30 جولائی 2016

بی ایس پی میں بغاوت ؟ ممبران اسمبلی کے سنگین الزام

چناؤ سے اہم پہلے اکثر ٹکٹوں کی تقسیم کو لیکر بغاوتیں ہوتی رہی ہیں۔ جس کو ٹکٹ نہیں ملتا وہ پارٹی سے ناراض ہوکر کبھی کبھی پارٹی کے خلاف بے تکا بولنے لگتا ہے۔ الزام در الزام کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے۔ کچھ پارٹیوں میں تنازعات زیادہ ہوتے ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی ایسی ہی ایک پارٹی ہے۔ وقتاً فوقتاً پارٹی لیڈر شپ پر ٹکٹ بیچنے کے الزام لگتے رہتے ہیں۔ تازہ معاملہ لکھیم پور کے پالیا سے ممبر اسمبلی رومی سہانی اور ہردوئی کی ملاوا سیٹ سے ایم ایل اے برجیش ورما کا ہے۔ان دونوں کا یہ کہنا ہے کہ 6 جولائی کی صبح10 بجے نسیم الدین صدیقی نے مایاوتی کے مکان پر بلا کر کہا کہ پالیا اسمبلی کیلئے ایک سردار جی 3 کروڑ روپے جمع کرا گئے ہیں۔ 2 کروڑ اور دیں گے اگر آپ 5 کروڑ روپے جمع کرا دیں توا ن کا پیسہ واپس کردیں گے۔ میں نے لاچاری جتائی تو ٹکٹ کاٹنے کی دھمکی دے دی۔ کم و بیش یہ ہی کہانی دوہراتے ہوئے برجیش نے بتایا کہ مجھے12 بجے بلا کر 4 کروڑ روپے مانگے گئے۔ ہم نے بہن جی سے درخواست کی لیکن انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ ایک سوال کے جواب میں ممبران اسمبلی نے کہا کہ پورے پیسے کیش لئے جاتے ہیں۔ حالانکہ پچھلی مرتبہ ہم سے پیسے نہیں لئے گئے تھے۔ اس بار پیسہ نہ جمع کرنے پر لوک سبھا چناؤ لڑنے کا دلاسہ دیا جارہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ حلقے میں جانے پر لوگ یہ نہیں پوچھتے کہ ٹکٹ کس کا ہوا ہے بلکہ یہ پوچھتے ہیں کہ کتنے میں ہوا ہے؟ چناؤ کے وقت کسی پارٹی ہوا بھانپنے کا ایک پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ پارٹی چھوڑنے والے اور دوسری پارٹیوں میں شامل ہونے والے لوگوں کا تناسب کتنا ہے۔ اگر پارٹی چھوڑنے والے کم ہیں اور آنے والے زیادہ ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ ہوا کا رخ حق میں ہے اور اگر چھوڑنے والے زیادہ ہوں آنے والے کم تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہوا مخالف ہے۔اگر بی ایس پی کے موجودہ ایم ایل اے پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو یقینی طور پر سمجھ لینا چاہئے کہ انہیں بی ایس پی کے ٹکٹ کی گارنٹی نہیں لگ رہی ہے۔ اپنے سیاسی وجود کو بچائے رکھنے اور دوبارہ ایوان میں پہنچنے کی خواہش انہیں دل بدل کو مجبور کررہی ہے۔ بھاجپا ۔بی ایس پی میں بغاوت کی اس چنگاری کو آگے اور بھڑکانے کی تیاری کررہی ہے۔ حال ہی میں پارٹی چھوڑنے والے سوامی پرساد موریہ سے لیکر جگل کشور سمیت، دوسرے نیتا اس مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ پردے کے پیچھے کے کھلاڑی اور بتائے جارہے ہیں۔ مایاوتی پر ٹکٹ کے عوض پیسے لینے کا الزام نیا نہیں ہے۔ جگل۔ موریہ، آر کے چودھری اور ان سے پہلے بدھوار کو پارٹی کے خلاف بولنے والے ممبران اسمبلی کے نام بھلے ہی الگ الگ ہوں لیکن الزام ایک ہی ہے۔ بدھوار کو بغاوت کرنے والے دونوں ہی ایم ایل اے جگل کشور خاص مانے جاتے ہیں جو اس وقت بی جے پی میں ہیں۔
(انل نریندر)

کیا نرسنگھ قصوروار ہے یا سازش کے شکار

پہلوان نرسنگھ کے ڈوپ ٹیسٹ میں فیل ہونے کا معاملہ کیا سازش سے رچایا گیا کھیل ہے تاکہ نرسنگھ ریو اولمپک میں حصہ نہ لے سکیں؟ دوسری طرف نرسنگھ یادو کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ناڈا کی طرف سے 5 جولائی کو لئے گئے سمپل کی رپورٹ میں بھی وہ پوزیٹو نکلے ہیں۔ ان کے سیمپل میں وہی میتھاڈائن نام کا اسٹرائڈ پایا گیا جو25 جون کے سیمپل کی رپورٹ میں تھا حالانکہ اب یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ ناڈا اسے نرسنگھ کا دوسرا جرم مانتی ہے یا پھر اسے پہلے جرم کے زمرے میں رکھتی ہے اور ڈسپلنری پینل کے سامنے چل رہی سماعت میں شامل کرتی ہے۔ وہیں25 جون کے سیمپل میں ڈوپ پوزیٹو پائے جانے کے بعد امید یہی جتائی جارہی تھی کہ ان کا5 جولائی کا سیمپل بھی پوزیٹو نکلے۔ یہی ہوا بھی۔ دوسری طرف رپورٹ بھی پوزیٹو پائے جانے کے باوجود کشتی فیڈریشن نرسنگھ کے خلاف سازش کے اپنے الزاموں پر قائم ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نرسنگھ یادو کو ریو اولمپک میں جانے سے روکنے کے لئے بڑی سازش رچی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق نرسنگھ نے منگلوار کو اس مشتبہ شخص کی پہچان کرلی ہے جس نے انہیں کھانے میں ممنوعہ دوا ملا کر دی تھی۔ اس کے خلاف پولیس میں معاملہ درج کرایا جائے گا۔ نرسنگھ کو راحت کے لئے ناڈا کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پھنسنے سے سیدھا حریف کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ نرسنگھ اس میں اپنے حریف پہلوان اور ان کے رشتے داروں کا سیدھا نام لے سکتے ہیں۔ ناڈا کا قاعدہ کہتا ہے کہ (10.4 ) اگر سازش کے تحت کسی شخص کو پھنسایا گیا ہے تبھی اسے معطلی سے چھوٹ دی جائے گی۔ نرسنگھ پوری طرح سے اپنا موقف نہیں رکھ سکے تو انہیں کم سے کم ایک سال کی معطلی جھیلنی ہوگی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نرسنگھ کو 5 جون کو کھانے میں ملا کر ممنوعہ دوا دی گئی۔ یہ سازش سونی پت میں واقع انڈین کھیل اتھارٹی کے ہسپتال میں رچی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے دو باورچیوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک مشتبہ شخص کو کھانے میں کچھ ملاتے ہوئے دیکھا تھا وہ اس شخص کو پہچان سکتے ہیں۔ اولمپک میڈل ونر پہلوان یوگیشور دت نے ڈوپ میں فیل ہوئے نرسنگھ یادو کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملے کی پوری جانچ ہونی چاہئے۔ یوگیشور نے ٹوئٹ کیا، کشتی کے لئے نرسنگھ یادو کے ڈوپ ٹیسٹ میں فیل رہنے میں ہاتھ ہونے کی افواہ پر ستپال نے کہا کہ بغیر ثبوت ان پر ان کے چیلے پر انگلی اٹھانا غلط ہے۔ جو بھی ہو نرسنگھ یادو قصوروار ہیں یا انہیں پھنسایا گیا ہے نقصان تو ہندوستانی کشتی کا ہوا ہے۔ دیش کا ہوا ہے۔
(انل نریندر)

29 جولائی 2016

18 سال پرانے چنکارا۔ ہرن معاملے میں سلمان بری

1998ء میں فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ کی شوٹنگ کے دوران جودھپور کے گھوڑا فارم ہاؤس ہرن اور مواد گاؤں میں ہرن کے شکار کے معاملے میں فلم اداکار سلمان خان کو بری ہونے کی خوشخبری آئی ہے۔ 1998ء میں 26-27 کو یہ مبینہ شکار ہواتھا۔ 18 سال بعد عدالت کے چکر کاٹ کاٹ کر سلمان کے جوتوں کی ہیل گھس گئی۔ آخر کار راجستھان ہائی کورٹ نے اس کیس میں سلمان کو بری کردیا۔عدالت نے پیر کو اپنے فیصلے میں کہا کہ کالے ہرن کے جسم میں جو چھرے ملے وہ سلمان کی لائسنسی بندوق کے نہیں تھے۔ عدالت نے چنکارا سے وابستہ دو معاملوں میں 8 سال کی لمبی قانونی لڑائی کے بعد سلمان کو یہ راحت دی۔ نچلی عدالت نے دو معاملوں میں سلمان کو ایک اور پانچ سال کی سزا سنائی تھی لیکن ہائی کورٹ نے ان کے خلاف لگائی گئی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے دونوں سزاؤں کو منسوخ کردیا۔ عدالت نے اس معاملے میں ریاستی سرکار کی تین اپیلوں کو بھی مسترد کردیا۔ راجستھان حکومت نے کہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چنوتی دیں گے۔ حالانکہ سلمان کے خلاف کاکنی ہرن شکار معاملہ اور ناجائز ہتھیار رکھنے کا مقدمہ چلتا رہے گا۔ اس سے پہلے بمبئی ہائی کورٹ نے سلمان خان کو ہٹ اینڈ رن معاملے میں بری کردیا تھا۔ یہ کیس بھی سپریم کورٹ میں ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ نے سلمان کو اس بنا پر بری کیا چشم دید گواہ غائب ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ سے سبھی معاون ملزم بری ہوئے ، سلمان کو تو اس کورٹ میں پیش کرنے کی اپیل کررہا تھا۔ جیپسی مالک ارون یادو نے کہا کہ اس نے جیپسی میں کوئی خون نہیں دیکھا۔ ہوٹل و موقعہ سے لئے گئے خون کے نمونے میل نہیں کھاتے۔ ایف ایس ایل میں یہ واضح نہیں کہ خون کا نمونہ ہرن کا ہے۔ شکار ریوالور ، رائفل یا ایئر گن سے ہوا یہ ثابت نہیں ہو پایا۔ جپسی میں ملے چھرے سلمان کی بندوق سے نہیں نکلے تھے۔ واقعہ کے دس دن بعد پولیس کو جپسی میں چھرے کیسے ملے؟ خون کا سیمپل لیتے وقت گواہ بنا رام کشن بھی مکر گیا۔ بتادیں کہ ہرن کے شکار کے تین معاملوں میں سلمان خان پولیس و جوڈیشیل حراست کو ملا کر 18 دن جیل میں رہ چکے ہیں۔ محکمہ جنگلات نے سلمان کو پہلی بار 12 اکتوبر 1998ء کو حراست میں لیا تھا۔ وہ 17 اکتوبرتک جیل میں رہے اس کے بعد گھوڑا فارم معاملے میں 10 اپریل 2006ء کو سلمان کو نچلی عدالت نے پانچ سال کی سزا سنائی تھی جس کے فوراً بعد وہ 6 دن جیل میں رہے۔ سیشن عدالت نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا اور انہوں نے 26سے31 اگست 2007 ء تک کے دن جیل میں کاٹے۔ سلمان ایک نیک اور اچھے انسان ہیں اور وہ بہت نیک کام کرتے رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان سے غلطی ہوئی بھی ہو تو وہ کافی سزا بھگت چکے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی وہ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے تاکہ وہ ماضی میں ایسی غلطی نہ کر سکیں۔
(انل نریندر)

اندرا گاندھی ایئر پورٹ کا گولڈ تھیف

دہلی اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے تقریباً100 کلو سونا غائب ہونے کی چونکانے والی خبر آئی ہے۔ اتنا تو طے ہے کہ اس چوری میں ملی بھگت ضرور ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ گولڈ تھیف ہے کون؟ کیسے وہ اتنی آسانی سے اتنی مقدار میں سونا غائب کرسکتا ہے؟ کیا وہ محکمہ کسٹم کا کوئی افسر یا ملازم ہے؟ یا پھر ایئر پورٹ اسٹاف بھی اس میں شامل ہے؟ جس طرح سے ایک کے بعد چار وارداتیں سامنے آئی ہیں ان سے صاف ہے کہ اس میں بہت بڑی سازش ہے۔ پولیس کے سامنے چیلنج ہے کہ 34 سال کا ریکارڈ کھنگال کر اس معاملے کو سلجھائے۔ خود محکمہ کسٹم بھی یہ طے نہیں کرپا رہا ہے کہ آخر کار اتنا بڑا گڑ بڑ گھوٹالہ کیسے ہوا؟ آئی جی آئی ایئر پورٹ پر پچھلے کچھ عرصے سونا چوری کے چار معاملے سامنے آچکے ہیں۔ ان میں قریب90 کلو سونا چوری ہونے کی ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک ایف آئی آر کچھ دن پہلے درج کی گئی جس میں 59 کلو سونا غائب ہونے کی بات کہیں گئی ہے۔ پولیس کے مطابق جس طرح سے چوری کی واردات کو انجام دیا گیا ہے اس میں کوئی باہری آدمی شامل نہیں ہوسکتا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سارا سونا کسٹم ضبط کرکے ویئر ہاؤس میں رکھا ہوا تھا۔ اس میں کسی باہری شخص کی اینٹری ناممکن ہے۔ شعبہ جاتی ذرائع کے مطابق کافی عرصے سے یہ سونا چوری چل رہی ہے۔ سال2014ء میں کسٹم ویئر ہاؤس سے پہلی بار سونا چوری ہوا تھا۔ سال2015ء اور 2016 ء میں دورا ور معاملے سامنے آئے تھے۔ ان واقعات میں قریب 24 کلو سونا چوری ہوگیا تھا جس کی قیمت 7 کروڑ روپے تجویز کی گئی تھی۔ تازہ معاملہ 59.612 کلو کی چوری کا ہے ۔
آئی جی آئی تھانہ پولیس نے 18 جولائی کو مقدمہ درج کیا ہے۔ چوروں نے پیکٹ میں سیل بند سونے کے بسکٹ کو کسی دوسری دھات سے بدل دیا۔ کچھ پیکٹ سے گھڑی، ڈالر اور یو اے ای کی کرنسی برآمد ہوئی ہے۔ کسٹم کے ذرائع نے بتایا کہ ایئر پورٹ پر اسمگلروں سے برآمد سونا و قیمتی سامان کو کیس پراپرٹی کی شکل میں ٹرمنل نمبر 3 میں قائم کسٹم کے اسٹرانگ روم میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں 30 برس سے قریب 3 ہزار سیل بند پیکٹ میں 900 کلو گرام سونا رکھا ہوا ہے۔ جس اسٹرانگ روم میں سونا رکھا گیا ہے وہ ٹرمنل بلڈنگ کے اندر ہونے سے پوری طرح محفوظ ہے۔ شعبہ جاتی سطح پر بھی سونے کی سکیورٹی کا پختہ انتظام ہے۔ اس کی چابی کسٹم کے افسران کے پاس ہوتی ہے۔ ان کی موجودگی میں ہی اسٹرانگ روم میں کوئی داخل ہوسکتا ہے۔ حالانکہ چوری کے بعد پولیس نے وہاں مزید سی سی ٹی وی کیمرے لگوائے ہیں تاکہ اسٹرانگ روم میں پوری نظر رکھی جا سکے۔پولیس 34 سال کا پورے اسٹاف کا ریکارڈ سمیت سب کچھ کی جانچ پڑتال کرے گی تب جاکر شاید کوئی سراغ ملے۔ ممکن ہے کہ اب تک کئی افسر و ملازم ریٹائر بھی ہوچکے ہوں گے۔ آخر یہ سونا چور کون ہے؟
(انل نریندر)

28 جولائی 2016

ٹرین کی زد میں آئے بچوں کی موت کا ذمہ دار کون

اترپردیش کے بھدوئی میں کٹکا۔مادھوسنگھ اسٹیشنوں کے مابین الہ آباد پیسنجر ٹرین حادثہ کی انتہائی تکلیف دہ خبر آئی ہے۔ یہاں ایک ریلوے کراسنگ پر اسکول بس اور ٹرین آپس میں ٹکرا جانے سے 8 بچوں کی موت اور کئی زخمی ہوگئے۔ خبر دل دہلانے والی ہے۔ زیادہ افسوس تو یہ ہے کہ یہ حادثہ آسانی سے ٹل سکتا تھا۔ یہ ڈرائیور کی سراسر لاپرواہی و غیر ذمہ داری کی وجہ کا نتیجہ ہے۔ ریل کراسنگ ویسے بھی غیر محفوظ مانی جاتی ہے۔ حال اور ماضی میں کئی اسکول بسوں کے غیر محفوظ ریلوے کراسنگ پر حادثات ہونے کے واقعات اکثر سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ ریل حادثات میں ہونے والی اموات میں سے60فیصد اموات کھلی ریلوے کراسنگ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تازہ معاملے میں پیر کی صبح سوا سات بجے وارانسی۔ الہ آباد ریل روٹ پر واقع مادھو سنگھ اور کٹکا اسٹیشنوں کے درمیان کیئر مؤ ریلوے کراسنگ پر اسکول بس کو حادثہ ڈرائیور کی لاپرواہی سے ہوا ہے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق کراسنگ کے گیٹ کے ملازم رمیش رائے نے بس ڈرائیور کو رکنے کے لئے آواز لگائی تھی لیکن ایئر فون لگانے کی وجہ سے وہ نہ تو اس کی آواز سن سکا اور نہ ہی ٹرین کی آواز۔ حادثہ میں ڈرائیور رشید بھی زخمی ہوگیا۔ دھونیا میں واقع ٹنڈر ہارٹ پبلک اسکول کی ٹاٹا میجک گاڑی مرزا پور سرحد سے لگے کیئر مؤ اور بھتیاری گاؤں کے بچوں کو اسکول کے لئے لینے گئی تھی۔ ریلوے کراسنگ پار کرتے ہوئے یہ حادثہ ہوا۔ حادثہ میں بچے ارپت مشرا(10 سال)، شویتا مشرا (8 سال)، انکت مشرا (7 سال) اور نویدک (9 سال) پر دومن (17 سال)، ابھیشیک (10 سال)، ساکشی (9 سال) کی موقعہ پر ہی موت واقع ہوگئی۔ 12 بچے زخمی ہوئے۔ ہندوستان میں تقریباً30 ہزار کے قریب ریلوے لیول کراسنگ ہیں جس میں سے قریب11 ہزار کراسنگ پوری طرح سے غیر محفوظ ہیں۔ جہاں نہ کوئی گیٹ لگا ہے نہ کوئی ریلوے ملازم تعینات ہے۔ان غیر محفوظ ریلوے کراسنگ پر ہی زیادہ حادثات ہوتے ہیں اس کے علاوہ لوگ جگہ جگہ ریلوے پٹری پار کرنے کی جگہ بنا لیتے ہیں وہاں بھی کافی حادثات ہوتے ہیں، خاص کر ایسے شہری علاقوں میں ممبئی میں ہر سال ہزاروں لوگ پٹری پارکرتے ہوئے مر جاتے ہیں۔بنیادی اشو یہ ہے کہ ریلوے پٹریوں پر شہریوں کی موت کا اشو اتنا سنجیدہ اشو نہیں مانا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ اربوں کے بجٹ میں ان بے انسان ریلوے کراسنگ پر سکیورٹی کے پختہ انتظام نہیں ہوتے۔ آئینی ثبوتوں کے مطابق اگر کوئی ٹرین 80 یا 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آر ہی ہو تو اس کی دوری کا اندازہ غلط ہونے کے پورے پورے خدشات ہوتے ہیں۔ انسانی اندازہ 50 سے60 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی گاڑیوں کے لئے ہی پورا اترتا ہے۔ وزیر ریل اور وزارت کے سینئر افسروں کو کم سے کم اتنا تو کرنا ہی چاہئے کہ ایسی ریلوے کراسنگ پر جن سے80سے100 کلو میٹر کی رفتار سے ٹرینیں گزرتی ہیں ان پر تو پٹری پار کرنے کے محفوظ انتظام کرے۔ گاڑی ڈرائیوروں اور پٹری پار کرنے والوں کو بھی کراسنگ پر خاص توجہ دینی چاہئے۔
(انل نریندر)

دہلی میں بچوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات ایک برننگ اشو

حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ نے دہلی سے لاپتہ ہوتے بچوں پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔عدالت ہذا نے لاپتہ ہو رہے بچوں کے معاملے کو دہشت گردی کے برابر مانا ہے۔ دہلی سے یومیہ اوسطاً 22 بچے غائب ہوتے ہیں۔ ان میں سے28 فیصدی بچے دوبارہ کبھی گھر نہیں لوٹ پاتے۔ بچوں کے غائب ہونے سے جہاں متاثرہ خاندان ٹوٹ جاتے ہیں وہیں یہ بچے غلط ہاتھوں میں پڑجاتے ہیں اور سماج کے سامنے خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ راجدھانی میں لاپتہ ہوئے بچوں میں سے زیادہ تر لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر زبردستی جسم فروشی کی دلدل میں جھونک دی جاتی ہیں یا گھریلو نوکری کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ بچوں کے لئے کام کرنے والی انجمن ’’کرائی‘‘ اور انسانی حقوق تنظیم ’’اے پی آر‘‘کی جانب سے مشترکہ طور سے کرائے گئے ایک سروے میں دعوی کیاگیا ہے کہ پچھلے سال کمسنی میں 3715 لڑکیاں لاپتہ ہوگئی تھیں جبکہ لڑکوں کی تعداد2493 رہی ہے۔ سروے کے مطابق پولیس لڑکیوں کو لاپتہ ہونے پر اکثر شادی کے لئے فراری کی وجہ بتا کر حوالہ دے دیتی ہے لیکن بچائی گئی بچیوں سے ہوئی بات چیت اور کسی نتیجے پر پہنچتی ہے۔ سروے کہتا ہے کہ لڑکیوں کا اغوا کیا جاتا ہے اور انہیں جسم فروشی میں جھونک دیا جاتا ہے، شادی کرادی جاتی ہے یا گھروں میں نوکر کے طور پر کام کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔کرائی انجمن کی انچارج جیا سنگھ نے بتایا کہ خود بھاگنے والی لڑکیوں کی تعداد کم ہے حالانکہ لڑکوں کو ترجیح دئے جانے کے ٹرینڈ کی وجہ سے 0سے8 سال کی کمسن عمر میں لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے زیادہ لاپتہ ہوتے ہیں۔ پچھلے سال اس کمسن عمر کے 453 لڑکے غائب ہوئے تھے جبکہ گمشدہ لڑکیوں کی تعداد352 رہی۔ سب سے زیادہ بچے نو آباد غیر منظور کالونیوں سے غائب ہوتے ہیں۔ باہری دہلی میں سب سے زیادہ1326 ، جبکہ ساؤتھ ویسٹ دہلی سے784 بچے لاپتہ ہوئے۔ ان اضلاع میں زیادہ واقعات ہوئے ہیں۔ ان غیر منظور کالونیوں اور انڈسٹریل علاقہ سے لاپتہ ہونے والے لڑکے لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لاپتہ ہوئے بچوں کے زیادہ تر خاندان غریب تھے۔ باہری اور مغربی دہلی میں رہتے تھے۔ زیادہ تر خاندان روزی روٹی کی تلاش میں دہلی آکر بس گئے تھے۔ کئی خاندانوں کے سبھی افراد فیکٹری میں کام کی تلاش میں باہر جاتے تھے۔ دہلی میں آئے دن لاپتہ ہورہے بچوں کی تلاش سرکار کی ترجیحات میں نہیں ہے۔ یہ باتیں چائلڈ رائٹس اینڈ یو (کرائی) اور الائنس فور پیپلز رائٹ(اے پی آر) کی ایک عوامی سماعت میں والدین نے بتایا کہ اس مسئلے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اور پبلک سماعت میں تیزی سے بڑھ رہے اس مسئلے کا حل تلاشنے اور دور کرنے کے لئے لاپتہ بچوں کے ماں باپ اور متعلقہ تنظیموں کے درمیان رائے مشورہ کیا گیا۔ اس پبلک سماعت کا مقصد راجدھانی میں لاپتہ بچوں کی بڑھتی تعداد کی ذمہ داری کو سمجھنے اور اس سے درپیش چیلنجوں کو سامنے لانا تھا۔
(انل نریندر)

27 جولائی 2016

ڈوپنگ میں پھنسے نرسنگ نے دیا دیش کو کرارا جھٹکا

پہلوان نرسنگ یادوکا ڈوپ ٹیسٹ میں فیل ہوناہندوستان کے اولمپک کمپین کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔جیسے ہی نرسنگ کے بارے میں یہ خبر آئی دیش بھر کے کھیل شائقین سکتے میں پڑگئے۔ بتایا گیا ہے کہ نرسنگ یادو کے سمپل میں میتھیڈائن نام کا جو اسٹرائڈ (اجزاء) پائے گئے ہیں وہ جسم کی نسوں کو مضبوط کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ اس کا اثر جسم میں 15 دنوں تک رہتا ہے۔ حالانکہ ابھی نرسنگ یادو کے معاملے میں سماعت جاری ہے اور دعوے سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ریو اولمپک میں شامل ہو پائیں گے یا نہیں؟ لیکن اس واقعہ نے ایک بار پھر ڈوپنگ ٹرینڈ (نشہ کی عادت) پر سوچنے کو مجبور ضرور کردیا ہے۔ جب بھی بین الاقوامی کھیل مقابلے شروع ہوتے ہیں تو کچھ کھلاڑی ڈوپنگ کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں۔ چاہے وہ ایشیائی کھیل ہوں یا پھر اولمپک تمام دیشوں کے ہونہار کھلاڑیوں کو اس مشکل آ زمائش سے گزرنا پڑتا ہے اور ہر بار کچھ کھلاڑی ڈوپنگ امتحان پاس نہ کرپانے کے سبب کھیلوں میں حصہ لینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دراصل دنیا بھر میں ڈوپنگ کو لیکر ایک گائڈ لائنس بنی ہوئی ہے جس کی سبھی دیشوں کو تعمیل کرنی پڑتی ہے۔ اس میں کئی ایسی دوائیں لینے پر پابندی ہے جس سے کھلاڑی کا دوران خون تیز ہوجاتا ہے اور وہ کچھ زیادہ طاقت محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کی کھیلنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ نرسنگ نے خود کو سازش کے تحت پھنسانے کی بات کہی ہے۔ نرسنگ کے خیمے سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ناڈا کی سماعت میں انہیں راحت نہیں ملتی تو وہ پولیس میں مجرمانہ سازش کا معاملہ درج کرا سکتے ہیں۔ تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ صرف نرسنگ کی ہی نہیں ان کی جگہ پر سشیل کمار کو ریو میں بھیجے جانے کی امیدیں ختم ہوگئی ہیں کیونکہ 18 جولائی کو اولمپک کے لئے اینٹری بھیجے جانے کی آخری تاریخ گزر چکی ہے۔ سماعت کے دوران اگر نرسنگ اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرپائے تو ان پرچار سال کی پابندی لگنا طے ہے حالانکہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ نرسنگ سماعت کے دوران اپنے خلاف سازش ثابت کر دیتے ہیں تب بھی وہ واڈا قواعد کے تحت راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ دراصل واڈا کورٹ میں سازش کے چلتے ڈوپ میں پھنسنے کو مقام نہیں دیا جاتا اس لئے ناڈا کا ڈسپلینری پینل ان کی سزا تو کم کرسکتا ہے لیکن انہیں بری کیا جانا بیحد مشکل ہے۔ وہیں کشتی فیڈریشن بھی نرسنگ کے حق میں کھڑی ہوگئی ہے۔ اس کی جانب سے بھی اس معاملے میں جانچ کرائی جاسکتی ہے۔ نرسنگ کا کہنا ہے کہ میں ایک تجربہ کار پہلوان ہوں مسلسل اولمپک کھیل رہا ہوں، مجھے پتہ ہے کہ کونسی چیزیں کھانے سے ڈوپنگ میں پھنس سکتا ہوں۔ اولمپک کے اتنے قریب آکر میں اپنا سنہرہ کیریئر کیوں خراب کروں گا؟ میرے ساتھ کسی نے سازش رچی ہے۔ اس بارے میں نہ تو نرسنگ کچھ بول رہے ہیں اور نہ ہی کشتی فیڈریشن لیکن نرسنگ کی ٹیم کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ نرسنگ کو سونی پت سائنس سینٹر میں دئے جارہے کھانے میں ممنوعہ دوا ملا دی گئی ہو۔جس طرح نرسنگ سشیل کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اس سے بھی اس اندیشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سشیل نے جو بیان پوسٹ کیا اس سے بھی اس اندیشے کو تقویت ملتی ہے۔ سشیل کے کوچ ستپال کا یہ بیان کہ وہ تو پہلے ہی سے جانتے تھے کہ نرسنگ ایسا کریں گے، سے سازش سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نرسنگ کے ڈوپ میں پھنسنے کی خبر فیڈریشن کو پہلے ہی مل گئی تھی۔ جس نے انہیں اولمپک تیاریوں کے لئے جارجیا جانے سے روک دیا تھا۔ اولمپک میں حصہ داری کے لئے نرسنگ یادو کا چناؤ شروع سے ہی تنازعوں میں رہا ہے۔70 کلو گروپ میں دوہرا اولمپک جیتنے والے سشیل کمار کی جگہ اب انہیں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیاتو سشیل کمار نے سخت اعتراض جتایا۔ یہاں تک کہ انہوں نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ۔اب وہی نرسنگ یادو اگر اولمپک میں میڈل حاصل کرنے کے لئے جوش پیدا کرنے کی دوائیں لیتے پائے گئے ہیں تو ان لوگوں کو ایک بار پھر انگلی اٹھانے کا نہ صرف موقعہ مل گیا ہے بلکہ نرسنگ نے پورے دیش کے ساتھ ساتھ اپنی بھی کرکری کرائی ہے۔
(انل نریندر)

دہلی میں ہائی پروفائل سیکس ریکٹ

ساؤتھ دہلی پولیس نے بین الاقوامی سیکس ریکٹ کوبے نقاب کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ساؤتھ دہلی کے پاش علاقے صفدرجنگ انکلیو میں سیکس ریکٹ چلانے والے شخص پرتیندر سنگھ سانیال (63 سال) کو گرفتار کرلیا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کے افسران چھاپہ مارنے گئے تو دستاویز کی جانچ کے بعد پولیس کو اس ریکٹ کے بارے میں پتہ چلا تھا۔ ملزم سانیال بنیادی طور سے لکھنؤ کا رہنے والا ہے۔ پرتیندر سنگھ سانیال کے علاوہ اس معاملے میں فوج کے ریٹائرڈ کرنل اجے اہلاوت کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ملزم خودکو صاف بتا کر یوپی کے آئی اے ایس افسروں کے کام کروانے کے لئے میسج اور فون کرتا تھا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ اس سیکس ریکٹ میں وسطی ایشیائی ملکوں کی لڑکیوں کے شامل ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ ملزم سانیال نے پولیس کو بتایا کہ وہ ایک آئی ٹی کمپنی میں مشیر کار ہے۔ حالانکہ پولیس کے سامنے وہ اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں پیش کرسکا۔ پولیس کو کئی بینک کھاتوں سے سانیال کے کھاتے میں پیسے ٹرانسفر ہونے کے بھی ثبوت ملے ہیں۔ پولیس کو پتہ چلا ہے کہ سانیال کے گراہکوں میں سیاستداں، تاجروں سے لیکرفوج کے افسر تک شامل ہیں ۔ بتایا جارہا ہے سانیال اور اس کے ساتھی اجے اہلاوت کی تصویریں نامور کرکٹروں اور سیاستدانوں کے ساتھ ملنے سے جانچ ایجنسی شش و پنج میں ہے۔جمعہ کو ساؤتھ دہلی پولیس کمشنر نے دیررات پریس کانفرنس کر معاملے میں سیاستدانوں کے شامل ہونے کی بات سے انکار کیا تھا لیکن پی این سایال کے موبائل سے سیاستدانوں کے نام ،ایس ایم ایس اور سانیال کے گھر پر لگی فوٹو و لیٹر ہیڈ ملنے سے معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے۔دراصل سانیال کے گھر A2صفدر جنگ انکلیو پر جب انکم ٹیکس نے چھاپہ مارا تو ایک روسی لڑکی ملی تھی۔ چھاپے کے دوران ہی لڑکی نے چاقو سے ہاتھوں کی نسیں کاٹ لیں۔ محکمہ انکم ٹیکس نے ہی ساؤتھ دہلی پولیس کو اس کی جانکاری دی۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ غیر ملکی لڑکی نے بیان دیا ہے کہ سانیال نے اسے یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس نے اس کا پاسپورٹ و دیگر کاغذات قبضے میں لئے ہوئے تھے۔ ایشور سنگھ (ڈی سی پی) نے بتایا کہ لکھنؤ کے گومتی نگر و دہلی میں واقع فلیٹ سے کئی غیر ملکی لڑکیوں کے فون نمبر ، پاسپورٹ کی فوٹو کاپی اور ٹریول سے متعلق کاغذات برآمد ہوئے ہیں۔ لڑکیاں سانیال کے پاس آتی رہتی تھیں برآمد دستاویزات سے لگتا ہے کہ یہاں لمبے عرصے سے سیکس ریکٹ و دھوکہ دھڑی کا ریکٹ چل رہا تھا۔ دستاویز ملیں ہیں جن سے لگتا ہے کہ غیر ملکی لڑکیوں کی سپلائی کے عوض میں اس نے اپنے کھاتے میں موٹی رقم ڈلوائی ہے۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ یہ بہت برا ریکٹ ہے اسے دیکھتے ہوئے معاملہ کی جانچ کے لئے اسپیشل ٹیم بنائی گئی ہے۔ روسی لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اسے سانیال سے اجے اہلاوت نے ملوایا تھا۔ وہ غیر ملکی لڑکیوں کو بھارت بلاتا تھا۔ اہلاوت فوج سے وی آر ایس لے کر وسنت کنج میں رہ رہا تھا۔ ریکٹ میں آر می کے اور افسروں کے نام بھی سامنے آسکتے ہیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ فوج کی خفیہ اطلاعات بھی لیک ہوتی ہوں۔
(انل نریندر)

26 جولائی 2016

میاں نوازشریف کے حسین سپنے

ایک بار پھرپاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں ان کی پارٹی پی ایم ایل۔ این کو اسمبلی چناؤ میں زبردست کامیابی کے بعد مظفر آباد میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ لندن میں مئی میں ہوئی اوپن ہارڈ سرجری کے بعد اپنی پہلی ریلی میں شریف نے کشمیر کے لوگوں سے درخواست کی کہ انہیں نہ بھولیں جو لوگ آزادی کی تحریک کے لئے کشمیر میں اپنی جان کی قربانی دے چکے ہیں۔ میاں نواز شریف کے منگیری لال کے حسین سپنے شاید ہی کبھی پورے ہوں۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے نواز شریف کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو لیکر ان کا خواب قیامت تک پورا نہیں ہوگا۔ سنیچر کو سشما سوراج نے کہا کہ نواز شریف کے بیان سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ پاکستان کشمیر میں گڑ بڑ کے لئے مسلسل اپنی ناپاک کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کی پارلیمنٹ کئی بار یہ عزم ظاہر کرچکی ہے کہ کشمیر کے معاملے میں اگر کوئی ادھورا ایجنڈا ہے تو وہ ہے پاکستانی قبضے والے کشمیر کو واپس پانا۔ کشمیر کارڈ کھیلنے میں لگے پاکستان کو ہندوستان کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے جم کر لتاڑ لگانے کے ساتھ ہی آئینہ بھی دکھا دیا۔ بھارت نے غلام کشمیر پر ناجائز قبضہ جمائے پاکستان کو جلد سے جلد خالی کرنے کی وارننگ دے کر صاف کردیا ہے کہ جس آگ کو وہ بھڑکانے کی کوشش کررہا ہے اس سے اس کا دامن بھی خراب ہوسکتا ہے۔ پانی اب سر سے اوپر چڑھ چکا ہے اور بھارت اسے برداشت نہیں کرے گا۔ حزب اللہ آتنکی برہان وانی کی موت کے بعد سے ہی پاکستان جس طرح سے کشمیر کی آڑ میں دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھا رہا ہے بھارت نے اسے بھی دنیا کے سامنے لا دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے نئے سرے سے کشمیر کا رونا رونے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارت نے صاف کردیا ہے کہ اب اس مسئلے پر کوئی مروت نہیں ہوگی، سخت پیغام بھی دیا جائے اور سختی سے نمٹا جائے گا۔ پاکستان مسلسل خاص کر کشمیر وادی میں بھارت مخالف جذبات بھڑکانے کے فراق میں رہتا ہے۔ جب بھی موقعہ ملتا ہے سرحد پار سے دراندازی کے ذریعے دہشت گردوں کو روانہ کرتا ہے تاکہ وادی میں حالات کبھی بھی نارمل نہ ہوسکیں۔ یہی نہیں، وہ اپنے قبضے والے ناجائز طور سے ہتیائے حصے میں کشمیر میں آتنکیوں کو ٹریننگ کیلئے کیمپ بھی چلاتا ہے۔ پاکستان ان کشمیری آتنکیوں کی ہر ممکن مدد کرتا ہے تاکہ یہ کشمیر وادی میں عدم استحکام پیدا کرکے وہاں کے ماحول کو خراب کریں اور ہمارے جوانوں کو ماریں۔ یہ کوئی انجانی حقیقت نہیں ہے اس لئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ جب یہ باتیں لوک سبھا میں بتا رہے تھے تو نئی بات صرف یہ تھی کہ وادی میں موجودہ شورش میں بھی پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان کشمیر میں ہمیشہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے جس سے اسے اس مسئلے کو بڑے اسٹیج پر اٹھانے کا موقعہ مل جائے۔ جہاں نواز شریف کے حسین سپنے کبھی پورے نہیں ہوں گے وہیں سوال یہ بھی ہے کہ بھارت وادی کا ماحول بگڑنے سے روکنے کے پختہ قدم کیوں نہیں اٹھا پاتا؟ پچھلی کئی دہائیوں سے کشمیری عوام نے ان دہشت گردوں، علیحدگی پسندوں کی تمام دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پنچایت سے لیکر اسمبلی و لوک سبھا چناؤ میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے امن اور جمہوریت کے سسٹم کے حمایتی ہیں۔ اس یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنا ووٹ دیکر بھارت کے آئین کے تئیں اپنی حمایت ظاہر کرتے ہیں۔ کشمیری عوام ان مٹھی بھر دہشت گردوں ، علیحدگی پسند لیڈروں سے عاجز آ چکی ہے۔ وہ امن اور خوشگوار ماحول چاہتی ہے۔ اگر آپ سرینگر اور کچھ حصوں کو چھوڑدیں تو کشمیر وادی کے دیگر مقامات پر ایک الگ ہی ماحول ہے۔ پاکستان کے ذریعے کشمیر کے اپنے قبضے کوبھی ہم زور زور سے اٹھانا چاہئے اسے بین الاقوامی پس منظر میں پیش کرنا چاہئے۔ آج پوری دنیا اسلامی دہشت گردی کی زد میں ہے۔ دنیا کو یہ بتانا چاہئے کہ پاکستان کشمیر کے ایک حصے کو دہشت گردی پنپنے کے لئے کیسے استعمال کررہا ہے۔ 56 انچ کی چھاتی کی بات کرنے والی سرکار نے پاکستان کے تئیں اب تک جو لچیلا رخ دکھایا ہے اس کی وجہ سے پاک کی ہمت بڑھی ہے۔ اس لئے وہ جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے اکسانے اور شورش پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)

8دن کے اندر میونخ و یوروپ میں تیسرا آتنکی حملہ

یوروپ اب پوری طرح سے اسلامی دہشت گردی کا شکار ہوچکا ہے۔ اب تک اس لعنت سے اچھوتا رہا جرمنی بھی اب اس کی زد میں آگیا ہے۔ 8دن میں یوروپ میں جرمنی کیبڑے شہر میونخ میں یہ تیسرا بڑا آتنکی حملہ ہے۔ اس سے پہلے نیس شہر میں پھر جرمنی میں اور اب میونخ حملے کے کچھ دن پہلے جرمنی کی ایک ٹرین میں مہاجرافغان لڑکے نے ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے ہوئے کلہاڑی اور چاقوں سے مسافروں پر حملہ کردیا تھا۔ اس میں ہانگ کانگ کے ایک خاندان کے چار افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق جنوبی شہر برج برگ کے قریب ٹرین میں ہوئی اس ورادات میں کئی دیگر مسافر بھی زخمی ہوئے۔ 17 سالہ حملہ آور لڑکا اس وقت مارا گیا جب وہ بھاگنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس کا تعلق آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) سے تھا۔ سرکاری نیوز ایجنسی نے بتایا کہ جرمنی میں حملہ کرنے والا آئی ایس کا جنگجو تھا اور یہ جرمنی میں آئی ایس کا پہلا حملہ تھا۔ اس کے کچھ دن بعد میونخ شہر کے ایک شاپنگ مال میں بندوقچیوں کے ذریعے اندھا دھند فائرنگ میں کم سے کم 8 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ حملہ میں 10 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ جرمنی پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے حملہ کے بعد خودکشی کرلی تھی۔ یہ ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ حملہ میں کتنے آتنکی شامل تھے۔ پولیس کا کہنا ہے ہمیں ایک شخص ملا جس نے خودکشی کرلی۔ ہمارا خیال ہے کہ وہ ایک طالبعلم بندوقچی تھا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے گئے ایک ویڈیو میں دکھائی دے رہا ہے وہ کالے رنگ کے کپڑے پہنے ایک میک ڈونلڈ کے ریستوراں سے باہر آتے لوگوں پر اندھا دھند فائرننگ کررہا ہے اور لوگ چلاتے ہوئے بھاگ رہے ہیں۔ میونخ کے حملہ کی ذمہ داری کسی تنظیم نے نہیں لی ہے لیکن حملے کے بعد سوشل میڈیا پر آئی ایس کی جانب سے جشن مناتے ہوئے آئی ایس حمایتیوں نے اسے ٹوئٹ کیا ہے۔ 8 دن کے اندر یوروپ میں یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔ اس سے پہلے فرانس اور جرمنی میں ہوئے حملوں کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ لے چکا ہے۔ خیال رہے کہ یہ شاپنگ مال جہاں یہ واردات ہوئی ہے میونخ اولمپک اسٹیڈیم کے پاس واقع ہے اور یہیں پر 1972 کے اولمپک کھیلوں کے دوران فلسطینی باغیوں نے 11 اسرائیلی کھلاڑیوں کو یرغمال بنا کر مار ڈالا تھا۔ مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس گولہ باری میں کئی لوگوں کے مرنے کا اندیشہ ہے۔پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ چشم دید گواہوں کے مطابق کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ جرمنی میڈیا کی رپورٹ میں بھی یہ بتایا جارہا ہے کہ میونخ میں حملہ آور ایک ہی ہے۔ حالانکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے مال میں اس حملہ میں 10 آتنک وادی شامل تھے جن میں سے6 حملہ آور بھاگ نکلے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس فائرننگ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حکومت نے بتایا کہ اس فائرننگ میں مارے گئے لوگوں میں کوئی ہندوستانی نہیں ہے۔یہ ہمارے لئے سکون کی بات ہے۔
(انل نریندر)

24 جولائی 2016

دہلی یونیورسٹی کے تین طالبعلم ریو میں ہندوستان کا نام روشن کریں گے

یہ انتہائی خوشی کا موضوع ہے کہ برازیل کے شہر ریو میں 5 اگست سے شروع ہونے والے اولمپک کھیلوں میں دہلی یونیورسٹی کے تین طالبعلم بھی ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔ ان میں سے دو کھلاڑی جیسس اینڈ میری کالج اور ایک کھلاڑی شری گورونانک دیو خالصہ کالج کا ہے۔ یہ کھلاڑی 10 میٹر ایئر رائفل ، ٹیبل ٹینس اور 400 میٹر دوڑ میں حصہ لیں گے۔ دہلی یونیورسٹی اسپورٹس کونسل کے سکریٹری ڈاکٹرا نل کمار کلکت نے بتایا کہ ریو میں ہونے والی اولمپک میں دہلی یونیورسٹی کے 3 کھلاڑی ہندوستانی ٹیم میں شامل رہیں گے۔ ان میں جیسس اینڈ میری کالج کے سوشیالوجی میں آنرس کررہی اپوروی چندیلہ نشانے بازی اور اسی کالج سے بی اے پڑھ رہی طالبہ منیکا بترا ٹیبل ٹینس اور گورونانک خالصہ کالج سے بی اے کرچکے للت ماتھر شامل ہیں۔ پچھلے کچھ برسوں سے دہلی یونیورسٹی کے طالبعلم کھیلوں میں خوب نام کمارہے ہیں۔ طالبعلم لگاتار عالمی سطح پر مختلف مقابلوں میں نہ صرف حصہ لے رہے ہیں بلکہ اچھے کھیل کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں۔ ورلڈ یونیورسٹی چمپئن شپ میں بھی ہمارے بچوں نے بہت اچھا کھیل دکھایا ہے۔ اسپورٹس کونسل کے چیئرمین پروفیسر سی ایس دوبے نے بتایا کہ اس کے پیچھے یونیورسٹی کی منظم پلاننگ میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ڈاکٹر کلکت نے بتایا کہ کھیلوں میں یونیورسٹی کی بہتر پرفارمینس کو دیکھتے ہوئے ہمیں یو جی سی سے 1.75 کروڑ روپے ملے ہیں۔ ان میں سے 90 لاکھ روپے کمپیوٹرائزڈ شوٹنگ رینج بنانے میں ،75 لاکھ روپے بستر کا کھیل ہاسٹل بنانے اور10 کروڑ روپے کھیل کا سازو سامان خریدنے کیلئے ۔ م
نیکا بترا کی ماں سشما بترا کہتی ہیں کہ منیکا کو اپنے بڑے بھائی اور بہن کے ساتھ کھیلتے کھیلتے ٹیبل ٹینس کا شوق پیدا ہوا۔ بعد میں اس کا جنون بن گیا۔ کھلاڑیوں میں سچن تندولکر، سائنہ نہوال کو پسند کرنے والی منیکا نے اس برس ہوئے کامن ویلتھ چمپئن شپ میں 2 سلور اور 1 تانبے کا میڈل جیتا تھا۔اپوربی چندلہ 2008 ء کے بیجنگ اولمپک میں ابھینیو بندرا کے گولڈ میڈل جیتنے سے اتنی متاثر ہوئی کہ انہوں نے نشانہ باز بننے کا فیصلہ کرلیا۔ 10 میٹر ایئر رائفل مقابلہ کے لئے اولمپک میں کوالیفائی کرنے والی اپوروی بہت ہی ٹیلنٹ کھلاڑی ہیں۔ کھیل مقابلوں کی وجہ سے ا ن کی تعلیم بیچ میں چھوٹ گئی۔ ایسے ہی خالصہ کالج کے للت ماتھر کرولہ گاؤں کے ہیں۔ ان کے کالج کے کھیل ڈیکس ٹیچر جسونت سنگھ کہتے ہیں کہ جس برس للت نے کالج میں داخلہ لیا تھا اسی سال انٹر کالج کے سارے ریکارڈ توڑ دئے ۔ اولمپک میں 400 میٹر دوڑ میں میڈل ضرور لائیں گے۔ اولمپک میں حصہ لینا کسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔ ان تینوں نے دہلی یونیورسٹی کا نام روشن کردیا ہے۔ ان تینوں کو بیسٹ آف لک۔
(انل نریندر)

رجنی کانت کی فلم ’کبالی‘ کا کریز

ہندوستان کے سپر اسٹار اور فلم سٹار اور فلمی ستاروں کے فینس میں کتنا کریز ہے یہ ہمیں وقتاً فوقتاً پتہ چلتا رہتا ہے۔ ساؤتھ انڈیا کے رجنی کانت کے اتنے دیوانے ہیں کہ ان کی کوئی بھی فلم ریلیز ہو تو وہ تہلکہ مچا دیتی ہے۔ نئی فلم ’کبالی‘ نے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ بنگلورو میں پیدا رجنی کانت فلم میں گینگسٹر بنے ہیں۔ ان کی اسٹار پاور آپ ان کی فلم ’کبالی‘ کے انٹر نیٹ پر فینس کے ذریعے تیار پوسٹرپر لکھی لائنوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ اس پر لکھا ہے ۔۔۔’’سلمان خاں اپنی فلم عید پر ریلیز کرتے ہیں کیونکہ تب چھٹی ہوتی ہے، پھر الائیو یعنی سپر اسٹار کی تصویر نیچے درج ہے۔ رجنی کانت اپنی فلم جس دن ریلیز کرتے ہیں اس دن چھٹی ہوجاتی ہے۔‘‘ جمعہ کو ان کی فلم کی ورلڈ ریلیز تھی۔ ساؤتھ کے تمام سنیما گھر پورے ہفتے کے لئے فل ہوگئے ہیں۔ 22 جولائی کو تاملناڈو میں کچھ پرائیویٹ کمپنیوں نے اس لئے چھٹی کردی تاکہ ملازمین فلم دیکھنے جاسکیں لیکن اس بار کچھ ایسا مارکٹنگ کمپین چلا کہ ان کے بڑے فینس فرسٹ ڈے فرسٹ شو میں مورچے پر اسٹارٹ اپ اور بڑی کمپنیوں کی طاقت کے سامنے بے بس دکھائی دیتے رہتے ہیں۔ رجنی کانت کے ایک بڑے فین کلب کے ایک ممبر کہتے ہیں کہ جن کلبوں کو پہلے تقریباً 300 ٹکٹ مل جایا کرتی تھیں ان کو ’کبالی‘ کی صرف50 ٹکٹیں ہیں پیش کی گئیں۔
اس مرتبہ بڑی مشکل یہ ہے کہ رجنی کانت کو لیکر لوگوں میں اتنا کریز ہے کہ فینز ان کو بھگوان مانتے ہیں۔ لوگ تو ان کے کٹ آؤٹ پر گائے کے دودھ سے ابھیشیک کرتے ہیں اور سنیما کے پردے کے سامنے کپور سے ان کی آرتی کرتے ہیں۔ شہرکے تھیٹرمیں 500 سے1200 روپے تک کی ٹکٹ ملی جبکہ کچھ جگہوں پر اور بھی مہنگی تھی۔ ’کبالی‘ دیش بھر میں ایک ساتھ 6 ہزار سنیما میں ریلیز ہوئی۔ 120 روپے والا ٹکٹ 2000 روپے تک میں بکا۔ اس بار رجنی کانڈ کی جتنی ڈیمانڈ ہے ان کے 40 سالہ کیریئر میں پہلے کبھی نہیں دیکھنے کو ملی۔ ’کبالی‘ کے لئے چنئی اور ممبئی جیسا جوش دہلی میں بھی دکھائی دیا۔ رجنی کانت کی اس فلم ’کبالی‘ کو دہلی ۔این سی آر میں 133 سنیما گھروں میں ریلیز کیا گیا۔ مارننگ شو سے لیکر ایوننگ شو تک ٹکٹ بک ہیں۔ غور طلب ہے کہ دنیا بھر میں ’کبالی‘ کے ایک ساتھ 12 ہزار پرنٹ ریلیز کئے گئے۔ رجنی کانت کے فینز دنیا بھر میں ہیں۔ دہلی بھی اچھوتی نہیں ہیں۔ بتادیں کہ یہ رجنی کانت کی تیسری سب سے مہنگی فلم ہے۔ کلکشن کی رفتار کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ یہ سبھی ریکارڈ توڑ دے گی۔ فلم کی لاگت165 کروڑ روپے ہے۔ خبریں آرہی ہیں کہ فلم نے ریلیز سے پہلے ہی سیٹیلائٹ اور ڈسٹیبیوشن رائٹس بیچ کر200 کروڑ روپے کی کمائی کر لی ہے۔ ہندی رائٹس سے 16 کروڑ روپے کی کمائی ہے۔ امریکہ کے 400 سنیما گھروں میں تمل اور تیلگو ورژن کو ریلیز کیا گیا ہے۔ فلم تمل ، تیلگو، ہندی، ملیالم، چائنیز اور چار دوسری زبانوں میں بھی ڈب کی گئی ہے۔
(انل نریندر)