16 فروری 2013

کون ہے ہیلی کاپٹر دلالی کا اصلی کواتروچی؟

کرپشن کے بہت سے الزامات سے جنتا کی توجہ ہٹانے کے لئے یوپی اے حکومت نے کیا کیا نہیں کیا لیکن گھوٹالوں اور اس سرکار کا ایسا رشتہ ہے جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اگستاویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے میں رشوت کے سنسنی خیز تازہ معاملے کے بعد گھوٹالوں کا جن ایک بار پھر یوپی اے سرکار کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ٹوجی اسپیکٹرم ، کامن ویلتھ گیمز، آدرش گھوٹالہ وغیرہ وغیرہ کے چلتے زبردست خفت جھیل چکی یوپی اے سرکار نے جس طریقے سے اقتصادی اصلاحات سے لیکر افضل گورو، افضل عامر قصاب کی پھانسی کے ذریعے اپنے سیاسی گراف کو اوپر لے جانے کی کوشش کی تھی اس کے بعدا یک بار پھر اسے نیچے گرنے کی نوبت آگئی ہے۔ اٹلی میں منگل کو36000 کروڑ روپے سے زیادہ ہیلی کاپٹر سودے میں رشوت کے معاملے میں وہاں کی ایک کمپنی کے اعلی افسر کی گرفتاری سے یوپی اے سرکار کے گلیاروں میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت ہوا جب کانگریس اس سال کئی ریاستوں میں اسمبلی چناؤ اور 2014ء میں عام چناؤ کی تیاری میں لگی ہوئی تھی۔ بجٹ سیشن شروع ہونے والا ہے ظاہر ہے کہ اپوزیشن کو ایک نیا اشو مل سکتا ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکومت ہند محض12 ہیلی کاپٹروں کی خرید بھی ڈھنگ سے نہیں کرسکی۔ اس مشتبہ سودے سے ایک بار پھر ثابت ہورہا ہے کہ تمام بدنامی اور ڈیفنس سودوں میں غیر ضروری تاخیر کے باوجود بھارت سرکار ایسا کوئی سسٹم نہیں بنا سکی جس سے ڈیفنس سودوں میں گھوٹالے کی گنجائش سے بچا جاسکے۔ اس ہیلی کاپٹر سودے میں دلالی کے لین دین کی خبر آتے ہی جس طرح معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کے ساتھ ہی سودا منسوخ کرنے کے اشارے دئے ہیں اس سے حکومت اپنے بچاؤ کے موڈ میں آگئی ہے۔ اس سے دال میں کچھ کالا ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا پتہ اٹلی سے ہی چلا۔ اٹلی میں تبدیلی اقتدار نے اس گھوٹالے کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ بھارت میں تو شاید کبھی بھی اس کا پتہ نہیں چلتا۔ انڈین ایئرفورس کے وی وی آئی پی قافلے کے لئے 12 اگستاویسٹلینڈ 101 ہیلی کاپٹروں کا سودہ فروری2010 میں ہوا تھا۔ اس وقت اٹلی میں برلسکونی کی حکومت تھی۔ ان کی اتحادی سرکار میں شامل ساؤتھ پنتھی پارٹی پر الزام تھا کہ ہیلی کاپٹر سودے میں بڑی دلالی اس پارٹی کو ملی تھی۔ برلسکونی کی سرکار بدل گئی اور اٹلی میں ماریومونٹی کی سرکار بنی ہے۔اٹلی میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس معاملے کا انکشاف ہوا۔ فن میکینیکا کمپنی میں بڑے عہدے پر بیٹھے لورینزا بورگوگنی نامی شخص جو کے اورسی سے خار کھایا ہوا تھا اس نے ہیلی کاپٹر سودے میں دلالی کھائے جانے کی پول کھول دی۔ اٹلی کے باشندے اور بھارت میں ڈیفنس بازار میں گہری پکڑ رکھنے والے کارلو گیریسا اور ان کے سوئٹزرلینڈ باشندے بزنس پارٹنر گویڈوہشکے کے نام خاص طور پر اس 362 کروڑ کی دلالی میں اٹلی کے میڈیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کا کہنا ہے کارلو بھارت کے سابق ایئر چیف ایس پی تیاگی سے ملا تھا اور ان کی ملاقات ایئر چیف مارشل تیاگی کے چچیرے بھائی کے گھر ہوئی تھی۔ حالانکہ اس معاملے میں سابق ایئر چیف تیاگی کا کہنا ہے کہ وہ گیریسا سے ملے تو سودہ ہوچکا تھا۔ انہوں نے کسی طرح کی سودے بازی سے انکار کیا۔ بھارت میں بحث کا موضوع یہ ہے کہ 3600 کروڑ روپے کی اس دلالی سے بطور کمیشن 300 کروڑ روپے بنتے ہیں وہ کسے ملا؟ کون ہے بھارت کا مسٹر ٹین پرسنٹ؟ شک کی سوئی اقتدار کے گلیاروں میں کئی ہستیوں کی طرف مرکوز ہورہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ایک متنازعہ سیاسی ہستی مسٹر ٹین پرسنٹ ہیں۔ کچھ طاقتور لوگوں سے اس کی قربت ہے۔ فی الحال قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں۔ ممکن ہے اٹلی سے ہی اس کا راز کھلے۔ مسلسل برے دور سے گذر رہی کانگریس کے لئے یہ ایک نیا درد سر بن گیا ہے کیونکہ معاملہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے مائیکے اٹلی سے جڑا ہے اس لئے پارٹی زبردست صدمے میں آگئی ہے۔ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کو اس گھوٹالے میں بوفورس دلالی گھپلے کا بھوت دکھائی دے رہا ہے۔جس میں ان کے مقبول وزیراعظم سورگیہ راجیو گاندھی کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا۔ معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ایک طرف جہاں وزیر دفاع نہ آناً فاناً میں سی بی آئی جانچ بٹھانے اور قصورواروں کو کسی بھی حال میں نہ بخشنے کی بات کہی ہے، وہیں کانگریس پارٹی نے بھی دیش کو بھروسہ دلایا ہے کہ اس جانچ کو لمبا نہیں لٹکایا جائے گا بلکہ ایک یقینی میعاد میں ہی گھوٹالے بازوں کا پردہ فاش کردیا جائے گا۔ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ دیکھیں گھوٹالے میں آگے کیا کیا نکلتا ہے۔
(انل نریندر)

نارتھ کوریا کی دادا گری نے بڑھائی امریکہ، جاپان اور بھارت کی تشویش

امریکہ کی وارننگ کوٹھینگا دکھاتے ہوئے نارتھ کوریا نے منگل کو اب تک کا اپنا سب سے بڑا طاقتور نیوکلیائی تجربہ کیا ہے۔ کمیونسٹ دیش نے زیر زمین محفوظ اور بالکل صحیح طریقے سے یہ تجربہ کامیاب ہونے کا دعوی کیا ہے۔ سائنسدانوں نے زمین کے اندر ایک جدید نیوکلیائی آلے سے دھماکہ کیا۔ نارتھ کوریائی نیوز ایجنسی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قریب تین گھنٹے پہلے دیش کے پونڈچیری نیوکلیائی سینٹر کے آس پاس زیر زمین جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔ یہ جگہ چین سرحد کے قریب ہے۔ تیوچانگ نے پہلا نیوکلیائی تجربہ سال2006ء میں اور دوسرا2009ء میں کیا تھا۔ جس کے بعد اقوام متحدہ نے اس پر کئی پابندیاں لگائی تھیں۔ یہ نیوکلیائی تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی صدر براک اوبامہ نے حال ہی میں اپنی دوسری میعاد کا آغاز کیا۔ تجربے پر اوبامہ کا ردعمل کافی سخت تھا۔ ان کا کہنا ہے یہ انتہائی اکساوے کی کارروائی ہے۔ اس سے علاقائی خطے کو چوٹ پہنچتی ہے۔ ایسا قدم نارتھ کوریا کو زیادہ محفوظ نہیں بناتا۔ عالمی برادری کے فیصلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ واشنگٹن اپنے اور اتحادیوں کی حفاظت کے لئے ضرور قدم اٹھاتا رہے گا۔ تجربے پر تشویش ظاہرکرتے ہوئے بھارت نے کہا نارتھ کوریا نے اپنے عالمی وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ نارتھ کوریا کو ایسی کارروائی سے دور رہنا چاہئے جس کا خطے میں امن پر برا اثر پڑے لیکن نارتھ کوریا کو دنیا کی پرواہ نہیں ہے۔ اس نے کہا یہ تو ہمارا پہلاتجربہ تھا۔ امریکہ دشمن والی پالیسی جاری رکھتا ہے تو ہم دوسرے اور تیسرے اور زیادہ طاقتور قدم اٹھائیں گے۔ تجربہ اپنی حفاظت کے لئے کیا گیا ہے اور کوئی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اس بات جس نوعیت کا بم تجربہ کیا گیا ہے اس کے بارے میں مانا جارہا ہے کہ کوریا میزائل میں بم لگانے کا اہل ہوچکا ہے۔ ابھی دو مہینے پہلے ہی نارتھ کوریا نے ایسا میزائل تجربہ کیا تھا جس میں نیوکلیائی بم لگایاجاسکے۔ حالانکہ وہ کتنی بھی ہٹ دھرمی کا ثبوت دے لیکن وہ یہ جانتا ہے کہ اس کے بم ساؤتھ کوریا، جاپان، امریکہ کی طاقت کے مقابلے کچھ بھی نہیں ہیں۔ البتہ ان دیشوں سے ٹکرانا اس کا مقصد بھی نہیں ہے ۔اس کا مقصد تو ایک ایسا ہتھیار حاصل کرنا ہے جس کے چلتے کوئی دوسرا دیش نارتھ کوریا کی ڈکٹیٹر شپ سے ٹکرانے سے بچے۔ نارتھ کوریا کی حکومت پوری دنیا میں سب سے عجوبی ہے۔ وہاں ایسی حکومت ہے جو خود کو تو کہتی ہے سماجوادی لیکن اس کے باوجود وہاں کئی پیڑھیوں سے ایک ہی خاندان کا راج ہے۔ پورا سرکاری سسٹم اس خاندان کے سربراہ یہیلاچنڈن اور مایورلوسی پر ٹکا ہے۔امریکہ کی مشکل یہ ہے کہ اس کی کوششوں پر پانی پھر رہا ہے۔ ادھر نارتھ کوریا تو ادھر ایران ہی امریکہ کو نیچا دکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ چین نے نارتھ کوریا کے تازہ تجربے کی مذمت کی ہے لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ نارتھ کوریا اگر یہاں تک پہنچ گیا تو وہ چین کی مدد سے ہی پہنچا ہے۔ بھارت کے لئے یہ تجربہ اس لئے بھی بے چینی پیدا کرنے والا ہے کیونکہ نارتھ کوریا اپنی میزائلیں پڑوسی پاکستان کو دیتا ہے اور پاکستان کا ایٹمی ذخیرہ کافی حد تک نارتھ کوریا کی ہی دین ہے۔
(انل نریندر)

15 فروری 2013

کانگریس کو امکانی فضیحت سے بچانے کیلئے کورین استعفیٰ دے دیں

راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین اور سینئر کانگریسی لیڈر پروفیسر پی۔ جے کورین آج کچھ غلط اسباب کے سبب سرخیوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ ان کا نام ایک آبروریزی معاملے سے جڑ رہا ہے۔محترم پر الزام لگایا جارہا ہے کہ آپ سوریہ نیلی آبروریزی کانڈ میں شامل ہیں۔ پہلے بتادیں کے معاملہ آخر ہے کیا؟ رپورٹ کے مطابق 16 جنوری 1996ء کو سوریہ نیلی نے راجو نام کے ایک لڑکے کے ساتھ اناڑیالی سے کوتھامنگلم جانے والی بس پکڑی تھی۔ بس میں ایک انجان خاتون اوشا سے اس کی ملاقات ہوئی، جو اس پر پہلے سے نظر رکھے ہوئے تھی۔ کوتھامنگلم تک پہنچتے پہنچتے رات کے 8 بجکر40 منٹ ہوگئے تھے۔ اسی درمیان راجو بس سے غائب ہوگیا۔ جانچ رپورٹ کے مطابق یہ سب ایک سازش کا حصہ تھا۔ اتنی رات گئے سوریہ نیلی اکیلی گھر نہیں لوٹ سکتی تھی اس لئے اپنے پوٹائم میں مقیم ایک رشتے دار کے گھر جانے کا ارادہ بنا لیا۔ لیکن جب وہ رشتے دار کے گھر پہنچی تو گھر پر کوئی موجود نہیں تھا۔ تبھی وہاں اوشا آگئی اور سوریہ نیلی کو اس کے نام سے بلایا۔ اوشا نے سوریہ نیلی کو شری کمار نام کے ایک شخص سے ملوایا اور کہا یہ تمہیں منڈاکائم تک چھوڑدیں گے۔ شری کمار سوریہ نیلی کو ایک لانج میں لیکر گیا۔مبینہ طور پر اس نے وہاں اس سے آبروریزی کی۔ بعد میں شری کمار کی پہچان وکیل ایس ۔ایس دھرم راجن کے نام سے ہوئی۔ سوریہ نیلی کو17 جنوری کو بس سے دھرم راجن کوچی لے گیا ، جہاں سے بعد میں اسے کیٹل سے الگ الگ علاقوں میں بھیجا گیا۔ اس دوران اس کے ساتھ 40 لوگوں نے آبروریزی کی اور یہ سلسلہ 40 دنوں تک چلتا رہا۔ اب بات آتی ہے پروفیسر کورین کے ملوث ہونے کی ۔ سال1996ء میں کورین مرکزی وزیر مملکت ہوا کرتے تھے۔ 26 مارچ 1996 ء کو سوریہ نیلی نے پی ۔جے کورین کی تصویر دیکھی اور اسے آبرویزوں میں سے ایک بتایا۔ سوریہ نیلی کے مطابق19 فروری کو کماری گیسٹ ہاؤس میں کورین نے اس سے آبروریزی کی۔ 15 مارچ1996ء کو سوریہ نیلی کے خاندان نے اڈوکی کے مجسٹریٹ کورٹ میں ذاتی پٹیشن دائرکی۔ عدالت نے کورین کو سمن جاری کیا لیکن کورین ہائی کورٹ پہنچ گئے اور مجسٹریٹ کے حکم کو خارج کردیا گیا۔ کیرل کی سی پی ایم سرکار نے کورین کو راحت دینے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی۔ 17 دسمبر2007 ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو محفوظ رکھا۔ کورین شروع سے اس الزام سے انکارکرتے رہے اور اس پورے واقعے کو ان کے خلاف ایک سیاسی سازش بتا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں کورین نے خط کے ذریعے نائب صدر اور یوپی اے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو مطلع کیا ہے۔ پہلے انہوں نے کانگریس صدر سے ملنا چاہا لیکن وقت نہ ملنے کے چلتے خط لکھنا پڑا۔ عدالت کے سامنے جانے سے پہلے انہوں نے راجیہ سبھا اور کانگریس صدر کو پوزیشن واضح کرنا مناسب سمجھا۔ ایسا کرنے سے اپنے خلاف رچی جارہی سازش کے تحت17 سال پرانے معاملے کو کھولے جانے کی مہم چلائی جارہی ہے اور وہ کانگریس صدر سے مل کر اس کو روک سکیں۔ کورین کے قسمت سے ایسا ہوتا نہیں لگتا اس لئے کیرل اسمبلی کے سیاسی گلیاروں سے نکل کر اب معاملہ دوبارہ سماعت کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ اس پوری کارروائی کے دوران ایوان سے سڑک تک اور سیاسی پارٹیوں سے تنظیم تک سبھی کی اس معاملے میں رائے صاف ہے۔ ایک معاملے کی دوبارہ منصفانہ جانچ ہو اور دوسری یہ کے بے داغ ہونے تک کورین اخلاقی طور پر راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ یہ اکثریت کی رائے ہے اس لئے متاثرہ اپنے بیان پر قائم ہے اور اس معاملے میں محض ایک ملزم ضمانت پر چھوٹتے ہی فرار ہے۔ وکیل نے ایک نامعلوم جگہ سے چینل کو دئے گئے انٹرویو میں کورین کو داغی ٹھہرایا ہے۔ کانگریس صدر اور پارٹی کی مصیبت یہ ہے کہ ایک طرف تو دیش کا آبروریزوں کے تئیں ماحول بہت گرم ہے اور دوسرا بجٹ اجلاس شروع ہونے والا ہے۔ کورین کو پارٹی کی خاطر خود استعفیٰ دے دینا چاہئے اور پارٹی کو ہونے والی فضیحت سے بچانا چاہئے۔ داغ صاف ہوتے ہی لوٹ سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

یٰسین ملک ،حافظ سعید ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے

کشمیرکے مشہور علیحدگی پسند لیڈر یٰسین ملک کا تازہ دورۂ پاکستان کو لیکر ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ہندوستانی پاسپورٹ سے یٰسین ملک ان دنوں اسلام آباد گئے ہوئے۔ انہوں نے وہاں ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ آتنکی سرغنہ حافظ سعید کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر شرکت کی۔ پارلیمنٹ پر حملے کے قصوروار افضل گورو کو پھانسی دئے جانے کے بعد اسلام آباد میں ہوئی نماز جنازہ میں جماعت الدعوی کے سرغنہ اور ممبئی حملے سمیت کئی دہشت گردانہ وارداتوں کے بنیادی سازش کنندہ حافظ سعید کے ساتھ جے کے ایل ایف نیتا یٰسین ملک بھی موجود تھے۔ پاکستان میں پھانسی کی مخالفت میں 24 گھنٹے کے اندر درجن بھر پروگرام ہوئے۔ ان میں سے8 میں ملک کو سعید کے ساتھ دیکھا گیا۔ پچھلی جمعہ کی رات جب وزارت داخلہ کی ہدایت پر جموں و کشمیر پولیس پارٹی علیحدگی پسند لیڈروں کو نظر بند کررہی تھی تب بھی پاکستان میں ملک حافظ سعید کے رابطے میں تھا۔ ذرائع کے مطابق سنیچر کی صبح افضل کو پھانسی دینے کے وقت سے لیکر ایتوار کو دیر رات تک حافظ اوریٰسین کی کئی ملاقاتوں کے بارے میں خفیہ محکمے نے نگرانی رکھی ہے۔ قابل غور ہے ملک سرکاری طور پر کنبہ جاتی معاملوں سے ذاتی دورہ پر اسلام آباد گئے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس 23 جنوری سے26 فروری تک کا ویزا ہے۔ وزارت داخلہ کو اندیشہ ہے کہ اگرپاسپورٹ ابھی منسوخ کیا گیا تو اسی بنیاد پر ملک پاکستان میں ہی رک سکتا ہے۔ امکانی حکمت عملی صاف ہے۔بھارت میں علیحدگی پسند اور پاکستان میں آتنکی سرغنہ افضل گورو کی پھانسی کو انسانی حقوق کا اشو بنا سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں یٰسین ملک کی بھوک ہڑتال ، حافظ سعید کے ساتھ مشترکہ اسٹیج شیئر کرنا اور بھارت میں علیحدگی پسندوں کے سر یہ سب اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ علیحدگی پسندوں کے اس بیان سے متفق نہیں ہیں کہ گورو کو منصفانہ انصاف نہیں ملا ہے۔ سیشن کورٹ کے فیصلے کے بعد ہائی کورٹ کی ڈبل بینچ کی مہر اور پھر سپریم کورٹ میں ہر پہلو کی سماعت ۔ 2006 ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 6 سال تک گورو کی پھانسی ٹلتے رہنا، یہ سب فیئر نیس دکھانے کے لئے کافی ہے۔دیش کی سب سے بڑی عدالت اور صدر کے یہاں طویل عرصے سے لٹکی رحم کی عرضی پر غور کے بعد پھانسی دینا پوری طرح سے قانونی ہے۔ دنیا کی نظرمیں بھی اس پر کوئی اشو بنتا نہیں۔ اشو زبردستی بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ اب پھانسی سے پہلے خاندان کو مطلع نہ کرنا، آخری بار ملنے کو نہ بلانا اور لاش نہ دینا وغیرہ وغیرہ اشو بنائے جارہے ہیں۔ جو لوگ اسے زبردستی اشو بنانے کی کوشش کررہے ہیں ان کو بھی فیئر ٹرائل پر کچھ بھی نہیں کہنا۔ پھانسی کے بعد کے اشو کو اچھالنا اور اسکی امکانی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ افضل گورو کی پھانسی کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔ اصل مقصد ان اشوز کے ذریعے کشمیر تنازعے کو گرماتے رہنا ہے۔ افضل ایک ہندوستانی شہری تھا ،جس پر بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں مقدمہ چلا اور سزا ملی۔ رہی بات انسانی حقوق کی تو جو لوگ اس حملے میں شہید ہوئے ہیں ان کے اور ان کے کنبے والوں کے بھی انسانی حقوق تھے۔ یٰسین ملک کے تازہ رویئے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ یہ سبھی علیحدگی پسند پاکستان کے آتنکی سرغناؤں سے ملے ہوئے ہیں اور ان کی زبان بھی بھارت مخالف ہے۔
(انل نریندر)

14 فروری 2013

اگر حکومت ، پولیس، انتظامیہ بے قصور تو قصوروار کون سے وزیر ہیں؟

دنیا میں کنبھ جیسا کوئی بڑا دھارمک اجتماع نہیں ہوتا جہاں ایک جگہ پر اتنی بڑی تعداد میں عوامی سیلاب اکٹھا ہوتا ہے۔ اس لئے اسے اپنے آپ میں ایک نرالہ سماگم مانا جاتا ہے۔ مونی اماوسیہ پر 3 کروڑ شردھالوؤں نے سنگم میں آستھا کی ڈبکی لگائی۔ ظاہر ہے کہ ایسے انعقاد کو پرامن طور سے مکمل کرانا ایک بڑا چیلنج تو ہے ہی ساتھ ہی یہ سرکار اور میلہ انتظامیہ اور ریلوے کے لئے بھی یہ ثابت کرنے کا موقعہ بھی ہے کہ وہ یہ کردکھائیں کے وہ اس بڑے میلے کا ٹھیک طریقے سے انتظام کرنے کے اہل ہیں۔ ایتوار کو الہ آباد ریلوے اسٹیشن پر مچی بگدڑ اور اس میں جان گنوانے والوں کی تعداد نے صاف کردیا کے کنبھ جیسے بڑے اجتماع کے موقعے پراکٹھی ہونے والی بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے جس طرح سے سسٹم مینجمنٹ طریقے کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کہیں نہ کہیں خامی ضرور جھلکتی تھی۔ ریلوے شہری انتظامیہ اور میلہ انتظامیہ کے درمیان کوئی ایسا تال میل نہیں نظر آیا جس سے بھاری بھیڑ کے آنے جانے کولیکر کوئی ٹھوس فیصلہ لیا جاسکے جبکہ اس بارے میں ماضی میں تمام دعوے کئے گئے تھے ۔ سوال ہے کہ کیا کنبھ جیسے بڑے دھارمک اجتماع کو لیکر ریلوے کے پاس کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا؟ یہ بات تو طے تھی کہ مونی اماوسیہ جیسے خاص موقعے پر عام طور پر زیادہ بھیڑ اکٹھی ہوگی۔ یہ بھی صاف تھا کہ لوگ دور دور سے آئیں گے۔ ٹرین جیسے وسائل سے سب سے زیادہ لوگ آئیں گے۔ پھر بھی اس طرح کی افراتفری کیوں مچی؟ نئی دہلی اور دوسرے کچھ اسٹیشنوں پر زیادہ بھیڑ جمع ہونے کے سبب پہلے بھی اس طرح کے حادثات ہوئے ہیں تب ریلوے نے انہیں روکنے کے لئے کئی طرح کے منصوبے بنائے تھے۔ الہ آباد میں ان کا استعمال کیوں نہیں ہوا؟ اگر میلہ انتظامیہ پولیس اور ریلوے پولیس کے درمیان تال میل ہوتا تو شاید ریلوے اسٹیشن پر اتنے سارے لوگ ایک ساتھ نہیں پہنچتے۔ بھیڑ کو ایک جگہ جمع ہونے کوکہا جاسکتا تھا۔ اصل میں کنبھ زون میں سسٹم سے زیادہ مسئلہ 2 سے3 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دینا ہی خطرے کی گھنٹی تھی۔ ضلع انتظامیہ کو چاہئے تھا وہ شہر کے اندر ہی اس بھیڑ کو داخل نہ ہونے دیتی۔ سرحد اضلاع پرتاپ گڑھ، جونپور، چترپور، فتح پور، کوشامبی میں بھی بھیڑ کو پہلے ہی سے روکا جاتا اور تعداد کے مطابق پہلے شہر میں داخل ہونے کی اجازت ملتی بعد میں میلہ زون میں لیکن ریاستی حکومت نے ایسی کوئی دوررس حکمت عملی نہیں بنائی۔ جتنے مسافر آئے سبھی کو کنبھ زون میں جانے کی اجازت دے دی گئی اور ٹھیک ٹھاک میلہ زون سے نکل کر اپنی ذمہ داری سے نجات پالی۔ میلہ زون سے نکلنے کے بعد تیرتھ یاتری سیدھے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے جبکہ اسٹیشن پر اتنے لوگوں کے جمع ہونے کی سہولت ہی نہیں تھی۔ اگر ریلوے انتظامیہ کو سمجھ ہوتی تو سول لائن زون اور دیگر زون میں مسافر ریلوے جنکشن کے دونوں طرف باڑہ بنا کر ٹھہرائے جاتے۔ ضرورت کے مطابق ریلوے اسٹیشن پر جانے کے لئے مسافروں کو وہاں سے بھیجا جاتا۔ لیکن اس کام کے لئے پولیس کا تعاون بھی ضروری ہوتا ہے۔ نارتھ سینٹرل ریلوے کے افسران کا کہنا ہے ضلع انتظامیہ سے پولیس منگائی گئی لیکن انہوں نے منع کردیا۔ کیونکہ میلے میں انتظام کرنا تھا اور سارا ذمہ ریلوے انتظامیہ پر تھونپ دیا گیا۔ ریلوے پولیس کا عام جنتا خاص کر تیرتھ یاتریوں سے جیسا برتاؤ ہونا چاہئے تھا اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ دراصل ریلوے پولیس کو نہ تو ایسا بتایا گیا اور نہ ہی بھیڑ کو کیسے کنٹرول کریں اس کی تربیت دی گئی۔ اس لئے بھیڑ بڑھتے ہی ریلوے پولیس بد حواس ہوگئی اور جیسے ہی اسٹیشن پر ٹرین آنے کا اعلان ہوا اور فٹ اوور برج پر دونوں طرف سے لوگوں کا ریلا آگیا۔ ریلوے پولیس نے سوجھ بوجھ سے کام لینے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج کردیا ۔ اس کے بعد جو ہونا تھا ہوا۔ سب سے بڑی حیرانی کی بات یہ ہے کہ نارتھ سینٹرل ریلوے نے اور نہ ہی الہ آباد زون ریلوے اسٹیشن پر کسی طرح کی ایمرجنسی حکمت عملی بنائی گئی اگر حادثہ ہو تو اس سے کیسے نمٹیں اور متاثروں کو کیسے ہسپتال پہنچانے کا انتظام ہو اس کے بارے میں پہلے سے سوچا جاتا۔ یہاں تو کوئی عارضی ہسپتال تھا اور نہ ہی ریلوے ہسپتال کی ایمبولنس کی تعیناتی۔ ورادات کے دو گھنٹے بعد ایمبولنس کا آنا اور اسٹریچر کی کمی نے مسافروں کو کپڑوں میں اٹھاکر ہسپتال پہنچایا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کے ریلوے انتظامیہ نے بیحد لاپروائی سے میلے کا انتظام کیا تھا جس کا نتیجہ بے قصور مسافروں کو بھگتنا پڑا۔ الہ آباد ریلوے اسٹیشن پر حادثہ کسی ایک وجہ سے تو نہیں ہوا۔یہاں لاپروائی کی کئی حدیں پارہوئی ہیں وہ ساری باتیں سامنے آنی چاہئیں تاکہ کوئی بنیادی تبدیلی لائی جاسکے۔

 (انل نریندر)

قصاب بنام افضل ایک خوف کا چہرہ تو دوسرا شیطانی دماغ

پارلیمنٹ حملے کے سازشی افضل گورو کی پھانسی کی خبر کے ساتھ ہی ہر ہندوستانی کے ذہن میں ایک اور پھانسی کی انچاہی تصویر سامنے آجاتی ہے۔ ممبئی میں قہر برپانے والے اجمل عامر قصاب کا کارنامہ بھلے ہی الگ ہو لیکن دونوں کا ارادہ ایک ہی تھا، انجام بھی ایک سا ہی ہوا۔ ایک نے دیش کے اقتصادی شہر کو تو دوسرے نے سیاسی مندر کو نشانہ بنایا۔ اس میں سے ایک غیر ملکی تھا تو دوسرا ہندوستانی۔ لیکن دونوں کی کمان پاکستان میں ہی تھی۔ دونوں کو کانگریس قیادت والی یوپی حکومت نے پھانسی پر لٹکایا ۔ دونوں کو صبح صبح خفیہ طریقے سے لٹکایا گیا۔ قصاب سرحد پار سے آیاتھا، افضل ہماری سرزمیں کا تھا۔ قصاب میں نفرت کا زہر بھرا گیا تھا۔ افضل گورو زہر بھرتا تھا۔ قصاب غیر قانونی طریقے سے گھس آیا تھا۔ افضل غیر قانونی طریقے بتا رہا تھا۔ قصاب قاتل تھا، حملہ آور تھا،جوان تھا۔ افضل قاتلوں اور حملہ آوروں کی سازش بن رہا تھا، مددگار تھا اور وہ سازش کا ماسٹرمائنڈ تھا۔ لیکن دونوں کے معاملوں میں ایک فرق تھا۔ قصاب کولیکر ایک طرف ماحول بنا کے وہ آتنکی ہے اور کئی گھنٹوں تک اس نے تباہی مچائی، اسے پھانسی ہونی چاہئے۔ افضل کا ماحول الگ رہا۔ ایک طبقہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اسے معصوم بتاتا رہا۔ اس میں بڑے دانشور خاص کر سیکولر دانشور تھے۔ دوسری طرف افضل کو پھانسی دینے میں8 سال کیوں لگے۔ یہ سوال آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ قصاب کی طرح افضل نے بھلے ہی خود اپنے ہاتھوں سے موت نہیں برپا کی لیکن پارلیمنٹ پر حملے کی سازش میں اس کے رول کو دیکھ کر اس کا یہ انجام عدالت نے 8 سال پہلے ہی سنا دیا تھا۔پارلیمنٹ حملے میں بھلے ہی حملہ آور صرف 10 سکیورٹی ملازمین کو نشانہ بنا پائے لیکن حملے کی اپنی اہمیت میں کسی بھی طرح سے ممبئی حملے سے کم نہیں تھی۔ قصاب نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جہاں دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی کو نشانہ بنایا تھا وہیں افضل کے نشانے پر ہندوستانی جمہوریت کے دل پارلیمنٹ سمیت وزیر اعظم، وزیر داخلہ سمیت پورا حکمراں طبقہ و سیاسی لوگ تھے۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگوں کو ٹھکانے لگانے والے ممبئی حملے میں پکڑا گیا قصاب اگر آتنک واد کا زندہ چہرہ تھا تو افضل آتنک واد کا شیطانی دماغ۔ دونوں حملوں کا ارادہ کشمیر مسئلے کو بین الاقوامی رنگ دینا تھا مگر قصاب کو اس کارروائی کے لئے سیدھے پاکستانی ایجنسیوں نے ہر طرح کی مدد کی اور ٹریننگ دے کر بھیجا تھا جبکہ کشمیر کے سوپور علاقے کا باشندہ افضل اس مسئلے کے ساتھ طویل عرصے سے جذباتی طور پر وابستہ ہوا تھا۔ دونوں کو جس جیل میں پھانسی دی گئی وہیں پر دفنایا بھی گیا۔ قصاب اور افضل دونوں ہی پاکستانی آتنکی تنظیم کے مہرے تھے۔ قصاب جہاں پہلے مزدوری کرتا تھا وہیں افضل نے اپنے کیریئر کی شروعات پھل فروش سے کی تھی۔ قصاب لشکر طیبہ کا گرگا تھا تو افضل گورو جیش محمد کا۔ قصاب کی طرح گورو بھی حملے والے دن گرفتار ہوا تھا۔ قصاب ممبئی میں پولیس کے ہاتھوں پکڑا گیا، گورو دہلی سے بھاگنے کی کوشش میں ایک بس سے پکڑا گیا۔ 43 سالہ افضل گورو کشمیری تھا وہ دوسرا ایسا دہشت گرد ہے جسے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی دی گئی۔ اس سے پہلے 11 فروری 1984ء کو مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تھی۔ مقبول بٹ کو چھڑانے کے لئے جے کے ایل ایف کے آتنکیوں نے ایک ہندوستانی سفارتکار کا اغوا کرلیا تھا۔ اپنے پاکستانی آقاؤں کے اشارے پر قصاب کا ارادہ ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ غیر ملکیوں کو نشانہ بنانا تھا۔ وہیں افضل نے بھارت سرکار کو دباؤ میں لیکر اپنی مانگ منوانے کا بیحد خطرناک ارادہ منوایاتھا۔ دونوں ہی معاملوں میں پاکستان بار بار اپنے کسی رول سے پوری طرح سے انکار کرتا رہا لیکن اس کا رول صاف تھا۔ یہ ہی وجہ تھا کہ دونوں ہی حملوں کے بعد اس کے بھارت کے تعلقات بیحد نازک حالت میں پہنچ گئے تھے۔ پارلیمنٹ حملے کے بعد تو دنوں ملکوں کے بیچ جنگ جیسی تیاریاں وسیع پیمانے پر شروع بھی ہوگئی تھیں۔
(انل نریندر)

13 فروری 2013

سافٹ نیشن کے سخت فیصلے کا عام طور پر اچھا اثر پڑا ہے

حکومت کو بڑی فکر تھی کہ اگر افضل گورو کو پھانسی دی گئی تو اس کا عوام خاص کر اقلیتی طبقے میں بہت زیادہ ردعمل ہوگا۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ لٹکا رہا لیکن حکومت نے تب تھوڑی راحت کی سانس ضرور لی ہوگی جب کشمیر وادی کو چھوڑ کر کہیں بھی دیش میں کوئی ردعمل نظر نہیں آیا۔ ہاں ردعمل ہوا تو کئی مقامات میں مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ ہمیںیہ جان کر خوشی بھی ہوئی اور تسلی بھی ہوئی کہ اسلامی تنظیموں نے بھی افضل کی پھانسی کو صحیح ٹھہرایا۔ اسلامی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند سمیت علما نے پارلیمنٹ حملے کے ملزم افضل کو پھانسی دئے جانے کا خیر مقدم کیا۔ سنیچر کوافضل گورو کو پھانسی دئے جانے کے معاملے میں دارالعلوم دیوبند کی جانب سے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وہاں کے پی آر او اشرف عثمانی نے کہا کہ ہندوستان سیکولر ملک ہے اور افضل گورو کو پھانسی دے کر پارلیمنٹ نے اپنا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہندوستان کے قانون پر انہیں پورا یقین ہے اس لئے اچھی بات ہے کہ ہندوستان کی حفاظت کے لئے جو بھی لوگ خطرہ بنے ہوئے ہیں انہیں بھی اسی انداز میں پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے۔ افضل گورو کی لاش کو لیکر افضل کے خاندان نے جو ہلہ کیا ہے وہ ہماری رائے میں ٹھیک نہیں تھا۔ بھارت کی تاریخ میںیہ چوتھا موقعہ ہے جب کسی آتنکی کو پھانسی دینے کے بعد اس کی لاش جیل میں ہی دفنا دی گئی ہو یا آخری رسم کردی گئی ہے۔ مقبول بٹ، ستون سنگھ، کہر سنگھ، اجمل عامر قصاب کسی کی بھی لاش نہیں دی گئی۔ یہ ہی نہیں جب انگریزوں کی حکومت تھی تو میرے تاؤ جی ویریندر جی نے بتایا تھا کہ بھگت سنگھ کو پھانسی دینے کے بعد اس کی لاش کا انتم سنسکار جیل میں ہی کیا گیا تھا۔ باہر انتظار کررہے بھگت سنگھ کے خاندان والوں کو نہیں دی گئی تھی۔ سوال اٹھتا ہے کہ پھانسی کے بعد لاش پر کس کا اختیارہو۔نامور قانون داں آر ایس سوڑی کہتے ہیں کے ایسے معاملوں میں لاش پر سرکار کا حق ہوتا ہے اور یہ ہی دلیل ستون سنگھ اور کہر سنگھ کے معاملے میں بھارت سرکار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دی گئی تھی۔ رد عمل کی بات کررہے ہیں تو گورو کو پھانسی دے کر یوپی اے سرکار نے دیش سے باہر والوں کو صاف سندیش دیا ہے کہ بیشک ہم ایک سافٹ ملک کہے جائیں لیکن ہم سخت فیصلے بھی کرسکتے ہیں۔ جہاں تک دیش کے اندر آتنک وادی ہیں یا شاطر مجرم ہیں انہیں بھی سرکار نے سخت پیغام دیا ہے۔ اپنی موت کا انتظار کررہے خطرناک آتنک وادی دیوندر پال سنگھ بھلر گورو کی پھانسی کے بعد سے بے چین ہے اور اس کے پریشان ہونے سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ شاہدرہ کے سائکیٹرک و ریلیشن سائنس انسٹیٹیوٹ میں علاج کرارہا ہے۔ اس آتنکی نے سنیچر کو ناشتہ تک نہیں کیا۔ نئی دہلی میں رائے سینا روڈ پر یوتھ کانگریس کے دفتر کے باہر1993ء میں 35 کلو آر ڈی ایکس کے ساتھ دیوندر سنگھ بھلر نے کار بم سے دھماکہ کیا تھا جس میں 32 لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یوتھ کانگریس کے صدر منندر سنگھ بٹہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ ہی نہیں وسنت وہار گینگ ریپ کے ملزم کی سزا کی مانگ چاروں طرف سے ہورہی ہے۔ اسی درمیان تہاڑ جیل نمبر3 میں افضل گورو کو پھانسی دئے جانے کے بعد جیسے ہی خبر تہاڑ جیل میں پھیلی تو قیدی دنگ رہ گئے۔ وہیں آبروریزی کانڈ کے ملزمان کا دل بھی دہل گیا۔ غور طلب ہے اس گھناؤنے واقعے میں پانچ ملزم تہاڑ میں بند ہیں۔ اس میں سے دو قیدی اکشے اورمکیش جیل4 و2 میں ہیں۔ قیدی پون اور ونے جیل نمبر7 میں بند ہیں جبکہ رام سنگھ جیل نمبر3 کے کسوری وارڈ میں بند ہے جس جیل میں افضل گورو کو رکھا گیا تھا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ افضل کی پھانسی سے جیل میں بند قصوروار کافی ڈرے ہوئے ہیں۔ کل ملاکر اس پھانسی سے اچھا پیغام گیا ہے۔
(انل نریندر)

دیش میں ہر منٹ میں ایک بچہ غائب ہوجاتا ہے

اس پر حیرت نہیں غائب ہوتے بچوں کو لیکر لاپروائی کا ثبوت دینے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں کو بھی سخت ڈانٹ لگائی ہے۔ لاپتہ ہورہے بچوں کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے ذریعے یہ کہا جانا کہ سرکاروں کو ان بچوں کی کوئی فکر نہیں ہے، یہ ایک سخت لیکن بہت ہی مجبوری میں کیا گیا تبصرہ ہے۔ جنوری2008ء سے جنوری2010ء کے درمیان لاپتہ تقریباً1.17 لاکھ بچوں جن میں ایک تہائی اب بھی تلاشے نہیں جاسکے، سے متعلق عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے یہ ریمارکس دئے۔ سپریم کورٹ کی ناراضگی تب اور بھی جائز لگتی ہے جب یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ اس کے ذریعے بار بار کہنے کے باوجودلاپرواہ ریاستی سرکاروں کی جانب سے بچوں کی گمشدگی کے سلسلے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے میں آناکانی کی گئی۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ریاستوں کو وقت دیتے ہوئے رپورٹ داخل کرنے اور ناکام رہنے پر چیف سکریٹریوں کو پیش ہونے کو کہا۔ ایک بیحد سنجیدہ مسئلے پر اسٹیٹ کی اس بے رخی پرشاید ہی کسی کو تعجب ہوا ہو عدالتیں کہہ کر تھک جاتی ہیں لیکن سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سیاسی لیڈر شپ کو بھی جب تک اپنے وجود پر کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تب تک وہ بھی کسی اشو کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔ لاپتہ بچوں کا معاملہ کیونکہ غریب طبقے سے وابستہ ہے اس لئے انہیںیہ پریشان نہیں کرتا۔ سماج سے محروم طبقے کے اور دیگر سوالوں کی طرح یہ بھی حاشئے پر پڑا ہوا ہے۔ لاپتہ بچوں کا سیدھا تعلق قانون و انتظام سے ہے۔ باوجود اس کے سپریم کورٹ کے سامنے یہ صاف ہوا کہ کچھ ریاستوں نے اس کے نوٹس کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ بچوں کے ساتھ ہورہے برتاؤ کے معاملے میں رہ رہ کر سامنے آنے کے باوجود حالت یہ ہے کہ کئی ریاستوں میں لاپتہ بچوں کی رپورٹ تک درج نہیں کی جاتی ہے۔ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کوئی بھی سوال سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ آخرکار اتنی بڑی تعداد میں بچے کیوں لاپتہ ہورہے ہیں؟ اسی لاپرواہی اور بے حساسی کا یہ نتیجہ یہ ہے کہ بچوں کے معاملے میں لاپتہ لفظ کو صحیح ڈھنگ سے تشریح نہیں کیاگیا۔ نیشنل کرائم بیورو کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کے دیش میں ہر 8 منٹ میں ایک بچہ غائب ہوجاتا ہے۔ سرکار پارلیمنٹ میں دی گئی جانکاری میں یہ مان چکی ہے کہ صرف 2011 ء میں دیش بھر میں قریب 60 ہزار بچے لاپتہ ہوئے جن میں سے22 ہزار کا ابھی تک پتہ نہیں چلا۔ بتانے کی ضرورت نہیں کہ لاپتہ ہوئے بچوں کو منظم گوروہوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر جسم فروشی ، بھیک مانگنے، بچہ مزدوری کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ غور طلب ہے کہ دہلی کے مشہور آبروریزی معاملے کے بعد تشکیل کردہ ورما کمیٹی کو سجھاؤ دینے کو لیکر بھی ریاستوں کی پولیس سربراہوں نے غیر ضروری بے رخی دکھائی تھی۔ یہ دوہرانے کی ضرورت نہیں کے کسی بھی دیش و نظام یا سماج کی شمولیت کا اثر عورتوں اور بچوں کے تئیں اس کے رویئے کو دیکھ کر ہی پرکھا جاتا ہے۔
(انل نریندر)

12 فروری 2013

8 بجے،8 لوگ،8 منٹ میں گورو کی پھانسی کو لگے 8 سال

جی ہاں پارلیمنٹ پر سال2001ء میں آتنک وادی حملے کو انجام دینے میں جیش محمد کے آتنک وادیوں کو مدد کرنے والے کشمیری پھل فروش محمد افضل گورو کو سنیچر کو بیحد خفیہ طور پر صبح8 بجے ،8 لوگوں کی موجودگی میں 8 منٹ میں پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا گیا۔ حالانکہ اس پھانسی کو دینے میں یوپی اے سرکار کو 8 سال کا عرصہ لگ گیا۔ سال2002ء میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں بطور اسپیشل ایڈیشنل سیشن جج جسٹس شیو نارائن ڈھینگڑا نے افضل کو قصوروار مانتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر آتنکی حملے سے پورا دیش غصے میں تھا۔ جانچ ایجنسیوں کے پاس قصورواروں کو قصوروار ٹھہرانے کے لئے ٹھوس ثبوت موجود تھے، مقررہ وقت میں نچلی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک نے پارلیمنٹ حملے کے بنیادی مجرم افضل گورو کو پھانسی کی سزا سنا دی تھی لیکن سرکار نے ہی رسی کھینچنے میں 8 سال لگا دئے۔
افضل گورو کو یوں چپ چاپ اور اچانک بغیر بھنک لگے پھانسی پر لٹکانے کے پیچھے کیا وجوہات ہو سکتی ہیں اس پر بحث ہونی چاہئے لیکن اس سے پہلے دو باتیں کرنا ضروری ہیں۔ جو لوگ افضل گورو کی سزا کو غلط اور ناجائز قراردیتے ہوئے کہتے ہیں ان کا مقدمہ صحیح طریقے سے نہیں چلا، انہیں میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ بھول رہے ہیں کے اسی کیس میں ملزم ذاکر حسین کالج کے پروفیسر ایس آر گیلانی کو سیشن عدالت نے حالات اور ثبوتوں کی بنیاد پر قصوروار ٹھہراتے ہوئے سزا سنائی تھی لیکن دہلی ہائی کورٹ نے گیلانی کی سزا کے خلاف داخل چیلنج عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کے ان ثبوتوں کو بے بنیاد قراردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے گیلانی اور افشاں گورو کو پارلیمنٹ حملے سے بری کردیا تھا۔ دوسری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حالانکہ مسٹر پرنب مکھرجی صدر بن گئے ہیں لیکن برسوں تک وہ یوپی اے سرکار کے سنکٹ موچک رہے اور آج بھی ہیں۔ جب صدر محترم کو لگا کے کانگریس بحران سے گھری ہوئی ہے تو اس سے نکالنے کے لئے کچھ ایسا کرنا ہوگا جس سے کانگریس کا گرتا گراف رک جائے۔ صدر بننے کے بعد بھی پرنب نے کئی موقعوں پر اپنے فیصلوں سے سرکار کو بحران سے نکالا ہے۔ پہلے اجمل قصاب اور اب افضل گورو کی رحم کی اپیل یوں ہی نہیں مسترد ہوئی؟ اب دیش کو انتظار ہے دیگر پھانسی کی سزا پائے اشخاص کو پھانسی پر لٹکتے دیکھنے کا۔ ان میں دیویندر پال سنگھ بھلر، بلونت سنگھ رجوانا، اشفاق عرف عارف اور راجیو گاندھی کے قاتل ہیں۔ کیا صدر ان کی رحم کی عرضیوں کا نپٹارہ قصاب اور گورو کی طرح کریں گے؟ رہا سوال یوپی اے اور کانگریس کی افضل کو پھانسی دینے کے پیچھے کیا کیا مقصد رہے ہوں گے؟ کانگریس نے گورو کو پھانسی دے کر ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔
بدعنوانی اور مہنگائی جیسے اشو سے لڑ رہی کانگریس کی یوپی اے سرکار نے تین مہینے کے اندر قصاب اور گورو کو پھانسی دے کر جہاں ایک طرف اپوزیشن حملوں اور اپنی چوطرفہ تنقیدوں کا جواب دیا ہے وہیں سخت فیصلے لینے کی اپنی قوت ارادی کا بھی اشارہ دے دیا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے اپوزیشن کے ذریعے آنے والے بجٹ اجلاس میں سرکار اور اس کے اہم وزرا کو گھیرنے کی حکمت عملی بنائی جارہی تھی خاص کر جے پور چنتن شور میں وزیر داخلہ کے ذریعے بھگوا آتنکواد سے جڑے بیان کو لیکر ان کا بائیکاٹ کرنے کی تیاری کی جارہی تھی۔ ایسے میں سرکار نے آتنک واد کے خلاف سخت قدم اٹھا کر اپوزیشن کو سیاسی طور پر مات دینے کی کوشش کی ہے۔ بیشک بھگوا آتنک واد کے متعلق بیان اور اجتماعی آبروریزی معاملے کو ٹھیک طرح سے ہینڈل نہ کرپانے کو لیکر وزیر داخلہ شندے پر لگے الزامات کی دھار کو کم کرنے کے لئے کانگریس نے اسی وزیر داخلہ سے دوسری پھانسی پر فیصلہ کروا کر اپوزیشن کی آئندہ کی حکمت عملی پر پانی پھیرنے کی کوشش کی ہے جس طرح سے یوپی اے کے عہد کے آخری ڈیڑھ برس میں کانگریس نے سرگرمی دکھانی شروع کی ہے اس کا صاف مقصد آنے وانے دنوں میں سیاسی فائدہ اٹھانا ہے۔ 
پالیسی پالیٹکس کے الزام جھیل رہی سرکار نے ایک کے بعد ایک جس طرح سے سنجیدہ معاملوں میں قصورواروں کو پھانسی دلوائی ہے اس سے صاف ہوگیا ہے کہ وہ پوری طرح سے حرکت میں آگئی ہے اور پھر نریندر مودی کے مرکز کی طرف بڑھ رہے قدموں سے گھبراکر کانگریس نے پہلے ہی اس مصیبت سے نجات پانے کی کوشش کی ہے جسے مودی مبینہ طور پر اپنے پروپگنڈہ کی بڑی مہم چلانے والے تھے۔ پھرلوک سبھا چناؤ کے دستک دینے پر ووٹ بٹورنے کی کانگریسی حکمت عملی کا حصہ ہے؟ خیال رہے کہ 20 جنوری کو شندے نے کانگریس چنتن شور میں بھگوا آتنک واد کی بات کہی اور بھاجپا و سنگھ پر آتنکی کیمپ چلانے کا الزام لگایا۔ ٹھیک اس سے اگلے دن انہوں نے افضل کی فائل منگائی اور 22 جنوری کو اسے صدر کے پاس بھیج دیا۔ برسوں سے لٹکا ہوا معاملہ 15 دن میں ہی نپٹادیا گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ ایسا ماننے والوں کی کمی نہیں جو یہ مانتے ہیں کہ پھانسی کانگریس کا لوک سبھا چناؤ جیتنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
پارٹی اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر بھاجپا مودی کو آگے کرکے چناؤ لڑتی ہے تو اس سے بلاشبہ دیش کا مسلمان کانگریس کو ووٹ دے گا۔
افضل کی پھانسی جیسے چھوٹے موٹے قدم بھی کانگریس کے حساب کتاب کو خراب نہیں کرسکتے کیونکہ اگر مودی کی مخالفت کرنی ہے تو انہیں کانگریس کے ساتھ آنا ہی ہوگا۔ افضل کی پھانسی سے بھاجپا کو دھکا لگنا فطری ہے ہی۔ ایک بہت بڑا اشو اس کے ہاتھ سے چھن گیا ہے۔ یہ ہی نہیں اس قدم سے بھاجپا کے ہندو ووٹوں کے پولرائزیشن کی کوشش کو بھی دھکا لگا ہے۔جب بھاجپا یہ مان رہی تھی کہ مودی سمیت اس کے دوسرے لیڈر آتنک واد کے اشو پر جب اپنی بات رکھیں گے تو کانگریس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا لیکن اب الٹا ہونے کا خطرہ پڑ گیا ہے۔ کانگریس تو اب یہ دعوی کرسکتی ہے ان کے عہد میں آتنکیوں کو پھانسی دی گئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں رہتے ہوئے آتنک وادیوں کو قندھار تک چھوڑنے سرکار گئی تھی۔
(انل نریندر)

10 فروری 2013

وی آئی پی سیکورٹی کے لئے نئی فورس: دہلی پولیس کو مہلاؤں،عوام کی سیکورٹی پر لگاؤ

نیتاؤں، نوکرشاہوں اور مجرموں کی سیکورٹی میں تعینات پولیس کی ضرورت پر اکثر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آگیا ہے۔ وی آئی پی سیکورٹی کو لے کر سپریم کورٹ کی ہدایت بے حد اہم ہے سپریم کورٹ میں جسٹس جے ایف سنگھوی کی سربراہی والی بنچ یوپی کے ابھے سنگھ کی رٹ پٹینشن پر غور کررہی ہے۔ بنچ نے شیلادیکشت کے اس بیان پر بھی پوچھ تاچھ کی ہے جس میں انہوں نے بدھوار کو کہاتھا کہ حال ہی میں سیکورٹی اصلاحات پر غور کرنے کے باوجود راجدھانی میں مہلائیں محفوظ نہیں ہے۔ کورٹ نے ریاستوں کے ہوم سیکورٹیوں سے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں بتائیں کہ ان کے یہاں پولیس سیکورٹی کسے، کتنی اور کیوں ملی۔ اور اس پر کتنا خرچ آرہا ہے۔ راجدھانی دہلی میں 459 وی آئی پی کی سیکورٹی پر سال بھر میں 341کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ یہ جانکاری دہلی سرکار نے سپریم کورٹ نے ایک حلف نامہ میں دی ہے۔ حلف نامہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دہلی پولیس میں 83452 اسامیاں منظور شدہ ہے جس میں قریب 36ہزار پولیس کے جوان تعینات ہے۔ دہلی پولیس کی سیکورٹی یونٹ میں 7205 پولیس کے جوان جب کہ راشٹر پتی بھون کی سیکورٹی کے لئے 844 پولیس کے جوان تعینات ہیں جن لوگوں کو آتنکی، نکسلی تنظیموں کے علاوہ انتہا پسند گروپوں سے جان کاخطرہ ہے انہیں سرکار زیڈ پلس، زیڈ، وائی و ایکس زمرہ کی سیکورٹی مہیا کراتی ہے۔ ان میں نیتا وسرکاری مشینری سے جڑے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو بھی سیکورٹی مہیا کرائی جاتی ہے جنہیں کوئی دھمکی تو نہیں ہے لیکن وہ ایسے دفتر میں ہیں جہاں مفاد عامہ میں لئے گئے فیصلے سے کسی کے نشانے پر آئے ہوں۔ اس کے علاوہ کسی بھی شخص کی جان کو خطرہ محسوس ہونے پر بھی اس کو سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا ہے کہ وہ وی آئی پی سیکورٹی میں لگے پولیس کرمچاریوں کو وہاں سے ہٹا کر مہلاؤں کی سیکورٹی میں لگائے۔ کورٹ نے تو یہاں تک پوچھا ہے کہ آخر ججوں کو کیا سیکورٹی دی گئی ہے؟ عدالت نے اس بات پر چنتا جتائی ہے کہ کئی ایسے نیتاؤں کو سیکورٹی ملی ہوئی ہے جو حکومت سے باہر تھے اور ان کے خلاف کئی معاملے چل رہے ہیں۔ وی آئی پی کو پولیس سیکورٹی کامعاملہ پہلے بھی اٹھتا رہا ہے لیکن دہلی گینگ ریپ کے بعد یہ زیادہ اہمیت سے اٹھایا گیا ہے ۔ راجدھانی کو شرمسار کرنے والی گینگ ریپ کی گھٹنا کے بعد بھی دہلی پولیس کی سرگرمی نہ دیکھنا گمبھیر چنتا کا موضوع ہے۔ افسوس ہے کہ دیش کی راجدھانی میں کئے جارہے کڑے سرکشا انتظاموں کے دعوے اب بھی سچائی سے کوسوں دور ہیں پولیس کی مستعدی پر سوال عام آدمی اٹھتا تھا تو شاید تال بھی جاتا تاہم یہ حقیقت دہلی کی وزیراعلی شیلادیکشت نے بھی منظور کی ہے۔لاجپت نگر علاقے میں ایک لڑکی سے عصمت دری کی کوشش اور اس کے منہ میں لارڈ ڈالنے کی حرکت پر وزیراعلی شیلادیکشت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دہلی میں مہلاؤں کی سیکورٹی پختہ نہیں ہے اس کے بعد دہلی میں سیکورٹی کے دعوؤں پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ بدقسمتی کی بات ہے کہ دہلی میں مہلاؤں کی سیکورٹی کو لے کر جواجتماعی طورپر کوشش سے کارگر قدم اٹھنے چاہئے تھے وہ نہیں اٹھے بلکہ الزام درالزام اور پولیس کا کنٹرول اپنے پاس سے رکھنے کی قواعد کا ہی دور جاری ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ صورت حال بے حد نازک ہے یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ وی آئی پی سیکورٹی کی جانچ کی جائے گی اور غیرضروری سیکورٹی کے جوانوں کو ہٹایا جائے گا۔ لیکن ایسا ہوتا ہے نہیں ہے۔ وی آئی پی سیکورٹی تام جھام گھٹنے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔ سیکوٹری کی ضرورت نیتاافسروں یا دوسرے لوگوں کو کسی خطرے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنا رتبہ بڑھانے کے لئے زیادہ ہوتی ہے۔ سیاسی وجوہات سے سیکورٹی کا اقدار کرنا کسے متاثر ہوتا ہے۔ اس کی مثال راشٹریہ سرکشا گارڈ( این ایس جی) کی تعیناتی ہے ۔ این ایس جی کے کمانڈوں کو خاص طور سے دہشت گردی مخالف کارروائی کرنے کے لئے ٹریننگ دی جاتی ہے وہ وی آئی پی سیکورٹی میں بھی لگے ہوئے ہیں۔ جب پی چدمبرم وزیرداخلہ تھے تب انہوں نے این ایس جی حاصل سیکورٹی کے لوگوں کی تعداد 14 پرلادی تھی۔ اب پھر 17 لوگوں کو این ایس جی کمانڈو ملے ہوئے ہیں اور جلد ہی یہ تعداد 20کے پار ہوسکتی ہے۔ ان میں کئی لوگوں کو نہ تو اس کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی وقت کے مطابق ترجیح۔ اگر سپریم کورٹ جس نے اتنی دلچسپی اب تک لی ہے خود وی آئی پی سیکورٹی والے لوگوں کی فہرست میں تفصیل سے جائیں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ کسی وقت بھارت میں بڑے بڑے نیتا بھی کوئی خاص سیکورٹی نہیں رکھتے تھے۔ 70 کی دہائی میں جب دہشت گردی پھیلی اور دہشت گردوں نے بعد اہم لوگوں کو نشانہ بنایا تب وی آئی پی سیکورٹی کا چلن چل پڑا۔ کچھ نیتاؤں کو تو سچ مچ پرائیویٹ سیکورٹی کی ضرورت تھی اور ہے بھی لیکن باقی نیتا یا مبینہ طور پر اہمیت کے حامل لوگوں کو یہ رتبے کی علامت زیادہ لگتی ہے۔ لال بتی والی گاڑی کی طرح ہی پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ ستہ اور اسٹیٹس کی نشانی بن گئے ہیں اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیکورٹی کو لے کر دہلی سرکار حساس ہوئی ہے اور دہلی پولیس کی سرگرمی بڑھی ہے لیکن سڑک پر سیکورٹی خاص کر مہلاؤں کی سیکورٹی کے معاملے میں اب بھی خاص سدھار نظر نہیں آرہا ہے۔ جو یقیناًبدنصیبی ہے اور محکمہ کو کٹکھڑے میں کھڑا کرتا ہے۔ اس سے نجات پانے کے لئے نئے سرے سے اسکیمیں بنانے کے ساتھ سخت قدم اٹھانے ہوں گے تاکہ مجرم پیشہ عناصر میں قانون کے تئیں ڈر پیدا کئے جاسکیں اور لوگوں کی سوچ بدلیں۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ دہلی پولیس اپنے آپ کو کسی کو بھی جواب دہ نہیں سمجھتی۔ دہلی سرکار کو وزارت داخلہ پولیس محکمہ دیتا نہیں اور خود کوئی سختی کرتا نہیں۔ ایک اندازہ ہے کہ ہمارے دیش میں ایک وی آئی پی تین پولیس والے ہے جب کہ 800 عام شہری پر ایک پولیس والا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت نے ایک موقع دیا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ بہترہوگا کہ وی آئی پی سیکورٹی کے لئے الگ سے فورس کا قیام کیاجائے اور عام پولیس کے جوانوں کو عوام کی حفاظت میں لگایاجائے۔ سیاسی رہنمائی کو اس کی پہل کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)