Translater

03 اگست 2013

تلنگانہ میں کانگریس نے جوا کھیلا ہے دیکھیں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟

یوپی اے سرکار کی تال میل کمیٹی نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے اپنی مہرلگادی ہے۔ اس میٹنگ میں اس ریزولیوشن کو اتحادی پارٹیوں نے بھی منظوری دے دی۔ اس کے بعد ریاست اسی مسئلے پر کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کی اہم میٹنگ میں ملک کی 29 ویں ریاست کی شکل میں تلنگانہ کی تشکیل کو ہری جھنڈی مل گئی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے جمعرات کو کہا کہ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا راستہ تیار کرنے والا بل پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پیش نہیں ہوگا لیکن نئی ریاست 6 مہینے کے اندر وجود میں آجائے گی۔ نئی ریاست کی تشکیل میں 8 سے9 مہینے لگتے ہیں لیکن ہم جلد سے جلد اس کی تکمیل کی کوشش کریں گے۔ وزیر داخلہ شندے نے کہا آنے والی لوک سبھا اور آندھرا پردیش میں ہونے والے اسمبلی چناؤکے پیش نظرتلنگانہ ریاست بنانے کا فیصلہ لے کر کانگریس نے ایک بڑا جوا کھیلا ہے۔ پردیش میں بنے سیاسی حالات اور تلنگانہ کا اشو جگن موہن ریڈی کے بڑھتے دبدبے کے چلتے کانگریس مجبوری ہے۔ ریاست میں تیزی سے گھٹتے اپنے مینڈینٹ کو دیکھتے ہوئے کانگریس کا یہ فیصلہ اپنے ڈھہتے قلعہ کا کچھ حصہ بچانے کی کوشش ماناجاسکتا ہے۔ پچھلے دنوں ہوئے بلدیاتی چناؤ کے نتائج سے کانگریس کو صاف نظر آگیا ہے کہ ساحلی آندھرا اور رائل سیما میں کافی حد تک بازی ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ اس کے بعد کافی نازک مسئلے پر کانگریس نے فیصلہ لیا ہے۔کانگریس نے اب اپنی امیدیں تلنگانہ کی سیاست میں دبدبہ رکھنے والی سیاسی پارٹی تلنگانہ راشٹر سمیتی پر ٹکائی ہیں۔ٹی آر ایس کے چیف چندر شیکھر راؤ کو پالے میں لانے کے لئے کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے پارٹی کے دروازے کھول دئے ہیں۔ راؤ بھی پہلے کہہ چکے ہیں اگر کانگریس تلنگانہ ریاست بنانے کا راستہ صاف کرتی ہے تو اپنی پارٹی کو کانگریس میں ملانے کو تیار ہیں۔ مجوزہ تلنگانہ ریاست میں 17 لوک سبھا سیٹیں ہوں گی۔ ایسے میں مرکز کے اقتدار میں قابض ہونے کے لئے کانگریس کو ان سیٹوں کو حاصل کرنا بہت ضروری ہے لہٰذا ٹی آر ایس پر سوار ہوکر پارٹی اپنے سیاسی منصوبوں کو پانے کی پوری کوشش کرے گی۔ کانگریس اپنے اس قدم کا فائدہ صرف آندھرا پردیش میں ہیں نہیں دیکھ رہی ہے پارٹی کے حکمت عملی ساز اپنے تجزئیے میں اس فیصلے کا پوری ریاستوں پر پڑنے والے اثر اور اس سے کانگریس کو پہنچنے والے ممکنہ فائدے کو بھی دیکھ رہی ہے۔ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کے مطابق یہ تجزیہ کچھ حدتک صحیح ثابت ہونے لگا ہے۔ اترپردیش کی بڑی پارٹی بسپا نے ریاست کو 4 حصوں میں بانٹنے کی مانگ سرے سے اٹھا دی ہے۔ کانگریسی بھی اس بٹوارے کے حق میں بیان دے رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں گورکھا مکتی مورچہ نئے سرے سے تحریک پر اتر آئی ہے۔ اس کے علاوہ بوڈو لینڈ علیحدہ جموں اور ودربھ کا معاملہ بھی اٹھنے لگا ہے۔ اگر یہ مانگیں زور پکڑتی ہیں تو یوپی میں حکمراں سپا مغربی بنگال میں ممتا کمزور پڑیں گی اور اس کا سیدھا فائدہ کانگریس کو ہوگا۔کانگریس کی لیڈر شپ اس وقت ریاست کی سیاست کو درکنار کرکے مرکز کے لئے ہونے والے چناؤ کو سامنے رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی بات یہ ہوگی کہ یوپی اے سرکار کے خلاف اپوزیشن کرپشن، مہنگائی جیسے اشو پر جو ماحول بنانے کی کوشش کررہی ہے اس کی سمت بدل جائے گی۔ علیحدہ ریاست کے جذباتی اشو پر سبھی پارٹیوں کو اپنا نظریہ سامنے رکھنا ہوگا اور وہ اس میں الجھ جائیں گی۔ تلنگانہ کو علیحدہ ریاست بنانے کی کانگریس کی اب سیاسی مجبوری ہوگئی تھی۔ تلنگانہ کو علیحدہ ریاست کا اشو جذباتی سطح پر ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اگر کانگریس چناؤ ہونے تک ٹال دیتی ہے تو اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑ سکتا تھا۔ تلنگانہ میں لوک سبھا کی 17 سیٹیں ہیں۔ دوسری طرف ساحلی آندھرا اور رائل سیما علاقے میں لوگوں کے جذبات حالانکہ بٹوارے کے خلاف ہیں لیکن پچھلے چار برسوں میں وائی ایس آر کے دیہانت اور ان کے بیٹے جگن موہن کے کانگریس چھوڑ کر الگ وائی آر ایس کانگریس کی تشکیل سے پارٹی کا مینڈیٹ کمزور ہوچکا تھا جبکہ چندرا بابونائیڈو کی تیلگو دیشم اس درمیان مضبوط ہوئی ہے۔ ایسے میں دونوں طرف سے کانگریس کو نقصان دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں تک دیش کی بات ہے ریاستوں کو تقسیم کرنے کے بعد مسئلے سلجھے نہیں ہیں۔ غور کرنے کی یہ بھی بات ہے نئی ریاستوں کا اپنے اصل پردیشوں سے وسائل کے بٹوارے کو لیکرتنازعہ کھڑا رہتا ہے۔ کہیں کہیں تو ضلع اور تحصیل تک کو لیکر تکرار جاری رہتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کیا بٹوارے سے مسئلے سلجھنے والے ہیں؟ تلنگانہ کی بات کریں تو آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں کا موازنہ پٹھاری علاقوں کا پچھڑنا بھی اس کے حصے میں ہے۔ اگر سارے علاقوں تک ترقی کا فائدہ پہنچتا اور مرکزی اسکیمیں ڈھنگ سے عمل میں لائی جاتیں تو شاید نئی ریاست بنانے کی قواعد سے بچا جاسکتا تھا۔ خیر میں نے جو کہا کانگریس نے بھاری جوا کھیلا ہے دیکھیں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟

 (انل نریندر)

دہلی کے نئے پولیس کمشنر بھیم سین بسّی کا خیر مقدم ہے!

دہلی کے نئے پولیس کمشنر بھیم سین بستی نے بدھوار کو دوپہر دہلی کے 19 ویں کمشنر آف پولیس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ مسٹر بستی کا دہلی سے پرانا رشتہ رہا ہے۔ انہوں نے21 سال کی عمر میں آئی پی ایس پاس کرکے کالج اور اپنے واقف نوجوانوں کے لئے مثال قائم کی تھی۔ 1956 ء میں پیدا ہوئے بستی کی پڑھائی لکھائی بھی دہلی میں ہی ہوئی۔ خاموش مزاج اور دور اندیشی کے مالک بی ایس بستی نیچر اور موسیقی کے شوقین ہیں۔ خالی وقت میں وہ موسیقی سننا بیحد پسند کرتے ہیں اور ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔ گولف کے بھی شوقین ہیں۔ دہلی کے سی پی کے بارے میں عام طور پر یہ ہی کہا جاتا ہے کہ یہ کانوں کا تاج ہے۔ مسٹر بستی کو کئی چنوتیوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ وسنت وہار گینگ ریپ کا واقعہ اور آئے دن خواتین پر بڑھتے مظالم کے سبب کہیں نہ کہیں پولیس سسٹم کے تئیں لوگوں میں بھروسے کی کمی اور عدم سلامتی کا احساس بنا رہتا ہے۔ ان سبھی واقعات کے بعد تمام الزامات کو جھیلنے والے پولیس کمشنر نیرج کمارکو جذباتی بدائی دی گئی لیکن ان چنوتیوں کو نئے پولیس کمشنر بھیم سین بستی کے سر پر باندھ دیاگیا۔چنوتیوں سے بھرے اس کانٹوں کے تاج کو آسان بنانے کے لئے سی پی کو کافی مشقت کرنی پڑے گی۔ بستی نے اپنے آپ کو پوری طرح سے عوام دوست بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی خواتین و بچوں کی سلامتی ،سڑک کرائم پر روک اور ٹریفک سسٹم میں بہتری کے لئے ضروری قدم اٹھانے کی بات کہی ہے۔ ایسے اعلانات سبھی سی پی عہدہ سنبھالنے کے بعد کرتے ہیں ضروری تو یہ ہے کہ ان اعلانات پر سختی سے عمل کتنا ہوتا ہے ؟ آتنک واد کا مورچہ الگ ہے وہیں منظم کرائم پر نکیل ڈالنا بھی کافی اہم ہوگا۔ بیشک اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہلی پولیس کے کھاتے میں کارنامے کم نہیں ہیں لیکن شایدچنوتیاں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ وسنت وہار کے واقعہ کے بعد پولیس کی جو ساکھ بنی ہے اس سے نہ تو جنتا خوش ہے اور نہ ہی سماج کے لئے کام کرنے والے لوگ۔اس تحریک نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ لوگوں کو خاکی وردی سے خوف ہونے لگا ہے۔رہی سہی کثر گاندھی میں بچوں کے ساتھ ہوئی زیادتی نے پوری کردی۔ دونوں واقعات کے بعد سرکار نے ہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کو بھی پھٹکار لگانی پڑی کہ عورتوں کی سلامتی کے لئے دہلی پولیس کو کچھ اچھا کرنا ہوگا۔ ان دونوں واقعات کے بعد ایسا لگا کہ لوگوں میں اپنا حق مانگنے اور مظاہرہ کرنے کی بیداری آگئی ہے اور چھوٹے موٹے واقعات پر بھی لوگ پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے سڑکوں پر اترنے لگے۔ دراصل آج پولیس کا خوف لوگوں میں سے غائب ہوچکا ہے۔ وردی کا بھی خوف ختم ہوگیا ہے۔ آپ دہلی کے ان بائیکرس کے معاملے کو ہی لے لیجئے۔ پولیس کی ساری وارننگ کے باوجود بھی یہ اپنی حرکتیں کرنے سے باز نہیں آتے۔ نئے پولیس کمشنر کو اپنی 80 ہزارافراد کی فورس میں سے ان کالی بھیڑوں سے بھی نمٹنا ہوگا جو دہلی پولیس کی ساکھ پر داغ لگا رہے ہیں۔ ہم مسٹر بھیم سین بستی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امدی کرتے ہیں کہ وہ اپنی ترجیحات پر قائم رہیں گے اور دہلی کو ایک بہتر زیادہ محفوظ اور جرائم سے پاک شہر بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ وہ ایسے وقت میں پولیس کمشنر بنے ہیں جب دہلی کے نئے لیفٹیننٹ گورنر آئے ہیں اور جلد اسمبلی چناؤ بھی ہونے ہیں۔ سارے تنازعوں کے باوجود میری نظر میں نیرج کمار کا دورہ عہد بھی ٹھیک ٹھاک ہی رہا۔

 (انل نریندر)

02 اگست 2013

بٹلہ ہاؤس مڈبھیڑ میں شہزاد کو سزا جج شاستری کا نپا تلا متوازن فیصلہ!

سرخیوں میں چھائے اور ہائی پروفائل بنے بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑمقدمے میں جج موصوف نے سزا سنا دی ہے۔ ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج جسٹس راجندر کمار شاستری نے اس اہم مشکل مقدمے میں میری رائے میں ایک متوازن نپاتلا فیصلہ سنا یا ہے۔ ایسے ہائی پروفائل مقدموں میں جسے سیاسی زیادہ بنا دیا گیا ہو بہ نسبت قانون و نظام کے ،مقدمے کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ ہم جج محترم کی مشکل سمجھ سکتے ہیں۔ ایسے کسی بھی مقدمے میں سبھی فریقین کو خوش نہیں کیا جاسکتا لیکن زیادہ اہم ہوتا ہے ثبوتوں کی بنیاد پر انصاف کرنا اور انصاف ہوتے دیکھنا۔ یہ کام جج شاستری نے بخوبی انجام دیا ہے۔ انہوں نے نہ تو ملزم فریق کی ساری باتیں مانیں اور نہ پولیس کی۔ جو مانیں اس کی دلیلیں بھی دیں اور جو نہ مانیں ان کو بھی بیان کیا۔بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ کے اس مقدمے میں قصوروار شہزادکو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد اس کے رشتے داروں کو اب پریشانی اور مایوسی تو ضرور ہوئی لیکن انہیں کہیں نہ کہیں اس بات کی راحت بھی ملی کے اسے پھانسی کی سزا نہیں دی گئی۔ بچاؤ فریق کے وکیلوں نے بھی صاف طور پر اسے قبول نہیں کیا لیکن دبی زبان سے وہ بھی مان رہے تھے کہ عمر قید کی سزا ضرور ملے گی۔ عدالت نے شہزاد کے وکیل کی اس دلیل کو مانا کہ وہ24-25 سال کا نوجوان ہے اور اس کے سدھرنے کی امید ہے اس کے علاوہ پورے مقدمے کے دوران اس کے برتاؤ کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ اس سے پہلے پیر کو سینئر سرکاری وکیل ستندر کور بویجہ نے اپنی دلیل میں کہا تھا کہ ملزم کے خلاف 13 ستمبر2008ء کو ہوئے سلسلے وار دھماکوں کے معاملے میں 5 ایف آئی آر درج ہیں ، اس سے اس کی مجرمانہ نیت صاف نظر آتی ہے۔جج اور گھناؤنے معاملوں کاوہ ملزز ہے جس میں بہت سے لوگوں کی موت ہوگئی تھی ان کی مانگ تھی کہ عدالت سزا دیتے وقت یہ بھی خیال رکھے کہ انسپکٹر شرما کے قتل سے اس کے خاندان کو کتنا درد اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں(بچن سنگھ اور ماگھی سنگھ) کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان معاملوں کی طرح ہی اس نے بھی سماج کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ پھانسی کی سزا دینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاگیا کہ شہزاد کا جرم سنگین ہے اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے شہزاد کے وکیل ستیش بروا نے سزا میں نرم رویہ برتنے کی مانگ کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ یہ کسی شاطر معاملوں کے زمروں میں نہیں آتا کیونکہ پورا واقعہ اچانک ہوا ہے اور منظم نہیں تھا۔ واقعہ کے وقت شہزاد صرف 20 سال کا تھا اور پڑھائی کررہا تھا۔ وہ نوجوان ہے اس کا جرم سنگین جرائم کے زمرے میں نہیںآتا۔ جج شاستری نے پولیس کے شہزاد کو سزائے موت دینے کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے کہا یہ معاملہ ایک سنگین جرم کے دائرے میں نہیں تھا کیونکہ اس معاملے کے حالات اتنے پیچیدہ نہیں ہیں۔ جسٹس نے کہا اس معاملے کے حقائق اور قصوروار سزائے موت کے زمرے میں نہیں آتا اور اس لئے اس کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے کہا بٹلہ ہاؤس کے فلیٹ نمبر 108lL18 میں ہوا واقعہ منظم نہیں تھا اور حالات بننے پر یہ اچانک سے ہوگیا۔ جج نے اپنے حکم میں کہا کہ پولیس ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ ہر حالت میں ہم پولیس پر بھروسہ کرتے ہیں اور جب ہم سوتے ہیں پولیس جاگتی ہے۔ جہاں تک شہزاد کے قصوروار ہونے کا معاملہ ہے جج شاستری نے بڑی سنجیدگی سے اس سوال پر فیصلہ کیا اور اپنے فیصلے میں عدالت میں کہا کہ گواہ ڈاکٹر سنجیو لال وانی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیادپرصاف ہے کہ انسپکٹر چندر موہن شرما کی موت گولی لگنے سے ہوئی۔ ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا ان کی موت حملے کے دوران گولی لگنے سے ہی ہوئی ہے اور پولیس یہ بھی کہہ رہی ہے گولی جس ہتھیار سے چلی وہ شہزاد کے ہی پاس تھا۔ حالانکہ پولیس اس ہتھیار کو سامنے نہیں لا پائی لیکن اس سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شہزاد اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہے۔بچاؤ فریق کی دلیل تھی شہزاد اس فلیٹ میں موجود نہیں تھا لیکن پولیس نے عدالت کے سامنے جو ثبوت رکھے اس کے مطابق قصوروار کا L18 فلیٹ سے ضبط کیا گیا پاسپورٹ اس کا ثبوت ہے کے شہزاد وہاں تھا ورنہ کسی کا پاسپورٹ وہاں کیسے آجائے گا۔ اسی طرح شہزاد کے نام سے ریلوے ریزرویشن کا ایک ٹکٹ بھی فلیٹ سے ملا تھا۔ کیا اس طرح کے ثبوت کو عام کہا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا یہ ایسے ثبوت ہیں جو اس کے خلاف جاتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ انکاؤنٹر کے وقت کوئی آزاد گواہ یا چشم دید نہیں تھا اس پر پولیس نے کہا کہ اس علاقے میں ایک ہی مذہب کے زیادہ تر لوگ رہتے ہیں اگر لوگوں کو بتایا جاتا تو اس علاقے میں کشیدگی پیدا ہوسکتی تھی۔ اس پر جج صاحب نے کہا کہ کوئی بھی مذہب مجرم کو سرپرستی دینے کی بات نہیں کرتا۔ اس طرح کی سوچ صحیح نہیں ہے۔ پھر بھی پولیس ٹیم پرحملہ جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جسٹس کے مطابق شہزاد ہتھیار ایکٹ کے تحت قصوروار اس لئے ٹھہرایاگیا کیونکہ انکاؤنٹر کے دوران اسکے پاس ہتھیار تھا۔ حالانکہ عدالت نے کہا کہ اس نے اس ہتھیار کو ضائع کردیا لہٰذا ثبوت مٹانے کا قصوروار پایا گیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے پیش کئے گئے ثبوت کے دوران تین دلیلیں بھی دیں۔ یہ اپنے آپ میں اس طرح کا اہم ثبوت تھا جن میں ٹیلی فون کال،6 چشم دید، 70 گواہ ۔شہزاد اور جنید فلیٹ سے کود کر بھاگے تھے۔ سرکاری کام کاج میں رکاوٹ پیدا کرنا ، ثبوت ضائع کرنا یہ تھی پولیس کی اہم دلیلیں۔ اس فیصلے سے شہزاد کے رشتے دار خوش نہیں ہیں۔ وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔جامعہ ٹیچرز سالیڈریٹری ایسوسی ایشن کے ایک ممبر منیشا سیٹھی نے اسے ایکطرفہ بتایا۔ان کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ٹھوس ثبوتوں کی بنیادپر نہیں ہے۔ پولیس نے ایکطرفہ ثبوت پیش کئے ہیں جس کی بنیادپر فیصلہ کیا گیا ہے۔ بٹلہ ہاؤس کے ایک باشندے نے اسے فرضی مڈ بھیڑ قراردیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور میڈیا اشو کو بے وجہ طول دے رہا ہے۔ پولیس جنتا کو دکھانے کے لئے کسی کا الزام کسی کے سر منڈ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا اس طرح کے فیصلوں سے راجدھانی میں مسلمان اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کررہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف شہزاد کو پھانسی نہ ملنے سے انسپکٹر موہن چند شرما کی بیوی مایا شرما مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا کے نچلی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف دہلی پولیس کو ہائی کورٹ میں اپیل کرنی چاہئے۔ دہلی پولیس کے انسپکٹر موہن چند شرما کی جان لینے والے کے لئے پھانسی کی سزا کی مانگ کررہے ہیں۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے کمشنر ایس۔ این ۔سریواستو کا کہنا ہے ان کے پاس فیصلے کی کاپی ابھی نہیں آئی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو شہزاد کو عمر قید کی سزا کے بعد اسپیشل سیل کے افسران کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں طے ہوا آگے کی حکمت عملی کاپی آنے کے بعد طے ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بٹلہ ہاؤس مڈبھیڑ آتنک واد کے خلاف ایک فیصلہ کن لڑائی تھی ۔ ان کے ہونہار انسپکٹر کے ہاتھ اگر آتنکی عتیق کا موبائل نہ لگا ہوتا تو دیش بھر میں وہ موت برپا کررہے ہوتے۔ انڈین مجاہدین تنظیم کا خلاصہ نہ ہوتا۔ بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑکے بعد پتہ چلا کہ دہلی ہی نہیں یوپی، راجستھان، گجرات، آندھرا پردیش میں بھی آئی ایم کے نیٹ ورک ہیں۔
(انل نریندر)

01 اگست 2013

ایماندار درگاشکتی پر کھدائی مافیا حاوی ہوا!

اترپردیش میں مافیا راج لگتا ہے۔ گوتم بدھ نگر کے ایس ڈی ایم عہدے سے مہلاآئی اے ایس افسر درگا شکتی ناگپال کی معطلی کے ڈھنگ سے تو یہ ہی اشارہ ملتا ہے کہ بغیر وجہ بتائے جمعرات کو2010 بیچ کی اس خاتون افسر کو معطل کردیا گیا۔ گوتم بدھ نگر میں کھدائی مافیاؤں کے خلاف مہم چھیڑنے والی28 سالہ درگا شکتی ناگپال کو معطل کرنے جو وجہ بتائی جارہی ہے اس کے مطابق ان کے حکم پرا یک زیر تعمیر عبادتگاہ کی دیوار ڈھا دی گئی تھی۔ یقینی طور سے فرقہ وارانہ بھائی چارہ بنائے رکھنا ریاستی سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن یہ بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ نے 2009 ء میں حکم جاری کیا تھا کہ کوئی ریاستی سرکار بغیر پہلے اجازت کے کسی پبلک جگہ پر کسی بھی طرح کی تعمیرات نہ ہونے دے۔ اس پر عمل اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی بھی فرقہ کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا۔ درگا ناگپال کی معطلی کو لیکر ریاست کی آئی ایس لابی خاص کر ایماندار افسروں میں گہری ناراضگی پائی جاتی ہے۔ بسپا سرکار کے عہد میں کھدائی مافیاؤں کا راج تھا۔پردیش کے سارے ٹھیکے اوپر سے دئے جاتے تھے۔ ندیوں کے گھاٹوں کے ٹھیکے مافیاؤں کے حوالے کردئے جاتے تھے۔ یہ گورکھ دھندہ وسیع پیمانے پر چل رہا تھا۔ پانچ سال میں کھربوں روپے کے وارے نیارے کردئے گئے۔ کچھ وزیراور ان کے گرگے کافی پراپرٹی کے مالک بن بیٹھے۔ موجودہ سرکار بھی اسی کے نقش قدم پر کام کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ پردیش کے ہر علاقے کی بڑی ندیوں کے بالو گھاٹ سے لیکر پتھر کھدانوں تک ہر دن کروڑوں روپے کا مال بغیر سرکار کو ٹیکس چکائے پار کیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اکثر ایسا کیوں ہوتا ہے جو افسر زمین ،ریت یا تیل مافیا سے ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے اسے کسی نہ کسی بہانے سے کنارے لگا دیا جاتا ہے۔ اس طرح کی کارروائی سے جہاں ریاست کو بھاری مالی خسارہ ہوتا ہے وہیں ایماندار افسروں کا حوصلہ بھی گرتا ہے۔ آخر ہریانہ کے آئی اے ایس افسر اشوک کھیمکا کا معاملہ ہمارے سامنے ہے، جنہیں رابرٹ واڈرا سے جڑی زمین سودے کا معاملہ سامنے لانے کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے بلکہ کچھ مہینے پہلے گوالیار میں ریت مافیا سے ٹکرانے کی وجہ سے ایک جانباز پولیس افسر کو اپنی جان تک گنوانی پڑی۔ اترپردیش میں کئی جگہوں پر درپردہ طور سے ہی اس کا کام پارٹی کے نمائندے کررہے ہیں۔ کھدائی مافیاؤں کا تعلق حکمراں پارٹی کے سیاستدانوں سے ہوتا ہے اس لئے جب کوئی افسر ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے توحکمراں لیڈروں میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ بہرحال درگا شکتی کے ساتھ برتی گئی سختی کے خلاف اگر صوبے کی آئی اے ایس تنظیم کھڑی نظر آرہی ہے تو یہ نوجوان وزیر اعلی اکھلیش یادو کے لئے بڑی چنوتی ہے۔ وہ انتظامی معاملے کو سیاسی شکنجے سے آزادکریں۔ اگر سرکار کو اپنی بے داغ ساکھ رکھنی ہے تو اسے اس طرح کے عمل سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

بی سی سی آئی فکسروں نے جانچ ہی فکس کر ڈالی!

آئی پی ایل میچ فکسنگ کی جان کررہی دو نفری کمیٹی کا فیصلہ کیا ہوگا اس کا اندازہ اسی دن لگ گیا تھا جس دن بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ نے اس کی تشکیل کا اعلان کیا۔ دو مہینے نہیں گزرے کے جانچ کمیٹی نے معاملے کو کسی طرح رفع دفع کرکے آناً فاناً میں رپورٹ تیارکردی اور اپنی طرف سے آئی پی ایل6- سے وابستہ تمام تنازعوں کو ٹھنڈا کردیا۔ لیپا پوتی کا یہ طریقہ کرپشن کے معاملوں سے نمٹنے کے پرانے آزمائے جارہے طریقوں کی یاد دلاتا ہے۔ دہلی اور ممبئی پولیس کی کارروائی میں تو تین کرکٹروں کئی فکسروں راجستھان رائلز ٹیم کی اہم فرنچائزی راج کندرہ اور خود بی سی سی آئی چیف این سری نواسن کے داماد چنئی سپر کنگ کے منیجر گوروناتھ میپن کے جیل جانے یابری طرح پھنس جانے کے بعد سرکاری کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے معاملے سے جڑے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے بہر سارے کرتب دکھائے ہیں۔ پہلے اس کے کچھ عہدیداران نے دکھانے کے لئے استعفیٰ دیا پھر دو ریٹائرڈ ججوں کی کمیٹی قائم کرکے سری نواسن بھی کچھ دنوں کے لئے الگ بیٹھ گئے۔ اول تو اس کمیٹی کی تشکیل کا کوئی جوازنہیں تھا۔ بی سی سی آئی اگر اپنے ڈھانچے میں آئی خرابی کی تہہ میں جانا چاہتی ہے تو اسے سرکار سے اس کی جانچ سی بی آئی موجودہ ججوں کو لیکر قائم جوڈیشیل کمیٹی سے کرانے کی مانگ کرنی چاہئے لیکن اس نے ایسا بالکل نہیں کیا اور جانچ کے نام پر کروڑوں کرکٹ شائقین کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کیا۔ اپنے داماد کی گرفتاری کے باوجود سری نواسن شروع سے ہی جس طرح کی اکڑ دکھاتے آئے ہیں اس سے صاف ہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک ہوجانے کے تئیں واقف تھے۔ اس کے باوجود کئی سوال ہیں جن کے جواب بی سی سی آئی کو دینے ہوں گے۔ 
پہلا سوال تو یہ ہے کہ اس معاملے میں ممبئی پولیس کی جانچ ابھی پوری نہیں ہوئی ہے۔ اس کے باوجود بی سی سی آئی نے انہیں کس بنیاد پر بے قصور قراردیا۔ کل کوپولیس کی جانچ میں اگر وہ قصوروار پائے جاتے ہیں تو اس رپورٹ کا کیا ہوگا؟ دہلی پولیس نے اپنی ایف آئی آر درج کردی اور راجستھان راہلز کے تین کھلاڑیوں سمیت درجنوں لوگوں کو ملزم بنایا ہے۔ شیشے کی طرح صاف ہے کہ سری نواسن کی بی سی سی آئی چیئرمین عہدے پر واپسی کے لئے جانچ میں اتنی تیزی لائی گئی۔ بھولنا نہیں چاہئے کہ یہ جانچ پینل شروع سے ہی تنازعوں میں رہی ہے۔ پہلے بی سی سی آئی کے ایک افسر نے اس کا حصہ بننے سے انکارکردیا۔ پھر بار بار بلاوے کے باوجود ممبئی پولیس کے لوگ گواہی دینے کے لئے آئے۔ 
اس نتیجہ کا یہ انجام ہونا ہی تھا جو ہوا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے بی سی سی آئی اور این سری نواسن کو کرارا جھٹکا دیتے ہوئے منگلوار کو آئی پی ایل میں اسپارٹ فکسنگ اور سٹے بازوں کی جانچ کرنے کے لئے بورڈ کے ذریعے قائم دو نفری پینل کو ناجائز اور غیر آئینی قراردیا ہے۔ جسٹس ایس۔ جے وردھن اور ایم ایس سونک کی ڈویژن بنچ نے بہار کرکٹ فیڈریشن اور اس کے سکریٹری ادتیہ گرگ کی پی آئی ایل پر سماعت کے دوران فیصلہ سنایا۔ بنچ نے عرضی کو سماعت کے لے داخل کرتے ہوئے کہا کہ جانچ پینل کی تشکیل ناجائز اور غیر آئینی ہے۔ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ کرکٹ بھلے ہی اب کچھ کچھ سنیما جیسا ہوگیا ہے جہاں سارے گھپلے گھوٹالوں کو رفع دفع کرکے ڈھائی گھنٹے کی فلم کی طرح خاتمہ دکھا دیا جاتا ہے۔
(انل نریندر)

31 جولائی 2013

ریکارڈ کامیابی کی جانب گامزن بھارتیہ جنتا پارٹی!

شری نریندر مودی کے مرکزیت میں آنے سے ماحول توپتہ نہیں کتنا بدلہ ہے لیکن نیتاؤں اور بھاجپا ورکروں میں نیا جوش ضرور آگیا ہے۔ حالانکہ ابھی بھی میری رائے میں بھاجپا کانگریس کی اصلی متبادل نہیں بن پائی لیکن پہلے سے بھاجپا کی حالت بہتر ضرور ہوئی ہے۔ تبھی تو بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ آنے والے لوک سبھا چناؤ کے نتیجے چونکانے والے ہوں گے۔ اس میں پارٹی کو بھاری کامیابی ملے گی۔ انوسوچت جاتی مورچہ کی قومی ایگزیکٹو سے خطاب کرتے ہوئے اڈوانی نے کہا جس طرح سے اشارے مل رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ 2014ء کے عام چناؤ وقت سے پہلے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سبھی اندازے پارٹی کے حق میں ہیں اور انہیں پوری امید ہے بھاجپا ریکارڈ جیت درج کرکے اقتدار میں آئے گی۔ کچھ اخباروں میں شائع سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا عام طور پر یہ سروے بھاجپا کے خلاف پہلے سے طے ہوتے ہیں لیکن ماضی میں چناؤکا اندازہ جتاتے ہوئے اڈوانی نے کہا لوک سبھا چناؤ اور اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات اپریل2014 ء تک پورے ہوجائیں گے۔ ہم نے اتنے کم وقفے میں اتنے سارے چناؤ 6 ریاستوں میں اسمبلی چناؤ اور لوک سبھا چناؤ کا اندازہ نہیں کیا۔ چاہ نہ چاہ کر موسم اور دیگر اسباب کو ذہن میں رکھ کر چناؤ کمیشن بھی وقت سے پہلے چناؤ کروانا چاہے گا۔ سرکاربھی وقت سے پہلے چناؤ کرا سکتی ہے۔ ادھر ٹیم مودی نے272 کے نشانے کے ساتھ اپناکام شروع کردیا ہے۔ پارٹی کا سارا زور نوجوانوں پر ہے اور ان کو لبھانے کے لئے آئی ٹی ٹیم نے مورچہ سنبھال لیا ہے۔ یہ ٹیم ڈیجیٹل موبائل و انٹرنیٹ کے سہارے نوجوانوں کو ووٹنگ تک لانے کی مہم میں لگ گئی ہے۔ دیش کے 61 فیصدی نوجوانوں کا نشانہ رکھ کر بنائی جارہی چناؤ مہم کے خاکے میں بھاجپا اس بار روایتی ایڈواٹائزنگ سے زیادہ استعمال سوشل میڈیا کا کررہی ہے۔ اس میں جدید انفارمیشن مواصلاتی تکنیک کا بھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔ ورکروں کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی ریاستوں میں ڈیجیٹل موبائل اور انٹر نیٹ کے ذریعے پارٹی کے قومی لیڈروں کی تقریریں و کلیپنگ و مختلف واقعات کی جانکاری کانگریس کی سرکار کے گھوٹالے اور نیتاؤں کے متنازعہ بیان کو عام جنتا خاص کر نوجوانوں تک پہنچائے۔ ہر نوجوان کو پارٹی کی ٹیم اپنے یہاں ٹیلی کاسٹ کرے گی اور اہم بات بھاجپا کے لئے یہ ہے کہ طویل عرصے تک گجرات کو اچھا ماڈل بتاتے آئے لال کرشن اڈوانی نے وزیراعلی نریندر مودی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اپنی تقریر میں جو بھاجپا کے ابھرتے ستارے ہیں ،کئی بھاجپا ورکر انہیں کھلے طور پر ووٹ اکٹھا کرنے اور وزیر اعظم امیدوار کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ سنیچر کو اپنی تقریر میں سنگھ کی دبے الفاظ میں تعریف کی ہے لیکن اس سے یہ لگتا ہے کہ بھاجپا کے اندر مودی کو پردھان منتری تسلیم کرنے کو لیکر اتفاق رائے نہیں بنا۔ مودی کی اندر خانے مخالفت جاری ہے۔ دیکھیں آنے والے دنوں میں اس اشو پر کوئی عام اتفاق رائے بنتا ہے یا نہیں۔ ماحول تو کانگریس کے مخالف ہے لیکن اس کا فائدہ بھاجپا کتنا اٹھا سکتی ہے۔اصل سوال یہ بنا ہوا ہے؟
(انل نریندر)

ہڑدنگی بائیکرس کی غلطی،پولیس کی بدنامی!

قومی راجدھانی کے انتہائی محفوظ ترین علاقے میں سنیچر کی دیررات بائیکرس کے ہڑدنگ اور پتھراؤ کے بعد پولیس کو فائرننگ کرنی پڑی۔ اس سے بائیک پر اسٹنٹ کرنے والے موٹرسائیکل سوا کرن پانڈے کی موت ہوگئی۔ اس کا دوست پنت شرما زخمی ہوگیا۔ نئی دہلی ضلع پولیس ڈپٹی کمشنر اے۔ سی۔ تیاگی کا کہن ہے کہ سنیچر کی رات قریب2بجکر7 منٹ پر ونڈسر پیلس کے پاس فوج کی پی سی آر نے نئی دہلی پولیس کنٹرول روم کو خبردی کے سنگریلا ہوٹل کے پاس30-35 بائیکرس سوار ہڑدنگ مچا رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی دوسری پی سی آر میں تعینات نئی دہلی ضلع کے پی سی آر سپر وائزر رجنیش کمار وہاں پہنچ گئے۔ پولیس نے بائیکرس کو اسٹنٹ دکھانے سے روکااور جواب میں ان لوگوں نے پتھراؤ شروع کردیا۔ انسپکٹر پرمار نے بائیک سواروں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے۔ اس کے بعد انسپکٹر نے اپنی سروس ریوالر سے ہوا میں دوفائر کئے ، اس پر بھی جب بائیکرس ہڑدنگ مچانے سے باز نہیں آئے تو انسپکٹر نے ایک بائیک کے پچھلے ٹائر میں گولی ماری۔ تبھی بائیک چلارہے پنت شرما 19 سال نے اسٹنٹ کرتے ہوئے بائیک کو اوپر ہوا میں اٹھا لیا، اس سے گولی بائیک پر پیچھے بیٹھے کرن پانڈے(18 سال) کی کمر میں لگی اور جسم سے پار ہوکر پنت کی پیٹھ سے رگڑ کھا کر نکل گئی۔ دونوں لڑکوں کو آر ایم ایل ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے کرن کو مردہ قرار دے دیا۔ پنت کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ کرن اپنے خاندان کا اکلوتا بیٹا تھا اور مالویہ نگر میں رہتا تھا۔ ایک چشم دید کے مطابق سنیچر کی رات کو سگریٹ نوشی کرنے کے لئے باہر نکلا تھا اور لی میریڈین ہوٹل کے سامنے پہنچ گیا۔ کچھ بائیکرس وہاں گول چکر پر اسٹنٹ کررہے تھے۔ میں نے ان سے کچھ نہیں کہا کیونکہ ایسا اکثر ہوتا ہے۔ مگر کچھ ہی دیر بعد میں نے دیکھا کہ بائیکرس کے پیچھے پی سی آر دوڑ رہی ہے۔ کچھ بائیکرس پولیس پر پتھراؤ کررہے تھے۔ معاملہ سنگین ہوتے دیکھ میں اپنے گھر واپس آگیا۔ آخر کار وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ پہلے کئی بار کی گئی وارننگ ، چالان اور بائیک ضبط کرنے کے بعد قانون و نظام کا مذاق اڑاتے ہوئے بائیکر کرن پانڈے پولیس کی گولی کا شکار ہوگیا۔ اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ فائرننگ صحیح تھی یا غلط۔ کیا پولیس کی کارروائی غلط تھی؟ سپریم کورٹ کے وکیل ڈی بھی گوسوامی کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی قانون کی نظر میں صحیح ہے۔ ٹریفک کے درمیان اگر کوئی بائیکر اس طرح کے خطرناک اسٹنٹ دکھاتا ہے تو وہ دوسرے لوگوں کی بھی جان خطرے میں ڈالتا ہے۔ وہ اس وقت تعینات پولیس والوں کی بھی نہیں سنتا اور انہیں روکیں تو وہ نہیں مانتے۔ اس کے بعد کارروائی میں کسی کی جان چلی جاتی ہے تو کرائم کے دائرے میں نہیںآتی۔ کرمنل معاملوں کے ایک دیگر وکیل پوجے کمار سنگھ کے مطابق یہ صحیح ہے کہ پبلک پلیس پر اسٹنٹ دکھانے پر اس کے خلاف موٹر ایکٹ قانون کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اس واقعے میں پولیس فائرننگ صحیح نہیں ہے۔ کئی ٹی وی چینلوں پر دہلی پولیس نے ’مار ڈالا‘ بائیکرس پر فائرنگ کیوں؟ جیسی سرخیاں چلیں۔ غلطی کس کی ہے یہ تو ایس ڈی ایم کی جانچ کے بعد پتہ چلے گا لیکن کیا کسی کو قانون و سسٹم سے کھلواڑ کرنے کی چھوٹ دی جاسکتی ہے؟ کئی بار وارننگ دینے کے باوجود بھی یہ بائیکرس نہیں مانے۔ پچھلے واقعات میں ہلکی لاٹھی چارج کی گئی پھر بھی یہ بائیکرس باز نہیں آئے۔ ان سے نمٹنے کے اور بھی طریقے تھے۔ وارننگ ، آنسو گیس،پانی کی بوچھار، لاٹھی چار متبادل موجود تھے۔ یہ سبھی متبادل کارروائی مظاہروں کو منشر کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ یہ بائیکرس کسی سماجی یا سیاسی مظاہرے کے لئے وہاں اکٹھے نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ تو ادھر ادھر ایک کونے سے دوسرے کونے تک پولیس کو دوڑاتے پھر رہے تھے۔ آخر میں پولیس نے انہیں قابو کرنے کے لئے ایک بائیک سوار کے پیر پر گولی چلائی۔ اسٹنٹ کی وجہ سے وہ کرن پانڈے کو لگی جس میں اس کی موت ہوگئی۔ یہ واردات بچوں کی کارستانی سے بے پرواہ ماں باپ کی کمیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ماں باپ کو پتہ تک نہیں ہوتا ان کا بچہ اتنی دیررات کو کہاں جارہا ہے، کیا کررہا ہے؟ دہلی پولیس اس واقعہ سے بچاؤ میں نہیں ہے۔پولیس محکمہ اب ایشن کے موڈ میں آچکا ہے۔ سنیچر کے واقعہ کے بعد پولیس نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں مختلف دفعات کے تحت کیس رجسٹرڈ کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔ حالانکہ جس انسپکٹر کی پستول سے گولی چلی اس کے خلاف ابھی تک کسی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ پولیس افسروں کا کہنا ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی انسپکٹر کے خلاف کیا کارروائی کرنی ہے تبھی طے ہوگا۔
(انل نریندر)

30 جولائی 2013

اوبامہ کو خط:مودی سے نفرت کی انتہا

نریندر مودی کیا سچ مچ اتنے بڑے کھلنائک ہیں کہ انہیں ہٹانے کے لئے دیش کی عزت اور سرداری اور وجود تک کو کچھ ممبران پارلیمنٹ نے داؤپر لگا دیا ہے جب انہوں نے امریکی صدر براک اوبامہ کو خط لکھ ڈالا کے مودی کو امریکہ کا ویزا نہیں دیاجائے۔ اس بحث میں میں پڑنا نہیں چاہتا کہ اس خط پرکتنے فرضی دستخط کئے گئے لیکن یہ خط سیاسی سرداری کی علامت ضرور ہے۔امریکہ تک میں حیرانی ظاہر کی گئی ہے کہ 22 ممبران پارلیمنٹ نے اپنے یہاں کے اندرونی معاملے میں مداخلت کی اپیل امریکی سرکار سے کیوں کی؟ ایک آزاد ممبر پارلیمنٹ نے مودی کو ویزا نہ دینے سے متعلق اپیل پر مختلف پارٹیوں کے ممبران سے دستخط کروائے تھے جسے امریکی صدر براک اوبامہ کو فیکس کے ذریعے بھیج دیاگیا۔ اب کچھ ممبران پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس خط پردستخط ہی نہیں کئے۔ کسی شخص کو ویزا دینا یا نہ دینا یہ فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے۔ اس طرح سے دباؤڈالنے سے دیش کی بے عزتی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت سامنے آنا اور بھی شرمناک ہے کہ مودی کے خلا ف اوبامہ کو لکھے اس خط میں جعلسازی سے بھی بھیجنے والوں نے گریز نہیں کیا۔ جس طرح سے تقریباً10 ممبران نے صاف انکار کیا ہے کہ انہوں نے دستخط نہیں کئے اس سے تو یہ ہی پتہ چلتا ہے کہ مودی مخالفین نے چھل کپٹ کا سہارا لینے سے بھی قباحت نہیں کی۔ اس چھل کپٹ سے پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ ہندوستانی جمہوریت کی بھی بے عزتی ہوئی ہے۔ یہ کتنا افسوسناک ہے کہ امریکہ اوردنیاکو یہ پیغام چلا گیا کہ بھارت میں ایسے بھی ایم پی ہیں جو اپنا سیاسی الو سیدھا کرنے کے لئے دھوکہ دھڑی سے بھی باز نہیںآتے۔ نریندرمودی وزیر اعظم بنتے ہیںیا نہیں یہ تو دور کی کوڑی ہے لیکن اس کے آڑ میں کیا دیش محترم ممبران کے ایسے برتاؤ کی اجازت دے سکتا ہے؟خود امریکہ اخبارواشنگٹن پوسٹ اس خط پرحیرت ظاہرکررہا ہے کہ لمبے عرصے تک امریکہ سے سرد جنگ کی تپش جھیل چکے ہندوستانی ایم پی اوبامہ کو ایسی اپیل کا ذہن کیسے بنا پائے ہوں گے؟ تب یہ خط کیا امریکہ میں بسے ہندوؤں اور مسلمانوں کی سیاسی لگن کانتیجہ ہے، جس میں سارے ممبران نے بھی اپنی روٹیاں سینکنے کا موقعہ تلاش کر لیا ہے۔ اس خط کو افشاں کرنے کے پیچھے انڈین امریکن مسلم لیگ کونسل کا نام آرہا ہے جس نے امریکہ میں موجود بھاجپا صدر راجناتھ سنگھ کے مودی مہم کے مقابلے میں یہ بان چلایا ہے۔ اس خط کو دوسری طرف ایک اور واقعہ سے بھی جوڑا جارہا ہے جس میں27 امریکی ممبران پارلیمنٹ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو خط لکھ کر پاکستان میں اقلیتوں پر ہورہے غیر انسانی مظالم پر سنگین تشویش ظاہر کی ہے مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی نیتا سیتا رام یچوری کا رد عمل عجب تھا جب انہوں نے خود اس خط پر اپنے دستخط ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں چاہتا کوئی دیش کے اندرونی معاملے میں مداخلت کرے۔ان ممبران پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کی دہائی دیتے ہوئے امریکہ سے مودی کو ویزا نہ دینے کی اپیل کی ہے۔ یہ ہی خط پچھلے سال کے آخرمیں بھی ممبران پارلیمنٹ امریکہ کو لکھ چکے ہیں لیکن سیاسی رقابت میں وہ شاید یہ بھول گئے ہیں کہ ایسا کرکے وہ بھارت کے اندرونی معاملے میں امریکہ کوچودھری بننے کا موقعہ دے رہے ہیں۔ امریکہ کی فطرت جاننے والے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ سلسلہ پھر یہیں تک رکنے والا نہیں ہے۔
(انل نریندر)

غریب اور غریبی کا مذاق اڑانے سے باز آئیں!

بیچارے غریب کی اوقات کیا ہے دھننا سیٹھوں کے خلاف منہ کھولے۔ غریبوں سے مذاق کا ایک طریقہ اس یوپی اے سرکار نے ایسی کمیٹیوں میں ڈھونڈ نکالا ہے جوخط افلاس کی لائن تلاش کرنے میں بازیگری کے نئے نئے اعدادو شمار اچھالتی رہتی ہے۔ تازہ مثال پلاننگ کمیشن کی ہے۔جس نے خط افلاس کی لائن کو 27 سے33 روپے کے چکر میں ڈالر کر ایسی ہی بازیگری دکھائی ہے جس پر واویلا مچنا فطری تھا۔ غریب اور غریبی کے تئیں غیر سنجیدہ مذاق پر پورے دیش میں ایسا رد عمل ہوا جس کا یوپی اے سرکار اور کانگریس کو شاید اندازہ نہ تھا۔ انٹرنیشنل پیمانہ جو 2005ء میں طے کیاگیاتھاوہ1.25 ڈالر (تقریباً75 روپے) یومیہ فی شخص خرچ کرنے والے کو غریب مانا گیا ہے جبکہ بھارت میں 27 روپے گاؤں اور33 روپے شہر وں میں روز مرہ خرچ کرنے والا شخص غریب کے زمرے میںآتا ہے۔ پلاننگ کمیشن کے نمبروں کے مطابق یہ چونکانے والی بات ہے کہ کانگریس کے کچھ ایم پی و نیتا اس نمبر کو جادوئی کہہ رہے ہیں۔ کوئی کہتاہے ممبئی میں12 روپے میں کھانا مل جاتا ہے تو کوئی کہہ رہا ہے 5 روپے میں جامعہ مسجدپر پیٹ بھر کھانا مل سکتا ہے۔ ایک نیتا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ 1 روپے میں بھی کھانا کھایا جاسکتا ہے۔ ان لیڈروں کوراجستھان کے سماجی رضاکاروں نے بھی اسی اندازہ میں جواب دیا ہے۔ شری گنگا نگر ضلع کے سماجی کارکن نے پی ایم ہاؤس اور سونیا گاندھی و راہل گاندھی کے نام 33-33 روپے اور کانگریس ایم پی راج ببر کے نام12 روپے ،رشید مسعود کے نام5 روپے کے منی آرڈر بھیجے ہیں۔ ایسے ہی منی آرڈر دہلی بھاجپا پردھان وجے گوئل بھی بھیج چکے ہیں۔ منی آرڈر کے ساتھ بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وہ33 روپے میں بھر پیٹ کھانا کھا کھا دکھائیں ۔اگر وہ ان پیسوں میں بھر پیٹ کھانا خود کھا سکتے ہیں یا پھر دیگر کے لئے انتظام کرسکتے ہیں تو چندہ اکٹھاکر اور تھالیوں کے آرڈر بھیجے جائیں گے۔ پلاننگ کمیشن کے تجزیئے اور نیتاؤں کے بے تکے بیانوں سے ہوئے ردعمل کے بعد اب کانگریس پارٹی نقصان کی بھرپائی میں جٹ گئی ہے۔ فوڈ سکیورٹی بل سے پورا سیاسی ماحول پلٹنے کی تیاری کررہی ہے۔ کانگریس کی قیادت میں ہورہے کارناموں پر راج ببر اور رشید مسعود کی تھالی نے جو پانی پھیرا ہے اس کے بعد اب سرکار اور پارٹی نے وزیر اعظم کی سربراہی والی پلاننگ کمیشن کے خلاف زور دار حملہ بول دیا ہے۔ 
کانگریس کے وزیر کپل سبل کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے پلاننگ کمیشن کے خط افلاس کی لائن بنانے پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں۔ وہیں وزیر منصوبہ راجیوشکلا نے تو غریبی کے اس پیمانے کو سرکاری اعدادو شمار بھی ماننے سے انکارکردیا ۔ ان کا سیاسی نفع نقصان یہ بتانا ہے کہ شاید پچھلی این ڈی اے سرکار کے مطابق یوپی اے کی سرکار غریبوں کی بڑی حمایتی رہی ہے لیکن یہ اعدادوشمار اور دعوے پول کھول رہے ہیں۔ آج کے اقتدار اور سیاست دیش کی حقیقت سے کتنی کٹ گئی ہے۔ پیٹ کی آگ بجھانے میں آج دیش کے غریب کی تمام زندگی گزر جاتی ہے۔ اس طرح سے اشو مذاق سے بہتر ہے کہ غریب کی تھالی کا صحیح انتظام کیا جائے اور اس کی غریبی کا مذاق نہ اڑایا جائے۔
(انل نریندر)

28 جولائی 2013

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر : دلائل اور انصاف پر مبنی فیصلہ

سرخیوں میں چھائے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی اصلیت سامنے آگئی ہے۔ ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج راجندر کمار شاستری نے اس مقدمے کو لیکر ایک ایسا اہم فیصلہ دیا ہے جس کا تذکرہ بہت دنوں تک چھایا رہے گا۔ ایک مشکل اور سیاسی اغرازپر مبنی مقدمے میں کسی طرح کا فیصلہ دینا آسان کام نہیں تھالیکن ماننا پڑے گا جج محترم نے ایک متوازن اور انصاف پر مبنی فیصلہ سونا ہے۔ اس پر سیاست تو ہوگی لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کے حقائق اور غیر جانبداری پر کوئی تنازعہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو بتائیں کے بٹلہ ہاؤس مڈبھیڑکیاتھی؟13 ستمبر 2008ء کو دہلی کے قرولباغ،کناٹ پلیس، انڈیا گیٹ، گریٹر کیلاش میں ایک ساتھ سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں 26 لوگ مارے گئے تھے جبکہ13 زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس نے جانچ میں پایا کے بمدھماکے ہو دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین نے انجام دیاتھا۔ واردات کے 6 دن بعد19 ستمبر کو دہلی پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ انڈین مجاہدین کے 5 آتنک وادی بٹلہ ہاؤس میں واقعہ مکان نمبرایل۔18 میں روپوش ہیں۔ اس اطلاع کی بنیادپر انسپکٹر موہن چند شرما کی رہنمائی میں 7 نفری ٹیم جب چھاپہ مارنے پہنچی تومکان کی پہلی منزل پر بنے فلیٹ میں موجود 5 آتنکیوں نے پولیس ملازمین کو گولیاں چلانی شروع کردیں۔ انکاؤنٹر میں انسپکٹر موہن چند شرما سمیت دو پولیس والے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ جوابی فائرننگ میں پولیس نے دو آتنک وادی عتیق امین اور محمد ساجد کو مار گرایاتھا جبکہ دو آتنکی محمدسیف اور ذیشان کو گرفتار کیاگیا۔ لیکن ایک دہشت گرد بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ زخمی موہن چندشرما کو ہولی فیملی لے جایاگیا یہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس کے منظم انکاؤنٹر کے بعد شہزاد اس فلیٹ سے بچ کر بھاگ گیا تھا۔ پولیس کو شہزاد کا پتہ ایک آتنکی محمد سیف سے چلا اور اسے گرفتار کر لیاگیا ۔ اس معاملے میں ایک اور ملزم جنید کو پکڑا نہیں جاسکا ۔ اسے بھگوڑا ملزم اعلان کردیا گیا۔ شہزاد کو یکم جنوری 2010ء کو اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع سے گرفتار کیا گیا اور یہیں سے شروع ہوئی اس مقدمے میں سیاست۔ کیونکہ معاملہ اقلیتی فرقے سے جڑا تھا ایک بار پھر اعظم گڑھ کا نام اس معاملے سے جڑ گیا اس لئے دگوجے سنگھ سمیت کانگریسی لیڈروں نے ریلیوں میں اس انکاؤنٹر کو فرضی قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہاں تک کہہ دیا انسپکٹر موہن چند شرما کو ان کے ساتھیوں نے ہی مار ڈالا ہے۔ چناوی ریلیوں میں اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے ایک موجودہ وزیر سلمان خورشید نے تو ایک ریلی میں یہا ں تک کہا کہ اس فرضی مڈ بھیڑ کی تصویریں دیکھ کر سونیا گاندھی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ محترم جج شاستری نے اپنے فیصلے میں ایک طرح سے بغیر کہے اس پر سیاست کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے 2009ء کے لوک سبھا اور 2012ء کے اترپردیش اسمبلی چناؤ سے پہلے مڈ بھیڑ کو فرضی قراردیا تھا۔ سپا کے سابق لیڈر امر سنگھ اور پارٹی کے موجودہ جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کے ساتھ بٹلہ ہاؤس گئے ۔ انہوں نے مڈ بھیڑ کو بھی فرضی بتایا۔ بٹلہ ہاؤس پر پارٹی لیڈروں کی سیاست سے کانگریس کنارہ تو کرتی ہے کبھی بھی اس کے منہ پر تالہ لگانے کی کوشش نہیں کرتی۔ دگوجے سنگھ تو فیصلے کے بعد بھی کہہ رہے ہیں کہ میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ یو پی اے سرکار کے وزیر خزانہ پی چدمبرم نے فیصلے کے بعد کہا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر فرضی نہیں تھا۔ بطور وزیرداخلہ اس معاملے کا جائزہ لینے والے چدمبرم کے مطابق انکاؤنٹر کی اصلیت پر سوال نہیں کھڑا کیا جاسکتا۔ جج شاستری نے صاف کہا کہ انکاؤنٹر فرضی نہیں تھا۔ سیریل بلاسٹ کے بعد19 ستمبر2008ء کو بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں جج صاحب نے صحیح بتایا ہے کہ قریب70 گواہوں اور ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے کورٹ نے انڈین مجاہدین کے آتنکی شہزاد عرف پپو کو انسپکٹر موہن چندر شرما کے قتل کا قصوروار مانا ہے۔ اب29 جولائی کو سزا پر بحث ہوگی۔ عدالت نے آئی پی سی کی دفعہ302,307 اور 186,120B کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہزاد نے گولی مار کر انسپکٹر موہن شرما کو مارا ہے۔ یہی نہیں اس نے باقی پولیس والوں پر بھی گولیاں چلائیں اور ہیڈ کانسٹیبل بلونت سنگھ کے بھی قتل کی کوشش کی تھی۔ شہزاد کو قصوروارمانتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہ انڈین مجاہدین کا ممبر تھا یا نہیں اس سے معاملے پر کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اس معاملے کا قصوروار ہے اور یہ ہی حقیقت ہے۔ جج صاحب نے کہا کہ عدالت کے سامنے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے جس کی بنیاد پرکہا جاسکتا ہے کہ وہ آئی ایم کا ممبر ہے۔ جج صاحب نے دہلی پولیس کو بھی نہیں بخشا اور فیصلے میں عدالت نے کہا انسپکٹر موہن چند شرما نے چھاپہ مارنے کے وقت بلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہن رکھی تھی؟ یہ حیرت کا موضوع ہے ۔ انہیں اس کا انجام پتہ تھا پھر ایسی کیا مجبوری تھی کہ انہوں نے سکیورٹی جیکٹ نہیں پہنی۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ غیر پیشہ ور رویہ تھا۔ جج شاستری نے کہا کہ پولیس کے پاس پہلے سے اطلاع تھی کہ ایک خاص جگہ پر کچھ آتنکی چھپے ہوئے ہیں ایسے میں وہاں جانے سے پہلے اسکیم بنائی گئی ہوگی۔ اور یہ کیسی اسکیم بنی کے 7 پولیس کی ٹیم میں 2 کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ حالانکہ عدالت نے کہا پولیس ہتھیار کے ساتھ جائے یا خالی ہاتھ جائے لوگوں کو انہیں مدد کرنی چاہئے لیکن یہاں پر گولی چلا دی گئی۔ اسے کبھی بھی صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ایسے مقبول سیاسی بنائے گئے کیس میں ایسا کوئی فیصلہ دینا جو انصاف اور دلائل پر مبنی ہو، سبھی فریقین کو قبول ہو، یہ آسان کام نہیں تھا لیکن جج شاستری کے فیصلے سے جہاں دہلی پولیس نے راحت کی سانس لی وہیں شہزادکے گاؤں والی دکھی تو نظر آئے لیکن کسی نے فیصلے پر کوئی رائے زنی نہیں کی۔ گاؤں والوں نے عام طور پر کورٹ پر بھروسہ جتایا۔ جہاں تک مسلم فرقے کی رائے کی بات ہے اس میں بھی ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ جامعہ علاقے خاص طور سے بٹلہ ہاؤس کے آس پاس لوگ صبح سے ہی ٹی وی سے چپکے رہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے ٹیچر اور مذہبی پیشواؤں نے جہاں اس فیصلے میں دہلی پولیس کی من گھڑت دلیل کو خیالی قراردیا وہیں کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے کیونکہ کسی شخص کو اگر نچلی عدالت سے انصاف نہیں ملا تو اوپری عدالتوں میں جا سکتا ہے۔ کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پھر دہشت گردی اور اعظم گڑھ کانام جڑ گیا ہے۔ ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج راجندرکمار شاستری میری رائے میں تو مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اتنے مشکل کیس میں انہوں نے سبھی سے انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...