20 فروری 2015

بخار ، نزلہ، کھانسی ہے تو ہلکے میں نہ لیں، سوائن فلو سے نہ ڈریں

موسم میں تبدیلی آنے لگی ہے۔ صبح وشام کے درجہ حرارت میں کافی فرق محسوس ہونے لگا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ فرق اور زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ ایسے میں عام بخار کے علاوہ انفیکشن سے بیماریوں کے مریض مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ دہلی کے ماہرین کاکہنا ہے کہ 10 سے 15دن بعد یہ پریشانی اور بڑھے گی۔ ذرا سی لاپرواہی سے بھی سردی زکام، بخار گلے میں انفیکشن ، پیٹ کی بیماریاں اور موٹاپا کمزوری ہونے جیسی پریشانیاں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ کچھ دنوں میں دہلی سمیت دیش کے کئی حصوں میں سوائن فلو کے مریض مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ جمعرات کے روز تک یہ تعداد 680 کے آس پاس پہنچ چکی تھی۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے منگل کے روز اعلی سطحی ہیلتھ افسران کی میٹنگ بلائی جس میں اسپتالوں میں سوائن فلو کی دوا اور انجیکشن کی کمی کا تذکرہ ہوا۔ سوائن فلوسے مرنے والوںکی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دوا کمپنیوں کو اس بیماری کی دوا اور انجیکشن کااسٹاک رکھنے کی صلاح دی  ہے تاکہ ضرورت بڑھنے پر  بیماری سے نجات دلائی جاسکے۔ ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ جب موسم کے ساتھ درجہ حرارت میں تبدیلی آتی ہے تو کھانے پینے میں تھوڑی لاپرواہی ہوجاتی ہے جو انسان کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس موسم میں انفیکشن کاخطرہ رہتا ہے اس لئے ٹھنڈی چیزوں کو لینے سے بچیں۔ ناریل پانی، شکنجی وغیرہ لے سکتے ہیں۔ باہر ملے پھلوں کا جوس یا کٹے پھل نہ کھائیں پیئں بلکہ پھل کا جوس گھر پر نکالیں۔ایک دو ہفتے میں موسم میں تبدیلی ہوگی لیکن اچانک فریج کاٹھنڈا پانی نہ پئیں۔ درجہ حرارت کے مطابق کھائے پئے کھانے میں سبھی طرح کی دالیں موسمی سبزیاں ضرور کھائیں اور تیل یا چکنے کھانے سے بچیں۔سوکھے میوے ، مونگ پھلی، اور گڑ وغیرہ کھانااچھا ہے جس سے پانی کی کمی پوری ہوتی ہے دن کے وقت درجہ حرارت 26 سے 27ڈگری تک دیکھا جاسکتا ہے۔صبح شام یہ پندرہ ڈگری کے آس پاس ہے۔  اگلے کچھ دنوں کے بعد اس میں بڑھوتری ہوگی ایسے میں کپڑے پہننے میں تھوڑا احتیات برتیں۔ ایکدم سے ہلک کپڑے پہننا نہ شروع کردیں۔  کیونکہ بدلتے موسم میں آپ کے جسم کو اس س کی عادت نہیں ہوتے اور آپ  بیمار پڑ سکتے ہیں۔ صدر جمہوریہ کے پرائیویٹ فیزیشن ڈاکٹر ولی نے ایک ملاقات میں  بتایا کہ سوائن فلو سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ کو ٹھنڈ نہ لگے۔ چھاتی میں جکڑن نہ ہو۔ چھینکے نہ آئیں اور اگر  کروسین  جیسی دوا اثر نہ  کرے تو آپ فورا ڈاکٹر کو دکھائیں، سوائن فلو   پرابتدائی مرحلے میں قابو پایا جاسکتا ہے اوراس کا علاج ہوسکتا ہے مگر آخری مرحلے میں پہنچ جائے تو یہ جان لیوا ہوسکتا ہے۔ ویسےٹیمی فلو نام کی دوا بھی سوائن فلو میں دی جاسکتی ہے۔ آپ اپنا دھیان رکھیں۔

انل نریندر

مودی سرکار نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی

ہم وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان خیرمقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے دو ٹوک کہا کہ ان کی سرکار کسی بھی مذہبی گروپ کو کسی کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی اور جو بھی  ایسا کرے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم کاکہناہے کہ ان کی حکومت سبھی مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ مودی نے کہا میری حکومت اقلیتوں یا اکثریتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی مذہبی گروپ کو دوسروں کے خلاف درپردہ طور پر نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیراعظم نے یہ بیان وگیان بھون میں ایک روحانی کانفرنس میں قومی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا تھا۔ وزیراعظم کا دیر سے ہی صحیح اس بیان کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ توجہ حال ہی میں دہلی میں گرجا گھروں پر ہوئے حملے اور امریکی صدر براک اوبامہ کے دورے کے سلسلے میں کی گئی تلخ رائے زنی کے سلسلے میں دیکھاجاسکتا ہے۔ حقیقت میں دنیا بھر میں بھارت کی پہچان ایسے ملک کے طور پر ہوتی ہے جہاں وسیع طور سے مذہبی رواں داری رہی ہے۔ ویسے اچھا ہوتا کہ وزیراعظم کایہ بیان اور پہلے آجاتا خاص کر جب کچھ ہندو وادی تنظیموں کی طرف سے گھر واپسی کے نام پر زیادہ سرگرمی دکھانے کے ساتھ ہی بے تکی بیان بازی کی جارہی تھی۔ مودی سرکار کے اقتدار کے آنے کے بعد تمام ہندوتو طاقتوں کو یہ لگ رہا ہے کہ انہوں نے یہ سرکار بنائی ہے اور اب ان کا راج آگیا ہے۔ ساکشی مہاراج جیسے بھاجپا ایم پی نے تو اس طرح کے بیان دے ڈال کہ وہ سرکار کو بنا اور بگاڑ بھی سکتے ہیں۔ اگر وزیراعظم نے ان بے لگام ہندوتنظیموں کو بروقت لگام نہیں دی اور ساتھساتھ قابل اعتراض بیان دینے والے پارٹیوں کے لیڈروں کے خلاف فوری طور پر سخت رویہ   اپنایا ہوتا تو شاید دہلی اسمبلی کے چناؤ کانتیجہ کچھ اور ہی ہوتا۔ بھاجپا نے سیکولرزم کو ہمیشہ اقلیتوں کی خوشآمد کے آواز کے طور پر دیکھا ہے اس لحاظ سے نریندر مودی کا یہ بیان ایک طرح سے بڑی تبدیلی کااشارہ دیتا ہے۔ اب بہتر ہوگا کہ مودی سرکار یہ یقینی بنائے کہ جو بھی تنظیم اپنے ہندوتو وادی ایجنڈوں کو لیکر ضرورت سے زیادہ سرگرم ہے ان پر حقیقت میں لگام لگے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اگر بھاجپا لیڈروں کی طرف سے دوسرے فرقوں کو نشانہ بنانے والے قابل اعتراض  بیان دئے جائے تو ان کے خلاف حقیقت میں ضروری کارروائی ہو۔ ویسے یہ بھی صحیح ہے کہ ہمارے دیش میں زیادہ تر پارٹیاں سیکولرزم کے نام پر خوشآمدی لوگوں کو بڑھاوا دینے والی پالیسی پر چلتی ہیں اقلیتوں کو ووٹ بینک کے طور پر دیکھتی ہیں۔ وزیراعظم کے اس بیان کو دہلی اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو ملی ہار سے جوڑ کر نہ دیکھاجائے۔ لاکھ ٹکے  کاسوال ہے کہ کیا سنگھ اور دیگر ہندوتو تنظیمیں اپنی حرکتوں سے باز آئیں گی؟
انل نریندر

19 فروری 2015

پاکستان کو ہرا کر ٹیم انڈیا نے کیا شاندار آغاز

ورلڈ کپ کرکٹ میں ہندوستان کی اس سے بہتر شروعات نہیں ہوسکتی تھی۔ایتوار کو آسٹریلیا کے شہر ایڈلیڈ کے میدان پر اپنے پہلے ہی میچ میں ٹیم انڈیا نے اپنے کٹر حریف پاکستان کو 75 رنوں سے ہرا کر ورلڈ کپ میں شاندار آغاز کیا ہے۔ پاکستان کو ہرانے میں اپنا ہی مزا ہے مانوہم نے ورلڈ کپ جیت لیا ہو۔ بھارت پاکستان میں جو ٹیم جیتتی ہے اس میں الگ جوش ہوتا ہے جو ہارے اس میں مایوسی ہوتی ہے جس کا بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ پاکستان میں اس ہار کا بھیانک نتیجہ ہوا ۔ ٹیم انڈیا سے لگاتار چھٹی بار ہارنے کے ساتھ ہی سرحد پار سابق کرکٹروں اور مبسروں اور تنقید نگاروں اور شائقین کے درمیان  مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔ ہر کوئی اپنی ٹیم سے بہتر ٹیم انڈیا سے ہارکے سلسلے کو روکنے کی امید کررہا تھا۔ کراچی میں کئی مقامات پر میچ دیکھنے کے لئے بڑے بڑے اسکرین لگائے گئے تھے اور یہاں بہت لوگ جمع ہوئے تھے۔ میچ کے دوران جب پاک ٹیم اچھا کھیل رہی تھی تو لوگ گاڑیوں میں ہارن بجا کر اور ہوا میں گولیاں چلا کر جشن منا رہے تھے لیکن ٹیم کے ہارنے کے ساتھ ہی شائقین مایوس ہوگئے اورکچھ تو ہار سے اتنے ناراض ہوئے کہ انہوں نے اپنے ٹی وی توڑ ڈالے۔ سوشل میڈیا میں بھی بھارت اور پاکستان کے ناظرین کے درمیان خوب تلخق رائے زنی کا تبادلہ ہوا۔ اس میچ میں کئی نئی باتیں ہوئیں ہے پہلی بار بالی ووڈ کے صدا بہار اداکار امیتابھ بچن نے خود کمنٹری کی انہوں نے راہل دراوڈ ، شعیب اختر، اروند لال، کپل دیوکے ساتھ مل کر کمنٹری کی۔ امیتابھ کی کرکٹ کی جانکاری نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا۔ امیتابھ کاکہناتھا کہ میں زیادہ دیر میچ نہیں دیکھتا چونکہ ڈرتا ہو کہیں ٹیم انڈیا ہار نہیں جائے۔ پاکستان کی موجودہ ٹیم ایک طرح سے ادھوری ہے ان کے اسٹار اسپینر سعید اجمل اور محمد حفیظ ٹیم میں نہیں ہیں پھر بھی بھارت پاک میچ میں جو مزا ہوتا ہے وہ دیگر دوسری ٹیموں کے ساتھ نہیں دیکھنے کو ملتا۔ وراٹ کوہلی، سریش رینا نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ وراٹ کوہلی ورلڈ کپ پاکستان کے خلاف سینچری لگانے والے پہلے ہندوستانی بنے۔ سچن کا ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف 99 رن کا ریکارڈ توڑا۔36 سال بعد کسی کھلاڑی اشونت نے ورلڈ کپ میں تین میڈن اوور پھینکے اور پاکستان  پرشاندار جیت کے ساتھ اب بھارت کو کوارٹر فائنل میں پہنچنے کے لئے پانچ میچوں میں سے صرف دو میچ جیتنے ہوں گے وہ آسانی سے جیت سکتے ہیں۔ ہماری بلے بازی مضبوط ہے لیکن بالنگ نہیں۔ لیکن پاکستان کے ساتھ ہماری بالنگ بھی شاندار رہی اب بھارت کااگلا میچ 22فروری ساؤتھ افریقہ کے ساتھ ہے۔ یہ بھارت کے لئے ایک بڑی چنوتی ہے ساؤتھ افریقہ نہ صرف ایک مضبوط ٹیم ہے بلکہ ورلڈ کپ کی دعوے دار بھی ہے۔ یہ چمپئن کا خطاب اگر بچانا ہے تو کھیل میں سنبھل کر اور ذمے داری سے کھیلنا ضروری ہے۔ فی الحال پاکستان سے جیتنے پر ٹیم انڈیا کو بدھائی۔

انل نریندر

کیجریوال سرکار میں میڈیا کی نو انٹری؟

لوک پال بل میں وہسل بلور کی حفاظت کی گارنٹی دینے والی عام پارٹی کی سرکارنے پہلا یہ کام کیا ہے کہ  جنتا  کی آواز بلند کرنے والی میڈیا کی انٹری دہلی سچیوالیہ میں بند کردی ہے۔ حلف کے دن سے بند چوتھے ستون صحافیوں کی سچیوالیہ میں انٹر ی کو لیکر سرکار اور میڈیا کے درمیان جنگ چل رہی ہے۔ حالت یہاں تک آئی ہے کہ فوٹو جنرنلسٹ نے کیبنٹ کا فوٹوسیشن  بھی نہیں لیا تو نائب وزیراعلی کی پریس کانفرنس  بھی نہیں ہوسکی اور منیش سسودیا بیچ میں ہی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔ جب وزیراعلی اروند کیجریوال قریب 12بجے دہلی سچیوالیہ میں پہنچے تو میڈیا اسٹاف ان کا فوٹو لینا چاہتے تھے لیکن پرنٹ الیکٹرانک میڈیا اور فوٹو جرنلسٹ بڑی تعداد میں کیبنٹ کی پہلی میٹنگ کور کرنے پہنچیں تھے لیکن سیکورٹی گیٹ سے انہیں آگے نہیں بڑھنے دیاگیا وہ میڈیا روم یا سڑک پر بیٹھنے پر مجبور ہوئے۔ میڈیا ملازمین نے اس رویہ سے ناراض ہو کر کیبنٹ فوٹو سیشن کا بائیکاٹ کردیا۔ نائب وزیراعلی منیش سسودیا کی پہلی پریس کانفرنس میں ہنگامہ ہوگیا۔ اور سسودیا کانفرنس کو بیچ میں چھوڑ کر چلے گئے چونکہ سچیوالیہ میں صحافیوں کی انٹری بند کرنے کے معاملے پر سوال پوچھا گیاتھا کہ یہاں پابندی کیوں ہے اور صحافیوں کی کیاحدود ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے سسودیا ناراض ہو کر پریس کانفرنس بیچ میں چھوڑ کر چلے گئے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے 49 دن کی سرکار میں بھی عام آدمی پارٹی نے میڈیا پر پابندی لگائی تھی۔ سرکار کی دلیل یہ ہے کہ دہلی کی جنتا نے انہیں کام کرنے کے لئے زبردست اکثریت  دی ہے ایسے میں پہلے کام کو ترجیح دی جائے گی اور سرکار کے ایک گروپ کا یہ بھی خیال ہے کہ صحافیوں کاایک گروپ ان پر بے وجہ دباؤ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ جس کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بیشک یہ صحیح ہے کہ صحافیوں میں کچھ ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو سرکار کو بلاوجہ تنگ کرتے ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عام آدمی پارٹی کی سرکارتمام میڈیا پر روک لگادے۔ کیجریوال اینڈ کمپنی کیا یہ بھول گئی ہے کہ ان کی جیت میں اسی میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے پھر میڈیا کا یہ بنیادی حق ہے جب جہاں چاہے جاسکتے ہیں۔ بغیر وزیرکی منظوری کے ویسے بھی کوئی میڈیا والا ان کے کمرے میں نہیں جاسکتا۔ اگر پتر کاروں کا بھیس بدلے اقتدار کے دلالوں کی بات کریں تو وزراء ممبران اسمبلی ان کے گھر میں مل سکتے ہیں۔ اروندرکیجریوال سرکار غلطی کررہی ہے۔ شروعات میں ہی اگر اس نے اس طرح کا غیرجمہوری رویہ اپنایا تو آگے چل کر اس کے الزام اسی کے لئے نقصان دہ ہوں گے۔ بلاوجہ وہ میڈیا کواپنے خلاف کررہی ہے۔ آج تک کسی نے میڈیا پر اسطرح کی پابندی نہیں لگائی۔ ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
انل نریندر

18 فروری 2015

دہلی کی گدی پر فائز اب ایک منجھے ہوئے لیڈر کی طرح کیجریوال نظر آرہے ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اسی کیجریوال نے اپنی پرانی غلطیوں سے کافی سبق لیا ہے اورانہیں دوہرانے سے بچ رہے ہیں۔ تاکہ کوئی دوبارہ غلط نہ ہو۔ اس کے لئے وزیراعلی کیجریوال خودہی چوکس ہے ساتھ ہی انہو  ں نے اپنے ساتھی اور ورکروں کو بھی چوکس کررہے ہیں۔ اپنی غلطیوں کو مانتے ہوئے اروند کیجریوال کئی بار شارع عام معافی مانگ چکے ہیں اور سخت محنت سے انہوں نے پرانی غلطیوں کو بدل کر مثبت رویہ اپنا لیا ہے دہلی کی شہریوں نے بھی ان کی پرانی غلطیوں کو معاف کردیا ہے بلکہ دل کھول کر انہیں ووٹ دیا اب کیجریوال کافی سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔ تاکہ عوام کے درمیان ایک ذمہ دار لیڈر ہونے کا پیغام جائے۔ میں آج کچھ پرانی غلطیوں اور ان میں بہتری کے بارے میں ذکر کرناچاہوں گا ایک غلطی تھی کہ پچھلی مرتبہ کیجریوال میٹرو سے سفر کرکے حلف برادری میں پہنچے تھے انہوں نے سرکاری گاڑی اور بنگلہ اور سیکورٹی لینے سے منع کردیا تھا اس کے لئے انہیں تنقید  جھیلنی پڑی تھی ایک مرتبہ وہ کوشاملی اپنی گاڑی میں سوار ہو کر حلف برادری میں پہنچے وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کے لئے کیجریوال نے حلف برادری تقریب میں ا علان کیا کہ کوئی افسر اور منتری لال بتی والی گاڑی میں نہیں چلیں گے بغیر لال بتی سرکاری گاڑی سے چل سکتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ 4کمرے کا سرکاری مکان لوں گا تاکہ دوچار سو لوگ ان سے ملنے آئے تو انہیں بیٹھنے میںکوئی پریشانی نہ ہو۔ پچھلی بار اپوزیشن پارٹی کے کسی بھی شخص کو حلف برادری تقریب میں شرکت کی دعوت نہیں بھیجی تھی۔ لیکن اس بار کیجریوال نے غیرسرکاری نہ نبھانے کاالزام لگایا تھا لیکن اس بار وزیراعظم نریندر مودی ، وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ اور ونکیا نائیڈو دہلی کے سبھی 2 ایم پی کرن بیدی تک کو دعوت بھیجی۔ حلف برداری میں سبھی سات ایم پی اور وجیندر گپتا پہنچے تھے اجے ماکن نہیں آئے۔ پچھلی بار چنائو منشور میں کئے گئے چناوی وعدے کو پورا کرنے کے لئے میعاد طے کی تھی لیکن تکنیکی وجوہات سے کم وقت میں سب پورا کرنا ناممکن ہوگیا اور عوام مایوس ہوگئی۔ عام پارٹی نے اس بار بھی چناوی نعرہ دیا تھا ’’پانچ سال کیجریوال‘‘یعنی مینڈیٹ پانچ سال مل گیا اب وہ اس میعاد میں سارے وعدے پورے کریں گے۔ کیجریوال نے میڈیا سے مخاطب ہو کر کہا کہ 24یا 48 گھنٹے میں ریزلٹ مت پوچھنا۔ پانچ سال کے اندر دہلی کو کرپشن سے پاک شہر بنانے کا اب بھی دعوہ کیا ہے پچھلے چنائو میں کیجریوال نے شیلا سرکار کے خلاف منفی کمپین زوردار طریقہ چلائی تھی لیکن اس مرتبہ لوک سبھا چنائو سے سبق لیتے ہوئے مودی اسٹائل کو ہی اپنایا انہوں نے مثبت کمپین چلائی اور اشو کی بات کی تھی جب کہ بھاجپا نے منفی کمپین چلائی اور اسکا برا اثر سامنے میں بھی آیا اروند کیجریوال نے اپنے آپ کو بدلا ہے۔یہ ا چھی بات ہے۔
انل نریندر

بھارت الزامات کی پرویز مشرف نے کی تصدیق

جو بات برسوں سے ہندوستان کہتا آرہا ہے اس کی تصدیق اب پاکستان کے سابق صدر اور سابق فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے کردی ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ہی دہشت گرد تنظیموں کو کھڑا کیا ہے اور آئی ایس آئی نے یہ کام ہندوستانی مفادات کو پہنچانے کے مقصد سے انجام دیا ہے مشرف نے ایک نامور انگریزی اخبار’’ ڈا گارجین‘‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ طالبان آئی ایس آئی کے ذریعہ بنائی گئی دہشت گرد تنظیم ہے اور پاکستان 26/11حملے کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوہ اور حقانی نیٹ ورک سمیت کم سے کم دس دہشت گرد تنظیموں کو ہر ممکن مدد دے رہا ہے مشرف کاکہناہے کہ پاکستان کی موجودہ نواز شریف سرکار کو افغانستان میں سرگرم آتنکی تنظیم کو مدد پر روک لگا دیناچاہئے انٹرویو کو دوران مشرف مانتے ہیں کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو ان کی حکومت نے افغانستان کی اس وقت کی حامد کرزئی سرکار کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ اور انہیں ان کی راہ میں کانٹے بچھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی۔ کرزئی کی مخالفت اس لئے کی گئی چونکہ پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے میں بھارت کی مدد کی تھی۔ لیکن اب وقت آگیا ہے افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی مدد کریں۔ لہذا دہشت گرد تنظیموں کو آئی ایس آئی کی طرف سے دی جارہی مدد کو فورا بند کردیناچاہئے۔ انہوںنے کہاکہ خطہ میں امن کے لئے صدر غنی امید کی آخری کرن ہے بغور مشرف یہ سچ ہے کہ انہوںنے اپنے عہد کے دوران  کرزئی نے پاکستان کو چوٹ پہنچانے کی کافی مدد کی تھی۔  اس لئے ہم اس سرکار کے خلاف کام کررہے تھے آئی ایس آئی جاسوسوں نے 2001 کے بعد طالبان کو مدد پہنچانی شروع کردی تھی۔ کرزئی سرکار بھارت کی حمایتی تھی مشرف نے کہا کہ پاکستانی فوج بھارت کے تئیں شش وپنچ میں رہتی ہے کیونکہ جنگ میں اس نے ہمیں تین بار ہرایا ہے پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش کے قیام میں نئی دہلی کاپورا ہاتھ رہا ہے۔ وہ بھارت کے مخالف نہیں ہے لیکن پڑوسی دیش کے تئیں امریکہ کی منفی نظریہ استعمال سے کرنے سے نہیں چوکتے تھے جنرل مشرف کاکہناتھا کہ بھارت بھلے ہی خود کو بڑا جمہوری دیش کہے لیکن انسانی حقوق کا موافق بتائے لیکن سچائی یہ ہے کہ وہاں کوئی انسانی حقوق پر تعمیل نہیں ہے۔ اگرکسی پنڈت پر اچھوت برادری کے لوگوں کی بچھائی پڑ جائے وہ غریب بیچار ا مار دیاجاتاہے۔ دیگر نوجوانوں کی طرح وہ بھی ہندوستانی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کے کردار کو لے کر چوکس تھے ’’را‘‘ پاکستان کو توڑنے کے لئے علیحدگی پسند طاقتوں کو مدد پہنچا رہی تھی اور دونوں’’را‘‘ اور آئی ایس آئی پر کنٹرول کیاجاناچاہئے۔ مشرف یہ اعتراف بھارت کے الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔
(انل نریندر)

17 فروری 2015

‘Political Earthquake’ strikes Delhi

In last Delhi Assembly elections, when Congress failed to reach double digit mark and ended up with 8 seats only, then national president of BJP rode Congress so hard over its failure. During campaigning of Lok Sabha, he used to taunt Congress for its collapse and say that Congress MLAs can go to the Assembly by riding in a car like Innova. Current Delhi Assembly elections are over and results boomeranged on BJP itself. BJP has suffered a rude shock in Delhi's Assembly elections and its situation became worse than last elections. Now its MLAs can go to the Assembly riding on even smaller vehicle like auto rickshaw. Congratulating Arvind Kejriwal, Coordinator of AAP, on this historical victory, UP Chief Minister Akhilesh Yadav said that crushing defeat of BJP is result of over campaigning of issues like Love Jihad, Ghar Wapsi, Four Children etc. Public of Uttar Pradesh will teach a lesson to BJP in 2017 Assembly Elections in the same fashion as Delhiites taught it by denying these issues altogether, he further added. On one hand global media termed AAP’s stunning victory as political earthquake, on the other hand taking a jibe on Narendra Modi the International media said what goes up must come down. Commenting of BJP’s defeat in Delhi Assembly election, less than a year after the party's stunning victory in the Lok Sabha election, The New York Times termed it as a "small political earthquake". Paper said that after registering a historic victory in Lok Sabha elections Modi became India's Prime Minister. Tuesday’s defeat in Delhi Assembly election is not less than a political earthquake.  Washington Post termed it as "stunning defeat" at the hands of the upstart anti-corruption Aam Aadami Party. The newspaper wrote that Delhi election is a setback to Modi. CNN, for deriding Modi quoted Isaac Newton's principle of physics and said what goes up must come down. Global Media is abuzz more with Modi’s defeat than AAP’s triumph.  Congratulating Aam Aadmi Party’s Chief Arvind Kejriwal for the landslide triumph, JD(U) said the people of Delhi have rejected Prime Minister Narendra Modi and BJP and the results will have far reaching effect on the entire country, including Bihar. JD(U) State President at Patna said that  Arvind Kejriwal has won a big fight. The results also indicate that the people of Delhi have rejected the working style of Prime Minister Narendra Modi as well as BJP. The people have preferred a man with simple living against a person who wears a suit of Rs. 10 lakh and sent a message that a tea-seller, who wear a suit of Rs. 10 lakh, should not talk about common man. 
Heavyweight MLA candidates of Congress couldn’t save their security deposit. Party failed to get even single seat and has created a history. Along with it, Congress set another record as its two-third candidates forfeited their security deposit. Only 8 out of the 70 Congress candidates could save their security deposit. Even Ajay Maken, party's poll campaign face, forfeited his security deposit. Half of Congress candidates could not cross the figure of 10000 whereas 13 candidates got lesser than 5000 votes. Kiran Walia got only 4781 votes. It will be Delhi’s first Congress-free Assembly i.e. without a single MLA from Congress Party. It happened for the first time in 130 year long history of Congress when even its single candidate couldn’t win a seat in any State Assembly Election and most of its candidates have forfeited their security deposit in a single election. Voters of Delhi rejected those leading politicians who were occupied in grabbing power by changing their parties just before this election. Former Union Minister Krishana Tirath, former assembly speaker M.S. Dheer, three former MLAs and three former councilors are among those who got defeat in this election. 
After Lok Sabha election, whichever election the duo of PM Modi and Amit Shah has contested came out with flying colour. But it defeated in Delhi Assembly election. This is the first time in last 13 years when this duo has lost any election. Amit Shah started election management at the age of 19. He managed over three dozen elections ranging from Cooperative to Parliament elections and won election every time.  Defeat of trio of Modi-Shah-Jethali   brought elation for Modi’s opponents. Nitish Kumar and Mamta Banerjee are more than happy. First effect of AAP’s success is clearly visible in Bihar. Now BJP has distanced itself from Jitan Ram Manjhi. BJP said it is an internal matter of JD(U).  Several parties like SP, RJD, JDU, TMC, CPM had supported AAP in this election.  Now AAP has set its eyes on UP, Bihar and Punjab . Elections in these three states are to be held in 2017. All four MPs are from Punjab. Shiv Sena President Uddhav Thackeray said the sweeping AAP win in Delhi Assembly polls a 'tsunami' of AAP overpowered Modi’s wave. I told Kejariwal that he should not even think of quitting now.  If I get invitation, I will go and attend the oath ceremony, he further added.  Kiran Bedi’s husband said that BJP workers are responsible for this defeat. They didn’t support Kiran Bedi or else the story would have been different.
"The contest was widely viewed as a measure of Modi's political clout here. The bitterly fought election for control of the legislative assembly marks the first political setback to Modi's BJP since he became the PM last May," the paper said.
"Riding on Modi's soaring popularity, the BJP had won in a number of state elections in recent months, and they were expected to repeat their success Tuesday — a phenomenon dubbed Modi's 'victory chariot' by the media. But Delhi proved to be a tough battle for the BJP because of the appeal of the charismatic Kejriwal, a former tax officer-turned anti- corruption activist," it said.
CNN invoked Isaac Newton's physics principle to take a jibe at Modi, saying, "This week New Delhi will be talking about a very different scientific discipline: physics. After all, what goes up must come down."
"Since winning a broad mandate in national elections last May, and then repeating the feat in state elections across the country, India's ruling BJP has suffered a rude shock in Delhi's state elections," the US news channel said.
London's 'The Telegraph' termed BJP's defeat in the Delhi polls, in which the Congress drew a blank, as a "humiliating landslide" while Guardian described the stunning result as a "blow for Modi"
State president of JDU said Arvind Kejariwal has won a big battle. Results indicate that people of Delhi has rejected Prime Minister Narendra Modi as well functioning of BJP.  
Congratulating Aam Aadmi Party chief Arvind Kejriwal for the staggering victory, JD(U) today said the people of Delhi “have rejected Prime Minister Narendra Modi and BJP” and the results will have “far reaching effect” on the entire country, including Bihar.
“Arvind Kejriwal has won a big fight. His party has performed fantastically in Delhi polls. We congratulate him.
The results also indicate that the people of Delhi have rejected the working style of Prime Minister Narendra Modi and BJP. The people have preferred a man with simple living against a person who wears a suit of Rs. 10 lakh,” said JD(U) state President Vashistha Narayan Singh.
“The Delhi poll results will have far-reaching effect on the entire country, including Bihar where elections are due later this year. The results show that the public will now vote on the basis of performance and not on high-pitched slogans. Non-issues like love-jihad and sectarianism have failed,” Singh added.
Singh’s statement came ater a meeting with senior JD(U) leader Nitish Kumar, who has staked claim to form government in the state, and is awaiting response of Governor Kesri Nath Tripathi on the issue.
JD(U) spokesperson Neeraj Kumar said that Delhi results have “taken away the halo around BJP” and that the good wishes of Nitish Kumar also worked in favour of AAP.
“The results have taken away the halo around BJP. Nitish Kumar’s good wishes to AAP and Arvind Kejriwal have worked,” he added.
Shiv Sena President Uddhav Thackeray said the sweeping AAP win in Delhi Assembly polls a 'Tsunami' of AAP overpowered Modi’s wave.  and congratulated AAP chief Arvind Kejriwal for the historic victory I told him that he should not even think of quitting now.

سریش پٹیل کی غلطی اتنی تھی کہ وہ انگریزی نہیں جانتے تھے

اپنی طاقت کے بل پر دنیا بھر میں زبردستی ٹھیکے دار بنے امریکہ کو اس کام میں مذہبی روا داری گھٹتی دکھائی دیتی ہے اور اس پر بہ تکی رائے زنی کرنے سے امریکی صدر براک اوبامہ ذرا بھی غور یا تاخیر نہیں کرتے لیکن انہیں یہ نظر آتا کہ ان کی پولیس ایک ہندوستانی بزرگ کے ساتھ اس بربریت کا مظاہرہ کرتی ہے ؟ 57 سالہ سریش پٹیل امریکہ کے شہر اول بامہ اپنے لڑکے کے ساتھ رہنے کے لئے ایک دن پہلے آئے تھے۔ انہیں انگریزی نہیں آتی ہے گجرات کے باشندے سریش پٹیل جب صبح کو سیر پر نکلیں تو پڑوسی کو ایک اجنبی شخص کو دیکھ کر شبہ ہوا۔ انہوںنے پولیس کو فون کردیا دو پولیس والوں نے پٹیل کے ساتھ جو بربریت اپنائی اس کے سبب وہ ہسپتال پہنچ گئے۔ بچے کی پیدائش پہلے ہونے کی وجہ سے(17ماہ کاپوتا) مکمل نشوونما نہیں ہوپائی۔ ویڈیو میں سریش پٹیل فٹ پاتھ پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ انہیں ایک ٹیلی فون آیا تھا کہ ایک شخص گھروں اور گیراج میں تانک جھانک کررہا ہے۔ جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی لیکن ویڈیو میں پٹیل کسی بھی گھر یا گیراج میں تاک جھانک نہیں کررہے تھے اس ویڈیو میں پولیس ا فسر پٹیل کے پاس آتے ہیں وہ ان کانام پتہ اورشناختی کارڈ وغیرہ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ پٹیل کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ انہیں’’انگریزی‘‘ نہیں آتی ہے اور اپنے بیٹے کے گھر کی طرف اشارہ کررہے ہیں اس کے فورا بعد ایک پولیس افسر پٹیل کو زمین پر دھکا دیتا ہے اور ان پر طاقت استعمال کرتا دکھائی دے رہا ہے جس کی پہچان بعد میں بارکر کی شکل میں سریش پٹیل کی اتنی پٹائی ہوئی کہ زخمی حالت میں ان کو ہسپتال لے جایا گیا سریش پٹیل کو امریکی پولیس نسلی تعصب کے ساتھ پیٹ پیٹ کر لہو لہان کررہے تھے تب آزادی اور انسانی حقوق کے بڑے حمایتی مارٹن لوتھر کنگ کی روح کو اتنی تکلیف پہنچی ہوگی اس کا کوئی جواب اوبامہ کے پاس ہے؟ لیکن امریکی انسانی حقوق رضا کار تنظیموں نے اسے بلا اشتعال بربریت اور نسلی تعصب پر مبنی کارروائی قرار دیا ہے سریش پٹیل کا صرف اتنا قصور ہے کہ وہ انگریزی جانتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ اس لئے پولیس والوں کے سوالوں کا جواب ٹھیک سے نہیں دے پائے۔ امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کو رہتے ہوئے صدیاں گزر گئی ہے لیکن اب بھی بہت سے لوگوں کے لئے امریکہ گورے لوگوں کا ہی ملک ہے ہندوستان یا دیگرنسلوں کے لوگ بھی وہاں ایک یا آدھی صدی سے مقیم ہے لیکن ان کے تئیں نسلی نفرت کافی پائی جاتی ہے 9/11کے آتنکی حملے کے بعد یہ بندشیں بہت بڑھ گئی ہے جو لوگ اپنے جیسے نہیں دکھائی دیتے ہیں ان سے اکثر امریکی جنتا یا سیکورٹی ایجنسیوں کو خطرہ محسوس ہوتا ہے حالانکہ سریش بھائی کے رشتے داروں نے قصوروار پولیس ملازمین پر مقدمہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے جو بھی سریش بھائی کو جزوی سازش کا داغ امریکہ کے ماتھے پر کالا ٹیکہ تو بنا ہی رہے گا۔
(انل نریندر)

کیجریوال حکومت کی پہلی آزمائش دہلی کی یہ بجلی کمپنیاں

عام آدمی پارٹی کی حکومت بنتے ہی اروند کیجریوال سب سے پہلے لوگوں کو سستی بجلی اور پانی مہیا کرائیں گے ایسا پارٹی لیڈراور کیجریوال سرکار میں ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا نے کہا ہے کہ 67 سیٹوں کے ساتھ اب تک سب سے بڑی اکثریت پانے کے بعد عام پارٹی کی سرکار کے لئے سب سے پہلے مصیبت بجلی کی شرحیں کھڑا کریں گی۔ آپ نے دہلی والوں کو چنائو سے ٹھیک پہلے ان میں 50 فیصد راحت دینے کاوعدہ کیاتھا ہم یہ چاہتے ہیں کہ دہلی کے شہریوں کو بجلی کے دام میں راحت ملے۔ لیکن اس کام میں یہ بجلی کمپنیاں اڑچینیں پیدا کرے گی۔ کیجریوال حکومت کواس مقصد میں ناکام کرنے کی کوشش بھی کرے گی۔ ان کے ڈرامے شروع ہوگئے ہیں۔ بجلی کمپنیوں نے ایک بار پھر خسارے کارونا روتے ہوئے 21فیصدی تک دام بڑھانے کی مانگ ڈی ای آر سی سے کی ہے۔ کیجریوال کے ذریعے سنیچر کو وزیراعلی کا حلف لینے کے ساتھ ہی سرکاری سرکار شروع ہوگیا ہے ڈی ای آر سی نے بھی بجلی کے نئے دام متعین کرنے کے لئے کارروائی شروع کردی ہے جو راحت کے راستے میں اڑچن بن سکتی ہے۔ بجلی کمپنیوں نے آنے والے مالی سال کے لئے بجلی شرحوں کے لئے جو مسودہ پیش کیا ہے اس میں قریب 2500 سو کروڑ روپے کا خسارہ دکھایا گیا ہے۔ اور اس خسارے کی بنیاد پر دہلی کے لئے نیا بجلی کے دام کا چارٹ تیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایک بجلی کمپنی ڈسکام کے مطابق بی آر وی ایل کاکہناہے کہ موجودہ شرح میں 16.29 فیصد جب کہ بی وائی پی ایل نے 19.48 فیصد، اور ٹی پی ڈی ایل نے 20.65 فیصد کااضافہ ہوناچاہئے۔ بی آرپی ایل نے 14.12 یعنی 1241 کروڑ کا خسارہ دکھایا ہے۔ جب کہ بی وائی پی ایل کمپنی نے 18.83 فیصد یعنی 7092 کروڑ روپے کا خسارہ دکھایا ہے جب کہ ٹی پی ڈی ایل نے 13.35 فیصد یعنی 635کروڑ کاخسارہ دکھایا ہے۔ ان بجلی کمپنیوں کو ٹھیک کرنے کے لئے کیجریوال سرکار کو آڈٹ کرانے کے لئے حامی بھرنی پڑسکتی ہے۔ ریاست میں ایک مضبوط سرکار بنوانے کے بعد آپ کی سرکار ان کے آڈٹ کرانے پر اہل بند ہے دہلی اسمبلی چنائو میں بجلی نظام میں بجلی سسٹم میں بہتری ایک اہم اشو رہا ہے آپ کی طرف سے بجلی پر ایک وائٹ پیپر بھی جاری کیاگیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ کس طرح سے پرانی حکومتوں نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو آڈٹ نہیں کرایا ہے۔ دہلی میں بجلی کے بحران کو آج اتنا بڑا بنادیا ہے کہ ہم جنتا سے غلط طریقے سے زیادہ بجلی کے بل وصولے جاتے ہیں بجلی کے میٹروں میں بھی دھاندلے بازی کرتے ہیں۔ اصلی صورت کا پتہ لگانے کے لئے ان کی جانچ ہونی چاہئے۔بجلی کمپنیوں پر جان بوجھ کر دیگر خرچوں میں اضافہ کرکے عام جنتا پر بوجھ ڈالنے کا الزام بھی شامل ہے ان سبھی سچائیوں کا انکشاف ایک مفصل آڈٹ رپورٹ سے ہی ہوسکتا ہے۔ ہمارے خیال ہے کہ عدالتیں بھی ان بجلی کمپنیوں کی مفصل آڈٹ رپورٹ کو نہیں روکے گی کیونکہ یہ عوام کے مفاد میں ہے کیجریوال سرکار کے اس اشو پر ہم متفق ہے اور مفاد عامہ میں بات کرتے ہیں۔
انل نریندر

15 فروری 2015

زبردست ہار کے بعد بھاجپا میں مچے گھمسان کا ذمہ دار کون

میں اکثر چنائو میں کانگریس کی ہار کے لئے ذمہ داری طے کرنے کی بات اٹھاتا رہا ہو لیکن دکھ سے کہناپڑتا ہے کہ ایک کے بعد ایک ہار کے بعد بھی کانگریس میں نہ تو اس پر محاسبہ کیا ہے اورنہ ہی ہار کی ذمہ داری کس کی ہے یہ طے کیا۔ اب بھاجپا کی باری ہے پارٹی کو اپنے آپ کو پارٹی وڈاے ڈیفرینس بتاتی ہے۔ تو دہلی اسمبلی میں اتنی زبردست ہار کا ذمہ دار کون ہے اسے طے کرنے میں کیوں کترارہی ہے؟ اس ہار کے بعد بھاجپا کے اندر لیڈروں میں غصہ پوری طرح سے پنپ رہا ہے حالانکہ فی الحال اس معاملے میں سینئر لیڈروں کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کرپارہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر ہارکے لئے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے والے مقامی لیڈر شپ کے بجائے سینئر لیڈر شپ کو ذمہ دار مان رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کی وجہ سے ووٹروں میں غلط پیغام گیا ہے۔ اسمبلی چنائو میں زبردست ہار نے والی بھاجپا کو نشانے پر لیتے ہوئے آر ایس ایس کے پرچارک رہے گووند آچاریہ نے کہا کہ اس پارٹی کو اپنی غیر جمہوری طریقے کار اورسرکار کی امیر پرست پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنا پررہا ہے۔ نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی سرکار کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سرکار کی پالیسیاں  اورامریکہ امیر پسند ہے۔ جس سے دیش کو نقصان اٹھاناپڑرہا ہے۔ گووند آچاریہ نے آگے کہا کہ بھاجپا میں ماڈل پرستی  کافی پہلے ہی حاوی تھی آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے پارٹی اور آر ایس ایس کے لیڈروں سے جمعرات کو  چبھتے سوال پوچھے انہوںنے کہا کہ بھاجپا ورکر لوگوں کے موڈ کو بھانپنے میں کیوں ناکام رہے؟ بی جے پی کے تین وزراء اسمرتی رانی، نرما سیتارمن، اور روی شنکر پرساد کو آر ایس ایس کے دفتر کیشو گنج طلب کیا گیا۔ سنگھ نے سیتا رمن سے سوال کیا کہ فرضی کمپنیوں سے چندے کے معاملے میں بیان دیتے وقت اروندر کیجریوال کے لئے چور لفظ کااستعمال کیوں کیا؟ سنگھ سینئر ذرائع نے بتایا کہ ہمارے ورکروں نے کئی وزراء اور بی جے پی لیڈروں میں غرور کو لے کر شکایت کی تھی۔ اور ان کو نظر انداز کرکے باہر کے لوگوں کو اہمیت دی گئی۔ بھاجپا ایم پی کیرتی آزاد اور منوج تیواری نے پارٹی کے حکمت عملی سازوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ورکروں کو نظر انداز کیاگیا ہے اسی طرح سے پوروانچل لوگوںکو نظر انداز کرنے کا بھی پارٹی کو نظر انداز کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے یہ شرمناک ہار ہے اتنی بری طرح سے آسٹریلیا میں ٹیم انڈیا بھی نہیں ہاری۔ بھاجپا نے اپنے پائوں پر خودکلہاڑی ماری ہے ہر دن رات کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی کو کانگریس کے صفائے کے لئے کوستے رہتے ہیں۔ کیا بھاجپا پردھان امیت شاہ اور پی ایم نریندر مودی اس شرمناک ہار کے لئے ذمے دار نہیںہے؟کیا امیت شاہ اس ہار کی ذمے داری قبول کریں گے یا چھوٹے موٹے لیڈروں کو بلی بکرا بناکر معاملے کو رفع دفع کردیں گے۔ انہیں بھاجپا پردھان کے عہدے سے ہٹنے کی ضرورت تو نہیں لیکن دہلی میں پارٹی کی ہار کی ذمے داری لینے کا حوصلہ دکھاناچاہئے۔
انل نریندر

کیاتیستا سیتلواڑسیاسی رقابت کا شکار ہے

سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی چمپئن تیستا سیتلواڑایک بار پھر سرخیوںمیں ہے2002کے دنگوں کے بعد سیتلواڑ اوراپنے مودی مخالف مہم کے لئے پورے دیش میں موضوع بحث ہوگئی۔ دوسروں کو کٹکھرے میں کھڑی کرنے والی یہ خاتون آج خود کٹکھڑے میں کھڑی ہے اور اپنی گرفتاری سے بچنے کے لئے سپریم کورٹ میںدستک دے رہی ہیں۔ عدالت نے تیستا سیتلواڑ اور ان کے شوہر کی گرفتاری کے لئے جمعہ تک عارضی روک لگادی ہے۔ اس میاں بیوی کی انترم ضمانت کی عرضی جمعرات کو ہی گجرات ہائی کورٹ نے خارج کردی تھی۔ کیا ہے معاملہ؟ 28 فروری 2002 کو گلبرک سوسائٹی پر شرپسندوں کی بھیڑ نے حملہ کردیا تھا اس میں 69 لوگ مارے گئے تھے۔ گودھرا فساد کے بعد یہ واقعہ رونما ہواتھا۔ احمد آباد کی گلبرک سوسائٹی میں دنگے میں مارے گئے لوگوں کی یاد میں ایک یادگار بنانے کے لئے فنڈ جمع ہواتھا۔گلبرگ ہائوسنگ سوسائٹی کے ہی ایک فساد متاثر تیستا سیتلواڑ اور ان کے شوہر جاوید آنند اور ان کے غیر سرکاری تنظیمیں سیٹزن فار جسٹس اینڈ پیس اور سبرنگ ٹرسٹ کے خلاف احمد آباد پولیس میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔ اس شکایت میں تیستا سیتلواڑ اوران کے شوہر جاوید آنند پر ایک کروڑ 27لاکھ روپے کے غبن کاالزام لگایا گیا تھا۔ شکایت کے مطابق گلبرگ سوسائٹی کے میوزیم میں  بدلنے کے لئے رقم اکٹھی ہوئی تھی۔ اب انہوں نے مبینہ طور سے 1.51 کروڑ روپے کا غبن کردیا دوسری طرف اور ملزمان کادعوی ہے کہ اس معاملے میں انہیں پھنسایا گیا ہے اب وہ سیاسی رقابت کی شکار ہوئی ہے۔ ان کادعوی ہے کہ فساد بھڑکانے والے ہی انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ گجرات ہائی کورٹ نے تیستا اور ان کے شوہر کی انترم ضمانت عرضی کو خارج کردیاتھا۔ اس کے بعد پولیس تیستا کو گرفتار کرنے ان کے ممبئی گھر پر پہنچی۔ کورٹ کے جسٹس جے بی پردیوالہ نے اپنے فیصلے میں کہاتھا کہ ملزم جانچ میں تعاون نہیں دے رہے ہیں۔ پہلی نظر میں ایسا لگ رہا ہے کہ ان لوگوں نے ٹرسٹ فنڈ کااستعمال نجی کاموں کیا ہے اس لئے انہیں انترم ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ اس کے بعد سیتلواڑ پر گرفتاری کی تلوار لٹک گئی تھی اور ان کے شوہر آنند کے علاوہ گجرات فساد میں مارے گئے سابق کانگریس ایم پی احسان ظفری کے بیٹے تنویر ظفری اور گلبرگ سوسائٹی کے باشندے فیروز گلزار اس معاملے میں ملزم ہے۔ معاملہ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے اگر سیتلواڑ بے قصور ہے توانہیںگھر سے بھاگنے کوئی ضرورت نہیں تھی۔ دیش کی سب سے بڑی عدالت طے کریں گی پیسوں کے غبن کا ہے یا سیاسی دشمنی کا ہے۔ جیسا سیتلواڑ دعوی کررہی ہیں؟
انل نریندر