزام لگائے ہیں۔ اس سلسلے میں جولائی 2023میں ای ڈی نے دہلی سمیت جیٹ ایئر ویز کے کئی دفتروں پر چھاپہ مارا تھا۔ 1اپریل 2011سے لیکر 19جون 2019کے درمیان بینک نے گوئل کی کمپنیوں سے جڑے کھاتوں کا فورینسک آڈٹ کرایا جس میں پیسوں کو ڈائیورٹ کرنے اور پیسوں کی دھاندھلی کی بات سامنے آئی ۔ یہ رپورٹ 2021میں دی گئی تھی۔نریش گوئل کی کمپنی جیٹ ایئر ویز (انڈیا لیمیٹید ) سال 2005سے کینرا بینک سے قرض لیتا رہا ہے ۔ یہ سبھی قرض بینکوں کے کنسورٹیم سے دئے گئے تھے۔ جس کی قیادت اسٹیٹ بینک کر رہا تھا۔ ایئر ویز نولینڈا ،نیویگیشن ،ایئر پورٹ پر دی جانے والی سہولیات اور درآمدات کئے جا رہے جہازوں کیلئے کرائے پر لینے کیلئے سیکورٹی ڈیپوزٹ جیسے خطروں کیلئے بینک سے قرض لیا تھا۔ ساتھ ہی یہ قرض نئے روپ پر جہاز فلائٹ اور پروموشن کیلئے سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ایئر لائنز نے پیسہ ان مدوں پر خرچ نہیں کیا ۔بحر ہند میں قائم ایک خصوصی پیسہ کمانے انسداد عدالت نے کینرا بینک کی شکایت پر درج 538کروڑ روپے کی مبینہ دھوکہ دھڑی معاملے میں جیٹ ایئر ویز کے بانی نریش گوئل کو 11ستمبر تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا ہے۔ 74سالہ نریش گوئل کو مرکزی ایجنسی نے جمعہ کی رات کو نئی دہلی میں اپنی دفتر میں لمبی پوچھ تاچھ کے بعد پیسہ کمانے انسداد ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا تھا۔
(انل نریندر)
05 ستمبر 2023
مودی پھر چلا ماسٹر اسٹروک ؟
مرکزی حکومت نے مانسون اجلاس کے تین ہفتے بعد ہی جمعرات کو پانچ دن کا پارلیمنٹ کا اسپیشل سیشن بلانے کا اعلان کر سب کو چونکا دیا ۔ وزیر پر لیمانی امور پر ہلاد جوشی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں بتایا گیا کہ 18سے 22ستمبر تک دونوں ایوانوں کا اسپیشل سیشن رہے گا۔ یہ 17ویں لوک سبھا کا اور راجیہ سبھا کا 26واں سیشن ہوگا ۔ اس میں پانچ میٹنگیں ہوںگی ۔ اس سیشن کو سرکار کی جانب سے کسی ماسڑ اسٹروک کی تیاری مانا جا رہا ہے ۔ حالاں کہ جوشی نے سیشن کا کوئی ایجنڈا نہیں بتایا اور معلومات کے ساتھ پرانے پارلیمنٹ ہاو¿س کی فوٹو شیئر کی ہے ۔ مانگ تو یہ بھی کی جارہی ہے کہ سیشن پرانے پارلیمنٹ ہاو¿س کے شروع ہو ۔ اور نئے پارلیمنٹ کمپلیکس میں ختم ہو سکتا ہے۔ راجدھانی میں 9اور 10ستمبر کو جو جی20-چوٹی کانفرنس کے کچھ دنوں بعد ہونے والے سیشن کے ایجنڈے پر کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اسپیشل سیشن میں پارلیمانی کاروائی کو نئے پارلیمنٹ کمپلیکس میں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 28مئی کو اس کا افتتاح کیا تھا۔میزبانی کیلئے تیار کرنے کیلئے فائنل شکل دی جا رہی ہے۔ اس لئے سیشن کا کوئی ایجنڈا صاف نہیں ہے ۔اس لئے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ لوک سبھا چناو¿ سے پہلے مودی سرکار کچھ بقایا بلوں کو پاس کرانے پر غور کر رہی ہے ۔ اور اس سے پہلے پارلیمنٹ کا اسپیشل سیشن 30جون 2017کو دیر رات جی ایس ٹی لاگو کرنے کیلئے بلایا گیا تھا۔ کسی دور رس سیاسی اہمیت کے ایجنڈے کو لیکر ہی پارلیمنٹ کے اسپیشل سیشن ہوتے رہے ہیں۔ ایسے بھی اس مرتبہ مندرجہ ذیل بڑے امکانات پر بحث تیزی پر ہے ۔ پہلا: عورتوں کیلئے پارلیمنٹ میں ایک تہائی مزید سیٹیں رکھنا ،دوسرا: نئے پارلیمنٹ میں کاروائی کو شفٹ کرنا،نمبر تین : یونیفارم سول کوڈ بل پیش ہو سکتا ہے۔ چوتھا: لوک سبھا اسمبلی چناو¿ ساتھ کرانے کیلئے بل آسکتا ہے۔ پانچوں : ریزرویشن پر قانون ممکن ہے ۔ او بی سی کی مرکزی فہرست کی 34ویں کلاسیفیکیشن ،ریزرویشن کی تفصیلات کا مطالعے کیلئے 2017میں بنے روہنی کمیشن نے 1اگست کو اپنی رپورٹ دے دی ہے ۔ زیادہ تر بھاجپا نیتاو¿ں نے اشارے دئے ہیں خاص طور سے پچھلے دنوںمیں ایجنڈے کو پہیلی بنا دیا ہے ۔سیشن کے پانچ میں سے چار دنوںمیں بھی دوسرے معاملوں پر غور ہوگا۔ دعویٰ تو یہ بھی ہے کہ سیشن امرت کال کے خاص لمحات چندیان 3و جی 20-سمٹ کے جشن تک ہی محدود رہے گا۔ باقی تو 18ستمبر کے بعد ہی پتا چل پائے گا۔
(انل نریندر)
پھر گرا اڈانی پر بم !
اس سال جنوری میں جب امریکی شارٹ سیلر کمپنی ہیڈن برگ ریسرچ نے اڈانی گروپ پر شیئر وںمیں گھپلہ کا الزام لگایا تو اس کے مالک گوتم اڈانی دنیا کے تیسرے نمبر کے سب سے امیر شخص سے اس رپورٹ کے آتے ہی ان کا اثاثہ 120ارب ڈالر سے گھٹ کر 39.9ارب ڈالر رہ گیا تھا۔ یعنی راتوں رات ان کااثاثہ گھٹ کر ایک تہائی رہ گیا تھا ۔ ہینڈن برگ ریسرچ نے اڈانی گروپ پر اپنی کمپنیوںکے شیئروں کی قیمتوںمیں چھیڑ چھاڑ کرنے اور ٹیکس ہیون ممالک کے جعلسازی کو انجام دینے کا الزام لگایا تھا۔ حالاںکہ تب سے لیکر اب تک اڈانی گروپ کی کچھ کمپنیوں کے شیئروںمیں کافی ریکوری ہو چکی ہے ۔لیکن 31اگست کو برطانوی اخبار دی گارجین اور فائننشل ٹائمس نے ای سی پی آر پی کے دستاویزوںمیں بنیاد پر چھپی رپورٹ نے اس گروپ کو ایک بار پھر پریشانی میں ڈال دیا ۔رپورٹ آنے کے بعد اڈانی گروپ کی کمپنیوںنے شیئر بازار میں اب تک تقریباً 35200کروڑ روپے گنواں دئے ۔دی گارجین اور فائننشل ٹائمس نے آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ یعنی او سی سی آر پی کے جن دستاویزوں کی بنیا د پر رپورٹ شائع کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس ہیون دیش متروشش کے دو فنڈ اور ایمرجنگ انڈیا فوکس فنڈ اور ای ایم ریسرجنٹ فنڈ نے 2013سے 2018کے درمیان اڈانی گروپ کی چار کمپنیوںمیں پیسہ لگایا اور ان کے شیئروںمیں خرید و فروخت کی ان دونوں فنڈ س کے ذریعے یو اے ای کے سرمایہ دار ناصر علی اور تائیوان کے سرمایہ کار یانگ یونگ لیگ نے ان کمپنیوںمیں پیسہ لگایا ۔یہ پیسہ برموڈا کے انویسٹ منٹ فنڈ گلوبل اپانیومتج کے ذریعے لگایا گیا تھا۔ 2017میں ناصر علی یانگ یگ لگ کے اس سرمایہ کاری کی قیمت تقریباً 43کروڑ ڈالر تھی۔ اس وقت اس کی قیمت (موجودہ ایکسچینج ریٹ ) 3550کروڑ روپے ہے ۔ جنوری 2017میںان دونوں سرمایہ کاروں کی اڈانی انٹرپرائیزیز ،اڈانی پاور ،اور اڈانی ٹرانسمیشن میں اس طرح 3.44اور 3.6فیصدی حصہ داری تھی۔ او سی سی آر پی کے دستاویزات کے مطابق اڈانی کے بھائی اور اڈانی کے پر موٹر گروپ کے ممبر ونود اڈانی کی یواے ای میں قائم پوشیدہ کمپنیوں ایکسل انویسٹ منٹ اور اڈوائزری سروسیز اور آر ای آئی ایف ایف ای ایم آر ایف اور جی او ایف کی جانب سے جون 2012سے اگست 2014کے درمیان 14لاکھ ڈالر دئے گئے ۔ اس کا مطلب یہ کہ ان فنڈوںکی دکھاوٹی کمپنیوں کے ذریعے ونود اڈانی نے اڈانی گروپ آف کمپنی میں بھاری پیسہ لگایا تھا۔ اس میں کسی ریئل بزنس کی بنیادپر نہیں بلکہ اس فنڈ کی بنیا دپر کمپنیوں کی مالی حالت بہت اچھی لگنے لگی تھی۔ کمپنیوں کا مارکیٹ اتنا اچھا نہیں تھاجتنا شیئر بازار میں اس کے شیئروںمیں اچھی مانگ سے لگ رہا تھا۔ بتادیں کہ او سی آر پی اور تفتیشی صحافی اور تنظیم ہے ۔ اس کا مقصد صحافیوں کا ایک گلوبل نیٹورک بنانا ہے ۔جو کرپشن اور جرائم کے گلوبل نیٹورک کو اچھی طرح سمجھ کر اس کا پر دہ فاش کرتے ۔ اب تک کرپشن کے 398معاملوں کو پردہ فاش کیا ہے اڈانی گروپ اس کی تازہ مثال ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...