Translater

02 دسمبر 2022

مرکز کیوں لٹکارہا ہے ججوں کی تقرری؟

سپریم کورٹ نے بڑی عدالت میں جج صاحبان کی تقرری کیلئے کالیجیم کی طرف سے سلیکشن شدہ ناموں کو منظوری دینے میں مرکزی حکومت کی طرف سے تاخیر پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقرری کے طریقے کو ٹھوس دبا و¿ کے ذریعے ناکام کرتی ہے ۔جسٹس ایس کے کول اور جسٹس اے ایس اوکا کی بنچ نے کہا کہ بڑی عدالت کی تین ججوں کی بنچ نے تقرری کاروائی پوری کرنے کیلئے طے میعاد مقرر کی تھی اس میعاد کی تعمیل کرنی ہوگی ۔جسٹس کول کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ سرکار ان حقائق سے ناخوش ہے اور قومی جوڈیشری تقرری کمیشن ایکٹ کو منظوری نہیں ملی لیکن یہ دیش کے قانون کی حکمرانی کو نہیں مارنے کی وجہ نہیں ہوسکتی ہے ۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کالیجیم سے ان 20فائلوں پر نظر ثانی کرنے کو کہا جو ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری سے متعلق ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ان میں وکیل سوربھ کرپال کی فائل شامل ہے جو خود کو سیم لینگک ہونے کی بارے میں بتا چکے ہیں ۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججوںکی تقرری کی کاروائی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارش شدہ ناموںپر مرکزی سرکار نے سخت اعتراض جتایا ہے اور گزشتہ 25نومبر کو فائلیں کالیجیم کو واپس کردیں انہوں نے کہا کہ ان 20معاملوں میں سے 11نئے معاملے ہیں ۔ جبکہ بڑی عدالت کالیجیم نے 9معاملوں کو دہرایا ۔ وکیل سوربھ کرپال کے نام کی سفارش دہلی ہائی کورٹ میں جج تقرری کرنے کیلئے ہے ۔ کرپال سابق چیف جسٹس بے این کرپال کے بیٹے ہیں ۔ جسٹس ایس کے کول کی رہنمائی والی بنچ نے کہا کہ حیرانی کی بات ہے کہ کالیجیم ناموں کو دوبارہ سفارش کر چکاہے ۔لیکن سرکار اس کو دباکر بیٹھ جاتی ہے کئی بار سرکار کالیجیم کی سفارش کو آدھا ادھورا منظور کرتی ہے جن میں کچھ کو منظوری دے دیتی ہے اور کچھ ناموں کو روک لیتی ہے ایسا کرکے سرکار سینئریٹی کو خراب کر دیتی ہے سرکار ایسا کرے گی تو سسٹم کیسے چلے گا؟ بڑی عدالت ایک عرضی پر سماعت کررہی تھی جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ وقت پر تقرری کیلئے پچھلے سال 20اپریل کے حکم میں بڑی عدالت کے ذریعے طے میعاد کی جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے بنچ نے بڑی عدالت اور بڑی عدالتوںمیں ججوں کی تقرری کیلئے کی گئی کاروائی کا تذکرہ کیا ۔ بنچ نے کہا کہ ایک بار جب کالیجیم کسی نام کو دہراتا ہے تو یہ بات ختم ہو جاتی ہے ساتھ ہی بنچ نے کہا کہ ایسی صورت نہیں ہو سکتی ہے جہاں سفارش کی جارہی ہے اور سرکار ان کو لیکر بیٹھی رہتی ہے ۔کیوں کہ یہ نظام کو تباہ کرتی ہے۔ (انل نریندر)

یوپی میں مافیاو ¿ں سے چھڑائی زمین پر مکان بنیںگے !

اتر پردیش میں قانون و نظام کو لیکر آئے دن خبریں آتی رہتی ہیں۔وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی جی توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ ریاست میں قانون و صورت حال میں بہتری آئے اور مافیاو¿ں پر شکنجہ کسا جائے وزیر اعلیٰ نے پچھلے دنوں کہا کہ پچھلی حکومتوں میں فامیاں ترقیاتی کام میں بیریئر بنتے تھے ،روکاوٹیں ڈالتے تھے لیکن اب وہ مافیا جیل میں ہیں یا یوپی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ۔ پر یاگ راج کے پریڈ میدان میں پرووردھ جن سمیلن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کسی غریب ،تاجر اور عام آدمی کی پروپرٹی پر مافیا قبضہ کرے گا تو اسے خالی کراکر اس کو اکوائر کرکے اس پر غریبوں و دیگر لوگوں کیلئے مکان بنانے کی یوجیا تیار کی جائے گی ۔ انہوںنے تعلیمی مافیاو¿ں کو بھی خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت میں تعلیمی مافیاو¿ں کو ان کے کھیل میں کامیاب نہیں ہونے دیںگے ۔ وہ لڑکوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی عادت سے باز آئیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہ ڈبل انجن کی سرکا ر نے پورے پردیش وکاس کیلئے جس ڈھنگ سے کام کیا ہے وہ زمین پر دکھائی دے رہا ہے ۔اگر بلدیاتی چناو¿ میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی ملتی ہے تو ٹریپل انجن کی سرکار وکاس کے انجن کو اور بھی مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائیںگے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2017سے پہلے مافیا اقتدار کے خواب دکھاکر غریبوں اور تاجروں کی پروپرٹی ہڑپ لیتے تھے ۔پولیس اور انتظامیہ کو پریشان کرتے تھے آج وہی پولیس ان مافیاو¿ ں کیلئے کال بن چکی ہے جن مافیاو¿ں نے ناجائز طریقے سے سرکاری اداروں کو لوٹا ہوگا ۔کسی غریب یا تاجر کی پروپرٹی پر قبضہ کیا ہوگا۔ اور اگر ابھی تک خالی نہیں ہوا ہے تو سود سمیت اس کو خالی کرانے کی تیار ی چل رہی ہے۔ان کی پروپرٹی کو ضبط کرکے مکان بنائے جائیںگے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 10سے 12فروری 2023کو لکھنو¿ میں گلوبل انویسٹر سمٹ منعقد ہوگی ابھی تک 1.25لاکھ کروڑ روپے سرمایہ کاری تجاویز آ چکی ہیں 25پالیسی تیار کی گئی ہے اس میں سرمایہ کاری کے امکان کے ساتھ ساتھ سرکار کی رعایتیں بھی ملیںگی ۔ یہ سب آن لائن ہوگا سرمایہ لگائیے اور درخواست دیجئے پھر ساری کاروائی پورٹل کے ذریعے سے آگے بڑھے گی۔ صنعت لگانے کے ساتھ ہی رعایت لینے کیلئے درخواست دیں اپنے آپ آٹو موڈ پر پیسہ آپ کے کھاتے میں پہنچ جاےئگا ۔ بیچ میں کرپشن کی کوئی جگہ نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا چناو¿ تھا جس میں آزادی کے بعد کرپشن کی کوئی جگہ نہیں ۔ جب جنتا ٹھان لیتی ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہے ۔آج ریاست فساد سے نجات پا چکی ہے پچھلی سرکاروں کی بد نیتی کی سیاست کی پالیسی کے سبب بندیل کھنڈ بد حال تھا لیکن اب حالات بہتر ہو گئے ہیں ۔جھانسی سے اڈوانس ٹریفک مینیجمنٹ سسٹم شروع ہو چکا ہے ۔آج کسی چور اچکے بدمعاش کی ہمت نہیں کہ وہ کسی تاجر یا بیٹی کو چھیڑ دے کیمرے میں ایک ایک چیز قید ہو رہی ہے۔ (انل نریندر)

29 نومبر 2022

اپوزیشن لیڈروں پر شکنجہ !

تلنگانہ میں انکم ٹیکس محکمہ کی قریب 50ٹیموں نے وزیر محنت ملہ ریڈی اور ان کے رشتہ داروں اور دفتروں اور گھر پر چھاپہ ماری کی ۔در اصل ملہ گروپ میڈیکل کالج ،ڈینٹل کالج ،انجینئرنگ کالج و ایک اسپتال سمیت کئی تعلیمی ادارے چلاتے ہیں ۔اور ان میں ٹیکس چوی کے الزامات کے بعد انکم ٹیکس محکمہ نے یہ کاروائی کی ہے ۔ 9نومبر 2022کو گرینائٹ گھوٹالے میں ای ڈی نے تلنگانہ کے وزیر خوراک گگلا کملاکر کے دفاتروں پر چھاپہ مارے ۔ 104سیٹوں والی ٹی آر ایس کے 25ممبر اسمبلی رئیل اسٹیٹ ،ہیلتھ ،تعلیم اور شراب جیسے چھاپوں سے جڑے ہیں ۔وزیر مویشی سرنیواس یادو نے مرکز پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس ڈرنے والی نہیں ہے ۔تلنگانہ ٹی آر ایس کے نیتا بھلے ہی یہ کہہ رہے ہوں کہ وہ ڈرنے والے نہیں ہیں ۔لیکن اندر ہی اندر ان ممبران اسمبلی کے ہاتھ پاو¿ں پھولے ہوئے ہیںجن کے کئی دھندھے چل رہے ہیں ۔ اس سال کئی الگ الگ پارٹیوں کے 15بڑے نیتاو¿ں کے خلاف جانچ ایجنسیاں شکنجہ کس چکی ہیں ۔ ان میں سونیا گاندھی،راہل گاندھی سے لیکر سنجے راو¿ت ،نواب ملک ،ستیندر جین ،پارتھ چٹرجی تک کے بڑے نام ہیں ۔ 2014سے لیکر اب تک قریب 121نیتا تو اکیلے ای ڈی کے جانچ کے دائرے میں آ چکے ہیں ان میں 115یعنی 95فیصد اپوزیشن کے ہیں ۔ جبکہ یوپی اے کے عہد میں 2004سے 2014کے درمیان صر ف 26نیتا ای ڈی کے نشانے پر آئے تھے ۔ان میں 14یعنی 54فیصد اپوزیشن کے تھے ۔وہیں 2004سے 2014کے درمیان سی بی آئی نے 72نیتاو¿ ں پر جن میں 43اپوزیشن کے تھے کے خلاف ایکشن لیا ۔ ایسے ہی 124میں سے 118لیڈر اپوزیشن پارٹیوں کے ہیں جو سی بی آئی کے شکنجے میں آئے ۔حال ہی میں ہیمنت سورین سے ای ڈی نے کھدان لاج پٹے میں جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ سے 10گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ۔فاروق عبداللہ سے جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن میں پیسوں کا گھوٹالہ وغیر کے بارے میں پوچھ تاچھ ہوئی ۔ اسی طرح ای ڈی نے اگست میں پاتر چال کیس میں شیو سینا لیڈ ر کو حراست میں لیا تھا ۔نواب ملک سے ای ڈی نے فروری میں منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا ۔ایسے ہی درجنوں نیتا اور بھی ہیںجو یاتو ای ڈی یا سی بی آئی یا انکم ٹیکس محکمہ کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں۔تکلیف دہ یہ ہے کہ تقریباً یہ سبھی نیتا اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ (انل نریندر)

کرپشن کی جڑ :پاکستانی فوج!

پاکستان کی فوج کو دنیا کی سب سے زیادہ کرپٹ فوج مانا جاتا ہے۔پاکستان کا ہر نوجوان کسی نہ کسی طرح پاک فوج میں شامل ہونا چاہتاہے ۔پاکستان کہنے میں تو وہاں ایک جمہوری حکومت ہے لیکن اصل پاور پاک فوج کے پاس ہے ۔اس وقت پاکستان کے چیف جنرل قمر باجوا حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں ان کی جگہ نئے چیف آگئے ہیں ،جنرل قمر باجوا کی املاک 4.50کروڑ روپے پتا لگی ہے ۔ یہ ان کے چھ سال کے عہد میں چھ گنا ہو چکی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اکلوتے رئیس فوج کے چیف نہیں ہیں۔پاکستانی فوج کے افسروں کی پروپرٹی بے تحاشہ کیوں بڑھ جاتی ہے ۔اس کولیکر ماہرین نے ایک یہ وجہ بتائی ہے ۔فوج دیش کا سب سے بڑا کاروباری گھرانہ ہے وہ صنعت چلاتی ہے اور کرپشن میں بوری طرح ملوث ہے ۔وہاں کی پارلیمنٹ میں دیش سرکاری دستاویزوں کے مطابق پاکستانی فوج 1.5لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کرتی ہے اس کی جانب نے چل رہے کاروبار میں سمینٹ ،کھاد ،بیج ،تیل ،گیس ،بجلی ،ایئر پورٹ سروسیز اور جہاز رانی سازوں سامان جوتے ،فوج کے سازوسامان ،سیکورٹی سر وس ،ڈسٹلری ،بینک میٹر اشتہاری ایجنسی میڈیکل سروسیز سے لیکر ریئل اسٹیٹ تک کے کاروبار شامل ہیں۔ فوج کی جانب سے یہ کاروبار 50سے زیادہ کمپنیاں اور ملیٹری فاو¿نڈیشن ،شاہین فاو¿نڈیشن ،اور بحریہ فاو¿نڈیشن کے تحت چلاتی ہے ۔ جنرل قمر باجوا تقریبا ً500کروڑ روپے کے دولت کے مالک ہیں اس کا پتہ تو ایک سرگرم ویب سائٹ سے نے دیا ہے یہ بھی ایک وجہ بتائی جا رہی ہے۔ان کے رضاکارانہ سروس سے ریٹا ئر ہونا اس میں تھوڑی بہت خدشات ہو سکتے ہیں لیکن ان کا موازنہ ذرا ہمارے فوج کے چیف سے رکریں وہ و بے چارے اپنی پینشن پر کسی طرح گزارا کرتے ہیں۔ پاکستان کے کئی فوجیوں کے عالیشان مکان ،لندن ،نیو یارک فرینک فرٹ اور دبئی میں دیکھے گئے ہیں ویسا ایک بھی مکان کسی بھی ہندوستانی فوج کے چیف کا آج تک کسی بھی بیرونی ممالک میں نہ دیکھا گیا نہ سنا گیا ہے ۔کریڈٹس گس کی اگتوبر 2022کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے 25ریٹائر ڈ افسرو کے سوز بینک میں کھاتے ہیں جن 80ہزور کرسے زیادہ روپے جمع ہیں ۔ اس میں آئی ایس آئی کے سابق چیف اختر عبدالرحمان خان کا بھی کھا تا ہے ۔ اوو اس طرح بہت سے جرنل بھی لندن میں 5ہزاو کروڑ کی ر پورٹ ہے مشرف کے دورمیں سیکنڈ این کمانڈ افسر تھے ۔پاکستان میں کرپشن کی 2018کی رپورٹ کے مطابق تانا شاہ جنرل پر ویز مشرف نے صدر بنتے ہی اپنی پسندیدہ افسروں کو قریب 1لاکھ کروڑ کے پلاٹ اور فائدے پہچائے ۔ مشرف اور ان کے خاندان کا نام اربوں روپے کی دس پروپرٹیاں ہیں ۔حال ہی میں سرکار کی آڈیٹ رپورٹ میں انکشا ف ہے ہوا ہے ۔پاکستانی فوج نے 25سو کروڑ روپے کی گھوٹالہ کیا ہے ۔ اس میں فوج کے بڑے افسروں کی ملی بھگت سے فوجی زمین اور چھاو¿نیوں کی زمینی اپنے لوگوں کو کوڑیوں کی دام بیچی گئی ۔ پاکستان کے سابق وزیز اعظم عمران خاں نے فوج اور ایک آئی کے خلاف مورجہ کھول دیا ہے جن کو پاکستانی عوام کی بھر پور حمایت ہے لیکن پاک فوج کا اتنا دبدبہ ہے کہ کوئی ان کے خلاف کاروائی کی جرایئت نہیں کرتا ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...