Translater

19 مئی 2018

وزیر اعظم کے پارلیمانی حلقہ میں زیرتعمیرفلائی اوورسلیب کا گرنا

بنارس میں ایک زیر تعمیر فلائی اوور کے دو سلیب گرنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں ہوئے اس طرح کے حادثوں سے کوئی سبق نہیں لیا گیا۔ وارانسی کے چوکا گھاٹ سے چھاونی ریلوے اسٹیشن ہوتے ہوئے لہرتارا تک جانے والے فلائی اوور کا کام چل رہا تھا۔ منگل کی شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے چھاؤنی ریلوے اسٹیشن کے پاس دو پلر کو جوڑنے والی سلیب کا توازن بگڑنے سے نیچے چلتے ٹریفک پر جا گرا۔ اس حادثہ میں کم سے کم20 لوگوں کی موت ہوگئی جب کہ 30سے زیاہ زخمی ہیں۔ آدھا درجن سے زیادہ گاڑیوں کے نیچے دب گئے۔ این ڈی آر ایف ، پولیس اور پی اے سی مقامی لوگوں کی مدد سے چار گھنٹے تک راحت اور بچاؤ کا کام کے بعد دونوں بیموں کو چوک سے ہٹادیا گیا۔ اترپردیش سیتو تعمیراتی کارپوریشن کی لاپرواہی سے یہ حادثہ ہوا۔ تیز دھماکہ سن کر لوگ گھروں سے نکل بھاگے۔ راہگیروں میں بھی بھگدڑ مچ گئی۔ آدھے گھنٹے بعد پولیس پہنچی اور ڈیڑھ گھنٹے بعد راحت بچاؤ کا کام شروع ہوسکا۔ 9 کرینوں سے بیم کو ہلکا سا اٹھایاگیا تو 2 آٹو، 2 بولیرو کار کو نکالا گیا۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ دیر رات وارانسی پہنچے۔ انہوں نے ڈی ایم کمشنر نے پوچھا کہ بیم کیسا گری؟ اس سوال کا جواب افسروں سے دیتے نہیں بنا۔انہوں نے کہا کہ حادثے کی جانچ رپورٹ آنے کے بعد قصورواروں پر سخت کارروائی ہوگی۔ حادثے کی حقیقت جاننے کے لئے تکنیکی ٹیم بنائی گئی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے متوفی کے ورثا کو پانچ پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو دو دو لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ بی ایچ یو ٹراما سینٹر بھی گئے، وہاں زخمیوں کا حال جانا۔ حالانکہ قدرتی آفات ٹیم جلد وہاں پہنچنے پر کئی زخمیوں کو وقت رہتے طبی امداد پہنچائی جاسکی لیکن اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارے یہاں ایسی بڑی تعمیرات کے دوران عام لوگوں کی سلامتی کے پختہ انتظام کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ البتہ دہلی میں میٹرو لائن کی تعمیر کے دوران متعلقہ علاقہ میں اس طرح سے گھیرا بندی کی جاتی ہے جس سے باقاعدہ طور پر ٹریفک بھی متاثر نہ ہو نہ لوگوں کو پریشانی ہو لیکن اس کے باوجود حادثے ہوئے ہیں۔ کچھ دن پہلے گوڑگاؤں اور غازی آباد میں ایسے حادثے ہوئے تھے جب زیر تعمیر پل کے حصے گر گئے تھے۔ وارانسی میں ہوا حادثہ زبردست مجرمانہ لاپرواہی کی مثال ہے جہاں انتظامیہ نے احتیاط برتی ہوتی تو یہ حاثہ ٹالا جاسکتا تھا۔ حادثے کی اصلی وجہ یقینی جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گی لیکن جو شہر وزیراعظم کا پارلیمانی حلقہ ہو وہاں ایسی لاپرواہی کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب کولکتہ میں ایک فلائی اوور گرا تھا تو وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا یہ بھگوان کا سندیش ہے کہ بنگال کو ترنمول کانگریس سے بچایا جائے۔آج مودی جی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ایک فلائی اوور گر گیا ہے، اب اسے کیا سمجھیں؟
(انل نریندر)

والمارٹ کے آنے سے چھوٹے کاروباریوں دکانداروں کو بھاری نقصان ہوگا

کچھ سال پہلے اپنے دیش میں بہت سے لوگوں نے والمارٹ کا نام پہلی بار سنا تھا جب خوردہ کاروبار میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری دینے کی پہل ہوئی تھی تب بڑے پیمانے پر یہ اندیشہ جتایا گیا تھا کہ اگر یہ پہل آگے بڑھی تو بھارت کے خوردہ کاروبار پر والمارٹ جیسی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قبضہ ہوجائے گا۔ اس سے کروڑوں چھوٹے کاروباریوں کی روزی روٹی پر خراب اثر پڑے گا۔ اس وقت والمارٹ کے آنے کی مخالفت کرنے والوں میں بھاجپا بھی شامل تھی۔ احتجاج کے نتیجے میں آخر کار منموہن سنگھ سرکار کوکثیر خوردہ کاروبار میں ایف بی آئی کی منظوری دینے کی تجویز واپس لینا پڑی تھی۔ والمارٹ کو یوپی اے سرکار کے وقت تلخ مخالفت کے سبب روکنا پڑا تھا۔ اب اپنی این ڈی اے سرکار کے وقت بھارت میں اینٹری کے لئے اپنے قدم بڑھا دئے ہیں۔ خوردہ سیکٹر کی سب سے بڑی کمپنی والمارٹ نے کئی مہینوں کے غور و خوض کے بعد آخر کار ہندوستانی آن لائن کمپنی فلپ کارڈ کی 77 فیصدی حصہ داری خریدنے کا اعلان کیا ہے جس سے بھارتیہ آن لائن بازار کی پوری تصویر بدل جائے گی۔ امریکی کمپنی والمارٹ 16 ارب ڈالر (1.07 لاکھ کروڑ ) روپے میں فلپ کارڈ کی77 فیصدی حصہ داری لے گی۔ دنیا کی یہ سب سے بڑی ای کامرس ڈیل ہے۔ اس ڈیل میں فلپ کارڈ کی ویلوایشن 20.8 ارب ڈالر (1.39 لاکھ کروڑ روپے) جانچی گئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ای کامرس میں دنیا کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔ویسے یہ ہماری سمجھ سے پرے ہے۔ ایک پھلتی پھولتی کمپنی کے بڑے سانجھیداروں نے اس طرح اپنے کو کیوں بیچ دیا؟ 70 فیصد کا مطلب ہے کمپنی کا ایکوائر مینٹ حالانکہ ایک معنی میں یہ حیرت انگیز بھی ہے۔ جنرل اسٹاٹ اپ کے ذریعے کھڑی کی گئی کمپنی والمارٹ نے 20.8 ارب ڈالر کی قیمت لگائی۔ اس ناطے فلپ کارڈ کا کارنامہ بھی مانا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس کے کچھ شیئر ہولڈروں نے ابھی اس ڈیل کو اپنی منظوری نہیں دی ہے۔ اس ڈیل کی مخالفت بھی ہورہی ہے۔ والمارٹ کے احتجاج میں دیش و دہلی کے کاروباریوں نے احتجاج میں ایک بڑی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ڈیل سے صاف ہے کہ والمارٹ ہمارے دیش میں بیک ڈور اینٹری لینے میں کامیاب رہی ہے۔ اگر ایف بی آئی کی بات کریں تو ہمارے دیش میں صرف سنگل برانچ کی اجازت ہے جبکہ والمارٹ ملٹی برانڈ ہے۔ کاروباریوں کے نمائندوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج نہ صرف والمارٹ کے خلاف ہے بلکہ مرکزی کی مودی سرکار کے خلاف بھی ہے جس نے ہمارے دیش کے چھوٹے و منجھولے کاروباریوں کے مستقبل کا خیال رکھے بغیر اس سمجھوتے کو ہونے دیا۔ حالانکہ اس ڈیل کا ایسوچیم جیسی فیڈریشن نے خیر مقدم دیا ہے وہیں سودیشی جاگرن منچ نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا ہے کہ یہ سودا چھوٹے و منجھولے کاروباریوں اور دکانداروں کو ختم کرے گا اور روزگار پیدا کرنے کے مواقع بھی ختم ہوجائیں گے اور یہ بھی اندیشات پیدا کئے جارہے ہیں کہ کہیں خوردہ بازار میں درپردہ طور سے اینٹری کی کوشش تو نہیں ہے؟ حالانکہ ابھی بھارت میں ای کامرس کو لیکر ایک دم صاف پالیسی قاعدے نہیں ہیں اس لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس سودے کی سرکار سے کس طرح منظوری ملتی ہے؟ حقیقت میں والمارٹ کو ہندوستانی مقابلہ جاتی کمیشن سمیت کئی اداروں سے منظوری لینی ہوگی۔ سب کچھ ہوتے ہوئے ایک سال تو لگ جائے گا۔ جو بھی ہو ایک غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنی کا عام سامان کی خریدو فروخت میں اس طرح کی بالادستی کوئی اچھی پیش رفت نہیں مانی جاسکتی ہے۔
(انل نریندر)

17 مئی 2018

نتیجوں کے بعدراج بھون پر سب کی نظریں لگیں

کرناٹک اسمبلی چناؤ پر دیش بھر کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔224 ممبر اسمبلی کی 222 سیٹوں پر سنیچر کو پولنگ ہوئی تھی۔ پولنگ کے بعد مختلف چینلوں کے ایگزٹ پول میں معلق اسمبلی کی پیشینگوئی صحیح ثابت ہوئی ہے۔ ایگزٹ پول کی بات کریں تو پانچ چینلوں کے پول میں بھاجپا اور چار میں کانگریس کو سب سے بڑی پارٹی کے طور پر دکھایاگیا تھا۔ حالانکہ دو چینلوں پر تو بھاجپا اور کانگریس کو اکثریت ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا تھا۔ نتائج میں وہ چار ایگزٹ پول تو اس حد تک صحیح ثابت ہوئے جنہوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ بھاجپا سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی، یہ بھی صحیح رہا کہ معلق اسمبلی ہوگی۔ آخری نتیجے کچھ اس طرح رہے بھاجپا 104 (46.4 فیصد)، کانگریس 78 (34.8 فیصد)، جے ڈی ایس 37 ۔ یہ بھی صحیح رہا کہ جے ڈی ایس کنگ میکر کے رول میں رہے گی۔ معلق اسمبلی کے حالات سامنے آنے کے بعد بھاجپا اور کانگریس جے ڈی ایس اتحاد دونوں نے سرکار بنانے کا دعوی پیش کردیا ہے۔ ریاست میں امکانی سرکار کو لیکر شش و پنج کی صورتحال بنی ہوئی ہے اور جوڑ توڑ کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ اب ساری نظریں گورنر وجو بھائی والا پر ٹک گئی ہیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ سرکار بنانے کے لئے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری بھاجپا کو مدعوکریں یا کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کو۔ ہندوستانی سیاست میں ہمیشہ بولی کی مریادہ کا خیال رکھا گیا ہے لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس چناؤ میں مریادہ ٹوٹ گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور دیگر نیتاؤں نے صدر کووند کو خط لکھ کر وزیر اعظم نریندر مودی کی زبان پر اعتراض جتایا ہے۔ کرناٹک چناؤ ڈاکٹر سنگھ کے مطابق وزیر اعظم کانگریس کو دھمکانے کا کام کررہے ہیں۔ دراصل کرناٹک کے ہبلی میں 6 مئی کو چناؤ کمپین کے دوران پی ایم مودی نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کانگریس کے نیتا کان کھول کر سن لیں اگر حدوں کو پار کریں گے تو یہ موی ہے، لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ کانگریس نے اس تقریر کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے قابل اعتراض بتایا اور صدر سے پی ایم کو وارننگ جاری کرنے کے لئے کہا۔ کانگریس نے آگے لکھا ہے کہ یہ سوچنا مشکل ہے کہ ہمارے جیسے جمہوری دیش میں پی ایم کے عہدہ پر بیٹھا کوئی شخص اس طرح کی ڈرانے والی زبان کا استعمال کرے۔اس چناؤ میں ایک نیا ریکارڈ بھی بنا ہے ،وہ ہے یہ چناؤ اب تک کا سب سے مہنگا چناؤ رہا۔ سروے سینٹرفار میڈیا اسٹڈیز نے دعوی کیا ہے کہ یہ سینٹر خود کا اپنی ویب سائٹ پر ایک غیر سرکاری تنظیم اور تھنک ٹینک بتاتا ہے۔ اس کے ذریعے کئے گئے سروے میں کرناٹک میں چناؤ کو دھن پینے والا بتایا ہے۔ سی ایم ایس کے مطابق مختلف سیاسی پارٹیوں اور ان کے امیدواروں کے ذریعے چناؤ میں 9500 سے 10500 کروڑ روپے کے درمیان پیسہ خرچ کیا گیا۔ یہ خرچہ ریاست میں منعقدہ اسمبلی چناؤ کے خرچ سے دوگنا ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں وزیر اعظم کی کمپین میں ہوا خرچ شامل نہیں ہے۔ سی ایم ایس کے این بھاسکر راؤ نے خرچ کی شرح اگر یہ رہی تو 2019 کے لوک سبھا چناؤ میں 50 ہزار کروڑ سے 60 ہزار کروڑ روپے خرچ ہونے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس چناؤ کے لئے بڑی محنت اور مشقت کی حالانکہ کرناٹک کی اترپردیش سے آدھی سیٹیں ہیں، آبادی بھی ایک تہائی ہے لیکن مودی نے طاقت برابر لگائی۔ پی ایم نے 21 ریلیاں کیں، دو بار نمو ایپ سے مخاطب ہوئے، قریب 20 ہزار کلو میٹر کی دوری طے کی۔ مودی کرناٹک میں ایک بھی دھارمک استھل پر نہیں گئے۔ ان کے مقابلے میں کانگریس صدر راہل گاندھی نے 20 ریلیاں کیں اور 40 روڈ شو اور نکڑ سبھائیں کیں۔ راہل نے مودی سے دو گنا دوری طے کی۔ 55 ہزار کلو میٹر کا دورہ کیا۔ کانگریس کی بات کریں تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار اسے یہ احساس ہوگیا تھا کہ اسے اکثریت نہیں ملنے والی ہے اور معلق اسمبلی ہوگی اس لئے کانگریس کے وزیر اعلی سدارمیا نے پولنگ سے پہلے ہی دلت کارڈ کھیلا۔ کانگریس گوا کی غلطی دوہرانے کو تیار نہیں تھی اور اس سے پارٹی ہائی کمان کو بھی سبق ملا۔ جیسے ہی نتیجے آئے سونیا گاندھی نے پارٹی لیڈروں کو حکم دیا کہ وہ کمار سوامی سے جاکر ملیں اور ان سے کہیں کانگریس وزیر اعلی عہدے کے لئے انہیں حمایت دینے کو تیارہے۔ یہ سیاست کے لحاظ سے ایک بڑا داؤ رہا۔ اب کم سے کم کانگریس ۔ جے ڈی ایس سرکار بنانے کی ریس میں شامل تو ہے۔ کانگریس اور بھاجپا دونوں کے لئے یہ چناؤ بہت اہم ترین تھے۔ یہ لڑائی کانگریس کے وجودکی اور بھاجپا کے لئے 2019 کے چناؤ کی سمت میں ایک اہم ترین قدم تھا۔ بومئی بنام مرکزی سرکار کے ایک اہم معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ ہدایت دی تھی کہ اکثریت کا فیصلہ ودھان منڈل کے اندر ہوگا نہ کے راج نواس میں ۔ اگر گورنر بھاجپا کو سرکا ر بنانے کے لئے مدعو کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اسے جے ڈی ایس کی حمایت چاہئے۔ ایسے میں ممبران کی خریدو فروخت کے اندیشات سے انکار نہیں کیا جاسکتا البتہ خریدو فروخت کو روکنے کے لئے اور سیاست میں پاکیزگی قائم کرنے کے لئے کانگریس ۔ جے ڈی ایس اتحاد کو سرکار بنانے کے لئے مدعوکرنا چاہئے تو بہتر ہوگا۔ دیکھیں گورنر موصوف کیا فیصلہ کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

16 مئی 2018

تشدد کے سہارے چناؤ جیتنا

مغربی بنگال میں پیر کو پنچایت چناؤ کیلئے پولنگ کا دن تھا۔ پولنگ کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد میں کم سے کم 18 لوگوں کی موت ہوگئی،50 لوگ زخمی ہوگئے۔ یہ اموات مغربی بنگال کے 8 ضلعوں میں ہوئی ہیں۔ چناؤ کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا جارہا تھا پھر بھی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی موتیں بیحد افسوسناک اور شرمناک ہیں۔ بوتھ پر قبضے، آگ زنی، بم پھینکنے، دھمکی دینے اور مار پیٹ کے کتنے واقعات ہوئے اس کا پورا حساب دینا پانا فی الحال مشکل ہے۔ چناؤ پر امن اور منصفانہ بغیر کسی خوف یا دباؤ کے ہونے چاہئیں لیکن ان میں سے کسی بھی کسوٹی پر چناؤ کھرے نہیں اترتے۔ یہ ہی نہیں یہ چناؤ قانون و انتظام کی ناکامی بھی بیان کرتے ہیں۔ اس تشدد سے یہ ہی پتہ چلتا ہے کہ اس ریاست میں جمہوریت کے نام پر کس طرح کی جمہوری اقدار و مریاداؤں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ تشویش کا موضوع یہ ہے کہ اس کے پورے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ پنچایت چناؤ میں پولنگ خانہ پوری کو روکنے کے لئے تشدد کا سہارا لیا جاسکتا ہے لیکن نہ تو ممتا بنرجی کی ریاستی حکومت نے اسے روکنے میں کوئی دلچسپی دکھائی اور نہ ہی ریاستی چناؤ کمیشن نے اسے روکنے کے لئے مناسب انتظامات کئے۔ مغربی بنگال میں چناؤ کے دوران تشدد کی تاریخ رہی ہے۔ امید کی جاتی تھی کہ ریاستی سرکار چناؤ کمیشن کے ساتھ مل کر منصفانہ آزادانہ چناؤکا انتظام کرے گی لیکن اس کام میں ریاستی سرکار ناکام رہی ہے۔ ریاستی سرکار ایسے وقت میں مرکزی فورس مانگ لیتی ہے لیکن سیاسی اسباب کے چلتے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس سرکار میں مرکزی فورسز مانگنے کے بجائے ان کے تئیں اپنی بے اعتمادی ظاہر کرنے کے لئے خاص طور سے غیر بھاجپا حکمراں ریاستوں سے پولیس فورس پر زیادہ بھروسہ کیا اور مانگے بھی کتنے دو ہزار۔ یہ محض دکھاوا تھا۔ تشدد کے تازہ واقعات پر مارکسوادی پارٹی ، کانگریس اور بھاجپا یعنی اپوزیشن سبھی پارٹیوں نے تلخ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ترنمول کاخوف قراردیا ہے۔ اس کے پلٹ وار ترنمول نے کہا پنچایت چناؤ میں تشدد کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن لیفٹ مورچہ کے راج میں اس سے بھی زیادہ ہوئے، سوال یہ ہے کیا پہلے اعدادو شمار کا حوالہ دیکر ریاستی سرکار حکمراں پارٹی اپنی جوابدہی سے پلہ جھاڑ سکتی ہے؟ یہ صحیح ہے کہ مغربی بنگال میں پنچایت چناؤ کے دوران تشدد کی پرانی تاریخ رہی ہے اور اس پارٹی کی سرکار ہوتی ہے وہاں اپوزیشن کے ورکروں کو اسے دھمکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہوتی ہے۔ جس طرح شرپسند عناصر بے خوف تھے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں تشدد کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی اور اسی وجہ سے چناوی تشدد میں اتنے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ اس طرح چناؤ جیتنا کیا جمہوریت میں جائز ہے؟ 
(انل نریندر)

جنرل راوت کی پتھربازوں کو وارننگ

کشمیر وادی میں پتھر بازی کے بڑھتے واقعات اور دہشت گردی بڑھنے کے اشاروں کے درمیان فوج کے سربراہ جنرل وپن راوت نے شرپسندوں کو سخت پیغام دیا ہے۔ جنرل راوت نے صاف کردیا ہے کہ انہیں آزادی کبھی نہیں ملنے والی۔ اس کے لئے ہتھیار اٹھانے والوں سے ہم سختی سے نمٹیں گے۔ جموں و کشمیر میں غیرمستحکم حالات پر ان کا سب سے سخت بیان ہے۔ انہوں نے سیدھا حملہ آزادی پربولا ہے۔ جس کے نام پر ان نوجوانوں کو بھڑکایا جارہا ہے۔ اس لئے جنرل راوت کہتے ہیں کہ یہ آزادی انہیں ملنے والی نہیں ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وادی میں جس طرح کی آزادی کے سپنے دکھائے جارہے ہیں وہ بے مطلب تو ہے ہیں ساتھ غیر ضروری بھی ہیں۔ یہ سرحد پار سے آئی ایک چنوتی ہے جسے نوجوانوں کی شکل میں ہندوستانی فوج کے سامنے کھڑا کیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے اس کا جواب ہندوستانی فوج کو ہی دینا ہے اور وہ معقول جواب دے رہی ہے۔ جنرل راوت نے صاف کیا کہ فوج کا برتاؤ کبھی بھی بربریت آمیز نہیں رہا۔ ایسی صورت میں شام و پاکستان میں ٹینک اور ہوائی حملوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جنرل راوت کے بیان کی تصدیق لشکرطیبہ کے آتنکی اعجاز گجری کے ویڈیو سے بھی ہوتی ہے۔ اس میں اس نے مانا ہے کہ وہ جھاڑیوں میں چھپا تھا جہاں فوج اسے مارسکتی تھی لیکن اس نے اسے قیدی بنا کر اس کی جان بچھائی ہے۔ اس نے کہا کہ فوج نے مجھے نہیں زندگی دی ہے۔ گجری نے غلط راستے پر چل رہے اپنے ساتھیوں کو بھی ہتھیار چھوڑ کر بہتر زندگی جینے کی اپیل کی ہے۔ پاکستانی کرتوت کا بھی پردہ فاش کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ جس دن وہ پکڑا گیا تھا اسی دن پاکستان سے دہشت گردوں کو ہدایت ملی تھی کہ بھارتیہ فوج بربریت کررہی ہے اس لئے وہ شر پھیلائیں۔ وادی میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا دہشت گرد گروپوں میں شامل ہونا بھی پاکستانی سازش کا ہی اشارہ ہے۔ جنرل راوت نے ریاست کی محبوبہ مفتی سرکار کو بھی پیغام دیا ہے جو عید اور امرناتھ یاترا کا حوالہ دیکر پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف کارروائی روکنے پر زور دے رہی ہیں۔ فوج اور سکیورٹی فورس کشمیر میں ہمیشہ سے ہی اپنااچھا رول نبھاتی رہی ہیں۔ وہاں اعتراض دراصل سیاسی پارٹیوں سے زیادہ ہے۔ حریت کانفرنس جیسی علیحدگی پسند تنظیموں سے ملی ہوئی ہیں جو اپنے رول کو صحیح ڈھنگ سے نہیں نبھا پاتی۔ کشمیری نوجوانوں کا قومی دھارا میں شامل کرنے کا اشو ہمیشہ ہی سیاست کی بھینٹ چڑھا ہے۔ مسئلہ کا حل سیاسی پارٹی بھی ایک بڑا رول نبھا سکتی ہے لیکن ان کو انجام دینے میں ریاست کی سیاست ناکام رہی ہے اس لئے نوجوانوں کو سمجھانے کا کام بھی بری فوج کے چیف کو ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم جنرل راوت کے بیان سے پوری طرح متفق ہیں اور بہادر جوانوں کو انتہائی مشکل حالات سے نمٹنے کے لئے سلام کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

15 مئی 2018

عرصے بعد لالو کے گھر لوٹی خوشیاں

دیر سے 140 دن بعد گھرآئے آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے گھر میں خوشیاں لوٹ آئی ہیں۔ اس کے دو دن بعد سنیچر کو ان کے بیٹے تیج پرتاپ کی شادی ہوئی۔ کروڑوں روپے کے چارہ گھوٹالہ کے معاملہ میں سزا یافتہ لالوپرساد یادوکو اس شادی میں شامل ہونے کے لئے تین دن کے لئے پیرول دیا گیا، بعد میں یہ چار ہفتہ کے لئے کردیا گیا۔ پچھلے برس دسمبر سے جوڈیشیل حراست میں رہ رہے لالو پرساد یادو جب پٹنہ ہوائی اڈہ پہنچے تو ہزاروں کی تعداد میں ان کے حمایتی ان کا خیر مقدم کرنے کے لئے پہنچے تھے۔ پٹنہ کے جے پرکاش نارائن ہوائی اڈہ پر شام قریب 6 بجکر 40 منٹ پر اترے لالو کا استقبال کرنے کے لئے ان کی بڑی بیٹی اور ایم پی میسا بھارتی ،بڑے لڑکے تیج پرتاپ، چھوٹے لڑکے اور سابق وزیر اعلی تیجسوی یادو، داماد شیلیش سمیت پارٹی کے کئی دیگر ممبر اسمبلی اور نیتا موجود تھے۔ لالو کو ہوائی اڈہ سے بھاری سکیورٹی کے درمیان وہیل چیئر کے ذریعے گاڑی میں بٹھا کر 10 ۔سرکولر روڈ میں واقع ان کی بیوی اور سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی کی رہائش گاہ کے لئے روانہ کیا گیا۔ اس بہانے لالو نے اپنی سیاسی طاقت بھی دکھائی۔ تیج پرتاپ کی شادی میں وزیر اعلی نتیش کمار سمیت بڑی تعداد میں اپوزیشن و حکمراں پارٹیوں کے نیتا بھی شامل ہوئے۔ دراصل صوبہ کے دو سیاسی کنبوں کی دوستی رشتے داری میں بدل گئی۔ سنیچر کی رات پٹنہ میں بینڈ باجے کی تیز دھن پر ناچتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگ ،شہنائی کی سریلی آواز اور پنڈتوں کے منتر اچارن کے درمیان آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو و سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو سابق وزیراعلی پرساد رائے کی پوتی اور سابق وزیر چندریکا رائے کی لڑکی ایشوریہ رائے کے ہوگئے۔ شادی کا پروگرام چندریکا رائے کے سرکاری مکان 5۔ سرکولر روڈ پر ہوا۔ لالو ،رابڑی کے گھر سے پہلی بار بارات نکلی تھی،7 بیٹیوں کی شادی کے بعد ان کے بڑے بیٹے کی شادی ہورہی تھی۔ عرصے بعد لالو خاندان جشن میں مگن تھا۔ بارات میں کئی سرکردہ لیڈر بھی تھے۔ تقریب میں ریاست اور دیش سے آنے والے تمام نیتاؤں کو اپوزیشن اتحاد کی شکل میں دیکھا جانے لگا ہے۔ آر جے ڈی کے ایک نیتا نے بتایاکہ اس تقریب میں کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی ،کانگریس صدر راہل گاندھی اور یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی سمیت کئی ریاستوں میں این ڈی اے اتحاد مخالف خیمے میں شامل ان لیڈروں کو بھی دعوت دی گئی تھی جن کی پہچان ان حلقوں میں مضبوط نیتا کے طور پر ہوتی ہے۔ بارات میں پرفل پٹیل، شرد یادو، رام ولاس پاسوان، اپیندر کشواہا، آر کے سنگھ، دگوجے سنگھ، رام جیٹھ ملانی، اجیت سنگھ،سریورمن، سبوت کانت سہائے، کیرتی آزادبھی شامل ہوئے۔ لالو کے لئے راحت بھری ایک خبر تب آئی جب جارکھنڈ ہائی کورٹ نے بدنام زمانہ چارہ گھوٹالہ معاملہ میں سزا یافتہ لالو یادو کو چھ ہفتے کی ضمانت دے دی۔ میڈیکل بنیادپرانہیں یہ چھ ہفتے کی ضمانت ملی ہے۔
(انل نریندر)

چوتھی مرتبہ صدر چنے گئے روسی لیڈر ولادیمیرپوتن

روس میں ولادیمیرپوتن نے بطور صدر اپنی چوتھی پاری کا آغاز کردیا ہے۔ وہ 1999 سے مسلسل اقتدار میں ہیں۔ جوزف اسٹالن کے بعدسب سے زیادہ لمبے عرصے تک اقتدار میں بنے رہنے کا ریکارڈ بنا چکے ہیں۔ ایتوار کو ہوئے چناؤ میں انہیں 76فیصد سے زیادہ ووٹ ملے جو پچھلی بار سے تقریباً 13 فیصد زیادہ ہیں۔ بتادیں کہ جوزف اسٹالن30 سال اقتدار میں رہے تھے۔ پوتن کے سامنے 7امیدوار میدان میں تھے۔ ان کے سب سے بڑے مخالف رہے الیکسی نواتنا کو قانونی وجوہات سے چناؤ لڑنے سے روک دیا گیا تھا۔نواتنی نے حالانکہ چناؤ کو فرضی بتایا ہے اور کہا کہ چناؤ میں زبردست دھاندلی ہوئی ہے۔ وہیں چناؤ کے طریقہ کار پر بھی نظر رکھنے والی تنظیم گلوبس کے مطابق چناؤ کے دن کئی جگہوں پر دھاندلیاں دیکھنے کو ملیں۔ جیسے کئی بیلٹ بکسوں میں چناؤ شروع ہونے سے پہلے ہی کچھ ووٹنگ پیپر پڑتے تھے۔ کئی پولنگ مراکز پر آبزرورز کو گھسنے نہیں دیا گیا۔ پولنگ مراکز پر لگے کیمروں کو غباروں یا دیگر کچھ چیزوں سے ڈھکا گیا تھا۔حالانکہ روس کے سینٹرل الیکشن کمیشن کی چیف ایلا پام لووا نے کہا کہ چناؤ کے دن زیادہ گڑبڑیاں سامنے نہیں آئیں۔ روس کے آئین کے مطابق کوئی بھی شخص دو بار سے زیادہ صدر نہیں بن سکتا اس لئے 2008 میں پتن وزیر اعظم کے عہدہ کیلئے کھڑے ہوئے اور جیت حاصل کی۔ 2008-12 میں دیمیتری میدوف صدر رہے اور 2012 میں پوتن نے دوبارہ صدر بننے میں دلچسپی دکھائی اور ان کے لئے دیش کے آئین میں ترمیم کردی گئی۔ تبدیلی کے مطابق روس میں دو بار صدر بننے کی میعاد ختم کردی گئی۔ صاف ہے ان کے عہد کو چار سال سے بڑھا کرچھ سال کردیا گیا۔ بتادیں ولادیمیر پوتن روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی میں جاسوس تھے۔ ماہرین کی مانیں تو دنیا کے سب سے بڑے دیش روس میں ان کی پکڑ گہری بن چکی ہے۔اپوزیشن کو انہوں نے قریب قریب ختم کردیا ہے اور ٹی وی پر اب سرکاری کنٹرول ہے۔ چناؤ کمپین میں پوتن نے روس کو دنیا کی بڑی طاقت بتایا۔ ساتھ ہی کہا کہ ہمارے ایٹمی ہتھیار کسی سے بھی کمتر ثابت نہیں ہوں گے۔ 65 سالہ ماہر اقتصادیات اولیگا میٹ یونینا نے کہا ہاں میں نے پوتن کو ووٹ ڈالا ہے، وہ ایک لیڈر ہیں اور جب وہ کریمیا واپس آئے تو وہ میرے ہیرو بن گئے۔ پوتن اس وقت دنیا کے طاقتور لیڈروں میں سے ہیں۔ ادھر چین میں بھی شی جنگ پنگ تاحیات صدارت کے لئے چنے گئے ہیں۔ دونوں نیتا مل کر امریکہ کو قابو کر سکتے ہیں لیکن گھریلو محاذ پر پتن کو کئی چیلنج برقرار ہیں۔
(انل نریندر)

13 مئی 2018

ایران نیوکلیائی سمجھوتہ سے ٹرمپ کا پیچھے ہٹنا

ایران کے ساتھ 2015 میں ہوئے اہم ترین اور کثیر ملکی معاہدہ سے باہر نکل آنے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ کوئی غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ اپنی چناؤ کمپین کے دوران انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ایران کو نیوکلیائی بم بنانے سے روکنے کے لئے جو معاہدہ کیا تھا اس سے وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اوبامہ کے وقت سے اس سمجھوتہ کو ٹرمپ پہلے ہی کئی بار نکتہ چینی کرکے اٹکا چکے ہیں۔ ایران نیوکلیائی سمجھوتے سے امریکہ کے پیچھے ہٹنے کی چوطرفہ نکتہ چینی ہورہی ہے۔ اس ڈیل میں شامل دیگر پانچ ممالک برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی نے سخت اعتراض کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتہ میں کئی خامیاں ہیں اور یہ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ ٹرمپ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس سے ایران کو جو پیسہ ملا اسے وہ نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے سے نہیں روک سکا۔ یہ سمجھوتہ 2015 میں اس وقت کے امریکی صر براک اوبامہ کی قیادت میں ہوا تھا۔ اوبامہ نے ٹوئٹ کر اسے ٹرمپ انتظامیہ کا غلط فیصلہ قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھوتہ صرف ان کی سرکار اور ایران کے درمیان نہیں تھا بلکہ بین الاقوامی مبصرین و آئینی ماہرین کی صلاح کی بنیاد پر اس میں دنیا کی بڑی طاقتیں شامل ہوئی تھیں۔ اس طرح کے فیصلوں سے امریکہ کی ساکھ کم ہوگی اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ اختلافات بڑھیں گے، جو کسی کے مفاد میں نہیں ہوں گے۔ اس معاہدے پر سکیورٹی کونسل کے مستقل ممبر امریکہ، برطانیہ، فرانس ، چین اور روس نے دستخط کئے تھے اس میں جرمنی بھی شامل تھا۔اس سمجھوتہ کو 5+1 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے تحت ایران نیوکلیائی پروگرام کے بڑے حصہ کو بند کرنے اور بین الاقوامی نگرانی کیلئے راضی ہوگیا تھا۔ قریب ڈیڑھ دہائی تک ایران کے ساتھ کشیدہ رشتوں اور بات چیت کے کئی دور کے بعد یہ معاہدہ ہو پایا تھا۔ ٹرمپ نے ایران کو کٹر پسند دیش بتاتے ہوئے شام میں جنگ بڑھکانے کا الزام لگایا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سمجھوتہ کی تعمیل نہیں کررہا ہے۔ حالانکہ برطانیہ ، فرانس ، روس اور چین نے امریکہ کے اس قدم پر عدم اتفاق ظاہر کیا ہے اور ایران کے ساتھ ہوئے معاہدہ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ وہ اپنے وزیر خارجہ کو سمجھوتے میں شامل دیگر دیشوں کے ساتھ بات چیت کے لئے بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس فیصلہ کے بعد بھی بھارت ایران کے ساتھ ہے۔ بھارت نے کہا کہ اس مسئلہ پر بین الاقوامی برادری کے جذبات کا دھیان رکھتے ہوئے اسے طے سمجھوتہ کے تحت چلنا چاہئے۔
(انل نریندر)

اسکولوں میں منمانی طریقے سے فیس بڑھانے پر پابندی صحیح ہے

دہلی کے اسکولوں میں منمانی فیس کے معاملے میں دہلی حکومت نے آخر کار ایکشن لینا شروع کردیا ہے۔ راجدھانی کے تین اسکولوں کی منظوری منسوخ ہوسکتی ہے۔موج پور کے ایک اسکول کی تو منظوری منسوخ کردی گئی ہے۔ دراصل وزیر اعلی اروند کیجریوال کے جنتا دربار میں والدین کی لگاتار شکایتیں مل رہی تھیں کہ پرائیویٹ اسکول منمانی کررہے ہیں۔ موج پور کے وکٹر پبلک اسکول میں ای ڈبلیو ایس کے طلبا کو مفت یونیفارم، اسٹیشنری اور کتابیں وغیرہ نہیں دی ہیں۔ وہیں سنگم پارک کے مہاویر سینئر ماڈل اسکول و ماڈل ٹاؤن کے کوئین میری پبلک اسکول 3 نے منمانے طریقے سے فیس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ افسران بتاتے ہیں کہ وزیر اعلی نے معاملہ میں محکمہ تعلیم کو سخت کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ موجپور کے وکٹر پبلک اسکول کو محکمہ تعلیم نے دو بار اپنا طریقہ صحیح کرنے کے لئے ہدایت دی تھی اس کے باوجود اسکولی انتظامیہ نے ہدایت کو ٹال دیا اور اس کے بعد اب محکمہ تعلیم نے ای ڈبلیو ایس ڈی جی طبقے سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر اس اسکول کی منظوری منسوخ کرنے کانوٹس جاری کردیا ہے لیکن اب بھی کچھ اسکول ہیں جو اپنی مرضی سے فیس بڑھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لونی روڈ پر واقع ڈی اے وی اسکول مینجمنٹ نے سبھی کلاس کے بچوں کی اسکول فیس میں اچانک 10 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے والدین کافی ناراض ہیں۔ پیر کو جب فیس اضافہ سے ناراض والدین نے اس کی مخالفت کی تو اسکول پرنسپل نے کہا جو بھی والدین بڑھی ہوئی فیس پر راضی نہیں ہوں گے ان کے بچوں کو ٹی سی تھما کر اسکول سے نکال دیا جائے گا۔ اس کولیکر والدین نے اسکول مینجمنٹ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ والدین کا الزام ہے کہ اسکول کی طرف سے ہر سال 10 فیصد فیس کا اضافہ کیا جاتا ہے جو ان کی جیب پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اسکول فیس کے علاوہ مینجمنٹ کے ذریعے کئی طرح کے چارج وصولے جا رہے ہیں جو سی ڈی ایس ای گائڈ لائنس کے مطابق ناجائز ہیں۔ وہیں فیس بڑھانے پر عدالت نے بھی سخت ہدایت دی ہے اور ناراض والدین پرنسپل سے بات کرنے پہنچے تو اس نے دو ٹوک کہا کہ والدین بڑھی ہوئی فیس نہیں دیں گے تو ان کے بچوں کو ٹرانسفر سرٹیفکیٹ دے کر اسکول سے نکال دیا جائے گا۔ اس بارے میں جب ایک رپورٹر نے پرنسپل سمکشا شرماسے بات کی تو انہوں نے ٹی سی کاٹنے کے الزام سے انکار کردیا اور کہا والدین نے ہنگامہ کے دوران پولیس کو بلا لیا تھاجو بھی بات ہوئی پولیس کے سامنے ہوئی۔ سچائی کیا ہے یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن ہم دہلی سرکار کی اس مسئلہ پر اسکولوں کی منمانی فیس بڑھانے پر لگام کسنے کے قدم کی حمایت کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...