Translater

07 جنوری 2012

بھاجپا کیا ایسے لائے گی اترپردیش میں رام راجیہ؟



Published On 7th January 2012
انل نریندر
چناؤ کے وقت ہر سیاسی پارٹی کو اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھنے چاہئیں۔ ان کے ہر قدم کو مائیکرو اسکوپ سے دیکھا جائے گا اور ان کے سیاسی حریف ہر غلطی کا خوب سیاسی پروپگنڈہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اترپردیش کے قومی دیہی ہیلتھ مشن گھوٹالے میں پھنسے مایاوتی کے قریبی سابق وزیرصحت بابو سنگھ کشواہا کے بھاجپا میں شامل ہونے سے ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے اور کشواہا بھاجپا کے گلی کی ہڈی بن گئے ہیں۔ اترپردیش چناؤ سے ٹھیک پہلے ایسی متنازعہ شخصیت کو پارٹی میں لینا خطرے بھرا فیصلہ ہے۔ 15 روز پہلے پارلیمنٹ میں کرپشن کے اشو پر سب سے زیادہ شور مچانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملزم بابو سنگھ کشواہا کو پارٹی میں شامل کرنے سے بھی پرہیز نہیں کیا۔ اس کے اس الزام میں بیشک دم ہے کہ کشواہا کے بھاجپا میں آنے کے محض24 گھنٹے کے اندر ہی سی بی آئی کو ان کے ٹھکانوں پر چھاپہ مارنے کا خیال کیسے آیا؟ مگر یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ خود اس کے سینئر لیڈر بشٹ سمیا نے وزیراعلی مایاوتی اور اس کے ساتھی کشواہا کے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ کیا پارٹی پردھان نتن گڈکری کو یہ پتہ نہیں تھا کہ سابقہ پریوارکلیان منتری بابو سنگھ کشواہا کے خلاف بدعنوانی میں ملوث ہونے کے سنگین الزام لگائے گئے تھے۔ ساتھ ہی دو سابق سی ایم او اور ایک سابق ڈپٹی سی ایم او کے قتل کے معاملے میں ملوث ہونے کے الزامات بھی کشواہا پر ہیں؟ ان کو پارٹی میں شامل کرنے کو لیکر بھاجپا میں مہابھارت چھڑ گیا ہے۔ جہاں بھاجپا کے قومی صدر نتن گڈکری اور بھاجپا کے پسماندہ طبقے کے نیتا کشواہا کے بچاؤ میں کھڑے ہوگئے ہیں ۔وہیں پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج سمیت پارٹی کے کئی بڑے نیتا ان کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے اختلاف کے چلتے آخر کار پارٹی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ کشواہا کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ اگر ان کو ٹکٹ نہیں دینا تھا تو پھر ایسے داغی آدمی کو پارٹی میں لائے ہی کیوں؟ جس طرح پارٹی میں کشواہا کی اینٹری پر ہنگامہ ہوا اس سے لگتا ہے کہ یوپی میں تھوک کے بھاؤ پارٹی میں آنے والوں کی کوشش کرنے والے لوگوں کے بارے میں چھان بین ہوگی اور کئی داغیوں کی اینٹری پر اب بریک لگ جائے گا۔ شری اڈوانی اور سشما کے اختلاف کے بعد پارٹی کے اندر اب چناؤ کے وقت ہونے والے پارٹی بدل کے سلسلے میں پارٹی چوکس رہے گی۔ داغی لوگوں سے دور رہنا چاہئے۔ بھاجپا کو چاہئے کہ وہ اس بات کا بھی پروپگنڈہ کریں کہ بی ایس پی اور کانگریس کا اندرونی گٹھ جوڑ ہے اور اس کا پردہ فاش کرے۔ یہ اجاگر کیا جانا چاہئے۔ ویسے بھی بی جے پی میں آنے کے اگلے دن ہی اس شخص کے خلاف سی بی آئی کارروائی کررہی ہے یہ کارروائی دونوں مایاوتی اور کانگریس کو زیب دیتی ہے۔ بیشک یہ صحیح ہے یا نہیں لیکن بھاجپا کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ 30 دسمبر کو پارٹی کے قومی سکریٹری کرٹ سمیا کئی سو صفحے کے کاغذات کا پلندہ کشواہا کے خلاف سی بی آئی کو دیکر آتے ہیں اور اس کے چار دن بعد3 جنوری کو کشواہا کو نتن گڈکری صاحب پارٹی کے اندر آنے کی دعوت دیتے ہیں؟ افسوسناک بات یہ ہے کشواہا کا معاملہ اکیلا نہیں ہے اپنی کھوئی ہوئی زمین پھر سے حاصل کرنے کیلئے بھاجپا کی لیڈر شپ کسی حد تک تیار ہے۔کشواہا سے پہلے سابق وزیر بادشاہ سنگھ، اودھیش کمار ورما، گگن مشر جیسے سابق وزرا کو سیاسی پناہ دی گئی ۔جن کو مایاوتی نے پارٹی اور سرکار سے باہر نکالا بھاجپا نے اسے گلے لگا لیا۔ اپنے چال ، کردار، چہرے اور ساکھ کے معاملے میں دوسروں سے الگ اور پائیدار ہونے کا دعوی کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی یوپی میں اتنا گر گئی ہے کہ اس نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی تک کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں نے کرپشن کے الزامات میں پارٹی یا کیبنٹ سے برخاست کئے گئے وزرا کو اپنا ٹکٹ دینے سے انکارکردیا۔ مگر بھاجپا نے اپنے دہلی ہیڈ کوارٹر میں ان داغیوں کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا اور حد تو اس وقت ہوگئی جب بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا کہ گندے نالے بھی گنگا میں ملنے کے بعد پوتر ہوجاتے ہیں۔ حال تک یہ ہی نقوی صاحب مایاوتی اور ان کے وزرا کو علی بابا اور چالیس چور بتا رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ داغیوں کو پارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ بھاجپا صدر اور اعلی نیتاؤں کی رضامندی سے ہی ہوا ہوگا اس لئے یہ اور بھی خطرناک ہے۔ ایسی ذہنیت رکھنے والوں کو پارٹی میں شامل کرکے بھاجپا اترپردیش میں کیسا رام راجیہ لانا چاہتی ہے۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

کانگریس اور ترنمول محاذ ٹوٹنے کے دہانے پر



Published On 7th January 2012
انل نریندر
ترنمول کانگریس اور کانگریس کے درمیان اتحاد ٹوٹنے کے امکانات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تلخی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ممتا بنرجی نے کہہ دیا ہے کہ کانگریس ان کی کٹر دشمن سی پی ایم کے ساتھ مل کر ان کی پارٹی پر حملہ کررہی ہے۔ ممتا نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ لوکپال بل پر آخری فیصلہ لینے سے پہلے سبھی سیاسی پارٹیوں کی رائے لینی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستوں میں لوک آیکت کی تقرری کو لیکر وہ اپنے رویئے پر بھی ابھی قائم ہیں کہ یہ مسئلہ ریاستوں پر چھوڑدینا چاہئے کہ وہ کس طرح کا لوک آیکت مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ وہیں کانگریس کو ممتا کے خلاف شکایتوں کی لسٹ لمبی ہوتی جارہی ہے۔ کانگریس کے لئے نیا درد سر ترنمول کانگریس نے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں اپنے امیدواروں کو اتارنے کے اشارے سے پیدا کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ممتا بنرجی یوپی چناؤ میں 40 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اتنا ہی نہیں منی پور اور گوا میں اپنے امیدواروں کو چناوی دنگل میں جھونکنے کے لئے کمر کس رہی ہے۔ ممتا کی یہ پوری کوشش قومی سیاست میں اپنا ستارہ روشن کرنے کی ہے اور اسی بہانے وہ کانگریس کو پریشان بھی کرنا چاہتی ہے۔ دراصل ممتا کانگریس کے لئے روز ایک نئی پریشانی پیدا کررہی ہیں۔ پہلے خوردہ سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے سرکار کے فیصلے اور لوکپال و لوک آیکت کی تقرری کے معاملے پر ترنمول کانگریس کے اعتراض سے سرکار کی خوب کرکری ہوئی تھی۔پھر کولکاتہ میں واقع اندرا بھون کا نام نذرالاسلام بھون کرنے کے معاملے میں بھی کانگریس اور ترنمول کے رشتوں میں تلخی آئی ہے۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے کہا کہ قاضی نذرالاسلام ایک بڑی شخصیت کے مالک تھے اور کسی بھون کا نام ان کے نام پر رکھنا مناسب ہوگا لیکن اس کے لئے اندرا بھون کا نام بدلنا ٹھیک نہیں ہے۔ ترنمول کانگریس کی طرف سے کانگریس کو روز روز مل رہی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے کانگریس کو اب لگتا ہے کہ ممتا کو انہی کے انداز میں جواب دینے کی حکمت عملی بنا لی ہے۔ جس طرح مرکز میں اتحادی پارٹی ہونے کے ناطے ممتا بنرجی آئے دن سرکار کے ہر فیصلے میں اپنا ویٹو کردیتی ہیں اسی طرح اب کانگریس مغربی بنگال سرکار کے ہر اس فیصلے کی مخالفت کرے گی جو اس کی پالیسیوں کے خلاف ہوں گی۔ اس حکمت عملی کے تحت اندرا بھون کا نام بدلنے پر منگلوار کو یوتھ کانگریس کے ورکروں نے ممتا کے خلاف احتجاج کیا اور بدھوار کو دھان کی بکری کے لئے کسانوں کے حق میں کانگریس کھڑی نظر آئی۔
ساتھی پارٹیوں کے مسلسل تلخ رویئے کے سبب کمزور پڑ رہی مرکز کی کانگریس حکومت کو اب اترپردیش اسمبلی چناؤ سے تھوڑی امید ہے۔ پارٹی کو یقین ہے کہ اگر ان چناؤ میں اس نے عمدہ کارکردگی دکھائی تو اس سے پردیش کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی اسے مضبوطی ملے گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اترپردیش چناؤ میں ہر طرح کا ہتھکنڈہ پارٹی اپنا رہی ہے۔ ترنمول کانگریس نیتا ممتا بنرجی کانگریس سرکار کے لئے بڑا خطرہ بن کر ابھری ہیں۔ کانگریس کو یہ ڈر بھی ستا رہا ہے کہ آگے بھی ممتا اس کے لئے درد سر بنی رہیں گی اس لئے وہ مرکز میں ایک مضبوط ساتھی پارٹی چاہتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق عام بجٹ اور ریل بجٹ میں بھی ممتا اپنی منمانی کریں گی۔ اگر چناؤ میں کانگریس اچھی کارکردگی نہیں دکھا پاتی تو بجٹ اجلاس کانگریس کے لئے بری خبر لیکر آسکتا ہے جس کی جھلک سرکار حال ہی میں راجیہ سبھا میں دیکھ چکی ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Trinamool congress, Vir Arjun

06 جنوری 2012

منموہن سنگھ نے دیش کو کنگال کردیا ہے



Published On 6th January 2012
انل نریندر
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی حالت اتنی مضبوط نہیں ہے جتنی منموہن سنگھ سرکار بتانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ مندی اس حد تک آرہی ہے کہ دکاندار پریشان ہیں۔ مال بک نہیں رہا۔ لوگوں کے پاس یا تو فالتو پیسہ نہیں ہے یا پھر وہ اسے خرچ نہیں کرنا چاہتے، بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ صنعتی پیداوار کم ہوتی جارہی ہے۔ سرکاری کام کاج ٹھپ سا پڑا ہے۔ باہر سے پیسے کا آنا کم ہوگیا ہے۔ کل ملاکر یہ کہا جائے کہ منموہن سنگھ سرکار کی اقتصادی حالت دنوں دن خراب ہوتی جارہی ہے اور کنگالی کے دہانے تک پہنچ گئی ہے۔ خرچ چلانے کیلئے بونڈ مارکیٹ سے40 ہزار کروڑ روپے خرچ جٹا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 65 ہزار کروڑ روپے اور اکٹھا کرنے کا پلان بنایا گیا ہے۔ منموہن سنگھ سرکار نے اپنا خرچ چلانے کے لئے ستمبر2011ء میں 52 ہزار کروڑ روپے اکٹھا کرنے کا نشانہ مقرر کیا تھا لیکن اس کی اقتصادی حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ خرچے کے لئے پیسہ اکٹھا کرنے کیلئے اب 5 لاکھ کروڑ روپے جمع کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس وقت دیش کے گرہن پر قرض بڑھائے جانے سے آگے قرضے اٹھانے میں بھی کمی آئی ہے۔ صنعتی فائدے میں بھاری کمی آنے کے چلتے صنعتی پیداوار میں بھی گراوٹ آئی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نہیں ہوپارہی ہے۔ منموہن سرکار کے ذریعے ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت مسلسل گرنے کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہو پارہی ہے۔ ملک کی معیشت مہنگائی و مندی کی گرفت میں آچکی ہے۔ ادھر بے روزگاری کم ہونے کی جگہ اور بڑھ رہی ہے۔ کاغذی روزگار دکھانے، بتانے کے لئے منریگا، سرو شکشا ابھیان وغیرہ اسکیموں میں ورلڈ بینک سے قرضہ لیکر جھونکا جارہا ہے ، جو زیادہ تر رشوت خوری، کرپشن کی بھینٹ چڑھتا جارہا ہے۔ اب کھانے کاحق اسکیم کے چلتے اور بھی قرضہ بڑھنے والا ہے۔ قرضہ لیکر بیرونی ممالک سے اناج خریدا جائے گا جبکہ اپنا اناج سڑ رہا ہے۔ابھی دال خریدنے شرد پوار کی وزارت میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ کیا ہے جو کیگ کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے بھی شرد پوار کی وزارت نے آسٹریلیا وغیرہ ممالک سے گیہوں خریدنے میں گھوٹالہ کیا تھا۔ شرد پوار پر اس گھوٹالے کے الزام لگے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ اتحادی دھرم کی دہائی دیکر سارے گھوٹالوں کو دبادیا جاتا ہے تو اس طرح جنتا کوراحت دینے اور ان کا معیار زندگی بڑھانے کے نام پر منموہن سنگھ سرکار ہر ماہ کچھ نہ کچھ نئے اعلانات کررہی ہے۔ منموہن سنگھ کو جو اپنے آپ کو ماہر اقتصادیات کہتے ہیں نے دراصل دیش کا خزانہ خالی کردیا ہے اور اب قرضہ چڑھتا جارہا ہے۔ اگلے سال آئی ایم ایف قرض کی بھاری قسط لوٹانی ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ ہندوستان وقت سے پہلے اسے لوٹا سکے گا۔ وہیں چندر شیکھر کے وقت میں سونا گروی رکھ کر یہ قسط ادا کرنے کی نوبت نہ آجائے؟ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے کہا کہ منموہن سنگھ سرکار دیش کو تقریباً دیوالیہ کرکے جائے گی۔ کچھ سماجی تنظیموں کے لوگوں کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ منموہن سرکار دیش کی اقتصادی حالت ایسی کرکے جائے گی اس کے بعد جو سرکار آئے گی اسے اپنا خرچ چلانے کے لئے پھر سونا گروی رکھنا پڑ سکتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, Vir Arjun

مغرور چین سے تجارت خطرے سے بھری



Published On 6th January 2012
انل نریندر
چین کے ذریعے شنزیانگ صوبے میں واقع شہر شیبو میں دو ہندوستانیوں کو رہا کرانے کی کوشش کررہے ہندوستانی سفارتکاروں سے بدسلوکی پر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔ چین اپنی بد زبانی اور مغروربرتاؤ کے لئے خاص کر ہندوستان کے ساتھ مشہور ہے۔ بھارت سے اس کو اتنی جلن ہے کہ کبھی کبھی وہ اسے چھپا نہیں سکتا۔ دراصل وہ سمجھتا ہے کہ ایشیا میں اگر اس کو ہر خطے میں کوئی چنوتی دے سکتا ہے تو وہ بھارت ہی ہے۔ بھارت کو ہر محاذ پر وہ گھیرنے میں لگا رہتا ہے، میانمار، نیپال، پاکستان ہر ہندوستان کے پڑوسی پر اس نے اپنا شکنجہ کس لیا ہے۔ اکیلا بھارت ہی بچا ہے جہاں اس کی دھونس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے شیبو شہر میں جو کچھ ہوا اس پر کوئی خاص تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ہوا یہ کہ شیبو میں یورو گلوبل کمپنی کا مالک مقامی تاجروں کے بقایا پیسے چکائے بغیر ہی فرار ہوگیا۔ وہ چیچن یا پاکستانی شہری بتایا جارہا ہے۔مقامی کاروباریوں نے اس کمپنی کے دو ہندوستانی ملازمین دیپک رہیجا اور شیام سندر اگروال کو دو ہفتے سے یرغمال بنا رکھا تھا۔ ہندوستانی سفارتکار ایس بالا چندرن انہیں رہا کروانے کیلئے شیبو کی عدالت میں گئے تھے۔ عدالت کے احاطے میں جمع مقامی تاجروں(چینی) نے انہیں زبردستی روک لیا اور انہیں باہر جانے نہیں دیا ۔ انہوں نے بالا چندرن کے سفارتکار ہونے کی بھی پرواہ نہیں کی اور ان کی پٹائی کرڈائی جس سے وہ بیہوش ہوگئے اور ان کی حالت بگڑ گئی۔ انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ سفارتکار کی پٹائی پولیس اور جج کی موجودگی میں ہوئی۔ بھیڑ دراصل نہیں چاہتی تھی کہ بالاچندرن رہیجا اگروال کو لے جاسکیں۔ وہ ان سے خریدی چیزوں کے لئے بقایا لاکھوں روپے وہاں کی کرنسی یووان مانگ رہے تھے۔ عدالت نے دونوں کو رہا کردیا ہے لیکن سلامتی کے نقطہ نظر سے پولیس نے حراست میں رکھا۔ دونوں ممبئی کے باشندے ہیں۔ ان کے رشتے دار سفارتخانے سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ شیبو میں 100 سے زیادہ ہندوستانی تاجر رہتے ہیں۔ پچھلے سال ہندوستانیوں نے 11 ارب ڈالر کی خریداری کی تھی۔ سلامتی کی وجوہات سے ہوٹل میں ان دونوں کو ٹھہرادیا گیا ہے۔ حالانکہ رہیجا اور اگروال کی نگرانی کے لئے دو سپاہی تعینات کئے گئے لیکن رہیجا نے فون پر کہا کہ وہ ابھی بھی فکر مند ہیں۔ ان کے ہوٹل کو مقامی بھیڑ نے گھیر رکھا ہے۔ 15 دسمبر سے یرغمال دونوں ہندوستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کمپنی میں نوکری کرتے تھے اس کمپنی پر مقامی تاجروں کے سامان کے بقایا جات کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جاسکتے۔ ان دونوں شہریوں اور ہمارے ایک سفارتکار کے ساتھ ہوئی بدسلوکی ایک بار پھر یہ بتا رہی ہے کہ چین کے ساتھ کاروباری رشتوں کی راہ بھی خطروں سے بھری ہے۔ حکام کو اس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی کہ بالا چندرن شگر کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انہیں گھنٹوں عدالت میں بٹھا کر رکھا گیا اور تب تک نہیں جانے دیا گیا جب تک ان کی طبیعت نہیں بگڑنے لگی۔ انہیں پانی اور دوا تک کی چھوٹ دینے سے بھی انکارکردیا۔ ہندوستانی میڈیا میں ہنگامہ مچنے کے بعد حکومت ہند نے صرف اتنا بھر کیا کہ دہلی میں چینی سفارتخانے کے افسر کو بلا کر اس سے اپنا احتجاج ظاہر کیا۔ ادھر بیجنگ میں واقع ہندوستانی سفارتخانے نے الٹا ایک وارننگ بھرا بیان جاری کرتے ہوئے اپنی ساری ذمہ داری سے پلا جھاڑتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی تاجر شیبو علاقے میں تجارت کرنے سے پرہیز رکھیں۔ چین کا ذکر آتے ہی ظلم کا شکار بن رہے تاجروں کے بارے میں ہماری حکومت کو دھیان رکھنا چاہئے تھا۔ ویانا سمجھوتے کے تحت سفارتکار سے کوئی بھی دیش بدسلوکی نہیں کرسکتا۔ قاعدے سے تو اس پورے معاملے کو بھارت سرکار کو بین الاقوامی اسٹیج پر اٹھا کر چین کو گھسیٹا جانا چاہئے تھا لیکن تجارتی رشتے بہتر بنانے سے زیادہ اثر دار ماننے والی ہماری حکومت کو یہاں کیوں جھجک پیدا ہوتی ہے یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ چین کا نام آتے ہی ہماری سرکار کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔
Anil Narendra, China, Daily Pratap, Vir Arjun

05 جنوری 2012

امریکہ ،انگلینڈ میں بھارتی نژاد لوگوں پر حملے


Published On 5th January 2012
انل نریندر
دنیا کے کئی حصوں میں ہندوستانی نژاد لوگوں پر حملے بڑھتے جارہے ہیں جنہیں پولیس نفرتی جرائم کہتی ہے۔ کئی ملکوں میں ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ دو دن پہلے امریکہ کے نیویارک شہر میں ایک مسجد اور مندروں سمیت چار مقامات پر پیٹرول بم سے حملے کئے گئے۔کوئنس کے علاقے میں نامعلوم حملہ آوروں نے دو مندروں اور ایک اسلامی مرکز اور دیگر مقامات پر پیٹرول بم پھینکے۔ یہ علاقائی ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکہ کے باشندوں کی رہائش گاہ ہیں۔ پولیس معاملے کی چھان بین کررہی ہے لیکن ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ کوئنز میں موجود شیعہ مسلمانوں کی بڑی مساجد اور مذہبی سینٹر کے مولانا السہلانی نے بتایا کہ ایتوار کی دیر رات الخوئی مرکز کے بڑے دروازے پر کچھ نامعلوم لوگوں نے بوتلیں پھنکیں اس کے بعد دروازے میں آگ لگ گئی اور سینٹر کو کافی نقصان پہنچا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد قریب80 لوگ اس میں موجود تھے لیکن کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
دوسرا حملہ قریب رات ساڑھے دس بجے اسی علاقے میں واقع مندر پر کیا گیا جس سے مندر کے دروازے پر آگ لگ گئی جس کی وجہ سے پڑوس کے گھر کو بھی نقصان پہنچا۔ نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ سبھی حملوں میں ایک ہی کافی برانڈ کی بوتلوں کا استعمال کیا گیا۔ ادھر انگلینڈ کے مانچسٹر کے سالفرڈ شہر میں ایک ہندوستانی طالبعلم کے سر میں گولی مار دی گئی۔ یہ قتل کسی جھگڑے کے بعد ہیں بلکہ سیدھے حملے کی شکل میں ہوا۔ پولیس کے مطابق ہندوستانی طالبعلم انوج بدوے اپنے نو دیگر ہندوستانی دوستوں کے ساتھ سڑک پر گھوم رہا تھا تو اچانک دو لوگوں نے اسے روک کر کچھ کہا اور ان میں سے ایک شخص نے بیحد قریب سے اس کو گولی ماردی جس سے اس کی موت ہوگئی۔ پولیس نے ابھی تک اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی ہے کہ حملہ آور نے انوج بدوے سے کیا بات چیت کی تھی۔
حملہ آور کی عمر 20 سال کے قریب تھی اور وہ سیاہ فام تھا۔ پولیس کے مطابق انوج بدوے اور اس کے دوست پاس کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے اور کرسمس کی رات گھومنے نکلے تھے۔ انوج کے والدین ہندوستان میں ہیں انہیں اس واقعہ کی خبر دے دی گئی ہے۔ اب پتہ یہ چلا ہے قتل کا سبب نسلی تعصب ہوسکتا ہے۔ اسی سال اگست میں برطانیہ کے برمنگھم میں زبردست نسلی دنگے ہوئے تھے۔ نشانے پر تھے ہندوستانی نژاد لوگوں کے علاقے۔ دنگوں میں تین لوگوں کو سرعام قتل کردیا گیا تھا۔ ہارون جہاں21 سال،شہزاد علی30 سال اور ان کے بھائی مصور 31 سال کو10 اگست کی صبح ایک کار نے کچل دیا تھا جس میں ان تینوں کی موت ہوگئی تھی۔ ان کا قصور بس اتنا تھا کہ وہ ونسن علاقے میں فسادیوں کو دوکان اور مکان لوٹنے سے روکنے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس نے اب جاکر تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور ان پر قتل کا معاملہ درج کیا ہے۔ مغربی مڈلین پولیس کے مطابق 20-25 اور 30 سال کے تین لوگوں کو برمنگھم کے علاقے کے ایک فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار لوگوں کے نام پولیس نے ابھی تک نہیں بتائے۔ ان تین لوگوں کی گرفتاری کے بعد دنگوں کے معاملے میں اب تک 8 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا جاچکا ہے۔ امریکہ، انگلینڈ آسٹریلیا میں بھارتی نژاد لوگوں کو نشانہ بنانا تشویش کا باعث ہے ۔ماں باپ اپنی اولادوں کی پڑھائی اور ترقی کے لئے یہاں بھیجتے ہیں نہ کہ مرنے کیلئے۔
America, Anil Narendra, Australia, Britain, Canada, Daily Pratap, England, Racial Attack on Indians, Vir Arjun

نئے سال کی پارٹیوں میں بڑھتا شراب نوشی و ہلڑ بازی کاچلن


Published On 5th January 2012
انل نریندر
زمانہ بدل گیا ہے۔ آج کل نوجوانوں کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ آج کل نوجوانوں کو انجوائے کرنے کے لئے ڈسکو میں جانا پڑتا ہے۔ شراب و دیگر طرح کے نشے کرنے پڑتے ہیں تب جاکر ان کی تقریبات مکمل ہوتی ہیں۔مجھے یاد ہے کہ جب ہمارے دادا جی ہوا کرتے تھے تو جب سال کا آخر ہوتا تھااور نئے سال کا آغاز تو سارا خاندان 12 بجے سے پہلے ڈائننگ ٹیبل پر اکٹھا ہوجاتا تھا اور ٹھیک 12 بجے ایک دوسرے کے گلے مل کر ، بڑے بوڑھوں کے پاؤں چھو کر نئے سال کو مناتے تھے۔ 31 دسمبر کی رات کو سارا خاندان ایک جگہ اکٹھا ہوتا تھا۔ کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی لیکن آج تو نوجوان طبقہ گھر سے باہر چلا جاتا ہے۔ ڈسکو میں جاکر شراب پیتے ہیں ہلڑ بازی کرتے ہیں ۔ اس نئے سال میں بھی یہ سب کچھ ہوا۔ سنیچر کی دیر رات نئے سال کے جشن میں ڈوبے نوجوانوں نے حیوانیت کی ساری حدیں پار کردیں جب ہلڑ بازوں نے ایم جی روڈ پر قریب آدھا گھنٹے تک جم کر غنڈہ گردی مچائی اور پولیس پر بھی پتھراؤ کیا۔ پتھراؤ میں دو پولیس والے شدید طور سے زخمی ہوگئے۔ دیگر کئی پولیس والوں کو بھی چوٹیں آئیں۔31 دسمبر کی رات کو نئے سال کا جشن منانے ایم جی روڈ پر پہنچے نشے میں دھت لڑکوں نے سہارا مال کے سامنے سڑک پر ہی اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں ۔ یہاں گاڑیوں کا میوزک سسٹم آن کر دیا اور ڈانس کیا ، جس سے سڑک پر جام لگ گیا۔نشے میں دھت لڑکوں نے جام میں پھنسی گاڑیوں پر چڑھ کر ناچنا شروع کردیا۔ حدیں تو تب پار ہوگئیں جب 25 ہڑدنگیوں کے ایک گروپ نے یہاں کی ایک لڑکی کو دبوچ لیا۔ سبھی اس پر جھپٹ پڑے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ لڑکی چلاتی رہی اور لڑکے درندوں کی طرح اس کی عصمت سے کھیلتے رہے۔ معاملے کو دیکھ رہے تعینات پولیس کانسٹیبل بھی حرکت میں آگئے اور لاٹھیاں چلائیں تب جاکر اس لڑکی کو بچایا جاسکا۔
پورے معاملے کو کیمرے میں قید کررہے میڈیا ملازمین کو دیکھتے ہی ان سے کیمرے چھیننے کی کوشش بھی ہوئی۔ ایک دوسری واردات میں روہنی میں نئے سال پر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ پارٹی منانے پہنچی ایک طالبعلم کی جان پر بن گئی۔ اس کے بوائے فرینڈ کے دوستوں نے اکیلا پاکر طالبہ سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ گھبرائی طالبہ پہلی منزل سے کود پڑی۔ اسے ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ پچھلے کچھ برسوں سے ان ریو پارٹیوں کا بہت تذکرہ ہے۔ اس پارٹی کا مطلب ہے ایسی پارٹی جہاں شراب اور نشہ کھلے عام طور پر چلتا ہے۔ نوجوان طبقہ ان کا کھلا استعمال کرتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک نائیجیریا سپلائر کو پکڑا گیا جس کے پاس سے 1 کروڑ50 لاکھ سے اوپر کی نشیلی اشیاء برآمد ہوئی جو نئے سال کی مختلف پارٹیوں میں سپلائی کی جانے والی تھی۔ شراب تو آج کل پانی کی طرح چلتی ہے۔ نئے سال کے استقبال میں دہلی والے قریب 75 کروڑ روپے کی شراب پی جاتے ہیں۔ میخانوں میں جم کر ہوئی مستی،جام بھی خوب چھلکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا فائدہ سرکار کو بھی ہوا۔ محکمہ آبکاری کے اعدادو شمار کے مطابق کمائی کے لحاظ سے بکری میں محض ایک ہفتے میں 15 کروڑ سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ گذشتہ سال 2011 کے دسمبر کے آخری ہفتے میں 75.5 کروڑ روپے کی شراب بکی۔ سال 2011ء کے اسی مہینے میں بکری کا یہ آنکڑا60 کروڑ روپے کا ہے۔ آخری مہینے کے آخری 12 دنوں میں تقریباً400 کروڑ روپے کی شراب بکی۔ سرکار کو47 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔ جیسا کہ میں نے کہا نوجوانوں کی سوچ بدل گئی ہے اور مغربی کلچر کا اثر ہمارے دیش میں بڑھتا جارہا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Happy New Year, Vir Arjun

04 جنوری 2012

اور ایسے ہوا بھنوری دیوی کا تکلیف دہ خاتمہ


Published On 4th January 2012
انل نریندر
قریب4 مئی سے لاپتہ نرس بھنوری دیوی کا خاتمہ کیسے ہوا اس کا تو اب خلاصہ ہوہی گیا ہے لیکن ابھی تک نہ تو اس کی لاش ملی ہے اور نہ ہی یہ ابھی ٹھیک سے پتہ چل سکا ہے کہ ان کی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا ہے۔بھنوری دیوی کی مثال اور قتل عام کی بنیادی کڑی سب ڈسٹرکٹ چیف سہی رام بشنوئی کے جرم قبول کرلینے سے سی بی آئی نے بھی راحت کی سانس لی ہے۔ سی بی آئی اور پولیس کی جوائنٹ ٹیم سہی رام کے بیان کی تصدیق کرنے میں لگی ہے۔ اس کے جاری رہتے تحقیقاتی ٹیم پھر سے اس راستے کی باریکی سے پڑتال کررہی ہے جس پر اغوا کرنے کے بعد بھنوری دیوی کا قتل کردیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سہی رام نے بھنوری دیوی کا اغوا اور اس کے بے رحمانہ قتل کے بارے میں سی بی آئی کو جو تفصیل دی ہے اس کے حساب سے بھنوری نے اپنے اغوا کا اندیشہ ہوتے ہی بلیرو سے کود کر بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ اس پر اہم اغوا کار سوہن لال اور شہاب الدین نے مل کر نہ صرف اس کا گلا دبا دیا بلکہ شہاب الدین بھنوری کو اپنے پیروں تلے تب تک روندتا رہا جب تک وہ نڈھال نہیں ہوگئی۔ بھنوری کے قتل کے سنسنی خیز حقائق سامنے آتے ہی سی بی آئی اور پولیس قتل کے ٹھوس ثبوت اکٹھے کرنے میں نئے سرے سے لگ گئی ہے۔تحقیقاتی ٹیم شہاب الدین کے ان جوتوں کی بھی تلاش کررہی ہے جو اس نے واردات کے دوران پہن رکھے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہاب الدین نے بھنوری کا کام تمام کرنے کے بعد اپنے جوتے بیچ راستے میں ہی پھینک کر نئے جوتے خرید لئے تھے۔ بھنوری کے اغوا کے بعد قتل کے معاملے میں ملزم سوہن لال اینڈ پارٹی نے منصوبہ بند طریقے سے کام کیا تھا۔ بھنوری کو جھانسہ دینے کے لئے سوہن لال نے شہاب الدین کو راجو سیٹھ کی شکل میں ملوایا تھا۔ بلیرو گاڑی میں بھنوری کا اغوا کرنے کے بعد آپسی بات چیت میں شہاب الدین کی پول کھل جانے پر بھنوری نے زور سے چلاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ تم راجو سیٹھ نہیں ہو اور اس کے بعد بھنوری نے بلیرو کے کھڑکی سے باہر کودنے کی کوشش کی۔ بھنوری کا سر اور آدھا دھڑ کھڑکی سے باہر نکلتے ہی شہاب الدین نے اس کے دونوں پیروں کو پکڑ کر واپس گاڑی کے اندر کھینچ لیا۔ اس دوران سوہن لال پیچھے والی سیٹ پر آگیا اور دونوں نے مل کر بھنوری کے ساتھ مار پیٹ کی اور اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اسکے بعد شہاب الدین نے بھنوری کو سیٹ کے نیچے رکھ لیا اور اس کے گلے کو جوتوں سے تب تک دباتا رہا جب تک اس کا دم نہیں نکل گیا۔ بتایا جاتا ہے شہاب الدین نے بھنوری کے خون سے سنے جوتوں کو راستے میں پڑنے والے کسی چوراہے پر پھینک دیا تھا۔ بھنوری کا کام تمام کرنے کے بعد دونوں نے اس کی لاش کو نیورا روڈ پر خطرناک بدمعاش بشنا رام گینگ کو سونپ دی تھی۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ بدمعاش بشنا رام کی گرفتاری کے بعد ہی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا اس کی جانکاری مل جائے گی۔ خبر ہے کہ بھنوری کی لاش کی تلاش سی بی آئی ہائی ٹیک طریقے سے کررہی ہے۔ ایتوار کو ریموٹ سے چلنے والے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے جالیڈا گاؤں کے گھروں اور نہر کے علاقے کی چھان بین کی گئی۔ ہیلی کاپٹر میں لگے ہائی ریزولوشن فوٹو امیجنگ آلے اور کیمرے سے دو کلو میٹر علاقے کی تصویریں بھی لی گئی ہیں ۔ ان کے ذریعے اس جگہ کی بھی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی جہاں بھنوری کی لاش دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ معاملہ ویسے تو سلجھ گیا ہے لیکن جب تک لاش نہیں ملتی یا اس کے ٹھکانے لگانے کے پختہ ثبوت نہیں ملتے تب تک کیس الجھا رہے گا۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Vir Arjun

نہایت خطرناک چوراہے پر کھڑا پاکستان


Published On 4th January 2012
انل نریندر
2012 کا سال پاکستان کے لئیبہت اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایک ساتھ کئی محاذ پر جدوجہد کررہا ہے۔ سیاسی مورچے پر صدر آصف علی زرداری بنام عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی کھلی جنگ چھڑ گئی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کا گراف بڑھ رہا ہے۔ دوسرا محاذ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف شجاع احمد پاشا کے درمیان کھلا ہوا ہے۔ حالانکہ جنرل کیانی کا کہنا ہے پاکستان میں فوجی حکومت کا امکان نہیں ہے لیکن جس طریقے سے دونوں فریقین کے درمیان فاصلہ اور اعتماد بڑھا ہے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ ادھر پاکستانی پارلیمانی کمیٹی نے میموگیٹ کی جانچ زور شور سے شروع کردی ہے۔ امریکی حکومت کو بھیجے گئے خفیہ خط (میموگیٹ) معاملے کی جانچ کررہی پاکستانی پارلیمانی کمیٹی نے اس وقت کے سفیرحسین حقانی ، پاکستانی نژاد کے امریکی تاجر منصور اعجاز اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کو سمن بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ 10 جنوری کو کمیٹی کی اگلی میٹنگ میں ان تینوں کو شخصی طور پر حاضر ہونا پڑ سکتا ہے۔ گذشتہ2 مئی کو امریکی کارروائی کے بعد اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد پاکستان کی سیاست میں مانو ایک زلزلہ سا آگیا ہے۔ اندرونی سیاست میں اس کارروائی کے بعد پاکستان میں فوجی تختہ پلٹ کے اندیشوں کو لیکر صدر آصف علی زرداری نے اوبامہ انتظامیہ کو مدد کے لئے خط لکھا تھا۔ اس انکشاف کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایسا زلزلہ آیا کہ وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ادھر پاک سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز میمو معاملے کی جانچ کے لئے پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کرانے کے حکومت کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے تین نفری کمیشن تشکیل کی ہے اور چار ہفتوں میں اسے اپنی جانچ پوری کرنے کو کہا ہے۔ تینوں ممبران اسلام آباد، بلوچستان اور سندھ ہائیکورٹ کے جج صاحبان ہیں۔ حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی اس حکم سے خوش نہیں اور حکومت سپریم کورٹ سے اپنے حکم پر نظرثانی کرنے کی درخواست کرے گی لیکن سب سے سنگین معاملہ ہے پاکستان اور امریکہ کے بگڑتے رشتے۔نیویارک ٹائمس نے پیر کے روز اپنی شائع رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اب اس سچائی کا سامنا کررہا ہے کہ اس کی پاکستان کے ساتھ وسیع سکیورٹی سانجھے داری کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ ایسے میں امریکی حکام ایک بیحد محدود دور میں دہشت گرد مخالف اتحاد کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ انہیں یہ احساس بھی ہے کہ اس سے دہشت گردوں کے خلاف حملہ کرنے کی ان کی (امریکہ) صلاحیت پیچیدہ ہوجائے گی اور افغانستان میں سپلائی بھی متاثر ہوگی۔ امریکہ کے ایک تھنک ٹینک نے تو ساری حدیں پار کردیں ہیں۔ امریکہ میں ایک اثر دار ایسے ہی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ سال2012ء میں امریکہ جن ممکنہ خطرات سے سب سے زیادہ لڑ رہا ہے ان میں پاکستان کے ساتھ سنگھرش بھی شامل ہے۔ امریکہ نے دی کونسل آف فارن ریلیشن سینٹر فار کری ایٹو ایکشن نے امریکی حکام اور ماہرین سے بات چیت کی بنیاد پر ان ممکنہ خطرات کی فہرست تیار کی ہے جن سے نئے سال میں امریکہ کو محاذ آرا ہونا پڑے گا۔ کسی حملے یا دہشت گرد مخالف آپریشن کے جاری رہتے پاکستان سے لڑائی اس فہرست میں کافی اوپر ہے۔ امریکہ کی یہ فہرست اس وقت عام ہوئی ہے ، جب پاکستان میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ اور نیٹو کو کھلی وارننگ دے دی ہے۔ فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کے بعد گیلانی نے امریکہ اور نیٹو ممالک کو آگاہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی سرداری پر کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیں گے کیونکہ ان کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ پاکستان نے موجودہ حالات میں ناٹو کی سپلائی روک دی ہے اور مستقبل میں اس پر کوئی بھی فیصلہ کیبنٹ لے لے گی۔کل ملاکر پاکستان ایک نہایت خطرناک دوراہے پر کھڑا ہوا ہے۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ پاکستان کے سیاستداں ان سنگین چنوتیوں سے نمٹنے میں کامیاب رہیں گے اور سارے اندیشات غلط ثابت ہوں گے۔
America, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, General Kayani, Haqqani Network, ISI, Osama Bin Ladin, Pakistan, USA, Vir Arjun

03 جنوری 2012

اترپردیش میں وزیر اور لوک آیکت میں چھڑا تنازعہ


Published On 3rd January 2012
انل نریندر
نئے سال کا آغاز ہی ایک سیاسی تنازعے سے ہوا ہے اترپردیش میں چناوی جنگ کے ٹھیک پہلے اترپردیش کے وزیر برقیات رام ویر اپادھیائے نے یوپی کے لوک آیکت جسٹس این کے مہروترہ کے خلاف اعتراض آمیز رائے زنی کرکے نئے تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ مایاوتی حکومت کے کئی وزرا لوک آیکت کی جانچ کے دائرے میں ہونے کے چلتے وزیر موصوف اپنا آپا کھو بیٹھے۔ جمعہ کی شام ہاتھرس کی ایک عوامی ریلی میں رام ویر نے کہا انہیں جج (لوک آیکت) کے مقابلے قانون کی زیادہ سمجھ ہے۔ لوک آیکت کے ساتھ شخصی رشتے نہیں ہوتے تو میں سپریم کورٹ کی پناہ لے کر انہیں برخاست بھی کرا سکتا تھا۔ وزیر برقیات یہیں نہیں رکے اور کہا کہ میں قانون کا طالبعلم رہا ہوں اور اسے اچھی طرح سے سمجھتا ہوں۔ میں قانون ان سے زیادہ جانتا ہوں اپادھیائے نے ان کے خلاف بھاجپا کے سکریٹری جنرل وراٹ سومیا کے ذریعے لوک آیکت کو کی گئی شکایت کے سلسلے میں یہ بات کہی۔ اس تبصرے پر لوک آیکت نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مایاوتی نے اب تک جو بھی کچھ کیا ہے رام ویر نے اس پر پانی پھیردیا ہے۔ مہروترہ نے کہا کہ رام ویر سے ان کے شخصی تعلقات نہیں ہیں۔
وزیر ہونے کے ناطے انہوں نے رام ویر کو احترام دیا جسے وہ غلط سمجھ بیٹھے۔ انہیں پتہ نہیں کہ ایسے تبصرے کے لئے رامویر نے اپنی سرکار سے اجازت لی یا نہیں لیکن ان کا یہ رویہ مایوسی کی علامت ہے اور عہدے کے وقار کے منافی ہے۔ ہاتھرس کے تاجروں کی جانب سے جمعہ کی رات یہاں گھنٹا گھر پر منعقدہ عوامی ریلی میں اپادھیائے کا یہ تبصرہ تھا جب بھاجپا ضلع پردھان دویندر اگروال کو اس کی جانکاری ملی تو انہوں نے وزیربرقیات پر لوک آیکت کی توہین کا الزام لگانے کے ساتھ ضلع انتظامیہ و لوک آیکت سے وزیر برقیات کے ساتھ ایک ایف آئی آر درج کرنے اور وزیر اعلی سے انہیں برخاست کرنے کی مانگ کر ڈالی۔ حال ہی میں لوک آیکت مہروترہ نے اترپردیش کے طاقتور وزیر نسیم الدین صدیقی کے خلاف ایف آئی آر درج کر ان کے اور ان کی بیوی ودھان پریشد ممبر حسنی صدیقی کے خلاف کے شکایتوں کو مضبوط پاتے ہوئے دونوں کے خلاف معاملہ درج کر وزیر اعلی مایاوتی کو اطلاع دے دی۔ دراصل مایاوتی کی پارٹی کے کچھ لیڈر جسٹس مہروترہ سے سخت نالاں ہیں اور ان کی سفارش پر کئی وزیروں کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ مایاوتی نے آناً فاناً میں کئی وزیروں کو برخاست کردیا ہے۔
چناؤ سر پر دیکھتے ہوئے خبر یہ ہے کہ بہن جی بہت سے موجودہ ایم ایل اے کے ٹکٹ بھی کاٹ رہی ہیں۔ مہینوں پہلے ہی اسمبلی چناؤ کے لئے امیدواروں کا اعلان کرنے والی بہوجن سماج پارٹی میں چناؤ کی تاریخ آنے کے بعد امیدواروں میں تیزی سے بدلاؤ ہورہے ہیں۔ بسپا پردھان نے گذشتہ پیر کو آگرہ، بندیل کھنڈ اور کانپور حلقوں کی سیٹوں پر پھر سے غور کیا ہے۔ مایاوتی نے گذشتہ دنوں میں اپنے کئی وزرا ء اور ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹ کر ان کی جگہ نئے امیدواروں کو طے کرلیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ بہن جی تھوڑی بوکھلاہٹ میں اب کام کررہی ہیں۔ ایسے موجودہ ممبران کو آخری وقت میں بدلنا پارٹی کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان لوگوں نے مہینوں سے اپنے علاقوں میں کام کیا ہے، زمین تیار کی ہے، آخری وقت میں نئے امیدوار کے لئے ایسا کرپانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ پھر ظاہر سی بات ہے کہ جن کوبے عزت کرکے ٹکٹ کاٹے گئے ہیں ان میں سے کچھ ضرور پارٹی کے نئے سرکاری امیدوار کو ہرانے کی کوشش کریں گے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Lokayukta, Uttar Pradesh, Vir Arjun

الوداع ڈاکٹر سری دھرن! دہلی آپ کوبھلا نہ پائے گی


Published On 3rd January 2012
انل نریندر
راجدھانی میں ٹریفک کی تصویر بدلنے اور میٹرو پروجیکٹوں کو وقت سے پہلے پورا کردینے کے نئے کلچر کو جنم دینے والے میٹرو مین ڈاکٹر ای سری دھرن سنیچر کو دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے۔ دہلی میٹرو کی بنیاد پڑنے کے دن سے ہی اسے اونچائیوں پر پہنچانے کے لئے دن رات ایک کرنے والے 79 سالہ ڈاکٹر سری دھرن نے سنیچر کو ایک طویل اور انتہائی اہمیت کا حامل سفر طے کرتے ہوئے اپنے جانشین منگو سنگھ کو اپنی ذمہ داری سونپ دی۔ سری دھرن کی قیادت میں 2002 میں ایک بارپٹری پر آنے کے بعد میٹرو نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ دہلی کے بعد گوڑ گاؤں، نوئیڈا،غازی آباد کے لوگوں کو بھی میٹرو کی سوغات ملنے والی ہے۔ 14 اکتوبر2011 کو سری دھرن کی جانشینی کے لئے جن چھ لوگوں کو میٹرو ہیڈ کوارٹر میں بات چیت کے لئے بلایا گیا تھا ان میں سے تین نفری سلیکشن کمیٹی نے ڈی ایم آر سی کے ڈائریکٹر (پروجیکٹ) منگو سنگھ کے نام پر مہر لگائی تھی۔ ڈی ایم آر سی میں ہی ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرنے والے منگو سنگھ نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور سول انجینئر کے کیا تھا۔ اترپردیش کے بجنور کے باشندے منگو سنگھ نے رڑکی انجینئر کالج سے 1979 ء میں تعلیم حاصل کی اور 1981 میں یوپی ایس سی کے ذریعے منعقدہ انڈین ریلوے سروس آف انجینئرس کے لئے چنے گئے تھے۔ کولکتہ میٹرو کی تیاری میں اہم کردار نبھانے والے مسٹر منگو سنگھ کے لئے دہلی میٹرو کے سربراہ کے طور پر تقرری ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ سری دھرن جیسے ماہر کا جانشین بننا آسان نہیں ہوگا۔ سری دھرن خاموشی سے اپنے کام میں لگے رہتے تھے۔ ان کا مزاج کام زیادہ ڈرامہ کم تھا۔ یہ ہی وجہ تھی دہلی میں اتنا بڑا میٹرو نیٹورک بنا اور دہلی کے شہریوں کو اس کا پتہ تک بھی نہیں چل سکا۔ مجھے نہیں لگتا پورے شہر میں ایک بھی دن ٹریفک کہیں بند ہوا ہو۔ ٹریفک بھی چلتا رہا اور تعمیراتی کام بھی۔ ان کی اتنی اچھی پلاننگ تھی کہ سب پہلوؤں پر مطالع کرکے ہی تعمیراتی کام شروع ہوا کرتا تھا۔ دہلی میٹرو آج ساری دنیا میں مشہور ہوچکی ہے۔ جب بھی کوئی بیرونی مہمان بھارت کے دورہ پر آتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ میٹرو میں ضرور سفر کرے۔
یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو بھارت کے اندر دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ کرنا چاہتے ہیں۔ میٹرو کی کامیابی نے سری دھرن کو میٹرو مین کے خطاب سے نواز دیا۔ ان کی قیادت میں دہلی میٹرو کی سبھی اسکیموں و پروجیکٹوں کا کام وقت سے پہلے پورا ہونے کا ریکارڈ ہے۔ 1963ء میں آئے ایک طوفان میں رامیشورم کو تاملناڈو سے جوڑنے والا پمبن سیتو ٹوٹ گیا تھا۔ اسے ٹھیک کرنے کے لئے ریلوے نے 6 مہینے کا وقت دیا تھا لیکن سری دھرن نے اسے صرف 46 دنوں میں ہیں کردکھایا۔ اسی دن سے سری دھرن کا نام سرخیوں میں آگیا۔ سری دھرن 1995ء میں دہلی میٹرو میں آئے اور محض 16 برسوں میں دہلی کے ٹرانسپورٹ کی پوری تصویر ہی بدل دی۔ ان کے کام کے لئے 2005ء میں فرانس سرکار نے وہاں کا سب سے اعلی ترین سرکاری اعزاز' نائٹ آف دی لیزو آف آنر' سے نوازا تھا۔حکومت ہند نے ان کے کارناموں کے لئے سال1963ء میں ریلوے منسٹر ایوارڈ، 2001 میں پدم شری اور 2005 میں پدم وبھوشن سے نوازا۔ ہم شری منگو سنگھ کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ دہلی میٹروکا کام اسی انداز سے چلاتے رہیں گے جیسے سری دھرن نے کیا۔ سری دھرن اپنی قابل قدر چھاپ چھوڑ گئے ہیں۔ جب جب دہلی میٹرو کی بات ہوگی سری دھرن کو یاد کیاجائے گا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Metro Rail Corporatio, E. Sridharan, Vir Arjun

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...