Translater

23 دسمبر 2017

کیا بند ہوسکتا ہے2000 روپئے کا نوٹ

نوٹ بندی کتنی خطرناک ثابت ہوئی تھی یہ جنتا ابھی تک بھولی نہیں ہے اور اب 2000 روپئے کے نئے نوٹ کو لیکر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ریزرو بینک نے یا تو بڑی تعداد میں دو ہزار روپئے کے نوٹ جاری کرنے سے روک دیا ہے یا پھر اس کی چھپائی بند کردی گئی ہے۔ بھارتیہ اسٹیٹ بینک کی ایکوفلیش رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہے کہ لوک سبھا میں حال ہی میں پیش کئے گئے اعدادو شمار سے اگر ریزرو بینک کی سالانہ رپورٹ میں دئے گئے اعدادو شمار کا ملان کیا جائے تو یہ پتہ چلا ہے کہ مارچ2017 تک بینکنگ مشینری میں جاری چھوٹی رقم والے نوٹوں کی کل مالیت 3501 ارب روپئے تھی اس لحاظ سے 8 دسمبر کو معیشت میں دستیاب کل کرنسی میں سے چھوٹے نوٹوں کی ویلیو ہٹانے کے بعد ہائی ویلیو زمرے کے نوٹوں کی کل ویلیو 13324 ارب روپئے کے برابر ہونی چاہئے۔ رپورٹ کے مطابق لوک سبھا میں وزارت مالیات کے ذریعے دی گئی معلومات کے مطابق 8 دسمبر کی پوزیشن کے مطابق ریزرو بینک نے 500 روپئے کے 1695.7 کروڑ نوٹ چھاپے جبکہ 2000 روپئے کے 365.40 کروڑ روپئے کے نوٹوں کی چھپائی ہوئی۔ دونوں ویلیو کیٹگری کے نوٹوں کی کل مالیات 15787 ارب روپئے بیٹھتی ہے۔ ایس بی آئی گروپ کے چیف معاشی مشیرسمیا کانتی گھوش کے ذریعے لکھی گئی اس رپورٹ کے مطابق، اس کا مطلب ہے کہ بڑی مالیت کیٹیگری کے باقی بچے 2463 ارب روپئے کے نوٹ ریزرو بینک نے چھاپے تو ہیں لیکن انہیں بازار میں جاری نہیں کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد پر یہ مانا جاسکتا ہے کہ 2463 ارب روپئے کی کرنسی چھوٹی رقم کے نوٹوں میں کافی چھاپی گئی ہو۔ مرکزی بینک نے اس درمیان اتنی رقم کے 50 اور 200 روپئے کے نوٹوں کی چھپائی کی ہو۔ رپورٹ کے مطابق 2000 روپئے کے نوٹ سے لین دین میں ہورہی دقتوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ریزرو بینک نے یا تو 2000 روپئے کے نوٹ کی چھپائی روک دی ہے یا کم کردی ہے۔ رائج دستیاب کل کرنسی میں چھوٹی رقم کے نوٹوں کا حصہ ویلیو کے حساب سے 35 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت نے پچھلے سال 8 نومبر کو 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ نوٹ تب چلن میں جاری کل کرنسی کا 86 سے 87 فیصد تھے۔ اس سے نقدی کی کمی ہوئی اور بینکوں میں چلن سے ہٹائے گئے نوٹوں کو بدلنے یا جمع کرنے کو لیکر لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ اس کے بعد ریزرو بینک نے 2000 روپئے ویلیو کے نئے نوٹ کے ساتھ 500 روپئے کابھی نیا نوٹ جاری کیا تھا۔ اس کے بعد ریزرو بینک نے 200 روپئے کا بھی نوٹ جاری کیا۔ 2000 کے نوٹ بند کرنے کی قیاس آرائیوں کی ابھی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
(انل نریندر)

پنامہ پیپرس میں کارروائی شروع

بدنام زمانہ پیپرس معاملہ میں ہندوستان کے محکمہ ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کارروائی شروع کردی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے دہلی اور این سی آر میں 25 سے زائد ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی ہے۔ محکمہ کی ٹیم نے پٹیل فوڈ پروسسنگ مالی سروس اور ٹائر کے کاروبار میں شامل تین کاروباری گروپوں پر چھاپہ ماری میں 4 کروڑ نقدی اور زیورات اپنے قبضے میں لئے ہیں۔ سی بی ڈی ٹی نے حال ہی میں کہا تھا کہ پنامہ پیپرس معاملہ میں 792 کروڑ روپئے کے غیر اعلانیہ اثاثے کا پتہ چلا ہے اور اس کی جانچ تیزی سے جاری ہے۔ ایک سال پہلے واشنگٹن میں واقع انٹرنیشنل کنسورٹیم آف انویسٹیگیٹک جرنلسٹ نے پنامہ پیپرس کا خلاصہ کیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکیوریٹ نے کاروباری اور سابقہ آئی پی ایل چیئرین امین کے کنٹرول والی کمپنی کے 10.35 کروڑ روپئے کی مالیت کے میوچل فنڈ کو فیما قانون کے تحت ضبط کیا ہے۔ یہ کارروائی پنامہ پیپرس معاملہ میں کی گئی ہے۔ پنامہ پیپرس معاملہ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 46 اور فرموں کو فیما قانون کے تحت نوٹس جاری کیا ہے۔ پنامہ پیپرس نے تقریباً 150 معاملوں کو کارروائی کے لائق مانتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اب تک متعلقہ فرموں کو نوٹس جاری کرچکا ہے۔ پنامہ پیپرس معاملہ کی جانچ کے لئے مرکزی سرکار نے ای ڈی سمیت کئی ایجنسیوں کو ملا کر ملٹی ایجنسی گروپ بنایا ہے۔ اس معاملہ میں اب تک 7 رپورٹ حکومت کو بھیجی جاچکی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال انٹرنیشنل کنسورٹیم آف انویسٹیگیٹک جرنلسٹ نے تقریباً1 کروڑ 15 لاکھ خفیہ دستاویزات کو عام کیا تھا۔ اس کے مطابق پنامہ میں واقع موروک فونسیکا فرم نے کئی ملکوں کے شہریوں کو ٹیکس بچانے میں غیر قانونی طور سے مدد کی تھی۔ ان میں بھارت یا ہندوستانی نژاد 426 لوگوں اور فرموں کے نام تھے۔ ادھر پڑوسی ملک پاکستان نے پنامہ پیپرس کو لیکر سخت کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ ان پیپرس کے سبب پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدہ سے ہٹنا پڑا تھا۔ نواز شریف کو اس معاملہ کو لیکر پاکستان کے قومی جوابدہی بیورو کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ شریف اپنی بیٹی مریم شریف ایک داماد محمد صفدر کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ بھارت ابھی نوٹس جاری کررہاہے اور پاکستان میں تو کارروائی بھی شروع ہوچکی ہے۔ یہ تصور بھارت میں نہیں کیا جاسکتا کہ کرپشن کے الزام میں کسی سرکردہ شخصیت کو عہدہ سے ہٹنا پڑے۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2017

گجرات میں بی جے پی سے زیادہ نریندر مودی کی جیت ہے

گجرات چناؤ میں ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس اور بھاجپا کی کافی قریبی ٹکر ہے۔ کانگریس اس چناوی جنگ میں کافی مضبوطی سے سامنے آئی اور راہل گاندھی کی تابڑ توڑ کوششیں رنگ لاتی دکھائی دیں۔ شاید وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی یہ احساس ہوگیا تھا کہ بازی ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ بی جے پی نے ہماچل پردیش میں بھی آسان جیت درج کی۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے اپنے حکمرانی کے دائرہ میں ایک اور ریاست کو جوڑ لیا۔ بیشک بی جے پی نے ہماچل اور گجرات میں جیت کا سلسلہ جاری رکھا لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ جیت پارٹی سے زیادہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جیت ہے۔ ہماچل پردیش میں بی جے پی کی جیت کو لیکر کسی کو بھی شک نہیں تھا۔ ویسے بھی ہماچل پردیش کی تاریخ رہی ہے یہاں پانچ سالوں میں سرکاریں بدلتی ہیں۔ پردیش کے پانچ برسوں کا فطری طور سے بی جے پی کے پالے میں جانا تھا لیکن گجرات میں بی جے پی کی جیت معنی رکھتی ہے۔ گجرات میں بی جے پی کے خلاف کئی اشو تھے۔ 22 سالوں کی اقتدار مخالف لہر، ہاردک پٹیل کی لیڈر شپ میں پاٹیداروں کی تحریک، جگنویش میوانی کی رہنمائی میں دلتوں کی تحریک، پسماندہ برادری کے ٹھاکر کی ناراضگی تھی جس کی قیادت الپیش ٹھاکر کررہے تھے۔ سورت اور گجرات کے کئی دیگر شہروں میں جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے تاجر ناراض تھے۔ گجرات میں نریندر مودی کا نہ ہونا بھی بی جے پی کے خلاف جا رہاتھا لیکن سارے برعکس حالات کو بی جے پی کنارہ کرتے ہوئے ایک بار پھر گجرات میں کامیابی حاصل کرلی۔ حالانکہ 2012ء میں پارٹی کو 115 سیٹیں ملی تھیں اس مرتبہ99 پر ہی سمٹ گئی۔ بیشک اس بار بی جے پی کے ووٹ شیئر میں معمولی اضافہ ہوا ہے 2012ء میں بی جے پی کا ووٹ شیئر 48.30 فیصدی تھااس بار49.1 فیصدی ہے۔ بی جے پی کے حق میں آخر کونسے عوامل تھے جس سے اسے جیت ملی؟ وزیر اعظم نریندر مودی نے آخری دو ہفتوں میں کافی جارحانہ چناؤ کمپین کی جس سے منقسم ووٹروں نے جو کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالنے کا من بنا چکے تھے اس کے بعد انہوں نے پولنگ سے ٹھیک پہلے مودی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا فیصلہ لے لیا۔ مودی کی کمپین کے بعد بی جے پی کے حق میں ووٹ پولنگ کا رخ بڑے سطح پر ٹکا ہوا تھا۔ سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ گجرات میں قریب 33 فیصد ووٹروں نے پولنگ کے کچھ دن پہلے اپنا ذہن بنا لیا تھا۔ شروعات کے کچھ ہفتوں میں کانگریس نے جارحانہ کمپین چلائی تھی کانگریس کی کمپین کے سبب بی جے پی بیک فٹ پر نظر آرہی تھی۔ لیکن جب نریندر مودی نے بھی جارحانہ کمپین شرو ع کی تو کانگریس کی چناوی مہم پر بھاری پڑنے لگی۔ منی شنکرایر کے تبصرہ کے بعد مودی کی چناوی کمپین کو اور رفتار مل گئی۔ ایر کے نیچ والے تبصرہ کے بعد بی جے پی پوری طرح سے حملہ آور ہوگئی تھی۔ مودی نے منی شنکر ایر کے بیان کو گجراتی وقار اور پہچان سے جوڑدیا۔ اس کے بعد کانگریس چناوی کمپین میں بی جے پی کے مقابلہ بیک فٹ پر آگئی اور اس نے جو بی جے پی کے خلاف ماحول بنایا تھا اسے بھاری دھکا لگا۔کانگریس نے ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی، الپیش ٹھاکر اور باسوا جیسے مختلف فرقہ کے نیتاؤں کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی جس کے نتیجہ نے پچھلے چناؤ کے برعکس ان فرقے کے کچھ ووٹ کانگریس کو زیادہ ملے۔ پاٹیداروں کے زیادہ تر لوگ بی جے پی کو ملے حالانکہ اس تبدیلی سے کانگریس جیت کا ذائقہ نہیں چکھ پائی۔ کانگریس کو امید تھی کہ پاٹیداروں کے ووٹ اس کے حق میں جائیں گے لیکن چناؤ کے بعد ہوئے سروے سے پتہ چلا ہے کہ پاٹیداروں کے 40 فیصدی سے بھی کم ووٹ کانگریس کو ملے جبکہ بی جے پی 60 فیصدی پاٹیداروں کے ووٹ پانے میں کامیاب رہی۔ جگنیش میوانی کے ساتھ اتحاد بھی کانگریس کے لئے کام نہیں کرسکا۔ 47 فیصدی دلتوں کے ووٹ کانگریس کو ملے جبکہ بی جے پی 45 فیصدی دلت ووٹ پانے میں کامیاب رہی۔ اس طرح او بی سی ووٹ بھی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان بٹ گیا۔ پاٹیداروں کے بٹے ووٹ کی بھرپائی بی جے پی نے آدیواسی ووٹوں سے کرلی۔ 52 فیصدی آدی واسی ووٹ بی جے پی کو گئے وہیں 40 فیصدی آدیواسیوں کے ووٹ کانگریس کو گئے۔ ویسے بھی بی جے پی کی گجرات میں ایک اور چناؤ جیتنے کے لئے اور کانگریس سے ہماچل چھیننے کے لئے خوش ہونا چاہئے لیکن ان کامیابیوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گجرات میں حکمراں پارٹی کے اندر سب ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ کل ملا کر دونوں ریاستوں میں ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ہے جو سرکار کی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی پالیسیوں سے غیر مطمئن ہے۔ کسان حکومت سے خفا ہے کیونکہ وہ ان کی مشکلوں کا حل نکالنے کے لئے ضروری کوشش نہیں کررہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان سب کے باوجود ایک بڑی آبادی نے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا اور برعکس ماحول کے باوجود اگر گجرات میں بی جے پی جیتی تو اس کا سارا سہرہ وزیر اعظم نریندر مودی کو جاتا ہے۔ ان کی تابڑ توڑ کوششیں رنگ لائیں۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2017

99 کا پھیر ۔۔۔2

گجرات چناؤ کے دوران مختلف مندروں میں جاکر درشن کرنے کی وجہ سے کئی بار سرخیوں میں آئے کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے بارے میں اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی ہریش راوت نے دلچسپ دعوی کیا ہے۔ ہریش راوت کے مطابق سومناتھ مندر کے درشن کرنے پر بابا کی کانگریس پر بڑی مہربانی ہوئی اور کانگریس سومناتھ علاقہ کی چاروں سیٹوں پر کامیاب رہی۔ کانگریس بھلے ہی گجرات میں 22 برسوں سے اقتدار پر قابض بھاجپا کو ہرا نہ پائی ہو لیکن کانگریس اور اس کے لیڈر راہل گاندھی نے گجرات میں مقامی اشو اور ترقی کا مسئلہ کچھ یوں اٹھایا کہ گجرات میں کانگریس ہار کر بھی اخلاقی طور سے جیت گئی۔ جس طرح سے راہل گاندھی گجرات میں لوگوں کا بھروسہ جیتنے میں کامیاب رہے اس کا فائدہ آنے والے وقت میں اپوزیشن کی ایکتا کو بنائے رکھنے اور مودی کو چنوتی دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن کے ایک سینئرلیڈر کا کہنا تھا کہ گجرات چناؤ میں راہل کو پکا لیڈر بنا دیا ہے اور اپوزیشن کو چہرہ مل گیا ہے۔ نوٹا نہ ہوتا تو فائدے میں رہتی کانگریس۔ گودھرا میں بی جے پی کے راؤل جی نے258 ووٹ سے کانگریس کے راجندر سنگھ پرمار کو ہرایا۔ اس سیٹ پر 3050 ووٹ نوٹا کو ملے۔ دھولکا میں بی جے پی کے بھکتے سنگھ چوڈسما نے کانگریس کے اشون بھائی راٹھور کو 327 ووٹ سے ہرایا جبکہ نوٹا کو ملے 2347 ووٹ۔ بوٹان میں بی جے پی سے کانگریس یہ سیٹ 906 ووٹ سے ہاری۔ یہاں نوٹا کو 1334 ووٹ ملے۔ اسی طرح کم سے کم چار اور سیٹوں پر امریڈ ،ڈانگ، دیودار اور کپراڑا میں نوٹا نے کانگریس کا کھیل بگاڑ دیا۔ ادھر کے نیتاؤں کے بھروسے گجرات کی چناوی جنگ جیتنے نکلی کانگریس کے ہاتھ اقتدار کی بھاگ ڈور تو نہیں لگی لیکن کانگریس کے کندھے پر پاؤں رکھنے والے ان لیڈروں کی سیاست ضرور چمک گئی۔ کانگریس کو سہارا دے کر کھڑا کرنے والے الپیش اور جگنیش نے خود تو چناؤ جیت لیا لیکن دیگر سیٹوں پر کانگریس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ تو کیا گجرات اسمبلی چناؤ نتائج نے ای وی ایم تنازعہ کو پوری طرح ختم کردیا ہے۔ ای وی ایم پر اٹھے سوال نتیجے تو یہی نکال سکتے ہیں کہ چناؤ کمیشن نے اس بار پہلی مرتبہ گجرات میں سبھی182 سیٹوں پر وی وی پیٹ کا استعمال کیا تھا جس کے تحت ہرووٹر کو ووٹ ڈالنے کے بعد پرچی ملی۔ اپوزیشن لگاتار ای وی ایم کے جواز پر سوال اٹھا رہی ہے اور چناؤ کمیشن کے ذریعے بیلٹ پیپر سے چناؤ کروانے کی مانگ پر اڑی ہوئی ہے۔ گجرات چناؤ نتائج کے بعد یہ تنازعہ ختم ہوجانا چاہئے۔ اس بار کئی معنوں میں چناؤ اہم تھا۔ یہ کسی ایک ریاست کا عام اسمبلی چناؤ نہیں تھا بلکہ اس بار بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔ کانگریس اس بات سے تشفی حاصل کرسکتی ہے کہ لوک سبھا چناؤ 2014 کے مقابلے اس بار بی جے پی کا ووٹ فیصد 10 فیصدی سے کم کرنے میں کامیاب رہی تو بی جے پی اس بات پر تشفی کرسکتی ہے کہ ناراض ووٹ کے باوجود وہ 2012 سے زیادہ ووٹ حاصل کرپانے میں کامیاب رہی۔ جس کانٹے کے مقابلہ میں بی جے پی نے گجرات میں جیت حاصل کی اس سے وہاں کی سیاست ہمیشہ کے لئے بدل جائے گی۔ برسوں بعد ریاست کا چناؤ مذہبی پولرائزیشن سے ہٹ کر ذات پات کے تجزیئے میں بدل گیا ساتھ ہی بھلے ہی نتیجوں کے بعد بی جے پی صدر امت شاہ اس چناؤ کو کانٹے کی ٹکر ماننے سے انکار کررہے ہوں لیکن بی جے پی کے لئے جیت کے ساتھ ہی چناؤ ایک وارننگ بھی ہے۔ اس ریزلٹ نے بی جے پی کو یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ گجرات کے دیہاتی علاقوں میں اپنی پکڑ مضبوط کرنا اس کے لئے بڑی چنوتی ہے۔ جس طرح کانگریس نے اس بار وزیر اعظم اور بی جے پی پردھان امت شاہ کے آبائی علاقہ میں گھس پر اپنی کارکردگی بہتر کی ہے اس سے یہ صاف ہے کہ اگر بی جے پی گجرات میں کامیاب ہوئی ہے تو وہ صورت (16 میں سے15 ) سیٹ، بروڈہ میں سے (10-9 )سیٹ، راجکوٹ میں (8 میں سے 6) سیٹ کی وجہ سے ان کا ٹوٹل بنا ہے 53 میں سے 46 سیٹیں بی جے پی جیتی۔ اگر ہم ان بڑے شہروں کو نکال دیں تو باقی بچیں127 سیٹیں ان میں بی جے پی صرف 53 سیٹیں ہیں جیت پائی جبکہ کانگریس 71 سیٹوں پر کامیاب رہی۔لب و لباب یہ ہے کہ سورت، بڑودہ و راجکوٹ نے بھاجپا کی لاج بچائی۔ دیہاتی علاقو ں میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی کا برا اثر صاف نظر آیا ہے۔ بی جے پی کے لئے یہ بات تشویش کی ہونی چاہئے۔ کانگریس نے جس طرح سے گجرات میں ٹھیک ٹھاک کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ریاست میں اس کے نیتاؤں کے حوصلہ بلند ہیں۔ ایسی حالت میں بی جے پی کو 2019 کے چناؤ کے لئے فوراً تیاری شروع کرتے ہوئے ناراض فرقوں کے لئے راحت کا انتظام کرنا ہوگا۔(ختم)
(انل نریندر)

پاکستان کی ہیٹ اسٹوری کی زمینی حقیقت

پاکستان کے ساتھ ہیٹ اسٹوری کی حقیقت آخر کیا ہے؟ پاکستان سے بات چیت کا راستہ بند ہے، آئے دن سرحد پر تابڑ توڑ فائرننگ ہورہی ہے۔ اس لڑائی میں بھارت کے 200 بہادر جوان پاکستان کے ہاتھوں اس سال اب تک جان گنوا چکے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان نے اس سال750 سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی توڑی ہے۔ پاکستان کی مانیں تو ہندوستانی فوج نے جواب میں 1300 بار فائرننگ کی ہے۔ دونوں سے اموات کے نمبرات 150 سے200 بتائے گئے ہیں۔ ایک سال کے اندربارڈر سیکورٹی فورس نے پاکستانیوں کو 199 احتجاجی خط بھیجے ہیں۔ جواب میں پاکستانی رینجرز نے 215 خط تھما کر اپنی ناراضگی جتا دی۔ دراندازی کی خبریں آنا بند نہیں ہو رہی ہیں یہاں تک کہ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی الزام لگا چکے ہیں کہ پاکستان گجرات میں مداخلت کررہا ہے۔ اس پر بھاجپا۔ کانگریس میں الزامات کی جنگ سی چھڑ گئی ہے لیکن پاکستان سے بھارت کے رشتوں کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ کاروبار، لوگوں کے بیچ روابط اور کلچرل امور کے تبادلہ کے پیمانوں پر پچھلے تین برسوں میں مودی سرکار میں کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے بلکہ مودی سرکار نے تو پاکستان سے بھارت آنے والے شہریوں کو سہولت دینے کے لئے بھی اہم ترین قدم اٹھائے ہیں۔ اتنی تلخی کے باوجود مودی سرکار نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی کاروبار میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ دونوں دیشوں کے درمیان کمپوزٹ ڈائیلاگ رکا ہوا ہے لیکن جوائنٹ بزنس فورم کی میٹنگیں جاری ہیں ویسے ہی جیسے منموہن سنگھ سرکار میں ہوا کرتی تھیں۔ اتنا ہی نہیں، بھارت نے اری فوجی کیمپ پر آتنکی حملہ کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کوقرار دیا گیا موسٹ وانٹڈ نیشن کے اقتصادی درجہ پر نئے سرے سے غور کرے گی۔ یوپی اے سرکار کے آخری سال2013-14 میں بھارت میں پاکستان سے 42 کروڑ ڈالر سے زیادہ ایکسپورٹ کیا تھا جو مودی سرکار کے آنے کے بعد 2015-16 میں 50 کروڑ ڈالر کے نمبر کو چھو گیا۔ اس سال اپریل سے نومبر تک کے دستیاب اعدادو شمار کے مطابق پاکستان نے33 کروڑ ڈالر کا بھارت کو ایکسپورٹ کیا اور ابھی دسمبر کے اعدادو شمار آنے باقی ہیں۔ منموہن سنگھ سرکار کے آخری برس 2013-14 میں دنیا دیشوں کا کل کاروبار 2.7 ارب ڈالر تھا جو معمولی کمی کے ساتھ 2015-16 میں 2.612 ارب ڈالر پر ٹکا ہوا ہے۔ آج بھی بھارت نے پاکستان کو موسٹ فیبرک نیشن کا درجہ دے رکھا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کو اسپانسر کرنا اسی دیش سے تجارت جاری رکھنا ،الگ الگ ہے لیکن پاکستان ابھی بھی دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کے تحت مانتا ہے۔ کیا موسٹ فیبرک نیشن اسٹیٹس پر دوبارہ سے غور نہیں ہونا چاہئے؟
(انل نریندر)

20 دسمبر 2017

99ویں کا پھیر۔۔۔1

وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کی عزت کا سوال بنے گجرات چناؤ میں بھاجپا نے آخر کار جیت حاصل کرلی ہے۔ جب گنتی شروع ہوئی تو پہلے رجحانات میں تو ایک بار پھر کانگریس کی زیادہ سیٹیں آنے کا امکان بن گیا تھا لیکن جیسے جیسے گنتی آگے بڑھتی گئی بھاجپا کی سیٹیں بڑھتی گئیں۔ تمام بیان بازیوں اور اندیشات اور چڑھتے اترتے جارحانہ کمپین کا دنگل بنے گجرات نے ایک بار پھر کانگریس کو اقتدار کا ذائقہ بیشک چکھنے سے روک دیا ہو لیکن کانگریس کی لئے خوشی کی بات یہ ہی رہی ہے کہ اس نے اپنے نوجوان صدر راہل گاندھی کی قیادت میں بھاجپا کو سخت ٹکر دی ہے۔ کانگریس کو 77 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے اور بھاجپا کو اکثریت کا جادوئی نمبر چھونے کے بعد 99 تک پہنچنے میں پسینے چھوٹ گئے۔ قریب 22 سال کی حکومت کے بعد بھاجپا نے گجرات میں لگاتار چھٹی بار جیت کا پرچم لہرادیا۔ لیکن یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اکیلے راہل کا مقابلہ دیش کے وزیر اعظم اور ان کی کیبنٹ کے وزراء ، آر ایس ایس اور ریاستی حکومت اور انتظامیہ سے تھا۔ ان حالات میں راہل نے ڈٹ کر ٹکر دی اور کانگریس کی سیٹوں کی تعداد 61 سے بڑھا کر 77 کردی۔ اس نتیجے سے راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں ایک بھروسہ پیدا ہوگا۔ بار بار ہار کا سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا ہے۔ بھاجپا اگر کامیاب ہوئی ہے تو وہ صرف وزیر اعظم کی تابڑ توڑ ریلیوں، روڈ شو، گجرات کے وقار کا حوالہ دینے سے ملی ہے۔ بھاجپا بیشک اپنی جیت کے ڈنکے بجا رہی ہو لیکن مودی کے گاؤں میں ہی نہیں چلا مودی کا جادو۔ پورے گجرات میں مودی کا جلوہ قائم رہا لیکن ان کے آبائی شہر کی انچا اسمبلی سیٹ پر کانگریس نے بازی مار لی۔ گجرات میں بی جے پی ، کانگریس کے بعد تیسرے نمبر پر نوٹا (ان میں سے کوئی نہیں) 1.8 فیصدلوگوں نے اسے چنا۔ عاپ نے جن27 سیٹوں پر امیدوار اتارتے تھے وہاں نوٹا کو عاپ امیدواروں سے زیادہ ووٹ ملے۔ کل 5.51 لاکھ لوگوں کا ووٹ نوٹا کو گیا جو بی ایس پی ، این سی پی کو ملے ووٹوں سے بھی زیادہ ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے گجرات اور ہماچل کے چناؤ میں ہار قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان نتیجوں سے مطمئن ہے لیکن مایوس نہیں۔ انہوں نے ورکروں کی حوصلہ افزائی کی اور کہا آپ نے غصے کے خلاف عزت کی لڑائی لڑی۔ آپ نے دکھایا ہے کہ کانگریس کی سب سے بڑی طاقت نرم گوئی اور ہمت ہے۔ وہیں پارٹیدار لیڈر ہاردک پٹیل نے بی جے پی کی واپسی کو ای وی ایم کی جیت بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اے ٹی ایم ہیک ہوسکتا ہے تو ای وی ایم کیوں نہیں؟ بی جے پی صدر امت شاہ نے گجرات میں 150 سیٹوں کا ٹارگیٹ رکھا تھا لیکن 99 سیٹیں ہی ملی ہیں۔ شاہ نے کہا کہ کانگریس کے ذات پرستی کی کمپین کی وجہ سے پارٹی ٹارگیٹ کو نہیں حاصل کرسکی۔ ان سے پوچھا گیا کہ گجرات میں بی جے پی ان کے ٹارگیٹ سے اتنا پیچھے کیوں رہ گئی تو انہوں نے کہا کانگریس کمپین کو نچلی سطح پر لے گئی اور ذات پرستی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی اس سے کچھ سیٹوں پر نقصان اٹھانا پڑا۔ شاہ نے جیت کو وراثت واد، ذات پرستی اور خوش آمدی کے سبب ترقی کی جیت بتایا۔ بی جے پی دیش کے 29 میں سے19 راجیوں میں سرکار چلا رہی ہے اس سے پہلے کبھی کسی پارٹی نے ایک ساتھ اتنی ریاستوں میں سرکار نہیں بناء تھی۔24 سال پہلے کانگریس کی 18 ریاستوں میں سرکاریں ہوا کرتی تھیں۔ دلت نیتا جگنیش میوانی جو کانگریس کی سپورٹ سے جیتے ہیں، نے کہا کہ آپ بات کرتے تھے150 سیٹوں کی لیکن ملیں 99 ، یہ تو ایک شروعات ہے۔ تبدیلی کی پوری آندھی آنے والی ہے۔ بڑگاؤں کی جنتا نے ووڈنگر والے کو جواب دے دیا ہے۔ دو چار دن میں بڑ گاؤں سے وڈ نگر کا روڈ شو اور صفائی ملازمین کی تحریک کا پلان تیار کیا جائے گا۔ گجرات میں پارٹیدار تحریک کا گڑھ مانے جانے والے مہسانہ سے ڈپٹی سی ایم نتن پٹیل جیت گئے ہیں۔ پاٹیدار نیتا ہاردک پٹیل نے سورت میں بڑی ریلی کی تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ دوسرے پارٹیدار لیڈروں کا بھی فوکس سورت پر ہی تھا لیکن وہاں 16 میں سے15 سیٹیں بھاجپا کو ملی ہیں۔ اس کا مطلب ہے پاٹیداروں میں بھاجپا کی پکڑ اب بھی مضبوط ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کی جیت کو غیر معمولی اور ناقابل فراموش بتاتے ہوئے کہا کہ سال1989 سے لگاتار 12 چناؤ میں وکاس کے اشو پر جیت ایک تاریخی سچائی ہے اور گجرات کی جنتا نے اس پر مہر لگائی ہے۔ کانگریس کا پرچار زوروں پر تھا تبھی منی شنکر ایر کا متنازعہ بیان آیا۔ نیتاؤں کے بگڑے بول سے بڑا نقصان ہوا۔ ہاردک، الپیش اور جگنیش پر زیادہ بھروسہ کرنا بھی نقصاندہ رہا۔ کانگریس پارٹی کا پردیش میں کمزور سنگٹھن زمین پر کمزور رہا۔ چناؤ میں نوٹ بندی۔ جی ایس ٹی کا اشو بھی نہیں نظر آیا تبھی تو 1.8 فیصد ووٹروں نے نوٹا کا بٹن دبایا۔ یہ سبھی بھاجپا کے حمایتی تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے اتنے ناراض تھے کہ حمایتی ہوتے ہوئے بھی انہوں نے پارٹی کو ووٹ دینا ضروری نہیں سمجھا اور پروٹیسٹ کی شکل میں نوٹا دبایا۔
(انل نریندر)

پنجاب سکم چناؤ میں کانگریس کی بمپر جیت

راہل گاندھی کے کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کے لئے پہلی خوشخبری پنجاب بلدیاتی چناؤ میں بمپر جیت کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ پنجاب میں سنیچر کو تین میونسپل کارپوریشنوں اور 32 نگرپالیکاؤں اور نگر پنچایتوں کے لئے پولنگ ہوئی۔ اس چناؤ میں حکمراں کانگریس پارٹی نے بھاری جیت درج کی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں بڑی اپوزیشن پارٹی عام آدمی پارٹی کا صفایا ہوگیا ہے۔ وہیں اکالی۔ بھاجپا اتحاد بھی کھاتہ کھولنے میں ناکام رہا۔ جالندھر ،امرتسر اور پٹیالہ سٹی کارپوریشنوں سمیت نگر کونسل میں بھی کانگریس نے ایک دہائی بعد واپسی کی ہے۔ وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ نے کہا کہ ریزلٹ بہت اچھا آیا ہے۔ اس سے بہتر نتیجہ ہو ہی نہیں سکتا۔ہم نے کلین سوئپ کی ہے۔ مقامی کارپوریشن امور کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ پنجاب نے راہل گاندھی کو پارٹی صدر بننے پر انہیں جیت کا تحفہ دیا ہے۔ جالندھر میں سبھی80 سیٹوں کے نتیجے اعلان ہوگئے ہیں۔ کانگریس نے 66 ، بھاجپا نے8، شرومنی اکالی دل نے4 و آزاد امیدواروں نے 2 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ عام آدمی پارٹی یہاں کھاتہ بھی نہیں کھول پائی۔ پٹیالہ میں 60 سیٹوں میں سے اعلان سبھی 58 سیٹوں پر کانگریس امیدواروں نے جیت درج کی ہے جبکہ امرتسر میں79 جونتیجے اعلان ہوئے ہیں ان میں سے63 پر کانگریس ،7 پر بھاجپا، 7 پر شرومنی اکالی دل و 4 پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کی۔وزیراعلی کیپٹن امرندر سنگھ نے کہا کہ اس جیت نے کانگریس کی پالیسیوں پر مہر لگادی ہے۔ انہوں نے حریفوں کی گھٹیا کمپین کو کراری ہار بتایا ہے۔ انہوں نے کہا یہ چناؤ ریاستی حکومت کی طرف سے پچھلے 9 مہینے میں لئے گئے فیصلوں کا ایک امتحان تھا۔ کانگریس پارٹی نے اسے پاس کرلیا ہے۔ جنتا نے سرکار کی پالیسیوں پر مہر لگانے کا کام کیا ہے۔ وزیر اعلی نے چناؤ کے دوران کسی طرح کے تشدد سے انکار کیا ہے۔ پنجاب میں کانگریس کی سرکار ہے اور پردیش میں اکالی۔بھاجپا اتحاد بری طرح سے لڑکھڑا گیا ہے۔ اسمبلی میں اتحاد کی ہار کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ آگے بڑھ گیا ہے۔ بھاجپا کو پنجاب کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ انہیں اکالی دل سے اتحاد کرکے صرف نقصان ہی ہوا ہے۔ وہیں راہل گاندھی کی شخصی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

19 دسمبر 2017

آدھار کو ضروری پر سپریم کورٹ کا انترم فیصلہ

عام آدمی کی سہولیات کو آدھار سے جوڑنے کی سپریم کورٹ میں جم کر مخالفت ہوئی ہے۔ عرضی گذاروں نے یہاں تک کہا کہ آدھار کو بینک کھاتوں، موبائل فون اور دیگر اسکیموں سے جوڑنے کا مقصد ہر آدمی کی پرائیویسی کو متاثر کرنا اور جاسوسی کرنا ہے۔ سرکار کا یہ قدم اختیارات کو قبضانے کی طرف لے جائے گا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس کمارسیکری ، اجے خان ولکر اور دھننجے چندرچوڑ اور اشوک بھوشن کی آئینی بنچ کے سامنے عرضی گذاروں کی دلیلوں کے سامنے مرکزی سرکار بیک فٹ پر کھڑی نظرآئی۔ آدھار ایکٹ کا حوالہ دیکر عدالت کو بتایا گیا کہ اس میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ یہ ضروری ہے۔اسے مرضی بتایا گیا ہے۔ پھر بھی مرکزی حکومت نے139 نوٹی فکیشن جاری کرکے لازمی قراردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر سرکار کھلے عام خلاف ورزی کررہی ہے۔ مرکز کی جانب اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے آئینی بنچ کو بتایا کہ سرکار مختلف خدمات اور فلاحی اقدامات کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے اسے آدھار سے جوڑنے کو ضروری کرنے کی وقت میعاد اگلے سال 31 مارچ تک بڑھانے کے لئے تیار ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیا بینک کھاتہ کھولنے کے لئے آدھارکو ضروری بنا رہنا چاہئے۔ 
سرکار نے بینک کھاتوں اور چنندہ مالی لین دین کے ذریعے آدھار اور پین کی جانکاری دینے کو ضروری کرنے کی میعاد 31 مارچ 2018 ء تک بڑھانے سے متعلق نوٹیفکیشن بدھ کو جاری کردیا گیا۔ پرانے بینک کھاتہ یافتگان کو 31 مارچ تک کھاتہ آدھار نمبر کو لنک کرانا ہوگا۔ ای پی ایف کھاتہ، بیمہ پالیسی،میوچول فنڈ کھاتہ وغیرہ 31 مارچ 2018ء تک لنک کرا سکیں گے۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی قیاد ت والی پانچ نفری آئینی بنچ نے جمعہ کو اپنے انترم حکم میں آدھار کو موبائل خدمات سے جوڑنے سے متعلق اپنے سابقہ حکم میں بھی تصحیح کی ہے اور کہا کہ 6 فروری کی وقت میعاد کو بڑھا کر 31 مارچ 2018ء کی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آئینی بنچ آدھار یوجنا کو چیلنج کرنے والی عرضی پر 17 جنوری سے سماعت کرے گی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کی 9 نفری آئینی بنچ نے کہا تھا کہ آئین کے تحت پرائیویسی کا حق ایک بنیادی حق ہے۔ آدھار کے جواز کو چیلنج کرنے والے کئی عرضی گزاروں نے دعوی کیا کہ یہ پرائیویسی کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ بڑی عدالت میں کئی عرضی گزاروں نے آدھار کو بینک کھاتہ اور موبائل نمبر سے جوڑنے کو غیر قانونی اور غیر آئینی بتایا ہے۔
(انل نریندر)

امرناتھ گپھا میں منترو اچارن پر پابندی نہیں

ہمالیہ کے اونچے پہاڑوں کی یاتراوں کے دن مشکل بھرے ہوتے ہیں۔بابا امرناتھ یاترا ایک ایسی ہی مشکل یاترا ہے۔ برفیلی طوفان ،آب و ہوا میں کم دباؤ اور سب سے بڑی بات ہے آکسیجن کی مقدا ر میں کمی کسی بھی شیو بھگت کے لئے مشکل چنوتی ہوتی ہے۔ ہر شیو بھگت کو تب حیرانی ہوئی جب نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی ) نے اپنے فیصلہ میں کہہ دیا کہ امرناتھ یاترا پر جانے والے یاتریوں کوجے کارا نہیں لگانا چاہئے یا منترواچارن نہیں کرا چاہئے۔ اس سے پتہ نہیں کیسے یہ سندیش گیا کہ این جی ٹی نے پوری یاترا راستہ کو خاموش علاقہ اعلان کردیا ہے۔ جسٹس سوتنترکمار کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ حکم میں صرف یہ کہا گیا ہے کوئی بھی شردھالو یا درشن کرنے والا مہاشیولنک کے سامنے جب پہنچے تو وہاں خاموشی بنائے رکھے۔ مہاشیو لنک کی قدرتی پوزیشن اور اس کی پاکیزگی کو آواز کی گرماہٹ ،ترنگوں اور دیگر چیزوں سے کوئی نقصان نہ پہنچے اس لئے یہ حکم دیا گیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ آخری سیڑھی سے بابا برفانی کی گپھا میں داخلہ کے دروازے کے بیچ کی دوری بمشکل 30 قدم ہے۔ کچھ احتیاطی روک اسی سیڑھی کے بعد ہے۔ اس سیڑھی سے پہلے یا نیچے کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ امرناتھ درشن کے دوران منترواچارن پر این جی ٹی کے روک کے فیصلہ کے بعد اس پر ردعمل سامنے آنا فطری ہی تھا۔
سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی کہا کہ وہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ جے کاروں سے ماحولیات کو کیسے نقصان پہنچے گا؟ بھاجپا ایم پی جگل کشور شرما نے کہا یہ فیصلہ ہمیں قبول نہیں ہے۔ ہندوؤں کی آستھا کو ٹھیس پہنچانا غلط ہے۔ ویشو ہندو پریشد کے صوبائی ڈپٹی منتری اجے منہاس نے سوال کیا کہ کیا آلودگی کے لئے صرف ہندو ہی ذمہ دار ہیں؟ این جی ٹی کا فیصلہ ہندوؤں کی آستھا کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ بجرنگ دل کے پردیش پردھان نوین سودن نے کہا کہ این جی ٹی صرف ہندو سماج کے خلاف فیصلے دے رہی ہے۔ چوطرفہ مخالفت کے سبب این جی ٹی نے صاف کیا ہے کہ اس نے گپھا کے اندر منترو اچارن ،بھجن گانے پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ شردھالوؤں کو امرناتھ کی شیو لنک کے سامنے خاموشی رکھنی چاہئے۔ این جی ٹی نے اچھا کیا کہ یہ صاف کردیا کہ اس نے امرناتھ میں پورے علاقہ کو وائبریشن ممنوع نہیں قراردیا ہے۔ نہ ہی ایسی کوئی منشا ہے۔ جسٹس سوتنتر کمار کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ پوتر گپھا کی طرف جانے والی اہم سیڑھیوں پر پابندی لاگو نہیں کی ہے۔
(انل نریندر)

17 دسمبر 2017

کانگریس صدر عہدہ سے ریٹائر ہوئیں سیاست سے نہیں

کانگریس صدرسونیا گاندھی 19 سال تک کانگریس صدر کے عہدہ پر رہنے کے بعد سنیچر کو ریٹائر ہوگئیں۔ انہوں نے پارٹی کی کمان اپنے بیٹے اور نو منتخب صدر راہل گاندھی کو باقاعدہ حوالے کردی ہے۔ سونیا گاندھی کے سیاست سے ریٹائرڈ ہونے کی قیاس آرائیوں پر روک لگانے کے لئے پارٹی نے صاف کیا ہے کہ وہ صرف پارٹی صدر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے سونیا گاندھی نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ کمپلیکس میں اخبار نویسوں سے کہا تھا میرا وقت اب ریٹائر ہونے کا ہے۔ سونیا گاندھی نے اپنی ذمہ داری راہل گاندھی کو سونپی ہے لیکن وہ ہمیشہ پارٹی کا مارگ درشن کرتی رہیں گی۔ سونیا گاندھی آگے بھی کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرمین بنی رہیں گی یعنی وہ آگے سے پارٹی کے بجائے پارلیمنٹ میں زیادہ رول نبھائیں گی۔ بتایا تو یہ جارہا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ تال میل بنائے رکھنے کی ذمہ داری بھی سونیا گاندھی کی ہوگی۔ سونیا گاندھی کی لیڈر شپ میں کانگریس پارٹی نے کافی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ سونیا گاندھی محض ایسی کانگریس صدر رہیں جن کی قیادت میں کانگریس نے مسلسل دو پوری میعاد تک مرکز کا اقتدار سنبھالا۔1998ء میں منفی حالات میں کانگریس کی کمان سنبھالنے کے بعد 6 سال کے اندر ہی انہوں نے اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی بھاجپا سرکار سے اقتدار چھین لیا تھا۔ اس وقت ان کے وزیر اعظم بننے کی قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں ، لیکن انہوں نے وزیر اعظم کی کرسی کو مسترد کر منموہن سنگھ کو وزیر اعظم چنا۔ اگلے 2009 ء کے چناؤ میں ان کے سامنے بھاجپا کے دوسرے بڑے نیتا لال کرشن اڈوانی تھے لیکن ان کی قیادت میں بھی کانگریس نے بھاجپا کو ہرا کر مرکز میں اقتدار برقرار رکھا۔ پھر سے منموہن سنگھ کو ہی وزیر اعظم چنا۔ یہ محض اتفاق ہے کہ جب سونیا گاندھی نے کانگریس کی کمان سنبھالی تھی تب بھی وہ اپوزیشن میں تھی اور اب جب راہل گاندھی کمان سنبھال رہے ہیں تب بھی کانگریس اپوزیشن میں ہے۔ اس وقت کانگریس کے پاس چار ریاستوں میں حکومتیں تھیں اس وقت پانچ ریاستوں میں حکومتیں ہیں۔ تب ان کے پاس لوک سبھا کے 141 ایم پی ہوا کرتے تھے اور اس وقت 46 ایم پی ہیں۔ پچھلے تین برسوں سے سبھی فیصلہ راہل گاندھی ہی لے رہے تھے۔ غور طلب ہے کہ سونیا گاندھی سیاست سے دور رہنا چاہتی تھیں۔1991ء میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد پارٹی کی کمان سنبھالنے کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ 1997ء میں اندرونی رسہ کشی سے پارٹی کو بچانے کے لئے وہ سیاست میں آنے کو راضی ہوئیں تھیں۔ سونیا 1998ء میں کانگریس کی صدر چنیں گئیں اور 19 سال تک پارٹی کے صدر کے طور پر کام کیا۔ سونیا گاندھی اب کانگریس صدر کے عہدہ سے ہٹیں ہیں لیکن سیاست سے نہیں۔ ان کا کانگریس اور دیش دونوں ہی جگہ رول رہے گا اور وہ پارٹی کو سمت دیتی رہیں گی۔
(انل نریندر)

محترم صاحبان کے مقدمے نمٹانے کیلئے خصوصی عدالتیں

ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف التوا (مجرمانہ) مقدمات کے نمٹارے کے لئے مرکزی سرکار نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ان معاملوں کو نمٹانے کیلئے 12 خصوصی عدالتیں بنائی جائیں گی۔ حالانکہ حکومت نے ایم پی اور ایم ایل اے کے خلاف ان التوا معاملوں کی جانکاری اکٹھا کرے کے لئے مزید وقت دینے کی مانگ کی ہے۔ سپریم کورٹ نے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف التوا مقدموں کے نپٹارے کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کے لئے پلان پیش کرنے کو کہا تھا۔ یہ اچھا ہوا کہ پہلے داغی نیتاؤں کے معاملوں کی سنوائی، سماعت الگ سے انتظام کرنے کی تجویز سے غیرمتفق سپریم کورٹ اب یہ محسوس کررہی ہے کہ سیاست کے جرائم کرن پر لگام لگانے کی سخت ضرورت ہے اور یہ کام داغی عوامی نمائندوں کے معاملوں کے اژالہ پر توجہ دے کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ایک اعدادو شمار کے مطابق اس وقت قریب ڈیڑھ ہزار ایم پی اور ایم ایل اے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی مجرمانہ معاملہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ تعداد ان نیتاؤں کے چناوی حلف ناموں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ممبر اسمبلی اور ایم پی ایسے ہیں جن پر سنگین الزام ہیں لیکن سبھی کو ایک ترازو میں نہیں تولا جاسکتا۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کئی بار اسپیشل اور یہاں تک کہ فاسٹ ٹریک عدالتیں بھی مقدمات کا نپٹارہ لمبا کھینچ دیتی ہیں۔ ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کیونکہ عدلیہ کی کارروائی کے طور طریقے میں درکار تبدیلی اور اصلاح نہیں ہو پائی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ہر طرح کے مقدموں کا انبار لگتا جارہا ہے۔ کیا یہ عجب نہیں کہ سب سے بڑی مقدمے بازی ریاستی سرکاروں کی ہے۔ بہتر ہو کہ جہاں سرکاریں یہ دیکھیں کہ افسر شاہی بات بات پر عدالت پہنچے سے باز آئیں وہیں عدلیہ بھی معاملوں کو جل نپٹانے کے متبادل طور طریقے تلاش کرے۔ سرکار و عدلیہ کی تمام تشویشات کے باوجود لوگوں کو تیزی سے انصاف ملنے کا سلسلہ ابھی دور کی کوڑی نظر آتا ہے۔ نیشنل جوڈیشیل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) کے مطابق سبھی 24 ہائی کورٹس میں 2016 تک کل 40.15 لاکھ مقدمہ التوا میں تھے۔ تقریباً چھ لاکھ مقدمہ تو ایسے ہیں جو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے نمٹنے کا انتظار کررہے ہیں۔ چند دنوں پہلے ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک کانفرنس میں زور دیا تھا کہ جھگڑوں کے نپٹارہ کا متبادل سسٹم کے طور پر ادارہ جاتی ثالثی اہم ثابت ہوگی۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...