Translater
24 فروری 2024
الیکسی نویلنی کی موت!
گزشتہ ایک دہائی سے روس کی سب سے اہل ترین اپوزیشن لیڈر رہے الیکسی نویلنی کی جیل میں موت ہو گئی ہے ۔جیل محکمہ کے حکام نے اس کی جانکاری دی ۔الیکسی نویلنی کو صدر ولادمیر پوتن کی کٹر حریفوں میں شمار کیا جاتا تھا ۔وہ 19 سال جیل کی سزا کاٹ رہے تھے ۔جس مقدمہ میں انہیں سزا دی گئی تھی اسے سیاسی اغراض بتایاگیا ۔اسے روس کی سب سے بڑی خطرناک جیلوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔یا مان لو نے نے رس ضلع کی جیل کے حکام نے بتایا کہ جمعہ کو ٹہلنے کے بعد الیکسی نویلنی کچھ بیمار محسوس کررہے تھے ۔جیل محکمہ نے بیان جاری کر کہا کہ نویلنی نے فوراً ہی اپنے ہاتھ پاو¿ں چھوڑ دئیے ۔انہیں ایمرجنسی میڈیکل ٹیم ان کی جانچ کیلئے بلایا گیا ۔میڈیکل ٹیم نے ان کی حالت میں بہتری لانے کی پوری کوشش کی لیکن اس میں وہ کامیاب نہیں ہو پائی ۔روسی خبر رساں ایجنسی تاش کی رپورٹ کے مطابق الیکسی نویلنی کی موت کے اسباب کا پتہ لگایا جارہا ہے ۔الیکسی نویلنی کے وکیل لیو نڈ سولو طوف نے روسی میڈیا کو بتایا کہ وہ فی الحال اس پر کوئی رائے زنی نہیں کریں گے ۔ان کے یوٹیوب پر جاری ایک ویڈیو کو 100 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا تھا ۔وہ روس کی سب سے بڑی پارٹی پوتن کی پارٹی یونائیٹڈ رشیا کو ڈھونگو اور چوروں کی پارٹی بتایا کرتے تھے ۔انہوں نے گزشتہ برسوں میں کئی فلمیں جاری کر کرپشن کے الزامات بھی لگائے تھے ۔کئی برسوں سے نویلنی روس کی سیاست میں زیادہ شفافیت لانے کی مانگ اور اپوزیشن امیدوارو ں کی مدد کرتے رہے ہیں ۔وہ سال 2013 میں ماسکو کے میئر کے امیدوار ہوئے تھے اور دوسرے نمبرپر آئے تھے ۔بعد میں انہوں نے صدارتی چناو¿ لڑنے کی کوشش کی لین مجرمانہ مقدموں کی وجہ سے ان پر روک لگا دی گئی ۔وہ ان مقدموں کو سیاسی اغراض پر مبنی بتاتے تھے ۔اگشت 2020 میں نویلنی سائیبیریا کا دورہ کررہے تھے اور ایک تفتیشی رپورٹ تیار کررہے تھے ۔وہ یہاں بلدیاتی چناو¿ میں اپوزیشن امیدواروں کی کمپین بھی کررہے تھے ۔اس دوران ہی انہیں زہر دیا گیا ۔وہ بال بال تو بچ گئے تھے بعد میں انہیں علاج کیلئے جرمنی لے جایا گیا ۔جہاں پتہ چلا کہ ان پر روس میں بنے ناروے ایجنٹ سے حملہ کروایا گیا ۔نویلنی نے روس کی خفیہ ایجنسیوں پر زہر دینے کے الزام لگائے تھے ۔رپورٹوں کے مطابق انہوں نے روس کی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کے ایجنٹ کو جھانسے میں لیکر حملے کے بارے میں جانکاری اکھٹی کر لی تھی ۔پھر ایک فون کال میں جسے نویلنی نے ریکار©ڈ کیا تھا اور بعدمیں یوٹیوب پر پوسٹ کیا تھا ۔ایجنٹ کوسٹوٹن نے انہیں بتایا کہ ان کے اندر پیر میں کوئی چیز رکھی گئی تھی اور انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ روس لوٹنا ان کیلئے محفوظ نہیں ہوگا ۔لیکن نویلنی نے کسی کی نہی سنی اور کہا کہ وہ سیاسی تارکین وطن بننا پسند نہیں کریں گے ۔وہ برلن سے ماسکو لوٹ آئے انہیں ایئر پورٹ پر ہی حراست میں لے لیا گیا تھا ۔حراست میں نویلنی کی موت اب بہت بڑا اشو بن گیا ہے ۔مرنے سے پہلے انہوں نے لوگوں سے سڑکوں پر اتر کر مظاہرے کر ان کی رہائی کیلئے دباو¿ بنانے کی بھی اپیل کی تھی
(انل نریندر)
اگنی ویروں کو ریگولر فائدہ ملے !
پارلیمنٹ کی ڈیفنس امور سے متعلق قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ سروس کے دوران جان گنوانے والے اگنی ویروں کے کنبوں کو باقاعدہ فوجی ملازمین کی طرح سبھی فائدے ملنے چاہیے ۔کمیٹی نے ایسے کنبوں کو دی جانے والی ایکس گریشیا رقم کو ہر ایک زمرے میں دس لاکھ روپے تک بڑھانے کی سفارش کی ہے ۔موجودہ سہولیات کے تحت دیش کیلئے اپنی جان قربان کرنے والے اگنی ویروں کو فیملی پینشن جیسے ریگولر فائدے کے حقدار بھی نہیں ہیں ۔پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کسی اگنی ویر کا دیش کیلئے بلیدان ویسا ہی ہے جیسے ایک مستقل فوجی ملازمین کا ہے ۔اس لئے سیوا کے دوران اپنی جان گنوانے والے اگنی ویروں کے کنبوں کو بھی یکساں فائدے دئیے جانے چاہیے ۔مرکزی حکومت نے جون 2022 میں تینوں سیواو¿ں میں ملازمین کی جزوقتی بھرتی کیلئے اگنی ویر یعنی اگنی پتھ بھرتی اسکیم شروع کی ہے اس میں ساڑے سترہ برس سے اکیس برس کی عمر کے لڑکوں کو 4 سال کیلئے بھرتی کرنے کی سہولت ہے ان میں سے 25 فیصدی ملازمین کی سروس آگے بڑھانے کی سہولت ہے ۔ڈیفنس وزارت کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا فوجوں کی موت کے معاملوں کی مختلف زمروں کیلئے ایکس گریشیا رقم الگ الگ ہوتی ہے ۔فرض کی تعمیل کے دوران حادثات و دہشت گردوں وغیر سماجی عناصر کے تشدد کے سبب موت ہونے پر 25 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا رقم دی جاتی ہے ۔سرحد پر ہونے والی جھڑپوں اور انتہا پسندوں ، دہشت گردوں وسمندری لٹیروں کیخلاف کاروائی میں ہونے والی موت کے معاملے میں 35 لاکھ روپے کا معاوضہ رقم دی جاتی ہے اس کے علاوہ جنگ میں دشمن کی کاروائی کے دوران موت ہونے پر دستاویز کی شکل میں 45 لاکھ روپے کی رقم دی جاتی ہے ۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سرکار کو ان ہر ایک زمرے میں ایکس گریشیا کو دس لاکھ روپے تک بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔کسی بھی زمرے کے تحت کم از کم رقم 35 لاکھ روپے اور زیادہ سے زیادہ 55 لاکھ روپے ہونی چاہیے ۔پارلیمانی کمیٹی نے کہا کہ جان گنوانے والے اگنی ویروں کی قربانی کم نہیں ہوتی ۔سرکار کو پارلیمانی کمیٹی کی سفارشوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔حال ہی میں ایک اگنی ویر کی ڈیوٹی پر موت ہو گئی لیکن اسے کسی طرح کا معاوضہ نہیں ملا اس سے اگنی ویروں میں کافی ناراضگی تھی ۔امید کی جاتی ہے کہ ان بہادروں کو جو اپنی جان کی بازی دیش کیلئے دیتے ہیں انہیں ان کا پورا حق ملنا چاہیے ۔
(انل نریندر)
22 فروری 2024
چناوی دھاندلی پرپاکستان میں ہنگامہ
پاکستان میں 8 فروری کو عام انتخابات ہوئے تھے۔ اتنے دن گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی حکومت نہیں بن سکی۔ ظاہر ہے کسی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی، اس لیے اتحادی حکومت بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ عام انتخابات میں دھاندلی بے نقاب ہونے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کے کارکن اور حامی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کی کئی شہروں میں پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ پاکستان کے اخبار ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، لاہور میں پی ٹی آئی کے حامی اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ہفتہ کو پریس کلب اور پارٹی کے جیل روڈ دفتر کے باہر جمع ہوئے۔ انہوں نے نعرے لگائے اور چوری شدہ مینڈیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ وہ پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور نتائج میں تصحیح کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے سرشار امیدوار سلمان اکرم رضا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کلپس میں پولیس اہلکار ایک وکیل کو گھسیٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جو جیل روڈ پر پی ٹی آئی کے دفتر کے باہر احتجاج میں شریک تھا۔ پی ٹی آئی کے ایک اور امیدوار علی اعجاز بہار کو بھی بزرگ افراد، خواتین اور ایک بچے کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ صوبہ پنجاب کی متعدد نشستوں پر پولیس نے پی ٹی آئی رہنماو¿ں، سابق امیدواروں، کارکنوں اور حامیوں کو گرفتار کر لیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق عمران کی کال پر جمع ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں نے نعرے لگائے اور خوب ہنگامہ کیا۔ پاکستان میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک اعلیٰ انتظامی اہلکار کی جانب سے جیل میں بند سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کے ساتھ مل کر راولپنڈی میں ہونے والے انتخابات میں عدلیہ اور الیکشن کمیشن مداخلت کرنے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ دھاندلی راولپنڈی کے سابق کمشنر لیاقت علی یاسر نے الزام لگایا کہ شہر میں ہارنے والے امیدواروں کو جتوایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راولپنڈی میں 13 امیدواروں کو زبردستی فاتح قرار دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ امیدوار جو 70 ہزار ووٹوں سے لیڈ کررہے تھے انہیں بھی ہارا دکھایا گیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 8 فروری کو ہوئے انتخابات میں دھاندلی اور پارٹی کو دیا گیا مینڈیٹ چھیننے کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہں۔اخبار ڈان میں شائع ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی کے سابق کمشنر نے کہا کہ میں اس گندگی کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں اور بتا رہا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس اس میں پوری طرح ملوث ہیں۔ مدعی نے انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ دوسری جانب راولپنڈی کے نئے تعینات ہونے والے کمشنر سیف انور نے عام انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو یکسر مسترد کردیا۔
(انل نریندر)
تیجسوی اور راہل گاندھی کی جوڑی
جمعہ کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو بھی بھارت جوڑو نیائے یاترا میں شامل ہوںگے۔ راہل گاندھی بھارت جوڑو نیا ئے یاترا کے دوران جمعرات کو دوسری بار بہار پہنچے۔ پچھلے مہینے یعنی جنوری میں بھی راہل گاندھی دو دن کے لیے بہار کے سیمانچل علاقے میں پہنچے تھے۔ اس دوران آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کو ای ڈی نے 29 جنوری اور تیجسوی یادو کو 30 جنوری کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔جمعہ کو روہتاش میں راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں تیجسوی یادو نے اس بات کا ذکر او ردعویٰ بھی کیا کہ انہیں راہل گاندھی کی ریلی میں شامل ہونے سے روکنے کیلئے ہی ای ڈی نے گھنٹے بھر پوچھ تاچھ کیلئے بٹھائے رکھا تھا ۔ یعنی پہلی بار راشٹریہ جنتا دل کے کسی اعلیٰ لیڈر نے 16 فروری کو راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہوا ہے۔ بہار میں گزشتہ ماہ 28 جنوری کو نتیش کمار نے گرینڈ الائنس چھوڑ کر این ڈی اے سے ہاتھ ملالیا تھا۔ اس طرح بہار میں آئندہ لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہوگا۔ بہار اسمبلی میں نتیش حکومت کے فلور ٹیسٹ کے دوران تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ نریندر مودی کو بہار میں روک کر دکھائیں گے۔ بہار میں سال 2020 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں آر جے ڈی سب سے بڑی پارٹی (75 سیٹوں) کے طور پر ابھری تھی۔ تیجسوی یادو نے لالو پرساد یادو کے بغیر بھی بہار میں خود کو اور پارٹی کو مضبوط رکھا ہے۔ لالو اور تیجسوی کو ہمیشہ بہار کے ایک طبقے کی ہمدردی حاصل رہی ہے۔ مسلمانوں، یادو اور منڈل کے حامیوں کا ایک طبقہ ہے جو لالو کے ساتھ کھڑا ہے۔ جب لالو کو سزا دی گئی تو ان کے حامی ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ یہ اتنا بڑا سہارا ہے کہ آج تک بہار میں بی جے پی اکیلے لالو کو ہٹا نہیں پائی ہے۔ بہار میں یہ حمایت اب تیجسوی کے پاس ہے۔ تیجسوی کے ساتھ ذات پات کے مساوات کے علاوہ نوجوانوں کا ایک طبقہ بھی نظر آرہا ہے اور نتیش کے رخ بدلنے کی وجہ سے ان کی ہمدردی تیجسوی سے زیادہ ہے۔ بہار میں راہل گاندھی نے تیجسوی یادو کو ڈرائیونگ سیٹ دی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تیجسوی یادو بہار میں کسی بھی اتحاد کے لیے بڑا چیلنج ہوں گے۔ اسمبلی انتخابات میں تیجسوی کے سامنے کوئی بوڑھا گھوڑا یا تھکا ہوا گھوڑا ہو سکتا ہے۔ وہیں لوک سبھا انتخابات میں راہل اور مودی ہیں۔ مودی کے لیے یہ تیسرا الیکشن ہوگا۔ اس لیے یہ الیکشن بھی ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ بہار میں جے ڈی یو کے اپوزیشن اتحاد سے نکلنے کے بعد کانگریس اور آر جے ڈی مل کر سیکولر اور مسلم ووٹوں کی تقسیم کو روک سکتے ہیں۔ ذات کے سروے کے مطابق ریاست میں 17 فیصد سے زیادہ مسلم آبادی ہے۔ تیجسوی اور راہل کے درمیان ملاقات کی ایک خاص تصویر میں راہل گاندھی اور تیجسوی ایک ہی کار میں سوار ہیں اور تیجسوی یادو ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں۔ یہ ایک خاص تصویرمیں ہے کہ تیجسوی بہار میں اپوزیشن کی قیادت کریں گے اور کانگریس اتحادی کا کردار ادا کرے گی۔ یہی نہیں اپوزیشن کو انڈیا اتحاد میں حال ہی میں جو کچھ ہوا اس سے سبق لیتے ہوئے کانگریس تیجسوی یادو کو کافی اہمیت اور عزت بھی دیتی نظر آرہی ہے ۔تیجسوی اور راہل دونوں اس بات کی اہمیت جانتے ہیں کہ بہار میں نوجوانوں کیلئے روزگار ایک بڑا چناوی اشو بن سکتا ہے ۔راہل نے فوج میں اگنی ویر کا اشو بھی اٹھایا ۔دیکھیں راہل تیجسوی کی جوڑی کیا گل کھلاتی ہے ۔
(انل نریندر)
20 فروری 2024
خفیہ چندہ ووٹرس سے دھوکہ !
لوک سبھا چناو¿ سے ٹھیک پہلے سپریم کورٹ نے ایک دور رس تاریخی فیصلے میں 2018 میں لائے گئے الیکٹرول بانڈ اسکیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فوری طور سے منسوخ کر دیا ۔سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے حکم دیا کہ الیکٹرول بانڈ خریدنے والے اور اسے بنانے والوں اور اس سے ملی رقم کو 13 مارچ تک سامنے لایا جائے ۔دراصل اسکیم کے تحت سیاسی پارٹیوں کو 1 کروڑ یااس سے زیادہ میں چندہ دینے والوں کا نام خفیہ رکھنے کی چھوٹ تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا خفیہ چندہ ووٹرس سے دھوکہ ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا الیکٹرول بانڈ کو پوشیدہ رکھنا اطلاعات حق اور آرٹیکل 19(1) (A) کی خلاف ورزی ہے ۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو مالی مدد سے اس کے بدلے میں کچھ اور انتظام کا نظام کو بڑھاوا مل سکتا ہے ۔انہوں نے کہا بلیک منی پر قابو پانے کا واحد طریقہ الیکٹرول بانڈ نہیں ہو سکتا ہے ۔اس کے اور بھی کئی متبادل ہیں ۔جسٹس چندر چوڑ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو سیاسی پارٹیوں کو ملے الیکٹرول بانڈ کی جانکاری دینے کی بھی ہدایات دی ہے ۔سیاسی پارٹیوں کو چندہ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایس بی آئی چناو¿ کمیشن کو جانکاری مہیا کرائیگا اور چناو¿ کمیشن اس معلومات کو 31 مارچ تک اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا ۔فیصلہ سنانے والی بنچ نے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ، جسٹس سنجیو کھنہ ،جسٹس وی آر گوئی ، جسٹس جے بی پاریدوالہ ، جسٹس منوج مشرہیں۔جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے فیصلے کی تعریف کی ہے ۔انہوں نے کہا اس فیصلے سے جمہوری عمل کو مضبوطی ملے گی اور اس فیصلے کا ہماری جمہوریت پر لمبا اثر ہوگا ۔کورٹ نے بانڈ اسکیم کو خارج کر دیا ہے ۔اس اسکیم میں یہ نہیں پتہ لگتا تھا کہ کس نے کتنے روپے کے بانڈ خریدے ہیں اور کسے دئیے ۔سپریم کورٹ نے اسے اطلاعات حق کی خلاف ورزی مانا ہے اسے لیکر جو ترمیم کی گئی تھی جس کے تحت کوئی کمپنی کسی بھی سیاسی پارٹی کو کتنا بھی پیسہ دے سکتی ہے ۔کورٹ نے وہ بھی منسوخ کر دی ہے ۔پرشانت بھوشن نے کہا کہ کورٹ کا کہنا ہے کہ چناوی جمہوریت کیخلاف ہے کیوں کہ یہ بڑی کمپنیوں کو صرف فلوئنگ فیول ختم کرنے کا موقع دیتی ہیں ۔سپریم کورٹ نے کہا جو بھی پیسہ اس اسکیم کے تحت جمع کیا گیا ہے وہ بھارتیہ اسٹیٹ بینک چناو¿ کمیشن کو دے اور کمیشن کی طرف سے اس کی جانکاری عام لوگوں کو مہیا کرائی جائے گی ۔شفافیت کیلئے کام کرنے والی سماجی کارکن انجلی بھاردواج نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی بتاتے ہوئے کہا کہ فیصلہ اطلاعات حق کی جیت ہے ۔سپریم کورٹ سے الیکٹرول بانڈ کے ذریعے ملنے والے نامعلوم لا محدود کارپوریٹ فنڈنگ پر روک لگی ہے ۔سپریم کورٹ نے 2019 کے انترم حکم کے بعد سے خریدے گئے الیکٹرول بانڈ کی بھی تفصیل عام کرنے کی ہدایت دی ہے ۔جسٹس چندرچوڑ نے کہا عدالت نے اتفاق رائے سے فیصلہ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس پر ایک رائے ان کی تھی اور ایک جسٹس چندرسنجیو کھنہ کی لیکن نتیجہ کو لیکر سبھی کی رضامندی تھی ۔الیکٹرول بانڈ کیخلاف جو عرضیاں دائر کی گئیں تھیں ان میں کہا گیا تھا کہ یہ اطلاعات حق کی خلاف ورزی ہے ۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ کارپوریٹ فنڈنگ آزادانہ اور منصفانہ چناو¿ کیخلاف ہے ۔چناو¿ میں خرچوں اور شفافیت پر نظر رکھنے والی انجمن ایسوسی ایشن فار ڈیمورکریٹک ریفارم یعنی اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق 2022-23 میں کارپوریٹ ڈونیشن کا 90 فیصدی بی جے پی کو ملا ۔2022-23 میں قومی پارٹیوں نے 850.438 کروڑ روپے چندے میں ملنے کا اعلان کیا تھا ۔اس میں صرف بی جے پی کو 719.85 کروڑ روپے ملے تھے اور کانگریس کو 79.92 کروڑ روپے ۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں 8 سال سے زیادہ وقت سے لٹکا ہوا تھا اور اس پر سبھی کی نگاہیں اس لئے بھی ٹکی تھیں چونکہ اس مسئلے کا نتیجہ سال 2024 میں ہونے والے لوک سبھا چناو¿ پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے ۔اس معاملے پر سماعت شروع ہونے سے پہلے بھارت کے اٹارنک جنرل آر وینکٹ رمنی نے اس اسکیم کی حمایت کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ یہ اسکیم سیاسی پارٹیوں کو دئیے جانے والے چندوں میں صاف دھن کے استعمال کو بڑھاوا دیتی ہے ۔ساتھ ہی اٹارنک جنرل نے بڑی عدالت کے سامنے دلیل دی تھی کہ شہریوں کے حقوق مناسب پابندیوں کے تحت ہوئے بغیر کچھ بھی اور سب کچھ جاننے کا عام حق نہیں ہو سکتا ۔اس بات کے سلسلے میں اس دلیل سے جڑا ہوا ہے جس کے تحت مانگ کی جارہی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو یہ جانکاری عام کرنی چاہیے کہ انہیں کتنا پیسہ چندے کی شکل میں کس سے ملا ہے ۔الیکشن کمیشن نے 2019 میں چناو¿ بانڈ کو آسان بنانے کیلئے سیاسی فنڈنگ سے جڑے کئی قوانین میں تبدیلیوں پر سپریم کورٹ میں تشویش ظاہر کی تھی۔چناو¿ کمیشن نے کہا تھا کہ شفافیت پر سنگین اثر ہوگا ۔کمیشن نے 27 مارچ 2019 کو حلف نامہ دائر کر بتایا تھا کہ اس مسئلے پر اس نے مرکزی حکومت کو بھی لکھا ہے ۔چناو¿ کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ غیر ملکی عطیہ (ریگولیشن ) ایکٹ ایف سی آر اے 2010 میں تبدیلی سے سیاسی پارٹیوں کو بے کنٹرول غیر ملکی پیسہ کی اجازت ملے گی جس سے ہندوستانی پالیسیاں غیر ملکی کمپنیوں سے متاثر ہو سکتی ہیں ۔پچھلے چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہا کہ فیصلہ جمہوریت کیلئے وردان ہے اس سے لوگوں کا جمہوریت میں بھروسہ بڑھے گا اور اعتماد بحال ہوگا ۔پچھلے پانچ سات برسوں میں سپریم کورٹ کا یہ سب سے تاریخی فیصلہ ہے ۔وہیں سابق چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑا کا کہنا تھا کہ چناو¿ کمیشن نے ہمیشہ شفافیت پر زور دیا ہے ۔چناو¿ کمیشن کا یہ لگاتار رخ رہا ہے کہ سسٹم اور زیادہ شفاف ہونا چاہیے ۔ایسے ہی سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنا مورتی نے کہا کہ فیصلہ صاف ستھری جمہوریت کے مفاد میں ہے ۔چناوی بانڈ اسکیم سیاسی فنڈنگ میں شفافیت کیلئے صحیح نہیں ہے ۔عآپ کیسے جانیں گے یہ صاف پیسہ ہے یا گندا ؟ حکومت بلیک منی روکنے کے دعوے کو سماجیت اور دوہری غیر سماجی کے عدلیہ اصولوں کے ترازوں پر خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ چناو¿ میں ووٹر صحیح فیصلہ لیں اس کے لئے سیاسی پارٹیوں کو ملے چندے کے بارے میں جانکاری ملنا ضروری ہے ۔اس سے گورننس میں کھلا پن آئیگا ۔یہ آنے والے چناو¿ میں بڑا اشو بن سکتا ہے ۔(ختم)
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...