Translater

07 جولائی 2012

غریب آدمی کو بیماری ہونا مصیبت سے کم نہیں

بھارت میں اگر کسی غریب آدمی کو بیماری ہوجائے تو سمجھو اس پر تو آفت ہی آگئی۔ بیماری کا علاج اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ وہ اس کی حیثیت سے باہر ہوتا ہے۔ غریب آدمی کیسے اپنا علاج کروائی۔ دہلی کی بات کریں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ دہلی کے غریب مریض آخر کہاں جائیں؟ سرکاری ہسپتالوں میں مہینوں۔سالوں کی ڈیٹ مل رہی ہے۔سرکار سے سستی دام پر زمین لینے والے یہ پانچ ستارہ ہسپتال غریب کا علاج کرنے کوتیار نہیں۔ سرکار کا پی پی پی ماڈل برباد ہوچکا ہے اور سرکار کی قومی ہیلتھ بیما اسکیم فیل ہوچکی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلی کھل کر پانچ ستارہ پرائیویٹ ہسپتالوں کا موقف جب رکھتی ہیں تو دکھ ہوتا ہے کے غریب جنتا کے مفادات کی حفاظت کرنے والے سیاستدانوں کو غریبوں کی کتنا پرواہ ہے۔ سرکار سے سستے دام پر زمین حاصل کرنے اور غریبوں کا علاج نہ کرنے والے ہسپتالوں نے عدالتی حکم کے بعد کچھ لوگوں کے علاج کی شروعات کی ہے لیکن اس درمیان وزیراعلی کا کہنا ہے ان ہسپتالوں کا گلا اور کتنا دبایا جائے۔ حقیقت میں ان ہسپتالوں کو سرکار نے ایک روپے ایکڑ سے لیکر کچھ سو روپے ایکڑ کے حساب سے زمین صرف اس شرط پر دی تھی کہ وہ او پی ڈی، آئی پی ڈی میں غریب مریضوں کا علاج کریں گے۔ جس کے تحت آئی پی ڈی میں 10 فیصدی ،اوپی ڈی میں25فیصدی غریبوں کا علاج مفت کرنا تھا لیکن ہسپتال اس وعدے سے مکرتے رہے۔ آخر میں عدالت کے سخت فیصلے کے بعد انہوں نے علاج کرنا شروع کردیا ہے۔ سال2008ء میں شروع کردہ قومی ہیلتھ بیمہ اسکیم بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ بیمہ کمپنیوں کے ذریعے ہسپتالوں کو وقت پر پیسہ نہ دینے کے سبب ہسپتالوں نے غریب مریضوں کا علاج کرنے سے منع کردیا ہے۔ ہسپتالوں نے وزیر اعلی کو خط لکھ کر علاج نہ کرنے کے بارے میں واقف کرادیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود وزیر اعلی اس اسکیم کے فیل ہونے کا سبب جنتا کی بیداری میں کمی بتارہی ہیں۔ خیال رہے کہ راجدھانی میں 9 لاکھ بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہیں۔ راجدھانی میں قریب40 ہسپتال اس اسکیم سے وابستہ ہیں۔ یہ ہسپتال غریبوں کا علاج کرتے ہیں جس کے عوض میں بیمہ کمپنیاں انہیں پیسے کی ادائیگی کرتی ہیں۔ بیمہ کمپنی کو سرکار کا محکمہ محنت پیسہ دیتا ہے۔ جانکاری کے مطابق محکمہ محنت نے تو بیمہ کمپنی کو پیسہ دے دیا ہے لیکن بیمہ کمپنی نے ہسپتالوں کو پیسہ نہیں دیا۔ قومی ہیلتھ بیمہ اسکیم کے چیئرمین ڈاکٹر پریم اگروال کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ہسپتالوں کو اسکیم کے تحت خرچ ہونے والی رقم ادا نہیں کی گئی۔ فی الحال28 اپریل سے اس اسکیم کے تحت علاج کرنے والے ہسپتالوں نے کھلے طور سے کارڈ ہولڈروں کو بھرتی کرنے سے منع کردیا ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے دہلی کا غریب مریض آخر کہاں جائے؟ (انل نریندر)

06 جولائی 2012

بھگوان کی برابری کرنے والا یہ بڑا تجربہ کتنا بھروسے مند ہے؟

قدیم زمانے سے انسان کی جستجو رہی ہے کہ آخر یہ برہمانڈ یعنی (کائنات) کیا ہے۔ کیسے یہ دنیا بسی؟ ویدک اور قدیم زمانے میں ہی ہندوستانی رشیوں اور منیوں نے جنگلوں اور پہاڑوں میں رہ کر آسمان میں سیاروں ،تاروں کی چال اور ان کی بناوٹ اور زمین پرپڑنے والے ان کے اثرات پر انگنت تجربے کئے ہیں۔ یہ کسی تعجب سے کم نہیں کہ نکشتروں ،تاروں کی رفتار، آکاش گنگا جیسے معموں کی صورتحال، سورج ۔چاند کی رفتار اور دوری اور اسکی بنیاد پر رات اور دن، مہینے اور سال کا تعین بھی اتنے ہی نپے تلے طریقے سے کیا گیا جتنا آج اربوں ڈالر سے تیار ناسا کی لیباریٹریاں کرتی ہیں۔ پچھلے چار برسوں میں ایک بڑا تجربہ شروع کیا گیا۔ گارڈ پارٹیکل کی تلاش کیلئے زمین کے 100 میٹر اندر ایک گولائی والی سرنگ کی شکل میں ایک مشین جس کا دائرہ تقریباً 27 کلو میٹر لمبا ہے، اس میں پروٹین ذرات کی رفتار کنٹرول کرنے کے لئے بڑے بڑے سائز کے 9 ہزار سے زیادہ چمبک لگے ہوئے ہیں، کا استعمال چل رہا ہے۔ اس گولائی والے خاص حصے کے بڑے پڑاؤ پر لاکھوں کل پرزے والی الگ الگ مشینیں لگائی گئی ہیں۔ اس بڑی مشین کے نام میں ہیڈرون اس لئے لگایا گیا کہ اس کے ذریعے نابھکئے ذرات کی ٹکر کرائی جائے گی۔ کوارک نامی شے سے تیار یوٹران اور پروٹین جیسے ذرات کو ہیڈرون کہا جاتا ہے۔ اس کولائڈر مشین کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ ٹکرانے والا۔ اسے جو کام سونپا گیا ہے وہ ہے پروٹین ذرات کی آپس میں تقریباً روشنی کی رفتار سے ٹکرانا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اس پارٹیکل (ذرہ) کی تلاش کرلی ہے جو اس کائنات کو شکل دینے کے لئے ایک جز مانا گیا ہے۔ یوروپین سینٹر فار نیوکلیئر ریسرچ نے بدھ کو کہا جو پارٹیکل ہم نے پایا ہے وہ ہگس بوسون کے پیمانے کے مطابق ہے کیونکہ یہ ایک سائنسی تجربہ ہے جسے سمجھنا آسان نہیں(کم سے کم میرے لئے تو)اس لئے عام آدمی کی زبان میں بتاتا ہو۔کائنات کی ہر چیز تارے، سیارے اور ہم بھی ۔ میٹر یعنی اشیاء سے بنے ہیں۔ میٹرعوامل اور نیوکلیائی سے بنے ہیں۔وسیع تجربے سے عوامل اور توانائی جیسے تمام ذرات کو ٹھوس شکل ملتی ہے۔ اگر یہ ماس نہیں ہے تو ذرہ ،روشنی کی رفتار سے بھاگتے رہیں گے اور ٹھوس شکل میں نہیں بدل سکیں گے۔سوال اٹھا کہ یہ ماس آتا کہاں سے ہے؟ تمام ذرات کو ایک سسٹم اسٹینڈرڈ ماڈل آف پارٹیکل میں رکھ کر جواب دینے کی کوشش کی گئی تو گود نظر آنے لگے۔اس کے وجود میں آنے کی وجہ بتانے کے لئے1965ء میں برطانوی سائنسداں پٹر ہگس نے ہگز بوسون یا گارڈ پارٹیکل کا نظریہ پیش کیا۔ ہگز کی تھیوری کے مطابق تقریباً13.7 ارب سال پہلے ایک بڑا دھماکہ (بگ بینگ) کے بعد ہگز بوسون پارٹیکل نے کائنات کی سبھی چیزوں کو شکل دینے میں اہم کردار نبھایا۔ ہگز کی تھیوری میں بوسون ایسا بنیادی ذرہ تھا جس کی ایک فیلڈ تھی۔جو دنیا میں ہر کہیں موجود تھا۔ جب کوئی دوسرا ذرہ اس فیلڈ سے گذرتا ہے تو رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے کوئی بھی چیز پانی، ہوا سے گزرتے ہوئے کرتی ہے۔ جتنی زیادہ رکاوٹ اتنی زیادہ ماس (ہگز)بوسون کے سہارے اسٹینڈرڈ ماڈل مضبوط ہورہا تھا۔ لیکن اس کے ہونے کا ایک تجرباتی ثبوت چاہئے تھا۔ ہم جس یونیورس (برہمانڈ) میں رہتے ہیں اس کو شکل کس نے دی؟اس سوال کے جواب میں سائنسدانوں نے بدھوار کوکہا تخلیق کرنے والے جس گارڈ پارٹیکل کی تلاش تھی ان خوبیوں والا ایک پارٹیکل ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو یقینی طور سے سائنس کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ سائنس کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ وہ بغیر پختہ تجربے کا نتیجہ دیکھے اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ سائنس اور مذہب میں مانیتا میں اکثر ٹکراؤ رہا ہے۔ لوگوں کی عقیدت سائنس کی باتوں کو نہیں مانتی۔ ایک طرح سے بڑا تجربہ بھگوان کی کھوج کرنے کا دعوی کرتا ہے۔ اس نتیجے پر عام آدمی کو کتنا بھروسہ ہوگا اس میں ہمیں شبہ ہے۔ بھگوان کا وجود آدمی نہیں پا سکتا۔ (انل نریندر)

05 جولائی 2012

آتنک وادبھرتی اسکول چلانے والے فصیح محمود کون ہیں؟

ابو جندال کے قابو آنے کے بعد اب ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کی نظریں 28 سالہ فصیح محمود پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ فصیح محمود کون ہیں؟ فصیح محمود اس دہشت گرد کا نام ہے جو سعودی عرب میں بیٹھ کر جہاد کے نام پر دہشت گردی کیلئے باقاعدہ آن لائن بھرتی مرکز چلا رہا تھا۔ فصیح محمود بنیادی طور سے بہار کے دربھنگہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا خاندان ایک ہائی پروفائل خاندان مانا جاتا ہے جس میں انجینئر، پرنسپل، لیکچرار اور ڈاکٹر ہیں۔ فصیح محمود کے پردادا محمد خلیل احمد بڑسمولا کے جانے مانے زمیندار تھے۔ آزادی کی لڑائی میں بھی انہوں نے حصہ لیا تھا۔ فصیح محمود نے ابتدائی تعلیم علیگڑھ سے حاصل کی تھی اس کے بعد دربھنگہ میں واقع ملت کالج سے انٹر میڈیٹ پاس کیا۔ مکینکل انجینئرنگ ڈگری حاصل کرنے کیلئے وہ انجمن انجینئرنگ کالج بھٹکل چلا گیا۔ فصیح کی ماں عطا جمال دربھنگہ ہائی سکول میں پرنسپل ہیں۔ کچھ دنوں پہلے ممبئی میں نوکری کرنے کے بعد فصیح سعودی عرب 2007 میں چلا گیا تھا۔ سعودی عرب میں فصیح نوجوانوں میں اسلام کی تبلیغ کرکے ہندوستان اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف جہاد کے لئے آن لائن بھرتی کیا کرتا تھا۔ لیکن امریکی خفیہ ایجنسیوں کی نظر سے اس کا آن لائن ٹیرر بھرتی اسکول بچ نہ سکا۔ فصیح محمود کے خلاف مئی میں انٹرپول نے ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا۔ اسی کڑی میں13 مئی کی آدھی رات کوقریب ڈیڑھ بجے سعودی عرب کے ایک علاقے میں واقع گھر پر چھاپہ مار کر پولیس نے حراست میں لیا۔ اپریل2010ء میں چننا سامی اسٹیڈیم میں دھماکے اور 2010ء میں ہیں دہلی کی جامع مسجد میں فائرننگ کے پیچھے فصیح محمود کی سازش سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب پولیس سے حوالگی کرکے بھارت لانے کیلئے سبھی ضروری خانہ پوری کی گئی ہیں۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں فصیح محمود کو دہلی لایا جائے گا۔ سی بی آئی سے وابستہ ذرائع کی مانیں تو پہلے قصاب پھر ابو جندال اور اب فصیح محمود کا پکڑا جانا بہت بڑی کامیابی ہے۔ تینوں سے پوچھ تاچھ اور جانچ پڑتال کے بعد پورے نیٹورک کا خلاصہ ممکن ہے۔دنیا میں پھیل رہے آتنک واد کی کڑیاں جو پاکستانی آئی ایس آئی اور لشکر چیف حافظ سعید سے سیدھی جڑتی ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے سعودی عرب کے نظریئے میں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے ابوجندال اب فصیح محمود کی سعودی عرب میں گرفتاری کافی اہم مانی جارہی ہے۔ سعودیہ کے نقطہ نظر میں امریکی دباؤ سے تو کافی فرق آیا ہے۔ ساتھ ساتھ ان کی اپنی مجبوریاں بھی ہیں۔ دراصل سعودی عرب بھی اپنے ملک میں القاعدہ کی بڑھتی سرگرمیوں سے فکر مند ہورہا ہے۔ ابوجندال کو یوں ہی نہیں بھارت سونپا گیا بلکہ القاعدہ اور لشکر طیبہ مل کر سعودی شاہی خاندان پر اب سیدھے حملے کرنے لگے ہیں۔نئی دہلی نے وقتاً فوقتاً سعودی حکومت کو ان جہادیوں کی بڑھتی سرگرمیوں سے چوکس کیا ہے۔27 اگست2009ء کو سعودی عرب کے نائب وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف اسعود پر ان کے گھر پر ایک خودکش حملہ آور نے انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔27 سالہ یہ خودکش حملہ آور سعودی شہری تھا۔ یمن میں جہادی ٹریننگ دی گئی تھی۔2007ء میں اسے پاکستانی جہادیوں نے دہشت کے سبھی طور طریقوں سے واقف کرایا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو شہزادے کے گھر میں اڑا لیا تھا لیکن شہزادہ اوپر والے کمرے میں تھا جو بچ گیا اور اسے چھوٹی موٹی چوٹیں آئیں۔ نئی دہلی نے خفیہ افسر سعودی شہزادہ مکرم بن عبدالعزیز اسعود جو سعودی خفیہ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں ، سے لگاتار رابطے میں ہیں۔ سعودی القاعدہ اور لشکر کی اس دیش میں بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے پریشان ہے۔ یمن پچھلے کچھ دنوں سے پڑوس میں ہی آتنک واد کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ حالانکہ ابھی سعودی عرب پاکستان پر سیدھا ہاتھ تو نہیں ڈال پا رہا ہے لیکن اس نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے دیش سے لشکر اور القاعدہ کے جہادیوں پر سخت کارروائی ضرور کرے گا ۔ اس لئے پہلے ابو جندال اور اب فصیح محمود کو بھارت لانے کی تیاری جاری ہے۔ (انل نریندر)

04 جولائی 2012

پردھان منتری جی! اب تو آپ کے پاس کوئی بہانہ بھی نہیں ہے

شری پرنب مکھرجی کو وزیر خزانہ سے ہٹا کر صدارتی عہدے تک پہنچانے کی کوشش کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ پرنب دا کے کام کاج سے خوش نہیں تھے۔ وزیر اعظم کچھ حد تک دیش کی خراب اقتصادی حالت کے لئے وزارت مالیات کو ذمہ دار مانتے تھے۔ تبھی پرنب کو ہٹانے کیلئے ڈاکٹر منموہن سنگھ بہت خواہشمند تھے۔وہ کامیاب بھی ہوئے۔ اب پرنب دا وزیر خزانہ بھی نہیں ہیں اور منموہن سنگھ نے وزارت مالیات خود سنبھال رکھی ہے۔ اب ڈاکٹر سنگھ کے پاس کوئی بہانہ نہ بچتا اور انہیں دیش کی اقتصادی گراوٹ کو روکنے میں اہم کردار نبھانا چاہئے۔ وہ اپنی پرانی ٹیم کو بھی ساتھ لانے میں کامیاب رہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے وزارت مالیات کا عہدہ لینے کے پہلے ہی دن پلاننگ کمیشن کے چیئرمین مونٹیک سنگھ اہلووالیہ، وزیر اعظم کے اقتصادی مشیر کونسل کے چیئرمین سی رنگا راجن اور وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری تلک چٹرجی کے ساتھ اقتصادی حالت پر غور وخوض کیا اور اس میں گراوٹ ،بڑھتی مہنگائی اور سرمایہ کاری کو مضبوط کرنے پر بھی غور و خوض کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزارت مالیات کے چیف اقتصادی مشیر کوشک بسو ،فائننس سکریٹری آر ایس گجرال، اقتصادی امور محکمے کے سکریٹری آر گوپالن سے بھی ان اشوز پر تبادلہ خیالات کئے۔ وزیر اعظم کے لئے وزارت مالیات کی ذمہ داری سنبھالنے کے پہلے تین دنوں میں ہی جس طرح سینسیکس ساڑھے پانچ سو پوائنٹ پر چڑھا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ہندوستانی بازوں میں واپسی ہوئی ہے ا س سے یہ سوال اٹھنا فطری ہے کیا پچھلے ایک ڈیڑھ سالوں سے ہندوستانی معیشت پر چھائے برے دن اب دور ہونے والے ہیں؟ ہماری معیشت کافی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ مالی خسارہ ، چالو کھاتا اورافراط زر اور صنعتی ترقی شرح جیسے اقتصادی نمبروں کا موازنہ جس طرح بار بار1991ء سے کیا جارہا ہے اس سے لگتا ہے کہ اور چیزوں سے زیادہ سوال ابھی خود منموہن سنگھ پر ہے۔جس نئی ہندوستانی معیشت کی بنیاد خود منموہن سنگھ نے 1991 میں رکھی تھی اب ان کے سامنے سب سے بڑی چنوتی بن کر کھڑی ہے۔ اتحادی پارٹیوں کے دباؤ میں اکثر یوپی اے ۔II سرکار وہ ضروری قدم نہیں اٹھا پاتی جو وقت کے حساب سے ضروری ہیں۔ کیا منموہن سنگھ نے اس مسئلے کا بھی کوئی حل تلاش کیا ہے؟ سست پڑی معیشت میں فیل گڈ کا تڑکا لگانے کے بعد وزارت مالیات کا کام کاج سنبھال رہے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی نظر اب دیش کے خستہ حال خزانے پر پڑنی چاہئے۔جس طرح سے خسارہ بڑھ رہا ہے یہ ایک بڑی چنوتی ہے۔ سبسڈی کی وجہ سے بڑھ رہا سرکاری خرچ مختلف فضول خرچی اور سیاسی اسکیمیں ان پر قابو پانے کے اقدام وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ڈھونڈنے ہوں گے۔ صنعتی رفتار کیسے بڑھائی جائے، دیش میں آئی مندی اور مایوسی دونوں کو کیسے دور کیا جائے، منموہن سنگھ کے لئے یہ امتحان سے کم نہیں ہیں۔ پورا دیش ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اب تو منموہن سنگھ بھی یہ بہانہ نہیں بنا سکتے کہ ان کے کام اور پالیسیوں میں کوئی رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کا پورا ہاتھ منموہن سنگھ پر ہے اس لئے اب تو وہ یہ ثابت کریں کہ وہ واقعی ایک ماہر اقتصادیات ہیں جن کا لوہا بھارت سمیت دنیا مانتی ہے۔ (انل نریندر)

طالبان، القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ بھارت

نیو ریسرچ سینٹر کی گلوبل ایٹیٹیوٹس پروجیکٹ نے پاکستان نے ایک سروے کیا ہے۔جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 10 میں سے صرف4شہری ہی بھارت کو اپنے لئے فائدے مند مانتے ہیں۔ وہیں اکثریت یعنی ہر 10 میں سے6 پاکستانی بھارت کو اپنے دیش کے لئے طالبان یا القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ مانتے ہیں۔اس میںیہ بھی پتہ چلا ہے کہ سال2009ء میں جب پہلی بار پاکستانیوں سے ان کے سب سے بڑے خطرے کا سوال کیا تب وہ اسکے لئے مسلسل بھارت کا نام لیتے رہے ہیں۔ تب سے بھارت سے ڈرنے والوں کی تعداد11 سے بڑھ کر 59 فیصدی ہوگئی ہے۔ دوسری طرف طالبان کو سب سے بڑا خطرہ بتانے والوں کی شرح فیصد 9 پوائنٹ کم ہوگئی ہے۔ سروے کے مطابق بھارت اکیلا ایسا ملک نہیں ہے جہاں پاکستان کے تئیں منفی نظریہ ہے۔ جن 7 ملکوں میں یہ سوال پوچھا گیا ان میں سے6 میں پاکستان کے تئیں منفی رائے دیکھی گئی۔ چین جاپان اور مسلم اکثریتی مصر اور یردن اور تیونس میں یہ سوال پوچھا گیا۔ اس سروے کے نتیجوں پر تعجب نہیں ہوا۔ پاکستان میں چھوٹے بچوں کو ہی بھارت سے نفرت سکھائی جاتی ہے۔ جس کی تجدید ایک پاکستانی دانشور نے بھی کی ہے۔ پاکستان کے نامی گرامی دانشور نے اپنے ملک کے اسکولوں میں پڑھائی جارہی کتابوں کے ذریعے کچھ چونکانے والی باتیں دنیا کے سامنے رکھی ہیں۔ نیوکلیئر سائنس داں اور تازہ اشوز پر لکھنے والے ودود بھائی نے کہا کہ پاکستان کے اسکولوں میں بچوں کے ذہن میں کٹر پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو دماغ میں ڈالا جارہا ہے اس سے ایک طرف پاکستان میں کٹر پسندی کو مضبوطی مل رہی ہے دوسری طرف بھارت کے تئیں نفرت بڑھی ہے۔ودود بھائی نے برطانیہ کے کنگس کالج میں ایک سیمینار کے دوران آتنک واد سے لڑائی میں استاد کے کردار سے وابستہ مثالیں پیش کی ہیں۔ ودود بھائی نے ایک ابتدائی تعلیمی نصاب کی کتابوں میں شائع تصویریں اور اسباق پیش کی ہیں۔اس میں اسے اللہ اور ب سے بندوق ٹ سے ٹکراؤ ج سے جہاد ح سے حجاب،خ سے خنجر اور ج جنگجو پڑھایا جاتا ہے۔ پاکستان میں درجہ پانچ میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں سے بھی کچھ مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ان میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرق سمجھنا اور پاکستان کی ضرورت اور پاکستان کے خلاف بھارت کے ناپاک ارادے اور شہادت اور جہاد پر تقریریں تیار کرنے جیسے موضوعات شامل ہیں۔ دانشور نے کہا گذشتہ 60 برسوں میں پاکستان میں بڑی تبدیلی آئی ہے ۔ جنرل ضیا ء الحق نے ملک کی تعلیم میں جو زہر گھولا اس کے بعد کی حکومتوں نے اس کو دور نہیں کیا۔ کراچی میں گذارے اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ شہر ہندوؤں، پارسیوں اور عیسائیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔وہ سبھی چلے گئے ہیں۔ ودود بھائی نے اس حالت کے لئے مدرسوں کو جزوی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا اور افسوس ظاہر کیا کہ مشرف کے عہد کے دوران اصلاحتی پروگرام شروع کئے گئے اور ان کی کوششوں سے بھی ان لعنتوں کو دور نہیں کیا جاسکا۔ودود بھائی کی باتوں پر ہمیں یقین نہیں ہوا۔ یوں ہی نہیں پاکستانی بھارت سے نفرت کرتے۔ (انل نریندر)

03 جولائی 2012

حکومت کی ملی بھگت کے بغیر کراچی میں کنٹرول روم نہیں بن سکتا تھا

سعودی عرب کا ہندوستان کو شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے ہم کو ابوجندال جیسے خطرناک آتنکی کو سونپا۔ جندال کا تازہ اقبال نامے سے بھارت کوممبئی حملے میں پاکستان کا سیدھا ہاتھ ہونے کا ثبوت ملا ہے۔ بھارت ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ 26/11حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے لیکن دنیا یہ ماننے کو تیار نہیں تھی۔ جندال کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ 26/11کے پیچھے پوری طرح پاک ایجنسیوں کو نہ صرف ذمہ داری سونپی گئی تھی بلکہ ان کی ہدایت پر ہی سازش کا جال بنا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی اور خاص کر ممبئی کے26/11 حملے کے اشو پر بھارت کے ذریعے کئی بار ثبوت سونپے جانے کے بعد بھی پاکستان انہیں مسلسل یہ کہہ کر مسترد کرتا رہا کہ پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ حکومت ہند نے جمعہ کو کہا کہ ممبئی میں 2008ء کے آتنکی حملے کو انجام دینے کے لئے آتنک وادیوں کو ہدایت دینے کے لئے پاکستان کی سرکاری مشینری کی مدد سے بنائے گئے جس کراچی کنٹرول روم میں سید ذبیح الدین ابو جندال تھا وہاں اس کے ساتھ دیگر لوگوں کے علاوہ لشکر طیبہ کا بانی حافظ سعید بھی موجود تھا اور یہ بات کسی نے نہیں بلکہ ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جس کراچی کنٹرول روم سے جندال ممبئی آتنکی حملہ کرنے والے 10 آتنک وادیوں کو پل پل کی ہدایت دے رہا تھا بغیر پاکستان کے سرکاری عملے کی مدد کے کنٹرول روم قائم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارت ۔پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک اس بات سے متفق ہیں کہ جندال بھارتیہ شہری ہے اور وہ کٹر پسندبھی ہندوستان میں ہی بنا اسی طرح پاکستان کو بھی یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ جندال وہاں گیا تھا،اس تنظیم میں شامل رہا جس نے ممبئی حملہ کرنے والے آتنک وادیوں کو ٹریننگ دی تھی۔ کنٹرول روم میں بیٹھے حملے کے ماسٹر مائنڈ ٹیم میں شامل تھا۔ پاکستان کو یہ بھی قبول کرنا چاہئے کہ جندال کو پاکستان سرکار نے ایک فرضی پاسپورٹ جاری کیا۔ جندال کے پاس پاکستان کے دو شناختی کارڈ بھی تھے۔ وہ دعوی کرتا ہے کہ وہ پاکستانی ہے۔ پاکستان میں ابو جندال کو بہت محفوظ پناہ گاہ ملی ہوئی تھی۔ ابو جندال کا پکڑا جانا کافی اہم واقعہ ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جندال سے پوچھ تاچھ میں ممبئی آتنکی حملے سے وابستہ کئی ایسی معلومات مل رہی ہیں جو اب تک جانچ کے کام میں ایک سوال بنی ہوئی تھیں۔ اتنا تو طے ہے کہ جندال لشکر میں بہت اہم شخص مانا جاتا ہے اسے اہم ذمہ داری سونپی گئی تھی اور وہ ذمہ داری تھی ممبئی آتنکی حملے کو انجام دینے والے اجمل قصاب سمیت 10 آتنک وادیوں کو ہندی سکھانا اور ٹریننگ دینا۔ انہیں یہ سکھانے کے لئے ممبئی والے کیسے نظر آتے ہیں اور کیسے بولتے ہیں اور کس طرح ممبئی کے شہری کی طرح دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ اس کیس میں پاکستان سبھی الزامات کی تردید کر اپنے آپ کو پاکستان صاف ستھرا ثابت کرنے کی کوشش کرے گا لیکن جندال کی گرفتاری اور بیان اور اجمل قصاب کا ہمارے ہاتھ پہلے ہی سے لگنا ممبئی حملوں میں پاکستان کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کیلئے یہ کافی اہم ہے۔ (انل نریندر)

چین میں حکمراں کمیونسٹ کے راج میں کرپشن ،دمن اور سازشیں

چینی حکومت اپنے دیش کے اندر کیا ہورہا ہے اس کی بھنک تک نہیں لگنے دیتی۔ دنیا کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ چین کے اندر اصلی حالات کیا ہیں؟ کبھی کبھی ایسی خبریں باہر آجاتی ہیں جن سے اس ملک کے اند کے حالات کے بارے میں واقفیت مل جاتی ہے ۔چین میں کمیونسٹ پارٹی کا راج ہے۔ اس پارٹی کی سرکار کا نشہ اس حد تک پھیل گیا ہے کہ وہ اقتدار کا بیجا استعمال کرنے ،سیاسی سازش اور جرائم پیشہ افراد کا اڈہ بن گیا ہے۔ ان دنوں چین میں غنڈوں اور راکھشسوں دونوں کی پناہ گاہ امریکی سفارتخانے بن گئے ہیں۔ اس سال دو لوگوں کے ذریعے وہاں پناہ لینے سے دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات سامنے آئی ہے 21 ویں صدی کی ہونے والی بڑی طاقت کا اقتدار ایسے لوگوں کے طبقے کے ہاتھوں میں ہے جو کرپشن اور بھائی بھتیجہ واد کے ٹرینڈ میں ملوث ہیں۔ 6 فروری2012ء کونارتھ ویسٹ چین کے یونگیو شہر میں امریکی قونصل خانے میں ایک غیر متوقع مہمان نے دستک دی، یہ تھے یونگ کنگ کے خطرناک پولیس چیف بانگلی جون۔جرائم کو بے نقاب کرنے والے تیز طرار بانگ مبینہ طور پر چین کے بڑے لیڈروں کی بات چیت چوری چھپے سنا کرتے تھے۔ طویل عرصے تک بانگ کی سرپرستی چین کے سب سے کرشمائی سیاستداں بوجلائی تھے جنہیں حکمراں کمیونسٹ پارٹی کا ابھرتا ستارہ مانا جاتا تھا لیکن بانگ اور بو کے رشتوں میں دراڑ پڑ گئی۔ بانگ نے امریکی سفارتکاروں کو بو کے پراسرار کارناموں کے بارے میں سنسنی خیز معلومات دی تھیں۔ ان میں برٹش بزنس مین کونسل نیل ہیوڈ قتل میں بو کی گلیمرس بیوی یو کائی لائی کی ملی بھگت کا الزام سب سے دھماکہ خیزتھا۔ ہیوڈ نومبر میں یونگ کنگ میں مردہ پائے گئے تھے۔ اس قتل کا سبب تھا کہ اس انگریز نے شاید بو کے خاندان کے الٹے سیدھے طریقے سے کمائی گئی دولت کو بیرون ملک میں کھپانے کیلئے زیادہ حصہ مانگ لیا تھا۔ 27 اپریل کو بیجنگ میں نابینا وکیل یین گوآنگ یونگ بھاگ کر امریکی سفارتخانے میں آگئے۔ ٹائمس میگزین نے2006ء میں 100 سے زیادہ با اثر لوگوں میں گوانگ یونگ کو شامل کیا تھاوہ2010ء میں گھر میں نظر بند تھے۔ چین نے شان ڈانگ صوبے میں عورتوں پر دباؤ ڈال کر اسقاط حمل کرانے کے خلاف مہم چھیڑی تھی۔ بانگ اور یین کے پناہ لینے کی کوشش کو بھی امریکہ کے ذریعے اس کے اندرونی معاملے میں مداخلت مانتا ہے اور دونوں دیشوں کے رشتوں میں تھوڑی کشیدگی آگئی ہے۔ نئے کمیونسٹ حکمرانوں کے سامنے پارٹی ورکروں کے ذریعے اقتدار کے بیجا استعمال کرپشن اور قانون کی حکمرانی کی کمی اور سرکار کے پروپگنڈے کو تسلیم نہ کرنے والی جنتا میں ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ پچھلی بار چین میں ایسی ناراضگی 1989ء میں دیکھی گئی تھی۔ پھر بھی تیاننمن چوک جیسی ٹریجڈی کا اندیشہ کسی کو نہیں ہے۔ لیکن اس مرتبہ چین میں ہونے والے واقعات کا اثر دنیا پر پڑے گا۔ امریکہ پر سب سے زیادہ قرض چین کا ہے۔ وہ دنیا میں سونے اور موبائل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ سال2001ء میں صنعت کاروں کو پارٹی میں داخلہ دئے جانے کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے کرتا دھرتاؤں کی نئی نسل کا عروج ہوا ہے۔ سرکاری اداروں میں بڑے عہدوں پر فائض ان لوگوں کے بیرون ممالک میں لاکھوں ڈالر مالیت کے عالیشان مکان ہیں۔ پروپرٹی پر نگاہ رکھنے والی شنگھائی کی ایجنسی حران کی رپورٹ کے مطابق چین پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ امیر 70ممبران پارلیمنٹ کے پاس 90 ارب ڈالر کی پراپرٹی ہے۔ بیجنگ کے ایک پراپرٹی کے ماہر پکھوان کہتے ہیں کہ ہر شعبے میں چینی افسر کرپٹ ہیں۔ پچھلے سال چین کے سینٹرل بینک کی رپورٹ میں خلاصہ کیا گیا تھا کہ 1990 کی دہائی کے درمیان سے 2008ء کی پہلی چھ ماہی تک سرکار سے وابستہ 18ہزار افراد قریب 127 ارب ڈالر لے کربیرون ملک چلے گئے تھے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی دمن کرکے سبھی طرح کی برائیوں کو دبانے میں لگی ہوئی ہے۔ چین کی جو چمک دھمک باہر سے نظر آتی ہے وہ دراصل بے قصوروں کے خون سے لت پت ہے جو دکھائی دیتا ہے وہ اصل نہیں ہے۔ (انل نریندر)

01 جولائی 2012

دہلی پولیس کے نئے پولیس کمشنر نیرج کمار کا خیر مقدم ہے

دہلی پولیس کے نئے کمشنر نیرج کمار یکم جولائی یعنی آج سے عہدہ سنبھالیں گے۔ موجودہ پولیس کمشنر بی کے گپتا 30 جون کو ریٹائرہوچکے ہیں ان کی جگہ اب نیرج کمار دہلی پولیس کے کمشنر ہوں گے۔ مسٹر نیرج کمار کا ہم بطور دہلی پولیس کمشنرخیر مقدم کرتے ہیں۔ دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج سے 1973ء میں گریجویٹ کی ڈگری لینے کے بعد نیرج 1975ء میں انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے امتحان میں بیٹھے۔ بنیادی طور سے بہار کے باشندے نیرج کمار فلم اسٹار شتروگھن سنہا کے دور کے رشتے دار بھی لگتے ہیں۔ نیرج کمار تقریباً12 ہزار قیدیوں سے بھری تہاڑ جیل کے ایسے تیسرے سربراہ ہیں جو دہلی پولیس کی کمان سنبھال رہے ہیں۔ اس سے پہلے بی کے گپتا اور اس سے پہلے آر ایس گپتا تہاڑ جیل سے دہلی پولیس کے کمشنر تک کے راستے کا سفر طے کرچکے ہیں۔ اس ہیڈ ٹرک کے سبب اب تہاڑ کی پوسٹنگ بھی شاید پولیس کے اعلی افسروں میں ہاٹ مانی جانے لگی ہے کیونکہ تہاڑ کی پوسٹنگ کو روڈ لائن پوسٹنگ مانا جاتا رہا ہے۔ جیل کے لاء افسر سنیل کمار گپتا بتاتے ہیں کہ نیرج کمار نے اپنے عہد میں ویسے تو کئی اہم کام کئے ہیں لیکن پانچ کاموں کے لئے یہاں کے ہزاروں قیدی ان کو یاد کریں گے۔ انہوں نے سینی اوپن جیل کی شروعات کی اور قیدیوں کو زیادہ سے زیادہ نارمل کرنے کیلئے جیل کے اندر میوزک روم شروع کرائے۔ کام کرنے والے قیدیوں کا مہنتانہ ڈبل کروادیا، ’پڑھو پڑھاؤ‘ مہم سے ناخواندہ قیدیوں کو تعلیم یافتہ بنا کر کارگر قدم اٹھایا۔ اس میں کافی کامیابی ملی۔ جیل میں جو ان پڑھ قیدیوں کی تعداد40 فیصدی تھی وہ اب گھٹ کر 6 فیصدی رہ گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں روزگار پلیسمینٹ مہم میں بھی زور لگاکر400 قیدیوں کو براہ راست جیل سے نوکری لگوانے میں اہم کارنامے کو بھی یاد کیا جائے گا۔1984ء میں ہوئے فسادات کے دوران پولیس کے کردار کو لے کر بنائے گئے کمیشنوں کے سامنے انہوں نے پولیس کی ساکھ کو برقرار رکھا تھا۔ ٹریفک پولیس کے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر رہتے ہوئے ایئرپورٹ پر پری پیڈ ٹیکسی سروس شروع کی تھی۔ ٹرک ڈرائیوروں کی آنکھوں کی مفت جانچ کا کیمپ بھی نیرج نے ہی لگوانا شروع کیا تھا۔ ساؤتھ دہلی کی کمان سنبھالنے کے دوران انہوں نے تابڑتوڑ واردات کررہے شاہ راہ بدمعاشوں کے گروہ کا پردہ فاش کیا تھا۔ ریزرویشن کو لیکر شروع ہوئی تحریک کو سنبھالنے میں بھی نیرج نے اہم کردار نبھایا تھا۔ سال1993ء میں ہوئے ممبئی دھماکوں کی جانچ میں اہم رول نبھایا تھا۔ ان بم دھماکوں کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی تھی۔ انہوں نے سی بی آئی میں ایس ٹی ایف برانچ بھی قائم کی۔ اس ایس ٹی ایف نے مینن خاندان کے 7 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ اسی ایس ٹی ایف نے1994ء میں ہوئے ٹرین دھماکوں کو بھی سلجھایاتھا۔ ہم مسٹر نیرج کمار کا اس ہاٹ سیٹ پر بیٹھنے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں میں دہلی محفوظ رہے گی۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...