Translater
13 جنوری 2024
10 دن پہلے منتری بنے نیتا کو ملی ہار !
راجستھان کے شری گنگا نگر ضلع میں ان دنوں بدن کو چیر کر رکھ دینے والی سرد لہر چل رہی ہے ۔اور ذرا سی کوتاہی کسی کے بھی ہوش فاختہ کر سکتی ہے ۔ان سرد ہواو¿ں نے ابھی ابھی اس پارٹی کو اپنی زد میں لے لیا ہے جو پورے دیش میں اپنے حریفوں کو کپکپائے ہے ۔راجستھان میں حکمراں ہوئی بھاجپا کیلئے یہ بہت بری خبر ہے کہ اس کا وہ امیدوار چناو¿ ہار گیا جسے بیچ چناو¿ پارٹی نیتاو¿ں نے منتری عہدے کا حلف دلا دیا تھا اس امیدوار کا نام سریندر پال سنگھ ٹی ٹی ہے ۔علاقہ کے ایک بزرگ ووٹر کہتے ہیں پارٹی نے جسے ڈبل انجن والی سیاسی سرکار رد ریل گاڑی کیلئے ٹی ٹی بنا کر بھیجا تھا ،جنتا نے اسے ٹرین سے پہلے ہی اتار دیا ۔اس سیٹ پر کانگریس امیدوار روپیندر سنگھ کو 96950 ووٹ ملے ہیں اور بھاجپا کے سریندر پال سنگھ ٹی ٹی کو 83667 ووٹ ملے جبکہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار پرتھوی پال سنگھ سندھو کو 11940 ووٹ حاصل ہوئے ۔پرتھوی پال سنگھ سندھو پچھلی بار یعنی 2018 میں آزاد امیدوار کے طور پر لڑے تھے تو وہ دوسرے نمبر پر رہے تھے ۔بھاجپا امیدوار کی شکل میں تب سریندر پال سنگھ ٹی ٹی تیسرے نمبر پر رہے تھے ۔بی جے پی کیلئے یہ بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے ۔در اصل ،حالیہ چناو¿ کہ محض 6 ہفتوں بعد ہی کانگریس نے ضمنی چناو¿ میں اپنی جیت درج کرا لی ۔بی جے پی کے ہارے امیدوار پردیش سرکار میں وزیر تھے جنہوں نے محض ایک ہفتہ پہلے ہی 30 دسمبر کو بھجن لال سرکار میں کیبنیٹ توسیع میں وزیر کے عہدے کا حلف لیا تھا ۔کانگریس نے اسے اشو بنایا تھا کہ چناو¿ کا امیدوار ہوتے ہوئے بی جے پی نیتا نے وزیر کی کرسی پر کام شروع کر دیا تھا ۔ضمنی چناو¿ کے نتیجوں پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے کانگریس امیدوار کو جیت کی مبارکباد دیتے ہوئے بی جے پی پر طنز کسا گہلوت نے شوشل میڈیا پر بی جے پی پر نکتا چینی کرتے ہوئے کہا کہ شری کرنپور کی جنتا نے بی جے پی کے غرور کو ہرایا ۔ان کا کہنا تھا چناو¿ کے درمیان ایک امیدوار کو وزیر بنا کر چناوی ضابطہ اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑانے والی بی جے پی کو جنتا نے سابق سکھایا ہے ۔وہیں دوسری طرف کانگریس کے سابق پردیش صدر اور سابق نائب وزیراعلیٰ سچن پائلٹ نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیت سندیش دے رہی ہے کہ عام چناو¿ میں کانگریس مضبوطی سے واپسی کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور عورتوں نے کانگریس کو ووٹ دے کر جتا دیا کہ ان کی امید ہم سے ہے اور ہم ان کے سروکار سے جڑے مدے اٹھاتے رہیں گے ۔اس جیت کے ساتھ کانگریس کی سیٹون کی تعداد 70 پر پہونچ گئی ہے ۔حالیہ چناو¿ میں کانگریس کو ریاست کی 200 سیٹوں میں سے 69 سیٹیں ملی تھیں ۔راجستھان کی 200 سیٹوں میں سے 199 سیٹوں پر چناو¿ ہوئے تھے ۔شری کرنپور کے کانگریس امیدوار گرمیت سنگھ کنیر کی اچانک موت کے چلتے اس سیٹ کا چناو¿ منسوخ ہو گیا تھا ۔بعد میں کانگریس نے اس سیٹ پر گرمیت کنیر کے بیٹے روپندر کو ٹکٹ دیا۔کہا جا رہا ہے کہ کانگریس اس جیت میں کنیر پریوار کے ساتھ ہمدردی بھی اہم رہی ۔وہیں کنیر نے اپنی جیت کو اپنے والد کے چار دہائی کی سیاسی زندگی میں کئے گئے کاموں کی جیت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ چناو¿ میرا نہیں بلکہ میرے پتا کا ہے ۔کانگریس پردیش صدر گووند ڈورا سٹا نے کہا کہ پرچی سرکار ایک مہینے میں ہی جنتا کا اعتماد کھو چکی ہے ۔فیصلے جنتا کی بھاونا سے ہوا کرتے ہیں ۔دہلی کی پرچی سے نہیں ۔یاد رہے کہ راجستھا ن کے وزیراعلیٰ کا چناو¿ دہلی سے بھیجی گئی ایک پرچی سے ہوا تھا ۔
(انل نریندر)
بھاجپا کا نعرہ - اب کی بار 400 پار!
بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا چناو کیلئے تیسری بار مودی سرکار ، اب کی بار 400 پار کا نعرہ دیا ہے ۔پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ہوئی میٹنگ میں بھاجپا قومی صدر جے پی نڈا 2 گھنٹے سے زیادہ وقت میں جنرل سیکریٹری تنظیم ، مرکزی وزیر ودیگر سینئر وزراءاور جنرل سیکریٹریوں سے 2024 کے چناو کی حکمت عملی پر غور وخوض کیا،میٹنگ میں طے کیا گیا نئے ووٹروں ، نوجوانوں اور خواتین ووٹروں سے زیادہ سے زیادہ رابطہ کیا جائے ۔پی ایم مودی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور پارٹی صدر جے پی نڈا کی قیادت میں لوک سبھا کے کلسٹر میں دوران اور ریلیاں جلد سے جلد شروع ہوں گی ۔بھاجپا نے لوک سبھا چناو میں مشن 50% ووٹ کے ساتھ درجن ریاستوں میں سبھی سیٹیں جیتنے کی حکمت عملی تیار کیا ہے ۔ان ریاستوں میں لوک سبھا کی قریب 250 سیٹیں ہیں اور ابھی ان کی زیادہ سیٹیں بھاجپا کے پاس ہی ہیں ۔دیگر ریاستوں کی تقریباً 150 سیٹیں ایسی ہیں جن کو اتحاد کے ساتھ جیتنے کیلئے پارٹی نے ورکنگ پلان بنایا ہے ۔بھاجپا کا مشن 50 فیصدی ووٹ کے اعداد و شمار کے لئے سب سے اہم مانا جا رہا ہے ۔پچھلے لوک سبھا چناو میں 300 کا نمبر پار کرنے میں اسے 13 ریاستوں ،مرکزی حکمراں ریاستوں میں ملے 50 فیصدی سے زیادہ ووٹ سیٹوں کو بڑھانے میں کافی اہم ثابت ہوئے تھے ۔ان میں 8 اتراکھنڈ ،ہماچل پردیش،اروناچل پردیش،تریپورہ ،دمن دیپ ، اور چنڈی گڑھ کی (82 )سبھی سیٹیں ملی تھیں۔ان سیٹوں کیلئے بڑا نشانہ طے کیا گیا ہے ۔بھاجپا کی حکمت عملی پلان میں ڈیڑھ درجن سے زیادہ ایسی ریاستیں اور مرکزی حکمراں ریاستیں شامل ہیں جن میں وہ سبھی سیٹیں جیت سکتی ہے ان میں مدھیہ پردیش (29) چھتیس گڑھ (11) راجستھان (25) ، گجرات (26) ، ہریانہ (10) ، دہلی (7)اتراکھنڈ (5) ہماچل پردیش (4) ، گوا (2) ،تریپورہ (2) منی پور (2) اروناچل پردیش (2) کرناٹک (28) جھارکھنڈ (14) لداخ(1) چنڈی گڑھ (1) دادر ا نگر حویلی (1) دمن دیپ (1) اور سب سے بڑی ریاست اتر پردیش (80) شامل ہیں ۔ان سبھی ریاستوں میں لوک سبھا کی 251 سیٹیں ہیں ۔بھاجپا نے پچھلے چناو میں ان میں سے 220 سیٹیں جیتی تھیں ۔ان ریاستوں میں بھاجپا کو اتحاد کی جیت کی زور آزمائش ہے ۔بھاجپا کو بہار ، آسام ، مہاراشٹر ،اڈیشہ ، مغربی بنگال ، تلنگانہ ، اور پنجاب میں بھی خاصی کامیابی ملنے کی امید ہے ۔بھاجپا کو ان سات ریاستوں میں پچھلی بار 195 سیٹوں میں سے 81 سیٹیں ملی تھی ۔بہار ،مہاراشٹر اور پنجاب میں وہ اتحاد میں چناو¿ لڑی تھی ۔بہار میں اس نے اپنے حصہ کی (40 میں سے 17) سبھی سیٹیں جیتی تھیں۔ مہاراشٹر میں بھاجپا اور شیو سینا اتحاد کو 48 میں سے 41 (بھاجپا 23) سیٹیں ملی تھیں ۔مغربی بنگال میں اسے 18 سیٹوں کی بڑی کامیابی ملی تھی ۔اس بار بھاجپا بہار میں چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد کرکے زیادہ سیٹوں پر چناو¿ لڑے گی ۔لیکن جنتا دل یونائیٹڈ اور آر جے ڈی کے امکانی اتحاد سے اسے چنوتی ملے گی ۔بنگال میں اس کی طاقت لگاتار بڑھ رہی ہے ۔اسے یہاں زیادہ سیٹیں جیتنے کی امید ہے ۔مہاراشٹر میں شیو سینا کا حکمراں گروپ اس کے ساتھ ہے یہاں بھی پارٹی کو بڑھت ملنے کی امید ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی نے پارٹی تنظیم کے بڑے نیتاو¿ں سے پارٹی کا ووٹ فیصد دس فیصد بڑھانے کی سمت میں کام کرنے کو کہا ہے ۔پارٹی کو بھروسہ ہے کہ ایودھیا میں 22 جنوری کو ہونے والے رام مندر کے پران پرتیسٹھا سماروہ چناو¿ میں پارٹی کے حق میں ایک بڑا اشو ہوگا۔وہیں پارٹی کی ترجیح نوجوان چہرے ہیں ۔ضرورت پڑھنے پر کئی مرکزی وزراءاور سینئر لیڈروں کو میدان میں اتار اجائیگا۔
(انل نریندر)
11 جنوری 2024
اس ایک طرفہ جیت کے فائدے ؟
بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے کنٹرورشل چناﺅ میں مسلسل چوتھی بار جیت درج کی ہے ان کی پارٹی عوامی لیگ اور ان کے ساتھیوں نے 300 پارلیمانی سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے اور ان میں سے 223 سیٹوں پر جیت ملی ہے اس جیت کے ساتھ ہی حسینہ 5 سال کے ایک اور معاد کےلئے وزیراعظم بنے گی ملک کی بڑی اپوزیشن پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے چناﺅ کا بائی کاٹ کیا تھا شیخ حسینہ کی پارٹی اور ان کے اتحادیوں کو امید ہے باقی بچی سیٹوں پر بھی انہیں جیت ملے گی ۔بی این پی نے بنگلہ دیش میں چناﺅ کو دھوکہ قرار دیا اور کہا یہ جمہوری سسٹم نہیں بلکہ یہ تانہ شاہی ہے ۔بڑی تعداد میں بی این پی کے لیڈروں اور ان کے حمائیتیوں کی گرفتاری کے بعد چناﺅ وی نتیجہ شروع کئے گئے بنگلہ دیش کے چناﺅوی اعداد شمار بتاتے ہیں کے قریب 40 فیصد لوگوں نے ہی پولنگ میں حصہ لیا اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کے 40 فیصدی پولنگ کا نمبر دروست نہیں ہے آزاد امیدوار جو عوامی لیگ کے ہی بتائے جاتے ہیں انہیں 61 سیٹوں پر جیت ملی جبکہ جاتیہ پارٹی کو 11 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے ۔شیخ حسینہ کو یہ 5 ویں بار معاد ملی ہے حسینہ پہلی مرتبہ 1996 میں وزیراعظم بنی تھیں اور پھر 2009 میں پھر سے چنی گئیں 2009 کے بعد سے مسلسل اقتدار میں ہے شیخ حسینہ سرکار پر الزام ہے کے وہ اپنے سیاسی حریفوں کو جیل میں ڈال رہی ہیں ۔عوامی لیگ ان الزامات کو خارچ کرتی رہی ہے بنگلہ دیش میں اس بات کا اندیشہ جتایا جا رہا ہے کے عوامی لیگ کی اس جیت سے وہاں ایک پارٹی کے رول والے سسٹم قائم ہو سکتا ہے ۔بہت کم لوگوں کو امید ہے کے حسینہ سرکار سیاسی حریفوں کو لیکر کسی طرح کی سختی میں ڈھیل نہیں دیں گی ۔اگر اپوزیشن پارٹی اور سیول سوسائیٹی گروپ سرکار کے جواز پر سوال اٹھاتی ہے تو سرکار سختی سے پیش آئی گی بڑی اپوزیشن پارٹی بی این پی نے مختار کئیر ٹیکر سرکار کو ما تحت چناﺅ کرانے کی مانگ کی تھی لیکن سرکار نے بی این پی کی اس مانگ کو مسترد کر دیا تھا اس کے بعد بی این پی نے چناﺅ کے بائے کارٹ کا فیصلہ کیا تھا ۔بی این پی کے نگراں صصدر تاریخ رحمن نے کہا کے ہمارا پر امن اور ادم تشدد تحریک جاری رہے گی رحمن 2008 سے ہی لندن میں رہ رہے ہیں تاریخ رحمن شیخ حسینہ کے کٹر حریف اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا بیٹے ہیں رحمن نے بی این پی ورکروں پر چناﺅ میں حملے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے خالدہ ضیا کرپشن کے الزامات میں نظر بند ہیں بنگلہ دیش نے مگر اس بات کا اندیشہ جتایا جا رہا ہے کے عوامی لیگ کی جیت کے بعد وہاں ایک پارٹی رول قائم ہو سکتا ہے تو بے وجہ نہیں پولنگ کے بعد شیخ حسینہ کے کہا مجھے بنگلہ دیش کے تئیں بھروسہ ثابت کرنا ہے لیکن کسی آتنک وادی پارٹی یا تنظیم کے تئیں نہیں دیش کی جنتا کے تئیں میری جواب دیہی ہے لوگ چناﺅ کو قبول کرتے ہیں یا نہیں یہ اہم ہے حسینہ نے کہا سبھی رکاوٹوں کو پار کر مینے ماحول کر بہتر بنایا ہے اپوزیشن کی غیر موجودگی کے سبب ایک پارٹی حکومت والی سرکار کو شبہ کی نظر سے بھلے ہی دیکھا جائے مگر موجودہ حالات میں یہ بھارت کے لئے کسی بھی نظر سے برا نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
ہمت افزا اور تاریخی فیصلہ!
سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کے ساتھ گینگ ریپ اور ان کے خاندان والوں کے قتل کے 11 قصورواروں کی سزا میں چھوٹ دے کر رہا کرنے کے فیصلے کوچھوٹ دے کر رہا کرنے کے فیصلے کو منسوخ کر ہمت افزا اور تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ گجرات سرکار نے 2022 میں یوم آزادی کے دن ان قصورواروں کی سزا میں چھوٹ دیتے ہوئے رہا کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کے گجرات سرکارکے پاس سزا میں چھوٹ دینے اور کوئی فیصلہ لینے کا اختیار نہیں ہے ۔اس معاملہ میں فیصلہ لینے کے لئے مہارشٹر سرکار کو زیادہ صحیح بتایا سپریم کورٹ کا فیصلہ سرکار کی جانب داری کے رویہ پر سخت حملہ ہے ۔عدالت نے سارے قصورواروں کو دو ہفتہ کے اندر سرنڈر کرنے کا حکم دیا ہے سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے کچھ اہم نکات اس طرح ہیں ۔قصورواروں کی سزا معاف کرنے کی درخواست والی اپیلوں پر غور کرنا گجرات حکومت کے دائر اختیار میں نہیں تھا کیوں کہ یہ سی آر پی سی کی دفعہ 432 کے تحت( اس سلسلہ میں فیصلہ لینے کے لئے )سرکار مجاز نہیں تھی۔ سزا میں چھوٹ پائے قصورواروں میں ایک سے ایک کی عرضی پر گجرات سرکارکے غور کرنے کیہدایت دینے والی ایک دیگر بینچ کے 13 مئی 2022 کے حکم کوغیر تسلیم مانا ۔سزا میں چھوٹ کو گجرات سرکارکا حکم بغیر سوچے سمجھے پاس کیا گیا ۔گجرات سرکار نے مہاراشٹر سرکار کے اختیارات میں قبضہ کیا۔چونکہ صرف مہاراشٹر سرکار ہی چھوٹ مانگنے والی درخواستوں پر غور کر سکتی تھی ۔گجرات اسٹیٹ کی 9 جولائی 1992 کی سزا میں چھوٹ سے متعلق پالیسی موجودہ معاملوں کے قصورواروں پر لاگو نہیں ہوتی ۔بلقیس بانو معاملے میں وقت سے پہلے رہائی کے لئے بڑی عدالت کے دروازے پر دستک دینے والے ایک قصوروار کے ساتھ گجرات حکومت کی ملی بھگت تھی ۔عدلیہ قانون کی حکمرانی کی سرپرستی اور ایک جمہوری ریاست کا مرکزی ستون ہے قانون کی حکمرانی کا مطلب صرف کچھخوش قسمت لوگوں کی حفاظت کرنا نہیں ہے ۔آرٹیکل 142 کو سپریم کورٹ کے ذریعہ قصورواروں کے حق میں جیل سے باہر رہنے کی اجازت دینے کے لئے لاگو نہیں کیا جا سکتا ہے۔بتا دیں کہ پچھلے سال 15 اگست کو گجرات سرکار نےبلقیس بانو سے اجتماعی آبرو ریزی کرنے والے 11 قصورواروں کی عمر قید کی سزا معاف کر دی تھی ۔تب سے لیکر کافی ناراضگی دیکھی گئی تھی بلقیس بانو معاملے میں گجرات سرکار کارخ شروع سے ہی جانب داری بھرا دیکھا گیا تھا ۔اس کے پیچھے سیاسی مقصد بھی دیکھے گئے تھے۔ جو قصورواروں کے رہا ہوتے ہی صاف دکھائی دئے قصورواروں کو مالا پہناکر سواگت کیا گیا مانو وہ کسیگھناو¿نے جرم کے قصور وار نہیں تھے بلکہ انہوںنے کوئی بہادری کا کام کیا ہو۔ اس طرح ان کی سزا معاف کرنا صرف انہیں بے قصور ثابت کرنے بلکہ سماج میں ان کی قصیدہ خوانی کرنے کی بھی کوشش ہوئی تھی ایسے آبروریزی اور قتل کرنے اور سماج میں نفرت پھیلانے والوں کی سزا معافی اور سواگت کسی بھی وقت سماج کی نشانی نہیں مانی جا سکتی ۔گجرات سرکار کے فیصلہ پر سپریم کورٹ کی ناراضگیفطری ہے آخر اس طرح کے جانب دارانہ فیصلہ کرنے والی سرکار کی بہبودی اور عورتوں کےحفاظت کے عزم کو کیسے مانا جا سکتا ہے ۔سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کے حق کو اہم ترین مانتے ہوئے اس کے تئیں انصاف کیا ۔عدالت کا تبصرہ بھی ایک روشنی کے ستون کی طرح کام کرے گا ۔ عدالت کو بغیر کسی ڈر یا غیر جانب داری کے قانون کو نافذ کرنا آتا ہے اس فیصلے سے عدالتوں کے تئیں لوگوںکوبھروسہ بڑھے گا۔
(انل نریندر)
09 جنوری 2024
لڑائی یہی ہے کے ہماری کوئی اوقات نہیں ہے !
مدھیہ پردیش کے راجا پور میں کلکٹر کے ساتھ جھگڑے کو لیکر سرخیوں میں آئے ایک ٹرک ڈرائیور پپو مہیروار نے کہا کے وہ کلکٹر کو ڈرک ڈرائیوروں سے ہونے والی پریشانی کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے پپو ہیروار نے بات کرتے ہوئے ان پر لگے ان الزامات سے انکار کیا کے اسی کو کسی بھی طرح سے کلکٹر کی باتوں کو یہ نظر انداز کر رہے تھے سوشل میڈیا پر 18 سیکنڈ کا ایک ووڈیو وائرل ہوا جس میں ٹرک ڈرائیوروں سے بات کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے راجا پور کے کلکٹر کشور کنیال نے ایک ٹرک ڈرائیور سے پوچھا کے تمہاری اوقات کیا ہے؟ دیش میں ہٹ اینڈ رن کے معاملے میں سزا کے نئے تقاضوں کو لیکر ٹرک اور ٹیکسی ڈرائیور اور بس اوپریٹر انجومنوں نے دیش بھر میں ہڑتال کی تھی اسی دوران ٹرک ڈرائیوروں کا ایک گروپ بات چیت کے لئے کلکٹر کے پاس گیا تھا جہاں بات چیت کے دوران کلکٹر صاحب ناراض ہو گئے تھے اور جھگڑے بڑھنے کے بعد ریاست کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کلکٹر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور کہا ہے افسران کو اپنی زبان اور رویہ پر قابو رکھنا چاہئے وہیں تنازعوں میں گھرے کلکٹر کشور کنیال نے کہا ہے انہوںنے جو بھی کہا وہ کسی کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے نہیں کہا گیا تھا بلکہ 2 ڈرائیوروں کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے تھے پپوہیروار نے کہا کے کلکٹر کی بات چیت کے دوران وہ کسی بھی طرح کی وکاوٹ نہیں ڈال رہے تھے بلکہ اس امید میں ان کی اپنی بات رکھ رہے تھے کے ان کی بات سن کر انتظامیہ مسلہ کا کوئی حل نکالے گا پپوکا کہنا تھا میں پہلے ہی کلکٹر صاحب کی باتوں کو سمجھ رہا تھا اور ان کے بعد اپنی بات رکھ رہا تھا ۔میں ان پریشانیوں کی بات بتا رہا تھا جو ہر ٹرک ڈرئیور کو آتی ہے انہوںنے یہ بھی کہا سڑک پر ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ پولس کا یا پھر آر ٹی اور کے حکام کا جس طرح کا برتاﺅ ہوتا ہے میں اس کی بات کر رہا تھا اس کے علاوہ کئی بار ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ عام لوگ بھی برا رویہ اپناتے ہیں اور ان پر چوڑی کا الزام لگا دیتے ہیں میں ان ہی معاملوں کے بارے میں بات کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ہمارے لئے اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لئے کوئی قانون نہیں ہے انتظامیہ کے حکام عام آدمی اور سرکار کے درمیان ایک مظبوط کڑی ہوتے ہیں جو نا صرف سرکاری اسکیموں کو ٹھوس طریقے سے لاگو کرتے ہیں بلکہ مقامی مسائل کی طرف سرکار کی توجہ دلاتے ہیں ان سے توقع کی جاتی ہے کے لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کو سنے اور سمجھیں اور ان کا جتنا ممکن ہو سکے مثبت حل نکالنے کی کوشش کریں گے اگر حالت یہیں ہے کے آزادی کے بعد جمہوریت قائم ہونے کے باوجود ضلع حکام اور دوسرے افسر دادا گری ذہنیت نہیں بدل پائے وہ جنتا کا سیوک بن کر کام کرنے کے بجائے ایک منتظم بن کر رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں حالت یہ ہے کے ان کے خلاف کوئی انگلی اٹھاتا ہے یا کوشش کرتا ہے تو وہ ان کے اوپر کارروائی کے لئے اتر آتے ہیں اس طرح خوف کا ماحول بناکر من مانی ڈھنگ سے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن ہادو کی تعریف کرنی ہوگی انہوںنے کلکٹر کو اس کی اوقات بتا دی اور کہہ دیا کے جمہوریت میں جنتا ہی مہان ہے اور سبھی کو اس کو جواب دینا پڑے گا اور اپنی اوقات میں رہنا ہوگا۔
(انل نریندر)
اور اب بھارت جوڑو نیائے یاترا!
اس چناﺅی ماہول میں اپنے بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر جہاں حکمراءبی جے پی آےودھیا میں رام مندر کی سرگرمیوں پر زیادہ سے زیادہ غور دے رہی ہے وہیں بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے راہل گاندھی بھارت جوڑوں نیائے یاترا کا اعلان کر دیا ہے اور یہ راہل گاندھی کی قیادت میں منی پور سے ممبئی تک 14 جنوری سے شروع ہونے جا رہی ہے پہلے پارٹی نے اسے بھارت نیائے یاترا کا نام دیا تھا ۔اب یہ یاترا 14 ریاستوں میں ہی نہیں بلکہ 15 ریاستوں سے ہوکر گزرے گی اس میں اروناچل پردیش کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔یاترا 6200 کلومیٹر کے بجائے 6700 کلومیٹر کی دوری طے کریں گی ۔راہل گاندھی کی بھارت جوڑوں نیائے یاترا پچھلے سال بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی سے حوصلہ افزا ہے ۔کانگریس اس یاترا کو تھوڑا الگ رکھتے ہوئے بھی چاہتی ہے کے لوگ اسے اس یاترا کی اگلی کڑی کی شکل میں دیکھیں ۔راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کی سیاسی اہمیت کو دیکھے تو ریاستوں میں کانگریس کے پاس گنوانے کے لئے محض 14 سیٹیں ہی ہیں 15 ریاستوں سے گزرنے جا رہی یاترا کے راستے میں تقریباً 100 لوک سبھا سیٹیں ہیں پارٹی کی دعوا ہے کے یہ پیدل مارچ راہل گاندھی کی سابقہ یاترا کی طرح تبدیلی ثابت ہوگی ہمارا خیال ہے کے صرف بھیڑ اکٹھی ہونے سے ووٹ نہیں ملتے راہل کی پہلی بھارت جوڑو یاترا میں لاکھوں لوگ جڑے تھے لیکن چناﺅ میں اس کا کیا نتیجہ ہوا ؟جب تک بھیڑ کو ووٹوں میں تبدیل نہیں کرتے تو یاتراﺅ کا چناﺅی فائدہ نہیں ہوگا اس پھر اس یاترا کو کانگریس کی یاترا بتاکر نہیں بلکہ اس کو انڈیا ایلائنس کی یاترا کی شکل میں بتایا جانا چاہئے جس جس ریاست میں سے یہ یاترا گزرے گی وہاں کی مقامی پارٹی کے نیتا اور ورکر اس میں تہہ دل سے شامل ہوں گے تب جاکر اس کی سیاسی فائدہ ہوگا کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رامیش تو یہیں کہہ رہے ہیں پارٹی انڈیا ایلائنس کے سبھی لیڈروں اس یاترا کے راستے میں کہی بھی شامل ہونے کے لئے منعقد کر رہی ہے ۔یہ یاترا سیاسی طور سے اہم علاقوں امیٹھی ،رائے بریلی،بنارس اور پریاگ راج سے ہوکر گزرے گی ۔یاترا 14 جنوری کو امپھال سے شروع ہوکر 66 دن میں 110 ضلعوں 100 لوک سبھا سیٹوں اور 337 اسمبلی حلقوں سے گزرےگی جہاں تک اس یاترا کے اثر کا سوال ہے تو یقینی طور سے موجودہ ماحول میں اس کی سب سے بڑی کسوٹی آیودھیا میں شری رام مندر سے اور ہندوتو کی لہر کا مقابلہ کرنا ہوگا پچھلی بھارت جوڑو یاترا کے تجربہ کو دیکھیں تو اس میں راہل گاندھی کے حق میں تھوڑا ماحول بنایا ہے اور راہل گاندھی کو ایک سنجیدہ لیڈر کی امیج دی ہے لیکن چناﺅی کسوٹیوں پر اس کا اثر ملا جلا ہی رہا چناﺅ میں ویسے بھی بہت سے پہلوں ہوتے ہیں یہ دوسری یاترا اگر صحیح معنیٰ میں انڈیا الائنس کی ملی جلی یاترا رہتی ہے تو اس کا چناﺅ وی فائدہ ہوگا اگر کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں کے حق میں یہ یاترا ماحول بناتی ہے تو یقینی طور سے اپوزیشن پارٹیوں کی حق میں اچھی بات ہوگی لیکن چناﺅ میں اس کا کتنا فائدہ اٹھا پاتے ہیں یہ ان کی تنظیموں اور ورکروں پر کی محنت پر منحصر کرے گا راہل کی یاترا اس وقت ہو رہی ہے جب آیودھیا میں شری رام کے مندر کے افتتاح کی تیاری ہو رہی ہے ۔پورا دیش رام میں ہونے جا رہا ہے ۔دیکھیں راہل کی یاترا بھاجپا کے پرچار پر کتنا اثر ڈالے گی؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...